Ash-Shu'araa( الشعراء)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ طسم(1)
طا، سین، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،(1)
تِلكَ ءايٰتُ الكِتٰبِ المُبينِ(2)
یہ (حق کو) واضح کرنے والی کتاب کی آیتیں ہیں،(2)
لَعَلَّكَ بٰخِعٌ نَفسَكَ أَلّا يَكونوا مُؤمِنينَ(3)
(اے حبیبِ مکرّم!) شاید آپ (اس غم میں) اپنی جانِ (عزیز) ہی دے بیٹھیں گے کہ وہ ایمان نہیں لاتے،(3)
إِن نَشَأ نُنَزِّل عَلَيهِم مِنَ السَّماءِ ءايَةً فَظَلَّت أَعنٰقُهُم لَها خٰضِعينَ(4)
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے (ایسی) نشانی اتار دیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی رہ جائیں،(4)
وَما يَأتيهِم مِن ذِكرٍ مِنَ الرَّحمٰنِ مُحدَثٍ إِلّا كانوا عَنهُ مُعرِضينَ(5)
اور ان کے پاس (خدائے) رحمان کی جانب سے کوئی نئی نصیحت نہیں آتی مگر وہ اس سے رُوگرداں ہو جاتے ہیں،(5)
فَقَد كَذَّبوا فَسَيَأتيهِم أَنبٰؤُا۟ ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(6)
سو بیشک وہ (حق کو) جھٹلا چکے پس عنقریب انہیں اس امر کی خبریں پہنچ جائیں گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،(6)
أَوَلَم يَرَوا إِلَى الأَرضِ كَم أَنبَتنا فيها مِن كُلِّ زَوجٍ كَريمٍ(7)
اور کیا انہوں نے زمین کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس میں کتنی ہی نفیس چیزیں اگائی ہیں،(7)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً ۖ وَما كانَ أَكثَرُهُم مُؤمِنينَ(8)
بیشک اس میں ضرور (قدرتِ الٰہیہ کی) نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں،(8)
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ(9)
اور یقیناً آپ کا رب ہی تو غالب، مہربان ہے،(9)
وَإِذ نادىٰ رَبُّكَ موسىٰ أَنِ ائتِ القَومَ الظّٰلِمينَ(10)
اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے موسٰی (علیہ السلام) کو نِدا دی کہ تم ظالموں کی قوم کے پاس جاؤ،(10)
قَومَ فِرعَونَ ۚ أَلا يَتَّقونَ(11)
(یعنی) قومِ فرعون کے پاس، کیا وہ (اللہ سے) نہیں ڈرتے،(11)
قالَ رَبِّ إِنّى أَخافُ أَن يُكَذِّبونِ(12)
موسٰی (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے رب! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے،(12)
وَيَضيقُ صَدرى وَلا يَنطَلِقُ لِسانى فَأَرسِل إِلىٰ هٰرونَ(13)
اور (ایسے ناسازگار ماحول میں) میرا سینہ تنگ ہوجاتا ہے اور میری زبان (روانی سے) نہیں چلتی سو ہارون (علیہ السلام) کی طرف (بھی جبرائیل علیہ السلام کو وحی کے ساتھ) بھیج دے (تاکہ وہ میرا معاون بن جائے)،(13)
وَلَهُم عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخافُ أَن يَقتُلونِ(14)
اور ان کا میرے اوپر (قبطی کو مار ڈالنے کا) ایک الزام بھی ہے سو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر ڈالیں گے،(14)
قالَ كَلّا ۖ فَاذهَبا بِـٔايٰتِنا ۖ إِنّا مَعَكُم مُستَمِعونَ(15)
ارشاد ہوا: ہرگز نہیں، پس تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ بیشک ہم تمہارے ساتھ (ہر بات) سننے والے ہیں،(15)
فَأتِيا فِرعَونَ فَقولا إِنّا رَسولُ رَبِّ العٰلَمينَ(16)
پس تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو: ہم سارے جہانوں کے پروردگار کے (بھیجے ہوئے) رسول ہیں،(16)
أَن أَرسِل مَعَنا بَنى إِسرٰءيلَ(17)
(ہمارا مدعا یہ ہے) کہ تو بنی اسرائیل کو (آزادی دے کر) ہمارے ساتھ بھیج دے،(17)
قالَ أَلَم نُرَبِّكَ فينا وَليدًا وَلَبِثتَ فينا مِن عُمُرِكَ سِنينَ(18)
(فرعون نے) کہا: کیا ہم نے تمہیں اپنے یہاں بچپن کی حالت میں پالا نہیں تھا اور تم نے اپنی عمر کے کتنے ہی سال ہمارے اندر بسر کئے تھے،(18)
وَفَعَلتَ فَعلَتَكَ الَّتى فَعَلتَ وَأَنتَ مِنَ الكٰفِرينَ(19)
اور (پھر) تم نے اپنا وہ کام کر ڈالا جو تم نے کیا تھا (یعنی ایک قبطی کو قتل کر دیا) اور تم ناشکر گزاروں میں سے ہو (ہماری پرورش اور احسانات کو بھول گئے ہو)،(19)
قالَ فَعَلتُها إِذًا وَأَنا۠ مِنَ الضّالّينَ(20)
(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: جب میں نے وہ کام کیا میں بے خبر تھا (کہ کیا ایک گھونسے سے اس کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے)،(20)
فَفَرَرتُ مِنكُم لَمّا خِفتُكُم فَوَهَبَ لى رَبّى حُكمًا وَجَعَلَنى مِنَ المُرسَلينَ(21)
پھر میں (اس وقت) تمہارے (دائرہ اختیار) سے نکل گیا جب میں تمہارے (ارادوں) سے خوفزدہ ہوا پھر میرے رب نے مجھے حکمِ (نبوت) بخشا اور (بالآخر) مجھے رسولوں میں شامل فرما دیا،(21)
وَتِلكَ نِعمَةٌ تَمُنُّها عَلَىَّ أَن عَبَّدتَ بَنى إِسرٰءيلَ(22)
اور کیا وہ (کوئی) بھلائی ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتا رہا ہے (اس کا سبب بھی یہ تھا) کہ تو نے (میری پوری قوم) بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا،(22)
قالَ فِرعَونُ وَما رَبُّ العٰلَمينَ(23)
فرعون نے کہا: سارے جہانوں کا پروردگار کیا چیز ہے،(23)
قالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُما ۖ إِن كُنتُم موقِنينَ(24)
(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: (وہ) جملہ آسمانوں کا اور زمین کا اور اُس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو،(24)
قالَ لِمَن حَولَهُ أَلا تَستَمِعونَ(25)
اس نے ان (لوگوں) سے کہا جو اس کے گرد (بیٹھے) تھے: کیا تم سن نہیں رہے ہو،(25)
قالَ رَبُّكُم وَرَبُّ ءابائِكُمُ الأَوَّلينَ(26)
(موسٰی علیہ السلام نے مزید) کہا کہ (وہی) تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا (بھی) رب ہے،(26)
قالَ إِنَّ رَسولَكُمُ الَّذى أُرسِلَ إِلَيكُم لَمَجنونٌ(27)
(فرعون نے) کہا: بیشک تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے،(27)
قالَ رَبُّ المَشرِقِ وَالمَغرِبِ وَما بَينَهُما ۖ إِن كُنتُم تَعقِلونَ(28)
(موسٰی علیہ السلام نے) کہا: (وہ) مشرق اور مغرب اور اس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم (کچھ) عقل رکھتے ہو،(28)
قالَ لَئِنِ اتَّخَذتَ إِلٰهًا غَيرى لَأَجعَلَنَّكَ مِنَ المَسجونينَ(29)
(فرعون نے) کہا: (اے موسٰی!) اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تم کو ضرور (گرفتار کر کے) قیدیوں میں شامل کر دوں گا،(29)
قالَ أَوَلَو جِئتُكَ بِشَيءٍ مُبينٍ(30)
(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: اگرچہ میں تیرے پاس کوئی واضح چیز (بطور معجزہ بھی) لے آؤں،(30)
قالَ فَأتِ بِهِ إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ(31)
(فرعون نے) کہا: تم اسے لے آؤ اگر تم سچے ہو،(31)
فَأَلقىٰ عَصاهُ فَإِذا هِىَ ثُعبانٌ مُبينٌ(32)
پس (موسیٰ علیہ السلام نے) اپنا عصا (زمین پر) ڈال دیا وہ اسی وقت واضح (طور پر) اژدھا بن گیا،(32)
وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذا هِىَ بَيضاءُ لِلنّٰظِرينَ(33)
اور (موسٰی علیہ السلام نے) اپنا ہاتھ (بغل میں ڈال کر) باہر نکالا تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کے لئے (چمک دار) سفید ہوگیا،(33)
قالَ لِلمَلَإِ حَولَهُ إِنَّ هٰذا لَسٰحِرٌ عَليمٌ(34)
(فرعون نے) اپنے ارد گرد (بیٹھے ہوئے) سرداروں سے کہا: بلاشبہ یہ بڑا دانا جادوگر ہے،(34)
يُريدُ أَن يُخرِجَكُم مِن أَرضِكُم بِسِحرِهِ فَماذا تَأمُرونَ(35)
یہ چاہتا ہے کہ تمہیں اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے باہر نکال دے پس تم (اب اس کے بارے میں) کیا رائے دیتے ہو،(35)
قالوا أَرجِه وَأَخاهُ وَابعَث فِى المَدائِنِ حٰشِرينَ(36)
وہ بولے کہ تو اسے اور اس کے بھائی (ہارون کے حکمِ سزا سنانے) کو مؤخر کر دے اور (تمام) شہروں میں (جادوگروں کو بلانے کے لئے) ہرکارے بھیج دے،(36)
يَأتوكَ بِكُلِّ سَحّارٍ عَليمٍ(37)
وہ تیرے پاس ہر بڑے ماہرِ فن جادوگر کو لے آئیں،(37)
فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِميقٰتِ يَومٍ مَعلومٍ(38)
پس سارے جادوگر مقررہ دن کے معینہ وقت پر جمع کر لئے گئے،(38)
وَقيلَ لِلنّاسِ هَل أَنتُم مُجتَمِعونَ(39)
اور (فرعون کی طرف سے) لوگوں کو کہا گیا کہ تم (اس موقع پر) جمع ہونے والے ہو،(39)
لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِن كانوا هُمُ الغٰلِبينَ(40)
تاکہ ہم جادوگروں (کے دین) کی پیروی کر سکیں اگر وہ (موسٰی اور ہارون پر) غالب آگئے،(40)
فَلَمّا جاءَ السَّحَرَةُ قالوا لِفِرعَونَ أَئِنَّ لَنا لَأَجرًا إِن كُنّا نَحنُ الغٰلِبينَ(41)
پھر جب وہ جادوگر آگئے (تو) انہوں نے فرعون سے کہا: کیا ہمارے لئے کوئی اُجرت (بھی مقرر) ہے اگر ہم (مقابلہ میں) غالب ہو جائیں،(41)
قالَ نَعَم وَإِنَّكُم إِذًا لَمِنَ المُقَرَّبينَ(42)
(فرعون نے) کہا: ہاں بیشک تم اسی وقت (اجرت والوں کی بجائے میرے) قربت والوں میں شامل ہو جاؤ گے (اور قربت کا درجہ اُجرت سے کہیں بلند ہے)،(42)
قالَ لَهُم موسىٰ أَلقوا ما أَنتُم مُلقونَ(43)
موسٰی (علیہ السلام) نے ان (جادوگروں سے) فرمایا: تم وہ (جادو کی) چیزیں ڈال دو جو تم ڈالنے والے ہو،(43)
فَأَلقَوا حِبالَهُم وَعِصِيَّهُم وَقالوا بِعِزَّةِ فِرعَونَ إِنّا لَنَحنُ الغٰلِبونَ(44)
تو انہوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے: فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب ہوں گے،(44)
فَأَلقىٰ موسىٰ عَصاهُ فَإِذا هِىَ تَلقَفُ ما يَأفِكونَ(45)
پھر موسٰی (علیہ السلام) نے اپنا ڈنڈا ڈال دیا تو وہ (اژدھا بن کر) فوراً ان چیزوں کو نگلنے لگا جو انہوں نے فریب کاری سے (اپنی اصل حقیقت سے) پھیر رکھی تھیں،(45)
فَأُلقِىَ السَّحَرَةُ سٰجِدينَ(46)
پس سارے جادوگر سجدہ کرتے ہوئے گر پڑے،(46)
قالوا ءامَنّا بِرَبِّ العٰلَمينَ(47)
وہ کہنے لگے: ہم سارے جہانوں کے پروردگار پر ایمان لے آئے،(47)
رَبِّ موسىٰ وَهٰرونَ(48)
(جو) موسٰی اور ہارون (علیہما السلام) کا رب ہے،(48)
قالَ ءامَنتُم لَهُ قَبلَ أَن ءاذَنَ لَكُم ۖ إِنَّهُ لَكَبيرُكُمُ الَّذى عَلَّمَكُمُ السِّحرَ فَلَسَوفَ تَعلَمونَ ۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيدِيَكُم وَأَرجُلَكُم مِن خِلٰفٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُم أَجمَعينَ(49)
(فرعون نے) کہا: تم اس پر ایمان لے آئے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا، بیشک یہ (موسٰی علیہ السلام) ہی تمہارا بڑا (استاد) ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے، تم جلد ہی (اپنا انجام) معلوم کر لو گے، میں ضرور ہی تمہارے ہاتھ اور تمہارے پاؤں الٹی طرف سے کاٹ ڈالوں گا اور تم سب کو یقیناً سولی پر چڑھا دوں گا،(49)
قالوا لا ضَيرَ ۖ إِنّا إِلىٰ رَبِّنا مُنقَلِبونَ(50)
انہوں نے کہا: (اس میں) کوئی نقصان نہیں، بیشک ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں،(50)
إِنّا نَطمَعُ أَن يَغفِرَ لَنا رَبُّنا خَطٰيٰنا أَن كُنّا أَوَّلَ المُؤمِنينَ(51)
ہم قوی امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطائیں معاف فرما دے گا، اس وجہ سے کہ (اب) ہم ہی سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں،(51)
۞ وَأَوحَينا إِلىٰ موسىٰ أَن أَسرِ بِعِبادى إِنَّكُم مُتَّبَعونَ(52)
اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ تم میرے بندوں کو راتوں رات (یہاں سے) لے جاؤ بیشک تمہارا تعاقب کیا جائے گا،(52)
فَأَرسَلَ فِرعَونُ فِى المَدائِنِ حٰشِرينَ(53)
پھر فرعون نے شہروں میں ہرکارے بھیج دئیے،(53)
إِنَّ هٰؤُلاءِ لَشِرذِمَةٌ قَليلونَ(54)
(اور کہا:) بیشک یہ (بنی اسرائیل) تھوڑی سی جماعت ہے،(54)
وَإِنَّهُم لَنا لَغائِظونَ(55)
اور بلاشبہ وہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں،(55)
وَإِنّا لَجَميعٌ حٰذِرونَ(56)
اور یقیناً ہم سب (بھی) مستعد اور چوکس ہیں،(56)
فَأَخرَجنٰهُم مِن جَنّٰتٍ وَعُيونٍ(57)
پس ہم نے ان (فرعونیوں) کو باغوں اور چشموں سے نکال باہر کیا،(57)
وَكُنوزٍ وَمَقامٍ كَريمٍ(58)
اور خزانوں اور نفیس قیام گاہوں سے (بھی نکال دیا)،(58)
كَذٰلِكَ وَأَورَثنٰها بَنى إِسرٰءيلَ(59)
(ہم نے) اسی طرح (کیا) اور ہم نے بنی اسرائیل کو ان (سب چیزوں) کا وارث بنا دیا،(59)
فَأَتبَعوهُم مُشرِقينَ(60)
پھر سورج نکلتے وقت ان (فرعونیوں) نے ان کا تعاقب کیا،(60)
فَلَمّا تَرٰءَا الجَمعانِ قالَ أَصحٰبُ موسىٰ إِنّا لَمُدرَكونَ(61)
پھر جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں (تو) موسٰی (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا: (اب) ہم ضرور پکڑے گئے،(61)
قالَ كَلّا ۖ إِنَّ مَعِىَ رَبّى سَيَهدينِ(62)
(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ابھی مجھے راہِ (نجات) دکھا دے گا،(62)
فَأَوحَينا إِلىٰ موسىٰ أَنِ اضرِب بِعَصاكَ البَحرَ ۖ فَانفَلَقَ فَكانَ كُلُّ فِرقٍ كَالطَّودِ العَظيمِ(63)
پھر ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنا عصا دریا پر مارو، پس دریا (بارہ حصوں میں) پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا زبردست پہاڑ کی مانند ہو گیا،(63)
وَأَزلَفنا ثَمَّ الءاخَرينَ(64)
اور ہم نے دوسروں (یعنی فرعون اور اس کے ساتھیوں) کو اس جگہ کے قریب کر دیا،(64)
وَأَنجَينا موسىٰ وَمَن مَعَهُ أَجمَعينَ(65)
اور ہم نے موسٰی علیہ السلام کو (بھی) نجات بخشی اور ان سب لوگوں کو (بھی) جو ان کے ساتھ تھے،(65)
ثُمَّ أَغرَقنَا الءاخَرينَ(66)
پھر ہم نے دوسروں (یعنی فرعونیوں) کو غرق کر دیا،(66)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً ۖ وَما كانَ أَكثَرُهُم مُؤمِنينَ(67)
بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ) کی بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے،(67)
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ(68)
اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے،(68)
وَاتلُ عَلَيهِم نَبَأَ إِبرٰهيمَ(69)
اور آپ ان پر ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ (بھی) پڑھ کر سنا دیں،(69)
إِذ قالَ لِأَبيهِ وَقَومِهِ ما تَعبُدونَ(70)
جب انہوں نے اپنے باپ ٭ اور اپنی قوم سے فرمایا: تم کس چیز کو پوجتے ہو، ٭ (یہ حقیقی باپ نہ تھا، چچا تھا۔ اسی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پرورش کی تھی جس کی وجہ سے اسے باپ کہا کرتے تھے۔ اس کا نام آزر ہے جبکہ آپ کے حقیقی والد کا نام تارخ ہے۔)(70)
قالوا نَعبُدُ أَصنامًا فَنَظَلُّ لَها عٰكِفينَ(71)
انہوں نے کہا: ہم بتوں کی پرستش کرتے ہیں اور ہم انہی (کی عبادت و خدمت) کے لئے جمے رہنے والے ہیں،(71)
قالَ هَل يَسمَعونَكُم إِذ تَدعونَ(72)
(ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: کیا وہ تمہیں سنتے ہیں جب تم (ان کو) پکارتے ہو،(72)
أَو يَنفَعونَكُم أَو يَضُرّونَ(73)
یا وہ تمہیں نفع پہنچاتے ہیں یا نقصان پہنچاتے ہیں،(73)
قالوا بَل وَجَدنا ءاباءَنا كَذٰلِكَ يَفعَلونَ(74)
وہ بولے: (یہ تو معلوم نہیں) لیکن ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا تھا،(74)
قالَ أَفَرَءَيتُم ما كُنتُم تَعبُدونَ(75)
(ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: کیا تم نے (کبھی ان کی حقیقت میں) غور کیا ہے جن کی تم پرستش کرتے ہو،(75)
أَنتُم وَءاباؤُكُمُ الأَقدَمونَ(76)
تم اور تمہارے اگلے آباء و اجداد (الغرض کسی نے بھی سوچا)،(76)
فَإِنَّهُم عَدُوٌّ لى إِلّا رَبَّ العٰلَمينَ(77)
پس وہ (سب بُت) میرے دشمن ہیں سوائے تمام جہانوں کے رب کے (وہی میرا معبود ہے)،(77)
الَّذى خَلَقَنى فَهُوَ يَهدينِ(78)
وہ جس نے مجھے پیدا کیا سو وہی مجھے ہدایت فرماتا ہے،(78)
وَالَّذى هُوَ يُطعِمُنى وَيَسقينِ(79)
اور وہی ہے جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے،(79)
وَإِذا مَرِضتُ فَهُوَ يَشفينِ(80)
اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے،(80)
وَالَّذى يُميتُنى ثُمَّ يُحيينِ(81)
اور وہی مجھے موت دے گا پھر وہی مجھے (دوبارہ) زندہ فرمائے گا،(81)
وَالَّذى أَطمَعُ أَن يَغفِرَ لى خَطيـَٔتى يَومَ الدّينِ(82)
اور اسی سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ قیامت وہ میری خطائیں معاف فرما دے گا،(82)
رَبِّ هَب لى حُكمًا وَأَلحِقنى بِالصّٰلِحينَ(83)
اے میرے رب! مجھے علم و عمل میں کمال عطا فرما اور مجھے اپنے قربِ خاص کے سزاواروں میں شامل فرما لے،(83)
وَاجعَل لى لِسانَ صِدقٍ فِى الءاخِرينَ(84)
اور میرے لئے بعد میں آنے والوں میں (بھی) ذکرِ خیر اور قبولیت جاری فرما،(84)
وَاجعَلنى مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعيمِ(85)
اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا دے،(85)
وَاغفِر لِأَبى إِنَّهُ كانَ مِنَ الضّالّينَ(86)
اور میرے باپ کو بخش دے بیشک وہ گمراہوں میں سے تھا،(86)
وَلا تُخزِنى يَومَ يُبعَثونَ(87)
اور مجھے (اُس دن) رسوا نہ کرنا جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے،(87)
يَومَ لا يَنفَعُ مالٌ وَلا بَنونَ(88)
جس دن نہ کوئی مال نفع دے گا اور نہ اولاد،(88)
إِلّا مَن أَتَى اللَّهَ بِقَلبٍ سَليمٍ(89)
مگر وہی شخص (نفع مند ہوگا) جو اللہ کی بارگاہ میں سلامتی والے بے عیب دل کے ساتھ حاضر ہوا،(89)
وَأُزلِفَتِ الجَنَّةُ لِلمُتَّقينَ(90)
اور (اس دن) جنت پرہیزگاروں کے قریب کر دی جائے گے،(90)
وَبُرِّزَتِ الجَحيمُ لِلغاوينَ(91)
اور دوزخ گمراہوں کے سامنے ظاہر کر دی جائے گی،(91)
وَقيلَ لَهُم أَينَ ما كُنتُم تَعبُدونَ(92)
اور ان سے کہا جائے گا: وہ (بت) کہاں ہیں جنہیں تم پوجتے تھے،(92)
مِن دونِ اللَّهِ هَل يَنصُرونَكُم أَو يَنتَصِرونَ(93)
اللہ کے سوا، کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں؟ (کہ اپنے آپ کو دوزخ سے بچالیں)،(93)
فَكُبكِبوا فيها هُم وَالغاوۥنَ(94)
سو وہ (بت بھی) اس (دوزخ) میں اوندھے منہ گرا دیئے جائیں گے اور گمراہ لوگ (بھی)،(94)
وَجُنودُ إِبليسَ أَجمَعونَ(95)
اور ابلیس کی ساری فوجیں (بھی واصل جہنم ہوں گی)،(95)
قالوا وَهُم فيها يَختَصِمونَ(96)
وہ (گمراہ لوگ) اس (دوزخ) میں باہم جھگڑا کرتے ہوئے کہیں گے،(96)
تَاللَّهِ إِن كُنّا لَفى ضَلٰلٍ مُبينٍ(97)
اللہ کی قسم! ہم کھلی گمراہی میں تھے،(97)
إِذ نُسَوّيكُم بِرَبِّ العٰلَمينَ(98)
جب ہم تمہیں سب جہانوں کے رب کے برابر ٹھہراتے تھے،(98)
وَما أَضَلَّنا إِلَّا المُجرِمونَ(99)
اور ہم کو (ان) مجرموں کے سوا کسی نے گمراہ نہیں کیا،(99)
فَما لَنا مِن شٰفِعينَ(100)
سو (آج) نہ کوئی ہماری سفارش کرنے والا ہے،(100)
وَلا صَديقٍ حَميمٍ(101)
اور نہ کوئی گرم جوش دوست ہے،(101)
فَلَو أَنَّ لَنا كَرَّةً فَنَكونَ مِنَ المُؤمِنينَ(102)
سو کاش ہمیں ایک بار (دنیا میں) پلٹنا (نصیب) ہو جاتا تو ہم مومن ہوجاتے،(102)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً ۖ وَما كانَ أَكثَرُهُم مُؤمِنينَ(103)
بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے، اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے،(103)
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ(104)
اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے،(104)
كَذَّبَت قَومُ نوحٍ المُرسَلينَ(105)
نوح (علیہ السلام) کی قوم نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،(105)
إِذ قالَ لَهُم أَخوهُم نوحٌ أَلا تَتَّقونَ(106)
جب ان سے ان کے (قومی) بھائی نوح (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو،(106)
إِنّى لَكُم رَسولٌ أَمينٌ(107)
بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،(107)
فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطيعونِ(108)
سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،(108)
وَما أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ مِن أَجرٍ ۖ إِن أَجرِىَ إِلّا عَلىٰ رَبِّ العٰلَمينَ(109)
اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف سب جہانوں کے رب کے ذمہ ہے،(109)
فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطيعونِ(110)
پس تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرادری کرو،(110)
۞ قالوا أَنُؤمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الأَرذَلونَ(111)
وہ بولے: کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں حالانکہ تمہاری پیروی (معاشرے کے) انتہائی نچلے اور حقیر (طبقات کے) لوگ کر رہے ہیں،(111)
قالَ وَما عِلمى بِما كانوا يَعمَلونَ(112)
(نوح علیہ السلام نے) فرمایا: میرے علم کو ان کے (پیشہ وارانہ) کاموں سے کیا سروکار،(112)
إِن حِسابُهُم إِلّا عَلىٰ رَبّى ۖ لَو تَشعُرونَ(113)
ان کا حساب تو صرف میرے رب ہی کے ذمہ ہے۔ کاش! تم سمجھتے (کہ حقیقی عزت و ذلت کیا ہے)،(113)
وَما أَنا۠ بِطارِدِ المُؤمِنينَ(114)
اور میں مومنوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں،(114)
إِن أَنا۠ إِلّا نَذيرٌ مُبينٌ(115)
میں تو فقط کھلا ڈر سنانے والا ہوں،(115)
قالوا لَئِن لَم تَنتَهِ يٰنوحُ لَتَكونَنَّ مِنَ المَرجومينَ(116)
وہ بولے: اے نوح! اگر تم (ان باتوں سے) باز نہ آئے تو تمہیں یقیناً سنگ سار کر دیا جائے گا،(116)
قالَ رَبِّ إِنَّ قَومى كَذَّبونِ(117)
(نوح علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا،(117)
فَافتَح بَينى وَبَينَهُم فَتحًا وَنَجِّنى وَمَن مَعِىَ مِنَ المُؤمِنينَ(118)
پس تو میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے اور مجھے اور ان مومنوں کو جو میرے ساتھ ہیں نجات دے دے،(118)
فَأَنجَينٰهُ وَمَن مَعَهُ فِى الفُلكِ المَشحونِ(119)
پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ بھری ہوئی کشتی میں (سوار) تھے نجات دے دی،(119)
ثُمَّ أَغرَقنا بَعدُ الباقينَ(120)
پھر اس کے بعد ہم نے باقی ماندہ لوگوں کو غرق کر دیا،(120)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً ۖ وَما كانَ أَكثَرُهُم مُؤمِنينَ(121)
بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے،(121)
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ(122)
اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے،(122)
كَذَّبَت عادٌ المُرسَلينَ(123)
(قومِ) عاد نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،(123)
إِذ قالَ لَهُم أَخوهُم هودٌ أَلا تَتَّقونَ(124)
جب اُن سے اُن کے (قومی) بھائی ھود (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو،(124)
إِنّى لَكُم رَسولٌ أَمينٌ(125)
بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،(125)
فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطيعونِ(126)
سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،(126)
وَما أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ مِن أَجرٍ ۖ إِن أَجرِىَ إِلّا عَلىٰ رَبِّ العٰلَمينَ(127)
اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا، میرا اجر تو فقط تمام جہانوں کے رب کے ذمہ ہے،(127)
أَتَبنونَ بِكُلِّ ريعٍ ءايَةً تَعبَثونَ(128)
کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار تعمیر کرتے ہو (محض) تفاخر اور فضول مشغلوں کے لئے،(128)
وَتَتَّخِذونَ مَصانِعَ لَعَلَّكُم تَخلُدونَ(129)
اور تم (تالابوں والے) مضبوط محلات بناتے ہو اس امید پر کہ تم (دنیا میں) ہمیشہ رہو گے،(129)
وَإِذا بَطَشتُم بَطَشتُم جَبّارينَ(130)
اور جب تم کسی کی گرفت کرتے ہو تو سخت ظالم و جابر بن کر گرفت کرتے ہو،(130)
فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطيعونِ(131)
سو تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری اختیار کرو،(131)
وَاتَّقُوا الَّذى أَمَدَّكُم بِما تَعلَمونَ(132)
اور اس (اللہ) سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے مدد کی جو تم جانتے ہو،(132)
أَمَدَّكُم بِأَنعٰمٍ وَبَنينَ(133)
اس نے تمہاری چوپایہ جانوروں اور اولاد سے مدد فرمائی،(133)
وَجَنّٰتٍ وَعُيونٍ(134)
اور باغات اور چشموں سے (بھی)،(134)
إِنّى أَخافُ عَلَيكُم عَذابَ يَومٍ عَظيمٍ(135)
بیشک میں تم پر ایک زبردست دن کے عذاب کا خوف رکھتا ہوں،(135)
قالوا سَواءٌ عَلَينا أَوَعَظتَ أَم لَم تَكُن مِنَ الوٰعِظينَ(136)
وہ بولے: ہمارے حق میں برابر ہے خواہ تم نصیحت کرو یا نصیحت کرنے والوں میں نہ بنو (ہم نہیں مانیں گے)،(136)
إِن هٰذا إِلّا خُلُقُ الأَوَّلينَ(137)
یہ (اور) کچھ نہیں مگر صرف پہلے لوگوں کی عادات (و اطوار) ہیں (جنہیں ہم چھوڑ نہیں سکتے)،(137)
وَما نَحنُ بِمُعَذَّبينَ(138)
اور ہم پر عذاب نہیں کیا جائے گا،(138)
فَكَذَّبوهُ فَأَهلَكنٰهُم ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً ۖ وَما كانَ أَكثَرُهُم مُؤمِنينَ(139)
سو انہوں نے اس کو (یعنی ھود علیہ السلام کو) جھٹلا دیا پس ہم نے انہیں ہلاک کر ڈالا، بیشک اس (قصہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے،(139)
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ(140)
اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے،(140)
كَذَّبَت ثَمودُ المُرسَلينَ(141)
(قومِ) ثمود نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،(141)
إِذ قالَ لَهُم أَخوهُم صٰلِحٌ أَلا تَتَّقونَ(142)
جب ان سے ان کے (قومی) بھائی صالح (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو،(142)
إِنّى لَكُم رَسولٌ أَمينٌ(143)
بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،(143)
فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطيعونِ(144)
پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،(144)
وَما أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ مِن أَجرٍ ۖ إِن أَجرِىَ إِلّا عَلىٰ رَبِّ العٰلَمينَ(145)
اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کچھ معاوضہ طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف سارے جہانوں کے پروردگار کے ذمہ ہے،(145)
أَتُترَكونَ فى ما هٰهُنا ءامِنينَ(146)
کیا تم ان (نعمتوں) میں جو یہاں (تمہیں میسر) ہیں (ہمیشہ کے لئے) امن و اطمینان سے چھوڑ دیئے جاؤ گے،(146)
فى جَنّٰتٍ وَعُيونٍ(147)
(یعنی یہاں کے) باغوں اور چشموں میں،(147)
وَزُروعٍ وَنَخلٍ طَلعُها هَضيمٌ(148)
اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے خوشے نرم و نازک ہوتے ہیں،(148)
وَتَنحِتونَ مِنَ الجِبالِ بُيوتًا فٰرِهينَ(149)
اور تم (سنگ تراشی کی) مہارت کے ساتھ پہاڑوں میں تراش (تراش) کر مکانات بناتے ہو،(149)
فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطيعونِ(150)
پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،(150)
وَلا تُطيعوا أَمرَ المُسرِفينَ(151)
اور حد سے تجاوز کرنے والوں کا کہنا نہ مانو،(151)
الَّذينَ يُفسِدونَ فِى الأَرضِ وَلا يُصلِحونَ(152)
جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور (معاشرہ کی) اصلاح نہیں کرتے،(152)
قالوا إِنَّما أَنتَ مِنَ المُسَحَّرينَ(153)
وہ بولے کہ تم تو فقط جادو زدہ لوگوں میں سے ہو،(153)
ما أَنتَ إِلّا بَشَرٌ مِثلُنا فَأتِ بِـٔايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ(154)
تم تو محض ہمارے جیسے بشر ہو، پس تم کوئی نشانی لے آؤ اگر تم سچے ہو،(154)
قالَ هٰذِهِ ناقَةٌ لَها شِربٌ وَلَكُم شِربُ يَومٍ مَعلومٍ(155)
(صالح علیہ السلام نے) فرمایا: (وہ نشانی) یہ اونٹنی ہے پانی کا ایک وقت اس کے لئے (مقرر) ہے اور ایک مقررہ دن تمہارے پانی کی باری ہے،(155)
وَلا تَمَسّوها بِسوءٍ فَيَأخُذَكُم عَذابُ يَومٍ عَظيمٍ(156)
اور اِسے برائی (کے ارادہ) سے ہاتھ مت لگانا ورنہ بڑے (سخت) دن کا عذاب تمہیں آپکڑے گا،(156)
فَعَقَروها فَأَصبَحوا نٰدِمينَ(157)
پھر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں (سو اسے ہلاک کر دیا) پھر وہ (اپنے کئے پر) پشیمان ہو گئے،(157)
فَأَخَذَهُمُ العَذابُ ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً ۖ وَما كانَ أَكثَرُهُم مُؤمِنينَ(158)
سو انہیں عذاب نے آپکڑا، بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے،(158)
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ(159)
اور بیشک آپ کا رب ہی بڑا غالب رحمت والا ہے،(159)
كَذَّبَت قَومُ لوطٍ المُرسَلينَ(160)
قومِ لوط نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،(160)
إِذ قالَ لَهُم أَخوهُم لوطٌ أَلا تَتَّقونَ(161)
جب ان سے ان کے (قومی) بھائی لوط (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو،(161)
إِنّى لَكُم رَسولٌ أَمينٌ(162)
بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،(162)
فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطيعونِ(163)
پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت اختیار کرو،(163)
وَما أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ مِن أَجرٍ ۖ إِن أَجرِىَ إِلّا عَلىٰ رَبِّ العٰلَمينَ(164)
اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف تمام جہانوں کے رب کے ذمہ ہے،(164)
أَتَأتونَ الذُّكرانَ مِنَ العٰلَمينَ(165)
کیا تم سارے جہان والوں میں سے صرف مَردوں ہی کے پاس (اپنی شہوانی خواہشات پوری کرنے کے لئے) آتے ہو،(165)
وَتَذَرونَ ما خَلَقَ لَكُم رَبُّكُم مِن أَزوٰجِكُم ۚ بَل أَنتُم قَومٌ عادونَ(166)
اور اپنی بیویوں کو چھوڑ دیتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے لئے پیدا کی ہیں، بلکہ تم (سرکشی میں) حد سے نکل جانے والے لوگ ہو،(166)
قالوا لَئِن لَم تَنتَهِ يٰلوطُ لَتَكونَنَّ مِنَ المُخرَجينَ(167)
وہ بولے: اے لوط! اگر تم (ان باتوں سے) باز نہ آئے تو تم ضرور شہر بدر کئے جانے والوں میں سے ہو جاؤ گے،(167)
قالَ إِنّى لِعَمَلِكُم مِنَ القالينَ(168)
(لوط علیہ السلام نے) فرمایا: بیشک میں تمہارے عمل سے بیزار ہونے والوں میں سے ہوں،(168)
رَبِّ نَجِّنى وَأَهلى مِمّا يَعمَلونَ(169)
اے رب! تو مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کام کے وبال) سے نجات عطا فرما جو یہ کر رہے ہیں،(169)
فَنَجَّينٰهُ وَأَهلَهُ أَجمَعينَ(170)
پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات عطا فرما دی،(170)
إِلّا عَجوزًا فِى الغٰبِرينَ(171)
سوائے ایک بوڑھی عورت کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی،(171)
ثُمَّ دَمَّرنَا الءاخَرينَ(172)
پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا،(172)
وَأَمطَرنا عَلَيهِم مَطَرًا ۖ فَساءَ مَطَرُ المُنذَرينَ(173)
اور ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش برسائی سو ڈرائے ہوئے لوگوں کی بارش کتنی تباہ کن تھی،(173)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً ۖ وَما كانَ أَكثَرُهُم مُؤمِنينَ(174)
بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے،(174)
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ(175)
اور بیشک آپ کا رب ہی بڑا غالب رحمت والا ہے،(175)
كَذَّبَ أَصحٰبُ لـَٔيكَةِ المُرسَلينَ(176)
باشندگانِ ایکہ (یعنی جنگل کے رہنے والوں) نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا،(176)
إِذ قالَ لَهُم شُعَيبٌ أَلا تَتَّقونَ(177)
جب ان سے شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو،(177)
إِنّى لَكُم رَسولٌ أَمينٌ(178)
بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،(178)
فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطيعونِ(179)
پس تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری اختیار کرو،(179)
وَما أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ مِن أَجرٍ ۖ إِن أَجرِىَ إِلّا عَلىٰ رَبِّ العٰلَمينَ(180)
اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف تمام جہانوں کے رب کے ذمہ ہے،(180)
۞ أَوفُوا الكَيلَ وَلا تَكونوا مِنَ المُخسِرينَ(181)
تم پیمانہ پورا بھرا کرو اور (لوگوں کے حقوق کو) نقصان پہنچانے والے نہ بنو،(181)
وَزِنوا بِالقِسطاسِ المُستَقيمِ(182)
اور سیدھی ترازو سے تولا کرو،(182)
وَلا تَبخَسُوا النّاسَ أَشياءَهُم وَلا تَعثَوا فِى الأَرضِ مُفسِدينَ(183)
اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم (تول کے ساتھ) مت دیا کرو اور ملک میں (ایسی اخلاقی، مالی اور سماجی خیانتوں کے ذریعے) فساد انگیزی مت کرتے پھرو،(183)
وَاتَّقُوا الَّذى خَلَقَكُم وَالجِبِلَّةَ الأَوَّلينَ(184)
اور اس (اللہ) سے ڈرو جس نے تم کو اور پہلی امتوں کو پیدا فرمایا،(184)
قالوا إِنَّما أَنتَ مِنَ المُسَحَّرينَ(185)
وہ کہنے لگے: (اے شعیب!) تم تو محض جادو زدہ لوگوں میں سے ہو،(185)
وَما أَنتَ إِلّا بَشَرٌ مِثلُنا وَإِن نَظُنُّكَ لَمِنَ الكٰذِبينَ(186)
اور تم فقط ہمارے جیسے بشر ہی تو ہو اور ہم تمہیں یقیناً جھوٹے لوگوں میں سے خیال کرتے ہیں،(186)
فَأَسقِط عَلَينا كِسَفًا مِنَ السَّماءِ إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ(187)
پس تم ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے ہو،(187)
قالَ رَبّى أَعلَمُ بِما تَعمَلونَ(188)
(شعیب علیہ السلام نے) فرمایا: میرا رب ان (کارستانیوں) کو خوب جاننے والا ہے جو تم انجام دے رہے ہو،(188)
فَكَذَّبوهُ فَأَخَذَهُم عَذابُ يَومِ الظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُ كانَ عَذابَ يَومٍ عَظيمٍ(189)
سو انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا پس انہیں سائبان کے دن کے عذاب نے آپکڑا، بیشک وہ زبردست دن کا عذاب تھا،(189)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً ۖ وَما كانَ أَكثَرُهُم مُؤمِنينَ(190)
بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے۔،(190)
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ(191)
اور بیشک آپ کا رب ہی بڑا غالب رحمت والا ہے،(191)
وَإِنَّهُ لَتَنزيلُ رَبِّ العٰلَمينَ(192)
اور بیشک یہ (قرآن) سارے جہانوں کے رب کا نازل کردہ ہے،(192)
نَزَلَ بِهِ الرّوحُ الأَمينُ(193)
اسے روح الامین (جبرائیل علیہ السلام) لے کر اترا ہے،(193)
عَلىٰ قَلبِكَ لِتَكونَ مِنَ المُنذِرينَ(194)
آپ کے قلبِ (انور) پر تاکہ آپ (نافرمانوں کو) ڈر سنانے والوں میں سے ہو جائیں،(194)
بِلِسانٍ عَرَبِىٍّ مُبينٍ(195)
(اس کا نزول) فصیح عربی زبان میں (ہوا) ہے،(195)
وَإِنَّهُ لَفى زُبُرِ الأَوَّلينَ(196)
اور بیشک یہ پہلی امتوں کے صحیفوں میں (بھی مذکور) ہے،(196)
أَوَلَم يَكُن لَهُم ءايَةً أَن يَعلَمَهُ عُلَمٰؤُا۟ بَنى إِسرٰءيلَ(197)
اور کیا ان کے لئے (صداقتِ قرآن اور صداقتِ نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) یہ دلیل (کافی) نہیں ہے کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء (بھی) جانتے ہیں،(197)
وَلَو نَزَّلنٰهُ عَلىٰ بَعضِ الأَعجَمينَ(198)
اور اگر ہم اسے غیر عربی لوگوں (یعنی عجمیوں) میں سے کسی پر نازل کرتے،(198)
فَقَرَأَهُ عَلَيهِم ما كانوا بِهِ مُؤمِنينَ(199)
سو وہ اس کو ان لوگوں پر پڑھتا تو (بھی) یہ لوگ اس پر ایمان لانے والے نہ ہوتے،(199)
كَذٰلِكَ سَلَكنٰهُ فى قُلوبِ المُجرِمينَ(200)
اس طرح ہم نے اس (کے انکار) کو مجرموں کے دلوں میں پختگی سے داخل کر دیا ہے،(200)
لا يُؤمِنونَ بِهِ حَتّىٰ يَرَوُا العَذابَ الأَليمَ(201)
وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں،(201)
فَيَأتِيَهُم بَغتَةً وَهُم لا يَشعُرونَ(202)
پس وہ (عذاب) انہیں اچانک آپہنچے گا اور انہیں شعور (بھی) نہ ہوگا،(202)
فَيَقولوا هَل نَحنُ مُنظَرونَ(203)
تب وہ کہیں گے: کیا ہمیں مہلت دی جائے گی،(203)
أَفَبِعَذابِنا يَستَعجِلونَ(204)
کیا یہ ہمارے عذاب میں جلدی کے طلب گار ہیں،(204)
أَفَرَءَيتَ إِن مَتَّعنٰهُم سِنينَ(205)
بھلا بتائیے اگر ہم انہیں برسوں فائدہ پہنچاتے رہیں،(205)
ثُمَّ جاءَهُم ما كانوا يوعَدونَ(206)
پھر ان کے پاس وہ (عذاب) آپہنچے جس کا ان سے وعدہ کیا جار ہا ہے،(206)
ما أَغنىٰ عَنهُم ما كانوا يُمَتَّعونَ(207)
(تو) وہ چیزیں (ان سے عذاب کو دفع کرنے میں) کیا کام آئیں گی جن سے وہ فائدہ اٹھاتے رہے تھے،(207)
وَما أَهلَكنا مِن قَريَةٍ إِلّا لَها مُنذِرونَ(208)
اور ہم نے سوائے ان (بستیوں) کے جن کے لئے ڈرانے والے (آچکے) تھے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا،(208)
ذِكرىٰ وَما كُنّا ظٰلِمينَ(209)
(اور یہ بھی) نصیحت کے لئے اور ہم ظالم نہ تھے،(209)
وَما تَنَزَّلَت بِهِ الشَّيٰطينُ(210)
اور شیطان اس (قرآن) کو لے کرنہیں اترے،(210)
وَما يَنبَغى لَهُم وَما يَستَطيعونَ(211)
نہ (یہ) ان کے لئے سزاوار ہے اور نہ وہ (اس کی) طاقت رکھتے ہیں،(211)
إِنَّهُم عَنِ السَّمعِ لَمَعزولونَ(212)
بیشک وہ (اس کلام کے) سننے سے روک دیئے گئے ہیں،(212)
فَلا تَدعُ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ فَتَكونَ مِنَ المُعَذَّبينَ(213)
پس (اے بندے!) تو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پوجا کر ورنہ تو عذاب یافتہ لوگوں میں سے ہو جائے گا،(213)
وَأَنذِر عَشيرَتَكَ الأَقرَبينَ(214)
اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو (ہمارے عذاب سے) ڈرائیے،(214)
وَاخفِض جَناحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ المُؤمِنينَ(215)
اور آپ اپنا بازوئے (رحمت و شفقت) ان مومنوں کے لئے بچھا دیجئے جنہوں نے آپ کی پیروی اختیار کر لی ہے،(215)
فَإِن عَصَوكَ فَقُل إِنّى بَريءٌ مِمّا تَعمَلونَ(216)
پھر اگر وہ آپ کی نافرمانی کریں تو آپ فرما دیجئے کہ میں ان اعمالِ (بد) سے بیزار ہوں جو تم انجام دے رہے ہو،(216)
وَتَوَكَّل عَلَى العَزيزِ الرَّحيمِ(217)
اور بڑے غالب مہربان (رب) پر بھروسہ رکھیے،(217)
الَّذى يَرىٰكَ حينَ تَقومُ(218)
جو آپ کو (رات کی تنہائیوں میں بھی) دیکھتا ہے جب آپ (نمازِ تہجد کے لئے) قیام کرتے ہیں،(218)
وَتَقَلُّبَكَ فِى السّٰجِدينَ(219)
اور سجدہ گزاروں میں (بھی) آپ کا پلٹنا دیکھتا (رہتا) ہے،(219)
إِنَّهُ هُوَ السَّميعُ العَليمُ(220)
بیشک وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے،(220)
هَل أُنَبِّئُكُم عَلىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيٰطينُ(221)
کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں،(221)
تَنَزَّلُ عَلىٰ كُلِّ أَفّاكٍ أَثيمٍ(222)
وہ ہر جھوٹے (بہتان طراز) گناہگار پر اترا کرتے ہیں،(222)
يُلقونَ السَّمعَ وَأَكثَرُهُم كٰذِبونَ(223)
جو سنی سنائی باتیں (ان کے کانوں میں) ڈال دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں،(223)
وَالشُّعَراءُ يَتَّبِعُهُمُ الغاوۥنَ(224)
اور شاعروں کی پیروی بہکے ہوئے لوگ ہی کرتے ہیں،(224)
أَلَم تَرَ أَنَّهُم فى كُلِّ وادٍ يَهيمونَ(225)
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ (شعراء) ہر وادئ (خیال) میں (یونہی) سرگرداں پھرتے رہتے ہیں (انہیں حق میں سچی دلچسپی اور سنجیدگی نہیں ہوتی بلکہ فقط لفظی و فکری جولانیوں میں مست اور خوش رہتے ہیں)،(225)
وَأَنَّهُم يَقولونَ ما لا يَفعَلونَ(226)
اور یہ کہ وہ (ایسی باتیں) کہتے ہیں جنہیں (خود) کرتے نہیں ہیں،(226)
إِلَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثيرًا وَانتَصَروا مِن بَعدِ ما ظُلِموا ۗ وَسَيَعلَمُ الَّذينَ ظَلَموا أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبونَ(227)
سوائے ان (شعراء) کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہے (یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدح خواں بن گئے) اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد (ظالموں سے بزبانِ شعر) انتقام لیا (اور اپنے کلام کے ذریعے اسلام اور مظلوموں کا دفاع کیا بلکہ ان کاجوش بڑھایا تو یہ شاعری مذموم نہیں)، اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا عنقریب جان لیں گے کہ وہ (مرنے کے بعد) کونسی پلٹنے کی جگہ پلٹ کر جاتے ہیں،(227)