Muhammad( محمد)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الَّذينَ كَفَروا وَصَدّوا عَن سَبيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعمٰلَهُم(1)
جن لوگوں نے کفر کیا اور (دوسروں کو) اﷲ کی راہ سے روکا (تو) اﷲ نے ان کے اعمال (اخروی اجر کے لحاظ سے) برباد کر دیئے،(1)
وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَءامَنوا بِما نُزِّلَ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الحَقُّ مِن رَبِّهِم ۙ كَفَّرَ عَنهُم سَيِّـٔاتِهِم وَأَصلَحَ بالَهُم(2)
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اس (کتاب) پر ایمان لائے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی ہے اور وہی ان کے رب کی جانب سے حق ہے اﷲ نے ان کے گناہ ان (کے نامۂ اعمال) سے مٹا دیئے اور ان کا حال سنوار دیا،(2)
ذٰلِكَ بِأَنَّ الَّذينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا البٰطِلَ وَأَنَّ الَّذينَ ءامَنُوا اتَّبَعُوا الحَقَّ مِن رَبِّهِم ۚ كَذٰلِكَ يَضرِبُ اللَّهُ لِلنّاسِ أَمثٰلَهُم(3)
یہ اس لئے کہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ باطل کے پیچھے چلے اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے (اتارے گئے) حق کی پیروی کی، اسی طرح اﷲ لوگوں کے لئے ان کے احوال بیان فرماتا ہے،(3)
فَإِذا لَقيتُمُ الَّذينَ كَفَروا فَضَربَ الرِّقابِ حَتّىٰ إِذا أَثخَنتُموهُم فَشُدُّوا الوَثاقَ فَإِمّا مَنًّا بَعدُ وَإِمّا فِداءً حَتّىٰ تَضَعَ الحَربُ أَوزارَها ۚ ذٰلِكَ وَلَو يَشاءُ اللَّهُ لَانتَصَرَ مِنهُم وَلٰكِن لِيَبلُوَا۟ بَعضَكُم بِبَعضٍ ۗ وَالَّذينَ قُتِلوا فى سَبيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعمٰلَهُم(4)
پھر جب (میدان جنگ میں) تمہارا مقابلہ (متحارب) کافروں سے ہو تو (دورانِ جنگ) ان کی گردنیں اڑا دو، یہاں تک کہ جب تم انہیں (جنگی معرکہ میں) خوب قتل کر چکو تو (بقیہ قیدیوں کو) مضبوطی سے باندھ لو، پھر اس کے بعد یا تو (انہیں) (بلامعاوضہ) احسان کر کے (چھوڑ دو) یا فدیہ (یعنی معاوضہِء رہائی) لے کر (آزاد کر دو) یہاں تک کہ جنگ (کرنے والی مخالف فوج) اپنے ہتھیار رکھ دے (یعنی صلح و امن کا اعلان کر دے)۔ یہی (حکم) ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو ان سے (بغیر جنگ) انتقام لے لیتا مگر (اس نے ایسا نہیں کیا) تاکہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائے، اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں قتل کر دیئے گئے تو وہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا،(4)
سَيَهديهِم وَيُصلِحُ بالَهُم(5)
وہ عنقریب انہیں (جنت کی) سیدھی راہ پر ڈال دے گا اور ان کے احوالِ (اُخروی) کو خوب بہتر کر دے گا،(5)
وَيُدخِلُهُمُ الجَنَّةَ عَرَّفَها لَهُم(6)
اور (بالآخر) انہیں جنت میں داخل فرما دے گا جس کی اس نے (پہلے ہی سے) انہیں خوب پہچان کرا دی ہے،(6)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُركُم وَيُثَبِّت أَقدامَكُم(7)
اے ایمان والو! اگر تم اﷲ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدموں کو مضبوط رکھے گا،(7)
وَالَّذينَ كَفَروا فَتَعسًا لَهُم وَأَضَلَّ أَعمٰلَهُم(8)
اور جنہوں نے کفر کیا تو ان کے لئے ہلاکت ہے اور (اﷲ نے) ان کے اعمال برباد کر دیئے،(8)
ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كَرِهوا ما أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحبَطَ أَعمٰلَهُم(9)
یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اس (کتاب) کو ناپسند کیا جو اﷲ نے نازل فرمائی تو اس نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے،(9)
۞ أَفَلَم يَسيروا فِى الأَرضِ فَيَنظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيهِم ۖ وَلِلكٰفِرينَ أَمثٰلُها(10)
کیا انہوں نے زمین میں سفر و سیاحت نہیں کی کہ وہ دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے۔ اﷲ نے ان پر ہلاکت و بربادی ڈال دی۔ اور کافروں کے لئے اسی طرح کی بہت سی ہلاکتیں ہیں،(10)
ذٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَولَى الَّذينَ ءامَنوا وَأَنَّ الكٰفِرينَ لا مَولىٰ لَهُم(11)
یہ اس وجہ سے ہے کہ اﷲ ان لوگوں کا ولی و مددگار ہے جو ایمان لائے ہیں اور بیشک کافروں کے لئے کوئی ولی و مددگار نہیں ہے،(11)
إِنَّ اللَّهَ يُدخِلُ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ ۖ وَالَّذينَ كَفَروا يَتَمَتَّعونَ وَيَأكُلونَ كَما تَأكُلُ الأَنعٰمُ وَالنّارُ مَثوًى لَهُم(12)
بیشک اﷲ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے بہشتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور جن لوگوں نے کفر کیا اور (دنیوی) فائدے اٹھا رہے ہیں اور (اس طرح) کھا رہے ہیں جیسے چوپائے (جانور) کھاتے ہیں سو دوزخ ہی ان کا ٹھکانا ہے،(12)
وَكَأَيِّن مِن قَريَةٍ هِىَ أَشَدُّ قُوَّةً مِن قَريَتِكَ الَّتى أَخرَجَتكَ أَهلَكنٰهُم فَلا ناصِرَ لَهُم(13)
اور (اے حبیب!) کتنی ہی بستیاں تھیں جن کے باشندے (وسائل و اقتدار میں) آپ کے اس شہر (مکّہ کے باشندوں) سے زیادہ طاقتور تھے جس (کے مقتدر وڈیروں) نے آپ کو (بصورتِ ہجرت) نکال دیا ہے، ہم نے انہیں (بھی) ہلاک کر ڈالا پھر ان کا کوئی مددگار نہ ہوا (جو انہیں بچا سکتا)،(13)
أَفَمَن كانَ عَلىٰ بَيِّنَةٍ مِن رَبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعوا أَهواءَهُم(14)
سو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر (قائم) ہو ان لوگوں کی مثل ہو سکتا ہے جن کے برے اعمال ان کے لئے آراستہ کر کے دکھائے گئے ہیں اور وہ اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہوں،(14)
مَثَلُ الجَنَّةِ الَّتى وُعِدَ المُتَّقونَ ۖ فيها أَنهٰرٌ مِن ماءٍ غَيرِ ءاسِنٍ وَأَنهٰرٌ مِن لَبَنٍ لَم يَتَغَيَّر طَعمُهُ وَأَنهٰرٌ مِن خَمرٍ لَذَّةٍ لِلشّٰرِبينَ وَأَنهٰرٌ مِن عَسَلٍ مُصَفًّى ۖ وَلَهُم فيها مِن كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغفِرَةٌ مِن رَبِّهِم ۖ كَمَن هُوَ خٰلِدٌ فِى النّارِ وَسُقوا ماءً حَميمًا فَقَطَّعَ أَمعاءَهُم(15)
جس جنّت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہوں گی جس میں کبھی (بو یا رنگت کا) تغیّر نہ آئے گا، اور (اس میں ایسے) دودھ کی نہریں ہوں گی جس کا ذائقہ اور مزہ کبھی نہ بدلے گا، اور (ایسے) شرابِ (طہور) کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لئے سراسر لذّت ہے، اور خوب صاف کئے ہوئے شہد کی نہریں ہوں گی، اور ان کے لئے اس میں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی جانب سے (ہر طرح کی) بخشائش ہوگی، (کیا یہ پرہیزگار) ان لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں اور جنہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا،(15)
وَمِنهُم مَن يَستَمِعُ إِلَيكَ حَتّىٰ إِذا خَرَجوا مِن عِندِكَ قالوا لِلَّذينَ أوتُوا العِلمَ ماذا قالَ ءانِفًا ۚ أُولٰئِكَ الَّذينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلىٰ قُلوبِهِم وَاتَّبَعوا أَهواءَهُم(16)
اور ان میں سے بعض وہ لوگ بھی ہیں جو آپ کی طرف (دل اور دھیان لگائے بغیر) صرف کان لگائے سنتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے نکل کر (باہر) جاتے ہیں تو ان لوگوں سے پوچھتے ہیں جنہیں علمِ (نافع) عطا کیا گیا ہے کہ ابھی انہوں نے (یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) کیا فرمایا تھا؟ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اﷲ نے مہر لگا دی ہے اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں،(16)
وَالَّذينَ اهتَدَوا زادَهُم هُدًى وَءاتىٰهُم تَقوىٰهُم(17)
اور جن لوگوں نے ہدایت پا لی ہے، اﷲ ان کی ہدایت کو اور زیادہ فرما دیتا ہے اور انہیں ان کے مقامِ تقوٰی سے سرفراز فرماتا ہے،(17)
فَهَل يَنظُرونَ إِلَّا السّاعَةَ أَن تَأتِيَهُم بَغتَةً ۖ فَقَد جاءَ أَشراطُها ۚ فَأَنّىٰ لَهُم إِذا جاءَتهُم ذِكرىٰهُم(18)
تو اب یہ (منکر) لوگ صرف قیامت ہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ان پر اچانک آپہنچے؟ سو واقعی اس کی نشانیاں (قریب) آپہنچی ہیں، پھر انہیں ان کی نصیحت کہاں (مفید) ہوگی جب (خود) قیامت (ہی) آپہنچے گے،(18)
فَاعلَم أَنَّهُ لا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاستَغفِر لِذَنبِكَ وَلِلمُؤمِنينَ وَالمُؤمِنٰتِ ۗ وَاللَّهُ يَعلَمُ مُتَقَلَّبَكُم وَمَثوىٰكُم(19)
پس جان لیجئے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ (اظہارِ عبودیت اور تعلیمِ امت کی خاطر اﷲ سے) معافی مانگتے رہا کریں کہ کہیں آپ سے خلافِ اولیٰ (یعنی آپ کے مرتبہ عالیہ سے کم درجہ کا) فعل صادر نہ ہو جائے٭ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی طلبِ مغفرت (یعنی ان کی شفاعت) فرماتے رہا کریں (یہی ان کا سامانِ بخشش ہے)، اور (اے لوگو!) اﷲ (دنیا میں) تمہارے چلنے پھرنے کے ٹھکانے اور (آخرت میں) تمہارے ٹھہرنے کی منزلیں (سب) جانتا ہے، ٭ (خواہ وہ فعل اپنی جگہ شرعاً جائز اور مستحسن ہی کیوں نہ ہو مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام و مرتبہ اتنا بلند اور ارفع و اعلٰی ہے کہ کئی اعمال صالحہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کے لحاظ سے کمتر ہیں۔)(19)
وَيَقولُ الَّذينَ ءامَنوا لَولا نُزِّلَت سورَةٌ ۖ فَإِذا أُنزِلَت سورَةٌ مُحكَمَةٌ وَذُكِرَ فيهَا القِتالُ ۙ رَأَيتَ الَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ يَنظُرونَ إِلَيكَ نَظَرَ المَغشِىِّ عَلَيهِ مِنَ المَوتِ ۖ فَأَولىٰ لَهُم(20)
اور ایمان والے کہتے ہیں کہ (حکمِ جہاد سے متعلق) کوئی سورت کیوں نہیں اتاری جاتی؟ پھر جب کوئی واضح سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں (صریحاً) جہاد کا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ ایسے لوگوں کو جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے ملاحظہ فرماتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف (اس طرح) دیکھتے ہیں جیسے وہ شخص دیکھتا ہے جس پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو۔ سو ان کے لئے خرابی ہے،(20)
طاعَةٌ وَقَولٌ مَعروفٌ ۚ فَإِذا عَزَمَ الأَمرُ فَلَو صَدَقُوا اللَّهَ لَكانَ خَيرًا لَهُم(21)
فرمانبرداری اور اچھی گفتگو (ان کے حق میں بہتر) ہے، پھر جب حکمِ جہاد قطعی (اور پختہ) ہو گیا تو اگر وہ اﷲ سے (اپنی اطاعت اور وفاداری میں) سچے رہتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا،(21)
فَهَل عَسَيتُم إِن تَوَلَّيتُم أَن تُفسِدوا فِى الأَرضِ وَتُقَطِّعوا أَرحامَكُم(22)
پس (اے منافقو!) تم سے توقع یہی ہے کہ اگر تم (قتال سے گریز کر کے بچ نکلو اور) حکومت حاصل کر لو تو تم زمین میں فساد ہی برپا کرو گے اور اپنے (ان) قرابتی رشتوں کو توڑ ڈالو گے (جن کے بارے میں اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مواصلت اور مُودّت کا حکم دیا ہے)،(22)
أُولٰئِكَ الَّذينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُم وَأَعمىٰ أَبصٰرَهُم(23)
یہی وہ لوگ ہیں جن پر اﷲ نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا کر دیا ہے اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے،(23)
أَفَلا يَتَدَبَّرونَ القُرءانَ أَم عَلىٰ قُلوبٍ أَقفالُها(24)
کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیں،(24)
إِنَّ الَّذينَ ارتَدّوا عَلىٰ أَدبٰرِهِم مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُمُ الهُدَى ۙ الشَّيطٰنُ سَوَّلَ لَهُم وَأَملىٰ لَهُم(25)
بیشک جو لوگ پیٹھ پھیر کر پیچھے (کفر کی طرف) لوٹ گئے اس کے بعد کہ ان پر ہدایت واضح ہو چکی تھی شیطان نے انہیں (کفر کی طرف واپس پلٹنا دھوکہ دہی سے) اچھا کر کے دکھایا، اور انہیں (دنیا میں) طویل زندگی کی امید دلائی،(25)
ذٰلِكَ بِأَنَّهُم قالوا لِلَّذينَ كَرِهوا ما نَزَّلَ اللَّهُ سَنُطيعُكُم فى بَعضِ الأَمرِ ۖ وَاللَّهُ يَعلَمُ إِسرارَهُم(26)
یہ اس لئے کہ انہوں نے ان لوگوں سے کہا جو اﷲ کی نازل کردہ کتاب کو ناپسند کرتے تھے کہ ہم بعض امور میں تمہاری پیروی کریں گے، اور اﷲ ان کے خفیہ مشورہ کرنے کو خوب جانتا ہے،(26)
فَكَيفَ إِذا تَوَفَّتهُمُ المَلٰئِكَةُ يَضرِبونَ وُجوهَهُم وَأَدبٰرَهُم(27)
پھر (اس وقت ان کا حشر) کیسا ہوگا جب فرشتے ان کی جان (اس حال میں) نکالیں گے کہ ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر ضربیں لگاتے ہوں گے،(27)
ذٰلِكَ بِأَنَّهُمُ اتَّبَعوا ما أَسخَطَ اللَّهَ وَكَرِهوا رِضوٰنَهُ فَأَحبَطَ أَعمٰلَهُم(28)
یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اُس (رَوِش) کی پیروی کی جو اﷲ کو ناراض کرتی ہے اور انہوں نے اس کی رضا کو ناپسند کیا تو اس نے ان کے (جملہ) اعمال اکارت کر دیئے،(28)
أَم حَسِبَ الَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ أَن لَن يُخرِجَ اللَّهُ أَضغٰنَهُم(29)
کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے یہ گمان کرتے ہیں کہ اﷲ ان کے کینوں اور عداوتوں کو ہرگز ظاہر نہ فرمائے گا،(29)
وَلَو نَشاءُ لَأَرَينٰكَهُم فَلَعَرَفتَهُم بِسيمٰهُم ۚ وَلَتَعرِفَنَّهُم فى لَحنِ القَولِ ۚ وَاللَّهُ يَعلَمُ أَعمٰلَكُم(30)
اور اگر ہم چاہیں تو آپ کو بلاشبہ وہ (منافق) لوگ (اس طرح) دکھا دیں کہ آپ انہیں ان کے چہروں کی علامت سے ہی پہچان لیں، اور (اسی طرح) یقیناً آپ ان کے اندازِ کلام سے بھی انہیں پہچان لیں گے، اور اﷲ تمہارے سب اعمال کو (خوب) جانتا ہے،(30)
وَلَنَبلُوَنَّكُم حَتّىٰ نَعلَمَ المُجٰهِدينَ مِنكُم وَالصّٰبِرينَ وَنَبلُوَا۟ أَخبارَكُم(31)
اور ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے یہاں تک کہ تم میں سے (ثابت قدمی کے ساتھ) جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو (بھی) ظاہر کر دیں اور تمہاری (منافقانہ بزدلی کی مخفی) خبریں (بھی) ظاہر کر دیں،(31)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا وَصَدّوا عَن سَبيلِ اللَّهِ وَشاقُّوا الرَّسولَ مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُمُ الهُدىٰ لَن يَضُرُّوا اللَّهَ شَيـًٔا وَسَيُحبِطُ أَعمٰلَهُم(32)
بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اﷲ کی راہ سے روکا اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت (اور ان سے جدائی کی راہ اختیار) کی اس کے بعد کہ ان پر ہدایت (یعنی عظمتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معرفت) واضح ہو چکی تھی وہ اللہ کا ہرگز کچھ نقصان نہیں کر سکیں گے (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قدر و منزلت کو گھٹا نہیں سکیں گے)، ٭ اور اﷲ ان کے (سارے) اعمال کو (مخالفتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باعث) نیست و نابود کر دے گا، ٭ تمام ائمہ تفسیر نے لکھا ہے: (لَن يَضُرُوا اللّہَ شَيْئًا) أی: لن یضرّوا رسولَ اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بمشاقتہ و حذف المضاف لتعظیم شانہ۔ ملاحظہ فرمائیں: الطبری، البیضاوی، روح المعانی، روح البیان، الجمل، البحر المدید وغیرہ۔ اس اُسلوبِ کلام کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں جن میں سے ایک سورۃ البقرۃ کی آیت ۹: (یُخٰدِعُونَ اﷲَ وَالّذِینَ آمَنُوا) ہے۔ اس مقام پر یخٰدعون اﷲ (وہ اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں) کہہ کر مراد یُخٰدِعُونَ رَسُولَ اﷲِ (وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں) لیا گیا ہے۔(32)
۞ يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَلا تُبطِلوا أَعمٰلَكُم(33)
اے ایمان والو! تم اﷲ کی اطاعت کیا کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کیا کرو اور اپنے اعمال برباد مت کرو،(33)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا وَصَدّوا عَن سَبيلِ اللَّهِ ثُمَّ ماتوا وَهُم كُفّارٌ فَلَن يَغفِرَ اللَّهُ لَهُم(34)
بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اﷲ کی راہ سے روکا پھر اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر تھے تو اﷲ انہیں کبھی نہ بخشے گا،(34)
فَلا تَهِنوا وَتَدعوا إِلَى السَّلمِ وَأَنتُمُ الأَعلَونَ وَاللَّهُ مَعَكُم وَلَن يَتِرَكُم أَعمٰلَكُم(35)
(اے مومنو!) پس تم ہمت نہ ہارو اور ان (متحارب کافروں) سے صلح کی درخواست نہ کرو (کہیں تمہاری کمزوری ظاہر نہ ہو)، اور تم ہی غالب رہو گے، اور اﷲ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال (کا ثواب) ہرگز کم نہ کرے گا،(35)
إِنَّمَا الحَيوٰةُ الدُّنيا لَعِبٌ وَلَهوٌ ۚ وَإِن تُؤمِنوا وَتَتَّقوا يُؤتِكُم أُجورَكُم وَلا يَسـَٔلكُم أَموٰلَكُم(36)
بس دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے، اور اگر تم ایمان لے آؤ اور تقوٰی اختیار کرو تو وہ تمہیں تمہارے (اعمال پر کامل) ثواب عطا فرمائے گا اور تم سے تمہارے مال طلب نہیں کرے گا،(36)
إِن يَسـَٔلكُموها فَيُحفِكُم تَبخَلوا وَيُخرِج أَضغٰنَكُم(37)
اگر وہ تم سے اس مال کو طلب کر لے پھر تمہیں طلب میں تنگی دے تو تمہیں (دل میں) تنگی محسوس ہوگی (اور) تم بخل کرو گے اور (اس طرح) وہ تمہارے (دنیا پرستی کے باعث باطنی) زنگ ظاہر کر دے گا،(37)
هٰأَنتُم هٰؤُلاءِ تُدعَونَ لِتُنفِقوا فى سَبيلِ اللَّهِ فَمِنكُم مَن يَبخَلُ ۖ وَمَن يَبخَل فَإِنَّما يَبخَلُ عَن نَفسِهِ ۚ وَاللَّهُ الغَنِىُّ وَأَنتُمُ الفُقَراءُ ۚ وَإِن تَتَوَلَّوا يَستَبدِل قَومًا غَيرَكُم ثُمَّ لا يَكونوا أَمثٰلَكُم(38)
یاد رکھو! تم وہ لوگ ہو جنہیں اﷲ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو بُخل کرتے ہیں، اور جو کوئی بھی بُخل کرتا ہے وہ محض اپنی جان ہی سے بخل کرتا ہے، اور اﷲ بے نیاز ہے اور تم (سب) محتاج ہو، اور اگر تم (حکمِ الٰہی سے) رُوگردانی کرو گے تو وہ تمہاری جگہ بدل کر دوسری قوم کو لے آئے گا پھر وہ تمہارے جیسے نہ ہوں گے،(38)