At-Tariq( الطارق)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَالسَّماءِ وَالطّارِقِ(1)
آسمان (کی فضائے بسیط اور خلائے عظیم) کی قَسم اور رات کو (نظر) آنے والے کی قَسم،(1)
وَما أَدرىٰكَ مَا الطّارِقُ(2)
اور آپ کو کیا معلوم کہ رات کو (نظر) آنے والا کیا ہے،(2)
النَّجمُ الثّاقِبُ(3)
(اس سے مراد) ہر وہ آسمانی کرّہ ہے (خواہ وہ ستارہ ہو یا سیارہ یا اَجرامِ سماوی کا کوئی اور کرّہ) جو چمک کر (فضا کو) روشن کر دیتا ہے٭، ٭ النجم الثاقب سے مراد ذاتِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہے، جس نے سراجاً منیراً کی شان کے ساتھ آسمانِ رسالت پر چمک کر ظلمت بھری کائنات کو نورِ ایمان سے روشن کر دیا ہے۔ (الشفاء)(3)
إِن كُلُّ نَفسٍ لَمّا عَلَيها حافِظٌ(4)
کوئی شخص ایسا نہیں جس پر ایک نگہبان (مقرر) نہیں ہے،(4)
فَليَنظُرِ الإِنسٰنُ مِمَّ خُلِقَ(5)
پس انسان کو غور (و تحقیق) کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے،(5)
خُلِقَ مِن ماءٍ دافِقٍ(6)
وہ قوت سے اچھلنے والے پانی (یعنی قوی اور متحرک مادۂ تولید) میں سے پیدا کیا گیا ہے،(6)
يَخرُجُ مِن بَينِ الصُّلبِ وَالتَّرائِبِ(7)
جو پیٹھ اور کولہے کی ہڈیوں کے درمیان (پیڑو کے حلقہ میں) سے گزر کر باہر نکلتا ہے،(7)
إِنَّهُ عَلىٰ رَجعِهِ لَقادِرٌ(8)
بیشک وہ اس (زندگی) کو پھر واپس لانے پر بھی قادر ہے،(8)
يَومَ تُبلَى السَّرائِرُ(9)
جس دن سب راز ظاہر کر دیے جائیں گے،(9)
فَما لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلا ناصِرٍ(10)
پھر انسان کے پاس نہ (خود) کوئی قوت ہوگی اور نہ کوئی (اس کا) مددگار ہوگا،(10)
وَالسَّماءِ ذاتِ الرَّجعِ(11)
اس آسمانی کائنات کی قَسم جو پھر اپنی ابتدائی حالت میں پلٹ جانے والی ہے،(11)
وَالأَرضِ ذاتِ الصَّدعِ(12)
اس زمین کی قَسم جو پھٹ (کر ریزہ ریزہ ہو) جانے والی ہے،(12)
إِنَّهُ لَقَولٌ فَصلٌ(13)
بیشک یہ فیصلہ کن (قطعی) فرمان ہے،(13)
وَما هُوَ بِالهَزلِ(14)
اور یہ ہنسی کی بات نہیں ہے،(14)
إِنَّهُم يَكيدونَ كَيدًا(15)
بیشک وہ (کافر) پُر فریب تدبیروں میں لگے ہوئے ہیں،(15)
وَأَكيدُ كَيدًا(16)
اور میں اپنی تدبیر فرما رہا ہوں،(16)
فَمَهِّلِ الكٰفِرينَ أَمهِلهُم رُوَيدًا(17)
پس آپ کافروں کو (ذرا) مہلت دے دیجئے، (زیادہ نہیں بس) انہیں تھوڑی سی ڈھیل (اور) دے دیجئے،(17)