At-Talaq( الطلاق)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ إِذا طَلَّقتُمُ النِّساءَ فَطَلِّقوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحصُوا العِدَّةَ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُم ۖ لا تُخرِجوهُنَّ مِن بُيوتِهِنَّ وَلا يَخرُجنَ إِلّا أَن يَأتينَ بِفٰحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ۚ وَتِلكَ حُدودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدودَ اللَّهِ فَقَد ظَلَمَ نَفسَهُ ۚ لا تَدرى لَعَلَّ اللَّهَ يُحدِثُ بَعدَ ذٰلِكَ أَمرًا(1)
اے نبی! (مسلمانوں سے فرما دیں:) جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو اُن کے طُہر کے زمانہ میں انہیں طلاق دو اور عِدّت کو شمار کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، اور انہیں اُن کے گھروں سے باہر مت نکالو اور نہ وہ خود باہر نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کر بیٹھیں، اور یہ اللہ کی (مقررّہ) حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو بیشک اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، (اے شخص!) تو نہیں جانتا شاید اللہ اِس کے (طلاق دینے کے) بعد (رجوع کی) کوئی نئی صورت پیدا فرما دے،(1)
فَإِذا بَلَغنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمسِكوهُنَّ بِمَعروفٍ أَو فارِقوهُنَّ بِمَعروفٍ وَأَشهِدوا ذَوَى عَدلٍ مِنكُم وَأَقيمُوا الشَّهٰدَةَ لِلَّهِ ۚ ذٰلِكُم يوعَظُ بِهِ مَن كانَ يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۚ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجعَل لَهُ مَخرَجًا(2)
پھر جب وہ اپنی مقررہ میعاد (کے ختم ہونے) کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں بھلائی کے ساتھ (اپنی زوجیت میں) روک لو یا انہیں بھلائی کے ساتھ جدا کردو۔ اور اپنوں میں سے دو عادل مَردوں کو گواہ بنا لو اور گواہی اللہ کے لئے قائم کیا کرو، اِن (باتوں) سے اسی شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اور جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے لئے (دنیا و آخرت کے رنج و غم سے) نکلنے کی راہ پیدا فرما دیتا ہے،(2)
وَيَرزُقهُ مِن حَيثُ لا يَحتَسِبُ ۚ وَمَن يَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بٰلِغُ أَمرِهِ ۚ قَد جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيءٍ قَدرًا(3)
اور اسے ایسی جگہ سے رِزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا، اور جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے تو وہ (اللہ) اسے کافی ہے، بیشک اللہ اپنا کام پورا کرلینے والا ہے، بیشک اللہ نے ہر شے کے لئے اندازہ مقرر فرما رکھا ہے،(3)
وَالّٰـٔى يَئِسنَ مِنَ المَحيضِ مِن نِسائِكُم إِنِ ارتَبتُم فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ أَشهُرٍ وَالّٰـٔى لَم يَحِضنَ ۚ وَأُولٰتُ الأَحمالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعنَ حَملَهُنَّ ۚ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجعَل لَهُ مِن أَمرِهِ يُسرًا(4)
اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر تمہیں شک ہو (کہ اُن کی عدّت کیا ہوگی) تو اُن کی عدّت تین مہینے ہے اور وہ عورتیں جنہیں (ابھی) حیض نہیں آیا (ان کی بھی یہی عدّت ہے)، اور حاملہ عورتیں (تو) اُن کی عدّت اُن کا وضعِ حمل ہے، اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے (تو) وہ اس کے کام میں آسانی فرما دیتا ہے،(4)
ذٰلِكَ أَمرُ اللَّهِ أَنزَلَهُ إِلَيكُم ۚ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّر عَنهُ سَيِّـٔاتِهِ وَيُعظِم لَهُ أَجرًا(5)
یہ اللہ کا امر ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل فرمایا ہے۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہ اُس کے چھوٹے گناہوں کو اس (کے نامۂ اعمال) سے مٹا دیتا ہے اور اَجر و ثواب کو اُس کے لئے بڑا کر دیتا ہے،(5)
أَسكِنوهُنَّ مِن حَيثُ سَكَنتُم مِن وُجدِكُم وَلا تُضارّوهُنَّ لِتُضَيِّقوا عَلَيهِنَّ ۚ وَإِن كُنَّ أُولٰتِ حَملٍ فَأَنفِقوا عَلَيهِنَّ حَتّىٰ يَضَعنَ حَملَهُنَّ ۚ فَإِن أَرضَعنَ لَكُم فَـٔاتوهُنَّ أُجورَهُنَّ ۖ وَأتَمِروا بَينَكُم بِمَعروفٍ ۖ وَإِن تَعاسَرتُم فَسَتُرضِعُ لَهُ أُخرىٰ(6)
تم اُن (مطلّقہ) عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم اپنی وسعت کے مطابق رہتے ہو اور انہیں تکلیف مت پہنچاؤ کہ اُن پر (رہنے کا ٹھکانا) تنگ کر دو، اور اگر وہ حاملہ ہوں تو اُن پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنا بچہ جَن لیں، پھر اگر وہ تمہاری خاطر (بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں اُن کا معاوضہ ادا کرتے رہو، اور آپس میں (ایک دوسرے سے) نیک بات کا مشورہ (حسبِ دستور) کر لیا کرو، اور اگر تم باہم دشواری محسوس کرو تو اسے (اب کوئی) دوسری عورت دودھ پلائے گی،(6)
لِيُنفِق ذو سَعَةٍ مِن سَعَتِهِ ۖ وَمَن قُدِرَ عَلَيهِ رِزقُهُ فَليُنفِق مِمّا ءاتىٰهُ اللَّهُ ۚ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفسًا إِلّا ما ءاتىٰها ۚ سَيَجعَلُ اللَّهُ بَعدَ عُسرٍ يُسرًا(7)
صاحبِ وسعت کو اپنی وسعت (کے لحاظ) سے خرچ کرنا چاہئے، اور جس شخص پر اُس کا رِزق تنگ کر دیا گیا ہو تو وہ اُسی (روزی) میں سے (بطورِ نفقہ) خرچ کرے جو اُسے اللہ نے عطا فرمائی ہے۔ اللہ کسی شخص کو مکلّف نہیں ٹھہراتا مگر اسی قدر جتنا کہ اُس نے اسے عطا فرما رکھا ہے، اللہ عنقریب تنگی کے بعد کشائش پیدا فرما دے گا،(7)
وَكَأَيِّن مِن قَريَةٍ عَتَت عَن أَمرِ رَبِّها وَرُسُلِهِ فَحاسَبنٰها حِسابًا شَديدًا وَعَذَّبنٰها عَذابًا نُكرًا(8)
اور کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جن (کے رہنے والوں) نے اپنے رب کے حکم اور اُس کے رسولوں سے سرکشی و سرتابی کی تو ہم نے اُن کا سخت حساب کی صورت میں محاسبہ کیا اور انہیں ایسے سخت عذاب میں مبتلا کیا جو نہ دیکھا نہ سنا گیا تھا،(8)
فَذاقَت وَبالَ أَمرِها وَكانَ عٰقِبَةُ أَمرِها خُسرًا(9)
سو انہوں نے اپنے کئے کا وبال چکھ لیا اور اُن کے کام کا انجام خسارہ ہی ہوا،(9)
أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم عَذابًا شَديدًا ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ يٰأُولِى الأَلبٰبِ الَّذينَ ءامَنوا ۚ قَد أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيكُم ذِكرًا(10)
اللہ نے اُن کے لئے (آخرت میں بھی) سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ سو اللہ سے ڈرتے رہا کرو اے عقل والو! جو ایمان لے آئے ہو، بیشک اللہ نے تمہاری (ہی) طرف نصیحتِ (قرآن) کو نازل فرمایا ہے،(10)
رَسولًا يَتلوا عَلَيكُم ءايٰتِ اللَّهِ مُبَيِّنٰتٍ لِيُخرِجَ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَى النّورِ ۚ وَمَن يُؤمِن بِاللَّهِ وَيَعمَل صٰلِحًا يُدخِلهُ جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها أَبَدًا ۖ قَد أَحسَنَ اللَّهُ لَهُ رِزقًا(11)
(اور) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (بھی بھیجا ہے) جو تم پر اللہ کی واضح آیات پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے، اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے وہ اسے ان جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں رواں ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، بیشک اللہ نے اُس کے لئے نہایت عمدہ رزق (تیار کر) رکھا ہے،(11)
اللَّهُ الَّذى خَلَقَ سَبعَ سَمٰوٰتٍ وَمِنَ الأَرضِ مِثلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الأَمرُ بَينَهُنَّ لِتَعلَموا أَنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَد أَحاطَ بِكُلِّ شَيءٍ عِلمًا(12)
اللہ (ہی) ہے جس نے سات آسمان پیدا فرمائے اور زمین (کی تشکیل) میں بھی انہی کی مِثل (تہ بہ تہ سات طبقات بنائے)، ان کے درمیان (نظامِ قدرت کی تدبیر کا) امر اترتا رہتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر بڑا قادر ہے، اور یہ کہ اللہ نے ہر چیز کا اپنے علم سے احاطہ فرما رکھا ہے (یعنی آنے والے زمانوں میں جب سائنسی اکتشافات کامل ہوں گے تو تمہیں اللہ کی قدرت اور علمِ محیط کی عظمت کا اندازہ ہو جائے گا کہ کس طرح اُس نے صدیوں قبل ان حقائق کو تمہارے لئے بیان فرما رکھا ہے)،(12)