Ibrahim( إبراهيم)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الر ۚ كِتٰبٌ أَنزَلنٰهُ إِلَيكَ لِتُخرِجَ النّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَى النّورِ بِإِذنِ رَبِّهِم إِلىٰ صِرٰطِ العَزيزِ الحَميدِ(1)
الف، لام، را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ (عظیم) کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے تاکہ آپ لوگوں کو (کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان کے) نور کی جانب لے آئیں (مزید یہ کہ) ان کے رب کے حکم سے اس کی راہ کی طرف (لائیں) جو غلبہ والا سب خوبیوں والا ہے،(1)
اللَّهِ الَّذى لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ وَوَيلٌ لِلكٰفِرينَ مِن عَذابٍ شَديدٍ(2)
وہ اﷲ کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے، اور کفّار کے لئے سخت عذاب کے باعث بربادی ہے،(2)
الَّذينَ يَستَحِبّونَ الحَيوٰةَ الدُّنيا عَلَى الءاخِرَةِ وَيَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ وَيَبغونَها عِوَجًا ۚ أُولٰئِكَ فى ضَلٰلٍ بَعيدٍ(3)
(یہ) وہ لوگ ہیں جو دنیوی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں زیادہ پسند کرتے ہیں اور (لوگوں کو) اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس (دینِ حق) میں کجی تلاش کرتے ہیں۔ یہ لوگ دور کی گمراہی میں (پڑ چکے) ہیں،(3)
وَما أَرسَلنا مِن رَسولٍ إِلّا بِلِسانِ قَومِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُم ۖ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَن يَشاءُ وَيَهدى مَن يَشاءُ ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(4)
اور ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان کے ساتھ تاکہ وہ ان کے لئے (پیغامِ حق) خوب واضح کر سکے، پھر اﷲ جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے، اور وہ غالب حکمت والا ہے،(4)
وَلَقَد أَرسَلنا موسىٰ بِـٔايٰتِنا أَن أَخرِج قَومَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَى النّورِ وَذَكِّرهُم بِأَيّىٰمِ اللَّهِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِكُلِّ صَبّارٍ شَكورٍ(5)
اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کہ (اے موسٰی!) تم اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جاؤ اور انہیں اﷲ کے دنوں کی یاد دلاؤ (جو ان پر اور پہلی امتوں پر آچکے تھے)۔ بیشک اس میں ہر زیادہ صبر کرنے والے (اور) خوب شکر بجا لانے والے کے لئے نشانیاں ہیں،(5)
وَإِذ قالَ موسىٰ لِقَومِهِ اذكُروا نِعمَةَ اللَّهِ عَلَيكُم إِذ أَنجىٰكُم مِن ءالِ فِرعَونَ يَسومونَكُم سوءَ العَذابِ وَيُذَبِّحونَ أَبناءَكُم وَيَستَحيونَ نِساءَكُم ۚ وَفى ذٰلِكُم بَلاءٌ مِن رَبِّكُم عَظيمٌ(6)
اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب موسٰی (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا: تم اپنے اوپر اللہ کے (اس) انعام کو یاد کرو جب اس نے تمہیں آلِ فرعون سے نجات دی جو تمہیں سخت عذاب پہنچاتے تھے اور تمہارے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے، اور اس میں تمہارے رب کی جانب سے بڑی بھاری آزمائش تھی،(6)
وَإِذ تَأَذَّنَ رَبُّكُم لَئِن شَكَرتُم لَأَزيدَنَّكُم ۖ وَلَئِن كَفَرتُم إِنَّ عَذابى لَشَديدٌ(7)
اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے آگاہ فرمایا کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تم پر (نعمتوں میں) ضرور اضافہ کروں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب یقیناً سخت ہے،(7)
وَقالَ موسىٰ إِن تَكفُروا أَنتُم وَمَن فِى الأَرضِ جَميعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ حَميدٌ(8)
اور موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اگر تم اور وہ سب کے سب لوگ جو زمین میں ہیں کفر کرنے لگیں تو بیشک اللہ (ان سب سے) یقیناً بے نیاز لائقِ حمد و ثنا ہے،(8)
أَلَم يَأتِكُم نَبَؤُا۟ الَّذينَ مِن قَبلِكُم قَومِ نوحٍ وَعادٍ وَثَمودَ ۛ وَالَّذينَ مِن بَعدِهِم ۛ لا يَعلَمُهُم إِلَّا اللَّهُ ۚ جاءَتهُم رُسُلُهُم بِالبَيِّنٰتِ فَرَدّوا أَيدِيَهُم فى أَفوٰهِهِم وَقالوا إِنّا كَفَرنا بِما أُرسِلتُم بِهِ وَإِنّا لَفى شَكٍّ مِمّا تَدعونَنا إِلَيهِ مُريبٍ(9)
کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں، (وہ) قومِ نوح اور عاد اور ثمود (کی قوموں کے لوگ) تھے اور (کچھ) لوگ جو ان کے بعد ہوئے، انہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا (کیونکہ وہ صفحۂ ہستی سے بالکل نیست و نابود ہو چکے ہیں)، ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیوں کے ساتھ آئے تھے پس انہوں نے (اَز راہِ تمسخر و عناد) اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں ڈال لئے اور (بڑی جسارت کے ساتھ) کہنے لگے: ہم نے اس (دین) کا انکار کر دیا جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو اور یقیناً ہم اس چیز کی نسبت اضطراب انگیز شک میں مبتلا ہیں جس کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو،(9)
۞ قالَت رُسُلُهُم أَفِى اللَّهِ شَكٌّ فاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ يَدعوكُم لِيَغفِرَ لَكُم مِن ذُنوبِكُم وَيُؤَخِّرَكُم إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ قالوا إِن أَنتُم إِلّا بَشَرٌ مِثلُنا تُريدونَ أَن تَصُدّونا عَمّا كانَ يَعبُدُ ءاباؤُنا فَأتونا بِسُلطٰنٍ مُبينٍ(10)
ان کے پیغمبروں نے کہا: کیا اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے، (جو) تمہیں بلاتا ہے کہ تمہارے گناہوں کو تمہاری خاطر بخش دے اور (تمہاری نافرمانیوں کے باوجود) تمہیں ایک مقرر میعاد تک مہلت دیئے رکھتا ہے۔ وہ (کافر) بو لے: تم تو صرف ہمارے جیسے بشر ہی ہو، تم یہ چاہتے ہو کہ ہمیں ان (بتوں) سے روک دو جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے، سو تم ہمارے پاس کوئی روشن دلیل لاؤ،(10)
قالَت لَهُم رُسُلُهُم إِن نَحنُ إِلّا بَشَرٌ مِثلُكُم وَلٰكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلىٰ مَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ ۖ وَما كانَ لَنا أَن نَأتِيَكُم بِسُلطٰنٍ إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَليَتَوَكَّلِ المُؤمِنونَ(11)
ان کے رسولوں نے ان سے کہا: اگرچہ ہم (نفسِ بشریت میں) تمہاری طرح انسان ہی ہیں لیکن (اس فرق پر بھی غور کرو کہ) اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے (پھر برابری کیسی؟)، اور (رہ گئی روشن دلیل کی بات) یہ ہمارا کام نہیں کہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر تمہارے پاس کوئی دلیل لے آئیں، اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ کرنا چاہئے،(11)
وَما لَنا أَلّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَقَد هَدىٰنا سُبُلَنا ۚ وَلَنَصبِرَنَّ عَلىٰ ما ءاذَيتُمونا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَليَتَوَكَّلِ المُتَوَكِّلونَ(12)
اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں درآنحالیکہ اسی نے ہمیں (ہدایت و کامیابی کی) راہیں دکھائی ہیں، اور ہم ضرور تمہاری اذیت رسانیوں پر صبر کریں گے اور اہلِ توکل کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے،(12)
وَقالَ الَّذينَ كَفَروا لِرُسُلِهِم لَنُخرِجَنَّكُم مِن أَرضِنا أَو لَتَعودُنَّ فى مِلَّتِنا ۖ فَأَوحىٰ إِلَيهِم رَبُّهُم لَنُهلِكَنَّ الظّٰلِمينَ(13)
اور کافر لوگ اپنے پیغمبروں سے کہنے لگے: ہم بہرصورت تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے یا تمہیں ضرور ہمارے مذہب میں لوٹ آنا ہوگا، تو ان کے رب نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ضرور ہلاک کر دیں گے،(13)
وَلَنُسكِنَنَّكُمُ الأَرضَ مِن بَعدِهِم ۚ ذٰلِكَ لِمَن خافَ مَقامى وَخافَ وَعيدِ(14)
اور ان کے بعد ہم تمہیں ضرور (اسی) ملک میں آباد فرمائیں گے۔ یہ (وعدہ) ہر اس شخص کے لئے ہے جو میرے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا اور میرے وعدۂ (عذاب) سے خائف ہوا،(14)
وَاستَفتَحوا وَخابَ كُلُّ جَبّارٍ عَنيدٍ(15)
اور (بالآخر) رسولوں نے (اللہ سے) فتح مانگی اور ہر سرکش ضدی نامراد ہوگیا،(15)
مِن وَرائِهِ جَهَنَّمُ وَيُسقىٰ مِن ماءٍ صَديدٍ(16)
اس (بربادی) کے پیچھے (پھر) جہنم ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا،(16)
يَتَجَرَّعُهُ وَلا يَكادُ يُسيغُهُ وَيَأتيهِ المَوتُ مِن كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَ بِمَيِّتٍ ۖ وَمِن وَرائِهِ عَذابٌ غَليظٌ(17)
جسے وہ بمشکل ایک ایک گھونٹ پیئے گا اور اسے حلق سے نیچے اتار نہ سکے گا، اور اسے ہر طرف سے موت آگھیرے گی اور وہ مر (بھی) نہ سے گا، اور (پھر) اس کے پیچھے (ایک اور) بڑا ہی سخت عذاب ہوگا،(17)
مَثَلُ الَّذينَ كَفَروا بِرَبِّهِم ۖ أَعمٰلُهُم كَرَمادٍ اشتَدَّت بِهِ الرّيحُ فى يَومٍ عاصِفٍ ۖ لا يَقدِرونَ مِمّا كَسَبوا عَلىٰ شَيءٍ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ البَعيدُ(18)
جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے، ان کی مثال یہ ہے کہ ان کے اعمال (اس) راکھ کی مانند ہیں جس پر تیز آندھی کے دن سخت ہوا کا جھونکا آگیا، وہ ان (اَعمال) میں سے جو انہوں نے کمائے تھے کسی چیز پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ یہی بہت دور کی گمراہی ہے،(18)
أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ بِالحَقِّ ۚ إِن يَشَأ يُذهِبكُم وَيَأتِ بِخَلقٍ جَديدٍ(19)
(اے سننے والے!) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق (پر مبنی حکمت) کے ساتھ پیدا فرمایا۔ اگر وہ چاہے (تو) تمہیں نیست و نابود فرما دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق لے آئے،(19)
وَما ذٰلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزيزٍ(20)
اور یہ (کام) اللہ پر (کچھ بھی) دشوار نہیں ہے،(20)
وَبَرَزوا لِلَّهِ جَميعًا فَقالَ الضُّعَفٰؤُا۟ لِلَّذينَ استَكبَروا إِنّا كُنّا لَكُم تَبَعًا فَهَل أَنتُم مُغنونَ عَنّا مِن عَذابِ اللَّهِ مِن شَيءٍ ۚ قالوا لَو هَدىٰنَا اللَّهُ لَهَدَينٰكُم ۖ سَواءٌ عَلَينا أَجَزِعنا أَم صَبَرنا ما لَنا مِن مَحيصٍ(21)
اور (روزِ محشر) اللہ کے سامنے سب (چھوٹے بڑے) حاضر ہوں گے تو (پیروی کرنے والے) کمزور لوگ (طاقتور) متکبروں سے کہیں گے: ہم تو (عمر بھر) تمہارے تابع رہے تو کیا تم اللہ کے عذاب سے بھی ہمیں کسی قدر بچا سکتے ہو؟ وہ (اُمراء اپنے پیچھے لگنے والے غریبوں سے) کہیں گے: اگر اللہ ہمیں ہدایت کرتا تو ہم تمہیں بھی ضرور ہدایت کی راہ دکھاتے (ہم خود بھی گمراہ تھے سو تمہیں بھی گمراہ کرتے رہے)۔ ہم پر برابر ہے خواہ (آج) ہم آہ و زاری کریں یا صبر کریں ہمارے لئے کوئی راہِ فرار نہیں ہے،(21)
وَقالَ الشَّيطٰنُ لَمّا قُضِىَ الأَمرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُم وَعدَ الحَقِّ وَوَعَدتُكُم فَأَخلَفتُكُم ۖ وَما كانَ لِىَ عَلَيكُم مِن سُلطٰنٍ إِلّا أَن دَعَوتُكُم فَاستَجَبتُم لى ۖ فَلا تَلومونى وَلوموا أَنفُسَكُم ۖ ما أَنا۠ بِمُصرِخِكُم وَما أَنتُم بِمُصرِخِىَّ ۖ إِنّى كَفَرتُ بِما أَشرَكتُمونِ مِن قَبلُ ۗ إِنَّ الظّٰلِمينَ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ(22)
اور شیطان کہے گا جبکہ فیصلہ ہو چکے گا کہ بیشک اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے (بھی) تم سے وعدہ کیا تھا، سو میں نے تم سے وعدہ خلافی کی ہے، اور مجھے (دنیا میں) تم پر کسی قسم کا زور نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں (باطل کی طرف) بلایا سو تم نے (اپنے مفاد کی خاطر) میری دعوت قبول کی، اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ (خود) اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ میں (آج) تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو۔ اس سے پہلے جو تم مجھے (اللہ کا) شریک ٹھہراتے رہے ہو بیشک میں (آج) اس سے انکار کرتا ہوں۔ یقیناً ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے،(22)
وَأُدخِلَ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها بِإِذنِ رَبِّهِم ۖ تَحِيَّتُهُم فيها سَلٰمٌ(23)
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے، (ملاقات کے وقت) اس میں ان کا دعائیہ کلمہ ”سلام“ ہوگا،(23)
أَلَم تَرَ كَيفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصلُها ثابِتٌ وَفَرعُها فِى السَّماءِ(24)
کیا آپ نے نہیں دیکھا، اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی ہے کہ پاکیزہ بات اس پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ (زمین میں) مضبوط ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں،(24)
تُؤتى أُكُلَها كُلَّ حينٍ بِإِذنِ رَبِّها ۗ وَيَضرِبُ اللَّهُ الأَمثالَ لِلنّاسِ لَعَلَّهُم يَتَذَكَّرونَ(25)
وہ (درخت) اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل دے رہا ہے، اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں،(25)
وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبيثَةٍ اجتُثَّت مِن فَوقِ الأَرضِ ما لَها مِن قَرارٍ(26)
اور ناپاک بات کی مثال اس ناپاک درخت کی سی ہے جسے زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے، اسے ذرا بھی قرار (و بقا) نہ ہو،(26)
يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا بِالقَولِ الثّابِتِ فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا وَفِى الءاخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظّٰلِمينَ ۚ وَيَفعَلُ اللَّهُ ما يَشاءُ(27)
اللہ ایمان والوں کو (اس) مضبوط بات (کی برکت) سے دنیوی زندگی میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں (بھی)۔ اور اللہ ظالموں کو گمراہ ٹھہرا دیتا ہے۔ اور اللہ جو چاہتا ہے کر ڈالتا ہے،(27)
۞ أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ بَدَّلوا نِعمَتَ اللَّهِ كُفرًا وَأَحَلّوا قَومَهُم دارَ البَوارِ(28)
کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمتِ (ایمان) کو کفر سے بدل ڈالا اور انہوں نے اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتار دیا،(28)
جَهَنَّمَ يَصلَونَها ۖ وَبِئسَ القَرارُ(29)
(وہ) دوزخ ہے جس میں جھونکے جائیں گے، اور وہ برا ٹھکانا ہے،(29)
وَجَعَلوا لِلَّهِ أَندادًا لِيُضِلّوا عَن سَبيلِهِ ۗ قُل تَمَتَّعوا فَإِنَّ مَصيرَكُم إِلَى النّارِ(30)
اور انہوں نے اللہ کے لئے شریک بنا ڈالے تاکہ وہ (لوگوں کو) اس کی راہ سے بہکائیں۔ فرما دیجئے: تم (چند روزہ) فائدہ اٹھا لو بیشک تمہارا انجام آگ ہی کی طرف (جانا) ہے،(30)
قُل لِعِبادِىَ الَّذينَ ءامَنوا يُقيمُوا الصَّلوٰةَ وَيُنفِقوا مِمّا رَزَقنٰهُم سِرًّا وَعَلانِيَةً مِن قَبلِ أَن يَأتِىَ يَومٌ لا بَيعٌ فيهِ وَلا خِلٰلٌ(31)
آپ میرے مومن بندوں سے فرما دیں کہ وہ نماز قائم رکھیں اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ (ہماری راہ میں) خرچ کرتے رہیں اس دن کے آنے سے پہلے جس دن میں نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی اور نہ ہی کوئی (دنیاوی) دوستی (کام آئے گی)،(31)
اللَّهُ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَأَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزقًا لَكُم ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الفُلكَ لِتَجرِىَ فِى البَحرِ بِأَمرِهِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الأَنهٰرَ(32)
اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور آسمان کی جانب سے پانی اتارا پھر اس پانی کے ذریعہ سے تمہارے رزق کے طور پر پھل پیدا کئے، اور اس نے تمہارے لئے کشتیوں کو مسخر کر دیا تاکہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی رہیں اور اس نے تمہارے لئے دریاؤں کو (بھی) مسخر کر دیا،(32)
وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمسَ وَالقَمَرَ دائِبَينِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيلَ وَالنَّهارَ(33)
اور اس نے تمہارے فائدہ کے لئے سورج اور چاند کو (باقاعدہ ایک نظام کا) مطیع بنا دیا جو ہمیشہ (اپنے اپنے مدار میں) گردش کرتے رہتے ہیں، اور تمہارے (نظامِ حیات کے) لئے رات اور دن کو بھی (ایک نظام کے) تابع کر دیا،(33)
وَءاتىٰكُم مِن كُلِّ ما سَأَلتُموهُ ۚ وَإِن تَعُدّوا نِعمَتَ اللَّهِ لا تُحصوها ۗ إِنَّ الإِنسٰنَ لَظَلومٌ كَفّارٌ(34)
اور اس نے تمہیں ہر وہ چیز عطا فرما دی جو تم نے اس سے مانگی، اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو (تو) پورا شمار نہ کر سکو گے، بیشک انسان بڑا ہی ظالم بڑا ہی ناشکرگزار ہے،(34)
وَإِذ قالَ إِبرٰهيمُ رَبِّ اجعَل هٰذَا البَلَدَ ءامِنًا وَاجنُبنى وَبَنِىَّ أَن نَعبُدَ الأَصنامَ(35)
اور (یاد کیجئے) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! اس شہر (مکہ) کو جائے امن بنا دے اور مجھے اور میرے بچوں کو اس (بات) سے بچا لے کہ ہم بتوں کی پرستش کریں،(35)
رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضلَلنَ كَثيرًا مِنَ النّاسِ ۖ فَمَن تَبِعَنى فَإِنَّهُ مِنّى ۖ وَمَن عَصانى فَإِنَّكَ غَفورٌ رَحيمٌ(36)
اے میرے رب! ان (بتوں) نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر ڈالا ہے۔ پس جس نے میری پیروی کی وہ تو میرا ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی تو بیشک تُو بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(36)
رَبَّنا إِنّى أَسكَنتُ مِن ذُرِّيَّتى بِوادٍ غَيرِ ذى زَرعٍ عِندَ بَيتِكَ المُحَرَّمِ رَبَّنا لِيُقيمُوا الصَّلوٰةَ فَاجعَل أَفـِٔدَةً مِنَ النّاسِ تَهوى إِلَيهِم وَارزُقهُم مِنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُم يَشكُرونَ(37)
اے ہمارے رب! بیشک میں نے اپنی اولاد (اسماعیل علیہ السلام) کو (مکہ کی) بے آب و گیاہ وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسا دیا ہے، اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم رکھیں پس تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ وہ شوق و محبت کے ساتھ ان کی طرف مائل رہیں اور انہیں (ہر طرح کے) پھلوں کا رزق عطا فرما، تاکہ وہ شکر بجا لاتے رہیں،(37)
رَبَّنا إِنَّكَ تَعلَمُ ما نُخفى وَما نُعلِنُ ۗ وَما يَخفىٰ عَلَى اللَّهِ مِن شَيءٍ فِى الأَرضِ وَلا فِى السَّماءِ(38)
اے ہمارے رب! بیشک تو وہ (سب کچھ) جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ہم ظاہر کرتے ہیں، اور اللہ پر کوئی بھی چیز نہ زمین میں پوشیدہ ہے اور نہ ہی آسمان میں (مخفی ہے)،(38)
الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى وَهَبَ لى عَلَى الكِبَرِ إِسمٰعيلَ وَإِسحٰقَ ۚ إِنَّ رَبّى لَسَميعُ الدُّعاءِ(39)
سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق (علیھما السلام دو فرزند) عطا فرمائے، بیشک میرا رب دعا خوب سننے والا ہے،(39)
رَبِّ اجعَلنى مُقيمَ الصَّلوٰةِ وَمِن ذُرِّيَّتى ۚ رَبَّنا وَتَقَبَّل دُعاءِ(40)
اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم رکھنے والا بنا دے، اے ہمارے رب! اور تو میری دعا قبول فرما لے،(40)
رَبَّنَا اغفِر لى وَلِوٰلِدَىَّ وَلِلمُؤمِنينَ يَومَ يَقومُ الحِسابُ(41)
اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو (بخش دے)٭اور دیگر سب مومنوں کو بھی، جس دن حساب قائم ہوگا، ٭ (یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حقیقی والد تارخ کی طرف اشارہ ہے، یہ کافر و مشرک نہ تھے بلکہ دینِ حق پر تھے۔ آزر دراصل آپ کا چچا تھا، اس نے آپ علیہ السلام کو آپ علیہ السلام کے والد کی وفات کے بعد پالا تھا، اس لئے اسے عرفاً باپ کہا گیا ہے، وہ مشرک تھا اور آپ کو اس کے لئے دعائے مغفرت سے روک دیا گیا تھا جبکہ یہاں حقیقی والدین کے لئے دعائے مغفرت کی جا رہی ہے۔ یہ دعا اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آئی کہ اسے امتِ محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نمازوں میں بھی برقرار رکھ دیا گیا۔)(41)
وَلا تَحسَبَنَّ اللَّهَ غٰفِلًا عَمّا يَعمَلُ الظّٰلِمونَ ۚ إِنَّما يُؤَخِّرُهُم لِيَومٍ تَشخَصُ فيهِ الأَبصٰرُ(42)
اور اللہ کو ان کاموں سے ہرگز بے خبر نہ سمجھنا جو ظالم انجام دے رہے ہیں، بس وہ تو ان (ظالموں) کو فقط اس دن کے لئے مہلت دے رہا ہے جس میں (خوف کے مارے) آنکھیں پھٹی رہ جائیں گی،(42)
مُهطِعينَ مُقنِعى رُءوسِهِم لا يَرتَدُّ إِلَيهِم طَرفُهُم ۖ وَأَفـِٔدَتُهُم هَواءٌ(43)
وہ لوگ (میدانِ حشر کی طرف) اپنے سر اوپر اٹھائے دوڑتے جا رہے ہوں گے اس حال میں کہ ان کی پلکیں بھی نہ جھپکتی ہوں گی اور ان کے دل سکت سے خالی ہو رہے ہوں گے،(43)
وَأَنذِرِ النّاسَ يَومَ يَأتيهِمُ العَذابُ فَيَقولُ الَّذينَ ظَلَموا رَبَّنا أَخِّرنا إِلىٰ أَجَلٍ قَريبٍ نُجِب دَعوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۗ أَوَلَم تَكونوا أَقسَمتُم مِن قَبلُ ما لَكُم مِن زَوالٍ(44)
اور آپ لوگوں کو اس دن سے ڈرائیں جب ان پر عذاب آپہنچے گا تو وہ لوگ جو ظلم کرتے رہے ہوں گے کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمیں تھوڑی دیر کے لئے مہلت دے دے کہ ہم تیری دعوت کو قبول کر لیں اور رسولوں کی پیروی کر لیں۔ (ان سے کہا جائے گا) کہ کیا تم ہی لوگ پہلے قسمیں نہیں کھاتے رہے کہ تمہیں کبھی زوال نہیں آئے گا،(44)
وَسَكَنتُم فى مَسٰكِنِ الَّذينَ ظَلَموا أَنفُسَهُم وَتَبَيَّنَ لَكُم كَيفَ فَعَلنا بِهِم وَضَرَبنا لَكُمُ الأَمثالَ(45)
اور تم (اپنی باری پر) انہی لوگوں کے (چھوڑے ہوئے) محلات میں رہتے تھے (جنہوں نے اپنے اپنے دور میں) اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا حالانکہ تم پر عیاں ہو چکا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا تھا اور ہم نے تمہارے (فہم کے) لئے مثالیں بھی بیان کی تھیں،(45)
وَقَد مَكَروا مَكرَهُم وَعِندَ اللَّهِ مَكرُهُم وَإِن كانَ مَكرُهُم لِتَزولَ مِنهُ الجِبالُ(46)
اور انہوں نے (دولت و اقتدار کے نشہ میں بدمست ہو کر) اپنی طرف سے بڑی فریب کاریاں کیں جبکہ اللہ کے پاس ان کے ہر فریب کا توڑ تھا، اگرچہ ان کی مکّارانہ تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اکھڑ جائیں،(46)
فَلا تَحسَبَنَّ اللَّهَ مُخلِفَ وَعدِهِ رُسُلَهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزيزٌ ذُو انتِقامٍ(47)
سو اللہ کو ہرگز اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرنے والا نہ سمجھنا! بیشک اللہ غالب، بدلہ لینے والا ہے،(47)
يَومَ تُبَدَّلُ الأَرضُ غَيرَ الأَرضِ وَالسَّمٰوٰتُ ۖ وَبَرَزوا لِلَّهِ الوٰحِدِ القَهّارِ(48)
جس دن (یہ) زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور جملہ آسمان بھی بدل دیئے جائیں گے اور سب لوگ اللہ کے رُوبرو حاضر ہوں گے جو ایک ہے سب پر غالب ہے،(48)
وَتَرَى المُجرِمينَ يَومَئِذٍ مُقَرَّنينَ فِى الأَصفادِ(49)
اور اس دن آپ مجرموں کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے دیکھیں گے،(49)
سَرابيلُهُم مِن قَطِرانٍ وَتَغشىٰ وُجوهَهُمُ النّارُ(50)
ان کے لباس گندھک (یا ایسے روغن) کے ہوں گے (جو آگ کو خوب بھڑکاتا ہے) اور ان کے چہروں کو آگ ڈھانپ رہی ہوگی،(50)
لِيَجزِىَ اللَّهُ كُلَّ نَفسٍ ما كَسَبَت ۚ إِنَّ اللَّهَ سَريعُ الحِسابِ(51)
تاکہ اللہ ہر شخص کو ان (اَعمال) کابدلہ دے دے جو اس نے کما رکھے ہیں۔ بیشک اللہ حساب میں جلدی فرمانے والا ہے،(51)
هٰذا بَلٰغٌ لِلنّاسِ وَلِيُنذَروا بِهِ وَلِيَعلَموا أَنَّما هُوَ إِلٰهٌ وٰحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُولُوا الأَلبٰبِ(52)
یہ (قرآن) لوگوں کے لئے کاملاً پیغام کا پہنچا دینا ہے، تاکہ انہیں اس کے ذریعہ ڈرایا جائے اور یہ کہ وہ خوب جان لیں کہ بس وہی (اللہ) معبودِ یکتا ہے اور یہ کہ دانش مند لوگ نصیحت حاصل کریں،(52)