At-Tur( الطور)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَالطّورِ(1)
(کوہِ) طُور کی قَسم،(1)
وَكِتٰبٍ مَسطورٍ(2)
اور لکھی ہوئی کتاب کی قَسم،(2)
فى رَقٍّ مَنشورٍ(3)
(جو) کھلے صحیفہ میں (ہے)،(3)
وَالبَيتِ المَعمورِ(4)
اور (فرشتوں سے) آباد گھر (یعنی آسمانی کعبہ) کی قَسم،(4)
وَالسَّقفِ المَرفوعِ(5)
اور اونچی چھت (یعنی بلند آسمان یا عرشِ معلٰی) کی قَسم،(5)
وَالبَحرِ المَسجورِ(6)
اور اُبلتے ہوئے سمندر کی قَسم،(6)
إِنَّ عَذابَ رَبِّكَ لَوٰقِعٌ(7)
بیشک آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا،(7)
ما لَهُ مِن دافِعٍ(8)
اسے کوئی دفع کرنے والا نہیں،(8)
يَومَ تَمورُ السَّماءُ مَورًا(9)
جس دن آسمان سخت تھر تھراہٹ کے ساتھ لرزے گا،(9)
وَتَسيرُ الجِبالُ سَيرًا(10)
اور پہاڑ (اپنی جگہ چھوڑ کر بادلوں کی طرح) تیزی سے اڑنے اور (ذرّات کی طرح) بکھرنے لگیں گے،(10)
فَوَيلٌ يَومَئِذٍ لِلمُكَذِّبينَ(11)
سو اُس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے،(11)
الَّذينَ هُم فى خَوضٍ يَلعَبونَ(12)
جو باطل (بے ہودگی) میں پڑے غفلت کا کھیل کھیل رہے ہیں،(12)
يَومَ يُدَعّونَ إِلىٰ نارِ جَهَنَّمَ دَعًّا(13)
جس دن کو وہ دھکیل دھکیل کر آتشِ دوزخ کی طرف لائے جائیں گے،(13)
هٰذِهِ النّارُ الَّتى كُنتُم بِها تُكَذِّبونَ(14)
(اُن سے کہا جائے گا:) یہ ہے وہ جہنّم کی آگ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے،(14)
أَفَسِحرٌ هٰذا أَم أَنتُم لا تُبصِرونَ(15)
سو کیا یہ جادو ہے یا تمہیں دکھائی نہیں دیتا،(15)
اصلَوها فَاصبِروا أَو لا تَصبِروا سَواءٌ عَلَيكُم ۖ إِنَّما تُجزَونَ ما كُنتُم تَعمَلونَ(16)
اس میں داخل ہو جاؤ، پھر تم صبر کرو یا صبر نہ کرو، تم پر برابر ہے، تمہیں صرف انہی کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے،(16)
إِنَّ المُتَّقينَ فى جَنّٰتٍ وَنَعيمٍ(17)
بیشک متّقی لوگ بہشتوں اور نعمتوں میں ہوں گے،(17)
فٰكِهينَ بِما ءاتىٰهُم رَبُّهُم وَوَقىٰهُم رَبُّهُم عَذابَ الجَحيمِ(18)
خوش اور لطف اندوز ہوں گے اُن (عطاؤں) سے جن سے اُن کے رب نے انہیں نوازا ہوگا، اور اُن کا رب انہیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے گا،(18)
كُلوا وَاشرَبوا هَنيـًٔا بِما كُنتُم تَعمَلونَ(19)
(اُن سے کہا جائے گا:) تم اُن (نیک) اعمال کے صلہ میں جو تم کرتے رہے تھے خوب مزے سے کھاؤ اور پیو،(19)
مُتَّكِـٔينَ عَلىٰ سُرُرٍ مَصفوفَةٍ ۖ وَزَوَّجنٰهُم بِحورٍ عينٍ(20)
وہ صف در صف بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے، اور ہم گوری رنگت (اور) دلکش آنکھوں والی حوروں کو اُن کی زوجیت میں دے دیں گے،(20)
وَالَّذينَ ءامَنوا وَاتَّبَعَتهُم ذُرِّيَّتُهُم بِإيمٰنٍ أَلحَقنا بِهِم ذُرِّيَّتَهُم وَما أَلَتنٰهُم مِن عَمَلِهِم مِن شَيءٍ ۚ كُلُّ امرِئٍ بِما كَسَبَ رَهينٌ(21)
اور جو لوگ ایمان لائے اور اُن کی اولاد نے ایمان میں اُن کی پیروی کی، ہم اُن کی اولاد کو (بھی) (درجاتِ جنت میں) اُن کے ساتھ ملا دیں گے (خواہ اُن کے اپنے عمل اس درجہ کے نہ بھی ہوں یہ صرف اُن کے صالح آباء کے اکرام میں ہوگا) اور ہم اُن (صالح آباء) کے ثوابِ اعمال سے بھی کوئی کمی نہیں کریں گے، (علاوہ اِس کے) ہر شخص اپنے ہی عمل (کی جزا و سزا) میں گرفتار ہوگا،(21)
وَأَمدَدنٰهُم بِفٰكِهَةٍ وَلَحمٍ مِمّا يَشتَهونَ(22)
اور ہم انہیں پھل (میوے) اور گوشت، جو وہ چاہیں گے زیادہ سے زیادہ دیتے رہیں گے،(22)
يَتَنٰزَعونَ فيها كَأسًا لا لَغوٌ فيها وَلا تَأثيمٌ(23)
وہاں یہ لوگ جھپٹ جھپٹ کر (شرابِ طہور کے) جام لیں گے، اس (شرابِ جنت) میں نہ کوئی بے ہودہ گوئی ہوگی اور نہ گناہ گاری ہوگی،(23)
۞ وَيَطوفُ عَلَيهِم غِلمانٌ لَهُم كَأَنَّهُم لُؤلُؤٌ مَكنونٌ(24)
اور نوجوان (خدمت گزار) اُن کے اِردگرد گھومتے ہوں گے، گویا وہ غلاف میں چھپائے ہوئے موتی ہیں،(24)
وَأَقبَلَ بَعضُهُم عَلىٰ بَعضٍ يَتَساءَلونَ(25)
اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باہم پرسشِ احوال کریں گے،(25)
قالوا إِنّا كُنّا قَبلُ فى أَهلِنا مُشفِقينَ(26)
وہ کہیں گے: بیشک ہم اس سے پہلے اپنے گھروں میں (عذابِ الٰہی سے) ڈرتے رہتے تھے،(26)
فَمَنَّ اللَّهُ عَلَينا وَوَقىٰنا عَذابَ السَّمومِ(27)
پس اﷲ نے ہم پر احسان فرما دیا اور ہمیں نارِ جہنّم کے عذاب سے بچا لیا،(27)
إِنّا كُنّا مِن قَبلُ نَدعوهُ ۖ إِنَّهُ هُوَ البَرُّ الرَّحيمُ(28)
بیشک ہم پہلے سے ہی اُسی کی عبادت کیا کرتے تھے، بیشک وہ احسان فرمانے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے،(28)
فَذَكِّر فَما أَنتَ بِنِعمَتِ رَبِّكَ بِكاهِنٍ وَلا مَجنونٍ(29)
سو (اے حبیبِ مکرّم!) آپ نصیحت فرماتے رہیں پس آپ اپنے رب کے فضل و کرم سے نہ تو کاہن (یعنی جنّات کے ذریعے خبریں دینے والے) ہیں اور نہ دیوانے،(29)
أَم يَقولونَ شاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِهِ رَيبَ المَنونِ(30)
کیا (کفّار) کہتے ہیں: (یہ) شاعر ہیں؟ ہم اِن کے حق میں حوادثِ زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں؟،(30)
قُل تَرَبَّصوا فَإِنّى مَعَكُم مِنَ المُتَرَبِّصينَ(31)
فرما دیجئے: تم (بھی) منتظر رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ (تمہاری ہلاکت کا) انتظار کرنے والوں میں ہوں،(31)
أَم تَأمُرُهُم أَحلٰمُهُم بِهٰذا ۚ أَم هُم قَومٌ طاغونَ(32)
کیا اُن کی عقلیں انہیں یہ (بے عقلی کی باتیں) سُجھاتی ہیں یا وہ سرکش و باغی لوگ ہیں،(32)
أَم يَقولونَ تَقَوَّلَهُ ۚ بَل لا يُؤمِنونَ(33)
یا وہ کہتے ہیں کہ اس (رسول) نے اس (قرآن) کو اَزخود گھڑ لیا ہے، (ایسا نہیں) بلکہ وہ (حق کو) مانتے ہی نہیں ہیں،(33)
فَليَأتوا بِحَديثٍ مِثلِهِ إِن كانوا صٰدِقينَ(34)
پس انہیں چاہئے کہ اِس (قرآن) جیسا کوئی کلام لے آئیں اگر وہ سچے ہیں،(34)
أَم خُلِقوا مِن غَيرِ شَيءٍ أَم هُمُ الخٰلِقونَ(35)
کیا وہ کسی شے کے بغیر ہی پیدا کر دیئے گئے ہیں یا وہ خود ہی خالق ہیں،(35)
أَم خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ ۚ بَل لا يوقِنونَ(36)
یا انہوں نے ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، (ایسا نہیں) بلکہ وہ (حق بات پر) یقین ہی نہیں رکھتے،(36)
أَم عِندَهُم خَزائِنُ رَبِّكَ أَم هُمُ المُصَۣيطِرونَ(37)
یا اُن کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں یا وہ اُن پر نگران (اور) داروغے ہیں،(37)
أَم لَهُم سُلَّمٌ يَستَمِعونَ فيهِ ۖ فَليَأتِ مُستَمِعُهُم بِسُلطٰنٍ مُبينٍ(38)
یا اُن کے پاس کوئی سیڑھی ہے (جس پر چڑھ کر) وہ اُس (آسمان) میں کان لگا کر باتیں سن لیتے ہیں؟ سو جو اُن میں سے سننے والا ہے اُسے چاہئے کہ روشن دلیل لائے،(38)
أَم لَهُ البَنٰتُ وَلَكُمُ البَنونَ(39)
کیا اس (خدا) کے لئے بیٹیاں ہیں اور تمہارے لئے بیٹے ہیں،(39)
أَم تَسـَٔلُهُم أَجرًا فَهُم مِن مَغرَمٍ مُثقَلونَ(40)
کیا آپ اُن سے کوئی اُجرت طلب فرماتے ہیں کہ وہ تاوان کے بوجھ سے دبے جا رہے ہیں،(40)
أَم عِندَهُمُ الغَيبُ فَهُم يَكتُبونَ(41)
کیا اُن کے پاس غیب (کا علم) ہے کہ وہ لکھ لیتے ہیں،(41)
أَم يُريدونَ كَيدًا ۖ فَالَّذينَ كَفَروا هُمُ المَكيدونَ(42)
کیا وہ (آپ سے) کوئی چال چلنا چاہتے ہیں، تو جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ خود ہی اپنے دامِ فریب میں پھنسے جا رہے ہیں،(42)
أَم لَهُم إِلٰهٌ غَيرُ اللَّهِ ۚ سُبحٰنَ اللَّهِ عَمّا يُشرِكونَ(43)
کیا اﷲ کے سوا اُن کا کوئی معبود ہے، اﷲ ہر اُس چیز سے پاک ہے جسے وہ (اﷲ کا) شریک ٹھہراتے ہیں،(43)
وَإِن يَرَوا كِسفًا مِنَ السَّماءِ ساقِطًا يَقولوا سَحابٌ مَركومٌ(44)
اور اگر وہ آسمان سے کوئی ٹکڑا (اپنے اوپر) گرتا ہوا دیکھ لیں تو (تب بھی یہ) کہیں گے کہ تہ بہ تہ (گہرا) بادل ہے،(44)
فَذَرهُم حَتّىٰ يُلٰقوا يَومَهُمُ الَّذى فيهِ يُصعَقونَ(45)
سو آپ اُن کو (اُن کے حال پر) چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے آملیں جس میں وہ ہلاک کر دیئے جائیں گے،(45)
يَومَ لا يُغنى عَنهُم كَيدُهُم شَيـًٔا وَلا هُم يُنصَرونَ(46)
جس دِن نہ اُن کا مکر و فریب ان کے کچھ کام آئے گا اور نہ ہی اُن کی مدد کی جائے گے،(46)
وَإِنَّ لِلَّذينَ ظَلَموا عَذابًا دونَ ذٰلِكَ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ(47)
اور بیشک جو لوگ ظلم کر رہے ہیں اُن کے لئے اس عذاب کے علاوہ بھی عذاب ہے، لیکن اُن میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں،(47)
وَاصبِر لِحُكمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعيُنِنا ۖ وَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّكَ حينَ تَقومُ(48)
اور (اے حبیبِ مکرّم! اِن کی باتوں سے غم زدہ نہ ہوں) آپ اپنے رب کے حکم کی خاطر صبر جاری رکھئے بیشک آپ (ہر وقت) ہماری آنکھوں کے سامنے (رہتے) ہیں٭ اور آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے جب بھی آپ کھڑے ہوں، ٭ اگر ان ظالموں نے نگاہیں پھیر لی ہیں تو کیا ہوا، ہم تو آپ کی طرف سے نگاہیں ہٹاتے ہی نہیں ہیں اور ہم ہر وقت آپ کو ہی تکتے رہتے ہیں۔(48)
وَمِنَ الَّيلِ فَسَبِّحهُ وَإِدبٰرَ النُّجومِ(49)
اور رات کے اوقات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے اور (پچھلی رات بھی) جب ستارے چھپتے ہیں،(49)