Luqman( لقمان)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الم(1)
الف، لام، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،(1)
تِلكَ ءايٰتُ الكِتٰبِ الحَكيمِ(2)
یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں،(2)
هُدًى وَرَحمَةً لِلمُحسِنينَ(3)
جو نیکوکاروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے،(3)
الَّذينَ يُقيمونَ الصَّلوٰةَ وَيُؤتونَ الزَّكوٰةَ وَهُم بِالءاخِرَةِ هُم يوقِنونَ(4)
جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ لوگ جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں،(4)
أُولٰئِكَ عَلىٰ هُدًى مِن رَبِّهِم ۖ وَأُولٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ(5)
یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں،(5)
وَمِنَ النّاسِ مَن يَشتَرى لَهوَ الحَديثِ لِيُضِلَّ عَن سَبيلِ اللَّهِ بِغَيرِ عِلمٍ وَيَتَّخِذَها هُزُوًا ۚ أُولٰئِكَ لَهُم عَذابٌ مُهينٌ(6)
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو بیہودہ کلام خریدتے ہیں تاکہ بغیر سوجھ بوجھ کے لوگوں کو اﷲ کی راہ سے بھٹکا دیں اور اس (راہ) کا مذاق اڑائیں، ان ہی لوگوں کے لئے رسوا کن عذاب ہے،(6)
وَإِذا تُتلىٰ عَلَيهِ ءايٰتُنا وَلّىٰ مُستَكبِرًا كَأَن لَم يَسمَعها كَأَنَّ فى أُذُنَيهِ وَقرًا ۖ فَبَشِّرهُ بِعَذابٍ أَليمٍ(7)
اور جب اس پر ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ غرور کرتے ہوئے منہ پھیر لیتا ہے گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں، جیسے اس کے کانوں میں (بہرے پن کی) گرانی ہے، سو آپ اسے دردناک عذاب کی خبر سنا دیں،(7)
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُم جَنّٰتُ النَّعيمِ(8)
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ان کے لئے نعمتوں کی جنتیں ہیں،(8)
خٰلِدينَ فيها ۖ وَعدَ اللَّهِ حَقًّا ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(9)
(وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے، اﷲ کا وعدہ سچّا ہے، اور وہ غالب ہے حکمت والا ہے،(9)
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَيرِ عَمَدٍ تَرَونَها ۖ وَأَلقىٰ فِى الأَرضِ رَوٰسِىَ أَن تَميدَ بِكُم وَبَثَّ فيها مِن كُلِّ دابَّةٍ ۚ وَأَنزَلنا مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَنبَتنا فيها مِن كُلِّ زَوجٍ كَريمٍ(10)
اس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بنایا (جیسا کہ) تم انہیں دیکھ رہے ہو اور اس نے زمین میں اونچے مضبوط پہاڑ رکھ دیئے تاکہ تمہیں لے کر (دورانِ گردش) نہ کانپے اور اُس نے اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا اور ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ و مفید نباتات اگا دیں،(10)
هٰذا خَلقُ اللَّهِ فَأَرونى ماذا خَلَقَ الَّذينَ مِن دونِهِ ۚ بَلِ الظّٰلِمونَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(11)
یہ اﷲ کی مخلوق ہے، پس (اے مشرکو!) مجھے دکھاؤ جو کچھ اﷲ کے سوا دوسروں نے پیدا کیا ہو۔ بلکہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں،(11)
وَلَقَد ءاتَينا لُقمٰنَ الحِكمَةَ أَنِ اشكُر لِلَّهِ ۚ وَمَن يَشكُر فَإِنَّما يَشكُرُ لِنَفسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِىٌّ حَميدٌ(12)
اور بیشک ہم نے لقمان کو حکمت و دانائی عطا کی، (اور اس سے فرمایا) کہ اﷲ کا شکر ادا کرو اور جو شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرتا ہے تو بیشک اﷲ بے نیاز ہے (خود ہی) سزاوارِ حمد ہے،(12)
وَإِذ قالَ لُقمٰنُ لِابنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يٰبُنَىَّ لا تُشرِك بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّركَ لَظُلمٌ عَظيمٌ(13)
اور (یاد کیجئے) جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ اسے نصیحت کر رہا تھا: اے میرے فرزند! اﷲ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بیشک شِرک بہت بڑا ظلم ہے،(13)
وَوَصَّينَا الإِنسٰنَ بِوٰلِدَيهِ حَمَلَتهُ أُمُّهُ وَهنًا عَلىٰ وَهنٍ وَفِصٰلُهُ فى عامَينِ أَنِ اشكُر لى وَلِوٰلِدَيكَ إِلَىَّ المَصيرُ(14)
اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں (نیکی کا) تاکیدی حکم فرمایا، جسے اس کی ماں تکلیف پر تکلیف کی حالت میں (اپنے پیٹ میں) برداشت کرتی رہی اور جس کا دودھ چھوٹنا بھی دو سال میں ہے (اسے یہ حکم دیا) کہ تو میرا (بھی) شکر ادا کر اور اپنے والدین کا بھی۔ (تجھے) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے،(14)
وَإِن جٰهَداكَ عَلىٰ أَن تُشرِكَ بى ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ فَلا تُطِعهُما ۖ وَصاحِبهُما فِى الدُّنيا مَعروفًا ۖ وَاتَّبِع سَبيلَ مَن أَنابَ إِلَىَّ ۚ ثُمَّ إِلَىَّ مَرجِعُكُم فَأُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم تَعمَلونَ(15)
اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کی کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس (کی حقیقت) کا تجھے کچھ علم نہیں ہے تو ان کی اطاعت نہ کرنا، اور دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھے طریقے سے ساتھ دینا، اور (عقیدہ و امورِ آخرت میں) اس شخص کی پیروی کرنا جس نے میری طرف توبہ و طاعت کا سلوک اختیار کیا۔ پھر میری ہی طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے تو میں تمہیں ان کاموں سے باخبر کر دوں گا جو تم کرتے رہے تھے،(15)
يٰبُنَىَّ إِنَّها إِن تَكُ مِثقالَ حَبَّةٍ مِن خَردَلٍ فَتَكُن فى صَخرَةٍ أَو فِى السَّمٰوٰتِ أَو فِى الأَرضِ يَأتِ بِهَا اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَطيفٌ خَبيرٌ(16)
(لقمان نے کہا:) اے میرے فرزند! اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو، پھر خواہ وہ کسی چٹان میں (چھُپی) ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں (تب بھی) اﷲ اسے (روزِ قیامت حساب کے لئے) موجود کر دے گا۔ بیشک اﷲ باریک بین (بھی) ہے آگاہ و خبردار (بھی) ہے،(16)
يٰبُنَىَّ أَقِمِ الصَّلوٰةَ وَأمُر بِالمَعروفِ وَانهَ عَنِ المُنكَرِ وَاصبِر عَلىٰ ما أَصابَكَ ۖ إِنَّ ذٰلِكَ مِن عَزمِ الأُمورِ(17)
اے میرے فرزند! تو نماز قائم رکھ اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کر اور جو تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر کر، بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں،(17)
وَلا تُصَعِّر خَدَّكَ لِلنّاسِ وَلا تَمشِ فِى الأَرضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ كُلَّ مُختالٍ فَخورٍ(18)
اور لوگوں سے (غرور کے ساتھ) اپنا رخ نہ پھیر، اور زمین پر اکڑ کر مت چل، بیشک اﷲ ہر متکبّر، اِترا کر چلنے والے کو ناپسند فرماتا ہے،(18)
وَاقصِد فى مَشيِكَ وَاغضُض مِن صَوتِكَ ۚ إِنَّ أَنكَرَ الأَصوٰتِ لَصَوتُ الحَميرِ(19)
اور اپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کر، اور اپنی آواز کو کچھ پست رکھا کر، بیشک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے،(19)
أَلَم تَرَوا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ وَأَسبَغَ عَلَيكُم نِعَمَهُ ظٰهِرَةً وَباطِنَةً ۗ وَمِنَ النّاسِ مَن يُجٰدِلُ فِى اللَّهِ بِغَيرِ عِلمٍ وَلا هُدًى وَلا كِتٰبٍ مُنيرٍ(20)
(لوگو!) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اﷲ نے تمہارے لئے ان تمام چیزوں کو مسخّر فرما دیا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اور اس نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر پوری کر دی ہیں۔ اور لوگوں میں کچھ ایسے (بھی) ہیں جو اﷲ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب (کی دلیل) کے،(20)
وَإِذا قيلَ لَهُمُ اتَّبِعوا ما أَنزَلَ اللَّهُ قالوا بَل نَتَّبِعُ ما وَجَدنا عَلَيهِ ءاباءَنا ۚ أَوَلَو كانَ الشَّيطٰنُ يَدعوهُم إِلىٰ عَذابِ السَّعيرِ(21)
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس (کتاب) کی پیروی کرو جو اﷲ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اس (طریقہ) کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور اگرچہ شیطان انہیں عذابِ دوزخ کی طرف ہی بلاتا ہو،(21)
۞ وَمَن يُسلِم وَجهَهُ إِلَى اللَّهِ وَهُوَ مُحسِنٌ فَقَدِ استَمسَكَ بِالعُروَةِ الوُثقىٰ ۗ وَإِلَى اللَّهِ عٰقِبَةُ الأُمورِ(22)
جو شخص اپنا رخِ اطاعت اﷲ کی طرف جھکا دے اور وہ (اپنے عَمل اور حال میں) صاحبِ احسان بھی ہو تو اس نے مضبوط حلقہ کو پختگی سے تھام لیا، اور سب کاموں کا انجام اﷲ ہی کی طرف ہے،(22)
وَمَن كَفَرَ فَلا يَحزُنكَ كُفرُهُ ۚ إِلَينا مَرجِعُهُم فَنُنَبِّئُهُم بِما عَمِلوا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ(23)
اور جو کفر کرتا ہے (اے حبیبِ مکرّم!) اس کا کفر آپ کو غمگین نہ کر دے، انہیں (بھی) ہماری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے، ہم انہیں ان اعمال سے آگاہ کر دیں گے جو وہ کرتے رہے ہیں، بیشک اﷲ سینوں کی (مخفی) باتوں کو خوب جاننے والا ہے،(23)
نُمَتِّعُهُم قَليلًا ثُمَّ نَضطَرُّهُم إِلىٰ عَذابٍ غَليظٍ(24)
ہم انہیں (دنیا میں) تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر ہم انہیں بے بس کر کے سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے،(24)
وَلَئِن سَأَلتَهُم مَن خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ لَيَقولُنَّ اللَّهُ ۚ قُلِ الحَمدُ لِلَّهِ ۚ بَل أَكثَرُهُم لا يَعلَمونَ(25)
اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا۔ تو وہ ضرور کہہ دیں گے کہ اﷲ نے، آپ فرما دیجئے: تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے،(25)
لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الغَنِىُّ الحَميدُ(26)
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اﷲ ہی کا ہے، بیشک اﷲ ہی بے نیاز ہے (اَز خود) سزاوارِ حمد ہے،(26)
وَلَو أَنَّما فِى الأَرضِ مِن شَجَرَةٍ أَقلٰمٌ وَالبَحرُ يَمُدُّهُ مِن بَعدِهِ سَبعَةُ أَبحُرٍ ما نَفِدَت كَلِمٰتُ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزيزٌ حَكيمٌ(27)
اور اگر زمین میں جتنے درخت ہیں (سب) قلم ہوں اور سمندر (روشنائی ہو) اس کے بعد اور سات سمندر اسے بڑھاتے چلے جائیں تو اﷲ کے کلمات (تب بھی) ختم نہیں ہوں گے۔ بیشک اﷲ غالب ہے حکمت والا ہے،(27)
ما خَلقُكُم وَلا بَعثُكُم إِلّا كَنَفسٍ وٰحِدَةٍ ۗ إِنَّ اللَّهَ سَميعٌ بَصيرٌ(28)
تم سب کو پیدا کرنا اور تم سب کو (مرنے کے بعد) اٹھانا (قدرتِ الٰہیہ کے لئے) صرف ایک شخص (کو پیدا کرنے اور اٹھانے) کی طرح ہے۔ بیشک اﷲ سننے والا دیکھنے والا ہے،(28)
أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ يولِجُ الَّيلَ فِى النَّهارِ وَيولِجُ النَّهارَ فِى الَّيلِ وَسَخَّرَ الشَّمسَ وَالقَمَرَ كُلٌّ يَجرى إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى وَأَنَّ اللَّهَ بِما تَعمَلونَ خَبيرٌ(29)
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اﷲ رات کو دن میں داخل فرماتا ہے اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے اور (اسی نے) سورج اور چاند کو مسخّر کر رکھا ہے، ہر کوئی ایک مقرّر میعاد تک چل رہا ہے، اور یہ کہ اﷲ ان (تمام) کاموں سے جو تم کرتے ہو خبردار ہے،(29)
ذٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الحَقُّ وَأَنَّ ما يَدعونَ مِن دونِهِ البٰطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ العَلِىُّ الكَبيرُ(30)
یہ اس لئے کہ اﷲ ہی حق ہے اور جن کی یہ لوگ اﷲ کے سوا عبادت کرتے ہیں، وہ باطل ہیں اور یہ کہ اﷲ ہی بلند و بالا، بڑائی والا ہے،(30)
أَلَم تَرَ أَنَّ الفُلكَ تَجرى فِى البَحرِ بِنِعمَتِ اللَّهِ لِيُرِيَكُم مِن ءايٰتِهِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِكُلِّ صَبّارٍ شَكورٍ(31)
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ کشتیاں سمندر میں اﷲ کی نعمت سے چلتی ہیں تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھا دے۔ بیشک اس میں ہر بڑے صابر و شاکر کے لئے نشانیاں ہیں،(31)
وَإِذا غَشِيَهُم مَوجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللَّهَ مُخلِصينَ لَهُ الدّينَ فَلَمّا نَجّىٰهُم إِلَى البَرِّ فَمِنهُم مُقتَصِدٌ ۚ وَما يَجحَدُ بِـٔايٰتِنا إِلّا كُلُّ خَتّارٍ كَفورٍ(32)
اور جب سمندر کی موج (پہاڑوں، بادلوں یا) سائبانوں کی طرح ان پر چھا جاتی ہے تو وہ (کفّار و مشرکین) اﷲ کو اسی کے لئے اطاعت کو خالص رکھتے ہوئے پکارنے لگتے ہیں، پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے تو ان میں سے چند ہی اعتدال کی راہ (یعنی راہِ ہدایت) پر چلنے والے ہوتے ہیں، ہماری آیتوں کا کوئی انکار نہیں کرتا سوائے ہر بڑے عہد شکن اور بڑے ناشکرگزار کے،(32)
يٰأَيُّهَا النّاسُ اتَّقوا رَبَّكُم وَاخشَوا يَومًا لا يَجزى والِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلا مَولودٌ هُوَ جازٍ عَن والِدِهِ شَيـًٔا ۚ إِنَّ وَعدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ فَلا تَغُرَّنَّكُمُ الحَيوٰةُ الدُّنيا وَلا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الغَرورُ(33)
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہیں دے سکے گا اور نہ کوئی ایسا فرزند ہوگا جو اپنے والد کی طرف سے کچھ بھی بدلہ دینے والا ہو، بیشک اﷲ کا وعدہ سچا ہے سو دنیا کی زندگی تمہیں ہرگز دھوکہ میں نہ ڈال دے، اور نہ ہی فریب دینے والا (شیطان) تمہیں اﷲ کے بارے میں دھوکہ میں ڈال دے،(33)
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلمُ السّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الغَيثَ وَيَعلَمُ ما فِى الأَرحامِ ۖ وَما تَدرى نَفسٌ ماذا تَكسِبُ غَدًا ۖ وَما تَدرى نَفسٌ بِأَىِّ أَرضٍ تَموتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَليمٌ خَبيرٌ(34)
بیشک اﷲ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، اور وہی بارش اتارتا ہے، اور جو کچھ رحموں میں ہے وہ جانتا ہے، اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا (عمل) کمائے گا، اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کِس سرزمین پر مرے گا، بیشک اﷲ خوب جاننے والا ہے، خبر رکھنے والا ہے (یعنی علیم بالذّات ہے اور خبیر للغیر ہے، اَز خود ہر شے کا علم رکھتا ہے اور جسے پسند فرمائے باخبر بھی کر دیتا ہے)،(34)