Az-Zariyat( الذاريات)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَالذّٰرِيٰتِ ذَروًا(1)
اُڑا کر بکھیر دینے والی ہواؤں کی قَسم،(1)
فَالحٰمِلٰتِ وِقرًا(2)
اور (پانی کا) بارِ گراں اٹھانے والی بدلیوں کی قَسم،(2)
فَالجٰرِيٰتِ يُسرًا(3)
اور خراماں خراماں چلنے والی کشتیوں کی قَسم،(3)
فَالمُقَسِّمٰتِ أَمرًا(4)
اور کام تقسیم کرنے والے فرشتوں کی قَسم،(4)
إِنَّما توعَدونَ لَصادِقٌ(5)
بیشک (آخرت کا) جو وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے بالکل سچا ہے،(5)
وَإِنَّ الدّينَ لَوٰقِعٌ(6)
اور بیشک (اعمال کی) جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی،(6)
وَالسَّماءِ ذاتِ الحُبُكِ(7)
اور (ستاروں اور سیّاروں کی) کہکشاؤں اور گزرگاہوں والے آسمان کی قَسم،(7)
إِنَّكُم لَفى قَولٍ مُختَلِفٍ(8)
بیشک تم مختلف بے جوڑ باتوں میں (پڑے) ہو،(8)
يُؤفَكُ عَنهُ مَن أُفِكَ(9)
اِس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن سے) وہی پھرتا ہے جِسے (علمِ ازلی سے) پھیر دیا گیا،(9)
قُتِلَ الخَرّٰصونَ(10)
ظنّ و تخمین سے جھوٹ بولنے والے ہلاک ہو گئے،(10)
الَّذينَ هُم فى غَمرَةٍ ساهونَ(11)
جو جہالت و غفلت میں (آخرت کو) بھول جانے والے ہیں،(11)
يَسـَٔلونَ أَيّانَ يَومُ الدّينِ(12)
پوچھتے ہیں یومِ جزا کب ہو گا؟،(12)
يَومَ هُم عَلَى النّارِ يُفتَنونَ(13)
(فرما دیجئے:) اُس دن (ہوگا جب) وہ آتشِ دوزخ میں تپائے جائیں گے،(13)
ذوقوا فِتنَتَكُم هٰذَا الَّذى كُنتُم بِهِ تَستَعجِلونَ(14)
(اُن سے کہا جائے گا:) اپنی سزا کا مزہ چکھو، یہی وہ عذاب ہے جسے تم جلدی مانگتے ہو،(14)
إِنَّ المُتَّقينَ فى جَنّٰتٍ وَعُيونٍ(15)
بیشک پرہیزگار باغوں اور چشموں میں (لطف اندوز ہوتے) ہوں گے،(15)
ءاخِذينَ ما ءاتىٰهُم رَبُّهُم ۚ إِنَّهُم كانوا قَبلَ ذٰلِكَ مُحسِنينَ(16)
اُن نعمتوں کو (کیف و سرور) سے لیتے ہوں گے جو اُن کا رب انہیں (لطف و کرم سے) دیتا ہوگا، بیشک یہ وہ لوگ ہیں جو اس سے قبل (کی زندگی میں) صاحبانِ احسان تھے،(16)
كانوا قَليلًا مِنَ الَّيلِ ما يَهجَعونَ(17)
وہ راتوں کو تھوڑی سی دیر سویا کرتے تھے،(17)
وَبِالأَسحارِ هُم يَستَغفِرونَ(18)
اور رات کے پچھلے پہروں میں (اٹھ اٹھ کر) مغفرت طلب کرتے تھے،(18)
وَفى أَموٰلِهِم حَقٌّ لِلسّائِلِ وَالمَحرومِ(19)
اور اُن کے اموال میں سائل اور محروم (سب حاجت مندوں) کا حق مقرر تھا،(19)
وَفِى الأَرضِ ءايٰتٌ لِلموقِنينَ(20)
اور زمین میں صاحبانِ ایقان (یعنی کامل یقین والوں) کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں،(20)
وَفى أَنفُسِكُم ۚ أَفَلا تُبصِرونَ(21)
اور خود تمہارے نفوس میں (بھی ہیں)، سو کیا تم دیکھتے نہیں ہو،(21)
وَفِى السَّماءِ رِزقُكُم وَما توعَدونَ(22)
اور آسمان میں تمہارا رِزق (بھی) ہے اور وہ (سب کچھ بھی) جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے،(22)
فَوَرَبِّ السَّماءِ وَالأَرضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِثلَ ما أَنَّكُم تَنطِقونَ(23)
پس آسمان اور زمین کے مالک کی قَسم! یہ (ہمارا وعدہ) اسی طرح یقینی ہے جس طرح تمہارا اپنا بولنا (تمہیں اس پر کامل یقین ہوتا ہے کہ منہ سے کیا کہہ رہے ہو)،(23)
هَل أَتىٰكَ حَديثُ ضَيفِ إِبرٰهيمَ المُكرَمينَ(24)
کیا آپ کے پاس ابراہیم (علیہ السلام) کے معزّز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے،(24)
إِذ دَخَلوا عَلَيهِ فَقالوا سَلٰمًا ۖ قالَ سَلٰمٌ قَومٌ مُنكَرونَ(25)
جب وہ (فرشتے) اُن کے پاس آئے تو انہوں نے سلام پیش کیا، ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی (جواباً) سلام کہا، (ساتھ ہی دل میں سوچنے لگے کہ) یہ اجنبی لوگ ہیں،(25)
فَراغَ إِلىٰ أَهلِهِ فَجاءَ بِعِجلٍ سَمينٍ(26)
پھر جلدی سے اپنے گھر کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے کی سجّی لے آئے،(26)
فَقَرَّبَهُ إِلَيهِم قالَ أَلا تَأكُلونَ(27)
پھر اسے ان کے سامنے پیش کر دیا، فرمانے لگے: کیا تم نہیں کھاؤ گے،(27)
فَأَوجَسَ مِنهُم خيفَةً ۖ قالوا لا تَخَف ۖ وَبَشَّروهُ بِغُلٰمٍ عَليمٍ(28)
پھر اُن (کے نہ کھانے) سے دل میں ہلکی سے گھبراہٹ محسوس کی۔ وہ (فرشتے) کہنے لگے: آپ گھبرائیے نہیں، اور اُن کو علم و دانش والے بیٹے (اسحاق علیہ السلام) کی خوشخبری سنا دی،(28)
فَأَقبَلَتِ امرَأَتُهُ فى صَرَّةٍ فَصَكَّت وَجهَها وَقالَت عَجوزٌ عَقيمٌ(29)
پھر اُن کی بیوی (سارہ) حیرت و حسرت کی آواز نکالتے ہوئے متوجہ ہوئیں اور تعجّب سے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا اور کہنے لگی: (کیا) بوڑھیا بانجھ عورت (بچہ جنے گی؟)،(29)
قالوا كَذٰلِكِ قالَ رَبُّكِ ۖ إِنَّهُ هُوَ الحَكيمُ العَليمُ(30)
(فرشتوں نے) کہا: ایسے ہی ہوگا، تمہارے رب نے فرمایا ہے۔ بیشک وہ بڑی حکمت والا بہت علم والا ہے،(30)
۞ قالَ فَما خَطبُكُم أَيُّهَا المُرسَلونَ(31)
(ابراہیم علیہ السلام نے) کہا: اے بھیجے ہوئے فرشتو! (اس بشارت کے علاوہ) تمہارا (آنے کا) بنیادی مقصد کیا ہے،(31)
قالوا إِنّا أُرسِلنا إِلىٰ قَومٍ مُجرِمينَ(32)
انہوں نے کہا: ہم مجرِم قوم (یعنی قومِ لُوط) کی طرف بھیجے گئے ہیں،(32)
لِنُرسِلَ عَلَيهِم حِجارَةً مِن طينٍ(33)
تاکہ ہم اُن پر مٹی کے پتھریلے کنکر برسائیں،(33)
مُسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ لِلمُسرِفينَ(34)
(وہ پتھر جن پر) حد سے گزر جانے والوں کے لئے آپ کے رب کی طرف سے نشان لگا دیا گیا ہے،(34)
فَأَخرَجنا مَن كانَ فيها مِنَ المُؤمِنينَ(35)
پھر ہم نے ہر اُس شخص کو (قومِ لُوط کی بستی سے) باہر نکال دیا جو اس میں اہلِ ایمان میں سے تھا،(35)
فَما وَجَدنا فيها غَيرَ بَيتٍ مِنَ المُسلِمينَ(36)
سو ہم نے اُس بستی میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا (اور کوئی گھر) نہیں پایا (اس میں حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی دو صاحبزادیاں تھیں)،(36)
وَتَرَكنا فيها ءايَةً لِلَّذينَ يَخافونَ العَذابَ الأَليمَ(37)
اور ہم نے اُس (بستی) میں اُن لوگوں کے لئے (عبرت کی) ایک نشانی باقی رکھی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں،(37)
وَفى موسىٰ إِذ أَرسَلنٰهُ إِلىٰ فِرعَونَ بِسُلطٰنٍ مُبينٍ(38)
اور موسٰی (علیہ السلام کے واقعہ) میں (بھی نشانیاں ہیں) جب ہم نے انہیں فرعون کی طرف واضح دلیل دے کر بھیجا،(38)
فَتَوَلّىٰ بِرُكنِهِ وَقالَ سٰحِرٌ أَو مَجنونٌ(39)
تو اُس نے اپنے اراکینِ سلطنت سمیت رُوگردانی کی اور کہنے لگا: (یہ) جادوگر یا دیوانہ ہے،(39)
فَأَخَذنٰهُ وَجُنودَهُ فَنَبَذنٰهُم فِى اليَمِّ وَهُوَ مُليمٌ(40)
پھر ہم نے اُسے اور اُس کے لشکر کو (عذاب کی) گرفت میں لے لیا اور اُن (سب) کو دریا میں غرق کر دیا اور وہ تھا ہی قابلِ ملامت کام کرنے والا،(40)
وَفى عادٍ إِذ أَرسَلنا عَلَيهِمُ الرّيحَ العَقيمَ(41)
اور (قومِ) عاد (کی ہلاکت) میں بھی (نشانی) ہے جبکہ ہم نے اُن پر بے خیر و برکت ہوا بھیجی،(41)
ما تَذَرُ مِن شَيءٍ أَتَت عَلَيهِ إِلّا جَعَلَتهُ كَالرَّميمِ(42)
وہ جس چیز پر بھی گزرتی تھی اسے ریزہ ریزہ کئے بغیر نہیں چھوڑتی تھی،(42)
وَفى ثَمودَ إِذ قيلَ لَهُم تَمَتَّعوا حَتّىٰ حينٍ(43)
اور (قومِ) ثمود (کی ہلاکت) میں بھی (عبرت کی نشانی ہے) جبکہ اُن سے کہا گیا کہ تم ایک معیّنہ وقت تک فائدہ اٹھا لو،(43)
فَعَتَوا عَن أَمرِ رَبِّهِم فَأَخَذَتهُمُ الصّٰعِقَةُ وَهُم يَنظُرونَ(44)
تو انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی، پس انہیں ہولناک کڑک نے آن لیا اور وہ دیکھتے ہی رہ گئے،(44)
فَمَا استَطٰعوا مِن قِيامٍ وَما كانوا مُنتَصِرينَ(45)
پھر وہ نہ کھڑے رہنے پر قدرت پا سکے اور نہ وہ (ہم سے) بدلہ لے سکنے والے تھے،(45)
وَقَومَ نوحٍ مِن قَبلُ ۖ إِنَّهُم كانوا قَومًا فٰسِقينَ(46)
اور اس سے پہلے نُوح (علیہ السلام) کی قوم کو (بھی ہلاک کیا)، بیشک وہ سخت نافرمان لوگ تھے،(46)
وَالسَّماءَ بَنَينٰها بِأَيي۟دٍ وَإِنّا لَموسِعونَ(47)
اور آسمانی کائنات کو ہم نے بڑی قوت کے ذریعہ سے بنایا اور یقیناً ہم (اس کائنات کو) وسعت اور پھیلاؤ دیتے جا رہے ہیں،(47)
وَالأَرضَ فَرَشنٰها فَنِعمَ المٰهِدونَ(48)
اور (سطحِ) زمین کو ہم ہی نے (قابلِ رہائش) فرش بنایا سو ہم کیا خوب سنوارنے اور سیدھا کرنے والے ہیں،(48)
وَمِن كُلِّ شَيءٍ خَلَقنا زَوجَينِ لَعَلَّكُم تَذَكَّرونَ(49)
اور ہم نے ہر چیز سے دو جوڑے پیدا فرمائے تاکہ تم دھیان کرو اور سمجھو،(49)
فَفِرّوا إِلَى اللَّهِ ۖ إِنّى لَكُم مِنهُ نَذيرٌ مُبينٌ(50)
پس تم اﷲ کی طرف دوڑ چلو، بیشک میں اُس کی طرف سے تمہیں کھلا ڈر سنانے والا ہوں،(50)
وَلا تَجعَلوا مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ ۖ إِنّى لَكُم مِنهُ نَذيرٌ مُبينٌ(51)
اور اﷲ کے سوا کوئی دوسرا معبود نہ بناؤ، بیشک میں اس کی جانب سے تمہیں کھلا ڈر سنانے والا ہوں،(51)
كَذٰلِكَ ما أَتَى الَّذينَ مِن قَبلِهِم مِن رَسولٍ إِلّا قالوا ساحِرٌ أَو مَجنونٌ(52)
اسی طرح اُن سے پہلے لوگوں کے پاس بھی کوئی رسول نہیں آیا مگر انہوں نے یہی کہا کہ (یہ) جادوگر ہے یا دیوانہ ہے،(52)
أَتَواصَوا بِهِ ۚ بَل هُم قَومٌ طاغونَ(53)
کیا وہ لوگ ایک دوسرے کواس بات کی وصیت کرتے رہے؟ بلکہ وہ (سب) سرکش و باغی لوگ تھے،(53)
فَتَوَلَّ عَنهُم فَما أَنتَ بِمَلومٍ(54)
سو آپ اُن سے نظرِ التفات ہٹا لیں پس آپ پر (اُن کے ایمان نہ لانے کی) کوئی ملامت نہیں ہے،(54)
وَذَكِّر فَإِنَّ الذِّكرىٰ تَنفَعُ المُؤمِنينَ(55)
اور آپ نصیحت کرتے رہیں کہ بیشک نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے،(55)
وَما خَلَقتُ الجِنَّ وَالإِنسَ إِلّا لِيَعبُدونِ(56)
اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اسی لئے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں،(56)
ما أُريدُ مِنهُم مِن رِزقٍ وَما أُريدُ أَن يُطعِمونِ(57)
نہ میں اُن سے رِزق (یعنی کمائی) طلب کرتا ہوں اور نہ اس کا طلب گار ہوں کہ وہ مجھے (کھانا) کھلائیں،(57)
إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتينُ(58)
بیشک اﷲ ہی ہر ایک کا روزی رساں ہے، بڑی قوت والا ہے، زبردست مضبوط ہے (اسے کسی کی مدد و تعاون کی حاجت نہیں)،(58)
فَإِنَّ لِلَّذينَ ظَلَموا ذَنوبًا مِثلَ ذَنوبِ أَصحٰبِهِم فَلا يَستَعجِلونِ(59)
پس ان ظالموں کے لئے (بھی) حصۂ عذاب مقرّر ہے ان کے (پہلے گزرے ہوئے) ساتھیوں کے حصۂ عذاب کی طرح، سو وہ مجھ سے جلدی طلب نہ کریں،(59)
فَوَيلٌ لِلَّذينَ كَفَروا مِن يَومِهِمُ الَّذى يوعَدونَ(60)
سو کافروں کے لئے اُن کے اُس دِن میں بڑی تباہی ہے جس کا اُن سے وعدہ کیا جا رہا ہے،(60)