As-Sajda( السجدة)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الم(1)
الف، لام، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،(1)
تَنزيلُ الكِتٰبِ لا رَيبَ فيهِ مِن رَبِّ العٰلَمينَ(2)
اس کتاب کا اتارا جانا، اس میں کچھ شک نہیں کہ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے،(2)
أَم يَقولونَ افتَرىٰهُ ۚ بَل هُوَ الحَقُّ مِن رَبِّكَ لِتُنذِرَ قَومًا ما أَتىٰهُم مِن نَذيرٍ مِن قَبلِكَ لَعَلَّهُم يَهتَدونَ(3)
کیا کفار و مشرکین یہ کہتے ہیں کہ اسے اس (رسول) نے گھڑ لیا ہے۔ بلکہ وہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ اس قوم کو ڈر سنائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا تاکہ وہ ہدایت پائیں،(3)
اللَّهُ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما فى سِتَّةِ أَيّامٍ ثُمَّ استَوىٰ عَلَى العَرشِ ۖ ما لَكُم مِن دونِهِ مِن وَلِىٍّ وَلا شَفيعٍ ۚ أَفَلا تَتَذَكَّرونَ(4)
اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (اسے) چھ دنوں (یعنی چھ مدتوں) میں پیدا فرمایا پھر (نظامِ کائنات کے) عرشِ (اقتدار) پر قائم ہوا، تمہارے لئے اسے چھوڑ کر نہ کوئی کارساز ہے اور نہ کوئی سفارشی، سو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے،(4)
يُدَبِّرُ الأَمرَ مِنَ السَّماءِ إِلَى الأَرضِ ثُمَّ يَعرُجُ إِلَيهِ فى يَومٍ كانَ مِقدارُهُ أَلفَ سَنَةٍ مِمّا تَعُدّونَ(5)
وہ آسمان سے زمین تک (نظامِ اقتدار) کی تدبیر فرماتا ہے پھر وہ امر اس کی طرف ایک دن میں چڑھتا ہے (اور چڑھے گا) جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو،(5)
ذٰلِكَ عٰلِمُ الغَيبِ وَالشَّهٰدَةِ العَزيزُ الرَّحيمُ(6)
وہی غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے، غالب و مہربان ہے،(6)
الَّذى أَحسَنَ كُلَّ شَيءٍ خَلَقَهُ ۖ وَبَدَأَ خَلقَ الإِنسٰنِ مِن طينٍ(7)
وہی ہے جس نے خوبی و حسن بخشا ہر اس چیز کو جسے اس نے پیدا فرمایا اور اس نے انسانی تخلیق کی ابتداء مٹی (یعنی غیر نامی مادّہ) سے کی،(7)
ثُمَّ جَعَلَ نَسلَهُ مِن سُلٰلَةٍ مِن ماءٍ مَهينٍ(8)
پھر اس کی نسل کو حقیر پانی کے نچوڑ (یعنی نطفہ) سے چلایا،(8)
ثُمَّ سَوّىٰهُ وَنَفَخَ فيهِ مِن روحِهِ ۖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمعَ وَالأَبصٰرَ وَالأَفـِٔدَةَ ۚ قَليلًا ما تَشكُرونَ(9)
پھر اس (میں اعضاء) کو درست کیا اور اس میں اپنی روحِ (حیات) پھونکی اور تمہارے لئے (رحمِ مادر ہی میں پہلے) کان اور (پھر) آنکھیں اور (پھر) دل و دماغ بنائے، تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو،(9)
وَقالوا أَءِذا ضَلَلنا فِى الأَرضِ أَءِنّا لَفى خَلقٍ جَديدٍ ۚ بَل هُم بِلِقاءِ رَبِّهِم كٰفِرونَ(10)
اور کفار کہتے ہیں کہ جب ہم مٹی میں مِل کر گم ہوجائیں گے تو (کیا) ہم اَز سرِ نَو پیدائش میں آئیں گے، بلکہ وہ اپنے رب سے ملاقات ہی کے مُنکِر ہیں،(10)
۞ قُل يَتَوَفّىٰكُم مَلَكُ المَوتِ الَّذى وُكِّلَ بِكُم ثُمَّ إِلىٰ رَبِّكُم تُرجَعونَ(11)
آپ فرما دیں کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روح قبض کرتا ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے،(11)
وَلَو تَرىٰ إِذِ المُجرِمونَ ناكِسوا رُءوسِهِم عِندَ رَبِّهِم رَبَّنا أَبصَرنا وَسَمِعنا فَارجِعنا نَعمَل صٰلِحًا إِنّا موقِنونَ(12)
اور اگر آپ دیکھیں (تو ان پر تعجب کریں) کہ جب مُجرِم لوگ اپنے رب کے حضور سر جھکائے ہوں گے اور (کہیں گے:) اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور ہم نے سُن لیا، پس (اب) ہمیں (دنیا میں) واپس لوٹا دے کہ ہم نیک عمل کر لیں بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں،(12)
وَلَو شِئنا لَءاتَينا كُلَّ نَفسٍ هُدىٰها وَلٰكِن حَقَّ القَولُ مِنّى لَأَملَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الجِنَّةِ وَالنّاسِ أَجمَعينَ(13)
اور اگر ہم چاہتے تو ہم ہر نفس کو اس کی ہدایت (اَز خود ہی) عطا کر دیتے لیکن میری طرف سے (یہ) فرمان ثابت ہو چکا ہے کہ میں ضرور سب (مُنکر) جنّات اور انسانوں سے دوزخ کو بھر دوں گا،(13)
فَذوقوا بِما نَسيتُم لِقاءَ يَومِكُم هٰذا إِنّا نَسينٰكُم ۖ وَذوقوا عَذابَ الخُلدِ بِما كُنتُم تَعمَلونَ(14)
پس (اب) تم مزہ چکھو کہ تم نے اپنے اس دن کی پیشی کو بھلا رکھا تھا، بیشک ہم نے تم کو بھلا دیا ہے اور اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے رہے تھے دائمی عذاب چکھتے رہو،(14)
إِنَّما يُؤمِنُ بِـٔايٰتِنَا الَّذينَ إِذا ذُكِّروا بِها خَرّوا سُجَّدًا وَسَبَّحوا بِحَمدِ رَبِّهِم وَهُم لا يَستَكبِرونَ ۩(15)
پس ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں اُن (آیتوں) کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبّر نہیں کرتے،(15)
تَتَجافىٰ جُنوبُهُم عَنِ المَضاجِعِ يَدعونَ رَبَّهُم خَوفًا وَطَمَعًا وَمِمّا رَزَقنٰهُم يُنفِقونَ(16)
ان کے پہلو اُن کی خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور امید (کی مِلی جُلی کیفیت) سے پکارتے ہیں اور ہمارے عطا کردہ رزق میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں،(16)
فَلا تَعلَمُ نَفسٌ ما أُخفِىَ لَهُم مِن قُرَّةِ أَعيُنٍ جَزاءً بِما كانوا يَعمَلونَ(17)
سو کسی کو معلوم نہیں جو آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ رکھی گئی ہے، یہ ان (اَعمالِ صالحہ) کا بدلہ ہوگا جو وہ کرتے رہے تھے،(17)
أَفَمَن كانَ مُؤمِنًا كَمَن كانَ فاسِقًا ۚ لا يَستَوۥنَ(18)
بھلا وہ شخص جو صاحبِ ایمان ہو اس کی مثل ہو سکتا ہے جو نافرمان ہو، (نہیں) یہ (دونوں) برابر نہیں ہو سکتے،(18)
أَمَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُم جَنّٰتُ المَأوىٰ نُزُلًا بِما كانوا يَعمَلونَ(19)
چنانچہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو ان کے لئے دائمی سکونت کے باغات ہیں، (اللہ کی طرف سے ان کی) ضیافت و اِکرام میں اُن (اَعمال) کے بدلے جو وہ کرتے رہے تھے،(19)
وَأَمَّا الَّذينَ فَسَقوا فَمَأوىٰهُمُ النّارُ ۖ كُلَّما أَرادوا أَن يَخرُجوا مِنها أُعيدوا فيها وَقيلَ لَهُم ذوقوا عَذابَ النّارِ الَّذى كُنتُم بِهِ تُكَذِّبونَ(20)
اور جو لوگ نافرمان ہوئے سو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہ جب بھی اس سے نکل بھاگنے کا ارادہ کریں گے تو اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اِس آتشِ دوزخ کا عذاب چکھتے رہو جِسے تم جھٹلایا کرتے تھے،(20)
وَلَنُذيقَنَّهُم مِنَ العَذابِ الأَدنىٰ دونَ العَذابِ الأَكبَرِ لَعَلَّهُم يَرجِعونَ(21)
اور ہم ان کو یقیناً (آخرت کے) بڑے عذاب سے پہلے قریب تر (دنیوی) عذاب (کا مزہ) چکھائیں گے تاکہ وہ (کفر سے) باز آجائیں،(21)
وَمَن أَظلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـٔايٰتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعرَضَ عَنها ۚ إِنّا مِنَ المُجرِمينَ مُنتَقِمونَ(22)
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جسے اس کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جائے پھر وہ اُن سے منہ پھیر لے، بیشک ہم مُجرموں سے بدلہ لینے والے ہیں،(22)
وَلَقَد ءاتَينا موسَى الكِتٰبَ فَلا تَكُن فى مِريَةٍ مِن لِقائِهِ ۖ وَجَعَلنٰهُ هُدًى لِبَنى إِسرٰءيلَ(23)
اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب (تورات) عطا فرمائی تو آپ ان کی ملاقات کی نسبت شک میں نہ رہیں (وہ ملاقات آپ سے عنقریب شبِ معراج ہونے والی ہے) اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنایا،(23)
وَجَعَلنا مِنهُم أَئِمَّةً يَهدونَ بِأَمرِنا لَمّا صَبَروا ۖ وَكانوا بِـٔايٰتِنا يوقِنونَ(24)
اور ہم نے ان میں سے جب وہ صبر کرتے رہے کچھ امام و پیشوا بنا دیئے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے رہے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے،(24)
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفصِلُ بَينَهُم يَومَ القِيٰمَةِ فيما كانوا فيهِ يَختَلِفونَ(25)
بیشک آپ کا رب ہی ان لوگوں کے درمیان قیامت کے دن ان (باتوں) کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے،(25)
أَوَلَم يَهدِ لَهُم كَم أَهلَكنا مِن قَبلِهِم مِنَ القُرونِ يَمشونَ فى مَسٰكِنِهِم ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ ۖ أَفَلا يَسمَعونَ(26)
اور کیا انہیں (اس امر سے) ہدایت نہیں ہوئی کہ ہم نے اِن سے پہلے کتنی ہی امّتوں کو ہلاک کر ڈالا تھا جن کی رہائش گاہوں میں (اب) یہ لوگ چَلتے پِھرتے ہیں۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں، تو کیا وہ سنتے نہیں ہیں،(26)
أَوَلَم يَرَوا أَنّا نَسوقُ الماءَ إِلَى الأَرضِ الجُرُزِ فَنُخرِجُ بِهِ زَرعًا تَأكُلُ مِنهُ أَنعٰمُهُم وَأَنفُسُهُم ۖ أَفَلا يُبصِرونَ(27)
اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم پانی کو بنجَر زمین کی طرف بہا لے جاتے ہیں، پھر ہم اس سے کھیت نکالتے ہیں جس سے ان کے چوپائے (بھی) کھاتے ہیں اور وہ خود بھی کھاتے ہیں، تو کیا وہ دیکھتے نہیں ہیں،(27)
وَيَقولونَ مَتىٰ هٰذَا الفَتحُ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(28)
اور کہتے ہیں: یہ فیصلہ (کا دن) کب ہوگا اگر تم سچے ہو،(28)
قُل يَومَ الفَتحِ لا يَنفَعُ الَّذينَ كَفَروا إيمٰنُهُم وَلا هُم يُنظَرونَ(29)
آپ فرما دیں: فیصلہ کے دن نہ کافروں کو ان کا ایمان فائدہ دے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی،(29)
فَأَعرِض عَنهُم وَانتَظِر إِنَّهُم مُنتَظِرونَ(30)
پس آپ اُن سے منہ پھیر لیجئے اور انتظار کیجئے اور وہ لوگ (بھی) انتظار کر رہے ہیں،(30)