Az-Zumar( الزمر)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ تَنزيلُ الكِتٰبِ مِنَ اللَّهِ العَزيزِ الحَكيمِ(1)
اس کتاب کا اتارا جانا اﷲ کی طرف سے ہے جو بڑی عزت والا، بڑی حکمت والا ہے،(1)
إِنّا أَنزَلنا إِلَيكَ الكِتٰبَ بِالحَقِّ فَاعبُدِ اللَّهَ مُخلِصًا لَهُ الدّينَ(2)
بے شک ہم نے آپ کی طرف (یہ) کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے تو آپ اﷲ کی عبادت اس کے لئے طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کریں،(2)
أَلا لِلَّهِ الدّينُ الخالِصُ ۚ وَالَّذينَ اتَّخَذوا مِن دونِهِ أَولِياءَ ما نَعبُدُهُم إِلّا لِيُقَرِّبونا إِلَى اللَّهِ زُلفىٰ إِنَّ اللَّهَ يَحكُمُ بَينَهُم فى ما هُم فيهِ يَختَلِفونَ ۗ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدى مَن هُوَ كٰذِبٌ كَفّارٌ(3)
(لوگوں سے کہہ دیں:) سُن لو! طاعت و بندگی خالصۃً اﷲ ہی کے لئے ہے، اور جن (کفّار) نے اﷲ کے سوا (بتوں کو) دوست بنا رکھا ہے، وہ (اپنی بُت پرستی کے جھوٹے جواز کے لئے یہ کہتے ہیں کہ) ہم اُن کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اﷲ کا مقرّب بنا دیں، بے شک اﷲ اُن کے درمیان اس چیز کا فیصلہ فرما دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، یقیناً اﷲ اس شخص کو ہدایت نہیں فرماتا جو جھوٹا ہے، بڑا ناشکر گزار ہے،(3)
لَو أَرادَ اللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا لَاصطَفىٰ مِمّا يَخلُقُ ما يَشاءُ ۚ سُبحٰنَهُ ۖ هُوَ اللَّهُ الوٰحِدُ القَهّارُ(4)
اگر اﷲ ارادہ فرماتا کہ (اپنے لئے) اولاد بنائے تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا منتخب فرما لیتا، وہ پاک ہے، وہی اﷲ ہے جو یکتا ہے سب پر غالب ہے،(4)
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ بِالحَقِّ ۖ يُكَوِّرُ الَّيلَ عَلَى النَّهارِ وَيُكَوِّرُ النَّهارَ عَلَى الَّيلِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمسَ وَالقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجرى لِأَجَلٍ مُسَمًّى ۗ أَلا هُوَ العَزيزُ الغَفّٰرُ(5)
اُس نے آسمانوں اور زمین کو صحیح تدبیر کے ساتھ پیدا فرمایا۔ وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو (ایک نظام میں) مسخّر کر رکھا ہے، ہر ایک (ستارہ اور سیّارہ) مقرّر وقت کی حد تک (اپنے مدار میں) چلتا ہے، خبردار! وہی (پورے نظام پر) غالب، بڑا بخشنے والا ہے،(5)
خَلَقَكُم مِن نَفسٍ وٰحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنها زَوجَها وَأَنزَلَ لَكُم مِنَ الأَنعٰمِ ثَمٰنِيَةَ أَزوٰجٍ ۚ يَخلُقُكُم فى بُطونِ أُمَّهٰتِكُم خَلقًا مِن بَعدِ خَلقٍ فى ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ۚ ذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُم لَهُ المُلكُ ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ فَأَنّىٰ تُصرَفونَ(6)
اس نے تم سب کو ایک حیاتیاتی خلیہ سے پیدا فرمایا پھر اس سے اسی جیسا جوڑ بنایا پھر اس نے تمہارے لئے آٹھ جاندار جانور مہیا کئے، وہ تمہاری ماؤں کے رحموں میں ایک تخلیقی مرحلہ سے اگلے تخلیقی مرحلہ میں ترتیب کے ساتھ تمہاری تشکیل کرتا ہے (اس عمل کو) تین قِسم کے تاریک پردوں میں (مکمل فرماتا ہے)، یہی تمہارا پروردگار ہے جو سب قدرت و سلطنت کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر (تخلیق کے یہ مخفی حقائق جان لینے کے بعد بھی) تم کہاں بہکے پھرتے ہو،(6)
إِن تَكفُروا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِىٌّ عَنكُم ۖ وَلا يَرضىٰ لِعِبادِهِ الكُفرَ ۖ وَإِن تَشكُروا يَرضَهُ لَكُم ۗ وَلا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزرَ أُخرىٰ ۗ ثُمَّ إِلىٰ رَبِّكُم مَرجِعُكُم فَيُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم تَعمَلونَ ۚ إِنَّهُ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ(7)
اگر تم کفر کرو تو بے شک اللہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے کفر (و ناشکری) پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکرگزاری کرو (تو) اسے تمہارے لئے پسند فرماتا ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں اُن کاموں سے خبردار کر دے گا جو تم کرتے رہے تھے، بے شک وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں کو (بھی) خوب جاننے والا ہے،(7)
۞ وَإِذا مَسَّ الإِنسٰنَ ضُرٌّ دَعا رَبَّهُ مُنيبًا إِلَيهِ ثُمَّ إِذا خَوَّلَهُ نِعمَةً مِنهُ نَسِىَ ما كانَ يَدعوا إِلَيهِ مِن قَبلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندادًا لِيُضِلَّ عَن سَبيلِهِ ۚ قُل تَمَتَّع بِكُفرِكَ قَليلًا ۖ إِنَّكَ مِن أَصحٰبِ النّارِ(8)
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتا ہے، پھر جب (اللہ) اُسے اپنی جانب سے کوئی نعمت بخش دیتا ہے تو وہ اُس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کے لئے وہ پہلے دعا کیا کرتا تھا اور (پھر) اللہ کے لئے (بتوں کو) شریک ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ (دوسرے لوگوں کو بھی) اس کی راہ سے بھٹکا دے، فرما دیجئے: (اے کافر!) تو اپنے کُفر کے ساتھ تھوڑا سا (ظاہری) فائدہ اٹھا لے، تو بے شک دوزخیوں میں سے ہے،(8)
أَمَّن هُوَ قٰنِتٌ ءاناءَ الَّيلِ ساجِدًا وَقائِمًا يَحذَرُ الءاخِرَةَ وَيَرجوا رَحمَةَ رَبِّهِ ۗ قُل هَل يَستَوِى الَّذينَ يَعلَمونَ وَالَّذينَ لا يَعلَمونَ ۗ إِنَّما يَتَذَكَّرُ أُولُوا الأَلبٰبِ(9)
بھلا (یہ مشرک بہتر ہے یا) وہ (مومن) جو رات کی گھڑیوں میں سجود اور قیام کی حالت میں عبادت کرنے والا ہے، آخرت سے ڈرتا رہتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے، فرما دیجئے: کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں؟ بس نصیحت تو عقل مند لوگ ہی قبول کرتے ہیں،(9)
قُل يٰعِبادِ الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقوا رَبَّكُم ۚ لِلَّذينَ أَحسَنوا فى هٰذِهِ الدُّنيا حَسَنَةٌ ۗ وَأَرضُ اللَّهِ وٰسِعَةٌ ۗ إِنَّما يُوَفَّى الصّٰبِرونَ أَجرَهُم بِغَيرِ حِسابٍ(10)
(محبوب! میری طرف سے) فرما دیجئے: اے میرے بندو! جو ایمان لائے ہو اپنے رب کا تقوٰی اختیار کرو۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے جو اس دنیا میں صاحبانِ احسان ہوئے، بہترین صلہ ہے، اور اللہ کی سرزمین کشادہ ہے، بلاشبہ صبر کرنے والوں کو اُن کا اجر بے حساب انداز سے پورا کیا جائے گا،(10)
قُل إِنّى أُمِرتُ أَن أَعبُدَ اللَّهَ مُخلِصًا لَهُ الدّينَ(11)
فرما دیجئے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت، اپنی طاعت و بندگی کو اس کے لئے خالص رکھتے ہوئے سر انجام دوں،(11)
وَأُمِرتُ لِأَن أَكونَ أَوَّلَ المُسلِمينَ(12)
اور مجھے یہ (بھی) حکم دیا گیا تھا کہ میں (اُس کی مخلوقات میں) سب سے پہلا مسلمان بنوں،(12)
قُل إِنّى أَخافُ إِن عَصَيتُ رَبّى عَذابَ يَومٍ عَظيمٍ(13)
فرما دیجئے: اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں زبردست دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں،(13)
قُلِ اللَّهَ أَعبُدُ مُخلِصًا لَهُ دينى(14)
فرما دیجئے: میں صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں، اپنے دین کو اسی کے لئے خالص رکھتے ہوئے،(14)
فَاعبُدوا ما شِئتُم مِن دونِهِ ۗ قُل إِنَّ الخٰسِرينَ الَّذينَ خَسِروا أَنفُسَهُم وَأَهليهِم يَومَ القِيٰمَةِ ۗ أَلا ذٰلِكَ هُوَ الخُسرانُ المُبينُ(15)
سو تم اللہ کے سوا جس کی چاہو پوجا کرو، فرما دیجئے: بے شک نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو خسارہ میں ڈالا۔ یاد رکھو یہی کھلا نقصان ہے،(15)
لَهُم مِن فَوقِهِم ظُلَلٌ مِنَ النّارِ وَمِن تَحتِهِم ظُلَلٌ ۚ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبادَهُ ۚ يٰعِبادِ فَاتَّقونِ(16)
ان کے لئے اُن کے اوپر (بھی) آگ کے بادل (سائبان بنے) ہوں گے اور ان کے نیچے بھی آگ کے فرش ہوں گے، یہ وہ (عذاب) ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اے میرے بندو! بس مجھ سے ڈرتے رہو،(16)
وَالَّذينَ اجتَنَبُوا الطّٰغوتَ أَن يَعبُدوها وَأَنابوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ البُشرىٰ ۚ فَبَشِّر عِبادِ(17)
اور جو لوگ بتوں کی پرستش کرنے سے بچے رہے اور اللہ کی طرف جھکے رہے، ان کے لئے خوشخبری ہے، پس آپ میرے بندوں کو بشارت دے دیجئے،(17)
الَّذينَ يَستَمِعونَ القَولَ فَيَتَّبِعونَ أَحسَنَهُ ۚ أُولٰئِكَ الَّذينَ هَدىٰهُمُ اللَّهُ ۖ وَأُولٰئِكَ هُم أُولُوا الأَلبٰبِ(18)
جو لوگ بات کو غور سے سنتے ہیں، پھر اس کے بہتر پہلو کی اتباع کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت فرمائی ہے اور یہی لوگ عقل مند ہیں،(18)
أَفَمَن حَقَّ عَلَيهِ كَلِمَةُ العَذابِ أَفَأَنتَ تُنقِذُ مَن فِى النّارِ(19)
بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم ثابت ہو چکا، تو کیا آپ اس شخص کو بچا سکتے ہیں جو (دائمی) دوزخی ہو چکا ہو،(19)
لٰكِنِ الَّذينَ اتَّقَوا رَبَّهُم لَهُم غُرَفٌ مِن فَوقِها غُرَفٌ مَبنِيَّةٌ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ ۖ وَعدَ اللَّهِ ۖ لا يُخلِفُ اللَّهُ الميعادَ(20)
لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے (جنت میں) بلند محلات ہوں گے جن کے اوپر (بھی) بالاخانے بنائے گئے ہوں گے، اُن کے نیچے سے نہریں رواں ہوں گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا،(20)
أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَسَلَكَهُ يَنٰبيعَ فِى الأَرضِ ثُمَّ يُخرِجُ بِهِ زَرعًا مُختَلِفًا أَلوٰنُهُ ثُمَّ يَهيجُ فَتَرىٰهُ مُصفَرًّا ثُمَّ يَجعَلُهُ حُطٰمًا ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَذِكرىٰ لِأُولِى الأَلبٰبِ(21)
(اے انسان!) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر زمین میں اس کے چشمے رواں کیے، پھر اس کے ذریعے کھیتی پیدا کرتا ہے جس کے رنگ جداگانہ ہوتے ہیں، پھر وہ (تیار ہوکر) خشک ہو جاتی ہے، پھر (پکنے کے بعد) تو اسے زرد دیکھتا ہے، پھر وہ اسے چورا چورا کر دیتا ہے، بے شک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے،(21)
أَفَمَن شَرَحَ اللَّهُ صَدرَهُ لِلإِسلٰمِ فَهُوَ عَلىٰ نورٍ مِن رَبِّهِ ۚ فَوَيلٌ لِلقٰسِيَةِ قُلوبُهُم مِن ذِكرِ اللَّهِ ۚ أُولٰئِكَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(22)
بھلا اللہ نے جس شخص کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیا ہو تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر (فائز) ہوجاتا ہے، (اس کے برعکس) پس اُن لوگوں کے لئے ہلاکت ہے جن کے دل اللہ کے ذکر (کے فیض) سے (محروم ہو کر) سخت ہوگئے، یہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں،(22)
اللَّهُ نَزَّلَ أَحسَنَ الحَديثِ كِتٰبًا مُتَشٰبِهًا مَثانِىَ تَقشَعِرُّ مِنهُ جُلودُ الَّذينَ يَخشَونَ رَبَّهُم ثُمَّ تَلينُ جُلودُهُم وَقُلوبُهُم إِلىٰ ذِكرِ اللَّهِ ۚ ذٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهدى بِهِ مَن يَشاءُ ۚ وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن هادٍ(23)
اللہ ہی نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے، جو ایک کتاب ہے جس کی باتیں (نظم اور معانی میں) ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں (جس کی آیتیں) بار بار دہرائی گئی ہیں، جس سے اُن لوگوں کے جسموں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر اُن کی جلدیں اور دل نرم ہو جاتے ہیں (اور رِقّت کے ساتھ) اللہ کے ذکر کی طرف (محو ہو جاتے ہیں)۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے رہنمائی فرماتا ہے۔ اور اللہ جسے گمراہ کر دیتا (یعنی گمراہ چھوڑ دیتا) ہے تو اُس کے لئے کوئی ہادی نہیں ہوتا،(23)
أَفَمَن يَتَّقى بِوَجهِهِ سوءَ العَذابِ يَومَ القِيٰمَةِ ۚ وَقيلَ لِلظّٰلِمينَ ذوقوا ما كُنتُم تَكسِبونَ(24)
بھلا وہ شخص جو قیامت کے دن (آگ کے) برے عذاب کو اپنے چہرے سے روک رہا ہوگا (کیونکہ اس کے دونوں ہاتھ بندھے ہونگے، اس کا کیا حال ہوگا؟) اور ایسے ظالموں سے کہا جائے گا: اُن بداعمالیوں کا مزہ چکھو جو تم انجام دیا کرتے تھے،(24)
كَذَّبَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم فَأَتىٰهُمُ العَذابُ مِن حَيثُ لا يَشعُرونَ(25)
ایسے لوگوں نے جو اِن سے پہلے تھے (رسولوں کو) جھٹلایا تھا سو اُن پر ایسی جگہ سے عذاب آپہنچا کہ انہیں کچھ شعور ہی نہ تھا،(25)
فَأَذاقَهُمُ اللَّهُ الخِزىَ فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَلَعَذابُ الءاخِرَةِ أَكبَرُ ۚ لَو كانوا يَعلَمونَ(26)
پس اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں (ہی) ذِلّت و رسوائی کا مزہ چکھا دیا اور یقیناً آخرت کا عذاب کہیں بڑا ہے، کاش وہ جانتے ہوتے،(26)
وَلَقَد ضَرَبنا لِلنّاسِ فى هٰذَا القُرءانِ مِن كُلِّ مَثَلٍ لَعَلَّهُم يَتَذَكَّرونَ(27)
اور درحقیقت ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کر سکیں،(27)
قُرءانًا عَرَبِيًّا غَيرَ ذى عِوَجٍ لَعَلَّهُم يَتَّقونَ(28)
قرآن عربی زبان میں ہے (جو سب زبانوں سے زیادہ صاف اور بلیغ ہے) جس میں ذرا بھی کجی نہیں ہے تاکہ وہ تقوٰی اختیار کریں،(28)
ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلًا فيهِ شُرَكاءُ مُتَشٰكِسونَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِرَجُلٍ هَل يَستَوِيانِ مَثَلًا ۚ الحَمدُ لِلَّهِ ۚ بَل أَكثَرُهُم لا يَعلَمونَ(29)
اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے ایسے (غلام) شخص کی جس کی ملکیت میں کئی ایسے لوگ شریک ہوں جو بداخلاق بھی ہوں اور باہم جھگڑالو بھی۔ اور (دوسری طرف) ایک ایسا شخص ہو جو صرف ایک ہی فرد کا غلام ہو، کیا یہ دونوں (اپنے) حالات کے لحاظ سے یکساں ہوسکتے ہیں؟ (ہرگز نہیں) ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ (حقیقتِ توحید کو) نہیں جانتے،(29)
إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَيِّتونَ(30)
(اے حبیبِ مکرّم!) بے شک آپ کو (تو) موت (صرف ذائقہ چکھنے کے لئے) آنی ہے اور وہ یقیناً (دائمی ہلاکت کے لئے) مردہ ہو جائیں گے (پھر دونوں موتوں کا فرق دیکھنے والا ہوگا)۔٭، ٭جس طرح آیت: ٢۹ میں دی گئی مثال کے مطابق دو افراد کے اَحوال قطعاً برابر نہیں ہوں گے اسی طرح ارشاد فرمایا گیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات اور دوسروں کی موت بھی ہرگز برابر یا مماثل نہیں ہوں گی۔ دونوں کی ماہیت اور حالت میں عظیم فرق ہوگا۔ یہ مثال اسی مقصد کے لئے بیان کی گئی تھی کہ شانِ نبوّت کے باب میں ہمسری اور برابری کا گمان کلیتہً ردّ ہو جائے۔ جیسے ایک مالک کا غلام صحیح اور سالم رہا اور بہت سے بدخو مالکوں کا غلام تباہ حال ہوا اسی طرح اے حبیبِ مکرّم! آپ تو ایک ہی مالک کے برگزیدہ بندے اور محبوب و مقرب رسول ہیں سو وہ آپ کو ہر حال میں سلامت رکھے گا اور یہ کفار بہت سے بتوں اور شریکوں کی غلامی میں ہیں سو وہ انہیں بھی اپنی طرح دائمی ہلاکت کا شکار کر دیں گے۔(30)
ثُمَّ إِنَّكُم يَومَ القِيٰمَةِ عِندَ رَبِّكُم تَختَصِمونَ(31)
پھر بلاشبہ تم لوگ قیامت کے دن اپنے رب کے حضور باہم جھگڑا کروگے (ایک گروہ دوسرے کو کہے گا کہ ہمیں مقامِ نبوّت اور شانِ رسالت کو سمجھنے سے تم نے روکا تھا، وہ کہیں گے: نہیں تم خود ہی بدبخت اور گمراہ تھے)،(31)
۞ فَمَن أَظلَمُ مِمَّن كَذَبَ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدقِ إِذ جاءَهُ ۚ أَلَيسَ فى جَهَنَّمَ مَثوًى لِلكٰفِرينَ(32)
سو اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور سچ کو جھٹلائے جبکہ وہ اس کے پاس آچکا ہو، کیا کافروں کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں ہے،(32)
وَالَّذى جاءَ بِالصِّدقِ وَصَدَّقَ بِهِ ۙ أُولٰئِكَ هُمُ المُتَّقونَ(33)
اور جو شخص سچ لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ ہی تو متقی ہیں،(33)
لَهُم ما يَشاءونَ عِندَ رَبِّهِم ۚ ذٰلِكَ جَزاءُ المُحسِنينَ(34)
اُن کے لئے وہ (سب نعمتیں) ان کے رب کے پاس (موجود) ہیں جن کی وہ خواہش کریں گے، یہی محسنوں کی جزا ہے،(34)
لِيُكَفِّرَ اللَّهُ عَنهُم أَسوَأَ الَّذى عَمِلوا وَيَجزِيَهُم أَجرَهُم بِأَحسَنِ الَّذى كانوا يَعمَلونَ(35)
تاکہ اللہ اُن کی خطاؤں کو جو انہوں نے کیں اُن سے دور کر دے اور انہیں ان کا ثواب اُن نیکیوں کے بدلہ میں عطا فرمائے جو وہ کیا کرتے تھے،(35)
أَلَيسَ اللَّهُ بِكافٍ عَبدَهُ ۖ وَيُخَوِّفونَكَ بِالَّذينَ مِن دونِهِ ۚ وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن هادٍ(36)
کیا اللہ اپنے بندۂ (مقرّب نبیِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کافی نہیں ہے؟ اور یہ (کفّار) آپ کو اللہ کے سوا اُن بتوں سے (جن کی یہ پوجا کرتے ہیں) ڈراتے ہیں، اور جسے اللہ (اس کے قبولِ حق سے اِنکار کے باعث) گمراہ ٹھہرا دے تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں،(36)
وَمَن يَهدِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن مُضِلٍّ ۗ أَلَيسَ اللَّهُ بِعَزيزٍ ذِى انتِقامٍ(37)
اور جسے اللہ ہدایت سے نواز دے تو اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا اللہ بڑا غالب، انتقام لینے والا نہیں ہے،(37)
وَلَئِن سَأَلتَهُم مَن خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ لَيَقولُنَّ اللَّهُ ۚ قُل أَفَرَءَيتُم ما تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ إِن أَرادَنِىَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَل هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهِ أَو أَرادَنى بِرَحمَةٍ هَل هُنَّ مُمسِكٰتُ رَحمَتِهِ ۚ قُل حَسبِىَ اللَّهُ ۖ عَلَيهِ يَتَوَكَّلُ المُتَوَكِّلونَ(38)
اور اگر آپ اُن سے دریافت فرمائیں کہ آسمانوں اور زمین کو کِس نے پیدا کیا تو وہ ضرور کہیں گے: اللہ نے، آپ فرما دیجئے: بھلا یہ بتاؤ کہ جن بتوں کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا وہ (بُت) اس کی (بھیجی ہوئی) تکلیف کو دُور کرسکتے ہیں یا وہ مجھے رحمت سے نوازنا چاہے تو کیا وہ (بُت) اس کی (بھیجی ہوئی) رحمت کو روک سکتے ہیں، فرما دیجئے: مجھے اللہ کافی ہے، اسی پر توکل کرنے والے بھروسہ کرتے ہیں،(38)
قُل يٰقَومِ اعمَلوا عَلىٰ مَكانَتِكُم إِنّى عٰمِلٌ ۖ فَسَوفَ تَعلَمونَ(39)
فرما دیجئے: اے (میری) قوم! تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کر رہا ہوں، پھر عنقریب تم (انجام کو) جان لو گے،(39)
مَن يَأتيهِ عَذابٌ يُخزيهِ وَيَحِلُّ عَلَيهِ عَذابٌ مُقيمٌ(40)
(کہ) کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور اس پر ہمیشہ قائم رہنے والا عذاب اترے گا،(40)
إِنّا أَنزَلنا عَلَيكَ الكِتٰبَ لِلنّاسِ بِالحَقِّ ۖ فَمَنِ اهتَدىٰ فَلِنَفسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيها ۖ وَما أَنتَ عَلَيهِم بِوَكيلٍ(41)
بیشک ہم نے آپ پر لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے حق کے ساتھ کتاب اتاری، سو جس نے ہدایت پائی تو اپنے ہی فائدے کے لئے اور جو گمراہ ہوا تو اپنے ہی نقصان کے لئے گمراہ ہوا اور آپ اُن کے ذمّہ دار نہیں ہیں،(41)
اللَّهُ يَتَوَفَّى الأَنفُسَ حينَ مَوتِها وَالَّتى لَم تَمُت فى مَنامِها ۖ فَيُمسِكُ الَّتى قَضىٰ عَلَيهَا المَوتَ وَيُرسِلُ الأُخرىٰ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ(42)
اللہ جانوں کو اُن کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے اور اُن (جانوں) کو جنہیں موت نہیں آئی ہے اُن کی نیند کی حالت میں، پھر اُن کو روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم صادر ہو چکا ہو اور دوسری (جانوں) کو مقرّرہ وقت تک چھوڑے رکھتا ہے۔ بے شک اس میں اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں،(42)
أَمِ اتَّخَذوا مِن دونِ اللَّهِ شُفَعاءَ ۚ قُل أَوَلَو كانوا لا يَملِكونَ شَيـًٔا وَلا يَعقِلونَ(43)
کیا انہوں نے اللہ کے اِذن کے خلاف (بتوں کو) سفارشی بنا رکھا ہے؟ فرما دیجئے: اگرچہ وہ کسی چیز کے مالک بھی نہ ہوں اور ذی عقل بھی نہ ہوں،(43)
قُل لِلَّهِ الشَّفٰعَةُ جَميعًا ۖ لَهُ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ ثُمَّ إِلَيهِ تُرجَعونَ(44)
فرما دیجئے: سب شفاعت (کا اِذن) اللہ ہی کے اختیار میں ہے (جو اس نے اپنے مقرّبین کے لئے مخصوص کر رکھا ہے)، آسمانوں اور زمین کی سلطنت بھی اسی کی ہے، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے،(44)
وَإِذا ذُكِرَ اللَّهُ وَحدَهُ اشمَأَزَّت قُلوبُ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ ۖ وَإِذا ذُكِرَ الَّذينَ مِن دونِهِ إِذا هُم يَستَبشِرونَ(45)
اور جب تنہا اللہ ہی کا ذکر کیا جاتا ہے تو اُن لوگوں کے دل گھٹن اور کراہت کا شکار ہو جاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، اور جب اللہ کے سوا اُن بتوں کا ذکر کیا جاتا ہے (جنہیں وہ پوجتے ہیں) تو وہ اچانک خوش ہو جاتے ہیں،(45)
قُلِ اللَّهُمَّ فاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ عٰلِمَ الغَيبِ وَالشَّهٰدَةِ أَنتَ تَحكُمُ بَينَ عِبادِكَ فى ما كانوا فيهِ يَختَلِفونَ(46)
آپ عرض کیجئے: اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والے! غیب اور ظاہر کا علم رکھنے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اُن (امور) کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے،(46)
وَلَو أَنَّ لِلَّذينَ ظَلَموا ما فِى الأَرضِ جَميعًا وَمِثلَهُ مَعَهُ لَافتَدَوا بِهِ مِن سوءِ العَذابِ يَومَ القِيٰمَةِ ۚ وَبَدا لَهُم مِنَ اللَّهِ ما لَم يَكونوا يَحتَسِبونَ(47)
اور اگر ظالموں کو وہ سب کا سب (مال و متاع) میسر ہو جائے جو روئے زمین میں ہے اور اُس کے ساتھ اس کے برابر (اور بھی مل جائے) تو وہ اسے قیامت کے دن بُرے عذاب (سے نجات پانے) کے بدلے میں دے ڈالیں گے، اور اللہ کی طرف سے اُن کے لئے وہ (عذاب) ظاہر ہوگا جس کا وہ گمان بھی نہیں کرتے تھے،(47)
وَبَدا لَهُم سَيِّـٔاتُ ما كَسَبوا وَحاقَ بِهِم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(48)
اور اُن کے لئے وہ (سب) برائیاں ظاہر ہو جائیں گی جو انہوں نے کما رکھی ہیں اور انہیں وہ (عذاب) گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،(48)
فَإِذا مَسَّ الإِنسٰنَ ضُرٌّ دَعانا ثُمَّ إِذا خَوَّلنٰهُ نِعمَةً مِنّا قالَ إِنَّما أوتيتُهُ عَلىٰ عِلمٍ ۚ بَل هِىَ فِتنَةٌ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ(49)
پھر جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت بخش دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ یہ نعمت تو مجھے (میرے) علم و تدبیر (کی بنا) پر ملی ہے، بلکہ یہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے،(49)
قَد قالَهَا الَّذينَ مِن قَبلِهِم فَما أَغنىٰ عَنهُم ما كانوا يَكسِبونَ(50)
فی الواقع یہ (باتیں) وہ لوگ بھی کیا کرتے تھے جو اُن سے پہلے تھے، سو جو کچھ وہ کماتے رہے اُن کے کسی کام نہ آسکا،(50)
فَأَصابَهُم سَيِّـٔاتُ ما كَسَبوا ۚ وَالَّذينَ ظَلَموا مِن هٰؤُلاءِ سَيُصيبُهُم سَيِّـٔاتُ ما كَسَبوا وَما هُم بِمُعجِزينَ(51)
تو انہیں وہ برائیاں آپہنچیں جو انہوں نے کما رکھی تھیں، اور اُن لوگوں میں سے جو ظلم کر رہے ہیں انہیں (بھی) عنقریب وہ برائیاں آپہنچیں گی جو انہوں نے کما رکھی ہیں، اور وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے،(51)
أَوَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ يَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن يَشاءُ وَيَقدِرُ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يُؤمِنونَ(52)
اور کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ فرما دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے، بے شک اس میں ایمان رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں،(52)
۞ قُل يٰعِبادِىَ الَّذينَ أَسرَفوا عَلىٰ أَنفُسِهِم لا تَقنَطوا مِن رَحمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغفِرُ الذُّنوبَ جَميعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الغَفورُ الرَّحيمُ(53)
آپ فرما دیجئے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے! تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے، وہ یقینا بڑا بخشنے والا، بہت رحم فرمانے والا ہے،(53)
وَأَنيبوا إِلىٰ رَبِّكُم وَأَسلِموا لَهُ مِن قَبلِ أَن يَأتِيَكُمُ العَذابُ ثُمَّ لا تُنصَرونَ(54)
اور تم اپنے رب کی طرف توبہ و انابت اختیار کرو اور اس کے اطاعت گزار بن جاؤ قبل اِس کے کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی،(54)
وَاتَّبِعوا أَحسَنَ ما أُنزِلَ إِلَيكُم مِن رَبِّكُم مِن قَبلِ أَن يَأتِيَكُمُ العَذابُ بَغتَةً وَأَنتُم لا تَشعُرونَ(55)
اور اس بہترین (کتاب) کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری جانب اتاری گئی ہے قبل اِس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو،(55)
أَن تَقولَ نَفسٌ يٰحَسرَتىٰ عَلىٰ ما فَرَّطتُ فى جَنبِ اللَّهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ السّٰخِرينَ(56)
(ایسا نہ ہو) کہ کوئی شخص کہنے لگے: ہائے افسوس! اس کمی اور کوتاہی پر جو میں نے اللہ کے حقِ (طاعت) میں کی اور میں یقیناً مذاق اڑانے والوں میں سے تھا،(56)
أَو تَقولَ لَو أَنَّ اللَّهَ هَدىٰنى لَكُنتُ مِنَ المُتَّقينَ(57)
یا کہنے لگے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیزگاروں میں سے ہوتا،(57)
أَو تَقولَ حينَ تَرَى العَذابَ لَو أَنَّ لى كَرَّةً فَأَكونَ مِنَ المُحسِنينَ(58)
یا عذاب دیکھتے وقت کہنے لگے کہ اگر ایک بار میرا دنیا میں لوٹنا ہو جائے تو میں نیکوکاروں میں سے ہو جاؤں،(58)
بَلىٰ قَد جاءَتكَ ءايٰتى فَكَذَّبتَ بِها وَاستَكبَرتَ وَكُنتَ مِنَ الكٰفِرينَ(59)
(رب فرمائے گا:) ہاں، بے شک میری آیتیں تیرے پاس آئی تھیں، سو تُو نے انہیں جھٹلا دیا، اور توُ نے تکبّر کیا اور تُو کافروں میں سے ہوگیا،(59)
وَيَومَ القِيٰمَةِ تَرَى الَّذينَ كَذَبوا عَلَى اللَّهِ وُجوهُهُم مُسوَدَّةٌ ۚ أَلَيسَ فى جَهَنَّمَ مَثوًى لِلمُتَكَبِّرينَ(60)
اور آپ قیامت کے دن اُن لوگوں کو جنہوں نے اللہ پر جھوٹ بولا ہے دیکھیں گے کہ اُن کے چہرے سیاہ ہوں گے، کیا تکّبر کرنے والوں کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں ہے؟،(60)
وَيُنَجِّى اللَّهُ الَّذينَ اتَّقَوا بِمَفازَتِهِم لا يَمَسُّهُمُ السّوءُ وَلا هُم يَحزَنونَ(61)
اور اللہ ایسے لوگوں کو جنہوں نے پرہیزگاری اختیار کی ہے اُن کی کامیابی کے ساتھ نجات دے گا نہ انہیں کوئی برائی پہنچے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے،(61)
اللَّهُ خٰلِقُ كُلِّ شَيءٍ ۖ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ وَكيلٌ(62)
اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے،(62)
لَهُ مَقاليدُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۗ وَالَّذينَ كَفَروا بِـٔايٰتِ اللَّهِ أُولٰئِكَ هُمُ الخٰسِرونَ(63)
اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کُنجیاں ہیں، اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیا وہی لوگ ہی خسارہ اٹھانے والے ہیں،(63)
قُل أَفَغَيرَ اللَّهِ تَأمُرونّى أَعبُدُ أَيُّهَا الجٰهِلونَ(64)
فرما دیجئے: اے جاہلو! کیا تم مجھے غیر اللہ کی پرستش کرنے کا کہتے ہو،(64)
وَلَقَد أوحِىَ إِلَيكَ وَإِلَى الَّذينَ مِن قَبلِكَ لَئِن أَشرَكتَ لَيَحبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكونَنَّ مِنَ الخٰسِرينَ(65)
اور فی الحقیقت آپ کی طرف (یہ) وحی کی گئی ہے اور اُن (پیغمبروں) کی طرف (بھی) جو آپ سے پہلے (مبعوث ہوئے) تھے کہ (اے انسان!) اگر تُو نے شرک کیا تو یقیناً تیرا عمل برباد ہو جائے گا اور تُو ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا،(65)
بَلِ اللَّهَ فَاعبُد وَكُن مِنَ الشّٰكِرينَ(66)
بلکہ تُو اللہ کی عبادت کر اور شکر گزاروں میں سے ہو جا،(66)
وَما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدرِهِ وَالأَرضُ جَميعًا قَبضَتُهُ يَومَ القِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطوِيّٰتٌ بِيَمينِهِ ۚ سُبحٰنَهُ وَتَعٰلىٰ عَمّا يُشرِكونَ(67)
اور انہوں نے اللہ کی قدر و تعظیم نہیں کی جیسے اُس کی قدر و تعظیم کا حق تھا اور ساری کی ساری زمین قیامت کے دن اُس کی مُٹھی میں ہوگی اور سارے آسمانی کرّے اُس کے دائیں ہاتھ (یعنی قبضۂ قدرت) میں لپٹے ہوئے ہوں گے، وہ پاک ہے اور ہر اس چیز سے بلند و برتر ہے جسے یہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں،(67)
وَنُفِخَ فِى الصّورِ فَصَعِقَ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَمَن فِى الأَرضِ إِلّا مَن شاءَ اللَّهُ ۖ ثُمَّ نُفِخَ فيهِ أُخرىٰ فَإِذا هُم قِيامٌ يَنظُرونَ(68)
اور صُور پھونکا جائے گا تو سب لوگ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں بے ہوش ہو جائیں گے سوائے اُس کے جسے اللہ چاہے گا، پھر اس میں دوسرا صُور پھونکا جائے گا، سو وہ سب اچانک دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے،(68)
وَأَشرَقَتِ الأَرضُ بِنورِ رَبِّها وَوُضِعَ الكِتٰبُ وَجِا۟يءَ بِالنَّبِيّۦنَ وَالشُّهَداءِ وَقُضِىَ بَينَهُم بِالحَقِّ وَهُم لا يُظلَمونَ(69)
اور زمینِ (محشر) اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور (ہر ایک کے اعمال کی) کتاب رکھ دی جائے گی اور انبیاء کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا،(69)
وَوُفِّيَت كُلُّ نَفسٍ ما عَمِلَت وَهُوَ أَعلَمُ بِما يَفعَلونَ(70)
اور ہر شخص کو اُس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور وہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں،(70)
وَسيقَ الَّذينَ كَفَروا إِلىٰ جَهَنَّمَ زُمَرًا ۖ حَتّىٰ إِذا جاءوها فُتِحَت أَبوٰبُها وَقالَ لَهُم خَزَنَتُها أَلَم يَأتِكُم رُسُلٌ مِنكُم يَتلونَ عَلَيكُم ءايٰتِ رَبِّكُم وَيُنذِرونَكُم لِقاءَ يَومِكُم هٰذا ۚ قالوا بَلىٰ وَلٰكِن حَقَّت كَلِمَةُ العَذابِ عَلَى الكٰفِرينَ(71)
اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ دوزخ کی طرف گروہ درگروہ ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اُس (جہنم) کے پاس پہنچیں گے تو اُس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اس کے داروغے اُن سے کہیں گے: کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیات پڑھ کر سناتے تھے اور تمہیں اِس دن کی پیشی سے ڈراتے تھے؟ وہ (دوزخی) کہیں گے: ہاں (آئے تھے)، لیکن کافروں پر فرمانِ عذاب ثابت ہو چکا ہوگا،(71)
قيلَ ادخُلوا أَبوٰبَ جَهَنَّمَ خٰلِدينَ فيها ۖ فَبِئسَ مَثوَى المُتَكَبِّرينَ(72)
اُن سے کہا جائے گا: دوزخ کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ، (تم) اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو، سو غرور کرنے والوں کا ٹھکانا کتنا برا ہے،(72)
وَسيقَ الَّذينَ اتَّقَوا رَبَّهُم إِلَى الجَنَّةِ زُمَرًا ۖ حَتّىٰ إِذا جاءوها وَفُتِحَت أَبوٰبُها وَقالَ لَهُم خَزَنَتُها سَلٰمٌ عَلَيكُم طِبتُم فَادخُلوها خٰلِدينَ(73)
اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے انہیں (بھی) جنّت کی طرف گروہ در گروہ لے جایا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ اس (جنّت) کے پاس پہنچیں گے اور اُس کے دروازے (پہلے ہی) کھولے جا چکے ہوں گے تو اُن سے وہاں کے نگران (خوش آمدید کرتے ہوئے) کہیں گے: تم پر سلام ہو، تم خوش و خرّم رہو سو ہمیشہ رہنے کے لئے اس میں داخل ہو جاؤ،(73)
وَقالُوا الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى صَدَقَنا وَعدَهُ وَأَورَثَنَا الأَرضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الجَنَّةِ حَيثُ نَشاءُ ۖ فَنِعمَ أَجرُ العٰمِلينَ(74)
اور وہ (جنتی) کہیں گے: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور ہمیں سرزمینِ جنت کا وارث بنا دیا کہ ہم (اِس) جنّت میں جہاں چاہیں قیام کریں، سو نیک عمل کرنے والوں کا کیسا اچھا اجر ہے،(74)
وَتَرَى المَلٰئِكَةَ حافّينَ مِن حَولِ العَرشِ يُسَبِّحونَ بِحَمدِ رَبِّهِم ۖ وَقُضِىَ بَينَهُم بِالحَقِّ وَقيلَ الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ العٰلَمينَ(75)
اور (اے حبیب!) آپ فرشتوں کو عرش کے ارد گرد حلقہ باندھے ہوئے دیکھیں گے جو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہوں گے، اور (سب) لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ کُل حمد اللہ ہی کے لائق ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے،(75)