Nuh( نوح)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ إِنّا أَرسَلنا نوحًا إِلىٰ قَومِهِ أَن أَنذِر قَومَكَ مِن قَبلِ أَن يَأتِيَهُم عَذابٌ أَليمٌ(1)
بے شک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ آپ اپنی قوم کو ڈرائیں قبل اس کے کہ اُنہیں دردناک عذاب آپہنچے،(1)
قالَ يٰقَومِ إِنّى لَكُم نَذيرٌ مُبينٌ(2)
اُنہوں نے کہا: اے میری قوم! بے شک میں تمہیں واضح ڈر سنانے والا ہوں،(2)
أَنِ اعبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقوهُ وَأَطيعونِ(3)
کہ تم اﷲ کی عبادت کرو اور اُس سے ڈرو اور میری اِطاعت کرو،(3)
يَغفِر لَكُم مِن ذُنوبِكُم وَيُؤَخِّركُم إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذا جاءَ لا يُؤَخَّرُ ۖ لَو كُنتُم تَعلَمونَ(4)
وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں مقررہ مدت تک مہلت عطا کرے گا، بے شک اﷲ کی (مقرر کردہ) مدت جب آجائے تو مہلت نہیں دی جاتی، کاش! تم جانتے ہوتے،(4)
قالَ رَبِّ إِنّى دَعَوتُ قَومى لَيلًا وَنَهارًا(5)
نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! بے شک میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا،(5)
فَلَم يَزِدهُم دُعاءى إِلّا فِرارًا(6)
لیکن میری دعوت نے ان کے لئے سوائے بھاگنے کے کچھ زیادہ نہیں کیا،(6)
وَإِنّى كُلَّما دَعَوتُهُم لِتَغفِرَ لَهُم جَعَلوا أَصٰبِعَهُم فى ءاذانِهِم وَاستَغشَوا ثِيابَهُم وَأَصَرّوا وَاستَكبَرُوا استِكبارًا(7)
اور میں نے جب (بھی) اُنہیں (ایمان کی طرف) بلایا تاکہ تو انہیں بخش دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیں اور اپنے اوپر اپنے کپڑے لپیٹ لئے اور (کفر پر) ہٹ دھرمی کی اور شدید تکبر کیا،(7)
ثُمَّ إِنّى دَعَوتُهُم جِهارًا(8)
پھر میں نے انہیں بلند آواز سے دعوت دی،(8)
ثُمَّ إِنّى أَعلَنتُ لَهُم وَأَسرَرتُ لَهُم إِسرارًا(9)
پھر میں نے انہیں اِعلانیہ (بھی) سمجھایا اور انہیں پوشیدہ رازدارانہ طور پر (بھی) سمجھایا،(9)
فَقُلتُ استَغفِروا رَبَّكُم إِنَّهُ كانَ غَفّارًا(10)
پھر میں نے کہا کہ تم اپنے رب سے بخشش طلب کرو، بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے،(10)
يُرسِلِ السَّماءَ عَلَيكُم مِدرارًا(11)
وہ تم پر بڑی زوردار بارش بھیجے گا،(11)
وَيُمدِدكُم بِأَموٰلٍ وَبَنينَ وَيَجعَل لَكُم جَنّٰتٍ وَيَجعَل لَكُم أَنهٰرًا(12)
اور تمہاری مدد اَموال اور اولاد کے ذریعے فرمائے گا اور تمہارے لئے باغات اُگائے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کر دے گا،(12)
ما لَكُم لا تَرجونَ لِلَّهِ وَقارًا(13)
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اﷲ کی عظمت کا اِعتقاد اور معرفت نہیں رکھتے،(13)
وَقَد خَلَقَكُم أَطوارًا(14)
حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح کی حالتوں سے پیدا فرمایا،(14)
أَلَم تَرَوا كَيفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبعَ سَمٰوٰتٍ طِباقًا(15)
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اﷲ نے کس طرح سات (یا متعدّد) آسمانی کرّے باہمی مطابقت کے ساتھ (طبق در طبق) پیدا فرمائے،(15)
وَجَعَلَ القَمَرَ فيهِنَّ نورًا وَجَعَلَ الشَّمسَ سِراجًا(16)
اور اس نے ان میں چاند کو روشن کیا اور اس نے سورج کو چراغ (یعنی روشنی اور حرارت کا منبع) بنایا،(16)
وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِنَ الأَرضِ نَباتًا(17)
اور اﷲ نے تمہیں زمین سے سبزے کی مانند اُگایا٭، ٭ اَرضی زندگی میں پودوں کی طرح حیاتِ اِنسانی کی اِبتداء اور نشو و نما بھی کیمیائی اور حیاتیاتی مراحل سے گزرتے ہوئے تدریجاً ہوئی، اِسی لئے اِسے اَنبَتَکُم مِّنَ الاَرضِ نَبَاتًا کے بلیغ اِستعارہ کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔(17)
ثُمَّ يُعيدُكُم فيها وَيُخرِجُكُم إِخراجًا(18)
پھر تم کو اسی (زمین) میں لوٹا دے گا اور (پھر) تم کو (اسی سے دوبارہ) باہر نکالے گا،(18)
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الأَرضَ بِساطًا(19)
اور اﷲ نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنا دیا،(19)
لِتَسلُكوا مِنها سُبُلًا فِجاجًا(20)
تاکہ تم اس کے کشادہ راستوں میں چلو پھرو،(20)
قالَ نوحٌ رَبِّ إِنَّهُم عَصَونى وَاتَّبَعوا مَن لَم يَزِدهُ مالُهُ وَوَلَدُهُ إِلّا خَسارًا(21)
نوح (علیہ السلام)نے عرض کیا: اے میرے رب! انہوں نے میری نافرمانی کی اور اُس (سرکش رؤساء کے طبقے) کی پیروی کرتے رہے جس کے مال و دولت اور اولاد نے انہیں سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں بڑھایا،(21)
وَمَكَروا مَكرًا كُبّارًا(22)
اور (عوام کو گمراہی میں رکھنے کے لئے) وہ بڑی بڑی چالیں چلتے رہے،(22)
وَقالوا لا تَذَرُنَّ ءالِهَتَكُم وَلا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلا سُواعًا وَلا يَغوثَ وَيَعوقَ وَنَسرًا(23)
اور کہتے رہے کہ تم اپنے معبودوں کو مت چھوڑنا اور وَدّ اور سُوَاع اور یَغُوث اور یَعُوق اور نَسر (نامی بتوں) کو (بھی) ہرگز نہ چھوڑنا،(23)
وَقَد أَضَلّوا كَثيرًا ۖ وَلا تَزِدِ الظّٰلِمينَ إِلّا ضَلٰلًا(24)
اور واقعی انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا، سو (اے میرے رب!) تو (بھی ان) ظالموں کو سوائے گمراہی کے (کسی اور چیز میں) نہ بڑھا،(24)
مِمّا خَطيـٰٔتِهِم أُغرِقوا فَأُدخِلوا نارًا فَلَم يَجِدوا لَهُم مِن دونِ اللَّهِ أَنصارًا(25)
(بالآخر) وہ اپنے گناہوں کے سبب غرق کر دئیے گئے، پھر آگ میں ڈال دئیے گئے، سو وہ اپنے لئے اﷲ کے مقابل کسی کو مددگار نہ پا سکے،(25)
وَقالَ نوحٌ رَبِّ لا تَذَر عَلَى الأَرضِ مِنَ الكٰفِرينَ دَيّارًا(26)
اور نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا باقی نہ چھوڑ،(26)
إِنَّكَ إِن تَذَرهُم يُضِلّوا عِبادَكَ وَلا يَلِدوا إِلّا فاجِرًا كَفّارًا(27)
بے شک اگر تو اُنہیں (زندہ) چھوڑے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کرتے رہیں گے، اور وہ بدکار (اور) سخت کافر اولاد کے سوا کسی کو جنم نہیں دیں گے،(27)
رَبِّ اغفِر لى وَلِوٰلِدَىَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيتِىَ مُؤمِنًا وَلِلمُؤمِنينَ وَالمُؤمِنٰتِ وَلا تَزِدِ الظّٰلِمينَ إِلّا تَبارًا(28)
اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو اور ہر اس شخص کو جو مومن ہو کر میرے گھر میں داخل ہوا اور (جملہ) مومن مردوں کو اور مومن عورتوں کو، اور ظالموں کے لئے سوائے ہلاکت کے کچھ (بھی) زیادہ نہ فرما،(28)