Sad( ص)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ ص ۚ وَالقُرءانِ ذِى الذِّكرِ(1)
ص (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، ذکر والے قرآن کی قسم،(1)
بَلِ الَّذينَ كَفَروا فى عِزَّةٍ وَشِقاقٍ(2)
بلکہ کافر لوگ (ناحق) حمیّت و تکبّر میں اور (ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) مخالفت و عداوت میں (مبتلا) ہیں،(2)
كَم أَهلَكنا مِن قَبلِهِم مِن قَرنٍ فَنادَوا وَلاتَ حينَ مَناصٍ(3)
ہم نے کتنی ہی امّتوں کو اُن سے پہلے ہلاک کر دیا تو وہ (عذاب کو دیکھ کر) پکارنے لگے حالانکہ اب خلاصی (اور رہائی) کا وقت نہیں رہا تھا،(3)
وَعَجِبوا أَن جاءَهُم مُنذِرٌ مِنهُم ۖ وَقالَ الكٰفِرونَ هٰذا سٰحِرٌ كَذّابٌ(4)
اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس اُن ہی میں سے ایک ڈر سنانے والا آگیا ہے۔ اور کفّار کہنے لگے: یہ جادوگر ہے، بہت جھوٹا ہے،(4)
أَجَعَلَ الءالِهَةَ إِلٰهًا وٰحِدًا ۖ إِنَّ هٰذا لَشَيءٌ عُجابٌ(5)
کیا اس نے سب معبودوں کو ایک ہی معبود بنا رکھا ہے؟ بے شک یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے،(5)
وَانطَلَقَ المَلَأُ مِنهُم أَنِ امشوا وَاصبِروا عَلىٰ ءالِهَتِكُم ۖ إِنَّ هٰذا لَشَيءٌ يُرادُ(6)
اور اُن کے سردار (ابوطالب کے گھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر) چل کھڑے ہوئے (باقی لوگوں سے) یہ کہتے ہوئے کہ تم بھی چل پڑو، اور اپنے معبودوں (کی پرستش) پر ثابت قدم رہو، یہ ضرور ایسی بات ہے جس میں کوئی غرض (اور مراد) ہے،(6)
ما سَمِعنا بِهٰذا فِى المِلَّةِ الءاخِرَةِ إِن هٰذا إِلَّا اختِلٰقٌ(7)
ہم نے اس (عقیدۂ توحید) کو آخری ملّتِ (نصرانی یا مذہبِ قریش) میں بھی نہیں سنا، یہ صرف خود ساختہ جھوٹ ہے،(7)
أَءُنزِلَ عَلَيهِ الذِّكرُ مِن بَينِنا ۚ بَل هُم فى شَكٍّ مِن ذِكرى ۖ بَل لَمّا يَذوقوا عَذابِ(8)
کیا ہم سب میں سے اسی پر یہ ذکر (یعنی قرآن) اتارا گیا ہے؟ بلکہ وہ میرے ذکر کی نسبت شک میں (گرفتار) ہیں، بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا،(8)
أَم عِندَهُم خَزائِنُ رَحمَةِ رَبِّكَ العَزيزِ الوَهّابِ(9)
کیا ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب ہے بہت عطا فرمانے والا ہے؟،(9)
أَم لَهُم مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُما ۖ فَليَرتَقوا فِى الأَسبٰبِ(10)
یا اُن کے پاس آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ اِن دونوں کے درمیان ہے اس کی بادشاہت ہے؟ (اگر ہے) تو انہیں چاہئے کہ رسّیاں باندھ کر (آسمان پر) چڑھ جائیں،(10)
جُندٌ ما هُنالِكَ مَهزومٌ مِنَ الأَحزابِ(11)
(کفّار کے) لشکروں میں سے یہ ایک حقیر سا لشکر ہے جو اسی جگہ شکست خوردہ ہونے والا ہے،(11)
كَذَّبَت قَبلَهُم قَومُ نوحٍ وَعادٌ وَفِرعَونُ ذُو الأَوتادِ(12)
اِن سے پہلے قومِ نوح نے اور عاد نے اور بڑی مضبوط حکومت والے (یا میخوں سے اذیّت دینے والے) فرعون نے (بھی) جھٹلایا تھا،(12)
وَثَمودُ وَقَومُ لوطٍ وَأَصحٰبُ لـَٔيكَةِ ۚ أُولٰئِكَ الأَحزابُ(13)
اور ثمود نے اور قومِ لوط نے اور اَیکہ (بَن) کے رہنے والوں نے (یعنی قومِ شعیب نے) بھی (جھٹلایا تھا)، یہی وہ بڑے لشکر تھے،(13)
إِن كُلٌّ إِلّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقابِ(14)
(اِن میں سے) ہر ایک گروہ نے رسولوں کو جھٹلایا تو (اُن پر) میرا عذاب واجب ہو گیا،(14)
وَما يَنظُرُ هٰؤُلاءِ إِلّا صَيحَةً وٰحِدَةً ما لَها مِن فَواقٍ(15)
اور یہ سب لوگ ایک نہایت سخت آواز (چنگھاڑ) کا انتظار کر رہے ہیں جس میں کچھ بھی توقّف نہ ہوگا،(15)
وَقالوا رَبَّنا عَجِّل لَنا قِطَّنا قَبلَ يَومِ الحِسابِ(16)
اور وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! روزِ حساب سے پہلے ہی ہمارا حصّہ ہمیں جلد دے دے،(16)
اصبِر عَلىٰ ما يَقولونَ وَاذكُر عَبدَنا داوۥدَ ذَا الأَيدِ ۖ إِنَّهُ أَوّابٌ(17)
(اے حبیبِ مکرّم!) جو کچھ وہ کہتے ہیں آپ اس پر صبر جاری رکھیئے اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کریں جو بڑی قوت والے تھے، بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والے تھے،(17)
إِنّا سَخَّرنَا الجِبالَ مَعَهُ يُسَبِّحنَ بِالعَشِىِّ وَالإِشراقِ(18)
بے شک ہم نے پہاڑوں کو اُن کے زیرِ فرمان کر دیا تھا، جو (اُن کے ساتھ مل کر) شام کو اور صبح کو تسبیح کیا کرتے تھے،(18)
وَالطَّيرَ مَحشورَةً ۖ كُلٌّ لَهُ أَوّابٌ(19)
اور پرندوں کو بھی جو (اُن کے پاس) جمع رہتے تھے، ہر ایک ان کی طرف (اطاعت کے لئے) رجوع کرنے والا تھا،(19)
وَشَدَدنا مُلكَهُ وَءاتَينٰهُ الحِكمَةَ وَفَصلَ الخِطابِ(20)
اور ہم نے اُن کے ملک و سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور ہم نے انہیں حکمت و دانائی اور فیصلہ کن اندازِ خطاب عطا کیا تھا،(20)
۞ وَهَل أَتىٰكَ نَبَؤُا۟ الخَصمِ إِذ تَسَوَّرُوا المِحرابَ(21)
اور کیا آپ کے پاس جھگڑنے والوں کی خبر پہنچی؟ جب وہ دیوار پھاند کر (داؤد علیہ السلام کی) عبادت گاہ میں داخل ہو گئے،(21)
إِذ دَخَلوا عَلىٰ داوۥدَ فَفَزِعَ مِنهُم ۖ قالوا لا تَخَف ۖ خَصمانِ بَغىٰ بَعضُنا عَلىٰ بَعضٍ فَاحكُم بَينَنا بِالحَقِّ وَلا تُشطِط وَاهدِنا إِلىٰ سَواءِ الصِّرٰطِ(22)
جب وہ داؤد (علیہ السلام) کے پاس اندر آگئے تو وہ اُن سے گھبرائے، انہوں نے کہا: گھبرائیے نہیں، ہم (ایک) مقدّمہ میں دو فریق ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔ آپ ہمارے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیں اور حد سے تجاوز نہ کریں اور ہمیں سیدھی راہ کی طرف رہبری کر دیں،(22)
إِنَّ هٰذا أَخى لَهُ تِسعٌ وَتِسعونَ نَعجَةً وَلِىَ نَعجَةٌ وٰحِدَةٌ فَقالَ أَكفِلنيها وَعَزَّنى فِى الخِطابِ(23)
بے شک یہ میرا بھائی ہے، اِس کی ننانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دُنبی ہے، پھر کہتا ہے یہ (بھی) میرے حوالہ کر دو اور گفتگو میں (بھی) مجھے دبا لیتا ہے،(23)
قالَ لَقَد ظَلَمَكَ بِسُؤالِ نَعجَتِكَ إِلىٰ نِعاجِهِ ۖ وَإِنَّ كَثيرًا مِنَ الخُلَطاءِ لَيَبغى بَعضُهُم عَلىٰ بَعضٍ إِلَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَليلٌ ما هُم ۗ وَظَنَّ داوۥدُ أَنَّما فَتَنّٰهُ فَاستَغفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ راكِعًا وَأَنابَ ۩(24)
داؤد (علیہ السلام) نے کہا: تمہاری دُنبی کو اپنی دُنبیوں سے ملانے کا سوال کر کے اس نے تم سے زیادتی کی ہے اور بیشک اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے، اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اور داؤد (علیہ السلام) نے خیال کیا کہ ہم نے (اس مقدّمہ کے ذریعہ) اُن کی آزمائش کی ہے، سو انہوں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی اور سجدہ میں گر پڑے اور توبہ کی،(24)
فَغَفَرنا لَهُ ذٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُ عِندَنا لَزُلفىٰ وَحُسنَ مَـٔابٍ(25)
تو ہم نے اُن کو معاف فرما دیا، اور بے شک اُن کے لئے ہماری بارگاہ میں قربِ خاص ہے اور (آخرت میں) اَعلیٰ مقام ہے،(25)
يٰداوۥدُ إِنّا جَعَلنٰكَ خَليفَةً فِى الأَرضِ فَاحكُم بَينَ النّاسِ بِالحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الهَوىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذينَ يَضِلّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ لَهُم عَذابٌ شَديدٌ بِما نَسوا يَومَ الحِسابِ(26)
اے داؤد! بے شک ہم نے آپ کو زمین میں (اپنا) نائب بنایا سو تم لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے (یا حکومت) کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا ورنہ (یہ پیروی) تمہیں راہِ خدا سے بھٹکا دے گی، بے شک جو لوگ اﷲ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں اُن کے لئے سخت عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ یومِ حساب کو بھول گئے،(26)
وَما خَلَقنَا السَّماءَ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما بٰطِلًا ۚ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذينَ كَفَروا ۚ فَوَيلٌ لِلَّذينَ كَفَروا مِنَ النّارِ(27)
اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کائنات دونوں کے درمیان ہے اسے بے مقصد و بے مصلحت نہیں بنایا۔ یہ (بے مقصد یعنی اتفاقیہ تخلیق) کافر لوگوں کا خیال و نظریہ ہے۔ سو کافر لوگوں کے لئے آتشِ دوزخ کی ہلاکت ہے،(27)
أَم نَجعَلُ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالمُفسِدينَ فِى الأَرضِ أَم نَجعَلُ المُتَّقينَ كَالفُجّارِ(28)
کیا ہم اُن لوگوں کو جو ایمان لائے اور اعمالِ صالحہ بجا لائے اُن لوگوں جیسا کر دیں گے جو زمین میں فساد بپا کرنے والے ہیں یا ہم پرہیزگاروں کو بدکرداروں جیسا بنا دیں گے،(28)
كِتٰبٌ أَنزَلنٰهُ إِلَيكَ مُبٰرَكٌ لِيَدَّبَّروا ءايٰتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُوا الأَلبٰبِ(29)
یہ کتاب برکت والی ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا ہے تاکہ دانش مند لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور نصیحت حاصل کریں،(29)
وَوَهَبنا لِداوۥدَ سُلَيمٰنَ ۚ نِعمَ العَبدُ ۖ إِنَّهُ أَوّابٌ(30)
اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو (فرزند) سلیمان (علیہ السلام) بخشا، وہ کیا خوب بندہ تھا، بے شک وہ بڑی کثرت سے توبہ کرنے والا ہے،(30)
إِذ عُرِضَ عَلَيهِ بِالعَشِىِّ الصّٰفِنٰتُ الجِيادُ(31)
جب اُن کے سامنے شام کے وقت نہایت سُبک رفتار عمدہ گھوڑے پیش کئے گئے،(31)
فَقالَ إِنّى أَحبَبتُ حُبَّ الخَيرِ عَن ذِكرِ رَبّى حَتّىٰ تَوارَت بِالحِجابِ(32)
تو انہوں نے (اِنابۃً) کہا: میں مال (یعنی گھوڑوں) کی محبت کو اپنے رب کے ذکر سے بھی (زیادہ) پسند کر بیٹھا ہوں یہاں تک کہ (سورج رات کے) پردے میں چھپ گیا،(32)
رُدّوها عَلَىَّ ۖ فَطَفِقَ مَسحًا بِالسّوقِ وَالأَعناقِ(33)
انہوں نے کہا: اُن (گھوڑوں) کو میرے پاس واپس لاؤ، تو انہوں نے (تلوار سے) اُن کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹ ڈالیں (یوں اپنی محبت کو اﷲ کے تقرّب کے لئے ذبح کر دیا)،(33)
وَلَقَد فَتَنّا سُلَيمٰنَ وَأَلقَينا عَلىٰ كُرسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنابَ(34)
اور بے شک ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی (بھی) آزمائش کی اور ہم نے اُن کے تخت پر ایک (عجیب الخلقت) جسم ڈال دیا پھر انہوں نے دوبارہ (سلطنت) پا لی،(34)
قالَ رَبِّ اغفِر لى وَهَب لى مُلكًا لا يَنبَغى لِأَحَدٍ مِن بَعدى ۖ إِنَّكَ أَنتَ الوَهّابُ(35)
عرض کیا: اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو میسّر نہ ہو، بیشک تو ہی بڑا عطا فرمانے والا ہے،(35)
فَسَخَّرنا لَهُ الرّيحَ تَجرى بِأَمرِهِ رُخاءً حَيثُ أَصابَ(36)
پھر ہم نے اُن کے لئے ہوا کو تابع کر دیا، وہ اُن کے حکم سے نرم نرم چلتی تھی جہاں کہیں (بھی) وہ پہنچنا چاہتے،(36)
وَالشَّيٰطينَ كُلَّ بَنّاءٍ وَغَوّاصٍ(37)
اور کل جنّات (و شیاطین بھی ان کے تابع کر دیئے) اور ہر معمار اور غوطہ زَن (بھی)،(37)
وَءاخَرينَ مُقَرَّنينَ فِى الأَصفادِ(38)
اور دوسرے (جنّات) بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے،(38)
هٰذا عَطاؤُنا فَامنُن أَو أَمسِك بِغَيرِ حِسابٍ(39)
(ارشاد ہوا:) یہ ہماری عطا ہے (خواہ دوسروں پر) احسان کرو یا (اپنے تک) روکے رکھو (دونوں حالتوں میں) کوئی حساب نہیں،(39)
وَإِنَّ لَهُ عِندَنا لَزُلفىٰ وَحُسنَ مَـٔابٍ(40)
اور بے شک اُن کے لئے ہماری بارگاہ میں خصوصی قربت اور آخرت میں عمدہ مقام ہے،(40)
وَاذكُر عَبدَنا أَيّوبَ إِذ نادىٰ رَبَّهُ أَنّى مَسَّنِىَ الشَّيطٰنُ بِنُصبٍ وَعَذابٍ(41)
اور ہمارے بندے ایّوب (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے بڑی اذیّت اور تکلیف پہنچائی ہے،(41)
اركُض بِرِجلِكَ ۖ هٰذا مُغتَسَلٌ بارِدٌ وَشَرابٌ(42)
(ارشاد ہوا:) تم اپنا پاؤں زمین پر مارو، یہ (پانی کا) ٹھنڈا چشمہ ہے نہانے کے لئے اور پینے کے لئے،(42)
وَوَهَبنا لَهُ أَهلَهُ وَمِثلَهُم مَعَهُم رَحمَةً مِنّا وَذِكرىٰ لِأُولِى الأَلبٰبِ(43)
اور ہم نے اُن کو اُن کے اہل و عیال اور اُن کے ساتھ اُن کے برابر (مزید اہل و عیال) عطا کر دیئے، ہماری طرف سے خصوصی رحمت کے طور پر، اور دانش مندوں کے لئے نصیحت کے طور پر،(43)
وَخُذ بِيَدِكَ ضِغثًا فَاضرِب بِهِ وَلا تَحنَث ۗ إِنّا وَجَدنٰهُ صابِرًا ۚ نِعمَ العَبدُ ۖ إِنَّهُ أَوّابٌ(44)
(اے ایوب!) تم اپنے ہاتھ میں (سَو) تنکوں کی جھاڑو پکڑ لو اور (اپنی قسم پوری کرنے کے لئے) اس سے (ایک بار اپنی زوجہ کو) مارو اور قسم نہ توڑو، بے شک ہم نے اسے ثابت قدم پایا، (ایّوب علیہ السلام) کیا خوب بندہ تھا، بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والا تھا،(44)
وَاذكُر عِبٰدَنا إِبرٰهيمَ وَإِسحٰقَ وَيَعقوبَ أُولِى الأَيدى وَالأَبصٰرِ(45)
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیھم السلام) کا ذکر کیجئے جو بڑی قوّت والے اور نظر والے تھے،(45)
إِنّا أَخلَصنٰهُم بِخالِصَةٍ ذِكرَى الدّارِ(46)
بے شک ہم نے اُن کو آخرت کے گھر کی یاد کی خاص (خصلت) کی وجہ سے چن لیا تھا،(46)
وَإِنَّهُم عِندَنا لَمِنَ المُصطَفَينَ الأَخيارِ(47)
اور بے شک وہ ہمارے حضور بڑے منتخب و برگزیدہ (اور) پسندیدہ بندوں میں سے تھے،(47)
وَاذكُر إِسمٰعيلَ وَاليَسَعَ وَذَا الكِفلِ ۖ وَكُلٌّ مِنَ الأَخيارِ(48)
اور آپ اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل (علیھم السلام) کا (بھی) ذکر کیجئے، اور وہ سارے کے سارے چنے ہوئے لوگوں میں سے تھے،(48)
هٰذا ذِكرٌ ۚ وَإِنَّ لِلمُتَّقينَ لَحُسنَ مَـٔابٍ(49)
یہ (وہ) ذکر ہے (جس کا بیان اس سورت کی پہلی آیت میں ہے)، اور بے شک پرہیزگاروں کے لئے عمدہ ٹھکانا ہے،(49)
جَنّٰتِ عَدنٍ مُفَتَّحَةً لَهُمُ الأَبوٰبُ(50)
(جو) دائمی اِقامت کے لئے باغاتِ عدن ہیں جن کے دروازے اُن کے لئے کھلے ہوں گے،(50)
مُتَّكِـٔينَ فيها يَدعونَ فيها بِفٰكِهَةٍ كَثيرَةٍ وَشَرابٍ(51)
وہ اس میں (مَسندوں پر) تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اس میں (وقفے وقفے سے) بہت سے عمدہ پھل اور میوے اور (لذیذ) شربت طلب کرتے رہیں گے،(51)
۞ وَعِندَهُم قٰصِرٰتُ الطَّرفِ أَترابٌ(52)
اور اُن کے پاس نیچی نگاہوں والی (باحیا) ہم عمر (حوریں) ہوں گی،(52)
هٰذا ما توعَدونَ لِيَومِ الحِسابِ(53)
یہ وہ نعمتیں ہیں جن کا روزِ حساب کے لئے تم سے وعدہ کیا جاتا ہے،(53)
إِنَّ هٰذا لَرِزقُنا ما لَهُ مِن نَفادٍ(54)
بیشک یہ ہماری بخشش ہے اسے کبھی بھی ختم نہیں ہونا،(54)
هٰذا ۚ وَإِنَّ لِلطّٰغينَ لَشَرَّ مَـٔابٍ(55)
یہ (تو مومنوں کے لئے ہے)، اور بے شک سرکشوں کے لئے بہت ہی برا ٹھکانا ہے،(55)
جَهَنَّمَ يَصلَونَها فَبِئسَ المِهادُ(56)
(وہ) دوزخ ہے، اس میں وہ داخل ہوں گے، سو بہت ہی بُرا بچھونا ہے،(56)
هٰذا فَليَذوقوهُ حَميمٌ وَغَسّاقٌ(57)
یہ (عذاب ہے) پس انہیں یہ چکھنا چاہئے کھولتا ہوا پانی ہے اور پیپ ہے،(57)
وَءاخَرُ مِن شَكلِهِ أَزوٰجٌ(58)
اور اسی شکل میں اور بھی طرح طرح کا (عذاب) ہے،(58)
هٰذا فَوجٌ مُقتَحِمٌ مَعَكُم ۖ لا مَرحَبًا بِهِم ۚ إِنَّهُم صالُوا النّارِ(59)
(دوزخ کے داروغے یا پہلے سے موجود جہنمی کہیں گے:) یہ ایک (اور) فوج ہے جو تمہارے ساتھ (جہنم میں) گھستی چلی آرہی ہے، انہیں کوئی خوش آمدید نہیں، بیشک وہ (بھی) دوزخ میں داخل ہونے والے ہیں،(59)
قالوا بَل أَنتُم لا مَرحَبًا بِكُم ۖ أَنتُم قَدَّمتُموهُ لَنا ۖ فَبِئسَ القَرارُ(60)
وہ (آنے والے) کہیں گے: بلکہ تم ہی ہو کہ تمہیں کوئی فراخی نصیب نہ ہو، تم ہی نے یہ (کفر اور عذاب) ہمارے سامنے پیش کیا، سو (یہ) بری قرارگاہ ہے،(60)
قالوا رَبَّنا مَن قَدَّمَ لَنا هٰذا فَزِدهُ عَذابًا ضِعفًا فِى النّارِ(61)
وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جس نے یہ (کفر یا عذاب) ہمارے لئے پیش کیا تھا تو اسے دوزخ میں دوگنا عذاب بڑھا دے،(61)
وَقالوا ما لَنا لا نَرىٰ رِجالًا كُنّا نَعُدُّهُم مِنَ الأَشرارِ(62)
اور وہ کہیں گے: ہمیں کیا ہوگیا ہے ہم (اُن) اشخاص کو (یہاں) نہیں دیکھتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے،(62)
أَتَّخَذنٰهُم سِخرِيًّا أَم زاغَت عَنهُمُ الأَبصٰرُ(63)
کیا ہم ان کا (ناحق) مذاق اڑاتے تھے یا ہماری آنکھیں انہیں (پہچاننے) سے چوک گئی تھیں (یہ عمّار، خباب، صُہیب، بلال اور سلمان رضی اللہ عنھما جیسے فقراء اور درویش تھے)،(63)
إِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخاصُمُ أَهلِ النّارِ(64)
بے شک یہ اہلِ جہنم کا آپس میں جھگڑنا یقیناً حق ہے،(64)
قُل إِنَّما أَنا۠ مُنذِرٌ ۖ وَما مِن إِلٰهٍ إِلَّا اللَّهُ الوٰحِدُ القَهّارُ(65)
فرما دیجئے: میں تو صرف ڈر سنانے والا ہوں، اور اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا سب پر غالب ہے،(65)
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُمَا العَزيزُ الغَفّٰرُ(66)
آسمانوں اور زمین کا اور جو کائنات اِن دونوں کے درمیان ہے (سب) کا رب ہے بڑی عزت والا، بڑا بخشنے والا ہے،(66)
قُل هُوَ نَبَؤٌا۟ عَظيمٌ(67)
فرما دیجئے: وہ (قیامت) بہت بڑی خبر ہے،(67)
أَنتُم عَنهُ مُعرِضونَ(68)
تم اس سے منہ پھیرے ہوئے ہو،(68)
ما كانَ لِىَ مِن عِلمٍ بِالمَلَإِ الأَعلىٰ إِذ يَختَصِمونَ(69)
مجھے تو (اَزخود) عالمِ بالا کی جماعتِ (ملائکہ) کی کوئی خبر نہ تھی جب وہ (تخلیقِ آدم کے بارے میں) بحث و تمحیص کر رہے تھے،(69)
إِن يوحىٰ إِلَىَّ إِلّا أَنَّما أَنا۠ نَذيرٌ مُبينٌ(70)
مجھے تو (اﷲ کی طرف سے) وحی کی جاتی ہے مگر یہ کہ میں صاف صاف ڈر سنانے والا ہوں،(70)
إِذ قالَ رَبُّكَ لِلمَلٰئِكَةِ إِنّى خٰلِقٌ بَشَرًا مِن طينٍ(71)
(وہ وقت یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں (گیلی) مٹی سے ایک پیکرِ بشریت پیدا فرمانے والا ہوں،(71)
فَإِذا سَوَّيتُهُ وَنَفَختُ فيهِ مِن روحى فَقَعوا لَهُ سٰجِدينَ(72)
پھر جب میں اس (کے ظاہر) کو درست کر لوں اور اس (کے باطن) میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں تو تم اس (کی تعظیم) کے لئے سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا،(72)
فَسَجَدَ المَلٰئِكَةُ كُلُّهُم أَجمَعونَ(73)
پس سب کے سب فرشتوں نے اکٹھے سجدہ کیا،(73)
إِلّا إِبليسَ استَكبَرَ وَكانَ مِنَ الكٰفِرينَ(74)
سوائے ابلیس کے، اس نے (شانِ نبوّت کے سامنے) تکبّر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا،(74)
قالَ يٰإِبليسُ ما مَنَعَكَ أَن تَسجُدَ لِما خَلَقتُ بِيَدَىَّ ۖ أَستَكبَرتَ أَم كُنتَ مِنَ العالينَ(75)
(اﷲ نے) ارشاد فرمایا: اے ابلیس! تجھے کس نے اس (ہستی) کو سجدہ کرنے سے روکا ہے جسے میں نے خود اپنے دستِ (کرم) سے بنایا ہے، کیا تو نے (اس سے) تکبّر کیا یا تو (بزعمِ خویش) بلند رتبہ (بنا ہوا) تھا،(75)
قالَ أَنا۠ خَيرٌ مِنهُ ۖ خَلَقتَنى مِن نارٍ وَخَلَقتَهُ مِن طينٍ(76)
اس نے (نبی کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے ہوئے) کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا ہے اور تو نے اِسے مٹی سے بنایا ہے،(76)
قالَ فَاخرُج مِنها فَإِنَّكَ رَجيمٌ(77)
ارشاد ہوا: سو تو (اِس گستاخئ نبوّت کے جرم میں) یہاں سے نکل جا، بے شک تو مردود ہے،(77)
وَإِنَّ عَلَيكَ لَعنَتى إِلىٰ يَومِ الدّينِ(78)
اور بے شک تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت رہے گی،(78)
قالَ رَبِّ فَأَنظِرنى إِلىٰ يَومِ يُبعَثونَ(79)
اس نے کہا: اے پروردگار! پھر مجھے اس دن تک (زندہ رہنے کی) مہلت دے جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے،(79)
قالَ فَإِنَّكَ مِنَ المُنظَرينَ(80)
ارشاد ہوا: (جا) بے شک تو مہلت والوں میں سے ہے،(80)
إِلىٰ يَومِ الوَقتِ المَعلومِ(81)
اس وقت کے دن تک جو مقرّر (اور معلوم) ہے،(81)
قالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغوِيَنَّهُم أَجمَعينَ(82)
اس نے کہا: سو تیری عزّت کی قسم! میں ان سب لوگوں کو ضرور گمراہ کرتا رہوں گا،(82)
إِلّا عِبادَكَ مِنهُمُ المُخلَصينَ(83)
سوائے تیرے اُن بندوں کے جو چُنیدہ و برگزیدہ ہیں،(83)
قالَ فَالحَقُّ وَالحَقَّ أَقولُ(84)
ارشاد ہوا: پس حق (یہ) ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں،(84)
لَأَملَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنهُم أَجمَعينَ(85)
کہ میں تجھ سے اور جو لوگ تیری (گستاخانہ سوچ کی) پیروی کریں گے اُن سب سے دوزخ کو بھر دوں گا،(85)
قُل ما أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ مِن أَجرٍ وَما أَنا۠ مِنَ المُتَكَلِّفينَ(86)
فرما دیجئے: میں تم سے اِس (حق کی تبلیغ) پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں،(86)
إِن هُوَ إِلّا ذِكرٌ لِلعٰلَمينَ(87)
یہ (قرآن) تو سارے جہان والوں کے لئے نصیحت ہی ہے،(87)
وَلَتَعلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعدَ حينٍ(88)
اور تمہیں تھوڑے ہی وقت کے بعد خود اِس کا حال معلوم ہو جائے گا،(88)