Qaf( ق)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ ق ۚ وَالقُرءانِ المَجيدِ(1)
ق (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، قسم ہے قرآنِ مجید کی،(1)
بَل عَجِبوا أَن جاءَهُم مُنذِرٌ مِنهُم فَقالَ الكٰفِرونَ هٰذا شَيءٌ عَجيبٌ(2)
بلکہ اُن لوگوں نے تعجب کیا کہ اُن کے پاس اُنہی میں سے ایک ڈر سنانے والا آگیا ہے، سو کافر کہتے ہیں: یہ عجیب بات ہے،(2)
أَءِذا مِتنا وَكُنّا تُرابًا ۖ ذٰلِكَ رَجعٌ بَعيدٌ(3)
کیا جب ہم مَر جائیں گے اور ہم مٹّی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے)؟ یہ پلٹنا (فہم و ادراک سے) بعید ہے،(3)
قَد عَلِمنا ما تَنقُصُ الأَرضُ مِنهُم ۖ وَعِندَنا كِتٰبٌ حَفيظٌ(4)
بیشک ہم جانتے ہیں کہ زمین اُن (کے جسموں) سے (کھا کھا کر) کتنا کم کرتی ہے، اور ہمارے پاس (ایسی) کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے،(4)
بَل كَذَّبوا بِالحَقِّ لَمّا جاءَهُم فَهُم فى أَمرٍ مَريجٍ(5)
بلکہ (عجیب اور فہم و ادراک سے بعید بات تو یہ ہے کہ) انہوں نے حق (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن) کو جھٹلا دیا جب وہ اُن کے پاس آچکا سو وہ خود (ہی) الجھن اور اضطراب کی بات میں (پڑے) ہیں،(5)
أَفَلَم يَنظُروا إِلَى السَّماءِ فَوقَهُم كَيفَ بَنَينٰها وَزَيَّنّٰها وَما لَها مِن فُروجٍ(6)
سو کیا انہوں نے آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی جو ان کے اوپر ہے کہ ہم نے اسے کیسے بنایا ہے اور (کیسے) سجایا ہے اور اس میں کوئی شگاف (تک) نہیں ہے،(6)
وَالأَرضَ مَدَدنٰها وَأَلقَينا فيها رَوٰسِىَ وَأَنبَتنا فيها مِن كُلِّ زَوجٍ بَهيجٍ(7)
اور (اِسی طرح) ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس میں ہم نے بہت بھاری پہاڑ رکھے اور ہم نے اس میں ہر قسم کے خوش نما پودے اُگائے،(7)
تَبصِرَةً وَذِكرىٰ لِكُلِّ عَبدٍ مُنيبٍ(8)
(یہ سب) بصیرت اور نصیحت (کاسامان) ہے ہر اس بندے کے لئے جو (اﷲ کی طرف) رجوع کرنے والا ہے،(8)
وَنَزَّلنا مِنَ السَّماءِ ماءً مُبٰرَكًا فَأَنبَتنا بِهِ جَنّٰتٍ وَحَبَّ الحَصيدِ(9)
اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا پھر ہم نے اس سے باغات اگائے اور کھیتوں کا غلّہ (بھی)،(9)
وَالنَّخلَ باسِقٰتٍ لَها طَلعٌ نَضيدٌ(10)
اور لمبی لمبی کھجوریں جن کے خوشے تہ بہ تہ ہوتے ہیں،(10)
رِزقًا لِلعِبادِ ۖ وَأَحيَينا بِهِ بَلدَةً مَيتًا ۚ كَذٰلِكَ الخُروجُ(11)
(یہ سب کچھ اپنے) بندوں کی روزی کے لئے (کیا) اور ہم نے اس (پانی) سے مُردہ زمین کو زندہ کیا، اسی طرح (تمہارا) قبروں سے نکلنا ہوگا،(11)
كَذَّبَت قَبلَهُم قَومُ نوحٍ وَأَصحٰبُ الرَّسِّ وَثَمودُ(12)
اِن (کفّارِ مکہ) سے پہلے قومِ نوح نے، اور (سرزمینِ یمامہ کے اندھے) کنویں والوں نے، اور (مدینہ سے شام کی طرف تبوک کے قریب بستیِ حجر میں آباد صالح علیہ السلام کی قوم) ثمود نے جھٹلایا،(12)
وَعادٌ وَفِرعَونُ وَإِخوٰنُ لوطٍ(13)
اور (عُمان اور اَرضِ مَہرہ کے درمیان یمن کی وادئ اَحقاف میں آباد ہود علیہ السلام کی قومِ) عاد نے اور(مصر کے حکمران) فرعون نے اور (اَرضِ فلسطین میں سدوم اور عمورہ کی رہنے والی) قومِ لُوط نے،(13)
وَأَصحٰبُ الأَيكَةِ وَقَومُ تُبَّعٍ ۚ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعيدِ(14)
اور (مَدیَن کے گھنے درختوں والے بَن) اَیکہ کے رہنے والوں نے (یہ قومِ شعیب تھی) اور (بادشاہِ یَمن اسعَد ابوکریب) تُبّع (الحِمیَری) کی قوم نے، (الغرض اِن) سب نے رسولوں کو جھٹلایا، پس (اِن پر) میرا وعدۂ عذاب ثابت ہو کر رہا،(14)
أَفَعَيينا بِالخَلقِ الأَوَّلِ ۚ بَل هُم فى لَبسٍ مِن خَلقٍ جَديدٍ(15)
سو کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے کے باعث تھک گئے ہیں؟ (ایسا نہیں) بلکہ وہ لوگ اَزسرِنَو پیدائش کی نسبت شک میں (پڑے) ہیں،(15)
وَلَقَد خَلَقنَا الإِنسٰنَ وَنَعلَمُ ما تُوَسوِسُ بِهِ نَفسُهُ ۖ وَنَحنُ أَقرَبُ إِلَيهِ مِن حَبلِ الوَريدِ(16)
اور بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم اُن وسوسوں کو (بھی) جانتے ہیں جو اس کا نفس (اس کے دل و دماغ میں) ڈالتا ہے۔ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں،(16)
إِذ يَتَلَقَّى المُتَلَقِّيانِ عَنِ اليَمينِ وَعَنِ الشِّمالِ قَعيدٌ(17)
جب دو لینے والے (فرشتے اس کے ہر قول و فعل کو تحریر میں) لے لیتے ہیں (جو) دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہوئے ہیں،(17)
ما يَلفِظُ مِن قَولٍ إِلّا لَدَيهِ رَقيبٌ عَتيدٌ(18)
وہ مُنہ سے کوئی بات نہیں کہنے پاتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لئے) تیار رہتا ہے،(18)
وَجاءَت سَكرَةُ المَوتِ بِالحَقِّ ۖ ذٰلِكَ ما كُنتَ مِنهُ تَحيدُ(19)
اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آپہنچی۔ (اے انسان!) یہی وہ چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا،(19)
وَنُفِخَ فِى الصّورِ ۚ ذٰلِكَ يَومُ الوَعيدِ(20)
اور صُور پھونکا جائے گا، یہی (عذاب ہی) وعید کا دن ہے،(20)
وَجاءَت كُلُّ نَفسٍ مَعَها سائِقٌ وَشَهيدٌ(21)
اور ہر جان (ہمارے حضور اس طرح) آئے گی کہ اُس کا ایک ہانکنے والا (فرشتہ) اور (دوسرا اعمال پر) گواہ ہوگا،(21)
لَقَد كُنتَ فى غَفلَةٍ مِن هٰذا فَكَشَفنا عَنكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ اليَومَ حَديدٌ(22)
حقیقت میں تُو اِس (دن) سے غفلت میں پڑا رہا سو ہم نے تیرا پردۂ (غفلت) ہٹا دیا پس آج تیری نگاہ تیز ہے،(22)
وَقالَ قَرينُهُ هٰذا ما لَدَىَّ عَتيدٌ(23)
اور اس کے ساتھ رہنے والا (فرشتہ) کہے گا: یہ ہے جو کچھ میرے پاس تیار ہے،(23)
أَلقِيا فى جَهَنَّمَ كُلَّ كَفّارٍ عَنيدٍ(24)
(حکم ہوگا): پس تم دونوں (ایسے) ہر ناشکرگزار سرکش کو دوزخ میں ڈال دو،(24)
مَنّاعٍ لِلخَيرِ مُعتَدٍ مُريبٍ(25)
جو نیکی سے روکنے والا ہے، حد سے بڑھ جانے والا ہے، شک کرنے اور ڈالنے والا ہے،(25)
الَّذى جَعَلَ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ فَأَلقِياهُ فِى العَذابِ الشَّديدِ(26)
جس نے اﷲ کے ساتھ دوسرا معبود ٹھہرا رکھا تھا سو تم اسے سخت عذاب میں ڈال دو،(26)
۞ قالَ قَرينُهُ رَبَّنا ما أَطغَيتُهُ وَلٰكِن كانَ فى ضَلٰلٍ بَعيدٍ(27)
(اب) اس کا (دوسرا) ساتھی (شیطان) کہے گا: اے ہمارے رب! اِسے میں نے گمراہ نہیں کیا بلکہ یہ (خود ہی) پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا تھا،(27)
قالَ لا تَختَصِموا لَدَىَّ وَقَد قَدَّمتُ إِلَيكُم بِالوَعيدِ(28)
ارشاد ہوگا: تم لوگ میرے حضور جھگڑا مَت کرو حالانکہ میں تمہاری طرف پہلے ہی (عذاب کی) وعید بھیج چکا ہوں،(28)
ما يُبَدَّلُ القَولُ لَدَىَّ وَما أَنا۠ بِظَلّٰمٍ لِلعَبيدِ(29)
میری بارگاہ میں فرمان بدلا نہیں جاتا اور نہ ہی میں بندوں پر ظلم کرنے والا ہوں،(29)
يَومَ نَقولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امتَلَأتِ وَتَقولُ هَل مِن مَزيدٍ(30)
اس دن ہم دوزخ سے فرمائیں گے: کیا تو بھر گئی ہے؟ اور وہ کہے گی: کیا کچھ اور زیادہ بھی ہے،(30)
وَأُزلِفَتِ الجَنَّةُ لِلمُتَّقينَ غَيرَ بَعيدٍ(31)
اور جنت پرہیزگاروں کے لئے قریب کر دی جائے گے، بالکل دُور نہیں ہوگی،(31)
هٰذا ما توعَدونَ لِكُلِّ أَوّابٍ حَفيظٍ(32)
(اور اُن سے ارشاد ہوگا): یہ ہے وہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا (کہ) ہر توبہ کرنے والے (اپنے دین اور ایمان کی) حفاظت کرنے والے کے لئے (ہے)،(32)
مَن خَشِىَ الرَّحمٰنَ بِالغَيبِ وَجاءَ بِقَلبٍ مُنيبٍ(33)
جو (خدائے) رحمان سے بِن دیکھے ڈرتا رہا اور (اﷲ کی بارگاہ میں) رجوع و اِنابت والا دل لے کر حاضر ہوا،(33)
ادخُلوها بِسَلٰمٍ ۖ ذٰلِكَ يَومُ الخُلودِ(34)
اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ، یہ ہمیشگی کا دن ہے،(34)
لَهُم ما يَشاءونَ فيها وَلَدَينا مَزيدٌ(35)
اِس (جنت) میں اُن کے لئے وہ تمام نعمتیں (موجود) ہوں گی جن کی وہ خواہش کریں گے اور ہمارے حضور میں ایک نعمت مزید بھی ہے (یا اور بھی بہت کچھ ہے، سو عاشق مَست ہوجائیں گے)،(35)
وَكَم أَهلَكنا قَبلَهُم مِن قَرنٍ هُم أَشَدُّ مِنهُم بَطشًا فَنَقَّبوا فِى البِلٰدِ هَل مِن مَحيصٍ(36)
اور ہم نے اُن (کفار و مشرکینِ مکہّ) سے پہلے کتنی ہی اُمتوں کو ہلاک کر دیا جو طاقت و قوّت میں ان سے کہیں بڑھ کر تھیں، چنانچہ انہوں نے (دنیا کے) شہروں کو چھان مارا تھا کہ کہیں (موت یا عذاب سے) بھاگ جانے کی کوئی جگہ ہو،(36)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَذِكرىٰ لِمَن كانَ لَهُ قَلبٌ أَو أَلقَى السَّمعَ وَهُوَ شَهيدٌ(37)
بیشک اس میں یقیناً انتباہ اور تذکّر ہے اس شخص کے لئے جو صاحبِ دل ہے (یعنی غفلت سے دوری اور قلبی بیداری رکھتا ہے) یا کان لگا کرسُنتا ہے (یعنی توجہ کو یک سُو اور غیر سے منقطع رکھتا ہے) اور وہ (باطنی) مشاہدہ میں ہے (یعنی حسن و جمالِ الوھیّت کی تجلّیات میں گم رہتا ہے)،(37)
وَلَقَد خَلَقنَا السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما فى سِتَّةِ أَيّامٍ وَما مَسَّنا مِن لُغوبٍ(38)
اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور اُس (کائنات) کو جو دونوں کے درمیان ہے چھ زمانوں میں تخلیق کیا ہے، اور ہمیں کوئی تکان نہیں پہنچی،(38)
فَاصبِر عَلىٰ ما يَقولونَ وَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّكَ قَبلَ طُلوعِ الشَّمسِ وَقَبلَ الغُروبِ(39)
سو آپ اُن باتوں پر جو وہ کہتے ہیں صبر کیجئے اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے طلوعِ آفتاب سے پہلے اور غروبِ آفتاب سے پہلے،(39)
وَمِنَ الَّيلِ فَسَبِّحهُ وَأَدبٰرَ السُّجودِ(40)
اور رات کے بعض اوقات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے اور نمازوں کے بعد بھی،(40)
وَاستَمِع يَومَ يُنادِ المُنادِ مِن مَكانٍ قَريبٍ(41)
اور (اُس دِن کا حال) خوب سن لیجئے جس دن ایک پکارنے والا قریبی جگہ سے پکارے گا،(41)
يَومَ يَسمَعونَ الصَّيحَةَ بِالحَقِّ ۚ ذٰلِكَ يَومُ الخُروجِ(42)
جس دن لوگ سخت چنگھاڑ کی آواز کو بالیقین سنیں گے، یہی قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا،(42)
إِنّا نَحنُ نُحيۦ وَنُميتُ وَإِلَينَا المَصيرُ(43)
بیشک ہم ہی زندہ رکھتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور ہماری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے،(43)
يَومَ تَشَقَّقُ الأَرضُ عَنهُم سِراعًا ۚ ذٰلِكَ حَشرٌ عَلَينا يَسيرٌ(44)
جِس دن زمین اُن پر سے پھٹ جائے گی تو وہ جلدی جلدی نکل پڑیں گے، یہ حشر (پھر سے لوگوں کو جمع کرنا) ہم پر نہایت آسان ہے،(44)
نَحنُ أَعلَمُ بِما يَقولونَ ۖ وَما أَنتَ عَلَيهِم بِجَبّارٍ ۖ فَذَكِّر بِالقُرءانِ مَن يَخافُ وَعيدِ(45)
ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہتے ہیں اور آپ اُن پر جبر کرنے والے نہیں ہیں، پس قرآن کے ذریعے اس شخص کو نصیحت فرمائیے جو میرے وعدۂ عذاب سے ڈرتا ہے،(45)