Hud( هود)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الر ۚ كِتٰبٌ أُحكِمَت ءايٰتُهُ ثُمَّ فُصِّلَت مِن لَدُن حَكيمٍ خَبيرٍ(1)
الف، لام، را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں، یہ وہ) کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم بنا دی گئی ہیں، پھر حکمت والے باخبر (رب) کی جانب سے وہ مفصل بیان کر دی گئی ہیں،(1)
أَلّا تَعبُدوا إِلَّا اللَّهَ ۚ إِنَّنى لَكُم مِنهُ نَذيرٌ وَبَشيرٌ(2)
یہ کہ اللہ کے سوا تم کسی کی عبادت مت کرو، بیشک میں تمہارے لئے اس (اللہ) کی جانب سے ڈر سنانے والا اور بشارت دینے والا ہوں،(2)
وَأَنِ استَغفِروا رَبَّكُم ثُمَّ توبوا إِلَيهِ يُمَتِّعكُم مَتٰعًا حَسَنًا إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى وَيُؤتِ كُلَّ ذى فَضلٍ فَضلَهُ ۖ وَإِن تَوَلَّوا فَإِنّى أَخافُ عَلَيكُم عَذابَ يَومٍ كَبيرٍ(3)
اور یہ کہ تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو پھر تم اس کے حضور (صدقِ دل سے) توبہ کرو وہ تمہیں وقتِ معین تک اچھی متاع سے لطف اندوز رکھے گا اور ہر فضیلت والے کو اس کی فضیلت کی جزا دے گا (یعنی اس کے اَعمال و ریاضت کی کثرت کے مطابق اَجر و درجات عطا فرمائے گا)، اور اگر تم نے روگردانی کی تو میں تم پر بڑے دن کے عذاب کا خوف رکھتا ہوں،(3)
إِلَى اللَّهِ مَرجِعُكُم ۖ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(4)
تمہیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے، اور وہ ہر چیز پر بڑا قادر ہے،(4)
أَلا إِنَّهُم يَثنونَ صُدورَهُم لِيَستَخفوا مِنهُ ۚ أَلا حينَ يَستَغشونَ ثِيابَهُم يَعلَمُ ما يُسِرّونَ وَما يُعلِنونَ ۚ إِنَّهُ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ(5)
جان لو! بیشک وہ (کفار) اپنے سینوں کو دُہرا کر لیتے ہیں تاکہ وہ اس (خدا) سے (اپنے دلوں کا حال) چھپا سکیں، خبردار! جس وقت وہ اپنے کپڑے (جسموں پر) اوڑھ لیتے ہیں (تو اس وقت بھی) وہ ان سب باتوں کو جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ آشکار کرتے ہیں، بیشک وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں کو خوب جاننے والا ہے،(5)
۞ وَما مِن دابَّةٍ فِى الأَرضِ إِلّا عَلَى اللَّهِ رِزقُها وَيَعلَمُ مُستَقَرَّها وَمُستَودَعَها ۚ كُلٌّ فى كِتٰبٍ مُبينٍ(6)
اور زمین میں کوئی چلنے پھرنے والا (جاندار) نہیں ہے مگر (یہ کہ) اس کا رزق اﷲ (کے ذمۂ کرم) پر ہے اور وہ اس کے ٹھہرنے کی جگہ کو اور اس کے امانت رکھے جانے کی جگہ کو (بھی) جانتا ہے، ہر بات کتابِ روشن (لوحِ محفوظ) میں (درج) ہے،(6)
وَهُوَ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ فى سِتَّةِ أَيّامٍ وَكانَ عَرشُهُ عَلَى الماءِ لِيَبلُوَكُم أَيُّكُم أَحسَنُ عَمَلًا ۗ وَلَئِن قُلتَ إِنَّكُم مَبعوثونَ مِن بَعدِ المَوتِ لَيَقولَنَّ الَّذينَ كَفَروا إِن هٰذا إِلّا سِحرٌ مُبينٌ(7)
اور وہی (اﷲ) ہے جس نے آسمانوں اور زمین (کی بالائی و زیریں کائناتوں) کو چھ روز (یعنی تخلیق و اِرتقاء کے چھ اَدوار و مراحل) میں پیدا فرمایا اور (تخلیقِ اَرضی سے قبل) اس کا تختِ اقتدار پانی پر تھا (اور اس نے اس سے زندگی کے تمام آثار کو اور تمہیں پیدا کیا) تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہتر ہے؟ اور اگر آپ یہ فرمائیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کر کے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر یقینًا (یہ) کہیں گے کہ یہ تو صریح جادو کے سوا کچھ (اور) نہیں ہے،(7)
وَلَئِن أَخَّرنا عَنهُمُ العَذابَ إِلىٰ أُمَّةٍ مَعدودَةٍ لَيَقولُنَّ ما يَحبِسُهُ ۗ أَلا يَومَ يَأتيهِم لَيسَ مَصروفًا عَنهُم وَحاقَ بِهِم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(8)
اور اگر ہم ان سے چند مقررہ دنوں تک عذاب کو مؤخر کردیں تو وہ یقینًا کہیں گے کہ اسے کس چیز نے روک رکھا ہے، خبردار! جس دن وہ (عذاب) ان پر آئے گا (تو) ان سے پھیرا نہ جائے گا اور وہ (عذاب) انہیں گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،(8)
وَلَئِن أَذَقنَا الإِنسٰنَ مِنّا رَحمَةً ثُمَّ نَزَعنٰها مِنهُ إِنَّهُ لَيَـٔوسٌ كَفورٌ(9)
اور اگر ہم انسان کو اپنی جانب سے رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں پھر ہم اسے (کسی وجہ سے) اس سے واپس لے لیتے ہیں تو وہ نہایت مایوس (اور) ناشکرگزار ہو جاتا ہے،(9)
وَلَئِن أَذَقنٰهُ نَعماءَ بَعدَ ضَرّاءَ مَسَّتهُ لَيَقولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّـٔاتُ عَنّى ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخورٌ(10)
اور اگر ہم اسے (کوئی) نعمت چکھاتے ہیں اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچ چکی تھی تو ضرور کہہ اٹھتا ہے کہ مجھ سے ساری تکلیفیں جاتی رہیں، بیشک وہ بڑا خوش ہونے والا (اور) فخر کرنے والا (بن جاتا) ہے،(10)
إِلَّا الَّذينَ صَبَروا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ أُولٰئِكَ لَهُم مَغفِرَةٌ وَأَجرٌ كَبيرٌ(11)
سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے صبر کیا اور نیک عمل کرتے رہے، (تو) ایسے لوگوں کے لئے مغفرت اور بڑا اجر ہے،(11)
فَلَعَلَّكَ تارِكٌ بَعضَ ما يوحىٰ إِلَيكَ وَضائِقٌ بِهِ صَدرُكَ أَن يَقولوا لَولا أُنزِلَ عَلَيهِ كَنزٌ أَو جاءَ مَعَهُ مَلَكٌ ۚ إِنَّما أَنتَ نَذيرٌ ۚ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ وَكيلٌ(12)
بھلا کیا یہ ممکن ہے کہ آپ اس میں سے کچھ چھوڑ دیں جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے اور اس سے آپ کا سینہء (اَطہر) تنگ ہونے لگے (اس خیال سے) کہ کفار یہ کہتے ہیں کہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا، (ایسا ہرگز ممکن نہیں۔ اے رسولِ معظم!) آپ تو صرف ڈر سنانے والے ہیں (کسی کو دنیوی لالچ یا سزا دینے والے نہیں)، اور اﷲ ہر چیز پر نگہبان ہے،(12)
أَم يَقولونَ افتَرىٰهُ ۖ قُل فَأتوا بِعَشرِ سُوَرٍ مِثلِهِ مُفتَرَيٰتٍ وَادعوا مَنِ استَطَعتُم مِن دونِ اللَّهِ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(13)
کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس (قرآن) کو خود گھڑ لیا ہے، فرما دیجئے: تم (بھی) اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں لے آؤ اور اﷲ کے سوا (اپنی مدد کے لئے) جسے بھی بلا سکتے ہو بلا لو اگر تم سچے ہو،(13)
فَإِلَّم يَستَجيبوا لَكُم فَاعلَموا أَنَّما أُنزِلَ بِعِلمِ اللَّهِ وَأَن لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ فَهَل أَنتُم مُسلِمونَ(14)
(اے مسلمانو!) سو اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو یقین رکھو کہ قرآن فقط اﷲ کے علم سے اتارا گیا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس کیا (اب) تم اسلام پر (ثابت قدم) رہو گے،(14)
مَن كانَ يُريدُ الحَيوٰةَ الدُّنيا وَزينَتَها نُوَفِّ إِلَيهِم أَعمٰلَهُم فيها وَهُم فيها لا يُبخَسونَ(15)
جو لوگ (فقط) دنیوی زندگی اور اس کی زینت (و آرائش) کے طالب ہیں ہم ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ اسی دنیا میں دے دیتے ہیں اور انہیں اس (دنیا کے صلہ) میں کوئی کمی نہیں دی جاتی،(15)
أُولٰئِكَ الَّذينَ لَيسَ لَهُم فِى الءاخِرَةِ إِلَّا النّارُ ۖ وَحَبِطَ ما صَنَعوا فيها وَبٰطِلٌ ما كانوا يَعمَلونَ(16)
یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں کچھ (حصہ) نہیں سوائے آتشِ (دوزخ) کے، اور وہ سب (اَعمال اپنے اُخروی اَجر کے حساب سے) اکارت ہوگئے جو انہوں نے دنیا میں انجام دیئے تھے اور وہ (سب کچھ) باطل و بے کار ہوگیا جو وہ کرتے رہے تھے (کیونکہ ان کا حساب پورے اجر کے ساتھ دنیا میں ہی چکا دیا گیا ہے اور آخرت کے لئے کچھ نہیں بچا)،(16)
أَفَمَن كانَ عَلىٰ بَيِّنَةٍ مِن رَبِّهِ وَيَتلوهُ شاهِدٌ مِنهُ وَمِن قَبلِهِ كِتٰبُ موسىٰ إِمامًا وَرَحمَةً ۚ أُولٰئِكَ يُؤمِنونَ بِهِ ۚ وَمَن يَكفُر بِهِ مِنَ الأَحزابِ فَالنّارُ مَوعِدُهُ ۚ فَلا تَكُ فى مِريَةٍ مِنهُ ۚ إِنَّهُ الحَقُّ مِن رَبِّكَ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يُؤمِنونَ(17)
وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہے اور اﷲ کی جانب سے ایک گواہ (قرآن) بھی اس شخص کی تائید و تقویت کے لئے آگیا ہے اور اس سے قبل موسٰی (علیہ السلام) کی کتاب (تورات) بھی جو رہنما اور رحمت تھی (آچکی ہو) یہی لوگ اس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں، کیا (یہ) اور (کافر) فرقوں میں سے وہ شخص جو اس (قرآن) کا منکر ہے (برابر ہوسکتے ہیں) جبکہ آتشِ دوزخ اس کا ٹھکانا ہے، سو (اے سننے والے!) تجھے چاہئے کہ تو اس سے متعلق ذرا بھی شک میں نہ رہے، بیشک یہ (قرآن) تیرے رب کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے،(17)
وَمَن أَظلَمُ مِمَّنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ۚ أُولٰئِكَ يُعرَضونَ عَلىٰ رَبِّهِم وَيَقولُ الأَشهٰدُ هٰؤُلاءِ الَّذينَ كَذَبوا عَلىٰ رَبِّهِم ۚ أَلا لَعنَةُ اللَّهِ عَلَى الظّٰلِمينَ(18)
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اﷲ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے، ایسے ہی لوگ اپنے رب کے حضور پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے: یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا، جان لو کہ ظالموں پر اﷲ کی لعنت ہے،(18)
الَّذينَ يَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ وَيَبغونَها عِوَجًا وَهُم بِالءاخِرَةِ هُم كٰفِرونَ(19)
جو لوگ (دوسروں کو) اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں، اور وہی لوگ آخرت کے منکر ہیں،(19)
أُولٰئِكَ لَم يَكونوا مُعجِزينَ فِى الأَرضِ وَما كانَ لَهُم مِن دونِ اللَّهِ مِن أَولِياءَ ۘ يُضٰعَفُ لَهُمُ العَذابُ ۚ ما كانوا يَستَطيعونَ السَّمعَ وَما كانوا يُبصِرونَ(20)
یہ لوگ (اﷲ کو) زمین میں عاجز کر سکنے والے نہیں اور نہ ہی ان کے لئے اﷲ کے سوا کوئی مددگار ہیں۔ ان کے لئے عذاب دوگنا کر دیا جائے گا (کیونکہ) نہ وہ (حق بات) سننے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ (حق کو) دیکھ ہی سکتے تھے،(20)
أُولٰئِكَ الَّذينَ خَسِروا أَنفُسَهُم وَضَلَّ عَنهُم ما كانوا يَفتَرونَ(21)
یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان پہنچایا اور جو بہتان وہ باندھتے تھے وہ (سب) ان سے جاتے رہے،(21)
لا جَرَمَ أَنَّهُم فِى الءاخِرَةِ هُمُ الأَخسَرونَ(22)
یہ بالکل حق ہے کہ یقینًا وہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں،(22)
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَأَخبَتوا إِلىٰ رَبِّهِم أُولٰئِكَ أَصحٰبُ الجَنَّةِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ(23)
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اپنے رب کے حضور عاجزی کرتے رہے یہی لوگ اہلِ جنت ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں،(23)
۞ مَثَلُ الفَريقَينِ كَالأَعمىٰ وَالأَصَمِّ وَالبَصيرِ وَالسَّميعِ ۚ هَل يَستَوِيانِ مَثَلًا ۚ أَفَلا تَذَكَّرونَ(24)
(کافر و مسلم) دونوں فریقوں کی مثال اندھے اور بہرے اور (اس کے برعکس) دیکھنے والے اور سننے والے کی سی ہے۔ کیا دونوں کا حال برابر ہے؟ کیا تم پھر (بھی) نصیحت قبول نہیں کرتے،(24)
وَلَقَد أَرسَلنا نوحًا إِلىٰ قَومِهِ إِنّى لَكُم نَذيرٌ مُبينٌ(25)
اور بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، (انہوں نے ان سے کہا:) میں تمہارے لئے کھلا ڈر سنانے والا (بن کر آیا) ہوں،(25)
أَن لا تَعبُدوا إِلَّا اللَّهَ ۖ إِنّى أَخافُ عَلَيكُم عَذابَ يَومٍ أَليمٍ(26)
کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، میں تم پر دردناک دن کے عذاب (کی آمد) کا خوف رکھتا ہوں،(26)
فَقالَ المَلَأُ الَّذينَ كَفَروا مِن قَومِهِ ما نَرىٰكَ إِلّا بَشَرًا مِثلَنا وَما نَرىٰكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذينَ هُم أَراذِلُنا بادِىَ الرَّأىِ وَما نَرىٰ لَكُم عَلَينا مِن فَضلٍ بَل نَظُنُّكُم كٰذِبينَ(27)
سو ان کی قوم کے کفر کرنے والے سرداروں اور وڈیروں نے کہا: ہمیں تو تم ہمارے اپنے ہی جیسا ایک بشر دکھائی دیتے ہو اور ہم نے کسی (معزز شخص) کو تمہاری پیروی کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے ہمارے (معاشرے کے) سطحی رائے رکھنے والے پست و حقیر لوگوں کے (جو بے سوچے سمجھے تمہارے پیچھے لگ گئے ہیں)، اور ہم تمہارے اندر اپنے اوپر کوئی فضیلت و برتری (یعنی طاقت و اقتدار، مال و دولت یا تمہاری جماعت میں بڑے لوگوں کی شمولیت الغرض ایسا کوئی نمایاں پہلو) بھی نہیں دیکھتے بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں،(27)
قالَ يٰقَومِ أَرَءَيتُم إِن كُنتُ عَلىٰ بَيِّنَةٍ مِن رَبّى وَءاتىٰنى رَحمَةً مِن عِندِهِ فَعُمِّيَت عَلَيكُم أَنُلزِمُكُموها وَأَنتُم لَها كٰرِهونَ(28)
(نوح علیہ السلام نے) کہا: اے میری قوم! بتاؤ تو سہی اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر بھی ہوں اور اس نے مجھے اپنے حضور سے (خاص) رحمت بھی بخشی ہو مگر وہ تمہارے اوپر (اندھوں کی طرح) پوشیدہ کر دی گئی ہو، تو کیا ہم اسے تم پر جبراً مسلّط کر سکتے ہیں درآنحالیکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو،(28)
وَيٰقَومِ لا أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ مالًا ۖ إِن أَجرِىَ إِلّا عَلَى اللَّهِ ۚ وَما أَنا۠ بِطارِدِ الَّذينَ ءامَنوا ۚ إِنَّهُم مُلٰقوا رَبِّهِم وَلٰكِنّى أَرىٰكُم قَومًا تَجهَلونَ(29)
اور اے میری قوم! میں تم سے اس (دعوت و تبلیغ) پر کوئی مال و دولت (بھی) طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف اﷲ (کے ذمۂ کرم) پر ہے اور میں (تمہاری خاطر) ان (غریب اور پسماندہ) لوگوں کو جو ایمان لے آئے ہیں دھتکارنے والا بھی نہیں ہوں (تم انہیں حقیر مت سمجھو یہی حقیقت میں معزز ہیں)۔ بیشک یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے بہرہ یاب ہونے والے ہیں اور میں تو درحقیقت تمہیں جاہل (و بے فہم) قوم دیکھ رہا ہوں،(29)
وَيٰقَومِ مَن يَنصُرُنى مِنَ اللَّهِ إِن طَرَدتُهُم ۚ أَفَلا تَذَكَّرونَ(30)
اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو اﷲ (کے غضب) سے (بچانے میں) میری مدد کون کر سکتا ہے، کیا تم غور نہیں کرتے،(30)
وَلا أَقولُ لَكُم عِندى خَزائِنُ اللَّهِ وَلا أَعلَمُ الغَيبَ وَلا أَقولُ إِنّى مَلَكٌ وَلا أَقولُ لِلَّذينَ تَزدَرى أَعيُنُكُم لَن يُؤتِيَهُمُ اللَّهُ خَيرًا ۖ اللَّهُ أَعلَمُ بِما فى أَنفُسِهِم ۖ إِنّى إِذًا لَمِنَ الظّٰلِمينَ(31)
اور میں تم سے (یہ) نہیں کہتا کہ میرے پاس اﷲ کے خزانے ہیں (یعنی میں بے حد دولت مند ہوں) اور نہ (یہ کہ) میں (اﷲ کے بتائے بغیر) خود غیب جانتا ہوں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں (انسان نہیں) فرشتہ ہوں (میری دعوت کرشماتی دعوؤں پر مبنی نہیں ہے) اور نہ ان لوگوں کی نسبت جنہیں تمہاری نگاہیں حقیر جان رہی ہیں یہ کہتا ہوں کہ اﷲ انہیں ہرگز کوئی بھلائی نہ دے گا (یہ اﷲ کا امر اور ہر شخص کا نصیب ہے)، اﷲ بہتر جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر ایسا کہوں تو) بیشک میں اسی وقت ظالموں میں سے ہو جاؤں گا،(31)
قالوا يٰنوحُ قَد جٰدَلتَنا فَأَكثَرتَ جِدٰلَنا فَأتِنا بِما تَعِدُنا إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ(32)
وہ کہنے لگے: اے نوح! بیشک تم ہم سے جھگڑ چکے سو تم نے ہم سے بہت جھگڑا کر لیا، بس اب ہمارے پاس وہ (عذاب) لے آؤ جس کا تم ہم سے وعدہ کرتے ہو اگر تم (واقعی) سچے ہو،(32)
قالَ إِنَّما يَأتيكُم بِهِ اللَّهُ إِن شاءَ وَما أَنتُم بِمُعجِزينَ(33)
(نوح علیہ السلام نے) کہا: وہ (عذاب) تو بس اﷲ ہی تم پر لائے گا اگر اس نے چاہا اور تم (اسے) عاجز نہیں کرسکتے،(33)
وَلا يَنفَعُكُم نُصحى إِن أَرَدتُ أَن أَنصَحَ لَكُم إِن كانَ اللَّهُ يُريدُ أَن يُغوِيَكُم ۚ هُوَ رَبُّكُم وَإِلَيهِ تُرجَعونَ(34)
اور میری نصیحت (بھی) تمہیں نفع نہ دے گی خواہ میں تمہیں نصیحت کرنے کا ارادہ کروں اگر اﷲ نے تمہیں گمراہ کرنے کا ارادہ فرما لیا ہو، وہ تمہارا رب ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے،(34)
أَم يَقولونَ افتَرىٰهُ ۖ قُل إِنِ افتَرَيتُهُ فَعَلَىَّ إِجرامى وَأَنا۠ بَريءٌ مِمّا تُجرِمونَ(35)
(اے حبیبِ مکرّم!) کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس (قرآن) کو خود گھڑ لیا ہے، فرما دیجئے: اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو میرے جرم (کا وبال) مجھ پر ہوگا اور میں اس سے بری ہوں جو جرم تم کر رہے ہو،(35)
وَأوحِىَ إِلىٰ نوحٍ أَنَّهُ لَن يُؤمِنَ مِن قَومِكَ إِلّا مَن قَد ءامَنَ فَلا تَبتَئِس بِما كانوا يَفعَلونَ(36)
اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی کہ (اب) ہرگز تمہاری قوم میں سے (مزید) کوئی ایمان نہیں لائے گا سوائے ان کے جو (اس وقت تک) ایمان لا چکے ہیں، سو آپ ان کے (تکذیب و استہزا کے) کاموں سے رنجیدہ نہ ہوں،(36)
وَاصنَعِ الفُلكَ بِأَعيُنِنا وَوَحيِنا وَلا تُخٰطِبنى فِى الَّذينَ ظَلَموا ۚ إِنَّهُم مُغرَقونَ(37)
اور تم ہمارے حکم کے مطابق ہمارے سامنے ایک کشتی بناؤ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے (کوئی) بات نہ کرنا، وہ ضرور غرق کئے جائیں گے،(37)
وَيَصنَعُ الفُلكَ وَكُلَّما مَرَّ عَلَيهِ مَلَأٌ مِن قَومِهِ سَخِروا مِنهُ ۚ قالَ إِن تَسخَروا مِنّا فَإِنّا نَسخَرُ مِنكُم كَما تَسخَرونَ(38)
اور نوح (علیہ السلام) کشتی بناتے رہے اور جب بھی ان کی قوم کے سردار اُن کے پاس سے گزرتے ان کا مذاق اڑاتے۔ نوح (علیہ السلام انہیں جوابًا) کہتے: اگر (آج) تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو (کل) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے جیسے تم تمسخر کر رہے ہو،(38)
فَسَوفَ تَعلَمونَ مَن يَأتيهِ عَذابٌ يُخزيهِ وَيَحِلُّ عَلَيهِ عَذابٌ مُقيمٌ(39)
سو تم عنقریب جان لوگے کہ کس پر (دنیا میں ہی) عذاب آتا ہے جو اسے ذلیل و رسوا کر دے گا اور (پھر آخرت میں بھی کس پر) ہمیشہ قائم رہنے والا عذاب اترتا ہے،(39)
حَتّىٰ إِذا جاءَ أَمرُنا وَفارَ التَّنّورُ قُلنَا احمِل فيها مِن كُلٍّ زَوجَينِ اثنَينِ وَأَهلَكَ إِلّا مَن سَبَقَ عَلَيهِ القَولُ وَمَن ءامَنَ ۚ وَما ءامَنَ مَعَهُ إِلّا قَليلٌ(40)
یہاں تک کہ جب ہمارا حکمِ (عذاب) آپہنچا اور تنور (پانی کے چشموں کی طرح) جوش سے ابلنے لگا (تو) ہم نے فرمایا: (اے نوح!) اس کشتی میں ہر جنس میں سے (نر اور مادہ) دو عدد پر مشتمل جوڑا سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی (لے لو) سوائے ان کے جن پر (ہلاکت کا) فرمان پہلے صادر ہو چکا ہے اور جو کوئی ایمان لے آیا ہے (اسے بھی ساتھ لے لو)، اور چند (لوگوں) کے سوا ان کے ساتھ کوئی ایمان نہیں لایا تھا،(40)
۞ وَقالَ اركَبوا فيها بِسمِ اللَّهِ مَجر۪ىٰها وَمُرسىٰها ۚ إِنَّ رَبّى لَغَفورٌ رَحيمٌ(41)
اور نوح (علیہ السلام) نے کہا: تم لوگ اس میں سوار ہو جاؤ اﷲ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا ہے۔ بیشک میرا رب بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(41)
وَهِىَ تَجرى بِهِم فى مَوجٍ كَالجِبالِ وَنادىٰ نوحٌ ابنَهُ وَكانَ فى مَعزِلٍ يٰبُنَىَّ اركَب مَعَنا وَلا تَكُن مَعَ الكٰفِرينَ(42)
اور وہ کشتی پہاڑوں جیسی (طوفانی) لہروں میں انہیں لئے چلتی جا رہی تھی کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو پکارا اور وہ ان سے الگ (کافروں کے ساتھ کھڑا) تھا: اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ،(42)
قالَ سَـٔاوى إِلىٰ جَبَلٍ يَعصِمُنى مِنَ الماءِ ۚ قالَ لا عاصِمَ اليَومَ مِن أَمرِ اللَّهِ إِلّا مَن رَحِمَ ۚ وَحالَ بَينَهُمَا المَوجُ فَكانَ مِنَ المُغرَقينَ(43)
وہ بولا: میں (کشتی میں سوار ہونے کے بجائے) ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح (علیہ السلام) نے کہا: آج اﷲ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے مگر اس شخص کو جس پر وہی (اﷲ) رحم فرما دے، اسی اثنا میں دونوں (یعنی باپ بیٹے) کے درمیان (طوفانی) موج حائل ہوگئی سو وہ ڈوبنے والوں میں ہوگیا،(43)
وَقيلَ يٰأَرضُ ابلَعى ماءَكِ وَيٰسَماءُ أَقلِعى وَغيضَ الماءُ وَقُضِىَ الأَمرُ وَاستَوَت عَلَى الجودِىِّ ۖ وَقيلَ بُعدًا لِلقَومِ الظّٰلِمينَ(44)
اور (جب سفینۂ نوح کے سوا سب ڈوب کر ہلاک ہو چکے تو) حکم دیا گیا: اے زمین! اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان! تو تھم جا، اور پانی خشک کر دیا گیا اور کام تمام کر دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری، اور فرما دیا گیا کہ ظالموں کے لئے (رحمت سے) دوری ہے،(44)
وَنادىٰ نوحٌ رَبَّهُ فَقالَ رَبِّ إِنَّ ابنى مِن أَهلى وَإِنَّ وَعدَكَ الحَقُّ وَأَنتَ أَحكَمُ الحٰكِمينَ(45)
اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا: اے میرے رب! بیشک میرا لڑکا (بھی) تو میرے گھر والوں میں داخل تھا اور یقینًا تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حاکم ہے،(45)
قالَ يٰنوحُ إِنَّهُ لَيسَ مِن أَهلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيرُ صٰلِحٍ ۖ فَلا تَسـَٔلنِ ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ ۖ إِنّى أَعِظُكَ أَن تَكونَ مِنَ الجٰهِلينَ(46)
ارشاد ہو: اے نوح! بیشک وہ تیرے گھر والوں میں شامل نہیں کیونکہ اس کے عمل اچھے نہ تھے، پس مجھ سے وہ سوال نہ کیا کرو جس کا تمہیں علم نہ ہو، میں تمہیں نصیحت کئے دیتا ہوں کہ کہیں تم نادانوں میں سے (نہ) ہو جانا،(46)
قالَ رَبِّ إِنّى أَعوذُ بِكَ أَن أَسـَٔلَكَ ما لَيسَ لى بِهِ عِلمٌ ۖ وَإِلّا تَغفِر لى وَتَرحَمنى أَكُن مِنَ الخٰسِرينَ(47)
(نوح علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ سوال کروں جس کا مجھے کچھ علم نہ ہو، اور اگر تو مجھے نہ بخشے گا اور مجھ پر رحم (نہ) فرمائے گا (تو) میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا،(47)
قيلَ يٰنوحُ اهبِط بِسَلٰمٍ مِنّا وَبَرَكٰتٍ عَلَيكَ وَعَلىٰ أُمَمٍ مِمَّن مَعَكَ ۚ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُم ثُمَّ يَمَسُّهُم مِنّا عَذابٌ أَليمٌ(48)
فرمایا گیا: اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (کشتی سے) اتر جاؤ جو تم پر ہیں اور ان طبقات پر ہیں جو تمہارے ساتھ ہیں، اور (آئندہ پھر) کچھ طبقے ایسے ہوں گے جنہیں ہم (دنیوی نعمتوں سے) بہرہ یاب فرمائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب آپہنچے گا،(48)
تِلكَ مِن أَنباءِ الغَيبِ نوحيها إِلَيكَ ۖ ما كُنتَ تَعلَمُها أَنتَ وَلا قَومُكَ مِن قَبلِ هٰذا ۖ فَاصبِر ۖ إِنَّ العٰقِبَةَ لِلمُتَّقينَ(49)
یہ (بیان ان) غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں، اس سے قبل نہ آپ انہیں جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم، پس آپ صبر کریں۔ بیشک بہتر انجام پرہیزگاروں ہی کے لئے ہے،(49)
وَإِلىٰ عادٍ أَخاهُم هودًا ۚ قالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ ما لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرُهُ ۖ إِن أَنتُم إِلّا مُفتَرونَ(50)
اور (ہم نے) قومِ عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو (بھیجا)، انہوں نے کہا: اے میری قوم اﷲ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارے لئے کوئی معبود نہیں، تم اﷲ پر (شریک رکھنے کا) محض بہتان باندھنے والے ہو،(50)
يٰقَومِ لا أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ أَجرًا ۖ إِن أَجرِىَ إِلّا عَلَى الَّذى فَطَرَنى ۚ أَفَلا تَعقِلونَ(51)
اے میری قوم! میں اس (دعوت و تبلیغ) پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، میرا اجر فقط اس (کے ذمۂ کرم) پر ہے جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے،(51)
وَيٰقَومِ استَغفِروا رَبَّكُم ثُمَّ توبوا إِلَيهِ يُرسِلِ السَّماءَ عَلَيكُم مِدرارًا وَيَزِدكُم قُوَّةً إِلىٰ قُوَّتِكُم وَلا تَتَوَلَّوا مُجرِمينَ(52)
اور اے لوگو! تم اپنے رب سے (گناہوں کی) بخشش مانگو پھر اس کی جناب میں (صدقِ دل سے) رجوع کرو، وہ تم پر آسمان سے موسلادھار بارش بھیجے گا اور تمہاری قوت پر قوت بڑھائے گا اور تم مجرم بنتے ہوئے اس سے روگردانی نہ کرنا،(52)
قالوا يٰهودُ ما جِئتَنا بِبَيِّنَةٍ وَما نَحنُ بِتارِكى ءالِهَتِنا عَن قَولِكَ وَما نَحنُ لَكَ بِمُؤمِنينَ(53)
وہ بولے: اے ہود! تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لیکر نہیں آئے ہو اور نہ ہم تمہارے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ ہی ہم تم پر ایمان لانے والے ہیں،(53)
إِن نَقولُ إِلَّا اعتَرىٰكَ بَعضُ ءالِهَتِنا بِسوءٍ ۗ قالَ إِنّى أُشهِدُ اللَّهَ وَاشهَدوا أَنّى بَريءٌ مِمّا تُشرِكونَ(54)
ہم اس کے سوا (کچھ) نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تمہیں (دماغی خلل کی) بیماری میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہود (علیہ السلام)نے کہا: بیشک میں اﷲ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان سے لاتعلق ہوں جنہیں تم شریک گردانتے ہو،(54)
مِن دونِهِ ۖ فَكيدونى جَميعًا ثُمَّ لا تُنظِرونِ(55)
اس (اﷲ) کے سوا تم سب (بشمول تمہارے معبودانِ باطلہ) مل کر میرے خلاف (کوئی) تدبیر کرلو پھر مجھے مہلت بھی نہ دو،(55)
إِنّى تَوَكَّلتُ عَلَى اللَّهِ رَبّى وَرَبِّكُم ۚ ما مِن دابَّةٍ إِلّا هُوَ ءاخِذٌ بِناصِيَتِها ۚ إِنَّ رَبّى عَلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(56)
بیشک میں نے اﷲ پر توکل کر لیا ہے جو میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا (بھی) رب ہے، کوئی چلنے والا (جاندار) ایسا نہیں مگر وہ اسے اس کی چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے (یعنی مکمل طور پر اس کے قبضۂ قدرت میں ہے)۔ بیشک میرا رب (حق و عدل میں) سیدھی راہ پر (چلنے سے ملتا) ہے،(56)
فَإِن تَوَلَّوا فَقَد أَبلَغتُكُم ما أُرسِلتُ بِهِ إِلَيكُم ۚ وَيَستَخلِفُ رَبّى قَومًا غَيرَكُم وَلا تَضُرّونَهُ شَيـًٔا ۚ إِنَّ رَبّى عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ حَفيظٌ(57)
پھر بھی اگر تم روگردانی کرو تو میں نے واقعۃً وہ (تمام احکام) تمہیں پہنچا دیئے ہیں جنہیں لے کر میں تمہارے پاس بھیجا گیا ہوں، اور میرا رب تمہاری جگہ کسی اور قوم کو قائم مقام بنا دے گا، اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکو گے۔ بیشک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے،(57)
وَلَمّا جاءَ أَمرُنا نَجَّينا هودًا وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَهُ بِرَحمَةٍ مِنّا وَنَجَّينٰهُم مِن عَذابٍ غَليظٍ(58)
اور جب ہمارا حکمِ (عذاب) آپہنچا (تو) ہم نے ہود (علیہ السلام) کو اور ان کے ساتھ ایمان والوں کو اپنی رحمت کے باعث بچا لیا، اور ہم نے انہیں سخت عذاب سے نجات بخشی،(58)
وَتِلكَ عادٌ ۖ جَحَدوا بِـٔايٰتِ رَبِّهِم وَعَصَوا رُسُلَهُ وَاتَّبَعوا أَمرَ كُلِّ جَبّارٍ عَنيدٍ(59)
اور یہ (قومِ) عاد ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اپنے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر جابر (و متکبر) دشمنِ حق کے حکم کی پیروی کی،(59)
وَأُتبِعوا فى هٰذِهِ الدُّنيا لَعنَةً وَيَومَ القِيٰمَةِ ۗ أَلا إِنَّ عادًا كَفَروا رَبَّهُم ۗ أَلا بُعدًا لِعادٍ قَومِ هودٍ(60)
اور اس دنیا میں (بھی) ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن (بھی لگے گی)۔ یاد رکھو کہ (قومِ) عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا تھا۔ خبردار! ہود (علیہ السلام) کی قومِ عاد کے لئے (رحمت سے) دوری ہے،(60)
۞ وَإِلىٰ ثَمودَ أَخاهُم صٰلِحًا ۚ قالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ ما لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرُهُ ۖ هُوَ أَنشَأَكُم مِنَ الأَرضِ وَاستَعمَرَكُم فيها فَاستَغفِروهُ ثُمَّ توبوا إِلَيهِ ۚ إِنَّ رَبّى قَريبٌ مُجيبٌ(61)
اور (ہم نے قومِ) ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو (بھیجا)۔ انہوں نے کہا: اے میری قوم! اﷲ کی عبادت کرو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی نے تمہیں زمین سے پیدا فرمایا اور اس میں تمہیں آباد فرمایا سو تم اس سے معافی مانگو پھر اس کے حضور توبہ کرو۔ بیشک میرا رب قریب ہے دعائیں قبول فرمانے والا ہے،(61)
قالوا يٰصٰلِحُ قَد كُنتَ فينا مَرجُوًّا قَبلَ هٰذا ۖ أَتَنهىٰنا أَن نَعبُدَ ما يَعبُدُ ءاباؤُنا وَإِنَّنا لَفى شَكٍّ مِمّا تَدعونا إِلَيهِ مُريبٍ(62)
وہ بولے: اے صالح! اس سے قبل ہماری قوم میں تم ہی امیدوں کا مرکز تھے، کیا تم ہمیں ان (بتوں) کی پرستش کرنے سے روک رہے ہو جن کی ہمارے باپ دادا پرستش کرتے رہے ہیں؟ اور جس (توحید) کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو یقینًا ہم اس کے بارے میں بڑے اضطراب انگیز شک میں مبتلا ہیں،(62)
قالَ يٰقَومِ أَرَءَيتُم إِن كُنتُ عَلىٰ بَيِّنَةٍ مِن رَبّى وَءاتىٰنى مِنهُ رَحمَةً فَمَن يَنصُرُنى مِنَ اللَّهِ إِن عَصَيتُهُ ۖ فَما تَزيدونَنى غَيرَ تَخسيرٍ(63)
صالح (علیہ السلام) نے کہا: اے میری قوم! ذرا سوچو تو سہی اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر (قائم) ہوں اور مجھے اس کی جانب سے (خاص) رحمت نصیب ہوئی ہے، (اس کے بعد اس کے احکام تم تک نہ پہنچا کر) اگر میں اس کی نافرمانی کر بیٹھوں تو کون شخص ہے جو اﷲ (کے عذاب) سے بچانے میں میری مدد کرسکتا ہے؟ پس سوائے نقصان پہنچانے کے تم میرا (اور) کچھ نہیں بڑھا سکتے،(63)
وَيٰقَومِ هٰذِهِ ناقَةُ اللَّهِ لَكُم ءايَةً فَذَروها تَأكُل فى أَرضِ اللَّهِ وَلا تَمَسّوها بِسوءٍ فَيَأخُذَكُم عَذابٌ قَريبٌ(64)
اور اے میری قوم! یہ اﷲ کی (خاص طریقہ سے پیدا کردہ) اونٹنی ہے (جو) تمہارے لئے نشانی ہے سو اسے چھوڑے رکھو (یہ) اﷲ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچانا ورنہ تمہیں قریب (واقع ہونے والا) عذاب آپکڑے گا،(64)
فَعَقَروها فَقالَ تَمَتَّعوا فى دارِكُم ثَلٰثَةَ أَيّامٍ ۖ ذٰلِكَ وَعدٌ غَيرُ مَكذوبٍ(65)
پھر انہوں نے اسے (کونچیں کاٹ کر) ذبح کر ڈالا، صالح (علیہ السلام) نے کہا: (اب) تم اپنے گھروں میں (صرف) تین دن (تک) عیش کرلو، یہ وعدہ ہے جو (کبھی) جھوٹا نہ ہوگا،(65)
فَلَمّا جاءَ أَمرُنا نَجَّينا صٰلِحًا وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَهُ بِرَحمَةٍ مِنّا وَمِن خِزىِ يَومِئِذٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ القَوِىُّ العَزيزُ(66)
پھر جب ہمارا حکمِ (عذاب) آپہنچا (تو) ہم نے صالح (علیہ السلام) کو اور جو ان کے ساتھ ایمان والے تھے اپنی رحمت کے سبب سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے (بھی نجات بخشی)۔ بیشک آپ کا رب ہی طاقتور غالب ہے،(66)
وَأَخَذَ الَّذينَ ظَلَمُوا الصَّيحَةُ فَأَصبَحوا فى دِيٰرِهِم جٰثِمينَ(67)
اور ظالم لوگوں کو ہولناک آواز نے آپکڑا، سو انہوں نے صبح اس طرح کی کہ اپنے گھروں میں (مُردہ حالت میں) اوندھے پڑے رہ گئے،(67)
كَأَن لَم يَغنَوا فيها ۗ أَلا إِنَّ ثَمودَا۟ كَفَروا رَبَّهُم ۗ أَلا بُعدًا لِثَمودَ(68)
گویا وہ کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے، یاد رکھو! (قومِ) ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا تھا۔ خبردار! (قومِ) ثمود کے لئے (رحمت سے) دوری ہے،(68)
وَلَقَد جاءَت رُسُلُنا إِبرٰهيمَ بِالبُشرىٰ قالوا سَلٰمًا ۖ قالَ سَلٰمٌ ۖ فَما لَبِثَ أَن جاءَ بِعِجلٍ حَنيذٍ(69)
اور بیشک ہمارے فرستادہ فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے، انہوں نے سلام کہا، ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی (جوابًا) سلام کہا، پھر (آپ علیہ السلام نے) دیر نہ کی یہاں تک کہ (ان کی میزبانی کے لئے) ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے،(69)
فَلَمّا رَءا أَيدِيَهُم لا تَصِلُ إِلَيهِ نَكِرَهُم وَأَوجَسَ مِنهُم خيفَةً ۚ قالوا لا تَخَف إِنّا أُرسِلنا إِلىٰ قَومِ لوطٍ(70)
پھر جب (ابراہیم علیہ السلام نے) دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (کھانے) کی طرف نہیں بڑھ رہے تو انہیں اجنبی سمجھا اور (اپنے) دل میں ان سے کچھ خوف محسوس کرنے لگے، انہوں نے کہا: آپ مت ڈریئے! ہم قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں،(70)
وَامرَأَتُهُ قائِمَةٌ فَضَحِكَت فَبَشَّرنٰها بِإِسحٰقَ وَمِن وَراءِ إِسحٰقَ يَعقوبَ(71)
اور ان کی اہلیہ (سارہ پاس ہی) کھڑی تھیں تو وہ ہنس پڑیں، سو ہم نے ان (کی زوجہ) کو اسحاق (علیہ السلام) کی اور اسحاق (علیہ السلام) کے بعد یعقوب (علیہ السلام) کی بشارت دی،(71)
قالَت يٰوَيلَتىٰ ءَأَلِدُ وَأَنا۠ عَجوزٌ وَهٰذا بَعلى شَيخًا ۖ إِنَّ هٰذا لَشَيءٌ عَجيبٌ(72)
وہ کہنے لگیں: وائے حیرانی! کیا میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بوڑھی (ہو چکی) ہوں اور میرے یہ شوہر (بھی) بوڑھے ہیں؟ بیشک یہ تو بڑی عجیب چیز ہے،(72)
قالوا أَتَعجَبينَ مِن أَمرِ اللَّهِ ۖ رَحمَتُ اللَّهِ وَبَرَكٰتُهُ عَلَيكُم أَهلَ البَيتِ ۚ إِنَّهُ حَميدٌ مَجيدٌ(73)
فرشتوں نے کہا: کیا تم اﷲ کے حکم پر تعجب کر رہی ہو؟ اے گھر والو! تم پر اﷲ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں، بیشک وہ قابلِ ستائش (ہے) بزرگی والا ہے،(73)
فَلَمّا ذَهَبَ عَن إِبرٰهيمَ الرَّوعُ وَجاءَتهُ البُشرىٰ يُجٰدِلُنا فى قَومِ لوطٍ(74)
پھر جب ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف جاتا رہا اور ان کے پاس بشارت آچکی تو ہمارے (فرشتوں کے) ساتھ قومِ لوط کے بارے میں جھگڑنے لگے،(74)
إِنَّ إِبرٰهيمَ لَحَليمٌ أَوّٰهٌ مُنيبٌ(75)
بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے متحمل مزاج، آہ و زاری کرنے والے ہر حال میں ہماری طرف رجوع کر نے والے تھے،(75)
يٰإِبرٰهيمُ أَعرِض عَن هٰذا ۖ إِنَّهُ قَد جاءَ أَمرُ رَبِّكَ ۖ وَإِنَّهُم ءاتيهِم عَذابٌ غَيرُ مَردودٍ(76)
(فرشتوں نے کہا:) اے ابراہیم! اس (بات) سے درگزر کیجئے، بیشک اب تو آپ کے رب کا حکمِ (عذاب) آچکا ہے، اور انہیں عذاب پہنچنے ہی والا ہے جو پلٹایا نہیں جا سکتا،(76)
وَلَمّا جاءَت رُسُلُنا لوطًا سيءَ بِهِم وَضاقَ بِهِم ذَرعًا وَقالَ هٰذا يَومٌ عَصيبٌ(77)
اور جب ہمارے فرستادہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے (تو) وہ ان کے آنے سے پریشان ہوئے اور ان کے باعث (ان کی) طاقت کمزور پڑ گئی اور کہنے لگے: یہ بہت سخت دن ہے (فرشتے نہایت خوب رُو تھے اور حضرت لوط علیہ السلام کو اپنی قوم کی بری عادت کا علم تھا سو ممکنہ فتنہ کے اندیشہ سے پریشان ہوئے)،(77)
وَجاءَهُ قَومُهُ يُهرَعونَ إِلَيهِ وَمِن قَبلُ كانوا يَعمَلونَ السَّيِّـٔاتِ ۚ قالَ يٰقَومِ هٰؤُلاءِ بَناتى هُنَّ أَطهَرُ لَكُم ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلا تُخزونِ فى ضَيفى ۖ أَلَيسَ مِنكُم رَجُلٌ رَشيدٌ(78)
(سو وہی ہوا جس کا انہیں اندیشہ تھا) اور لوط (علیہ السلام) کی قوم (مہمانوں کی خبر سنتے ہی) ان کے پاس دوڑتی ہوئی آگئی، اور وہ پہلے ہی برے کام کیا کرتے تھے۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا: اے میری (نافرمان) قوم! یہ میری (قوم کی) بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لئے (بطریقِ نکاح) پاکیزہ و حلال ہیں سو تم اﷲ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں (اپنی بے حیائی کے باعث) مجھے رسوا نہ کرو! کیا تم میں سے کوئی بھی نیک سیرت آدمی نہیں ہے،(78)
قالوا لَقَد عَلِمتَ ما لَنا فى بَناتِكَ مِن حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعلَمُ ما نُريدُ(79)
وہ بولے: تم خوب جانتے ہو کہ ہمیں تمہاری (قوم کی) بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں، اور تم یقینًا جانتے ہو جو کچھ ہم چاہتے ہیں،(79)
قالَ لَو أَنَّ لى بِكُم قُوَّةً أَو ءاوى إِلىٰ رُكنٍ شَديدٍ(80)
لوط (علیہ السلام) نے کہا: کاش! مجھ میں تمہارے مقابلہ کی ہمت ہوتی یا میں (آج) کسی مضبوط قلعہ میں پناہ لے سکتا،(80)
قالوا يٰلوطُ إِنّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلوا إِلَيكَ ۖ فَأَسرِ بِأَهلِكَ بِقِطعٍ مِنَ الَّيلِ وَلا يَلتَفِت مِنكُم أَحَدٌ إِلَّا امرَأَتَكَ ۖ إِنَّهُ مُصيبُها ما أَصابَهُم ۚ إِنَّ مَوعِدَهُمُ الصُّبحُ ۚ أَلَيسَ الصُّبحُ بِقَريبٍ(81)
(تب فرشتے) کہنے لگے: اے لوط! ہم آپ کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ تم تک ہرگز نہ پہنچ سکیں گے، پس آپ اپنے گھر والوں کو رات کے کچھ حصہ میں لے کر نکل جائیں اور تم میں سے کوئی مڑ کر (پیچھے) نہ دیکھے مگر اپنی عورت کو (ساتھ نہ لینا)، یقینًا اسے (بھی) وہی (عذاب) پہنچنے والا ہے جو انہیں پہنچے گا۔ بیشک ان (کے عذاب) کا مقررہ وقت صبح (کا) ہے، کیا صبح قریب نہیں ہے،(81)
فَلَمّا جاءَ أَمرُنا جَعَلنا عٰلِيَها سافِلَها وَأَمطَرنا عَلَيها حِجارَةً مِن سِجّيلٍ مَنضودٍ(82)
پھر جب ہمارا حکمِ (عذاب) آپہنچا تو ہم نے (الٹ کر) اس بستی کے اوپر کے حصہ کو نچلا حصہ کر دیا اور ہم نے اس پر پتھر اور پکی ہوئی مٹی کے کنکر برسائے جو پے در پے (اور تہ بہ تہ) گرتے رہے،(82)
مُسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ ۖ وَما هِىَ مِنَ الظّٰلِمينَ بِبَعيدٍ(83)
جو آپ کے رب کی طرف سے نشان کئے ہوئے تھے، اور یہ (سنگ ریزوں کا عذاب) ظالموں سے (اب بھی) کچھ دور نہیں ہے،(83)
۞ وَإِلىٰ مَديَنَ أَخاهُم شُعَيبًا ۚ قالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ ما لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرُهُ ۖ وَلا تَنقُصُوا المِكيالَ وَالميزانَ ۚ إِنّى أَرىٰكُم بِخَيرٍ وَإِنّى أَخافُ عَلَيكُم عَذابَ يَومٍ مُحيطٍ(84)
اور (ہم نے اہلِ) مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام کو بھیجا)، انہوں نے کہا: اے میری قوم! اﷲ کی عبادت کرو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور ناپ اور تول میں کمی مت کیا کرو بیشک میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں اور میں تم پر ایسے دن کے عذاب کا خوف (محسوس) کرتا ہوں جو (تمہیں) گھیر لینے والا ہے،(84)
وَيٰقَومِ أَوفُوا المِكيالَ وَالميزانَ بِالقِسطِ ۖ وَلا تَبخَسُوا النّاسَ أَشياءَهُم وَلا تَعثَوا فِى الأَرضِ مُفسِدينَ(85)
اور اے میری قوم! تم ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورے کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کرو اور فساد کرنے والے بن کر ملک میں تباہی مت مچاتے پھرو،(85)
بَقِيَّتُ اللَّهِ خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ۚ وَما أَنا۠ عَلَيكُم بِحَفيظٍ(86)
جو اﷲ کے دیئے میں بچ رہے (وہی) تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو، اور میں تم پر نگہبان نہیں ہوں،(86)
قالوا يٰشُعَيبُ أَصَلوٰتُكَ تَأمُرُكَ أَن نَترُكَ ما يَعبُدُ ءاباؤُنا أَو أَن نَفعَلَ فى أَموٰلِنا ما نَشٰؤُا۟ ۖ إِنَّكَ لَأَنتَ الحَليمُ الرَّشيدُ(87)
وہ بولے! اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں یہی حکم دیتی ہے کہ ہم ان (معبودوں) کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے رہے ہیں یا یہ کہ ہم جو کچھ اپنے اموال کے بارے میں چاہیں (نہ) کریں؟ بیشک تم ہی (ایک) بڑے تحمل والے ہدایت یافتہ (رہ گئے) ہو،(87)
قالَ يٰقَومِ أَرَءَيتُم إِن كُنتُ عَلىٰ بَيِّنَةٍ مِن رَبّى وَرَزَقَنى مِنهُ رِزقًا حَسَنًا ۚ وَما أُريدُ أَن أُخالِفَكُم إِلىٰ ما أَنهىٰكُم عَنهُ ۚ إِن أُريدُ إِلَّا الإِصلٰحَ مَا استَطَعتُ ۚ وَما تَوفيقى إِلّا بِاللَّهِ ۚ عَلَيهِ تَوَكَّلتُ وَإِلَيهِ أُنيبُ(88)
شعیب (علیہ السلام) نے کہا: اے میری قوم! ذرا بتاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی بارگاہ سے عمدہ رزق (بھی) عطا فرمایا (تو پھر حق کی تبلیغ کیوں نہ کروں؟)، اور میں یہ (بھی) نہیں چاہتا کہ تمہارے پیچھے لگ کر (حق کے خلاف) خود وہی کچھ کرنے لگوں جس سے میں تمہیں منع کر رہا ہوں، میں تو جہاں تک مجھ سے ہو سکتا ہے (تمہاری) اصلاح ہی چاہتا ہوں، اور میری توفیق اﷲ ہی (کی مدد) سے ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں،(88)
وَيٰقَومِ لا يَجرِمَنَّكُم شِقاقى أَن يُصيبَكُم مِثلُ ما أَصابَ قَومَ نوحٍ أَو قَومَ هودٍ أَو قَومَ صٰلِحٍ ۚ وَما قَومُ لوطٍ مِنكُم بِبَعيدٍ(89)
اور اے میری قوم! مجھ سے دشمنی و مخالفت تمہیں یہاں تک نہ ابھار دے کہ (جس کے باعث) تم پر وہ (عذاب) آپہنچے جیسا (عذاب) قومِ نوح یا قومِ ہود یا قومِ صالح کو پہنچا تھا، اور قومِ لوط (کا زمانہ تو) تم سے کچھ دور نہیں (گزرا)،(89)
وَاستَغفِروا رَبَّكُم ثُمَّ توبوا إِلَيهِ ۚ إِنَّ رَبّى رَحيمٌ وَدودٌ(90)
اور تم اپنے رب سے مغفرت مانگو پھر اس کے حضور (صدقِ دل سے) توبہ کرو، بیشک میرا رب نہایت مہربان محبت فرمانے والا ہے،(90)
قالوا يٰشُعَيبُ ما نَفقَهُ كَثيرًا مِمّا تَقولُ وَإِنّا لَنَرىٰكَ فينا ضَعيفًا ۖ وَلَولا رَهطُكَ لَرَجَمنٰكَ ۖ وَما أَنتَ عَلَينا بِعَزيزٍ(91)
وہ بولے: اے شعیب! تمہاری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تمہیں اپنے معاشرے میں ایک کمزور شخص جانتے ہیں، اور اگر تمہارا کنبہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگ سار کر دیتے اور (ہمیں اسی کا لحاظ ہے ورنہ) تم ہماری نگاہ میں کوئی عزت والے نہیں ہو،(91)
قالَ يٰقَومِ أَرَهطى أَعَزُّ عَلَيكُم مِنَ اللَّهِ وَاتَّخَذتُموهُ وَراءَكُم ظِهرِيًّا ۖ إِنَّ رَبّى بِما تَعمَلونَ مُحيطٌ(92)
شعیب (علیہ السلام) نے کہا: اے میری قوم! کیا میرا کنبہ تمہارے نزدیک اﷲ سے زیادہ معزز ہے، اور تم نے اسے (یعنی اللہ تعالیٰ کو گویا) اپنے پس پشت ڈال رکھا ہے۔ بیشک میرا رب تمہارے (سب) کاموں کو احاطہ میں لئے ہوئے ہے،(92)
وَيٰقَومِ اعمَلوا عَلىٰ مَكانَتِكُم إِنّى عٰمِلٌ ۖ سَوفَ تَعلَمونَ مَن يَأتيهِ عَذابٌ يُخزيهِ وَمَن هُوَ كٰذِبٌ ۖ وَارتَقِبوا إِنّى مَعَكُم رَقيبٌ(93)
اور اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کرتے رہو میں اپنا کام کر رہا ہوں۔ تم عنقریب جان لوگے کہ کس پر وہ عذاب آپہنچتا ہے جو رسوا کر ڈالے گا اور کون ہے جو جھوٹا ہے، اور تم بھی انتظار کرتے رہو اور میں (بھی) تمہارے ساتھ منتظر ہوں،(93)
وَلَمّا جاءَ أَمرُنا نَجَّينا شُعَيبًا وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَهُ بِرَحمَةٍ مِنّا وَأَخَذَتِ الَّذينَ ظَلَمُوا الصَّيحَةُ فَأَصبَحوا فى دِيٰرِهِم جٰثِمينَ(94)
اور جب ہمارا حکمِ (عذاب) آپہنچا تو ہم نے شعیب (علیہ السلام) کو اور ان کے ساتھ ایمان والوں کو اپنی رحمت کے باعث بچالیا اور ظالموں کو خوفناک آواز نے آپکڑا، سو انہوں نے صبح اس حال میں کی کہ اپنے گھروں میں (مردہ حالت) میں اوندھے پڑے رہ گئے،(94)
كَأَن لَم يَغنَوا فيها ۗ أَلا بُعدًا لِمَديَنَ كَما بَعِدَت ثَمودُ(95)
گویا وہ ان میں کبھی بسے ہی نہ تھی۔ سنو! (اہلِ) مدین کے لئے ہلاکت ہے جیسے (قومِ) ثمود ہلاک ہوئی تھی،(95)
وَلَقَد أَرسَلنا موسىٰ بِـٔايٰتِنا وَسُلطٰنٍ مُبينٍ(96)
اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو (بھی) اپنی نشانیوں اور روشن برہان کے ساتھ بھیجا،(96)
إِلىٰ فِرعَونَ وَمَلَإِي۟هِ فَاتَّبَعوا أَمرَ فِرعَونَ ۖ وَما أَمرُ فِرعَونَ بِرَشيدٍ(97)
فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس، تو (قوم کے) سرداروں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی حالانکہ فرعون کا حکم درست نہ تھا،(97)
يَقدُمُ قَومَهُ يَومَ القِيٰمَةِ فَأَورَدَهُمُ النّارَ ۖ وَبِئسَ الوِردُ المَورودُ(98)
وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا بالآخر انہیں آتشِ دوزخ میں لا گرائے گا، اور وہ داخل کئے جانے کی کتنی بری جگہ ہے،(98)
وَأُتبِعوا فى هٰذِهِ لَعنَةً وَيَومَ القِيٰمَةِ ۚ بِئسَ الرِّفدُ المَرفودُ(99)
اور اس دنیا میں (بھی) لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی اور قیامت کے دن (بھی ان کے پیچھے رہے گی)، کتنا برا عطیہ ہے جو انہیں دیا گیا ہے،(99)
ذٰلِكَ مِن أَنباءِ القُرىٰ نَقُصُّهُ عَلَيكَ ۖ مِنها قائِمٌ وَحَصيدٌ(100)
(اے رسولِ معظم!) یہ (ان) بستیوں کے کچھ حالات ہیں جو ہم آپ کو سنا رہے ہیں ان میں سے کچھ برقرار ہیں اور (کچھ) نیست و نابود ہوگئیں،(100)
وَما ظَلَمنٰهُم وَلٰكِن ظَلَموا أَنفُسَهُم ۖ فَما أَغنَت عَنهُم ءالِهَتُهُمُ الَّتى يَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ مِن شَيءٍ لَمّا جاءَ أَمرُ رَبِّكَ ۖ وَما زادوهُم غَيرَ تَتبيبٍ(101)
اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا لیکن انہوں نے (خود ہی) اپنی جانوں پر ظلم کیا، سو ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں وہ اﷲ کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے، جب آپ کے رب کا حکمِ (عذاب) آیا، اور وہ (دیوتا) تو صرف ان کی ہلاکت و بربادی میں ہی اضافہ کر سکے،(101)
وَكَذٰلِكَ أَخذُ رَبِّكَ إِذا أَخَذَ القُرىٰ وَهِىَ ظٰلِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخذَهُ أَليمٌ شَديدٌ(102)
اور اسی طرح آپ کے رب کی پکڑ ہوا کرتی ہے جب وہ بستیوں کی اس حال میں گرفت فرماتا ہے کہ وہ ظالم (بن چکی) ہوتی ہیں۔ بیشک اس کی گرفت دردناک (اور) سخت ہوتی ہے،(102)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِمَن خافَ عَذابَ الءاخِرَةِ ۚ ذٰلِكَ يَومٌ مَجموعٌ لَهُ النّاسُ وَذٰلِكَ يَومٌ مَشهودٌ(103)
بیشک ان (واقعات) میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے۔ یہ (روزِ قیامت) وہ دن ہے جس کے لئے سارے لوگ جمع کئے جائیں گے اور یہی وہ دن ہے جب سب کو حاضر کیا جائے گا،(103)
وَما نُؤَخِّرُهُ إِلّا لِأَجَلٍ مَعدودٍ(104)
اور ہم اسے مؤخر نہیں کر رہے ہیں مگر مقررہ مدت کے لئے (جو پہلے سے طے ہے)،(104)
يَومَ يَأتِ لا تَكَلَّمُ نَفسٌ إِلّا بِإِذنِهِ ۚ فَمِنهُم شَقِىٌّ وَسَعيدٌ(105)
جب وہ دن آئے گا کوئی شخص (بھی) اس کی اجازت کے بغیر کلام نہیں کر سکے گا، پھر ان میں بعض بدبخت ہوں گے اور بعض نیک بخت،(105)
فَأَمَّا الَّذينَ شَقوا فَفِى النّارِ لَهُم فيها زَفيرٌ وَشَهيقٌ(106)
سو جو لوگ بدبخت ہوں گے (وہ) دوزخ میں (پڑے) ہوں گے ان کے مقدر میں وہاں چیخنا اور چلّانا ہوگا،(106)
خٰلِدينَ فيها ما دامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالأَرضُ إِلّا ما شاءَ رَبُّكَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ فَعّالٌ لِما يُريدُ(107)
وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین (جو اس وقت ہوں گے) قائم رہیں مگر یہ کہ جو آپ کا رب چاہے۔ بیشک آپ کا رب جو ارادہ فرماتا ہے کر گزرتا ہے،(107)
۞ وَأَمَّا الَّذينَ سُعِدوا فَفِى الجَنَّةِ خٰلِدينَ فيها ما دامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالأَرضُ إِلّا ما شاءَ رَبُّكَ ۖ عَطاءً غَيرَ مَجذوذٍ(108)
اور جو لوگ نیک بخت ہوں گے (وہ) جنت میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین (جو اس وقت ہوں گے) قائم رہیں مگر یہ کہ جو آپ کا رب چاہے، یہ وہ عطا ہوگی جو کبھی منقطع نہ ہوگی،(108)
فَلا تَكُ فى مِريَةٍ مِمّا يَعبُدُ هٰؤُلاءِ ۚ ما يَعبُدونَ إِلّا كَما يَعبُدُ ءاباؤُهُم مِن قَبلُ ۚ وَإِنّا لَمُوَفّوهُم نَصيبَهُم غَيرَ مَنقوصٍ(109)
پس (اے سننے والے!) تو ان کے بارے میں کسی (بھی) شک میں مبتلا نہ ہو جن کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں۔ یہ لوگ (کسی دلیل و بصیرت کی بنا پر) پرستش نہیں کرتے مگر (صرف اس طرح کرتے ہیں) جیسے ان سے قبل ان کے باپ دادا پرستش کرتے چلے آرہے ہیں۔ اور بیشک ہم انہیں یقیناً ان کا پورا حصۂ (عذاب) دیں گے جس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی،(109)
وَلَقَد ءاتَينا موسَى الكِتٰبَ فَاختُلِفَ فيهِ ۚ وَلَولا كَلِمَةٌ سَبَقَت مِن رَبِّكَ لَقُضِىَ بَينَهُم ۚ وَإِنَّهُم لَفى شَكٍّ مِنهُ مُريبٍ(110)
اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب دی پھر اس میں اختلاف کیا جانے لگا، اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے صادر نہ ہو چکی ہوتی تو ان کے درمیان ضرور فیصلہ کر دیا گیا ہوتا، اور وہ یقینًا اس (قرآن) کے بارے میں اضطراب انگیز شک میں مبتلا ہیں،(110)
وَإِنَّ كُلًّا لَمّا لَيُوَفِّيَنَّهُم رَبُّكَ أَعمٰلَهُم ۚ إِنَّهُ بِما يَعمَلونَ خَبيرٌ(111)
بیشک آپ کا رب ان سب کو ان کے اَعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا، وہ جو کچھ کر رہے ہیں یقینًا وہ اس سے خوب آگاہ ہے،(111)
فَاستَقِم كَما أُمِرتَ وَمَن تابَ مَعَكَ وَلا تَطغَوا ۚ إِنَّهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ(112)
پس آپ ثابت قدم رہئے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ بھی (ثابت قدم رہے) جس نے آپ کی معیت میں (اﷲ کی طرف) رجوع کیا ہے، اور (اے لوگو!) تم سرکشی نہ کرنا، بیشک تم جو کچھ کرتے ہو وہ اسے خوب دیکھ رہا ہے،(112)
وَلا تَركَنوا إِلَى الَّذينَ ظَلَموا فَتَمَسَّكُمُ النّارُ وَما لَكُم مِن دونِ اللَّهِ مِن أَولِياءَ ثُمَّ لا تُنصَرونَ(113)
اور تم ایسے لوگوں کی طرف مت جھکنا جو ظلم کر رہے ہیں ورنہ تمہیں آتشِ (دوزخ) آچھوئے گی اور تمہارے لئے اﷲ کے سوا کوئی مددگار نہ ہوگا پھر تمہاری مدد (بھی) نہیں کی جائے گی،(113)
وَأَقِمِ الصَّلوٰةَ طَرَفَىِ النَّهارِ وَزُلَفًا مِنَ الَّيلِ ۚ إِنَّ الحَسَنٰتِ يُذهِبنَ السَّيِّـٔاتِ ۚ ذٰلِكَ ذِكرىٰ لِلذّٰكِرينَ(114)
اور آپ دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کیجئے۔ بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ یہ نصیحت قبول کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے،(114)
وَاصبِر فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضيعُ أَجرَ المُحسِنينَ(115)
اور آپ صبر کریں بیشک اﷲ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں فرماتا،(115)
فَلَولا كانَ مِنَ القُرونِ مِن قَبلِكُم أُولوا بَقِيَّةٍ يَنهَونَ عَنِ الفَسادِ فِى الأَرضِ إِلّا قَليلًا مِمَّن أَنجَينا مِنهُم ۗ وَاتَّبَعَ الَّذينَ ظَلَموا ما أُترِفوا فيهِ وَكانوا مُجرِمينَ(116)
سو تم سے پہلے کی امتوں میں ایسے صاحبانِ فضل و خرد کیوں نہ ہوئے جو لوگوں کو زمین میں فساد انگیزی سے روکتے بجز ان میں سے تھوڑے سے لوگوں کے جنہیں ہم نے نجات دے دی، اور ظالموں نے عیش و عشرت (کے اسی راستے) کی پیروی کی جس میں وہ پڑے ہوئے تھے اور وہ (عادی) مجرم تھے،(116)
وَما كانَ رَبُّكَ لِيُهلِكَ القُرىٰ بِظُلمٍ وَأَهلُها مُصلِحونَ(117)
اور آپ کا رب ایسا نہیں کہ وہ بستیوں کو ظلمًا ہلاک کر ڈالے درآنحالیکہ اس کے باشندے نیکوکار ہوں،(117)
وَلَو شاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النّاسَ أُمَّةً وٰحِدَةً ۖ وَلا يَزالونَ مُختَلِفينَ(118)
اور اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا (مگر اس نے جبراً ایسا نہ کیا بلکہ سب کو مذہب کے اختیار کرنے میں آزادی دی) اور (اب) یہ لوگ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے،(118)
إِلّا مَن رَحِمَ رَبُّكَ ۚ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُم ۗ وَتَمَّت كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَملَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الجِنَّةِ وَالنّاسِ أَجمَعينَ(119)
سوائے اس شخص کے جس پر آپ کا رب رحم فرمائے، اور اسی لئے اس نے انہیں پیدا فرمایا ہے، اور آپ کے رب کا فرمان پورا ہو چکا بیشک میں دوزخ کو جِنّوں اور انسانوں میں سے سب (اہلِ باطل) سے ضرور بھر دوں گا،(119)
وَكُلًّا نَقُصُّ عَلَيكَ مِن أَنباءِ الرُّسُلِ ما نُثَبِّتُ بِهِ فُؤادَكَ ۚ وَجاءَكَ فى هٰذِهِ الحَقُّ وَمَوعِظَةٌ وَذِكرىٰ لِلمُؤمِنينَ(120)
اور ہم رسولوں کی خبروں میں سے سب حالات آپ کو سنا رہے ہیں جس سے ہم آپ کے قلبِ (اَطہر) کو تقویت دیتے ہیں، اور آپ کے پاس اس (سورت) میں حق اور نصیحت آئی ہے اور اہلِ ایمان کے لئے عبرت (و یاددہانی بھی)،(120)
وَقُل لِلَّذينَ لا يُؤمِنونَ اعمَلوا عَلىٰ مَكانَتِكُم إِنّا عٰمِلونَ(121)
اور آپ ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لاتے فرما دیں: تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو (اور) ہم (اپنے مقام پر) عمل پیرا ہیں،(121)
وَانتَظِروا إِنّا مُنتَظِرونَ(122)
اور تم (بھی) انتظار کرو ہم (بھی) منتظر ہیں،(122)
وَلِلَّهِ غَيبُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَإِلَيهِ يُرجَعُ الأَمرُ كُلُّهُ فَاعبُدهُ وَتَوَكَّل عَلَيهِ ۚ وَما رَبُّكَ بِغٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ(123)
اور آسمانوں اور زمین کا (سب) غیب اﷲ ہی کے لئے ہے اور اسی کی طرف ہر ایک کام لوٹایا جاتا ہے سو اس کی عبادت کرتے رہیں اور اسی پر توکل کئے رکھیں، اور تمہارا رب تم سب لوگوں کے اعمال سے غافل نہیں ہے،(123)