Fussilat( فصلت)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ حم(1)
حا، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،(1)
تَنزيلٌ مِنَ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ(2)
نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والے (رب) کی جانب سے اتارا جانا ہے،(2)
كِتٰبٌ فُصِّلَت ءايٰتُهُ قُرءانًا عَرَبِيًّا لِقَومٍ يَعلَمونَ(3)
(اِس) کتاب کا جس کی آیات واضح طور پر بیان کر دی گئی ہیں علم و دانش رکھنے والی قوم کے لئے عربی (زبان میں) قرآن (ہے)،(3)
بَشيرًا وَنَذيرًا فَأَعرَضَ أَكثَرُهُم فَهُم لا يَسمَعونَ(4)
خوشخبری سنانے والا ہے اور ڈر سنانے والا ہے، پھر ان میں سے اکثر لوگوں نے رُوگردانی کی سو وہ (اِسے) سنتے ہی نہیں ہیں،(4)
وَقالوا قُلوبُنا فى أَكِنَّةٍ مِمّا تَدعونا إِلَيهِ وَفى ءاذانِنا وَقرٌ وَمِن بَينِنا وَبَينِكَ حِجابٌ فَاعمَل إِنَّنا عٰمِلونَ(5)
اور کہتے ہیں کہ ہمارے دل اُس چیز سے غلافوں میں ہیں جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں اور ہمارے کانوں میں (بہرے پن کا) بوجھ ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان پردہ ہے سو آپ (اپنا) عمل کرتے رہئے ہم اپنا عمل کرنے والے ہیں،(5)
قُل إِنَّما أَنا۠ بَشَرٌ مِثلُكُم يوحىٰ إِلَىَّ أَنَّما إِلٰهُكُم إِلٰهٌ وٰحِدٌ فَاستَقيموا إِلَيهِ وَاستَغفِروهُ ۗ وَوَيلٌ لِلمُشرِكينَ(6)
(اِن کے پردے ہٹانے اور سننے پر آمادہ کرنے کے لئے) فرما دیجئے: (اے کافرو!) بس میں ظاہراً آدمی ہونے میں تو تم ہی جیسا ہوں (پھر مجھ سے اور میری دعوت سے اس قدر کیوں گریزاں ہو) میری طرف یہ وحی بھیجی گئی ہے کہ تمہارا معبود فقط معبودِ یکتا ہے، پس تم اسی کی طرف سیدھے متوجہ رہو اور اس سے مغفرت چاہو، اور مشرکوں کے لئے ہلاکت ہے،(6)
الَّذينَ لا يُؤتونَ الزَّكوٰةَ وَهُم بِالءاخِرَةِ هُم كٰفِرونَ(7)
جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور وہی تو آخرت کے بھی منکر ہیں،(7)
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُم أَجرٌ غَيرُ مَمنونٍ(8)
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا،(8)
۞ قُل أَئِنَّكُم لَتَكفُرونَ بِالَّذى خَلَقَ الأَرضَ فى يَومَينِ وَتَجعَلونَ لَهُ أَندادًا ۚ ذٰلِكَ رَبُّ العٰلَمينَ(9)
فرما دیجئے: کیا تم اس (اﷲ) کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دِن (یعنی دو مدّتوں) میں پیدا فرمایا اور تم اُس کے لئے ہمسر ٹھہراتے ہو، وہی سارے جہانوں کا پروردگار ہے،(9)
وَجَعَلَ فيها رَوٰسِىَ مِن فَوقِها وَبٰرَكَ فيها وَقَدَّرَ فيها أَقوٰتَها فى أَربَعَةِ أَيّامٍ سَواءً لِلسّائِلينَ(10)
اور اُس کے اندر (سے) بھاری پہاڑ (نکال کر) اس کے اوپر رکھ دیئے اور اس کے اندر (معدنیات، آبی ذخائر، قدرتی وسائل اور دیگر قوتوں کی) برکت رکھی، اور اس میں (جملہ مخلوق کے لئے) غذائیں (اور سامانِ معیشت) مقرر فرمائے (یہ سب کچھ اس نے) چار دنوں (یعنی چار ارتقائی زمانوں) میں مکمل کیا، (یہ سارا رِزق اصلًا) تمام طلب گاروں (اور حاجت مندوں) کے لئے برابر ہے،(10)
ثُمَّ استَوىٰ إِلَى السَّماءِ وَهِىَ دُخانٌ فَقالَ لَها وَلِلأَرضِ ائتِيا طَوعًا أَو كَرهًا قالَتا أَتَينا طائِعينَ(11)
پھر وہ سماوی کائنات کی طرف متوجہ ہوا تو وہ (سب) دھواں تھا، سو اس نے اُسے (یعنی آسمانی کرّوں سے) اور زمین سے فرمایا: خواہ باہم کشش و رغبت سے یا گریزی و ناگواری سے (ہمارے نظام کے تابع) آجاؤ، دونوں نے کہا: ہم خوشی سے حاضر ہیں،(11)
فَقَضىٰهُنَّ سَبعَ سَمٰواتٍ فى يَومَينِ وَأَوحىٰ فى كُلِّ سَماءٍ أَمرَها ۚ وَزَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنيا بِمَصٰبيحَ وَحِفظًا ۚ ذٰلِكَ تَقديرُ العَزيزِ العَليمِ(12)
پھر دو دِنوں (یعنی دو مرحلوں) میں سات آسمان بنا دیئے اور ہر سماوی کائنات میں اس کا نظام ودیعت کر دیا اور آسمانِ دنیا کو ہم نے چراغوں (یعنی ستاروں اور سیّاروں) سے آراستہ کر دیا اور محفوظ بھی (تاکہ ایک کا نظام دوسرے میں مداخلت نہ کر سکے)، یہ زبر دست غلبہ (و قوت) والے، بڑے علم والے (رب) کا مقرر کردہ نظام ہے،(12)
فَإِن أَعرَضوا فَقُل أَنذَرتُكُم صٰعِقَةً مِثلَ صٰعِقَةِ عادٍ وَثَمودَ(13)
پھر اگر وہ رُوگردانی کریں تو آپ فرما دیں: میں تمہیں اُس خوفناک عذاب سے ڈراتا ہوں جو عاد اور ثمود کی ہلاکت کے مانند ہوگا،(13)
إِذ جاءَتهُمُ الرُّسُلُ مِن بَينِ أَيديهِم وَمِن خَلفِهِم أَلّا تَعبُدوا إِلَّا اللَّهَ ۖ قالوا لَو شاءَ رَبُّنا لَأَنزَلَ مَلٰئِكَةً فَإِنّا بِما أُرسِلتُم بِهِ كٰفِرونَ(14)
جب اُن کے پاس اُن کے آگے اور اُن کے پیچھے (یا اُن سے پہلے اور ان کے بعد) پیغمبر آئے (اور کہا) کہ اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، تو وہ کہنے لگے: اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتوں کو اتار دیتا سو جو کچھ تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کے منکر ہیں،(14)
فَأَمّا عادٌ فَاستَكبَروا فِى الأَرضِ بِغَيرِ الحَقِّ وَقالوا مَن أَشَدُّ مِنّا قُوَّةً ۖ أَوَلَم يَرَوا أَنَّ اللَّهَ الَّذى خَلَقَهُم هُوَ أَشَدُّ مِنهُم قُوَّةً ۖ وَكانوا بِـٔايٰتِنا يَجحَدونَ(15)
پس جو قومِ عاد تھی سو انہوں نے زمین میں ناحق تکبر (و سرکشی) کی اور کہنے لگے: ہم سے بڑھ کر طاقتور کون ہے؟ اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اﷲ جس نے انہیں پیدا فرمایا ہے وہ اُن سے کہیں بڑھ کر طاقتور ہے، اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے،(15)
فَأَرسَلنا عَلَيهِم ريحًا صَرصَرًا فى أَيّامٍ نَحِساتٍ لِنُذيقَهُم عَذابَ الخِزىِ فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَلَعَذابُ الءاخِرَةِ أَخزىٰ ۖ وَهُم لا يُنصَرونَ(16)
سو ہم نے اُن پر منحوس دنوں میں خوفناک تیز و تُند آندھی بھیجی تاکہ ہم انہیں دنیوی زندگی میں ذِلت کے عذاب کا مزہ چکھائیں، اور آخرت کا عذاب تو سب سے زیادہ ذِلت انگیز ہوگا اور اُن کی کوئی مدد نہ کی جائے گی،(16)
وَأَمّا ثَمودُ فَهَدَينٰهُم فَاستَحَبُّوا العَمىٰ عَلَى الهُدىٰ فَأَخَذَتهُم صٰعِقَةُ العَذابِ الهونِ بِما كانوا يَكسِبونَ(17)
اور جو قومِ ثمود تھی، سو ہم نے انہیں راہِ ہدایت دکھائی تو انہوں نے ہدایت کے مقابلہ میں اندھا رہنا ہی پسند کیا تو انہیں ذِلّت کے عذاب کی کڑک نے پکڑ لیا اُن اعمال کے بدلے جو وہ کمایا کرتے تھے،(17)
وَنَجَّينَا الَّذينَ ءامَنوا وَكانوا يَتَّقونَ(18)
اور ہم نے اُن لوگوں کو نجات بخشی جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے،(18)
وَيَومَ يُحشَرُ أَعداءُ اللَّهِ إِلَى النّارِ فَهُم يوزَعونَ(19)
اور جس دن اﷲ کے دشمنوں کو دوزخ کی طرف جمع کر کے لایا جائے گا پھر انہیں روک روک کر (اور ہانک کر) چلایا جائے گا،(19)
حَتّىٰ إِذا ما جاءوها شَهِدَ عَلَيهِم سَمعُهُم وَأَبصٰرُهُم وَجُلودُهُم بِما كانوا يَعمَلونَ(20)
یہاں تک کہ جب وہ دوزخ تک پہنچ جائیں گے تو اُن کے کان اور اُن کی آنکھیں اور اُن (کے جسموں) کی کھالیں اُن کے خلاف گواہی دیں گی اُن اعمال پر جو وہ کرتے رہے تھے،(20)
وَقالوا لِجُلودِهِم لِمَ شَهِدتُم عَلَينا ۖ قالوا أَنطَقَنَا اللَّهُ الَّذى أَنطَقَ كُلَّ شَيءٍ وَهُوَ خَلَقَكُم أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيهِ تُرجَعونَ(21)
پھر وہ لوگ اپنی کھالوں سے کہیں گے: تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی، وہ کہیں گی: ہمیں اُس اﷲ نے گویائی عطا کی جو ہر چیز کو قوتِ گویائی دیتا ہے اور اسی نے تمہیں پہلی بار پیدا فرمایا ہے اور تم اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گے،(21)
وَما كُنتُم تَستَتِرونَ أَن يَشهَدَ عَلَيكُم سَمعُكُم وَلا أَبصٰرُكُم وَلا جُلودُكُم وَلٰكِن ظَنَنتُم أَنَّ اللَّهَ لا يَعلَمُ كَثيرًا مِمّا تَعمَلونَ(22)
تم تو (گناہ کرتے وقت) اس (خوف) سے بھی پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان تمہارے خلاف گواہی دے دیں گے اور نہ (یہ کہ) تمہاری آنکھیں اور نہ (یہ کہ) تمہاری کھالیں (ہی گواہی دے دیں گی) لیکن تم گمان کرتے تھے کہ اﷲ تمہارے بہت سے کاموں کو جو تم کرتے ہو جانتا ہی نہیں ہے،(22)
وَذٰلِكُم ظَنُّكُمُ الَّذى ظَنَنتُم بِرَبِّكُم أَردىٰكُم فَأَصبَحتُم مِنَ الخٰسِرينَ(23)
اور تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے بارے میں قائم کیا، تمہیں ہلاک کر گیا سو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گئے،(23)
فَإِن يَصبِروا فَالنّارُ مَثوًى لَهُم ۖ وَإِن يَستَعتِبوا فَما هُم مِنَ المُعتَبينَ(24)
اب اگر وہ صبر کریں تب بھی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور اگر وہ (توبہ کے ذریعے اﷲ کی) رضا حاصل کرنا چاہیں تو بھی وہ رضا پانے والوں میں نہیں ہوں گے،(24)
۞ وَقَيَّضنا لَهُم قُرَناءَ فَزَيَّنوا لَهُم ما بَينَ أَيديهِم وَما خَلفَهُم وَحَقَّ عَلَيهِمُ القَولُ فى أُمَمٍ قَد خَلَت مِن قَبلِهِم مِنَ الجِنِّ وَالإِنسِ ۖ إِنَّهُم كانوا خٰسِرينَ(25)
اور ہم نے اُن کے لئے ساتھ رہنے والے (شیاطین) مقرر کر دیئے، سو انہوں نے اُن کے لئے وہ (تمام برے اعمال) خوش نما کر دکھائے جو اُن کے آگے تھے اور اُن کے پیچھے تھے اور اُن پر (وہی) فرمانِ عذاب ثابت ہوگیا جو اُن امتوں کے بارے میں صادر ہوچکا تھا جو جنّات اور انسانوں میں سے اُن سے پہلے گزر چکی تھیں۔ بے شک وہ نقصان اٹھانے والے تھے،(25)
وَقالَ الَّذينَ كَفَروا لا تَسمَعوا لِهٰذَا القُرءانِ وَالغَوا فيهِ لَعَلَّكُم تَغلِبونَ(26)
اور کافر لوگ کہتے ہیں: تم اِس قرآن کو مت سنا کرو اور اِس (کی قرات کے اوقات) میں شور و غل مچایا کرو تاکہ تم (اِن کے قرآن پڑھنے پر) غالب رہو،(26)
فَلَنُذيقَنَّ الَّذينَ كَفَروا عَذابًا شَديدًا وَلَنَجزِيَنَّهُم أَسوَأَ الَّذى كانوا يَعمَلونَ(27)
پس ہم کافروں کو سخت عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے اور ہم انہیں اُن برے اعمال کا بدلہ ضرور دیں گے جو وہ کرتے رہے تھے،(27)
ذٰلِكَ جَزاءُ أَعداءِ اللَّهِ النّارُ ۖ لَهُم فيها دارُ الخُلدِ ۖ جَزاءً بِما كانوا بِـٔايٰتِنا يَجحَدونَ(28)
یہ دوزخ اﷲ کے دشمنوں کی جزا ہے، اُن کے لئے اِس میں ہمیشہ رہنے کا گھر ہے، یہ اُس کا بدلہ ہے جو وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے،(28)
وَقالَ الَّذينَ كَفَروا رَبَّنا أَرِنَا الَّذَينِ أَضَلّانا مِنَ الجِنِّ وَالإِنسِ نَجعَلهُما تَحتَ أَقدامِنا لِيَكونا مِنَ الأَسفَلينَ(29)
اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمیں جنّات اور انسانوں میں سے وہ دونوں دِکھا دے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا ہے ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے (روند) ڈالیں تاکہ وہ سب سے زیادہ ذِلّت والوں میں ہو جائیں،(29)
إِنَّ الَّذينَ قالوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ استَقٰموا تَتَنَزَّلُ عَلَيهِمُ المَلٰئِكَةُ أَلّا تَخافوا وَلا تَحزَنوا وَأَبشِروا بِالجَنَّةِ الَّتى كُنتُم توعَدونَ(30)
بے شک جن لوگوں نے کہا: ہمارا رب اﷲ ہے، پھر وہ (اِس پر مضبوطی سے) قائم ہوگئے، تو اُن پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور تم جنت کی خوشیاں مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا،(30)
نَحنُ أَولِياؤُكُم فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا وَفِى الءاخِرَةِ ۖ وَلَكُم فيها ما تَشتَهى أَنفُسُكُم وَلَكُم فيها ما تَدَّعونَ(31)
ہم دنیا کی زندگی میں (بھی) تمہارے دوست اور مددگار ہیں اور آخرت میں (بھی)، اور تمہارے لئے وہاں ہر وہ نعمت ہے جسے تمہارا جی چاہے اور تمہارے لئے وہاں وہ تمام چیزیں (حاضر) ہیں جو تم طلب کرو،(31)
نُزُلًا مِن غَفورٍ رَحيمٍ(32)
(یہ) بڑے بخشنے والے، بہت رحم فرمانے والے (رب) کی طرف سے مہمانی ہے،(32)
وَمَن أَحسَنُ قَولًا مِمَّن دَعا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صٰلِحًا وَقالَ إِنَّنى مِنَ المُسلِمينَ(33)
اور اس شخص سے زیادہ خوش گفتار کون ہو سکتا ہے جو اﷲ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے: بے شک میں (اﷲ عزّ و جل اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) فرمانبرداروں میں سے ہوں،(33)
وَلا تَستَوِى الحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادفَع بِالَّتى هِىَ أَحسَنُ فَإِذَا الَّذى بَينَكَ وَبَينَهُ عَدٰوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِىٌّ حَميمٌ(34)
اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے، اور برائی کو بہتر (طریقے) سے دور کیا کرو سو نتیجتاً وہ شخص کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی گویا وہ گرم جوش دوست ہو جائے گا،(34)
وَما يُلَقّىٰها إِلَّا الَّذينَ صَبَروا وَما يُلَقّىٰها إِلّا ذو حَظٍّ عَظيمٍ(35)
اور یہ (خوبی) صرف اُنہی لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جو صبر کرتے ہیں، اور یہ (توفیق) صرف اسی کو حاصل ہوتی ہے جو بڑے نصیب والا ہوتا ہے،(35)
وَإِمّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيطٰنِ نَزغٌ فَاستَعِذ بِاللَّهِ ۖ إِنَّهُ هُوَ السَّميعُ العَليمُ(36)
اور (اے بندۂ مومن!) اگر شیطان کی وسوسہ اندازی سے تمہیں کوئی وسوسہ آجائے تو اﷲ کی پناہ مانگ لیا کر، بے شک وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے،(36)
وَمِن ءايٰتِهِ الَّيلُ وَالنَّهارُ وَالشَّمسُ وَالقَمَرُ ۚ لا تَسجُدوا لِلشَّمسِ وَلا لِلقَمَرِ وَاسجُدوا لِلَّهِ الَّذى خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُم إِيّاهُ تَعبُدونَ(37)
اور رات اور دن اور سورج اور چاند اُس کی نشانیوں میں سے ہیں، نہ سورج کو سجدہ کیا کرو اور نہ ہی چاند کو، اور سجدہ صرف اﷲ کے لئے کیا کرو جس نے اِن (سب) کو پیدا فرمایا ہے اگر تم اسی کی بندگی کرتے ہو،(37)
فَإِنِ استَكبَروا فَالَّذينَ عِندَ رَبِّكَ يُسَبِّحونَ لَهُ بِالَّيلِ وَالنَّهارِ وَهُم لا يَسـَٔمونَ ۩(38)
پھر اگر وہ تکبّر کریں (تو آپ اُن کی پرواہ نہ کریں) پس جو فرشتے آپ کے رب کے حضور میں ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور وہ تھکتے (اور اکتاتے) ہی نہیں ہیں،(38)
وَمِن ءايٰتِهِ أَنَّكَ تَرَى الأَرضَ خٰشِعَةً فَإِذا أَنزَلنا عَلَيهَا الماءَ اهتَزَّت وَرَبَت ۚ إِنَّ الَّذى أَحياها لَمُحىِ المَوتىٰ ۚ إِنَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(39)
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آپ (پہلے) زمین کو خشک (اور بے قدر) دیکھتے ہیں پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے اور نمو پانے لگتی ہے، بے شک وہ ذات جس نے اس (مردہ زمین) کو زندہ کیا ہے یقیناً وہی (روزِ قیامت) مُردوں کو زندہ فرمانے والا ہے۔ بے شک وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے،(39)
إِنَّ الَّذينَ يُلحِدونَ فى ءايٰتِنا لا يَخفَونَ عَلَينا ۗ أَفَمَن يُلقىٰ فِى النّارِ خَيرٌ أَم مَن يَأتى ءامِنًا يَومَ القِيٰمَةِ ۚ اعمَلوا ما شِئتُم ۖ إِنَّهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ(40)
بے شک جو لوگ ہماری آیتوں (کے معنی) میں صحیح راہ سے انحراف کرتے ہیں وہ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں، بھلا جو شخص آتشِ دوزخ میں جھونک دیا جائے (وہ) بہتر ہے یا وہ شخص جو قیامت کے دن (عذاب سے) محفوظ و مامون ہو کر آئے، تم جو چاہو کرو، بے شک جو کام تم کرتے ہو وہ خوب دیکھنے والا ہے،(40)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا بِالذِّكرِ لَمّا جاءَهُم ۖ وَإِنَّهُ لَكِتٰبٌ عَزيزٌ(41)
بے شک جنہوں نے قرآن کے ساتھ کفر کیا جبکہ وہ اُن کے پاس آچکا تھا (تویہ اُن کی بد نصیبی ہے)، اور بے شک وہ (قرآن) بڑی باعزت کتاب ہے،(41)
لا يَأتيهِ البٰطِلُ مِن بَينِ يَدَيهِ وَلا مِن خَلفِهِ ۖ تَنزيلٌ مِن حَكيمٍ حَميدٍ(42)
باطل اِس (قرآن) کے پاس نہ اس کے سامنے سے آسکتا ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے، (یہ) بڑی حکمت والے، بڑی حمد والے (رب) کی طرف سے اتارا ہوا ہے،(42)
ما يُقالُ لَكَ إِلّا ما قَد قيلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبلِكَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ لَذو مَغفِرَةٍ وَذو عِقابٍ أَليمٍ(43)
(اے حبیب!) جو آپ سے کہی جاتی ہیں (یہ) وہی باتیں ہیں جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہی جا چکی ہیں، بے شک آپ کا رب ضرور معافی والا (بھی) ہے اور درد ناک سزا دینے والا (بھی) ہے،(43)
وَلَو جَعَلنٰهُ قُرءانًا أَعجَمِيًّا لَقالوا لَولا فُصِّلَت ءايٰتُهُ ۖ ءَأَعجَمِىٌّ وَعَرَبِىٌّ ۗ قُل هُوَ لِلَّذينَ ءامَنوا هُدًى وَشِفاءٌ ۖ وَالَّذينَ لا يُؤمِنونَ فى ءاذانِهِم وَقرٌ وَهُوَ عَلَيهِم عَمًى ۚ أُولٰئِكَ يُنادَونَ مِن مَكانٍ بَعيدٍ(44)
اور اگر ہم اس (کتاب) کو عجمی زبان کا قرآن بنا دیتے تو یقیناً یہ کہتے کہ اِس کی آیتیں واضح طور پر بیان کیوں نہیں کی گئیں، کیا کتاب عجمی ہے اور رسول عربی ہے (اِس لئے اے محبوبِ مکرّم! ہم نے قرآن بھی آپ ہی کی زبان میں اتار دیا ہے۔) فرما دیجئے: وہ (قرآن) ایمان والوں کے لئے ہدایت (بھی) ہے اور شفا (بھی) ہے اور جو لوگ ایمان نہیں رکھتے اُن کے کانوں میں بہرے پن کا بوجھ ہے وہ اُن کے حق میں نابینا پن (بھی) ہے (گویا) وہ لوگ کسی دور کی جگہ سے پکارے جاتے ہیں،(44)
وَلَقَد ءاتَينا موسَى الكِتٰبَ فَاختُلِفَ فيهِ ۗ وَلَولا كَلِمَةٌ سَبَقَت مِن رَبِّكَ لَقُضِىَ بَينَهُم ۚ وَإِنَّهُم لَفى شَكٍّ مِنهُ مُريبٍ(45)
اور بے شک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تو اس میں (بھی) اختلاف کیا گیا، اور اگر آپ کے رب کی طرف سے فرمان پہلے صادر نہ ہو چکا ہوتا تو اُن کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا اور بے شک وہ اس (قرآن) کے بارے میں (بھی) دھوکہ دینے والے شک میں (مبتلاء) ہیں،(45)
مَن عَمِلَ صٰلِحًا فَلِنَفسِهِ ۖ وَمَن أَساءَ فَعَلَيها ۗ وَما رَبُّكَ بِظَلّٰمٍ لِلعَبيدِ(46)
جس نے نیک عمل کیا تو اُس نے اپنی ہی ذات کے (نفع کے) لئے (کیا) اور جِس نے گناہ کیا سو (اُس کا وبال بھی) اسی کی جان پر ہے، اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے،(46)
۞ إِلَيهِ يُرَدُّ عِلمُ السّاعَةِ ۚ وَما تَخرُجُ مِن ثَمَرٰتٍ مِن أَكمامِها وَما تَحمِلُ مِن أُنثىٰ وَلا تَضَعُ إِلّا بِعِلمِهِ ۚ وَيَومَ يُناديهِم أَينَ شُرَكاءى قالوا ءاذَنّٰكَ ما مِنّا مِن شَهيدٍ(47)
اسی (اللہ) کی طرف ہی وقتِ قیامت کے علم کا حوالہ دیا جاتا ہے، اور نہ پھل اپنے غلافوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ وہ بچہ جنتی ہے مگر (یہ سب کچھ) اُس کے علم میں ہوتا ہے۔ اور جس دن وہ انہیں ندا فرمائے گا کہ میرے شریک کہاں ہیں، (تو) وہ (مشرک) کہیں گے: ہم آپ سے عرض کئے دیتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی (کسی کے آپ کے ساتھ شریک ہونے پر) گواہ نہیں ہے،(47)
وَضَلَّ عَنهُم ما كانوا يَدعونَ مِن قَبلُ ۖ وَظَنّوا ما لَهُم مِن مَحيصٍ(48)
وہ سب (بت) اُن سے غائب ہو جائیں گے جن کی وہ پہلے پوجا کیا کرتے تھے وہ سمجھ لیں گے کہ اُن کے لئے بھاگنے کی کوئی راہ نہیں رہی،(48)
لا يَسـَٔمُ الإِنسٰنُ مِن دُعاءِ الخَيرِ وَإِن مَسَّهُ الشَّرُّ فَيَـٔوسٌ قَنوطٌ(49)
انسان بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا اور اگر اسے برائی پہنچ جاتی ہے تو بہت ہی مایوس، آس و امید توڑ بیٹھنے والا ہو جاتا ہے،(49)
وَلَئِن أَذَقنٰهُ رَحمَةً مِنّا مِن بَعدِ ضَرّاءَ مَسَّتهُ لَيَقولَنَّ هٰذا لى وَما أَظُنُّ السّاعَةَ قائِمَةً وَلَئِن رُجِعتُ إِلىٰ رَبّى إِنَّ لى عِندَهُ لَلحُسنىٰ ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذينَ كَفَروا بِما عَمِلوا وَلَنُذيقَنَّهُم مِن عَذابٍ غَليظٍ(50)
اور اگر ہم اسے اپنی جانب سے رحمت (کا مزہ) چکھا دیں اُس تکلیف کے بعد جو اُسے پہنچ چکی تھی تو وہ ضرور کہنے لگتا ہے کہ یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت برپا ہونے والی ہے اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو بھی اس کے حضور میرے لئے یقیناً بھلائی ہوگی سو ہم ضرور کفر کرنے والوں کو اُن کاموں سے آگاہ کر دیں گے جو انہوں نے انجام دیئے اور ہم انہیں ضرور سخت ترین عذاب (کا مزہ) چکھا دیں گے،(50)
وَإِذا أَنعَمنا عَلَى الإِنسٰنِ أَعرَضَ وَنَـٔا بِجانِبِهِ وَإِذا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذو دُعاءٍ عَريضٍ(51)
اور جب ہم انسان پر انعام فرماتے ہیں تو وہ منہ پھیر لیتا ہے اور اپنا پہلو بچا کر ہم سے دور ہو جاتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی چوڑی دعا کرنے والا ہو جاتا ہے،(51)
قُل أَرَءَيتُم إِن كانَ مِن عِندِ اللَّهِ ثُمَّ كَفَرتُم بِهِ مَن أَضَلُّ مِمَّن هُوَ فى شِقاقٍ بَعيدٍ(52)
فرما دیجئے: بھلا تم بتاؤ اگر یہ (قرآن) اللہ ہی کی طرف سے (اُترا) ہو پھر تم اِس کا انکار کرتے رہو تو اُس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو پرلے درجہ کی مخالفت میں (پڑا) ہو،(52)
سَنُريهِم ءايٰتِنا فِى الءافاقِ وَفى أَنفُسِهِم حَتّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُم أَنَّهُ الحَقُّ ۗ أَوَلَم يَكفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ شَهيدٌ(53)
ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں اَطرافِ عالم میں اور خود اُن کی ذاتوں میں دِکھا دیں گے یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہی حق ہے۔ کیا آپ کا رب (آپ کی حقانیت کی تصدیق کے لئے) کافی نہیں ہے کہ وہی ہر چیز پر گواہ (بھی) ہے،(53)
أَلا إِنَّهُم فى مِريَةٍ مِن لِقاءِ رَبِّهِم ۗ أَلا إِنَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ مُحيطٌ(54)
جان لو کہ وہ لوگ اپنے رب کے حضور پیشی کی نسبت شک میں ہیں، خبردار! وہی (اپنے علم و قدرت سے) ہر چیز کا احاطہ فرمانے والا ہے،(54)