At-Tauba( التوبة)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بَراءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسولِهِ إِلَى الَّذينَ عٰهَدتُم مِنَ المُشرِكينَ(1)
اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے بے زاری (و دست برداری) کا اعلان ہے ان مشرک لوگوں کی طرف جن سے تم نے (صلح و امن کا) معاہدہ کیا تھا (اور وہ اپنے عہد پر قائم نہ رہے تھے)،(1)
فَسيحوا فِى الأَرضِ أَربَعَةَ أَشهُرٍ وَاعلَموا أَنَّكُم غَيرُ مُعجِزِى اللَّهِ ۙ وَأَنَّ اللَّهَ مُخزِى الكٰفِرينَ(2)
پس (اے مشرکو!) تم زمین میں چار ماہ (تک) گھوم پھر لو (اس مہلت کے اختتام پر تمہیں جنگ کا سامنا کرنا ہوگا) اور جان لو کہ تم اللہ کو ہرگز عاجز نہیں کر سکتے اور بیشک اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے،(2)
وَأَذٰنٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسولِهِ إِلَى النّاسِ يَومَ الحَجِّ الأَكبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَريءٌ مِنَ المُشرِكينَ ۙ وَرَسولُهُ ۚ فَإِن تُبتُم فَهُوَ خَيرٌ لَكُم ۖ وَإِن تَوَلَّيتُم فَاعلَموا أَنَّكُم غَيرُ مُعجِزِى اللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ الَّذينَ كَفَروا بِعَذابٍ أَليمٍ(3)
(یہ آیات) اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے تمام لوگوں کی طرف حجِ اکبر کے دن اعلانِ (عام) ہے کہ اللہ مشرکوں سے بے زار ہے اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی (ان سے بری الذمّہ ہے)، پس (اے مشرکو!) اگر تم توبہ کر لو تو وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر تم نے روگردانی کی تو جان لو کہ تم ہرگز اللہ کو عاجز نہ کر سکو گے، اور (اے حبیب!) آپ کافروں کو دردناک عذاب کی خبر سنا دیں،(3)
إِلَّا الَّذينَ عٰهَدتُم مِنَ المُشرِكينَ ثُمَّ لَم يَنقُصوكُم شَيـًٔا وَلَم يُظٰهِروا عَلَيكُم أَحَدًا فَأَتِمّوا إِلَيهِم عَهدَهُم إِلىٰ مُدَّتِهِم ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُتَّقينَ(4)
سوائے ان مشرکوں کے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر انہوں نے تمہارے ساتھ (اپنے عہد کو پورا کرنے میں) کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے مقابلہ پر کسی کی مدد (یا پشت پناہی) کی سو تم ان کے عہد کو ان کی مقررہ مدت تک ان کے ساتھ پورا کرو، بیشک اللہ پرہیزگاروں کو پسند فرماتا ہے،(4)
فَإِذَا انسَلَخَ الأَشهُرُ الحُرُمُ فَاقتُلُوا المُشرِكينَ حَيثُ وَجَدتُموهُم وَخُذوهُم وَاحصُروهُم وَاقعُدوا لَهُم كُلَّ مَرصَدٍ ۚ فَإِن تابوا وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ وَءاتَوُا الزَّكوٰةَ فَخَلّوا سَبيلَهُم ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ(5)
پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو تم (حسبِ اعلان) مشرکوں کو قتل کر دو جہاں کہیں بھی تم ان کو پاؤ اور انہیں گرفتار کر لو اور انہیں قید کر دو اور انہیں (پکڑنے اور گھیرنے کے لئے) ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھو، پس اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(5)
وَإِن أَحَدٌ مِنَ المُشرِكينَ استَجارَكَ فَأَجِرهُ حَتّىٰ يَسمَعَ كَلٰمَ اللَّهِ ثُمَّ أَبلِغهُ مَأمَنَهُ ۚ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم قَومٌ لا يَعلَمونَ(6)
اور اگر مشرکوں میں سے کوئی بھی آپ سے پناہ کا خواست گار ہو تو اسے پناہ دے دیں تاآنکہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر آپ اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دیں، یہ اس لئے کہ وہ لوگ (حق کا) علم نہیں رکھتے،(6)
كَيفَ يَكونُ لِلمُشرِكينَ عَهدٌ عِندَ اللَّهِ وَعِندَ رَسولِهِ إِلَّا الَّذينَ عٰهَدتُم عِندَ المَسجِدِ الحَرامِ ۖ فَمَا استَقٰموا لَكُم فَاستَقيموا لَهُم ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُتَّقينَ(7)
(بھلا) مشرکوں کے لئے اللہ کے ہاں اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں کوئی عہد کیوں کر ہو سکتا ہے؟ سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجدِ حرام کے پاس (حدیبیہ میں) معاہدہ کیا ہے سو جب تک وہ تمہارے ساتھ (عہد پر) قائم رہیں تم ان کے ساتھ قائم رہو۔ بیشک اللہ پرہیزگاروں کو پسند فرماتا ہے،(7)
كَيفَ وَإِن يَظهَروا عَلَيكُم لا يَرقُبوا فيكُم إِلًّا وَلا ذِمَّةً ۚ يُرضونَكُم بِأَفوٰهِهِم وَتَأبىٰ قُلوبُهُم وَأَكثَرُهُم فٰسِقونَ(8)
(بھلا ان سے عہد کی پاسداری کی توقع) کیونکر ہو، ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر تم پر غلبہ پا جائیں تو نہ تمہارے حق میں کسی قرابت کا لحاظ کریں اور نہ کسی عہد کا، وہ تمہیں اپنے مونہہ سے تو راضی رکھتے ہیں اور ان کے دل (ان باتوں سے) انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر عہد شکن ہیں،(8)
اشتَرَوا بِـٔايٰتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَليلًا فَصَدّوا عَن سَبيلِهِ ۚ إِنَّهُم ساءَ ما كانوا يَعمَلونَ(9)
انہوں نے آیاتِ الٰہی کے بدلے (دنیوی مفاد کی) تھوڑی سی قیمت حاصل کر لی پھر اس (کے دین) کی راہ سے (لوگوں کو) روکنے لگے، بیشک بہت ہی برا کام ہے جو وہ کرتے رہتے ہیں،(9)
لا يَرقُبونَ فى مُؤمِنٍ إِلًّا وَلا ذِمَّةً ۚ وَأُولٰئِكَ هُمُ المُعتَدونَ(10)
نہ وہ کسی مسلمان کے حق میں قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ عہد کا، اور وہی لوگ (سرکشی میں) حد سے بڑھنے والے ہیں،(10)
فَإِن تابوا وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ وَءاتَوُا الزَّكوٰةَ فَإِخوٰنُكُم فِى الدّينِ ۗ وَنُفَصِّلُ الءايٰتِ لِقَومٍ يَعلَمونَ(11)
پھر (بھی) اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو (وہ) دین میں تمہارے بھائی ہیں، اور ہم (اپنی) آیتیں ان لوگوں کے لئے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو علم و دانش رکھتے ہیں،(11)
وَإِن نَكَثوا أَيمٰنَهُم مِن بَعدِ عَهدِهِم وَطَعَنوا فى دينِكُم فَقٰتِلوا أَئِمَّةَ الكُفرِ ۙ إِنَّهُم لا أَيمٰنَ لَهُم لَعَلَّهُم يَنتَهونَ(12)
اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قََسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو تم (ان) کفر کے سرغنوں سے جنگ کرو بیشک ان کی قَسموں کا کوئی اعتبار نہیں تاکہ وہ (اپنی فتنہ پروری سے) باز آجائیں،(12)
أَلا تُقٰتِلونَ قَومًا نَكَثوا أَيمٰنَهُم وَهَمّوا بِإِخراجِ الرَّسولِ وَهُم بَدَءوكُم أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ أَتَخشَونَهُم ۚ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخشَوهُ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ(13)
کیا تم ایسی قوم سے جنگ نہیں کرو گے جنہوں نے اپنی قََسمیں توڑ ڈالیں اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جلاوطن کرنے کا ارادہ کیا حالانکہ پہلی مرتبہ انہوں نے تم سے (عہد شکنی اور جنگ کی) ابتداء کی، کیا تم ان سے ڈرتے ہو جبکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو بشرطیکہ تم مومن ہو،(13)
قٰتِلوهُم يُعَذِّبهُمُ اللَّهُ بِأَيديكُم وَيُخزِهِم وَيَنصُركُم عَلَيهِم وَيَشفِ صُدورَ قَومٍ مُؤمِنينَ(14)
تم ان سے جنگ کرو، اللہ تمہارے ہاتھوں انہیں عذاب دے گا اور انہیں رسوا کرے گا اور ان (کے مقابلہ) پر تمہاری مدد فرمائے گا اور ایمان والوں کے سینوں کو شفا بخشے گا،(14)
وَيُذهِب غَيظَ قُلوبِهِم ۗ وَيَتوبُ اللَّهُ عَلىٰ مَن يَشاءُ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ(15)
اور ان کے دلوں کا غم و غصہ دور فرمائے گا اور جس کی چاہے گا توبہ قبول فرمائے گا، اور اللہ بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے،(15)
أَم حَسِبتُم أَن تُترَكوا وَلَمّا يَعلَمِ اللَّهُ الَّذينَ جٰهَدوا مِنكُم وَلَم يَتَّخِذوا مِن دونِ اللَّهِ وَلا رَسولِهِ وَلَا المُؤمِنينَ وَليجَةً ۚ وَاللَّهُ خَبيرٌ بِما تَعمَلونَ(16)
کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم (مصائب و مشکلات سے گزرے بغیر یونہی) چھوڑ دیئے جاؤ گے حالانکہ (ابھی) اللہ نے ایسے لوگوں کو متمیّز نہیں فرمایا جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہے اور (جنہوں نے) اللہ کے سوا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا اور اہلِ ایمان کے سوا (کسی کو) محرمِ راز نہیں بنایا، اور اللہ ان کاموں سے خوب آگاہ ہے جو تم کرتے ہو،(16)
ما كانَ لِلمُشرِكينَ أَن يَعمُروا مَسٰجِدَ اللَّهِ شٰهِدينَ عَلىٰ أَنفُسِهِم بِالكُفرِ ۚ أُولٰئِكَ حَبِطَت أَعمٰلُهُم وَفِى النّارِ هُم خٰلِدونَ(17)
مشرکوں کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں درآنحالیکہ وہ خود اپنے اوپر کفر کے گواہ ہیں، ان لوگوں کے تمام اعمال باطل ہو چکے ہیں اور وہ ہمیشہ دوزخ ہی میں رہنے والے ہیں،(17)
إِنَّما يَعمُرُ مَسٰجِدَ اللَّهِ مَن ءامَنَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ وَأَقامَ الصَّلوٰةَ وَءاتَى الزَّكوٰةَ وَلَم يَخشَ إِلَّا اللَّهَ ۖ فَعَسىٰ أُولٰئِكَ أَن يَكونوا مِنَ المُهتَدينَ(18)
اللہ کی مسجدیں صرف وہی آباد کر سکتا ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لایا اور اس نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا (کسی سے) نہ ڈرا۔ سو امید ہے کہ یہی لوگ ہدایت پانے والوں میں ہو جائیں گے،(18)
۞ أَجَعَلتُم سِقايَةَ الحاجِّ وَعِمارَةَ المَسجِدِ الحَرامِ كَمَن ءامَنَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ وَجٰهَدَ فى سَبيلِ اللَّهِ ۚ لا يَستَوۥنَ عِندَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ(19)
کیا تم نے (محض) حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجدِ حرام کی آبادی و مرمت کا بندوبست کرنے (کے عمل) کو اس شخص کے (اعمال) کے برابر قرار دے رکھا ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لے آیا اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، یہ لوگ اللہ کے حضور برابر نہیں ہو سکتے، اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا،(19)
الَّذينَ ءامَنوا وَهاجَروا وَجٰهَدوا فى سَبيلِ اللَّهِ بِأَموٰلِهِم وَأَنفُسِهِم أَعظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّهِ ۚ وَأُولٰئِكَ هُمُ الفائِزونَ(20)
جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے اموال اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہے وہ اللہ کی بارگاہ میں درجہ کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں، اور وہی لوگ ہی مراد کو پہنچے ہوئے ہیں،(20)
يُبَشِّرُهُم رَبُّهُم بِرَحمَةٍ مِنهُ وَرِضوٰنٍ وَجَنّٰتٍ لَهُم فيها نَعيمٌ مُقيمٌ(21)
ان کا رب انہیں اپنی جانب سے رحمت کی اور (اپنی) رضا کی اور (ان) جنتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لئے دائمی نعمتیں ہیں،(21)
خٰلِدينَ فيها أَبَدًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ أَجرٌ عَظيمٌ(22)
(وہ) ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بیشک اللہ ہی کے پاس بڑا اجر ہے،(22)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذوا ءاباءَكُم وَإِخوٰنَكُم أَولِياءَ إِنِ استَحَبُّوا الكُفرَ عَلَى الإيمٰنِ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِنكُم فَأُولٰئِكَ هُمُ الظّٰلِمونَ(23)
اے ایمان والو! تم اپنے باپ (دادا) اور بھائیوں کو بھی دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو محبوب رکھتے ہوں، اور تم میں سے جو شخص بھی انہیں دوست رکھے گا سو وہی لوگ ظالم ہیں،(23)
قُل إِن كانَ ءاباؤُكُم وَأَبناؤُكُم وَإِخوٰنُكُم وَأَزوٰجُكُم وَعَشيرَتُكُم وَأَموٰلٌ اقتَرَفتُموها وَتِجٰرَةٌ تَخشَونَ كَسادَها وَمَسٰكِنُ تَرضَونَها أَحَبَّ إِلَيكُم مِنَ اللَّهِ وَرَسولِهِ وَجِهادٍ فى سَبيلِهِ فَتَرَبَّصوا حَتّىٰ يَأتِىَ اللَّهُ بِأَمرِهِ ۗ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الفٰسِقينَ(24)
(اے نبی مکرم!) آپ فرما دیں: اگر تمہارے باپ (دادا) اور تمہارے بیٹے (بیٹیاں) اور تمہارے بھائی (بہنیں) اور تمہاری بیویاں اور تمہارے (دیگر) رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے (محنت سے) کمائے اور تجارت و کاروبار جس کے نقصان سے تم ڈرتے رہتے ہو اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکمِ (عذاب) لے آئے، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا،(24)
لَقَد نَصَرَكُمُ اللَّهُ فى مَواطِنَ كَثيرَةٍ ۙ وَيَومَ حُنَينٍ ۙ إِذ أَعجَبَتكُم كَثرَتُكُم فَلَم تُغنِ عَنكُم شَيـًٔا وَضاقَت عَلَيكُمُ الأَرضُ بِما رَحُبَت ثُمَّ وَلَّيتُم مُدبِرينَ(25)
بیشک اللہ نے بہت سے مقامات میں تمہاری مدد فرمائی اور (خصوصاً) حنین کے دن جب تمہاری (افرادی قوت کی) کثرت نے تمہیں نازاں بنا دیا تھا پھر وہ (کثرت) تمہیں کچھ بھی نفع نہ دے سکی اور زمین باوجود اس کے کہ وہ فراخی رکھتی تھی، تم پر تنگ ہو گئی چنانچہ تم پیٹھ دکھاتے ہوئے پھر گئے،(25)
ثُمَّ أَنزَلَ اللَّهُ سَكينَتَهُ عَلىٰ رَسولِهِ وَعَلَى المُؤمِنينَ وَأَنزَلَ جُنودًا لَم تَرَوها وَعَذَّبَ الَّذينَ كَفَروا ۚ وَذٰلِكَ جَزاءُ الكٰفِرينَ(26)
پھر اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور ایمان والوں پر اپنی تسکین (رحمت) نازل فرمائی اور اس نے (ملائکہ کے ایسے) لشکر اتارے جنہیں تم نہ دیکھ سکے اور اس نے ان لوگوں کو عذاب دیا جو کفر کر رہے تھے، اور یہی کافروں کی سزا ہے،(26)
ثُمَّ يَتوبُ اللَّهُ مِن بَعدِ ذٰلِكَ عَلىٰ مَن يَشاءُ ۗ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ(27)
پھر اللہ اس کے بعد بھی جس کی چاہتا ہے توبہ قبول فرماتا ہے (یعنی اسے توفیقِ اسلام اور توجہِ رحمت سے نوازتا ہے)، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(27)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِنَّمَا المُشرِكونَ نَجَسٌ فَلا يَقرَبُوا المَسجِدَ الحَرامَ بَعدَ عامِهِم هٰذا ۚ وَإِن خِفتُم عَيلَةً فَسَوفَ يُغنيكُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ إِن شاءَ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَليمٌ حَكيمٌ(28)
اے ایمان والو! مشرکین تو سراپا نجاست ہیں سو وہ اپنے اس سال کے بعد (یعنی فتحِ مکہ کے بعد ۹ ھ سے) مسجدِ حرام کے قریب نہ آنے پائیں، اور اگر تمہیں (تجارت میں کمی کے باعث) مفلسی کا ڈر ہے تو (گھبراؤ نہیں) عنقریب اللہ اگر چاہے گا تو تمہیں اپنے فضل سے مال دار کر دے گا، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،(28)
قٰتِلُوا الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَلا بِاليَومِ الءاخِرِ وَلا يُحَرِّمونَ ما حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسولُهُ وَلا يَدينونَ دينَ الحَقِّ مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ حَتّىٰ يُعطُوا الجِزيَةَ عَن يَدٍ وَهُم صٰغِرونَ(29)
(اے مسلمانو!) تم اہلِ کتاب میں سے ان لوگوں کے ساتھ (بھی) جنگ کرو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یومِ آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی دینِ حق (یعنی اسلام) اختیار کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ (حکمِ اسلام کے سامنے) تابع و مغلوب ہو کر اپنے ہاتھ سے خراج ادا کریں،(29)
وَقالَتِ اليَهودُ عُزَيرٌ ابنُ اللَّهِ وَقالَتِ النَّصٰرَى المَسيحُ ابنُ اللَّهِ ۖ ذٰلِكَ قَولُهُم بِأَفوٰهِهِم ۖ يُضٰهِـٔونَ قَولَ الَّذينَ كَفَروا مِن قَبلُ ۚ قٰتَلَهُمُ اللَّهُ ۚ أَنّىٰ يُؤفَكونَ(30)
اور یہود نے کہا: عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور نصارٰی نے کہا: مسیح (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کا (لغو) قول ہے جو اپنے مونہہ سے نکالتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے قول سے مشابہت (اختیار) کرتے ہیں جو (ان سے) پہلے کفر کر چکے ہیں، اللہ انہیں ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں،(30)
اتَّخَذوا أَحبارَهُم وَرُهبٰنَهُم أَربابًا مِن دونِ اللَّهِ وَالمَسيحَ ابنَ مَريَمَ وَما أُمِروا إِلّا لِيَعبُدوا إِلٰهًا وٰحِدًا ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۚ سُبحٰنَهُ عَمّا يُشرِكونَ(31)
انہوں نے اللہ کے سوا اپنے عالموں اور زاہدوں کو رب بنا لیا تھا اور مریم کے بیٹے مسیح (علیہ السلام) کو (بھی) حالانکہ انہیں بجز اس کے (کوئی) حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اکیلے ایک (ہی) معبود کی عبادت کریں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ان سے پاک ہے جنہیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں،(31)
يُريدونَ أَن يُطفِـٔوا نورَ اللَّهِ بِأَفوٰهِهِم وَيَأبَى اللَّهُ إِلّا أَن يُتِمَّ نورَهُ وَلَو كَرِهَ الكٰفِرونَ(32)
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ (یہ بات) قبول نہیں فرماتا مگر یہ (چاہتا ہے) کہ وہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا دے اگرچہ کفار (اسے) ناپسند ہی کریں،(32)
هُوَ الَّذى أَرسَلَ رَسولَهُ بِالهُدىٰ وَدينِ الحَقِّ لِيُظهِرَهُ عَلَى الدّينِ كُلِّهِ وَلَو كَرِهَ المُشرِكونَ(33)
وہی (اللہ) ہے جس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہر دین (والے) پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین کو برا لگے،(33)
۞ يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِنَّ كَثيرًا مِنَ الأَحبارِ وَالرُّهبانِ لَيَأكُلونَ أَموٰلَ النّاسِ بِالبٰطِلِ وَيَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ ۗ وَالَّذينَ يَكنِزونَ الذَّهَبَ وَالفِضَّةَ وَلا يُنفِقونَها فى سَبيلِ اللَّهِ فَبَشِّرهُم بِعَذابٍ أَليمٍ(34)
اے ایمان والو! بیشک (اہلِ کتاب کے) اکثر علماء اور درویش، لوگوں کے مال ناحق (طریقے سے) کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں (یعنی لوگوں کے مال سے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں اور دینِ حق کی تقویت و اشاعت پر خرچ کئے جانے سے روکتے ہیں)، اور جو لوگ سونا اور چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں دردناک عذاب کی خبر سنا دیں،(34)
يَومَ يُحمىٰ عَلَيها فى نارِ جَهَنَّمَ فَتُكوىٰ بِها جِباهُهُم وَجُنوبُهُم وَظُهورُهُم ۖ هٰذا ما كَنَزتُم لِأَنفُسِكُم فَذوقوا ما كُنتُم تَكنِزونَ(35)
جس دن اس (سونے، چاندی اور مال) پر دوزخ کی آگ میں تاپ دی جائے گی پھر اس (تپے ہوئے مال) سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی، (اور ان سے کہا جائے گا) کہ یہ وہی (مال) ہے جو تم نے اپنی جانوں (کے مفاد) کے لئے جمع کیا تھا سو تم (اس مال کا) مزہ چکھو جسے تم جمع کرتے رہے تھے،(35)
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهورِ عِندَ اللَّهِ اثنا عَشَرَ شَهرًا فى كِتٰبِ اللَّهِ يَومَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ مِنها أَربَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذٰلِكَ الدّينُ القَيِّمُ ۚ فَلا تَظلِموا فيهِنَّ أَنفُسَكُم ۚ وَقٰتِلُوا المُشرِكينَ كافَّةً كَما يُقٰتِلونَكُم كافَّةً ۚ وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ مَعَ المُتَّقينَ(36)
بیشک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب (یعنی نوشتۂ قدرت) میں بارہ مہینے (لکھی) ہے جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین (کے نظام) کو پیدا فرمایا تھا ان میں سے چار مہینے (رجب، ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم) حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے سو تم ان مہینوں میں (ازخود جنگ و قتال میں ملوث ہو کر) اپنی جانوں پر ظلم نہ کرنا اور تم (بھی) تمام مشرکین سے اسی طرح (جوابی) جنگ کیا کرو جس طرح وہ سب کے سب (اکٹھے ہو کر) تم سے جنگ کرتے ہیں، اور جان لو کہ بیشک اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے،(36)
إِنَّمَا النَّسيءُ زِيادَةٌ فِى الكُفرِ ۖ يُضَلُّ بِهِ الَّذينَ كَفَروا يُحِلّونَهُ عامًا وَيُحَرِّمونَهُ عامًا لِيُواطِـٔوا عِدَّةَ ما حَرَّمَ اللَّهُ فَيُحِلّوا ما حَرَّمَ اللَّهُ ۚ زُيِّنَ لَهُم سوءُ أَعمٰلِهِم ۗ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الكٰفِرينَ(37)
(حرمت والے مہینوں کو) آگے پیچھے ہٹا دینا محض کفر میں زیادتی ہے اس سے وہ کافر لوگ بہکائے جاتے ہیں جو اسے ایک سال حلال گردانتے ہیں اور دوسرے سال اسے حرام ٹھہرا لیتے ہیں تاکہ ان (مہینوں) کا شمار پورا کر دیں جنہیں اللہ نے حرمت بخشی ہے اور اس (مہینے) کو حلال (بھی) کر دیں جسے اللہ نے حرام فرمایا ہے۔ ان کے لئے ان کے برے اعمال خوش نما بنا دیئے گئے ہیں اور اللہ کافروں کے گروہ کو ہدایت نہیں فرماتا،(37)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا ما لَكُم إِذا قيلَ لَكُمُ انفِروا فى سَبيلِ اللَّهِ اثّاقَلتُم إِلَى الأَرضِ ۚ أَرَضيتُم بِالحَيوٰةِ الدُّنيا مِنَ الءاخِرَةِ ۚ فَما مَتٰعُ الحَيوٰةِ الدُّنيا فِى الءاخِرَةِ إِلّا قَليلٌ(38)
اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں (جہاد کے لئے) نکلو تو تم بوجھل ہو کر زمین (کی مادی و سفلی دنیا) کی طرف جھک جاتے ہو، کیا تم آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی سے راضی ہو گئے ہو؟ سو آخرت (کے مقابلہ) میں دنیوی زندگی کا ساز و سامان کچھ بھی نہیں مگر بہت ہی کم (حیثیت رکھتا ہے)،(38)
إِلّا تَنفِروا يُعَذِّبكُم عَذابًا أَليمًا وَيَستَبدِل قَومًا غَيرَكُم وَلا تَضُرّوهُ شَيـًٔا ۗ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(39)
اگر تم (جہاد کے لئے) نہ نکلو گے تو وہ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا فرمائے گا اور تمہاری جگہ (کسی) اور قوم کو لے آئے گا اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکو گے، اور اللہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے،(39)
إِلّا تَنصُروهُ فَقَد نَصَرَهُ اللَّهُ إِذ أَخرَجَهُ الَّذينَ كَفَروا ثانِىَ اثنَينِ إِذ هُما فِى الغارِ إِذ يَقولُ لِصٰحِبِهِ لا تَحزَن إِنَّ اللَّهَ مَعَنا ۖ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكينَتَهُ عَلَيهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنودٍ لَم تَرَوها وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذينَ كَفَرُوا السُّفلىٰ ۗ وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِىَ العُليا ۗ وَاللَّهُ عَزيزٌ حَكيمٌ(40)
اگر تم ان کی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلبۂ اسلام کی جد و جہد میں) مدد نہ کرو گے (تو کیا ہوا) سو بیشک اللہ نے ان کو (اس وقت بھی) مدد سے نوازا تھا جب کافروں نے انہیں (وطنِ مکہ سے) نکال دیا تھا درآنحالیکہ وہ دو (ہجرت کرنے والوں) میں سے دوسرے تھے جبکہ دونوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) غارِ (ثور) میں تھے جب وہ اپنے ساتھی (ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے فرما رہے تھے: غمزدہ نہ ہو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے، پس اللہ نے ان پر اپنی تسکین نازل فرما دی اور انہیں (فرشتوں کے) ایسے لشکروں کے ذریعہ قوت بخشی جنہیں تم نہ دیکھ سکے اور اس نے کافروں کی بات کو پست و فروتر کر دیا، اور اللہ کا فرمان تو (ہمیشہ) بلند و بالا ہی ہے، اور اللہ غالب، حکمت والا ہے،(40)
انفِروا خِفافًا وَثِقالًا وَجٰهِدوا بِأَموٰلِكُم وَأَنفُسِكُم فى سَبيلِ اللَّهِ ۚ ذٰلِكُم خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ(41)
تم ہلکے اور گراں بار (ہر حال میں) نکل کھڑے ہو اور اپنے مال و جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم (حقیقت) آشنا ہو،(41)
لَو كانَ عَرَضًا قَريبًا وَسَفَرًا قاصِدًا لَاتَّبَعوكَ وَلٰكِن بَعُدَت عَلَيهِمُ الشُّقَّةُ ۚ وَسَيَحلِفونَ بِاللَّهِ لَوِ استَطَعنا لَخَرَجنا مَعَكُم يُهلِكونَ أَنفُسَهُم وَاللَّهُ يَعلَمُ إِنَّهُم لَكٰذِبونَ(42)
اگر مالِ (غنیمت) قریب الحصول ہوتا اور (جہاد کا) سفر متوسط و آسان تو وہ (منافقین) یقیناً آپ کے پیچھے چل پڑتے لیکن (وہ) پُرمشقّت مسافت انہیں بہت دور دکھائی دی، اور (اب) وہ عنقریب اللہ کی قَسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں استطاعت ہوتی تو ضرور تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوتے، وہ (ان جھوٹی باتوں سے) اپنے آپ کو (مزید) ہلاکت میں ڈال رہے ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ وہ واقعی جھوٹے ہیں،(42)
عَفَا اللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُم حَتّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذينَ صَدَقوا وَتَعلَمَ الكٰذِبينَ(43)
اللہ آپ کو سلامت (اور باعزت و عافیت) رکھے، آپ نے انہیں رخصت (ہی) کیوں دی (کہ وہ شریکِ جنگ نہ ہوں) یہاں تک کہ وہ لوگ (بھی) آپ کے لئے ظاہر ہو جاتے جو سچ بول رہے تھے اور آپ جھوٹ بولنے والوں کو (بھی) معلوم فرما لیتے،(43)
لا يَستَـٔذِنُكَ الَّذينَ يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ أَن يُجٰهِدوا بِأَموٰلِهِم وَأَنفُسِهِم ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ بِالمُتَّقينَ(44)
وہ لوگ جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں آپ سے (اس بات کی) رخصت طلب نہیں کریں گے کہ وہ اپنے مال و جان سے جہاد (نہ) کریں، اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے،(44)
إِنَّما يَستَـٔذِنُكَ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ وَارتابَت قُلوبُهُم فَهُم فى رَيبِهِم يَتَرَدَّدونَ(45)
آپ سے (جہاد میں شریک نہ ہونے کی) رخصت صرف وہی لوگ چاہیں گے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں سو وہ اپنے شک میں حیران و سرگرداں ہیں،(45)
۞ وَلَو أَرادُوا الخُروجَ لَأَعَدّوا لَهُ عُدَّةً وَلٰكِن كَرِهَ اللَّهُ انبِعاثَهُم فَثَبَّطَهُم وَقيلَ اقعُدوا مَعَ القٰعِدينَ(46)
اگر انہوں نے (واقعی جہاد کے لئے) نکلنے کا ارادہ کیا ہوتا تو وہ اس کے لئے (کچھ نہ کچھ) سامان تو ضرور مہیا کر لیتے لیکن (حقیقت یہ ہے کہ ان کے کذب و منافقت کے باعث) اللہ نے ان کا (جہاد کے لئے) کھڑے ہونا (ہی) ناپسند فرمایا سو اس نے انہیں (وہیں) روک دیا اور ان سے کہہ دیا گیا کہ تم (جہاد سے جی چرا کر) بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو،(46)
لَو خَرَجوا فيكُم ما زادوكُم إِلّا خَبالًا وَلَأَوضَعوا خِلٰلَكُم يَبغونَكُمُ الفِتنَةَ وَفيكُم سَمّٰعونَ لَهُم ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ بِالظّٰلِمينَ(47)
اگر وہ تم میں (شامل ہو کر) نکل کھڑے ہوتے تو تمہارے لئے محض شر و فساد ہی بڑھاتے اور تمہارے درمیان (بگاڑ پیدا کرنے کے لئے) دوڑ دھوپ کرتے وہ تمہارے اندر فتنہ بپا کرنا چاہتے ہیں اور تم میں (اب بھی) ان کے (بعض) جاسوس موجود ہیں، اور اللہ ظالموں سے خوب واقف ہے،(47)
لَقَدِ ابتَغَوُا الفِتنَةَ مِن قَبلُ وَقَلَّبوا لَكَ الأُمورَ حَتّىٰ جاءَ الحَقُّ وَظَهَرَ أَمرُ اللَّهِ وَهُم كٰرِهونَ(48)
درحقیقت وہ پہلے بھی فتنہ پردازی میں کوشاں رہے ہیں اور آپ کے کام الٹ پلٹ کرنے کی تدبیریں کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ حق آپہنچا اور اللہ کا حکم غالب ہو گیا اور وہ (اسے) ناپسند ہی کرتے رہے،(48)
وَمِنهُم مَن يَقولُ ائذَن لى وَلا تَفتِنّى ۚ أَلا فِى الفِتنَةِ سَقَطوا ۗ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحيطَةٌ بِالكٰفِرينَ(49)
اور ان میں سے وہ شخص (بھی) ہے جو کہتا ہے کہ آپ مجھے اجازت دے دیجئے (کہ میں جہاد پر جانے کی بجائے گھر ٹھہرا رہوں) اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے، سن لو! کہ وہ فتنہ میں (تو خود ہی) گر پڑے ہیں، اور بیشک جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے،(49)
إِن تُصِبكَ حَسَنَةٌ تَسُؤهُم ۖ وَإِن تُصِبكَ مُصيبَةٌ يَقولوا قَد أَخَذنا أَمرَنا مِن قَبلُ وَيَتَوَلَّوا وَهُم فَرِحونَ(50)
اگر آپ کو کوئی بھلائی (یا آسائش) پہنچتی ہے (تو) وہ انہیں بری لگتی ہے اور اگر آپ کو مصیبت (یا تکلیف) پہنچتی ہے (تو) کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے سے ہی اپنے کام (میں احتیاط) کو اختیار کر لیا تھا اور خوشیاں مناتے ہوئے پلٹتے ہیں،(50)
قُل لَن يُصيبَنا إِلّا ما كَتَبَ اللَّهُ لَنا هُوَ مَولىٰنا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَليَتَوَكَّلِ المُؤمِنونَ(51)
(اے حبیب!) آپ فرما دیجئے کہ ہمیں ہرگز (کچھ) نہیں پہنچے گا مگر وہی کچھ جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے، وہی ہمارا کارساز ہے اور اللہ ہی پر ایمان والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے،(51)
قُل هَل تَرَبَّصونَ بِنا إِلّا إِحدَى الحُسنَيَينِ ۖ وَنَحنُ نَتَرَبَّصُ بِكُم أَن يُصيبَكُمُ اللَّهُ بِعَذابٍ مِن عِندِهِ أَو بِأَيدينا ۖ فَتَرَبَّصوا إِنّا مَعَكُم مُتَرَبِّصونَ(52)
آپ فرما دیں: کیا تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں (یعنی فتح اور شہادت) میں سے ایک ہی کا انتظار کر رہے ہو (کہ ہم شہید ہوتے ہیں یا غازی بن کر لوٹتے ہیں)؟ اور ہم تمہارے حق میں (تمہاری منافقت کے باعث) اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ اپنی بارگاہ سے تمہیں (خصوصی) عذاب پہنچاتا ہے یا ہمارے ہاتھوں سے۔ سو تم (بھی) انتظار کرو ہم (بھی) تمہارے ساتھ منتظر ہیں (کہ کس کا انتظار نتیجہ خیز ہے)،(52)
قُل أَنفِقوا طَوعًا أَو كَرهًا لَن يُتَقَبَّلَ مِنكُم ۖ إِنَّكُم كُنتُم قَومًا فٰسِقينَ(53)
فرما دیجئے: تم خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز وہ (مال) قبول نہیں کیا جائے گا، بیشک تم نافرمان لوگ ہو،(53)
وَما مَنَعَهُم أَن تُقبَلَ مِنهُم نَفَقٰتُهُم إِلّا أَنَّهُم كَفَروا بِاللَّهِ وَبِرَسولِهِ وَلا يَأتونَ الصَّلوٰةَ إِلّا وَهُم كُسالىٰ وَلا يُنفِقونَ إِلّا وَهُم كٰرِهونَ(54)
اور ان سے ان کے نفقات (یعنی صدقات) کے قبول کئے جانے میں کوئی (اور) چیز انہیں مانع نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منکر ہیں اور وہ نماز کی ادائیگی کے لئے نہیں آتے مگر کاہلی و بے رغبتی کے ساتھ اور وہ (اللہ کی راہ میں) خرچ (بھی) نہیں کرتے مگر اس حال میں کہ وہ ناخوش ہوتے ہیں،(54)
فَلا تُعجِبكَ أَموٰلُهُم وَلا أَولٰدُهُم ۚ إِنَّما يُريدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُم بِها فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا وَتَزهَقَ أَنفُسُهُم وَهُم كٰفِرونَ(55)
سو آپ کو نہ (تو) ان کے اموال تعجب میں ڈالیں اور نہ ہی ان کی اولاد۔ بس اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں انہی (چیزوں) کی وجہ سے دنیوی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں،(55)
وَيَحلِفونَ بِاللَّهِ إِنَّهُم لَمِنكُم وَما هُم مِنكُم وَلٰكِنَّهُم قَومٌ يَفرَقونَ(56)
اور وہ (اس قدر بزدل ہیں کہ) اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم ہی میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں لیکن وہ ایسے لوگ ہیں جو (اپنے نفاق کے ظاہر ہونے اور اس کے انجام سے) ڈرتے ہیں (اس لئے وہ بصورتِ تقیہ اپنا مسلمان ہونا ظاہر کرتے ہیں)،(56)
لَو يَجِدونَ مَلجَـًٔا أَو مَغٰرٰتٍ أَو مُدَّخَلًا لَوَلَّوا إِلَيهِ وَهُم يَجمَحونَ(57)
(ان کی کیفیت یہ ہے کہ) اگر وہ کوئی پناہ گاہ یا غار یا سرنگ پا لیں تو انتہائی تیزی سے بھاگتے ہوئے اس کی طرف پلٹ جائیں (اور آپ کے ساتھ ایک لمحہ بھی نہ رہیں مگر اس وقت وہ مجبور ہیں اس لئے جھوٹی وفاداری جتلاتے ہیں)،(57)
وَمِنهُم مَن يَلمِزُكَ فِى الصَّدَقٰتِ فَإِن أُعطوا مِنها رَضوا وَإِن لَم يُعطَوا مِنها إِذا هُم يَسخَطونَ(58)
اور ان ہی میں سے بعض ایسے ہیں جو صدقات (کی تقسیم) میں آپ پر طعنہ زنی کرتے ہیں، پھر اگر انہیں ان (صدقات) میں سے کچھ دے دیا جائے تو وہ راضی ہو جائیں اور اگر انہیں اس میں سے کچھ نہ دیا جائے تو وہ فوراً خفا ہو جاتے ہیں،(58)
وَلَو أَنَّهُم رَضوا ما ءاتىٰهُمُ اللَّهُ وَرَسولُهُ وَقالوا حَسبُنَا اللَّهُ سَيُؤتينَا اللَّهُ مِن فَضلِهِ وَرَسولُهُ إِنّا إِلَى اللَّهِ رٰغِبونَ(59)
اور کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ لوگ اس پر راضی ہو جاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عطا فرمایا تھا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے۔ عنقریب ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید) عطا فرمائے گا۔ بیشک ہم اللہ ہی کی طرف راغب ہیں (اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کا واسطہ اور وسیلہ ہے، اس کا دینا بھی اللہ ہی کا دینا ہے۔ اگر یہ عقیدہ رکھتے اور طعنہ زنی نہ کرتے تو یہ بہتر ہوتا،(59)
۞ إِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلفُقَراءِ وَالمَسٰكينِ وَالعٰمِلينَ عَلَيها وَالمُؤَلَّفَةِ قُلوبُهُم وَفِى الرِّقابِ وَالغٰرِمينَ وَفى سَبيلِ اللَّهِ وَابنِ السَّبيلِ ۖ فَريضَةً مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ(60)
بیشک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے والوں پر) اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،(60)
وَمِنهُمُ الَّذينَ يُؤذونَ النَّبِىَّ وَيَقولونَ هُوَ أُذُنٌ ۚ قُل أُذُنُ خَيرٍ لَكُم يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤمِنُ لِلمُؤمِنينَ وَرَحمَةٌ لِلَّذينَ ءامَنوا مِنكُم ۚ وَالَّذينَ يُؤذونَ رَسولَ اللَّهِ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ(61)
اور ان (منافقوں) میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو نبی (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں: وہ تو کان (کے کچے) ہیں۔ فرما دیجئے: تمہارے لئے بھلائی کے کان ہیں۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اہلِ ایمان (کی باتوں) پر یقین کرتے ہیں اور تم میں سے جو ایمان لے آئے ہیں ان کے لئے رحمت ہیں، اور جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (اپنی بدعقیدگی، بدگمانی اور بدزبانی کے ذریعے) اذیت پہنچاتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے،(61)
يَحلِفونَ بِاللَّهِ لَكُم لِيُرضوكُم وَاللَّهُ وَرَسولُهُ أَحَقُّ أَن يُرضوهُ إِن كانوا مُؤمِنينَ(62)
مسلمانو! (یہ منافقین) تمہارے سامنے اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی رکھیں حالانکہ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ حق دار ہے کہ اسے راضی کیا جائے اگر یہ لوگ ایمان والے ہوتے (تو یہ حقیقت جان لیتے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو راضی کرتے، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راضی ہونے سے ہی اللہ راضی ہو جاتا ہے کیونکہ دونوں کی رضا ایک ہے،(62)
أَلَم يَعلَموا أَنَّهُ مَن يُحادِدِ اللَّهَ وَرَسولَهُ فَأَنَّ لَهُ نارَ جَهَنَّمَ خٰلِدًا فيها ۚ ذٰلِكَ الخِزىُ العَظيمُ(63)
کیا وہ نہیں جانتے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرتا ہے تو اس کے لئے دوزخ کی آگ (مقرر) ہے جس میں وہ ہمیشہ رہنے والا ہے، یہ زبردست رسوائی ہے،(63)
يَحذَرُ المُنٰفِقونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيهِم سورَةٌ تُنَبِّئُهُم بِما فى قُلوبِهِم ۚ قُلِ استَهزِءوا إِنَّ اللَّهَ مُخرِجٌ ما تَحذَرونَ(64)
منافقین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نازل کر دی جائے جو انہیں ان باتوں سے خبردار کر دے جو ان (منافقوں) کے دلوں میں (مخفی) ہیں۔ فرما دیجئے: تم مذاق کرتے رہو، بیشک اللہ وہ (بات) ظاہر فرمانے والا ہے جس سے تم ڈر رہے ہو،(64)
وَلَئِن سَأَلتَهُم لَيَقولُنَّ إِنَّما كُنّا نَخوضُ وَنَلعَبُ ۚ قُل أَبِاللَّهِ وَءايٰتِهِ وَرَسولِهِ كُنتُم تَستَهزِءونَ(65)
اور اگر آپ ان سے دریافت کریں تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ ہم تو صرف (سفر کاٹنے کے لئے) بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ فرما دیجئے: کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مذاق کر رہے تھے،(65)
لا تَعتَذِروا قَد كَفَرتُم بَعدَ إيمٰنِكُم ۚ إِن نَعفُ عَن طائِفَةٍ مِنكُم نُعَذِّب طائِفَةً بِأَنَّهُم كانوا مُجرِمينَ(66)
(اب) تم معذرت مت کرو، بیشک تم اپنے ایمان (کے اظہار) کے بعد کافر ہو گئے ہو، اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کر دیں (تب بھی) دوسرے گروہ کو عذاب دیں گے اس وجہ سے کہ وہ مجرم تھے،(66)
المُنٰفِقونَ وَالمُنٰفِقٰتُ بَعضُهُم مِن بَعضٍ ۚ يَأمُرونَ بِالمُنكَرِ وَيَنهَونَ عَنِ المَعروفِ وَيَقبِضونَ أَيدِيَهُم ۚ نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُم ۗ إِنَّ المُنٰفِقينَ هُمُ الفٰسِقونَ(67)
منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے (کی جنس) سے ہیں۔ یہ لوگ بری باتوں کا حکم دیتے ہیں اور اچھی باتوں سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ (اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے) بند رکھتے ہیں، انہوں نے اللہ کو فراموش کر دیا تو اللہ نے انہیں فراموش کر دیا، بیشک منافقین ہی نافرمان ہیں،(67)
وَعَدَ اللَّهُ المُنٰفِقينَ وَالمُنٰفِقٰتِ وَالكُفّارَ نارَ جَهَنَّمَ خٰلِدينَ فيها ۚ هِىَ حَسبُهُم ۚ وَلَعَنَهُمُ اللَّهُ ۖ وَلَهُم عَذابٌ مُقيمٌ(68)
اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے آتشِ دوزخ کا وعدہ فرما رکھا ہے (وہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے، وہ (آگ) انہیں کافی ہے، اور اللہ نے ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے ہمیشہ برقرار رہنے والا عذاب ہے،(68)
كَالَّذينَ مِن قَبلِكُم كانوا أَشَدَّ مِنكُم قُوَّةً وَأَكثَرَ أَموٰلًا وَأَولٰدًا فَاستَمتَعوا بِخَلٰقِهِم فَاستَمتَعتُم بِخَلٰقِكُم كَمَا استَمتَعَ الَّذينَ مِن قَبلِكُم بِخَلٰقِهِم وَخُضتُم كَالَّذى خاضوا ۚ أُولٰئِكَ حَبِطَت أَعمٰلُهُم فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ ۖ وَأُولٰئِكَ هُمُ الخٰسِرونَ(69)
(اے منافقو! تم) ان لوگوں کی مثل ہو جو تم سے پہلے تھے۔ وہ تم سے بہت زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں کہیں زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ پس وہ اپنے (دنیوی) حصے سے فائدہ اٹھا چکے سو تم (بھی) اپنے حصے سے (اسی طرح) فائدہ اٹھا رہے ہو جیسے تم سے پہلے لوگوں نے (لذّتِ دنیا کے) اپنے مقررہ حصے سے فائدہ اٹھایا تھا نیز تم (بھی اسی طرح) باطل میں داخل اور غلطاں ہو جیسے وہ باطل میں داخل اور غلطاں تھے۔ ان لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت میں برباد ہو گئے اور وہی لوگ خسارے میں ہیں،(69)
أَلَم يَأتِهِم نَبَأُ الَّذينَ مِن قَبلِهِم قَومِ نوحٍ وَعادٍ وَثَمودَ وَقَومِ إِبرٰهيمَ وَأَصحٰبِ مَديَنَ وَالمُؤتَفِكٰتِ ۚ أَتَتهُم رُسُلُهُم بِالبَيِّنٰتِ ۖ فَما كانَ اللَّهُ لِيَظلِمَهُم وَلٰكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ(70)
کیا ان کے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے، قومِ نوح اور عاد اور ثمود اور قومِ ابراہیم اور باشندگانِ مدین اور ان بستیوں کے مکین جو الٹ دی گئیں، ان کے پاس (بھی) ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے تھے (مگر انہوں نے نافرمانی کی) پس اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ (انکارِ حق کے باعث) اپنے اوپر خود ہی ظلم کرتے تھے،(70)
وَالمُؤمِنونَ وَالمُؤمِنٰتُ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ ۚ يَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَيَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ وَيُقيمونَ الصَّلوٰةَ وَيُؤتونَ الزَّكوٰةَ وَيُطيعونَ اللَّهَ وَرَسولَهُ ۚ أُولٰئِكَ سَيَرحَمُهُمُ اللَّهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزيزٌ حَكيمٌ(71)
اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں۔ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے،(71)
وَعَدَ اللَّهُ المُؤمِنينَ وَالمُؤمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فى جَنّٰتِ عَدنٍ ۚ وَرِضوٰنٌ مِنَ اللَّهِ أَكبَرُ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الفَوزُ العَظيمُ(72)
اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے جنتوں کا وعدہ فرما لیا ہے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ایسے پاکیزہ مکانات کا بھی (وعدہ فرمایا ہے) جوجنت کے خاص مقام پر سدا بہار باغات میں ہیں، اور (پھر) اللہ کی رضا اور خوشنودی (ان سب نعمتوں سے) بڑھ کر ہے (جو بڑے اجر کے طور پر نصیب ہوگی)، یہی زبردست کامیابی ہے،(72)
يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ جٰهِدِ الكُفّارَ وَالمُنٰفِقينَ وَاغلُظ عَلَيهِم ۚ وَمَأوىٰهُم جَهَنَّمُ ۖ وَبِئسَ المَصيرُ(73)
اے نبی (معظم!) آپ کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں اور ان پر سختی کریں، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور وہ برا ٹھکانا ہے،(73)
يَحلِفونَ بِاللَّهِ ما قالوا وَلَقَد قالوا كَلِمَةَ الكُفرِ وَكَفَروا بَعدَ إِسلٰمِهِم وَهَمّوا بِما لَم يَنالوا ۚ وَما نَقَموا إِلّا أَن أَغنىٰهُمُ اللَّهُ وَرَسولُهُ مِن فَضلِهِ ۚ فَإِن يَتوبوا يَكُ خَيرًا لَهُم ۖ وَإِن يَتَوَلَّوا يُعَذِّبهُمُ اللَّهُ عَذابًا أَليمًا فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ ۚ وَما لَهُم فِى الأَرضِ مِن وَلِىٍّ وَلا نَصيرٍ(74)
(یہ منافقین) اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے یقیناً کلمہ کفر کہا اور وہ اپنے اسلام (کو ظاہر کرنے) کے بعد کافر ہو گئے اور انہوں نے (کئی اذیت رساں باتوں کا) ارادہ (بھی) کیا تھا جنہیں وہ نہ پا سکے اور وہ (اسلام اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل میں سے) اور کسی چیز کو ناپسند نہ کر سکے سوائے اس کے کہ انہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے فضل سے غنی کر دیا تھا، سو اگر یہ (اب بھی) توبہ کر لیں تو ان کے لئے بہتر ہے اور اگر (اسی طرح) روگرداں رہیں تو اللہ انہیں دنیا اور آخرت (دونوں زندگیوں) میں دردناک عذاب میں مبتلا فرمائے گا اور ان کے لئے زمین میں نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار،(74)
۞ وَمِنهُم مَن عٰهَدَ اللَّهَ لَئِن ءاتىٰنا مِن فَضلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكونَنَّ مِنَ الصّٰلِحينَ(75)
اور ان (منافقوں) میں (بعض) وہ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے ہمیں اپنے فضل سے (دولت) عطا فرمائی تو ہم ضرور (اس کی ر اہ میں) خیرات کریں گے اور ہم ضرور نیکو کاروں میں سے ہو جائیں گے،(75)
فَلَمّا ءاتىٰهُم مِن فَضلِهِ بَخِلوا بِهِ وَتَوَلَّوا وَهُم مُعرِضونَ(76)
پس جب اس نے انہیں اپنے فضل سے (دولت) بخشی (تو) وہ اس میں بخل کرنے لگے اور وہ (اپنے عہد سے) روگردانی کرتے ہوئے پھر گئے،(76)
فَأَعقَبَهُم نِفاقًا فى قُلوبِهِم إِلىٰ يَومِ يَلقَونَهُ بِما أَخلَفُوا اللَّهَ ما وَعَدوهُ وَبِما كانوا يَكذِبونَ(77)
پس اس نے ان کے دلوں میں نفاق کو (ان کے اپنے بخل کا) انجام بنا دیا اس دن تک کہ جب وہ اس سے ملیں گے اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ سے اپنے کئے ہوئے عہد کی خلاف ورزی کی اور اس وجہ سے (بھی) کہ وہ کذب بیانی کیا کرتے تھے،(77)
أَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ يَعلَمُ سِرَّهُم وَنَجوىٰهُم وَأَنَّ اللَّهَ عَلّٰمُ الغُيوبِ(78)
کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ ان کے بھید اور ان کی سرگوشیاں جانتا ہے اور یہ کہ اللہ سب غیب کی باتوں کو بہت خوب جاننے والا ہے،(78)
الَّذينَ يَلمِزونَ المُطَّوِّعينَ مِنَ المُؤمِنينَ فِى الصَّدَقٰتِ وَالَّذينَ لا يَجِدونَ إِلّا جُهدَهُم فَيَسخَرونَ مِنهُم ۙ سَخِرَ اللَّهُ مِنهُم وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ(79)
جو لوگ برضا و رغبت خیرات دینے والے مومنوں پر (ان کے) صدقات میں (ریاکاری و مجبوری کا) الزام لگاتے ہیں اور ان (نادار مسلمانوں) پر بھی (عیب لگاتے ہیں) جو اپنی محنت و مشقت کے سوا (کچھ زیادہ مقدور) نہیں پاتے سو یہ (ان کے جذبۂ اِنفاق کا بھی) مذاق اڑاتے ہیں، اللہ انہیں ان کے تمسخر کی سزا دے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے،(79)
استَغفِر لَهُم أَو لا تَستَغفِر لَهُم إِن تَستَغفِر لَهُم سَبعينَ مَرَّةً فَلَن يَغفِرَ اللَّهُ لَهُم ۚ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كَفَروا بِاللَّهِ وَرَسولِهِ ۗ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الفٰسِقينَ(80)
آپ خواہ ان (بدبخت، گستاخ اور آپ کی شان میں طعنہ زنی کرنے والے منافقوں) کے لئے بخشش طلب کریں یا ان کے لئے بخشش طلب نہ کریں، اگر آپ (اپنی طبعی شفقت اور عفو و درگزر کی عادتِ کریمانہ کے پیشِ نظر) ان کے لئے ستر مرتبہ بھی بخشش طلب کریں تو بھی اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کفر کیا ہے، اور اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں فرماتا،(80)
فَرِحَ المُخَلَّفونَ بِمَقعَدِهِم خِلٰفَ رَسولِ اللَّهِ وَكَرِهوا أَن يُجٰهِدوا بِأَموٰلِهِم وَأَنفُسِهِم فى سَبيلِ اللَّهِ وَقالوا لا تَنفِروا فِى الحَرِّ ۗ قُل نارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا ۚ لَو كانوا يَفقَهونَ(81)
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کے باعث (جہاد سے) پیچھے رہ جانے والے (یہ منافق) اپنے بیٹھ رہنے پر خوش ہو رہے ہیں وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور کہتے تھے کہ اس گرمی میں نہ نکلو، فرما دیجئے: دوزخ کی آگ سب سے زیادہ گرم ہے، اگر وہ سمجھتے ہوتے (تو کیا ہی اچھا ہوتا،(81)
فَليَضحَكوا قَليلًا وَليَبكوا كَثيرًا جَزاءً بِما كانوا يَكسِبونَ(82)
پس انہیں چاہیئے کہ تھوڑا ہنسیں اور زیادہ روئیں (کیونکہ آخرت میں انہیں زیادہ رونا ہے) یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ کماتے تھے،(82)
فَإِن رَجَعَكَ اللَّهُ إِلىٰ طائِفَةٍ مِنهُم فَاستَـٔذَنوكَ لِلخُروجِ فَقُل لَن تَخرُجوا مَعِىَ أَبَدًا وَلَن تُقٰتِلوا مَعِىَ عَدُوًّا ۖ إِنَّكُم رَضيتُم بِالقُعودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقعُدوا مَعَ الخٰلِفينَ(83)
پس (اے حبیب!) اگر اللہ آپ کو (غزوۂ تبوک سے فارغ ہونے کے بعد) ان (منافقین) میں سے کسی گروہ کی طرف دوبارہ واپس لے جائے اور وہ آپ سے (آئندہ کسی اور غزوہ کے موقع پر جہاد کے لئے) نکلنے کی اجازت چاہیں تو ان سے فرما دیجئے گا کہ (اب) تم میرے ساتھ کبھی بھی ہرگز نہ نکلنا اور تم میرے ساتھ ہو کر کبھی بھی ہرگز دشمن سے جنگ نہ کرنا (کیونکہ) تم پہلی مرتبہ (جہاد چھوڑ کر) پیچھے بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے تھے سو (اب بھی) پیچھے بیٹھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو،(83)
وَلا تُصَلِّ عَلىٰ أَحَدٍ مِنهُم ماتَ أَبَدًا وَلا تَقُم عَلىٰ قَبرِهِ ۖ إِنَّهُم كَفَروا بِاللَّهِ وَرَسولِهِ وَماتوا وَهُم فٰسِقونَ(84)
اور آپ کبھی بھی ان (منافقوں) میں سے جو کوئی مر جائے اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھیں اور نہ ہی آپ اس کی قبر پر کھڑے ہوں (کیونکہ آپ کا کسی جگہ قدم رکھنا بھی رحمت و برکت کا باعث ہوتا ہے اور یہ آپ کی رحمت و برکت کے حق دار نہیں ہیں)۔ بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کفر کیا اور وہ نافرمان ہونے کی حالت میں ہی مر گئے،(84)
وَلا تُعجِبكَ أَموٰلُهُم وَأَولٰدُهُم ۚ إِنَّما يُريدُ اللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِها فِى الدُّنيا وَتَزهَقَ أَنفُسُهُم وَهُم كٰفِرونَ(85)
اور ان کے مال اور ان کی اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ فقط یہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں کے ذریعے انہیں دنیا میں (بھی) عذاب دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر (ہی) ہوں،(85)
وَإِذا أُنزِلَت سورَةٌ أَن ءامِنوا بِاللَّهِ وَجٰهِدوا مَعَ رَسولِهِ استَـٔذَنَكَ أُولُوا الطَّولِ مِنهُم وَقالوا ذَرنا نَكُن مَعَ القٰعِدينَ(86)
اور جب کوئی (ایسی) سورت نازل کی جاتی ہے کہ تم اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں جہاد کرو تو ان میں سے دولت اور طاقت والے لوگ آپ سے رخصت چاہتے ہیں اور کہتے ہیں: آپ ہمیں چھوڑ دیں ہم (پیچھے) بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ ہو جائیں،(86)
رَضوا بِأَن يَكونوا مَعَ الخَوالِفِ وَطُبِعَ عَلىٰ قُلوبِهِم فَهُم لا يَفقَهونَ(87)
انہوں نے یہ پسند کیا کہ وہ پیچھے رہ جانے والی عورتوں، بچوں اور معذوروں کے ساتھ ہو جائیں اور ان کے دلوں پر مُہر لگا دی گئی ہے سو وہ کچھ نہیں سمجھتے،(87)
لٰكِنِ الرَّسولُ وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَهُ جٰهَدوا بِأَموٰلِهِم وَأَنفُسِهِم ۚ وَأُولٰئِكَ لَهُمُ الخَيرٰتُ ۖ وَأُولٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ(88)
لیکن رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرتے ہیں اور انہی لوگوں کے لئے سب بھلائیاں ہیں اور وہی لوگ مراد پانے والے ہیں،(88)
أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها ۚ ذٰلِكَ الفَوزُ العَظيمُ(89)
اللہ نے ان کے لئے جنتیں تیار فرما رکھی ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی بہت بڑی کامیابی ہے،(89)
وَجاءَ المُعَذِّرونَ مِنَ الأَعرابِ لِيُؤذَنَ لَهُم وَقَعَدَ الَّذينَ كَذَبُوا اللَّهَ وَرَسولَهُ ۚ سَيُصيبُ الَّذينَ كَفَروا مِنهُم عَذابٌ أَليمٌ(90)
اور صحرا نشینوں میں سے کچھ بہانہ ساز (معذرت کرنے کے لئے دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں) آئے تاکہ انہیں (بھی) رخصت دے دی جائے، اور وہ لوگ جنہوں نے (اپنے دعویٰ ایمان میں) اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جھوٹ بولا تھا (جہاد چھوڑ کر پیچھے) بیٹھے رہے، عنقریب ان میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا دردناک عذاب پہنچے گا،(90)
لَيسَ عَلَى الضُّعَفاءِ وَلا عَلَى المَرضىٰ وَلا عَلَى الَّذينَ لا يَجِدونَ ما يُنفِقونَ حَرَجٌ إِذا نَصَحوا لِلَّهِ وَرَسولِهِ ۚ ما عَلَى المُحسِنينَ مِن سَبيلٍ ۚ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ(91)
ضعیفوں (کمزوروں) پر کوئی گناہ نہیں اور نہ بیماروں پر اور نہ (ہی) ایسے لوگوں پر ہے جو اس قدر (وسعت بھی) نہیں پاتے جسے خرچ کریں جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے خالص و مخلص ہو چکے ہوں، نیکوکاروں (یعنی صاحبانِ احسان) پر الزام کی کوئی راہ نہیں اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(91)
وَلا عَلَى الَّذينَ إِذا ما أَتَوكَ لِتَحمِلَهُم قُلتَ لا أَجِدُ ما أَحمِلُكُم عَلَيهِ تَوَلَّوا وَأَعيُنُهُم تَفيضُ مِنَ الدَّمعِ حَزَنًا أَلّا يَجِدوا ما يُنفِقونَ(92)
اور نہ ایسے لوگوں پر (طعنہ و الزام کی راہ ہے) جبکہ وہ آپ کی خدمت میں (اس لئے) حاضر ہوئے کہ آپ انہیں (جہاد کے لئے) سوار کریں (کیونکہ ان کے پاس اپنی کوئی سواری نہ تھی تو) آپ نے فرمایا: میں (بھی) کوئی (زائد سواری) نہیں پاتا ہوں جس پر تمہیں سوار کر سکوں، (تو) وہ (آپ کے اذن سے) اس حالت میں لوٹے کہ ان کی آنکھیں (جہاد سے محرومی کے) غم میں اشکبار تھیں کہ (افسوس) وہ (اس قدر) زادِ راہ نہیں پاتے جسے وہ خرچ کر سکیں (اور شریک جہاد ہو سکیں)،(92)
۞ إِنَّمَا السَّبيلُ عَلَى الَّذينَ يَستَـٔذِنونَكَ وَهُم أَغنِياءُ ۚ رَضوا بِأَن يَكونوا مَعَ الخَوالِفِ وَطَبَعَ اللَّهُ عَلىٰ قُلوبِهِم فَهُم لا يَعلَمونَ(93)
(الزام کی) راہ تو فقط ان لوگوں پر ہے جو آپ سے رخصت طلب کرتے ہیں حالانکہ وہ مال دار ہیں، وہ اس بات سے خوش ہیں کہ وہ پیچھے رہ جانے والی عورتوں اور معذوروں کے ساتھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، سو وہ جانتے ہی نہیں (کہ حقیقی سود و زیاں کیا ہے)،(93)
يَعتَذِرونَ إِلَيكُم إِذا رَجَعتُم إِلَيهِم ۚ قُل لا تَعتَذِروا لَن نُؤمِنَ لَكُم قَد نَبَّأَنَا اللَّهُ مِن أَخبارِكُم ۚ وَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُم وَرَسولُهُ ثُمَّ تُرَدّونَ إِلىٰ عٰلِمِ الغَيبِ وَالشَّهٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم تَعمَلونَ(94)
(اے مسلمانو!) وہ تم سے عذر خواہی کریں گے جب تم ان کی طرف (اس سفرِ تبوک سے) پلٹ کر جاؤ گے، (اے حبیب!) آپ فرما دیجئے: بہانے مت بناؤ ہم ہرگز تمہاری بات پر یقین نہیں کریں گے، ہمیں اﷲ نے تمہارے حالات سے باخبر کردیا ہے، اور اب (آئندہ) تمہارا عمل (دنیا میں بھی) اﷲ دیکھے گا اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی (دیکھے گا) پھر تم (آخرت میں بھی) ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے (رب) کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو وہ تمہیں ان تمام (اعمال) سے خبردار فرما دے گا جو تم کیا کرتے تھے،(94)
سَيَحلِفونَ بِاللَّهِ لَكُم إِذَا انقَلَبتُم إِلَيهِم لِتُعرِضوا عَنهُم ۖ فَأَعرِضوا عَنهُم ۖ إِنَّهُم رِجسٌ ۖ وَمَأوىٰهُم جَهَنَّمُ جَزاءً بِما كانوا يَكسِبونَ(95)
اب وہ تمہارے لئے اﷲ کی قََسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف پلٹ کر جاؤ گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو، پس تم ان کی طرف التفات ہی نہ کرو بیشک وہ پلید ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ کمایا کرتے تھے،(95)
يَحلِفونَ لَكُم لِتَرضَوا عَنهُم ۖ فَإِن تَرضَوا عَنهُم فَإِنَّ اللَّهَ لا يَرضىٰ عَنِ القَومِ الفٰسِقينَ(96)
یہ تمہارے لئے قَسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ، سو (اے مسلمانو!) اگرتم ان سے راضی بھی ہوجاؤ تو (بھی) اﷲ نافرمان قو م سے راضی نہیں ہوگا،(96)
الأَعرابُ أَشَدُّ كُفرًا وَنِفاقًا وَأَجدَرُ أَلّا يَعلَموا حُدودَ ما أَنزَلَ اللَّهُ عَلىٰ رَسولِهِ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ(97)
(یہ) دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور (اپنے کفر و نفاق کی شدت کے باعث) اسی قابل ہیں کہ وہ ان حدود و احکام سے جاہل رہیں جو اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائے ہیں، اور اﷲ خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے،(97)
وَمِنَ الأَعرابِ مَن يَتَّخِذُ ما يُنفِقُ مَغرَمًا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوائِرَ ۚ عَلَيهِم دائِرَةُ السَّوءِ ۗ وَاللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ(98)
اور ان دیہاتی گنواروں میں سے وہ شخص (بھی) ہے جو اس (مال) کو تاوان قرار دیتا ہے جسے وہ (راہِ خدا میں) خرچ کرتا ہے اور تم پر زمانہ کی گردشوں (یعنی مصائب و آلام) کا انتظار کرتا رہتا ہے، (بَلا و مصیبت کی) بری گردش انہی پر ہے، اور اﷲ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے،(98)
وَمِنَ الأَعرابِ مَن يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ وَيَتَّخِذُ ما يُنفِقُ قُرُبٰتٍ عِندَ اللَّهِ وَصَلَوٰتِ الرَّسولِ ۚ أَلا إِنَّها قُربَةٌ لَهُم ۚ سَيُدخِلُهُمُ اللَّهُ فى رَحمَتِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ(99)
اور بادیہ نشینوں میں (ہی) وہ شخص (بھی) ہے جو اﷲ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور جو کچھ (راہِ خدا میں) خرچ کرتاہے اسے اﷲ کے حضور تقرب اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی (رحمت بھری) دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھتا ہے، سن لو! بیشک وہ ان کے لئے باعثِ قربِ الٰہی ہے، جلد ہی اﷲ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرما دے گا۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(99)
وَالسّٰبِقونَ الأَوَّلونَ مِنَ المُهٰجِرينَ وَالأَنصارِ وَالَّذينَ اتَّبَعوهُم بِإِحسٰنٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنهُم وَرَضوا عَنهُ وَأَعَدَّ لَهُم جَنّٰتٍ تَجرى تَحتَهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها أَبَدًا ۚ ذٰلِكَ الفَوزُ العَظيمُ(100)
اور مہاجرین اور ان کے مددگار (انصار) میں سے سبقت لے جانے والے، سب سے پہلے ایمان لانے والے اور درجۂ احسان کے ساتھ اُن کی پیروی کرنے والے، اللہ ان (سب) سے راضی ہوگیا اور وہ (سب) اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لئے جنتیں تیار فرما رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی زبردست کامیابی ہے،(100)
وَمِمَّن حَولَكُم مِنَ الأَعرابِ مُنٰفِقونَ ۖ وَمِن أَهلِ المَدينَةِ ۖ مَرَدوا عَلَى النِّفاقِ لا تَعلَمُهُم ۖ نَحنُ نَعلَمُهُم ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَرَّتَينِ ثُمَّ يُرَدّونَ إِلىٰ عَذابٍ عَظيمٍ(101)
اور (مسلمانو!) تمہارے گرد و نواح کے دیہاتی گنواروں میں بعض منافق ہیں اور بعض باشندگانِ مدینہ بھی، یہ لوگ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انہیں (اب تک) نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں (بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی جملہ منافقین کا علم اور معرفت عطا کر دی گئی)۔ عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ (دنیا ہی میں) عذاب دیں گے٭ پھر وہ (قیامت میں) بڑے عذاب کی طرف پلٹائے جائیں گے، ٭ ایک بار جب ان کی پہچان کرا دی گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبۂ جمعہ کے دوران ان منافقین کو نام لے لے کر مسجد سے نکال دیا، یہ پہلا عذاب بصورتِ ذلت و رسوائی تھا؛ اور دوسرا عذاب بصورتِ ہلاکت و مُقاتلہ ہوا جس کا حکم بعد میں آیا۔(101)
وَءاخَرونَ اعتَرَفوا بِذُنوبِهِم خَلَطوا عَمَلًا صٰلِحًا وَءاخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّهُ أَن يَتوبَ عَلَيهِم ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ(102)
اور دوسرے وہ لو گ کہ (جنہوں نے) اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا ہے انہوں نے کچھ نیک عمل اور دوسرے برے کاموں کو (غلطی سے) ملا جلا دیا ہے، قریب ہے کہ اﷲ ان کی توبہ قبول فرمالے، بیشک اﷲ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(102)
خُذ مِن أَموٰلِهِم صَدَقَةً تُطَهِّرُهُم وَتُزَكّيهِم بِها وَصَلِّ عَلَيهِم ۖ إِنَّ صَلوٰتَكَ سَكَنٌ لَهُم ۗ وَاللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ(103)
آپ ان کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کیجئے کہ آپ اس (صدقہ) کے باعث انہیں (گناہوں سے) پاک فرما دیں اور انہیں (ایمان و مال کی پاکیزگی سے) برکت بخش دیں اور ان کے حق میں دعا فرمائیں، بیشک آپ کی دعا ان کے لئے (باعثِ) تسکین ہے، اور اﷲ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے،(103)
أَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ وَيَأخُذُ الصَّدَقٰتِ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوّابُ الرَّحيمُ(104)
کیا وہ نہیں جانتے کہ بیشک اﷲ ہی تو اپنے بندوں سے (ان کی) توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات (یعنی زکوٰۃ و خیرات اپنے دستِ قدرت سے) وصول فرماتا ہے اور یہ کہ اﷲ ہی بڑا توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان ہے؟،(104)
وَقُلِ اعمَلوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُم وَرَسولُهُ وَالمُؤمِنونَ ۖ وَسَتُرَدّونَ إِلىٰ عٰلِمِ الغَيبِ وَالشَّهٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم تَعمَلونَ(105)
اور فرما دیجئے: تم عمل کرو، سو عنقریب تمہارے عمل کو اﷲ (بھی) دیکھ لے گا اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی) اور اہلِ ایمان (بھی)، اور تم عنقریب ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے (رب) کی طرف لوٹائے جاؤ گے، سو وہ تمہیں ان اعمال سے خبردار فرما دے گا جو تم کرتے رہتے تھے،(105)
وَءاخَرونَ مُرجَونَ لِأَمرِ اللَّهِ إِمّا يُعَذِّبُهُم وَإِمّا يَتوبُ عَلَيهِم ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ(106)
اور کچھ دوسرے (بھی) ہیں جو اللہ کے (آئندہ) حکم کے لئے مؤخر رکھے گئے ہیں وہ یا تو انہیں عذاب دے گا یا ان کی توبہ قبول فرمالے گا، اور اﷲ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،(106)
وَالَّذينَ اتَّخَذوا مَسجِدًا ضِرارًا وَكُفرًا وَتَفريقًا بَينَ المُؤمِنينَ وَإِرصادًا لِمَن حارَبَ اللَّهَ وَرَسولَهُ مِن قَبلُ ۚ وَلَيَحلِفُنَّ إِن أَرَدنا إِلَّا الحُسنىٰ ۖ وَاللَّهُ يَشهَدُ إِنَّهُم لَكٰذِبونَ(107)
اور (منافقین میں سے وہ بھی ہیں) جنہوں نے ایک مسجد تیار کی ہے (مسلمانوں کو) نقصان پہنچانے اور کفر (کو تقویت دینے) اور اہلِ ایمان کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے اور اس شخص کی گھات کی جگہ بنانے کی غرض سے جو اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے ہی سے جنگ کر رہا ہے، اور وہ ضرور قَسمیں کھائیں گے کہ ہم نے (اس مسجد کے بنانے سے) سوائے بھلائی کے اور کوئی ارادہ نہیں کیا، اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ وہ یقیناً جھوٹے ہیں،(107)
لا تَقُم فيهِ أَبَدًا ۚ لَمَسجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقوىٰ مِن أَوَّلِ يَومٍ أَحَقُّ أَن تَقومَ فيهِ ۚ فيهِ رِجالٌ يُحِبّونَ أَن يَتَطَهَّروا ۚ وَاللَّهُ يُحِبُّ المُطَّهِّرينَ(108)
(اے حبیب!) آپ اس (مسجد کے نام پر بنائی گئی عمارت) میں کبھی بھی کھڑے نہ ہوں۔ البتہ وہ مسجد، جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقوٰی پر رکھی گئی ہے، حق دار ہے کہ آپ اس میں قیام فرما ہوں۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو (ظاہراً و باطناً) پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں، اور اﷲ طہارت شعار لوگوں سے محبت فرماتا ہے،(108)
أَفَمَن أَسَّسَ بُنيٰنَهُ عَلىٰ تَقوىٰ مِنَ اللَّهِ وَرِضوٰنٍ خَيرٌ أَم مَن أَسَّسَ بُنيٰنَهُ عَلىٰ شَفا جُرُفٍ هارٍ فَانهارَ بِهِ فى نارِ جَهَنَّمَ ۗ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ(109)
بھلا وہ شخص جس نے اپنی عمارت (یعنی مسجد) کی بنیاد اللہ سے ڈرنے او ر (اس کی) رضا و خوشنودی پر رکھی، بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایسے گڑھے کے کنارے پر رکھی جو گرنے والا ہے۔ سو وہ (عمارت) اس معمار کے ساتھ ہی آتشِ دوزخ میں گر پڑی، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا،(109)
لا يَزالُ بُنيٰنُهُمُ الَّذى بَنَوا ريبَةً فى قُلوبِهِم إِلّا أَن تَقَطَّعَ قُلوبُهُم ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ(110)
ان کی عمارت جسے انہوں نے (مسجد کے نام پر) بنا رکھا ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (شک اور نفاق کے باعث) کھٹکتی رہے گی سوائے اس کے کہ ان کے دل (مسلسل خراش کی وجہ سے) پارہ پارہ ہو جائیں، اور اﷲ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،(110)
۞ إِنَّ اللَّهَ اشتَرىٰ مِنَ المُؤمِنينَ أَنفُسَهُم وَأَموٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ ۚ يُقٰتِلونَ فى سَبيلِ اللَّهِ فَيَقتُلونَ وَيُقتَلونَ ۖ وَعدًا عَلَيهِ حَقًّا فِى التَّورىٰةِ وَالإِنجيلِ وَالقُرءانِ ۚ وَمَن أَوفىٰ بِعَهدِهِ مِنَ اللَّهِ ۚ فَاستَبشِروا بِبَيعِكُمُ الَّذى بايَعتُم بِهِ ۚ وَذٰلِكَ هُوَ الفَوزُ العَظيمُ(111)
بیشک اﷲ نے اہلِ ایمان سے ان کی جانیں اور ان کے مال، ان کے لئے جنت کے عوض خرید لئے ہیں، (اب) وہ اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں، سو وہ (حق کی خاطر) قتل کرتے ہیں اور (خود بھی) قتل کئے جاتے ہیں۔ (اﷲ نے) اپنے ذمۂ کرم پر پختہ وعدہ (لیا) ہے، تَورات میں (بھی) انجیل میں (بھی) اور قرآن میں (بھی)، اور کون اپنے وعدہ کو اﷲ سے زیادہ پورا کرنے والا ہے، سو (ایمان والو!) تم اپنے سودے پر خوشیاں مناؤ جس کے عوض تم نے (جان و مال کو) بیچا ہے، اور یہی تو زبردست کامیابی ہے،(111)
التّٰئِبونَ العٰبِدونَ الحٰمِدونَ السّٰئِحونَ الرّٰكِعونَ السّٰجِدونَ الءامِرونَ بِالمَعروفِ وَالنّاهونَ عَنِ المُنكَرِ وَالحٰفِظونَ لِحُدودِ اللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ المُؤمِنينَ(112)
(یہ مومنین جنہوں نے اللہ سے اُخروی سودا کر لیا ہے) توبہ کرنے والے، عبادت گذار، (اللہ کی) حمد و ثنا کرنے والے، دنیوی لذتوں سے کنارہ کش روزہ دار، (خشوع و خضوع سے) رکوع کرنے والے، (قربِ الٰہی کی خاطر) سجود کرنے والے، نیکی کاحکم کرنے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی (مقرر کردہ) حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور ان اہلِ ایمان کو خوشخبری سنا دیجئے،(112)
ما كانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذينَ ءامَنوا أَن يَستَغفِروا لِلمُشرِكينَ وَلَو كانوا أُولى قُربىٰ مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُم أَنَّهُم أَصحٰبُ الجَحيمِ(113)
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ایمان والوں کی شان کے لائق نہیں کہ مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت کریں اگرچہ وہ قرابت دار ہی ہوں اس کے بعد کہ ان کے لئے واضح ہو چکا کہ وہ (مشرکین) اہلِ جہنم ہیں،(113)
وَما كانَ استِغفارُ إِبرٰهيمَ لِأَبيهِ إِلّا عَن مَوعِدَةٍ وَعَدَها إِيّاهُ فَلَمّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنهُ ۚ إِنَّ إِبرٰهيمَ لَأَوّٰهٌ حَليمٌ(114)
اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ (یعنی چچا آزر، جس نے آپ کو پالا تھا) کے لئے دعائے مغفرت کرنا صرف اس وعدہ کی غرض سے تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے، پھر جب ان پر یہ ظاہر ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بے زار ہوگئے (اس سے لاتعلق ہوگئے اور پھر کبھی اس کے حق میں دعا نہ کی)۔ بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے دردمند (گریہ و زاری کرنے والے اور) نہایت بردبار تھے،(114)
وَما كانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَومًا بَعدَ إِذ هَدىٰهُم حَتّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم ما يَتَّقونَ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ(115)
اور اللہ کی شان نہیں کہ وہ کسی قوم کو گمراہ کر دے اس کے بعد کہ اس نے انہیں ہدایت سے نواز دیا ہو، یہاں تک کہ وہ ان کے لئے وہ چیزیں واضح فرما دے جن سے انہیں پرہیزکرنا چاہئے، بیشک اﷲ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے،(115)
إِنَّ اللَّهَ لَهُ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ يُحيۦ وَيُميتُ ۚ وَما لَكُم مِن دونِ اللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلا نَصيرٍ(116)
بیشک اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کی ساری بادشاہی ہے، (وہی) جِلاتا اور مارتا ہے، اور تمہارے لئے اﷲ کے سوا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار (جو اَمرِ الہٰی کے خلاف تمہاری حمایت کر سکے،(116)
لَقَد تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِىِّ وَالمُهٰجِرينَ وَالأَنصارِ الَّذينَ اتَّبَعوهُ فى ساعَةِ العُسرَةِ مِن بَعدِ ما كادَ يَزيغُ قُلوبُ فَريقٍ مِنهُم ثُمَّ تابَ عَلَيهِم ۚ إِنَّهُ بِهِم رَءوفٌ رَحيمٌ(117)
یقیناً اﷲ نے نبی (معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رحمت سے توجہ فرمائی اور ان مہاجرین اور انصار پر (بھی) جنہوں نے (غزوۂ تبوک کی) مشکل گھڑی میں (بھی) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کی اس (صورتِ حال) کے بعد کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل پھر جاتے، پھر وہ ان پر لطف و رحمت سے متوجہ ہوا، بیشک وہ ان پر نہایت شفیق، نہایت مہربان ہے،(117)
وَعَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذينَ خُلِّفوا حَتّىٰ إِذا ضاقَت عَلَيهِمُ الأَرضُ بِما رَحُبَت وَضاقَت عَلَيهِم أَنفُسُهُم وَظَنّوا أَن لا مَلجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلّا إِلَيهِ ثُمَّ تابَ عَلَيهِم لِيَتوبوا ۚ إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوّابُ الرَّحيمُ(118)
اور ان تینوں شخصوں پر (بھی نظرِ رحمت فرما دی) جن (کے فیصلہ) کو مؤخر کیا گیا تھا یہاں تک کہ جب زمین باوجود کشادگی کے ان پر تنگ ہوگئی اور (خود) ان کی جانیں (بھی) ان پر دوبھر ہوگئیں اور انہیں یقین ہوگیا کہ اﷲ (کے عذاب) سے پناہ کا کوئی ٹھکانا نہیں بجز اس کی طرف (رجوع کے)، تب اﷲ ان پر لطف وکرم سے مائل ہوا تاکہ وہ (بھی) توبہ و رجوع پر قائم رہیں، بیشک اﷲ ہی بڑا توبہ قبول فرمانے والا، نہایت مہربان ہے،(118)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكونوا مَعَ الصّٰدِقينَ(119)
اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرتے رہو اور اہلِ صدق (کی معیت) میں شامل رہو،(119)
ما كانَ لِأَهلِ المَدينَةِ وَمَن حَولَهُم مِنَ الأَعرابِ أَن يَتَخَلَّفوا عَن رَسولِ اللَّهِ وَلا يَرغَبوا بِأَنفُسِهِم عَن نَفسِهِ ۚ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم لا يُصيبُهُم ظَمَأٌ وَلا نَصَبٌ وَلا مَخمَصَةٌ فى سَبيلِ اللَّهِ وَلا يَطَـٔونَ مَوطِئًا يَغيظُ الكُفّارَ وَلا يَنالونَ مِن عَدُوٍّ نَيلًا إِلّا كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صٰلِحٌ ۚ إِنَّ اللَّهَ لا يُضيعُ أَجرَ المُحسِنينَ(120)
اہلِ مدینہ اور ان کے گرد و نواح کے (رہنے والے) دیہاتی لوگوں کے لئے مناسب نہ تھا کہ وہ رسول اﷲ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (الگ ہو کر) پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ ان کی جانِ (مبارک) سے زیادہ اپنی جانوں سے رغبت رکھیں، یہ (حکم) اس لئے ہے کہ انہیں اﷲ کی راہ میں جو پیاس (بھی) لگتی ہے اور جو مشقت (بھی) پہنچتی ہے اور جو بھوک (بھی) لگتی ہے اور جو کسی ایسی جگہ پر چلتے ہیں جہاں کاچلنا کافروں کو غضبناک کرتا ہے اور دشمن سے جو کچھ بھی پاتے ہیں (خواہ قتل اور زخم ہو یا مالِ غنیمت وغیرہ) مگر یہ کہ ہر ایک بات کے بدلہ میں ان کے لئے ایک نیک عمل لکھا جاتا ہے۔ بیشک اللہ نیکوکاروں کا اَجر ضائع نہیں فرماتا،(120)
وَلا يُنفِقونَ نَفَقَةً صَغيرَةً وَلا كَبيرَةً وَلا يَقطَعونَ وادِيًا إِلّا كُتِبَ لَهُم لِيَجزِيَهُمُ اللَّهُ أَحسَنَ ما كانوا يَعمَلونَ(121)
اور نہ یہ کہ وہ (مجاہدین) تھوڑا خرچہ کرتے ہیں اور نہ بڑا اور نہ (ہی) کسی میدان کو (راہِ خدا میں) طے کرتے ہیں مگر ان کے لئے (یہ سب صرف و سفر) لکھ دیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں (ہر اس عمل کی) بہتر جزا دے جو وہ کیا کرتے تھے،(121)
۞ وَما كانَ المُؤمِنونَ لِيَنفِروا كافَّةً ۚ فَلَولا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرقَةٍ مِنهُم طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهوا فِى الدّينِ وَلِيُنذِروا قَومَهُم إِذا رَجَعوا إِلَيهِم لَعَلَّهُم يَحذَرونَ(122)
اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سارے کے سارے مسلمان (ایک ساتھ) نکل کھڑے ہوں، تو ان میں سے ہر ایک گروہ (یا قبیلہ) کی ایک جماعت کیوں نہ نکلے کہ وہ لوگ دین میں تفقہ (یعنی خوب فہم و بصیرت) حاصل کریں اور وہ اپنی قوم کو ڈرائیں جب وہ ان کی طرف پلٹ کر آئیں تاکہ وہ (گناہوں اور نافرمانی کی زندگی سے) بچیں،(122)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا قٰتِلُوا الَّذينَ يَلونَكُم مِنَ الكُفّارِ وَليَجِدوا فيكُم غِلظَةً ۚ وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ مَعَ المُتَّقينَ(123)
اے ایمان والو! تم کافروں میں سے ایسے لوگوں سے جنگ کرو جو تمہارے قریب ہیں (یعنی جو تمہیں اور تمہارے دین کو براہِ راست نقصان پہنچا رہے ہیں) اور (جہاد ایسا اور اس وقت ہو کہ) وہ تمہارے اندر (طاقت و شجاعت کی) سختی پائیں، اورجان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے،(123)
وَإِذا ما أُنزِلَت سورَةٌ فَمِنهُم مَن يَقولُ أَيُّكُم زادَتهُ هٰذِهِ إيمٰنًا ۚ فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا فَزادَتهُم إيمٰنًا وَهُم يَستَبشِرونَ(124)
اور جب بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان (منافقوں) میں سے بعض (شرارتاً) یہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کون ہے جسے اس (سورت) نے ایمان میں زیادتی بخشی ہے، پس جو لوگ ایمان لے آئے ہیں سو اس (سورت) نے ان کے ایمان کو زیادہ کردیا اور وہ (اس کیفیتِ ایمانی پر) خوشیاں مناتے ہیں،(124)
وَأَمَّا الَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ فَزادَتهُم رِجسًا إِلىٰ رِجسِهِم وَماتوا وَهُم كٰفِرونَ(125)
اور جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے تو اس (سورت) نے ان کی خباثتِ (کفر و نفاق) پر مزید پلیدی (اور خباثت) بڑھا دی اور وہ اس حالت میں مرے کہ کافر ہی تھے،(125)
أَوَلا يَرَونَ أَنَّهُم يُفتَنونَ فى كُلِّ عامٍ مَرَّةً أَو مَرَّتَينِ ثُمَّ لا يَتوبونَ وَلا هُم يَذَّكَّرونَ(126)
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال میں ایک بار یا دو بار مصیبت میں مبتلا کئے جاتے ہیں پھر (بھی) وہ توبہ نہیں کرتے اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیں،(126)
وَإِذا ما أُنزِلَت سورَةٌ نَظَرَ بَعضُهُم إِلىٰ بَعضٍ هَل يَرىٰكُم مِن أَحَدٍ ثُمَّ انصَرَفوا ۚ صَرَفَ اللَّهُ قُلوبَهُم بِأَنَّهُم قَومٌ لا يَفقَهونَ(127)
اورجب بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں، (اور اشاروں سے پوچھتے ہیں) کہ کیا تمہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا پھر وہ پلٹ جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں کو پلٹ دیا ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے،(127)
لَقَد جاءَكُم رَسولٌ مِن أَنفُسِكُم عَزيزٌ عَلَيهِ ما عَنِتُّم حَريصٌ عَلَيكُم بِالمُؤمِنينَ رَءوفٌ رَحيمٌ(128)
بیشک تمہارے پاس تم میں سے (ایک باعظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں (گزرتا) ہے۔ (اے لوگو!) وہ تمہارے لئے (بھلائی اور ہدایت کے) بڑے طالب و آرزو مند رہتے ہیں (اور) مومنوں کے لئے نہایت (ہی) شفیق بے حد رحم فرمانے والے ہیں،(128)
فَإِن تَوَلَّوا فَقُل حَسبِىَ اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ عَلَيهِ تَوَكَّلتُ ۖ وَهُوَ رَبُّ العَرشِ العَظيمِ(129)
اگر (ان بے پناہ کرم نوازیوں کے باوجود) پھر (بھی) وہ روگردانی کریں تو فرما دیجئے: مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں اسی پر بھروسہ کئے ہوئے ہوں اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے،(129)