As-Saffat( الصافات)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَالصّٰفّٰتِ صَفًّا(1)
قسم ہے قطار در قطار صف بستہ جماعتوں کی،(1)
فَالزّٰجِرٰتِ زَجرًا(2)
پھر بادلوں کو کھینچ کر لے جانے والی یا برائیوں پر سختی سے جھڑکنے والی جماعتوں کی،(2)
فَالتّٰلِيٰتِ ذِكرًا(3)
پھر ذکرِ الٰہی (یا قرآن مجید) کی تلاوت کرنے والی جماعتوں کی،(3)
إِنَّ إِلٰهَكُم لَوٰحِدٌ(4)
بے شک تمہارا معبود ایک ہی ہے،(4)
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُما وَرَبُّ المَشٰرِقِ(5)
(جو) آسمانوں اور زمین کا اور جو (مخلوق) اِن دونوں کے درمیان ہے اس کا رب ہے، اور طلوعِ آفتاب کے تمام مقامات کا رب ہے،(5)
إِنّا زَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنيا بِزينَةٍ الكَواكِبِ(6)
بے شک ہم نے آسمانِ دنیا (یعنی پہلے کرّۂ سماوی) کو ستاروں اور سیاروں کی زینت سے آراستہ کر دیا،(6)
وَحِفظًا مِن كُلِّ شَيطٰنٍ مارِدٍ(7)
اور (انہیں) ہر سرکش شیطان سے محفوظ بنایا،(7)
لا يَسَّمَّعونَ إِلَى المَلَإِ الأَعلىٰ وَيُقذَفونَ مِن كُلِّ جانِبٍ(8)
وہ (شیاطین) عالمِ بالا کی طرف کان نہیں لگا سکتے اور اُن پر ہر طرف سے (انگارے) پھینکے جاتے ہیں،(8)
دُحورًا ۖ وَلَهُم عَذابٌ واصِبٌ(9)
اُن کو بھگانے کے لئے اور اُن کے لئے دائمی عذاب ہے،(9)
إِلّا مَن خَطِفَ الخَطفَةَ فَأَتبَعَهُ شِهابٌ ثاقِبٌ(10)
مگر جو (شیطان) ایک بار جھپٹ کر (فرشتوں کی کوئی بات) اُچک لے تو چمکتا ہوا انگارہ اُس کے پیچھے لگ جاتا ہے،(10)
فَاستَفتِهِم أَهُم أَشَدُّ خَلقًا أَم مَن خَلَقنا ۚ إِنّا خَلَقنٰهُم مِن طينٍ لازِبٍ(11)
اِن سے پوچھئے کہ کیا یہ لوگ تخلیق کئے جانے میں زیادہ سخت (اور مشکل) ہیں یا وہ چیزیں جنہیں ہم نے (آسمانی کائنات میں) تخلیق فرمایا ہے، بیشک ہم نے اِن لوگوں کو چپکنے والے گارے سے پیدا کیا ہے،(11)
بَل عَجِبتَ وَيَسخَرونَ(12)
بلکہ آپ تعجب فرماتے ہیں اور وہ مذاق اڑاتے ہیں،(12)
وَإِذا ذُكِّروا لا يَذكُرونَ(13)
اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو نصیحت قبول نہیں کرتے،(13)
وَإِذا رَأَوا ءايَةً يَستَسخِرونَ(14)
اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو تمسخر کرتے ہیں،(14)
وَقالوا إِن هٰذا إِلّا سِحرٌ مُبينٌ(15)
اور کہتے ہیں کہ یہ تو صرف کھلا جادو ہے،(15)
أَءِذا مِتنا وَكُنّا تُرابًا وَعِظٰمًا أَءِنّا لَمَبعوثونَ(16)
کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو ہم یقینی طور پر (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے،(16)
أَوَءاباؤُنَا الأَوَّلونَ(17)
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (اٹھائے جائیں گے)،(17)
قُل نَعَم وَأَنتُم دٰخِرونَ(18)
فرما دیجئے: ہاں اور (بلکہ) تم ذلیل و رسوا (بھی) ہو گے،(18)
فَإِنَّما هِىَ زَجرَةٌ وٰحِدَةٌ فَإِذا هُم يَنظُرونَ(19)
پس وہ تو محض ایک (زور دار آواز کی) سخت جھڑک ہوگی سو سب اچانک (اٹھ کر) دیکھنے لگ جائیں گے،(19)
وَقالوا يٰوَيلَنا هٰذا يَومُ الدّينِ(20)
اور کہیں گے: ہائے ہماری شامت! یہ تو جزا کا دن ہے،(20)
هٰذا يَومُ الفَصلِ الَّذى كُنتُم بِهِ تُكَذِّبونَ(21)
(کہا جائے گا: ہاں) یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے،(21)
۞ احشُرُوا الَّذينَ ظَلَموا وَأَزوٰجَهُم وَما كانوا يَعبُدونَ(22)
اُن (سب) لوگوں کو جمع کرو جنہوں نے ظلم کیا اور ان کے ساتھیوں اور پیروکاروں کو (بھی) اور اُن (معبودانِ باطلہ) کو (بھی) جنہیں وہ پوجا کرتے تھے،(22)
مِن دونِ اللَّهِ فَاهدوهُم إِلىٰ صِرٰطِ الجَحيمِ(23)
اللہ کو چھوڑ کر، پھر ان سب کو دوزخ کی راہ پر لے چلو،(23)
وَقِفوهُم ۖ إِنَّهُم مَسـٔولونَ(24)
اور انہیں (صراط کے پاس) روکو، اُن سے پوچھ گچھ ہوگی،(24)
ما لَكُم لا تَناصَرونَ(25)
(اُن سے کہا جائے گا:) تمہیں کیا ہوا تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟،(25)
بَل هُمُ اليَومَ مُستَسلِمونَ(26)
(وہ مدد کیا کریں گے) بلکہ آج تو وہ خود گردنیں جھکائے کھڑے ہوں گے،(26)
وَأَقبَلَ بَعضُهُم عَلىٰ بَعضٍ يَتَساءَلونَ(27)
اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوکر باہم سوال کریں گے،(27)
قالوا إِنَّكُم كُنتُم تَأتونَنا عَنِ اليَمينِ(28)
وہ کہیں گے: بے شک تم ہی تو ہمارے پاس دائیں طرف سے (یعنی اپنے حق پر ہونے کی قَسمیں کھاتے ہوئے) آیا کرتے تھے،(28)
قالوا بَل لَم تَكونوا مُؤمِنينَ(29)
(انہیں گمراہ کرنے والے پیشوا) کہیں گے: بلکہ تم خود ہی ایمان لانے والے نہ تھے،(29)
وَما كانَ لَنا عَلَيكُم مِن سُلطٰنٍ ۖ بَل كُنتُم قَومًا طٰغينَ(30)
اور ہمارا تم پر کچھ زور (اور دباؤ) نہ تھا بلکہ تم خود سرکش لوگ تھے،(30)
فَحَقَّ عَلَينا قَولُ رَبِّنا ۖ إِنّا لَذائِقونَ(31)
پس ہم پر ہمارے رب کا فرمان ثابت ہوگیا۔ (اب) ہم ذائقۂ (عذاب) چکھنے والے ہیں،(31)
فَأَغوَينٰكُم إِنّا كُنّا غٰوينَ(32)
سو ہم نے تمہیں گمراہ کر دیا بے شک ہم خود گمراہ تھے،(32)
فَإِنَّهُم يَومَئِذٍ فِى العَذابِ مُشتَرِكونَ(33)
پس اس دن عذاب میں وہ (سب) باہم شریک ہوں گے،(33)
إِنّا كَذٰلِكَ نَفعَلُ بِالمُجرِمينَ(34)
بے شک ہم مُجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں،(34)
إِنَّهُم كانوا إِذا قيلَ لَهُم لا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَستَكبِرونَ(35)
یقیناً وہ ایسے لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں تو وہ تکبّر کرتے تھے،(35)
وَيَقولونَ أَئِنّا لَتارِكوا ءالِهَتِنا لِشاعِرٍ مَجنونٍ(36)
اور کہتے تھے: کیا ہم ایک دیوانے شاعر کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں،(36)
بَل جاءَ بِالحَقِّ وَصَدَّقَ المُرسَلينَ(37)
(وہ نہ مجنوں ہے نہ شاعر) بلکہ وہ (دینِ) حق لے کر آئے ہیں اور انہوں نے (اللہ کے) پیغمبروں کی تصدیق کی ہے،(37)
إِنَّكُم لَذائِقُوا العَذابِ الأَليمِ(38)
بے شک تم دردناک عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو،(38)
وَما تُجزَونَ إِلّا ما كُنتُم تَعمَلونَ(39)
اور تمہیں (کوئی) بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر صرف اسی کا جو تم کیا کرتے تھے،(39)
إِلّا عِبادَ اللَّهِ المُخلَصينَ(40)
(ہاں) مگر اللہ کے وہ (برگزیدہ و منتخب) بندے جنہیں (نفس اور نفسانیت سے) رہائی مل چکی ہے،(40)
أُولٰئِكَ لَهُم رِزقٌ مَعلومٌ(41)
یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے (صبح و شام) رزقِ خاص مقرّر ہے،(41)
فَوٰكِهُ ۖ وَهُم مُكرَمونَ(42)
(ہر قسم کے) میوے ہوں گے، اور ان کی تعظیم و تکریم ہوگی،(42)
فى جَنّٰتِ النَّعيمِ(43)
نعمتوں اور راحتوں کے باغات میں (مقیم ہوں گے)،(43)
عَلىٰ سُرُرٍ مُتَقٰبِلينَ(44)
تختوں پر مسند لگائے آمنے سامنے (جلوہ افروز ہوں گے)،(44)
يُطافُ عَلَيهِم بِكَأسٍ مِن مَعينٍ(45)
اُن پر چھلکتی ہوئی شرابِ (طہور) کے جام کا دور چل رہا ہوگا،(45)
بَيضاءَ لَذَّةٍ لِلشّٰرِبينَ(46)
جو نہایت سفید ہوگی، پینے والوں کے لئے سراسر لذّت ہوگی،(46)
لا فيها غَولٌ وَلا هُم عَنها يُنزَفونَ(47)
نہ اس میں کوئی ضرر یا سَر کا چکرانا ہوگا اور نہ وہ اس (کے پینے) سے بہک سکیں گے،(47)
وَعِندَهُم قٰصِرٰتُ الطَّرفِ عينٌ(48)
اور ان کے پہلو میں نگاہیں نیچی رکھنے والی، بڑی خوبصورت آنکھوں والی (حوریں بیٹھی) ہوں گی،(48)
كَأَنَّهُنَّ بَيضٌ مَكنونٌ(49)
(وہ سفید و دلکش رنگت میں ایسے لگیں گی) گویا گرد و غبار سے محفوظ انڈے (رکھے) ہوں،(49)
فَأَقبَلَ بَعضُهُم عَلىٰ بَعضٍ يَتَساءَلونَ(50)
پھر وہ (جنّتی) آپس میں متوجہ ہو کر ایک دوسرے سے (حال و احوال) دریافت کریں گے،(50)
قالَ قائِلٌ مِنهُم إِنّى كانَ لى قَرينٌ(51)
ان میں سے ایک کہنے والا (دوسرے سے) کہے گا کہ میرا ایک ملنے والا تھا (جو آخرت کا منکِر تھا)،(51)
يَقولُ أَءِنَّكَ لَمِنَ المُصَدِّقينَ(52)
وہ (مجھے) کہتا تھا: کیا تم بھی (ان باتوں کا) یقین اور تصدیق کرنے والوں میں سے ہو،(52)
أَءِذا مِتنا وَكُنّا تُرابًا وَعِظٰمًا أَءِنّا لَمَدينونَ(53)
کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہمیں (اس حال میں) بدلہ دیا جائے گا،(53)
قالَ هَل أَنتُم مُطَّلِعونَ(54)
پھر وہ (جنّتی) کہے گا: کیا تم (اُسے) جھانک کر دیکھو گے (کہ وہ کس حال میں ہے)،(54)
فَاطَّلَعَ فَرَءاهُ فى سَواءِ الجَحيمِ(55)
پھر وہ جھانکے گا تو اسے دوزخ کے (بالکل) وسط میں پائے گا،(55)
قالَ تَاللَّهِ إِن كِدتَ لَتُردينِ(56)
(اس سے) کہے گا: خدا کی قسم! تو اس کے قریب تھا کہ مجھے بھی ہلاک کر ڈالے،(56)
وَلَولا نِعمَةُ رَبّى لَكُنتُ مِنَ المُحضَرينَ(57)
اور اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں (بھی تمہارے ساتھ عذاب میں) حاضر کئے جانے والوں میں شامل ہو جاتا،(57)
أَفَما نَحنُ بِمَيِّتينَ(58)
سو (جنّتی خوشی سے پوچھیں گے:) کیا اب ہم مریں گے تو نہیں،(58)
إِلّا مَوتَتَنَا الأولىٰ وَما نَحنُ بِمُعَذَّبينَ(59)
اپنی پہلی موت کے سوا (جس سے گزر کر ہم یہاں آچکے) اور نہ ہم پر کبھی عذاب کیا جائے گا،(59)
إِنَّ هٰذا لَهُوَ الفَوزُ العَظيمُ(60)
بیشک یہی تو عظیم کامیابی ہے،(60)
لِمِثلِ هٰذا فَليَعمَلِ العٰمِلونَ(61)
ایسی (کامیابی) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے،(61)
أَذٰلِكَ خَيرٌ نُزُلًا أَم شَجَرَةُ الزَّقّومِ(62)
بھلا یہ (خُلد کی) مہمانی بہتر ہے یا زقّوم کا درخت،(62)
إِنّا جَعَلنٰها فِتنَةً لِلظّٰلِمينَ(63)
بیشک ہم نے اس (درخت) کو ظالموں کے لئے عذاب بنایا ہے،(63)
إِنَّها شَجَرَةٌ تَخرُجُ فى أَصلِ الجَحيمِ(64)
بیشک یہ ایک درخت ہے جو دوزخ کے سب سے نچلے حصہ سے نکلتا ہے،(64)
طَلعُها كَأَنَّهُ رُءوسُ الشَّيٰطينِ(65)
اس کے خوشے ایسے ہیں گویا (بدنما) شیطانوں کے سَر ہوں،(65)
فَإِنَّهُم لَءاكِلونَ مِنها فَمالِـٔونَ مِنهَا البُطونَ(66)
پس وہ (دوزخی) اسی میں سے کھانے والے ہیں اور اسی سے پیٹ بھرنے والے ہیں،(66)
ثُمَّ إِنَّ لَهُم عَلَيها لَشَوبًا مِن حَميمٍ(67)
پھر یقیناً اُن کے لئے اس (کھانے) پر (پیپ کا) ملا ہوا نہایت گرم پانی ہوگا (جو انتڑیوں کو کاٹ دے گا)،(67)
ثُمَّ إِنَّ مَرجِعَهُم لَإِلَى الجَحيمِ(68)
(کھانے کے بعد) پھر یقیناً ان کا دوزخ ہی کی طرف (دوبارہ) پلٹنا ہوگا،(68)
إِنَّهُم أَلفَوا ءاباءَهُم ضالّينَ(69)
بے شک انہوں نے اپنے باپ دادا کوگمراہ پایا،(69)
فَهُم عَلىٰ ءاثٰرِهِم يُهرَعونَ(70)
سو وہ انہی کے نقشِ قدم پر دوڑائے جا رہے ہیں،(70)
وَلَقَد ضَلَّ قَبلَهُم أَكثَرُ الأَوَّلينَ(71)
اور درحقیقت اُن سے قبل پہلے لوگوں میں (بھی) اکثر گمراہ ہوگئے تھے،(71)
وَلَقَد أَرسَلنا فيهِم مُنذِرينَ(72)
اور یقیناً ہم نے ان میں بھی ڈر سنانے والے بھیجے،(72)
فَانظُر كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُنذَرينَ(73)
سو آپ دیکھئے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ڈرائے گئے تھے،(73)
إِلّا عِبادَ اللَّهِ المُخلَصينَ(74)
سوائے اﷲ کے چنیدہ و برگزیدہ بندوں کے،(74)
وَلَقَد نادىٰنا نوحٌ فَلَنِعمَ المُجيبونَ(75)
اور بیشک ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو ہم کتنے اچھے فریاد رَس ہیں،(75)
وَنَجَّينٰهُ وَأَهلَهُ مِنَ الكَربِ العَظيمِ(76)
اور ہم نے اُنہیں اور اُن کے گھر والوں کو سخت تکلیف سے بچا لیا،(76)
وَجَعَلنا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الباقينَ(77)
اور ہم نے فقط اُن ہی کی نسل کو باقی رہنے والا بنایا،(77)
وَتَرَكنا عَلَيهِ فِى الءاخِرينَ(78)
اور پیچھے آنے والوں (یعنی انبیاء و اُمم) میں ہم نے ان کا ذکرِ خیر باقی رکھا،(78)
سَلٰمٌ عَلىٰ نوحٍ فِى العٰلَمينَ(79)
سلام ہو نوح پر سب جہانوں میں،(79)
إِنّا كَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ(80)
بیشک ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں،(80)
إِنَّهُ مِن عِبادِنَا المُؤمِنينَ(81)
بے شک وہ ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے تھے،(81)
ثُمَّ أَغرَقنَا الءاخَرينَ(82)
پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا،(82)
۞ وَإِنَّ مِن شيعَتِهِ لَإِبرٰهيمَ(83)
بے شک اُن کے گروہ میں سے ابراہیم (علیہ السلام) (بھی) تھے،(83)
إِذ جاءَ رَبَّهُ بِقَلبٍ سَليمٍ(84)
جب وہ اپنے رب کی بارگاہ میں قلبِ سلیم کے ساتھ حاضر ہوئے،(84)
إِذ قالَ لِأَبيهِ وَقَومِهِ ماذا تَعبُدونَ(85)
جبکہ انہوں نے اپنے باپ (جو حقیقت میں چچا تھا، آپ بوجہ پرورش اسے باپ کہتے تھے) اور اپنی قوم سے کہا: تم کن چیزوں کی پرستش کرتے ہو؟،(85)
أَئِفكًا ءالِهَةً دونَ اللَّهِ تُريدونَ(86)
کیا تم بہتان باندھ کر اﷲ کے سوا (جھوٹے) معبودوں کا ارادہ کرتے ہو؟،(86)
فَما ظَنُّكُم بِرَبِّ العٰلَمينَ(87)
بھلا تمام جہانوں کے رب کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟،(87)
فَنَظَرَ نَظرَةً فِى النُّجومِ(88)
پھر (ابراہیم علیہ السلام نے اُنہیں وہم میں ڈالنے کے لئے) ایک نظر ستاروں کی طرف کی،(88)
فَقالَ إِنّى سَقيمٌ(89)
اور کہا: میری طبیعت مُضمحِل ہے (تمہارے ساتھ میلے پر نہیں جاسکتا)،(89)
فَتَوَلَّوا عَنهُ مُدبِرينَ(90)
سو وہ اُن سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے،(90)
فَراغَ إِلىٰ ءالِهَتِهِم فَقالَ أَلا تَأكُلونَ(91)
پھر (ابراہیم علیہ السلام) ان کے معبودوں (یعنی بتوں) کے پاس خاموشی سے گئے اور اُن سے کہا: کیا تم کھاتے نہیں ہو؟،(91)
ما لَكُم لا تَنطِقونَ(92)
تمہیں کیا ہے کہ تم بولتے نہیں ہو؟،(92)
فَراغَ عَلَيهِم ضَربًا بِاليَمينِ(93)
پھر (ابراہیم علیہ السلام) پوری قوّت کے ساتھ انہیں مارنے (اور توڑنے) لگے،(93)
فَأَقبَلوا إِلَيهِ يَزِفّونَ(94)
پھر لوگ (میلے سے واپسی پر) دوڑتے ہوئے ان کی طرف آئے،(94)
قالَ أَتَعبُدونَ ما تَنحِتونَ(95)
ابراہیم (علیہ السلام) نے (اُن سے) کہا: کیا تم اِن (ہی بے جان پتھروں) کو پوجتے ہو جنہیں خود تراشتے ہو؟،(95)
وَاللَّهُ خَلَقَكُم وَما تَعمَلونَ(96)
حالانکہ اﷲ نے تمہیں اور تمہارے (سارے) کاموں کو خَلق فرمایا ہے،(96)
قالُوا ابنوا لَهُ بُنيٰنًا فَأَلقوهُ فِى الجَحيمِ(97)
وہ کہنے لگے: ان کے (جلانے کے) لئے ایک عمارت بناؤ پھر ان کو (اس کے اندر) سخت بھڑکتی آگ میں ڈال دو،(97)
فَأَرادوا بِهِ كَيدًا فَجَعَلنٰهُمُ الأَسفَلينَ(98)
غرض انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ایک چال چلنا چاہی سو ہم نے اُن ہی کو نیچا دکھا دیا (نتیجۃً آگ گلزار بن گئی)،(98)
وَقالَ إِنّى ذاهِبٌ إِلىٰ رَبّى سَيَهدينِ(99)
پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: میں (ہجرت کر کے) اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا (وہ ملکِ شام کی طرف ہجرت فرما گئے)،(99)
رَبِّ هَب لى مِنَ الصّٰلِحينَ(100)
(پھر اَرضِ مقدّس میں پہنچ کر دعا کی:) اے میرے رب! صالحین میں سے مجھے ایک (فرزند) عطا فرما،(100)
فَبَشَّرنٰهُ بِغُلٰمٍ حَليمٍ(101)
پس ہم نے انہیں بڑے بُرد بار بیٹے (اسماعیل علیہ السلام) کی بشارت دی،(101)
فَلَمّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعىَ قالَ يٰبُنَىَّ إِنّى أَرىٰ فِى المَنامِ أَنّى أَذبَحُكَ فَانظُر ماذا تَرىٰ ۚ قالَ يٰأَبَتِ افعَل ما تُؤمَرُ ۖ سَتَجِدُنى إِن شاءَ اللَّهُ مِنَ الصّٰبِرينَ(102)
پھر جب وہ (اسماعیل علیہ السلام) ان کے ساتھ دوڑ کر چل سکنے (کی عمر) کو پہنچ گیا تو (ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں سو غور کرو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ (اسماعیل علیہ السلام نے) کہا: ابّاجان! وہ کام (فوراً) کر ڈالیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔ اگر اﷲ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے،(102)
فَلَمّا أَسلَما وَتَلَّهُ لِلجَبينِ(103)
پھر جب دونوں (رضائے الٰہی کے سامنے) جھک گئے (یعنی دونوں نے مولا کے حکم کو تسلیم کرلیا) اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے پیشانی کے بل لِٹا دیا (اگلا منظر بیان نہیں فرمایا)،(103)
وَنٰدَينٰهُ أَن يٰإِبرٰهيمُ(104)
اور ہم نے اسے ندا دی کہ اے ابراہیم!،(104)
قَد صَدَّقتَ الرُّءيا ۚ إِنّا كَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ(105)
واقعی تم نے اپنا خواب (کیاخوب) سچا کر دکھایا۔ بے شک ہم محسنوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں (سو تمہیں مقامِ خلّت سے نواز دیا گیا ہے)،(105)
إِنَّ هٰذا لَهُوَ البَلٰؤُا۟ المُبينُ(106)
بے شک یہ بہت بڑی کھلی آزمائش تھی،(106)
وَفَدَينٰهُ بِذِبحٍ عَظيمٍ(107)
اور ہم نے ایک بہت بڑی قربانی کے ساتھ اِس کا فدیہ کر دیا،(107)
وَتَرَكنا عَلَيهِ فِى الءاخِرينَ(108)
اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں اس کا ذکرِ خیر برقرار رکھا،(108)
سَلٰمٌ عَلىٰ إِبرٰهيمَ(109)
سلام ہو ابراہیم پر،(109)
كَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ(110)
ہم اسی طرح محسنوں کو صلہ دیا کرتے ہیں،(110)
إِنَّهُ مِن عِبادِنَا المُؤمِنينَ(111)
بے شک وہ ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے تھے،(111)
وَبَشَّرنٰهُ بِإِسحٰقَ نَبِيًّا مِنَ الصّٰلِحينَ(112)
اور ہم نے (اِسما عیل علیہ السلام کے بعد) انہیں اِسحاق (علیہ السلام) کی بشارت دی (وہ بھی) صالحین میں سے نبی تھے،(112)
وَبٰرَكنا عَلَيهِ وَعَلىٰ إِسحٰقَ ۚ وَمِن ذُرِّيَّتِهِما مُحسِنٌ وَظالِمٌ لِنَفسِهِ مُبينٌ(113)
اور ہم نے اُن پر اور اسحاق (علیہ السلام) پر برکتیں نازل فرمائیں، اور ان دونوں کی نسل میں نیکو کار بھی ہیں اور اپنی جان پر کھلے ظلم شِعار بھی،(113)
وَلَقَد مَنَنّا عَلىٰ موسىٰ وَهٰرونَ(114)
اور بے شک ہم نے موسٰی اور ہارون (علیھما السلام) پر بھی احسان کئے،(114)
وَنَجَّينٰهُما وَقَومَهُما مِنَ الكَربِ العَظيمِ(115)
اور ہم نے خود ان دونوں کو اور دونوں کی قوم کو سخت تکلیف سے نجات بخشی،(115)
وَنَصَرنٰهُم فَكانوا هُمُ الغٰلِبينَ(116)
اور ہم نے اُن کی مدد فرمائی تو وہی غالب ہوگئے،(116)
وَءاتَينٰهُمَا الكِتٰبَ المُستَبينَ(117)
اور ہم نے ان دونوں کو واضح اور بیّن کتاب (تورات) عطا فرمائی،(117)
وَهَدَينٰهُمَا الصِّرٰطَ المُستَقيمَ(118)
اور ہم نے ان دونوں کو سیدھی راہ پر چلایا،(118)
وَتَرَكنا عَلَيهِما فِى الءاخِرينَ(119)
اور ہم نے ان دونوں کے حق میں (بھی) پیچھے آنے والوں میں ذکرِ خیر باقی رکھا،(119)
سَلٰمٌ عَلىٰ موسىٰ وَهٰرونَ(120)
سلام ہو موسٰی اور ہارون پر،(120)
إِنّا كَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ(121)
بے شک ہم نیکو کاروں کو اسی طرح صِلہ دیا کرتے ہیں،(121)
إِنَّهُما مِن عِبادِنَا المُؤمِنينَ(122)
بے شک وہ دونوں ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے تھے،(122)
وَإِنَّ إِلياسَ لَمِنَ المُرسَلينَ(123)
اور یقیناً الیاس (علیہ السلام بھی) رسولوں میں سے تھے،(123)
إِذ قالَ لِقَومِهِ أَلا تَتَّقونَ(124)
جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم (اﷲ سے) نہیں ڈرتے ہو؟،(124)
أَتَدعونَ بَعلًا وَتَذَرونَ أَحسَنَ الخٰلِقينَ(125)
کیا تم بَعل (نامی بُت) کو پوجتے ہو اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہو؟،(125)
اللَّهَ رَبَّكُم وَرَبَّ ءابائِكُمُ الأَوَّلينَ(126)
(یعنی) اﷲ جو تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا (بھی) رب ہے،(126)
فَكَذَّبوهُ فَإِنَّهُم لَمُحضَرونَ(127)
تو ان لوگوں نے (یعنی قومِ بعلبک نے) الیاس (علیہ السلام) کو جھٹلایا پس وہ (بھی عذابِ جہنم میں) حاضر کردیے جائیں گے،(127)
إِلّا عِبادَ اللَّهِ المُخلَصينَ(128)
سوائے اﷲ کے چُنے ہوئے بندوں کے،(128)
وَتَرَكنا عَلَيهِ فِى الءاخِرينَ(129)
اور ہم نے ان کا ذکرِ خیر (بھی) پیچھے آنے والوں میں برقرار رکھا،(129)
سَلٰمٌ عَلىٰ إِل ياسينَ(130)
سلام ہو الیاس پر،(130)
إِنّا كَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ(131)
بے شک ہم نیکو کاروں کو اسی طرح صِلہ دیا کرتے ہیں،(131)
إِنَّهُ مِن عِبادِنَا المُؤمِنينَ(132)
بے شک وہ ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے تھے،(132)
وَإِنَّ لوطًا لَمِنَ المُرسَلينَ(133)
اور بے شک لوط (علیہ السلام بھی) رسولوں میں سے تھے،(133)
إِذ نَجَّينٰهُ وَأَهلَهُ أَجمَعينَ(134)
جب ہم نے اُن کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات بخشی،(134)
إِلّا عَجوزًا فِى الغٰبِرينَ(135)
سوائے اس بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی،(135)
ثُمَّ دَمَّرنَا الءاخَرينَ(136)
پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر ڈالا،(136)
وَإِنَّكُم لَتَمُرّونَ عَلَيهِم مُصبِحينَ(137)
اور بے شک تم لوگ اُن (کی اُجڑی بستیوں) پر (مَکّہ سے ملکِ شام کی طرف جاتے ہوئے) صبح کے وقت بھی گزرتے ہو،(137)
وَبِالَّيلِ ۗ أَفَلا تَعقِلونَ(138)
اور رات کو بھی، کیا پھر بھی تم عقل نہیں رکھتے،(138)
وَإِنَّ يونُسَ لَمِنَ المُرسَلينَ(139)
اور یونس (علیہ السلام بھی) واقعی رسولوں میں سے تھے،(139)
إِذ أَبَقَ إِلَى الفُلكِ المَشحونِ(140)
جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف دوڑے،(140)
فَساهَمَ فَكانَ مِنَ المُدحَضينَ(141)
پھر (کشتی بھنور میں پھنس گئی تو) انہوں نے قرعہ ڈالا تو وہ (قرعہ میں) مغلوب ہوگئے (یعنی ان کا نام نکل آیا اور کشتی والوں نے انہیں دریا میں پھینک دیا)،(141)
فَالتَقَمَهُ الحوتُ وَهُوَ مُليمٌ(142)
پھر مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ (اپنے آپ پر) نادم رہنے والے تھے،(142)
فَلَولا أَنَّهُ كانَ مِنَ المُسَبِّحينَ(143)
پھر اگر وہ (اﷲ کی) تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے،(143)
لَلَبِثَ فى بَطنِهِ إِلىٰ يَومِ يُبعَثونَ(144)
تو اس (مچھلی) کے پیٹ میں اُس دن تک رہتے جب لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے،(144)
۞ فَنَبَذنٰهُ بِالعَراءِ وَهُوَ سَقيمٌ(145)
پھر ہم نے انہیں (ساحلِ دریا پر) کھلے میدان میں ڈال دیا حالانکہ وہ بیمار تھے،(145)
وَأَنبَتنا عَلَيهِ شَجَرَةً مِن يَقطينٍ(146)
اور ہم نے ان پر (کدّو کا) بیل دار درخت اُگا دیا،(146)
وَأَرسَلنٰهُ إِلىٰ مِا۟ئَةِ أَلفٍ أَو يَزيدونَ(147)
اور ہم نے انہیں (اَرضِ موصل میں قومِ نینوٰی کے) ایک لاکھ یا اس سے زیادہ افراد کی طرف بھیجا تھا،(147)
فَـٔامَنوا فَمَتَّعنٰهُم إِلىٰ حينٍ(148)
سو (آثارِ عذاب کو دیکھ کر) وہ لوگ ایمان لائے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ پہنچایا،(148)
فَاستَفتِهِم أَلِرَبِّكَ البَناتُ وَلَهُمُ البَنونَ(149)
پس آپ اِن (کفّارِ مکّہ) سے پوچھئے کیا آپ کے رب کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے ہیں،(149)
أَم خَلَقنَا المَلٰئِكَةَ إِنٰثًا وَهُم شٰهِدونَ(150)
کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنا کر پیدا کیا تو وہ اس وقت (موقع پر) حاضر تھے،(150)
أَلا إِنَّهُم مِن إِفكِهِم لَيَقولونَ(151)
سن لو! وہ لوگ یقیناً اپنی بہتان تراشی سے (یہ) بات کرتے ہیں،(151)
وَلَدَ اللَّهُ وَإِنَّهُم لَكٰذِبونَ(152)
کہ اﷲ نے اولاد جنی، اور بیشک یہ لوگ جھوٹے ہیں،(152)
أَصطَفَى البَناتِ عَلَى البَنينَ(153)
کیا اس نے بیٹوں کے مقابلہ میں بیٹیوں کو پسند فرمایا ہے (کفّارِ مکّہ کی ذہنیت کی زبان میں انہی کے عقیدے کا ردّ کیا جا رہا ہے)،(153)
ما لَكُم كَيفَ تَحكُمونَ(154)
تمہیں کیا ہوا ہے؟ تم کیسا انصاف کرتے ہو؟،(154)
أَفَلا تَذَكَّرونَ(155)
کیا تم غور نہیں کرتے؟،(155)
أَم لَكُم سُلطٰنٌ مُبينٌ(156)
کیا تمہارے پاس (اپنے فکر و نظریہ پر) کوئی واضح دلیل ہے،(156)
فَأتوا بِكِتٰبِكُم إِن كُنتُم صٰدِقينَ(157)
تم اپنی کتاب پیش کرو اگر تم سچے ہو،(157)
وَجَعَلوا بَينَهُ وَبَينَ الجِنَّةِ نَسَبًا ۚ وَلَقَد عَلِمَتِ الجِنَّةُ إِنَّهُم لَمُحضَرونَ(158)
اور انہوں نے (تو) اﷲ اور جِنّات کے درمیان (بھی) نسبی رشتہ مقرر کر رکھا ہے، حالانکہ جنّات کو معلوم ہے کہ وہ (بھی اﷲ کے حضور) یقیناً پیش کیے جائیں گے،(158)
سُبحٰنَ اللَّهِ عَمّا يَصِفونَ(159)
اﷲ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں،(159)
إِلّا عِبادَ اللَّهِ المُخلَصينَ(160)
مگر اﷲ کے چُنیدہ و برگزیدہ بندے (اِن باتوں سے مستثنٰی ہیں)،(160)
فَإِنَّكُم وَما تَعبُدونَ(161)
پس تم اور جن (بتوں) کی تم پرستش کرتے ہو،(161)
ما أَنتُم عَلَيهِ بِفٰتِنينَ(162)
تم سب اﷲ کے خلاف کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے،(162)
إِلّا مَن هُوَ صالِ الجَحيمِ(163)
سوائے اس شخص کے جو دوزخ میں جا گرنے والا ہے،(163)
وَما مِنّا إِلّا لَهُ مَقامٌ مَعلومٌ(164)
اور (فرشتے کہتے ہیں:) ہم میں سے بھی ہر ایک کا مقام مقرر ہے،(164)
وَإِنّا لَنَحنُ الصّافّونَ(165)
اور یقیناً ہم تو خود صف بستہ رہنے والے ہیں،(165)
وَإِنّا لَنَحنُ المُسَبِّحونَ(166)
اور یقیناً ہم تو خود (اﷲ کی) تسبیح کرنے والے ہیں،(166)
وَإِن كانوا لَيَقولونَ(167)
اور یہ لوگ یقیناً کہا کرتے تھے،(167)
لَو أَنَّ عِندَنا ذِكرًا مِنَ الأَوَّلينَ(168)
کہ اگر ہمارے پاس (بھی) پہلے لوگوں کی کوئی (کتابِ) نصیحت ہوتی،(168)
لَكُنّا عِبادَ اللَّهِ المُخلَصينَ(169)
تو ہم (بھی) ضرور اﷲ کے برگزیدہ بندے ہوتے،(169)
فَكَفَروا بِهِ ۖ فَسَوفَ يَعلَمونَ(170)
پھر (اب) وہ اس (قرآن) کے منکِر ہوگئے سو وہ عنقریب (اپنا انجام) جان لیں گے،(170)
وَلَقَد سَبَقَت كَلِمَتُنا لِعِبادِنَا المُرسَلينَ(171)
اور بے شک ہمارا فرمان ہمارے بھیجے ہوئے بندوں (یعنی رسولوں) کے حق میں پہلے صادر ہوچکا ہے،(171)
إِنَّهُم لَهُمُ المَنصورونَ(172)
کہ بے شک وہی مدد یافتہ لوگ ہیں،(172)
وَإِنَّ جُندَنا لَهُمُ الغٰلِبونَ(173)
اور بے شک ہمارا لشکر ہی غالب ہونے والا ہے،(173)
فَتَوَلَّ عَنهُم حَتّىٰ حينٍ(174)
پس ایک وقت تک آپ ان سے توجّہ ہٹا لیجئے،(174)
وَأَبصِرهُم فَسَوفَ يُبصِرونَ(175)
اور انہیں (برابر) دیکھتے رہئیے سو وہ عنقریب (اپنا انجام) دیکھ لیں گے،(175)
أَفَبِعَذابِنا يَستَعجِلونَ(176)
اور کیا یہ ہمارے عذاب میں جلدی کے خواہش مند ہیں،(176)
فَإِذا نَزَلَ بِساحَتِهِم فَساءَ صَباحُ المُنذَرينَ(177)
پھر جب وہ (عذاب) ان کے سامنے اترے گا تو اِن کی صبح کیا ہی بُری ہوگی جنہیں ڈرایا گیا تھا،(177)
وَتَوَلَّ عَنهُم حَتّىٰ حينٍ(178)
پس آپ اُن سے تھوڑی مدّت تک توجّہ ہٹا ئے رکھئے،(178)
وَأَبصِر فَسَوفَ يُبصِرونَ(179)
اور انہیں (برابر) دیکھتے رہئیے، سو وہ عنقریب (اپنا انجام) دیکھ لیں گے،(179)
سُبحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ العِزَّةِ عَمّا يَصِفونَ(180)
آپ کا رب، جو عزت کا مالک ہے اُن (باتوں) سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں،(180)
وَسَلٰمٌ عَلَى المُرسَلينَ(181)
اور (تمام) رسولوں پر سلام ہو،(181)
وَالحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ العٰلَمينَ(182)
اور سب تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے،(182)