Yunus( يونس)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الر ۚ تِلكَ ءايٰتُ الكِتٰبِ الحَكيمِ(1)
الف، لام، را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں،(1)
أَكانَ لِلنّاسِ عَجَبًا أَن أَوحَينا إِلىٰ رَجُلٍ مِنهُم أَن أَنذِرِ النّاسَ وَبَشِّرِ الَّذينَ ءامَنوا أَنَّ لَهُم قَدَمَ صِدقٍ عِندَ رَبِّهِم ۗ قالَ الكٰفِرونَ إِنَّ هٰذا لَسٰحِرٌ مُبينٌ(2)
کیا یہ بات لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک مردِ (کامل) کی طرف وحی بھیجی کہ آپ (بھولے بھٹکے ہوئے) لوگوں کو (عذابِ الٰہی کا) ڈر سنائیں اور ایمان والوں کو خوشخبری سنائیں کہ ان کے لئے ان کے رب کی بارگاہ میں بلند پایہ (یعنی اونچا مرتبہ) ہے، کافر کہنے لگے: بیشک یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے،(2)
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ فى سِتَّةِ أَيّامٍ ثُمَّ استَوىٰ عَلَى العَرشِ ۖ يُدَبِّرُ الأَمرَ ۖ ما مِن شَفيعٍ إِلّا مِن بَعدِ إِذنِهِ ۚ ذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُم فَاعبُدوهُ ۚ أَفَلا تَذَكَّرونَ(3)
یقیناً تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین (کی بالائی و زیریں کائنات) کو چھ دنوں (یعنی چھ مدتوں یا مرحلوں) میں (تدریجاً) پیدا فرمایا پھر وہ عرش پر (اپنے اقتدار کے ساتھ) جلوہ افروز ہوا (یعنی تخلیقِ کائنات کے بعد اس کے تمام عوالم اور اَجرام میں اپنے قانون اور نظام کے اجراء کی صورت میں متمکن ہوا) وہی ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے (یعنی ہر چیز کو ایک نظام کے تحت چلاتا ہے۔ اس کے حضور) اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں، یہی (عظمت و قدرت والا) اللہ تمہارا رب ہے، سو تم اسی کی عبادت کرو، پس کیا تم (قبولِ نصیحت کے لئے) غور نہیں کرتے،(3)
إِلَيهِ مَرجِعُكُم جَميعًا ۖ وَعدَ اللَّهِ حَقًّا ۚ إِنَّهُ يَبدَؤُا۟ الخَلقَ ثُمَّ يُعيدُهُ لِيَجزِىَ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالقِسطِ ۚ وَالَّذينَ كَفَروا لَهُم شَرابٌ مِن حَميمٍ وَعَذابٌ أَليمٌ بِما كانوا يَكفُرونَ(4)
(لوگو!) تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے۔ بیشک وہی پیدائش کی ابتداء کرتا ہے پھر وہی اسے دہرائے گا تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے، انصاف کے ساتھ جزا دے، اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہے، اس کا بدلہ جو وہ کفر کیا کرتے تھے،(4)
هُوَ الَّذى جَعَلَ الشَّمسَ ضِياءً وَالقَمَرَ نورًا وَقَدَّرَهُ مَنازِلَ لِتَعلَموا عَدَدَ السِّنينَ وَالحِسابَ ۚ ما خَلَقَ اللَّهُ ذٰلِكَ إِلّا بِالحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الءايٰتِ لِقَومٍ يَعلَمونَ(5)
وہی ہے جس نے سورج کو روشنی (کا منبع) بنایا اور چاند کو (اس سے) روشن (کیا) اور اس کے لئے (کم و بیش دکھائی دینے کی) منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (اوقات کا) حساب معلوم کر سکو، اور اللہ نے یہ (سب کچھ) نہیں پیدا فرمایا مگر درست تدبیر کے ساتھ، وہ (ان کائناتی حقیقتوں کے ذریعے اپنی خالقیت، وحدانیت اور قدرت کی) نشانیاں ان لوگوں کے لئے تفصیل سے واضح فرماتا ہے جو علم رکھتے ہیں،(5)
إِنَّ فِى اختِلٰفِ الَّيلِ وَالنَّهارِ وَما خَلَقَ اللَّهُ فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَتَّقونَ(6)
بیشک رات اور دن کے بدلتے رہنے میں اور ان (جملہ) چیزوں میں جو اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا فرمائی ہیں (اسی طرح) ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو تقوٰی رکھتے ہیں،(6)
إِنَّ الَّذينَ لا يَرجونَ لِقاءَنا وَرَضوا بِالحَيوٰةِ الدُّنيا وَاطمَأَنّوا بِها وَالَّذينَ هُم عَن ءايٰتِنا غٰفِلونَ(7)
بیشک جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیوی زندگی سے خوش ہیں اور اسی سے مطمئن ہوگئے ہیں اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں،(7)
أُولٰئِكَ مَأوىٰهُمُ النّارُ بِما كانوا يَكسِبونَ(8)
انہی لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے ان اعمال کے بدلہ میں جو وہ کماتے رہے،(8)
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهديهِم رَبُّهُم بِإيمٰنِهِم ۖ تَجرى مِن تَحتِهِمُ الأَنهٰرُ فى جَنّٰتِ النَّعيمِ(9)
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انہیں ان کا رب ان کے ایمان کے باعث (جنتوں تک) پہنچا دے گا، جہاں ان (کی رہائش گاہوں) کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی (یہ ٹھکانے) اُخروی نعمت کے باغات میں (ہوں گے)،(9)
دَعوىٰهُم فيها سُبحٰنَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُم فيها سَلٰمٌ ۚ وَءاخِرُ دَعوىٰهُم أَنِ الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ العٰلَمينَ(10)
(نعمتوں اور بہاروں کو دیکھ کر) ان (جنتوں) میں ان کی دعا (یہ) ہوگی: ”اے اللہ! تو پاک ہے“ اور اس میں ان کی آپس میں دعائے خیر (کا کلمہ) ”سلام“ ہوگا (یا اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی طرف سے ان کے لئے کلمۂ استقبال ”سلام“ ہوگا) اور ان کی دعا (ان کلمات پر) ختم ہوگی کہ ”تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے“،(10)
۞ وَلَو يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنّاسِ الشَّرَّ استِعجالَهُم بِالخَيرِ لَقُضِىَ إِلَيهِم أَجَلُهُم ۖ فَنَذَرُ الَّذينَ لا يَرجونَ لِقاءَنا فى طُغيٰنِهِم يَعمَهونَ(11)
اور اگر اللہ (ان کافر) لوگوں کو برائی (یعنی عذاب) پہنچانے میں جلدبازی کرتا، جیسے وہ طلبِ نعمت میں جلدبازی کرتے ہیں تو یقیناً ان کی میعادِ (عمر) ان کے حق میں (جلد) پوری کردی گئی ہوتی (تاکہ وہ مَر کے جلد دوزخ میں پہنچیں)، بلکہ ہم ایسے لوگوں کو جو ہم سے ملاقات کی توقع نہیں رکھتے ان کی سرکشی میں چھوڑے رکھتے ہیں کہ وہ بھٹکتے رہیں،(11)
وَإِذا مَسَّ الإِنسٰنَ الضُّرُّ دَعانا لِجَنبِهِ أَو قاعِدًا أَو قائِمًا فَلَمّا كَشَفنا عَنهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَم يَدعُنا إِلىٰ ضُرٍّ مَسَّهُ ۚ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلمُسرِفينَ ما كانوا يَعمَلونَ(12)
اور جب (ایسے) انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں اپنے پہلو پر لیٹے یا بیٹھے یا کھڑے پکارتا ہے، پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو وہ (ہمیں بھلا کر اس طرح) چل دیتا ہے گویا اس نے کسی تکلیف میں جو اسے پہنچی تھی ہمیں (کبھی) پکارا ہی نہیں تھا۔ اسی طرح حد سے بڑھنے والوں کے لئے ان کے (غلط) اَعمال آراستہ کر کے دکھائے گئے ہیں جو وہ کرتے رہے تھے،(12)
وَلَقَد أَهلَكنَا القُرونَ مِن قَبلِكُم لَمّا ظَلَموا ۙ وَجاءَتهُم رُسُلُهُم بِالبَيِّنٰتِ وَما كانوا لِيُؤمِنوا ۚ كَذٰلِكَ نَجزِى القَومَ المُجرِمينَ(13)
اور بیشک ہم نے تم سے پہلے (بھی بہت سی) قوموں کو ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم کیا، اور ان کے رسول ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایمان لاتے ہی نہ تھے، اسی طرح ہم مجرم قوم کو (ان کے عمل کی) سزا دیتے ہیں،(13)
ثُمَّ جَعَلنٰكُم خَلٰئِفَ فِى الأَرضِ مِن بَعدِهِم لِنَنظُرَ كَيفَ تَعمَلونَ(14)
پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں (ان کا) جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ (اب) تم کیسے عمل کرتے ہو،(14)
وَإِذا تُتلىٰ عَلَيهِم ءاياتُنا بَيِّنٰتٍ ۙ قالَ الَّذينَ لا يَرجونَ لِقاءَنَا ائتِ بِقُرءانٍ غَيرِ هٰذا أَو بَدِّلهُ ۚ قُل ما يَكونُ لى أَن أُبَدِّلَهُ مِن تِلقائِ نَفسى ۖ إِن أَتَّبِعُ إِلّا ما يوحىٰ إِلَىَّ ۖ إِنّى أَخافُ إِن عَصَيتُ رَبّى عَذابَ يَومٍ عَظيمٍ(15)
اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ اس (قرآن) کے سوا کوئی اور قرآن لے آئیے یا اسے بدل دیجئے، (اے نبیِ مکرّم!) فرما دیں: مجھے حق نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں، میں تو فقط جو میری طرف وحی کی جاتی ہے (اس کی) پیروی کرتا ہوں، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بیشک میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں،(15)
قُل لَو شاءَ اللَّهُ ما تَلَوتُهُ عَلَيكُم وَلا أَدرىٰكُم بِهِ ۖ فَقَد لَبِثتُ فيكُم عُمُرًا مِن قَبلِهِ ۚ أَفَلا تَعقِلونَ(16)
فرما دیجئے: اگر اللہ چاہتا تو نہ ہی میں اس (قرآن) کو تمہارے اوپر تلاوت کرتا اور نہ وہ (خود) تمہیں اس سے باخبر فرماتا، بیشک میں اس (قرآن کے اترنے) سے قبل (بھی) تمہارے اندر عمر (کا ایک حصہ) بسر کرچکا ہوں، سو کیا تم عقل نہیں رکھتے،(16)
فَمَن أَظلَمُ مِمَّنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَو كَذَّبَ بِـٔايٰتِهِ ۚ إِنَّهُ لا يُفلِحُ المُجرِمونَ(17)
پس اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلا دے۔ بیشک مجرم لوگ فلاح نہیں پائیں گے،(17)
وَيَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُم وَلا يَنفَعُهُم وَيَقولونَ هٰؤُلاءِ شُفَعٰؤُنا عِندَ اللَّهِ ۚ قُل أَتُنَبِّـٔونَ اللَّهَ بِما لا يَعلَمُ فِى السَّمٰوٰتِ وَلا فِى الأَرضِ ۚ سُبحٰنَهُ وَتَعٰلىٰ عَمّا يُشرِكونَ(18)
اور (مشرکین) اللہ کے سوا ان (بتوں) کو پوجتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ انہیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور (اپنی باطل پوجا کے جواز میں) کہتے ہیں کہ یہ (بت) اللہ کے حضور ہمارے سفارشی ہیں، فرما دیجئے: کیا تم اللہ کو اس (شفاعتِ اَصنام کے من گھڑت) مفروضہ سے آگاہ کر رہے ہو جس (کے وجود) کو وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں (یعنی اس کی بارگاہ میں کسی بت کا سفارش کرنا اس کے علم میں نہیں ہے)۔ اس کی ذات پاک ہے اور وہ ان سب چیزوں سے بلند و بالا ہے جنہیں یہ (اس کا) شریک گردانتے ہیں،(18)
وَما كانَ النّاسُ إِلّا أُمَّةً وٰحِدَةً فَاختَلَفوا ۚ وَلَولا كَلِمَةٌ سَبَقَت مِن رَبِّكَ لَقُضِىَ بَينَهُم فيما فيهِ يَختَلِفونَ(19)
اور سارے لوگ (ابتداء) میں ایک ہی جماعت تھے پھر(باہم اختلاف کر کے) جدا جدا ہو گئے، اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی (کہ عذاب میں جلد بازی نہیں ہوگی) تو ان کے درمیان ان باتوں کے بارے میں فیصلہ کیا جا چکا ہوتا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں،(19)
وَيَقولونَ لَولا أُنزِلَ عَلَيهِ ءايَةٌ مِن رَبِّهِ ۖ فَقُل إِنَّمَا الغَيبُ لِلَّهِ فَانتَظِروا إِنّى مَعَكُم مِنَ المُنتَظِرينَ(20)
اور وہ (اب اسی مہلت کی وجہ سے) کہتے ہیں کہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کے رب کی طرف سے کوئی (فیصلہ کن) نشانی کیوں نازل نہیں کی گئی، آپ فرما دیجئے: غیب تو محض اللہ ہی کے لئے ہے، سو تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں،(20)
وَإِذا أَذَقنَا النّاسَ رَحمَةً مِن بَعدِ ضَرّاءَ مَسَّتهُم إِذا لَهُم مَكرٌ فى ءاياتِنا ۚ قُلِ اللَّهُ أَسرَعُ مَكرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنا يَكتُبونَ ما تَمكُرونَ(21)
اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت سے لذت آشنا کرتے ہیں تو فوراً (ہمارے احسان کو بھول کر) ہماری نشانیوں میں ان کا مکر و فریب (شروع) ہو جاتا ہے۔ فرما دیجئے: اللہ مکر کی سزا جلد دینے والا ہے۔ بیشک ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے، جو بھی فریب تم کر رہے ہو (اسے) لکھتے رہتے ہیں،(21)
هُوَ الَّذى يُسَيِّرُكُم فِى البَرِّ وَالبَحرِ ۖ حَتّىٰ إِذا كُنتُم فِى الفُلكِ وَجَرَينَ بِهِم بِريحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحوا بِها جاءَتها ريحٌ عاصِفٌ وَجاءَهُمُ المَوجُ مِن كُلِّ مَكانٍ وَظَنّوا أَنَّهُم أُحيطَ بِهِم ۙ دَعَوُا اللَّهَ مُخلِصينَ لَهُ الدّينَ لَئِن أَنجَيتَنا مِن هٰذِهِ لَنَكونَنَّ مِنَ الشّٰكِرينَ(22)
وہی ہے جو تمہیں خشک زمین اور سمندر میں چلنے پھرنے (کی توفیق) دیتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے ہو اور وہ (کشتیاں) لوگوں کو لے کر موافق ہوا کے جھونکوں سے چلتی ہیں اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں تو (ناگہاں) ان (کشتیوں) کو تیز و تند ہوا کا جھونکا آلیتا ہے اور ہر طرف سے ان (سواروں) کو (جوش مارتی ہوئی) موجیں آگھیرتی ہیں اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ (اب) وہ ان (لہروں) سے گھر گئے (تو اس وقت) وہ اللہ کو پکارتے ہیں (اس حال میں) کہ اپنے دین کو اسی کے لئے خالص کرنے والے ہیں (اور کہتے ہیں: اے اللہ!) اگر تو نے ہمیں اس (بَلا) سے نجات بخش دی تو ہم ضرور (تیرے) شکر گزار بندوں میں سے ہوجائیں گے،(22)
فَلَمّا أَنجىٰهُم إِذا هُم يَبغونَ فِى الأَرضِ بِغَيرِ الحَقِّ ۗ يٰأَيُّهَا النّاسُ إِنَّما بَغيُكُم عَلىٰ أَنفُسِكُم ۖ مَتٰعَ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ ثُمَّ إِلَينا مَرجِعُكُم فَنُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم تَعمَلونَ(23)
پھر جب اللہ نے انہیں نجات دے دی تو وہ فوراً ہی ملک میں (حسبِ سابق) ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے (اللہ سے بغاوت کرنے والے) لوگو! بس تمہاری سرکشی و بغاوت (کا نقصان) تمہاری ہی جانوں پر ہے۔ دنیا کی زندگی کا کچھ فائدہ (اٹھالو)، بالآخر تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے، اُس وقت ہم تمہیں ان اَعمال سے خوب آگاہ کر دیں گے جو تم کرتے رہے تھے،(23)
إِنَّما مَثَلُ الحَيوٰةِ الدُّنيا كَماءٍ أَنزَلنٰهُ مِنَ السَّماءِ فَاختَلَطَ بِهِ نَباتُ الأَرضِ مِمّا يَأكُلُ النّاسُ وَالأَنعٰمُ حَتّىٰ إِذا أَخَذَتِ الأَرضُ زُخرُفَها وَازَّيَّنَت وَظَنَّ أَهلُها أَنَّهُم قٰدِرونَ عَلَيها أَتىٰها أَمرُنا لَيلًا أَو نَهارًا فَجَعَلنٰها حَصيدًا كَأَن لَم تَغنَ بِالأَمسِ ۚ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الءايٰتِ لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ(24)
بس دنیا کی زندگی کی مثال تو اس پانی جیسی ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا پھر اس کی وجہ سے زمین کی پیداوار خوب گھنی ہو کر اُگی، جس میں سے انسان بھی کھاتے ہیں اور چوپائے بھی، یہاں تک کہ جب زمین نے اپنی (پوری پوری) رونق اور حسن لے لیا اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے باشندوں نے سمجھ لیا کہ (اب) ہم اس پر پوری قدرت رکھتے ہیں تو (دفعۃً) اسے رات یا دن میں ہمارا حکمِ (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اسے (یوں) جڑ سے کٹا ہوا بنا دیا گویا وہ کل یہاں تھی ہی نہیں، اسی طرح ہم ان لوگوں کے لئے نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں جو تفکر سے کام لیتے ہیں،(24)
وَاللَّهُ يَدعوا إِلىٰ دارِ السَّلٰمِ وَيَهدى مَن يَشاءُ إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(25)
اور اللہ سلامتی کے گھر (جنت) کی طرف بلاتا ہے، اور جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرماتا ہے،(25)
۞ لِلَّذينَ أَحسَنُوا الحُسنىٰ وَزِيادَةٌ ۖ وَلا يَرهَقُ وُجوهَهُم قَتَرٌ وَلا ذِلَّةٌ ۚ أُولٰئِكَ أَصحٰبُ الجَنَّةِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ(26)
ایسے لوگوں کے لئے جو نیک کام کرتے ہیں نیک جزا ہے بلکہ (اس پر) اضافہ بھی ہے، اور نہ ان کے چہروں پر (غبار اور) سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت و رسوائی، یہی اہلِ جنت ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں،(26)
وَالَّذينَ كَسَبُوا السَّيِّـٔاتِ جَزاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثلِها وَتَرهَقُهُم ذِلَّةٌ ۖ ما لَهُم مِنَ اللَّهِ مِن عاصِمٍ ۖ كَأَنَّما أُغشِيَت وُجوهُهُم قِطَعًا مِنَ الَّيلِ مُظلِمًا ۚ أُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ(27)
اور جنہوں نے برائیاں کما رکھی ہیں (ان کے لئے) برائی کا بدلہ اسی کی مثل ہوگا، اور ان پر ذلت و رسوائی چھا جائے گی ان کے لئے اللہ (کے عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہیں ہوگا (یوں لگے گا) گویا ان کے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دیئے گئے ہیں۔ یہی اہلِ جہنم ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں،(27)
وَيَومَ نَحشُرُهُم جَميعًا ثُمَّ نَقولُ لِلَّذينَ أَشرَكوا مَكانَكُم أَنتُم وَشُرَكاؤُكُم ۚ فَزَيَّلنا بَينَهُم ۖ وَقالَ شُرَكاؤُهُم ما كُنتُم إِيّانا تَعبُدونَ(28)
اورجس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے: تم اور تمہارے شریک (بتانِ باطل) اپنی اپنی جگہ ٹھہرو۔ پھر ہم ان کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔ اور ان کے (اپنے گھڑے ہوئے) شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے،(28)
فَكَفىٰ بِاللَّهِ شَهيدًا بَينَنا وَبَينَكُم إِن كُنّا عَن عِبادَتِكُم لَغٰفِلينَ(29)
پس ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کہ ہم تمہاری پرستش سے (یقیناً) بے خبر تھے،(29)
هُنالِكَ تَبلوا كُلُّ نَفسٍ ما أَسلَفَت ۚ وَرُدّوا إِلَى اللَّهِ مَولىٰهُمُ الحَقِّ ۖ وَضَلَّ عَنهُم ما كانوا يَفتَرونَ(30)
اس (دہشت ناک) مقام پر ہر شخص ان (اعمال کی حقیقت) کو جانچ لے گا جو اس نے آگے بھیجے تھے اور وہ اللہ کی جانب لوٹائے جائیں گے جو ان کا مالکِ حقیقی ہے اور ان سے وہ بہتان تراشی جاتی رہے گی جو وہ کیا کرتے تھے،(30)
قُل مَن يَرزُقُكُم مِنَ السَّماءِ وَالأَرضِ أَمَّن يَملِكُ السَّمعَ وَالأَبصٰرَ وَمَن يُخرِجُ الحَىَّ مِنَ المَيِّتِ وَيُخرِجُ المَيِّتَ مِنَ الحَىِّ وَمَن يُدَبِّرُ الأَمرَ ۚ فَسَيَقولونَ اللَّهُ ۚ فَقُل أَفَلا تَتَّقونَ(31)
آپ (ان سے) فرما دیجئے: تمہیں آسمان اور زمین (یعنی اوپر اور نیچے) سے رزق کون دیتا ہے، یا (تمہارے) کان اور آنکھوں (یعنی سماعت و بصارت) کا مالک کون ہے، اور زندہ کو مُردہ (یعنی جاندار کو بے جان) سے کون نکالتا ہے اور مُردہ کو زندہ (یعنی بے جان کو جاندار) سے کون نکالتا ہے، اور (نظام ہائے کائنات کی) تدبیر کون فرماتا ہے؟ سو وہ کہہ اٹھیں گے کہ اللہ، تو آپ فرمائیے: پھرکیا تم (اس سے) ڈرتے نہیں،(31)
فَذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الحَقُّ ۖ فَماذا بَعدَ الحَقِّ إِلَّا الضَّلٰلُ ۖ فَأَنّىٰ تُصرَفونَ(32)
پس یہی (عظمت و قدرت والا) اللہ ہی تو تمہارا سچا رب ہے، پس (اس) حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کیا ہوسکتا ہے، سو تم کہاں پھرے جارہے ہو،(32)
كَذٰلِكَ حَقَّت كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذينَ فَسَقوا أَنَّهُم لا يُؤمِنونَ(33)
اسی طرح آپ کے رب کا حکم نافرمانوں پر ثابت ہوکر رہا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے،(33)
قُل هَل مِن شُرَكائِكُم مَن يَبدَؤُا۟ الخَلقَ ثُمَّ يُعيدُهُ ۚ قُلِ اللَّهُ يَبدَؤُا۟ الخَلقَ ثُمَّ يُعيدُهُ ۖ فَأَنّىٰ تُؤفَكونَ(34)
آپ (ان سے دریافت) فرمائیے کہ کیا تمہارے (بنائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو تخلیق کی ابتداء کرے پھر (زندگی کے معدوم ہوجانے کے بعد) اسے دوبارہ لوٹائے؟ آپ فرما دیجئے کہ اللہ ہی (حیات کو عدم سے وجود میں لاتے ہوئے) آفرینش کا آغاز فرماتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ (بھی) فرمائے گا، پھر تم کہاں بھٹکتے پھرتے ہو،(34)
قُل هَل مِن شُرَكائِكُم مَن يَهدى إِلَى الحَقِّ ۚ قُلِ اللَّهُ يَهدى لِلحَقِّ ۗ أَفَمَن يَهدى إِلَى الحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لا يَهِدّى إِلّا أَن يُهدىٰ ۖ فَما لَكُم كَيفَ تَحكُمونَ(35)
آپ (ان سے دریافت) فرمائیے: کیا تمہارے (بنائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرسکے، آپ فرما دیجئے کہ اللہ ہی (دینِ) حق کی ہدایت فرماتا ہے، تو کیا جو کوئی حق کی طرف ہدایت کرے وہ زیادہ حق دار ہے کہ اس کی فرمانبرداری کی جائے یا وہ جو خود ہی راستہ نہیں پاتا مگر یہ کہ اسے راستہ دکھایا جائے (یعنی اسے اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جائے جیسے کفار اپنے بتوں کو حسبِ ضرورت اٹھا کر لے جاتے)، سو تمہیں کیا ہو گیا ہے، تم کیسے فیصلے کرتے ہو،(35)
وَما يَتَّبِعُ أَكثَرُهُم إِلّا ظَنًّا ۚ إِنَّ الظَّنَّ لا يُغنى مِنَ الحَقِّ شَيـًٔا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَليمٌ بِما يَفعَلونَ(36)
ان میں سے اکثر لوگ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں، بیشک گمان حق سے معمولی سا بھی بے نیاز نہیں کرسکتا، یقیناً اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں،(36)
وَما كانَ هٰذَا القُرءانُ أَن يُفتَرىٰ مِن دونِ اللَّهِ وَلٰكِن تَصديقَ الَّذى بَينَ يَدَيهِ وَتَفصيلَ الكِتٰبِ لا رَيبَ فيهِ مِن رَبِّ العٰلَمينَ(37)
یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اسے اللہ (کی وحی) کے بغیر گھڑ لیا گیا ہو لیکن (یہ) ان (کتابوں) کی تصدیق (کرنے والا) ہے جو اس سے پہلے (نازل ہوچکی) ہیں اور جو کچھ (اللہ نے لوح میں یا احکامِ شریعت میں) لکھا ہے اس کی تفصیل ہے، اس (کی حقانیت) میں ذرا بھی شک نہیں (یہ) تمام جہانوں کے رب کی طرف سے ہے،(37)
أَم يَقولونَ افتَرىٰهُ ۖ قُل فَأتوا بِسورَةٍ مِثلِهِ وَادعوا مَنِ استَطَعتُم مِن دونِ اللَّهِ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(38)
کیا وہ کہتے ہیں کہ اسے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود گھڑ لیا ہے، آپ فرما دیجئے: پھر تم اس کی مثل کوئی (ایک) سورت لے آؤ (اور اپنی مدد کے لئے) اللہ کے سوا جنہیں تم بلاسکتے ہو بلا لو اگر تم سچے ہو،(38)
بَل كَذَّبوا بِما لَم يُحيطوا بِعِلمِهِ وَلَمّا يَأتِهِم تَأويلُهُ ۚ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۖ فَانظُر كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ الظّٰلِمينَ(39)
بلکہ یہ اس (کلامِ الٰہی) کو جھٹلا رہے ہیں جس کے علم کا وہ احاطہ بھی نہیں کرسکے تھے اور ابھی اس کی حقیقت (بھی) ان کے سامنے کھل کر نہ آئی تھی۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی (حق کو) جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں سو آپ دیکھیں کہ ظالموں کا انجام کیسا ہوا،(39)
وَمِنهُم مَن يُؤمِنُ بِهِ وَمِنهُم مَن لا يُؤمِنُ بِهِ ۚ وَرَبُّكَ أَعلَمُ بِالمُفسِدينَ(40)
ان میں سے کوئی تو اس پر ایمان لائے گا اور انہی میں سے کوئی اس پر ایمان نہ لائے گا، اور آپ کا رب فساد انگیزی کرنے والوں کو خوب جانتا ہے،(40)
وَإِن كَذَّبوكَ فَقُل لى عَمَلى وَلَكُم عَمَلُكُم ۖ أَنتُم بَريـٔونَ مِمّا أَعمَلُ وَأَنا۠ بَريءٌ مِمّا تَعمَلونَ(41)
اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو فرما دیجئے کہ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے، تم اس عمل سے بری الذمہ ہو جو میں کرتا ہوں اور میں ان اَعمال سے بری الذمہ ہوں جو تم کرتے ہو،(41)
وَمِنهُم مَن يَستَمِعونَ إِلَيكَ ۚ أَفَأَنتَ تُسمِعُ الصُّمَّ وَلَو كانوا لا يَعقِلونَ(42)
اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو (ظاہراً) آپ کی طرف کان لگاتے ہیں، تو کیا آپ بہروں کو سنا دیں گے خواہ وہ کچھ عقل بھی نہ رکھتے ہوں،(42)
وَمِنهُم مَن يَنظُرُ إِلَيكَ ۚ أَفَأَنتَ تَهدِى العُمىَ وَلَو كانوا لا يُبصِرونَ(43)
ان میں سے بعض وہ ہیں جو (ظاہراً) آپ کی طرف دیکھتے ہیں، کیا آپ اندھوں کو راہ دکھا دیں گے خواہ وہ کچھ بصارت بھی نہ رکھتے ہوں،(43)
إِنَّ اللَّهَ لا يَظلِمُ النّاسَ شَيـًٔا وَلٰكِنَّ النّاسَ أَنفُسَهُم يَظلِمونَ(44)
بیشک اللہ لوگوں پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ (خود ہی) اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں،(44)
وَيَومَ يَحشُرُهُم كَأَن لَم يَلبَثوا إِلّا ساعَةً مِنَ النَّهارِ يَتَعارَفونَ بَينَهُم ۚ قَد خَسِرَ الَّذينَ كَذَّبوا بِلِقاءِ اللَّهِ وَما كانوا مُهتَدينَ(45)
اور جس دن وہ انہیں جمع کرے گا (وہ محسوس کریں گے) گویا وہ دن کی ایک گھڑی کے سوا دنیا میں ٹھہرے ہی نہ تھے، وہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ بیشک وہ لوگ خسارے میں رہے جنہوں نے اللہ سے ملاقات کو جھٹلایا تھا اور وہ ہدایت یافتہ نہ ہوئے،(45)
وَإِمّا نُرِيَنَّكَ بَعضَ الَّذى نَعِدُهُم أَو نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَينا مَرجِعُهُم ثُمَّ اللَّهُ شَهيدٌ عَلىٰ ما يَفعَلونَ(46)
اور خواہ ہم آپ کو اس (عذاب) کا کچھ حصہ (دنیا میں ہی) دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں (اور ہم آپ کی حیاتِ مبارکہ میں ایسا کریں گے) یا (اس سے پہلے) ہم آپ کو وفات بخش دیں، تو انہیں (بہر صورت) ہماری ہی طرف لوٹنا ہے، پھر اللہ (خود) اس پر گواہ ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں،(46)
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَسولٌ ۖ فَإِذا جاءَ رَسولُهُم قُضِىَ بَينَهُم بِالقِسطِ وَهُم لا يُظلَمونَ(47)
اور ہر امت کے لئے ایک رسول آتا رہا ہے۔ پھر جب ان کا رسول (واضح نشانیوں کے ساتھ) آچکا (اور وہ پھر بھی نہ مانے) تو ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا، اور (قیامت کے دن بھی اسی طرح ہوگا) ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا،(47)
وَيَقولونَ مَتىٰ هٰذَا الوَعدُ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(48)
اور وہ (طعنہ زنی کے طور پر) کہتے ہیں کہ یہ وعدۂ (عذاب) کب (پورا) ہوگا (مسلمانو! بتاؤ) اگر تم سچے ہو،(48)
قُل لا أَملِكُ لِنَفسى ضَرًّا وَلا نَفعًا إِلّا ما شاءَ اللَّهُ ۗ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۚ إِذا جاءَ أَجَلُهُم فَلا يَستَـٔخِرونَ ساعَةً ۖ وَلا يَستَقدِمونَ(49)
فرما دیجئے: میں اپنی ذات کے لئے نہ کسی نقصان کا مالک ہوں اور نہ نفع کا، مگر جس قدر اللہ چاہے۔ ہر امت کے لئے ایک میعاد (مقرر) ہے، جب ان کی (مقررہ) میعاد آپہنچتی ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں،(49)
قُل أَرَءَيتُم إِن أَتىٰكُم عَذابُهُ بَيٰتًا أَو نَهارًا ماذا يَستَعجِلُ مِنهُ المُجرِمونَ(50)
آپ فرما دیجئے: (اے کافرو!) ذرا غور تو کرو اگر تم پر اس کا عذاب (ناگہاں) راتوں رات یا دن دہاڑے آپہنچے (تو تم کیا کرلوگے؟) وہ کیا چیز ہے کہ مجرم لوگ اس سے جلدی چاہتے ہیں؟،(50)
أَثُمَّ إِذا ما وَقَعَ ءامَنتُم بِهِ ۚ ءالـٰٔنَ وَقَد كُنتُم بِهِ تَستَعجِلونَ(51)
کیا جس وقت وہ (عذاب) واقع ہوجائے گا تو تم اس پر ایمان لے آؤ گے، (اس وقت تم سے کہا جائے گا:) اب (ایمان لا رہے ہو؟ اس وقت کوئی فائدہ نہیں) حالانکہ تم (استہزاءً) اسی (عذاب) میں جلدی چاہتے تھے،(51)
ثُمَّ قيلَ لِلَّذينَ ظَلَموا ذوقوا عَذابَ الخُلدِ هَل تُجزَونَ إِلّا بِما كُنتُم تَكسِبونَ(52)
پھر (ان) ظالموں سے کہا جائے گا: تم دائمی عذاب کا مزہ چکھو، تمہیں (کچھ بھی اور) بدلہ نہیں دیا جائے گا، مگر انہی اعمال کا جو تم کماتے رہے تھے،(52)
۞ وَيَستَنبِـٔونَكَ أَحَقٌّ هُوَ ۖ قُل إى وَرَبّى إِنَّهُ لَحَقٌّ ۖ وَما أَنتُم بِمُعجِزينَ(53)
اور وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا (دائمی عذاب کی) وہ بات (واقعی) سچ ہے؟ فرما دیجئے: ہاں میرے رب کی قسم یقیناً وہ بالکل حق ہے۔ اور تم (اپنے انکار سے اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے،(53)
وَلَو أَنَّ لِكُلِّ نَفسٍ ظَلَمَت ما فِى الأَرضِ لَافتَدَت بِهِ ۗ وَأَسَرُّوا النَّدامَةَ لَمّا رَأَوُا العَذابَ ۖ وَقُضِىَ بَينَهُم بِالقِسطِ ۚ وَهُم لا يُظلَمونَ(54)
اگر ہر ظالم شخص کی ملکیت میں وہ (ساری دولت) ہو جو زمین میں ہے تو وہ یقیناً اسے (اپنی جان چھڑانے کے لئے) عذاب کے بدلہ میں دے ڈالے، اور (ایسے لوگ) جب عذاب کو دیکھیں گے تو اپنی ندامت چھپائے پھریں گے اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا،(54)
أَلا إِنَّ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۗ أَلا إِنَّ وَعدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ(55)
جان لو! جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اللہ ہی کا ہے۔ خبردار ہو جاؤ! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے،(55)
هُوَ يُحيۦ وَيُميتُ وَإِلَيهِ تُرجَعونَ(56)
وہی جِلاتا اور مارتا ہے اور تم اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گے،(56)
يٰأَيُّهَا النّاسُ قَد جاءَتكُم مَوعِظَةٌ مِن رَبِّكُم وَشِفاءٌ لِما فِى الصُّدورِ وَهُدًى وَرَحمَةٌ لِلمُؤمِنينَ(57)
اے لوگو! بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور ان (بیماریوں) کی شفاء آگئی ہے جو سینوں میں (پوشیدہ) ہیں اور ہدایت اور اہلِ ایمان کے لئے رحمت (بھی)،(57)
قُل بِفَضلِ اللَّهِ وَبِرَحمَتِهِ فَبِذٰلِكَ فَليَفرَحوا هُوَ خَيرٌ مِمّا يَجمَعونَ(58)
فرما دیجئے: (یہ سب کچھ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے (جو بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے تم پر ہوا ہے) پس مسلمانوں کو چاہئے کہ اس پر خوشیاں منائیں، یہ اس (سارے مال و دولت) سے کہیں بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے ہیں،(58)
قُل أَرَءَيتُم ما أَنزَلَ اللَّهُ لَكُم مِن رِزقٍ فَجَعَلتُم مِنهُ حَرامًا وَحَلٰلًا قُل ءاللَّهُ أَذِنَ لَكُم ۖ أَم عَلَى اللَّهِ تَفتَرونَ(59)
فرما دیجئے: ذرا بتاؤ تو سہی اللہ نے جو (پاکیزہ) رزق تمہارے لئے اتارا سو تم نے اس میں سے بعض (چیزوں) کو حرام اور (بعض کو) حلال قرار دے دیا۔ فرما دیں: کیا اللہ نے تمہیں (اس کی) اجازت دی تھی یا تم اللہ پر بہتان باندھ رہے ہو،(59)
وَما ظَنُّ الَّذينَ يَفتَرونَ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ يَومَ القِيٰمَةِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَذو فَضلٍ عَلَى النّاسِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَشكُرونَ(60)
اور ایسے لوگوں کا روزِ قیامت کے بارے میں کیا خیال ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں، بیشک اللہ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر (لوگ) شکر گزار نہیں ہیں،(60)
وَما تَكونُ فى شَأنٍ وَما تَتلوا مِنهُ مِن قُرءانٍ وَلا تَعمَلونَ مِن عَمَلٍ إِلّا كُنّا عَلَيكُم شُهودًا إِذ تُفيضونَ فيهِ ۚ وَما يَعزُبُ عَن رَبِّكَ مِن مِثقالِ ذَرَّةٍ فِى الأَرضِ وَلا فِى السَّماءِ وَلا أَصغَرَ مِن ذٰلِكَ وَلا أَكبَرَ إِلّا فى كِتٰبٍ مُبينٍ(61)
اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ جس حال میں بھی ہوں اور آپ اس کی طرف سے جس قدر بھی قرآن پڑھ کر سناتے ہیں اور (اے امتِ محمدیہ!) تم جو عمل بھی کرتے ہو مگر ہم (اس وقت) تم سب پر گواہ و نگہبان ہوتے ہیں جب تم اس میں مشغول ہوتے ہو، اور آپ کے رب (کے علم) سے ایک ذرّہ برابر بھی (کوئی چیز) نہ زمین میں پوشیدہ ہے اور نہ آسمان میں اور نہ اس (ذرہ) سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی مگر واضح کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) میں (درج) ہے،(61)
أَلا إِنَّ أَولِياءَ اللَّهِ لا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ(62)
خبردار! بیشک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اورنہ وہ رنجیدہ و غمگین ہوں گے،(62)
الَّذينَ ءامَنوا وَكانوا يَتَّقونَ(63)
(وہ) ایسے لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (ہمیشہ) تقوٰی شعار رہے،(63)
لَهُمُ البُشرىٰ فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا وَفِى الءاخِرَةِ ۚ لا تَبديلَ لِكَلِمٰتِ اللَّهِ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الفَوزُ العَظيمُ(64)
ان کے لئے دنیا کی زندگی میں (بھی عزت و مقبولیت کی) بشارت ہے اور آخرت میں (بھی مغفرت و شفاعت کی/ یا دنیا میں بھی نیک خوابوں کی صورت میں پاکیزہ روحانی مشاہدات ہیں اور آخرت میں بھی حُسنِ مطلق کے جلوے اور دیدار)، اللہ کے فرمان بدلا نہیں کرتے، یہی وہ عظیم کامیابی ہے،(64)
وَلا يَحزُنكَ قَولُهُم ۘ إِنَّ العِزَّةَ لِلَّهِ جَميعًا ۚ هُوَ السَّميعُ العَليمُ(65)
(اے حبیبِ مکرّم!) ان کی (عناد و عداوت پر مبنی) گفتگو آپ کو غمگین نہ کرے۔ بیشک ساری عزت و غلبہ اللہ ہی کے لئے ہے (جو جسے چاہتا ہے دیتا ہے)، وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے،(65)
أَلا إِنَّ لِلَّهِ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَمَن فِى الأَرضِ ۗ وَما يَتَّبِعُ الَّذينَ يَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ شُرَكاءَ ۚ إِن يَتَّبِعونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِن هُم إِلّا يَخرُصونَ(66)
جان لو جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے سب اللہ ہی کے (مملوک) ہیں، اور جو لوگ اللہ کے سوا (بتوں) کی پرستش کرتے ہیں (درحقیقت اپنے گھڑے ہوئے) شریکوں کی پیروی (بھی) نہیں کرتے، بلکہ وہ صرف (اپنے) وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور وہ محض غلط اندازے لگاتے رہتے ہیں،(66)
هُوَ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الَّيلَ لِتَسكُنوا فيهِ وَالنَّهارَ مُبصِرًا ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَسمَعونَ(67)
وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا (تاکہ تم اس میں کام کاج کر سکو)۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو (غور سے) سنتے ہیں،(67)
قالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ۗ سُبحٰنَهُ ۖ هُوَ الغَنِىُّ ۖ لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۚ إِن عِندَكُم مِن سُلطٰنٍ بِهٰذا ۚ أَتَقولونَ عَلَى اللَّهِ ما لا تَعلَمونَ(68)
وہ کہتے ہیں: اللہ نے (اپنے لئے) بیٹا بنا لیا ہے (حالانکہ) وہ اس سے پاک ہے، وہ بے نیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کی مِلک ہے، تمہارے پاس اس (قولِ باطل) کی کوئی دلیل نہیں، کیا تم اللہ پر وہ (بات) کہتے ہو جسے تم (خود بھی) نہیں جانتے؟،(68)
قُل إِنَّ الَّذينَ يَفتَرونَ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ لا يُفلِحونَ(69)
فرما دیجئے: بیشک جو لوگ اللہ پرجھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے،(69)
مَتٰعٌ فِى الدُّنيا ثُمَّ إِلَينا مَرجِعُهُم ثُمَّ نُذيقُهُمُ العَذابَ الشَّديدَ بِما كانوا يَكفُرونَ(70)
دنیا میں (چند روزہ) لطف اندوزی ہے پھر انہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے پھر ہم انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اس کے بدلے میں جو وہ کفر کیا کرتے تھے،(70)
۞ وَاتلُ عَلَيهِم نَبَأَ نوحٍ إِذ قالَ لِقَومِهِ يٰقَومِ إِن كانَ كَبُرَ عَلَيكُم مَقامى وَتَذكيرى بِـٔايٰتِ اللَّهِ فَعَلَى اللَّهِ تَوَكَّلتُ فَأَجمِعوا أَمرَكُم وَشُرَكاءَكُم ثُمَّ لا يَكُن أَمرُكُم عَلَيكُم غُمَّةً ثُمَّ اقضوا إِلَىَّ وَلا تُنظِرونِ(71)
اور ان پر نوح (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمائیے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم (اولادِ قابیل!) اگر تم پر میرا قیام اور میرا اللہ کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کرنا گراں گزر رہا ہے تو (جان لو کہ) میں نے تو صرف اللہ ہی پر توکل کرلیا ہے (اور تمہارا کوئی ڈر نہیں) سو تم اکٹھے ہوکر (میری مخالفت میں) اپنی تدبیر کو پختہ کرلو اور اپنے (گھڑے ہوئے) شریکوں کو بھی (ساتھ ملا لو اور اس قدر سوچ لو کہ) پھر تمہاری تدبیر (کا کوئی پہلو) تم پر مخفی نہ رہے، پھر میرے ساتھ (جو جی میں آئے) کر گزرو اور (مجھے) کوئی مہلت نہ دو،(71)
فَإِن تَوَلَّيتُم فَما سَأَلتُكُم مِن أَجرٍ ۖ إِن أَجرِىَ إِلّا عَلَى اللَّهِ ۖ وَأُمِرتُ أَن أَكونَ مِنَ المُسلِمينَ(72)
سو اگر تم نے (میری نصیحت سے) منہ پھیر لیا ہے تو میں نے تم سے کوئی معاوضہ تو نہیں مانگا، میرا اجر تو صرف اللہ (کے ذمۂ کرم) پر ہے اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں (اس کے حکم کے سامنے) سرِ تسلیم خم کئے رکھوں،(72)
فَكَذَّبوهُ فَنَجَّينٰهُ وَمَن مَعَهُ فِى الفُلكِ وَجَعَلنٰهُم خَلٰئِفَ وَأَغرَقنَا الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا ۖ فَانظُر كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُنذَرينَ(73)
پھر آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا پس ہم نے انہیں اور جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے (عذابِ طوفان سے) نجات دی اور ہم نے انہیں (زمین میں) جانشین بنادیا اور ان لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا، سو آپ دیکھئے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ڈرائے گئے تھے،(73)
ثُمَّ بَعَثنا مِن بَعدِهِ رُسُلًا إِلىٰ قَومِهِم فَجاءوهُم بِالبَيِّنٰتِ فَما كانوا لِيُؤمِنوا بِما كَذَّبوا بِهِ مِن قَبلُ ۚ كَذٰلِكَ نَطبَعُ عَلىٰ قُلوبِ المُعتَدينَ(74)
پھر ہم نے ان کے بعد (کتنے ہی) رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا سو وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے پس وہ لوگ (بھی) ایسے نہ ہوئے کہ اس (بات) پر ایمان لے آتے جسے وہ پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اسی طرح ہم سرکشی کرنے والوں کے دلوں پر مُہر لگا دیا کرتے ہیں،(74)
ثُمَّ بَعَثنا مِن بَعدِهِم موسىٰ وَهٰرونَ إِلىٰ فِرعَونَ وَمَلَإِي۟هِ بِـٔايٰتِنا فَاستَكبَروا وَكانوا قَومًا مُجرِمينَ(75)
پھر ہم نے ان کے بعد موسٰی اور ہارون (علیھما السلام) کو فرعون اور اس کے سردارانِ قوم کی طرف نشانیوں کے ساتھ بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے،(75)
فَلَمّا جاءَهُمُ الحَقُّ مِن عِندِنا قالوا إِنَّ هٰذا لَسِحرٌ مُبينٌ(76)
پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا (تو) کہنے لگے: بیشک یہ تو کھلا جادو ہے،(76)
قالَ موسىٰ أَتَقولونَ لِلحَقِّ لَمّا جاءَكُم ۖ أَسِحرٌ هٰذا وَلا يُفلِحُ السّٰحِرونَ(77)
موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا تم (ایسی بات) حق سے متعلق کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آچکا ہے، (عقل و شعور کی آنکھیں کھول کر دیکھو) کیا یہ جادو ہے؟ اور جادوگر (کبھی) فلاح نہیں پاسکیں گے،(77)
قالوا أَجِئتَنا لِتَلفِتَنا عَمّا وَجَدنا عَلَيهِ ءاباءَنا وَتَكونَ لَكُمَا الكِبرِياءُ فِى الأَرضِ وَما نَحنُ لَكُما بِمُؤمِنينَ(78)
وہ کہنے لگے: (اے موسٰی!) کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ تم ہمیں اس (طریقہ) سے پھیر دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو (گامزن) پایا اور زمین (یعنی سرزمینِ مصر) میں تم دونوں کی بڑائی (قائم) رہے؟ اور ہم لوگ تم دونوں کو ماننے والے نہیں ہیں،(78)
وَقالَ فِرعَونُ ائتونى بِكُلِّ سٰحِرٍ عَليمٍ(79)
اور فرعون کہنے لگا: میرے پاس ہر ماہر جادوگر کو لے آؤ،(79)
فَلَمّا جاءَ السَّحَرَةُ قالَ لَهُم موسىٰ أَلقوا ما أَنتُم مُلقونَ(80)
پھر جب جادوگر آگئے تو موسٰی (علیہ السلام) نے ان سے کہا: تم (وہ چیزیں میدان میں) ڈال دو جو تم ڈالنا چاہتے ہو،(80)
فَلَمّا أَلقَوا قالَ موسىٰ ما جِئتُم بِهِ السِّحرُ ۖ إِنَّ اللَّهَ سَيُبطِلُهُ ۖ إِنَّ اللَّهَ لا يُصلِحُ عَمَلَ المُفسِدينَ(81)
پھر جب انہوں نے (اپنی رسیاں اور لاٹھیاں) ڈال دیں تو موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: جو کچھ تم لائے ہو (یہ) جادو ہے، بیشک اللہ ابھی اسے باطل کر دے گا، یقیناً اللہ مفسدوں کے کام کو درست نہیں کرتا،(81)
وَيُحِقُّ اللَّهُ الحَقَّ بِكَلِمٰتِهِ وَلَو كَرِهَ المُجرِمونَ(82)
اور اللہ اپنے کلمات سے حق کا حق ہونا ثابت فرما دیتا ہے اگرچہ مجرم لوگ اسے ناپسند ہی کرتے رہیں،(82)
فَما ءامَنَ لِموسىٰ إِلّا ذُرِّيَّةٌ مِن قَومِهِ عَلىٰ خَوفٍ مِن فِرعَونَ وَمَلَإِي۟هِم أَن يَفتِنَهُم ۚ وَإِنَّ فِرعَونَ لَعالٍ فِى الأَرضِ وَإِنَّهُ لَمِنَ المُسرِفينَ(83)
پس موسٰی (علیہ السلام) پر ان کی قوم کے چند جوانوں کے سوا (کوئی) ایمان نہ لایا، فرعون اور اپنے (قومی) سرداروں (وڈیروں) سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ انہیں (کسی) مصیبت میں مبتلا نہ کر دیں، اور بیشک فرعون سرزمینِ (مصر) میں بڑا جابر و سرکش تھا، اور وہ یقیناً (ظلم میں) حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا،(83)
وَقالَ موسىٰ يٰقَومِ إِن كُنتُم ءامَنتُم بِاللَّهِ فَعَلَيهِ تَوَكَّلوا إِن كُنتُم مُسلِمينَ(84)
اور موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر توکل کرو، اگر تم (واقعی) مسلمان ہو،(84)
فَقالوا عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلنا رَبَّنا لا تَجعَلنا فِتنَةً لِلقَومِ الظّٰلِمينَ(85)
تو انہوں نے عرض کیا: ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا ہے، اے ہمارے رب! تو ہمیں ظالم لوگوں کے لئے نشانہء ستم نہ بنا،(85)
وَنَجِّنا بِرَحمَتِكَ مِنَ القَومِ الكٰفِرينَ(86)
اور تو ہمیں اپنی رحمت سے کافروں کی قوم (کے تسلّط) سے نجات بخش دے،(86)
وَأَوحَينا إِلىٰ موسىٰ وَأَخيهِ أَن تَبَوَّءا لِقَومِكُما بِمِصرَ بُيوتًا وَاجعَلوا بُيوتَكُم قِبلَةً وَأَقيمُوا الصَّلوٰةَ ۗ وَبَشِّرِ المُؤمِنينَ(87)
اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ تم دونوں مصر (کے شہر) میں اپنی قوم کے لئے چند مکانات تیار کرو اور اپنے (ان) گھروں کو (نماز کی ادائیگی کے لئے) قبلہ رخ بناؤ اور (پھر) نماز قائم کرو، اور ایمان والوں کو (فتح و نصرت کی) خوشخبری سنا دو،(87)
وَقالَ موسىٰ رَبَّنا إِنَّكَ ءاتَيتَ فِرعَونَ وَمَلَأَهُ زينَةً وَأَموٰلًا فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا رَبَّنا لِيُضِلّوا عَن سَبيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطمِس عَلىٰ أَموٰلِهِم وَاشدُد عَلىٰ قُلوبِهِم فَلا يُؤمِنوا حَتّىٰ يَرَوُا العَذابَ الأَليمَ(88)
اور موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اے ہمارے رب! بیشک تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیوی زندگی میں اسبابِ زینت اور مال و دولت (کی کثرت) دے رکھی ہے، اے ہمارے رب! (کیا تو نے انہیں یہ سب کچھ اس لئے دیا ہے) تاکہ وہ (لوگوں کو کبھی لالچ اور کبھی خوف دلا کر) تیری راہ سے بہکا دیں۔ اے ہمارے رب! تو ان کی دولتوں کو برباد کردے اور ان کے دلوں کو (اتنا) سخت کردے کہ وہ پھر بھی ایمان نہ لائیں حتٰی کہ وہ دردناک عذاب دیکھ لیں،(88)
قالَ قَد أُجيبَت دَعوَتُكُما فَاستَقيما وَلا تَتَّبِعانِّ سَبيلَ الَّذينَ لا يَعلَمونَ(89)
ارشاد ہوا: بیشک تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، سو تم دونوں ثابت قدم رہنا اور ایسے لوگوں کے راستہ کی پیروی نہ کرنا جو علم نہیں رکھتے،(89)
۞ وَجٰوَزنا بِبَنى إِسرٰءيلَ البَحرَ فَأَتبَعَهُم فِرعَونُ وَجُنودُهُ بَغيًا وَعَدوًا ۖ حَتّىٰ إِذا أَدرَكَهُ الغَرَقُ قالَ ءامَنتُ أَنَّهُ لا إِلٰهَ إِلَّا الَّذى ءامَنَت بِهِ بَنوا إِسرٰءيلَ وَأَنا۠ مِنَ المُسلِمينَ(90)
اور ہم بنی اسرائیل کو دریا کے پار لے گئے پس فرعون اوراس کے لشکر نے سرکشی اور ظلم و تعدّی سے ان کا تعاقب کیا، یہاں تک کہ جب اسے (یعنی فرعون کو) ڈوبنے نے آلیا وہ کہنے لگا: میں اس پر ایمان لے آیا کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس (معبود) کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں (اب) مسلمانوں میں سے ہوں،(90)
ءالـٰٔنَ وَقَد عَصَيتَ قَبلُ وَكُنتَ مِنَ المُفسِدينَ(91)
(جواب دیا گیا کہ) اب (ایمان لاتا ہے)؟ حالانکہ تو پہلے (مسلسل) نافرمانی کرتا رہا ہے اور تو فساد بپا کرنے والوں میں سے تھا،(91)
فَاليَومَ نُنَجّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكونَ لِمَن خَلفَكَ ءايَةً ۚ وَإِنَّ كَثيرًا مِنَ النّاسِ عَن ءايٰتِنا لَغٰفِلونَ(92)
(اے فرعون!) سو آج ہم تیرے (بے جان) جسم کو بچالیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لئے (عبرت کا) نشان ہوسکے اور بیشک اکثر لوگ ہماری نشانیوں (کو سمجھنے) سے غافل ہیں،(92)
وَلَقَد بَوَّأنا بَنى إِسرٰءيلَ مُبَوَّأَ صِدقٍ وَرَزَقنٰهُم مِنَ الطَّيِّبٰتِ فَمَا اختَلَفوا حَتّىٰ جاءَهُمُ العِلمُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقضى بَينَهُم يَومَ القِيٰمَةِ فيما كانوا فيهِ يَختَلِفونَ(93)
اور فی الواقع ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کے لئے عمدہ جگہ بخشی اور ہم نے انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا تو انہوں نے کوئی اختلاف نہ کیا یہاں تک کہ ان کے پاس علم و دانش آپہنچی۔ بیشک آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان امور کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے،(93)
فَإِن كُنتَ فى شَكٍّ مِمّا أَنزَلنا إِلَيكَ فَسـَٔلِ الَّذينَ يَقرَءونَ الكِتٰبَ مِن قَبلِكَ ۚ لَقَد جاءَكَ الحَقُّ مِن رَبِّكَ فَلا تَكونَنَّ مِنَ المُمتَرينَ(94)
(اے سننے والے!) اگر تو اس (کتاب) کے بارے میں ذرا بھی شک میں مبتلا ہے جو ہم نے (اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے) تیری طرف اتاری ہے تو (اس کی حقانیت کی نسبت) ان لوگوں سے دریافت کرلے جو تجھ سے پہلے (اللہ کی) کتاب پڑھ رہے ہیں۔ بیشک تیری طرف تیرے رب کی جانب سے حق آگیا ہے، سو تُو شک کرنے والوں میں سے ہرگز نہ ہوجانا،(94)
وَلا تَكونَنَّ مِنَ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِ اللَّهِ فَتَكونَ مِنَ الخٰسِرينَ(95)
اور نہ ہرگز ان لوگوں میں سے ہوجانا جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے رہے ورنہ تُو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا،(95)
إِنَّ الَّذينَ حَقَّت عَلَيهِم كَلِمَتُ رَبِّكَ لا يُؤمِنونَ(96)
(اے حبیبِ مکرّم!) بیشک جن لوگوں پر آپ کے رب کا فرمان صادق آچکا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے،(96)
وَلَو جاءَتهُم كُلُّ ءايَةٍ حَتّىٰ يَرَوُا العَذابَ الأَليمَ(97)
اگرچہ ان کے پاس سب نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب (بھی) دیکھ لیں،(97)
فَلَولا كانَت قَريَةٌ ءامَنَت فَنَفَعَها إيمٰنُها إِلّا قَومَ يونُسَ لَمّا ءامَنوا كَشَفنا عَنهُم عَذابَ الخِزىِ فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا وَمَتَّعنٰهُم إِلىٰ حينٍ(98)
پھر قومِ یونس (کی بستی) کے سوا کوئی اور ایسی بستی کیوں نہ ہوئی جو ایمان لائی ہو اور اسے اس کے ایمان لانے نے فائدہ دیا ہو۔ جب (قومِ یونس کے لوگ نزولِ عذاب سے قبل صرف اس کی نشانی دیکھ کر) ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے دنیوی زندگی میں (ہی) رسوائی کا عذاب دور کردیا اور ہم نے انہیں ایک مدت تک منافع سے بہرہ مند رکھا،(98)
وَلَو شاءَ رَبُّكَ لَءامَنَ مَن فِى الأَرضِ كُلُّهُم جَميعًا ۚ أَفَأَنتَ تُكرِهُ النّاسَ حَتّىٰ يَكونوا مُؤمِنينَ(99)
اور اگر آپ کا رب چاہتا تو ضرور سب کے سب لوگ جو زمین میں آباد ہیں ایمان لے آتے، (جب رب نے انہیں جبراً مومن نہیں بنایا) تو کیا آپ لوگوں پر جبر کریں گے یہاں تک کہ وہ مومن ہوجائیں،(99)
وَما كانَ لِنَفسٍ أَن تُؤمِنَ إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ ۚ وَيَجعَلُ الرِّجسَ عَلَى الَّذينَ لا يَعقِلونَ(100)
اور کسی شخص کو (اَز خود یہ) قدرت نہیں کہ وہ بغیر اِذنِ الٰہی کے ایمان لے آئے۔ وہ (یعنی اللہ تعالی) کفر کی گندگی انہی لوگوں پر ڈالتا ہے جو (حق کو سمجھنے کے لئے) عقل سے کام نہیں لیتے،(100)
قُلِ انظُروا ماذا فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ وَما تُغنِى الءايٰتُ وَالنُّذُرُ عَن قَومٍ لا يُؤمِنونَ(101)
فرما دیجئے: تم لوگ دیکھو تو (سہی) آسمانوں اور زمین (کی اس وسیع کائنات) میں قدرتِ الٰہیہ کی کیا کیا نشانیاں ہیں اور (یہ) نشانیاں اور (عذابِ الٰہی سے) ڈرانے والے (پیغمبر) ایسے لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے جو ایمان لانا ہی نہیں چاہتے،(101)
فَهَل يَنتَظِرونَ إِلّا مِثلَ أَيّامِ الَّذينَ خَلَوا مِن قَبلِهِم ۚ قُل فَانتَظِروا إِنّى مَعَكُم مِنَ المُنتَظِرينَ(102)
سو کیا یہ لوگ انہی لوگوں (کے بُرے دنوں) جیسے دِنوں کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟ فرما دیجئے کہ تم (بھی) انتظار کرو میں (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں،(102)
ثُمَّ نُنَجّى رُسُلَنا وَالَّذينَ ءامَنوا ۚ كَذٰلِكَ حَقًّا عَلَينا نُنجِ المُؤمِنينَ(103)
پھر ہم اپنے رسولوں کو بچا لیتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو اس طرح ایمان لے آتے ہیں، (یہ بات) ہمارے ذمۂ کرم پر ہے کہ ہم ایمان والوں کو بچا لیں،(103)
قُل يٰأَيُّهَا النّاسُ إِن كُنتُم فى شَكٍّ مِن دينى فَلا أَعبُدُ الَّذينَ تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ وَلٰكِن أَعبُدُ اللَّهَ الَّذى يَتَوَفّىٰكُم ۖ وَأُمِرتُ أَن أَكونَ مِنَ المُؤمِنينَ(104)
فرما دیجئے: اے لوگو! اگر تم میرے دین (کی حقانیت کے بارے) میں ذرا بھی شک میں ہو تو (سن لو) کہ میں ان (بتوں) کی پرستش نہیں کرسکتا جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو لیکن میں تو اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں موت سے ہمکنار کرتا ہے، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں (ہمیشہ) اہلِ ایمان میں سے رہوں،(104)
وَأَن أَقِم وَجهَكَ لِلدّينِ حَنيفًا وَلا تَكونَنَّ مِنَ المُشرِكينَ(105)
اور یہ کہ آپ ہر باطل سے بچ کر (یک سُو ہو کر) اپنا رخ دین پر قائم رکھیں اور ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں،(105)
وَلا تَدعُ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَنفَعُكَ وَلا يَضُرُّكَ ۖ فَإِن فَعَلتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظّٰلِمينَ(106)
(یہ حکم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے امت کو دیا جارہا ہے:) اور نہ اللہ کے سوا ان (بتوں) کی عبادت کریں جو نہ تمہیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں، پھر اگر تم نے ایسا کیا تو بیشک تم اس وقت ظالموں میں سے ہو جاؤ گے،(106)
وَإِن يَمسَسكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا كاشِفَ لَهُ إِلّا هُوَ ۖ وَإِن يُرِدكَ بِخَيرٍ فَلا رادَّ لِفَضلِهِ ۚ يُصيبُ بِهِ مَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ ۚ وَهُوَ الغَفورُ الرَّحيمُ(107)
اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو کوئی اس کے فضل کو ردّ کرنے والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے، اور وہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(107)
قُل يٰأَيُّهَا النّاسُ قَد جاءَكُمُ الحَقُّ مِن رَبِّكُم ۖ فَمَنِ اهتَدىٰ فَإِنَّما يَهتَدى لِنَفسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيها ۖ وَما أَنا۠ عَلَيكُم بِوَكيلٍ(108)
فرما دیجئے: اے لوگو! بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے حق آگیا ہے، سو جس نے راہِ ہدایت اختیار کی بس وہ اپنے ہی فائدے کے لئے ہدایت اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوگیا بس وہ اپنی ہی ہلاکت کے لئے گمراہ ہوتا ہے اور میں تمہارے اوپر داروغہ نہیں ہوں (کہ تمہیں سختی سے راہِ ہدایت پر لے آؤں)،(108)
وَاتَّبِع ما يوحىٰ إِلَيكَ وَاصبِر حَتّىٰ يَحكُمَ اللَّهُ ۚ وَهُوَ خَيرُ الحٰكِمينَ(109)
(اے رسول!) آپ اسی کی اتباع کریں جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اور صبر کرتے رہیں یہاں تک کہ اللہ فیصلہ فرما دے، اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے،(109)