Ar-Rum( الروم)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الم(1)
الف، لام، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،(1)
غُلِبَتِ الرّومُ(2)
اہلِ روم (فارس سے) مغلوب ہوگئے،(2)
فى أَدنَى الأَرضِ وَهُم مِن بَعدِ غَلَبِهِم سَيَغلِبونَ(3)
نزدیک کے ملک میں، اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہو جائیں گے،(3)
فى بِضعِ سِنينَ ۗ لِلَّهِ الأَمرُ مِن قَبلُ وَمِن بَعدُ ۚ وَيَومَئِذٍ يَفرَحُ المُؤمِنونَ(4)
چند ہی سال میں (یعنی دس سال سے کم عرصہ میں)، اَمر تو اﷲ ہی کا ہے پہلے (غلبۂ فارس میں) بھی اور بعد (کے غلبۂ روم میں) بھی، اور اس وقت اہلِ ایمان خوش ہوں گے،(4)
بِنَصرِ اللَّهِ ۚ يَنصُرُ مَن يَشاءُ ۖ وَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ(5)
اﷲ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے، اور وہ غالب ہے مہربان ہے،(5)
وَعدَ اللَّهِ ۖ لا يُخلِفُ اللَّهُ وَعدَهُ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ(6)
(یہ تو) اﷲ کا وعدہ ہے، اﷲ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،(6)
يَعلَمونَ ظٰهِرًا مِنَ الحَيوٰةِ الدُّنيا وَهُم عَنِ الءاخِرَةِ هُم غٰفِلونَ(7)
وہ (تو) دنیا کی ظاہری زندگی کو (ہی) جانتے ہیں اور وہ لوگ آخرت (کی حقیقی زندگی) سے غافل و بے خبر ہیں،(7)
أَوَلَم يَتَفَكَّروا فى أَنفُسِهِم ۗ ما خَلَقَ اللَّهُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما إِلّا بِالحَقِّ وَأَجَلٍ مُسَمًّى ۗ وَإِنَّ كَثيرًا مِنَ النّاسِ بِلِقائِ رَبِّهِم لَكٰفِرونَ(8)
کیا انہوں نے اپنے مَن میں کبھی غور نہیں کیا کہ اﷲ نے آسمانوں اور زمین کو اور جوکچھ ان دونوں کے درمیان ہے پیدا نہیں فرمایا مگر (نظامِ) حق اور مقرّرہ مدت (کے دورانیے) کے ساتھ، اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے مُنکِر ہیں،(8)
أَوَلَم يَسيروا فِى الأَرضِ فَيَنظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ كانوا أَشَدَّ مِنهُم قُوَّةً وَأَثارُوا الأَرضَ وَعَمَروها أَكثَرَ مِمّا عَمَروها وَجاءَتهُم رُسُلُهُم بِالبَيِّنٰتِ ۖ فَما كانَ اللَّهُ لِيَظلِمَهُم وَلٰكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ(9)
کیا ان لوگوں نے زمین میں سَیر و سیاحت نہیں کی تاکہ وہ دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ لوگ اِن سے زیادہ طاقتور تھے، اور انہوں نے زمین میں زراعت کی تھی اور اسے آباد کیا تھا، اس سے کہیں بڑھ کر جس قدر اِنہوں نے زمین کو آباد کیا ہے، پھر ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح نشانیاں لے کر آئے تھے، سو اﷲ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا، لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے،(9)
ثُمَّ كانَ عٰقِبَةَ الَّذينَ أَسٰـُٔوا السّوأىٰ أَن كَذَّبوا بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَكانوا بِها يَستَهزِءونَ(10)
پھر ان لوگوں کا انجام بہت برا ہوا جنہوں نے برائی کی اس لئے کہ وہ اﷲ کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے،(10)
اللَّهُ يَبدَؤُا۟ الخَلقَ ثُمَّ يُعيدُهُ ثُمَّ إِلَيهِ تُرجَعونَ(11)
اﷲ مخلوق کو پہلی بار پیدا فرماتا ہے پھر (وہی) اسے دوبارہ پیدا فرمائے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے،(11)
وَيَومَ تَقومُ السّاعَةُ يُبلِسُ المُجرِمونَ(12)
اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم لوگ مایوس ہو جائیں گے،(12)
وَلَم يَكُن لَهُم مِن شُرَكائِهِم شُفَعٰؤُا۟ وَكانوا بِشُرَكائِهِم كٰفِرينَ(13)
اور ان کے (خود ساختہ) شریکوں میں سے ان کے لئے سفارشی نہیں ہوں گے اور وہ (بالآخر) اپنے شریکوں کے (ہی) مُنکِر ہو جائیں گے،(13)
وَيَومَ تَقومُ السّاعَةُ يَومَئِذٍ يَتَفَرَّقونَ(14)
اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن لوگ (نفسا نفسی میں) الگ الگ ہو جائیں گے،(14)
فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُم فى رَوضَةٍ يُحبَرونَ(15)
پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو وہ باغاتِ جنت میں خوش حال و مسرور کر دیئے جائیں گے،(15)
وَأَمَّا الَّذينَ كَفَروا وَكَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَلِقائِ الءاخِرَةِ فَأُولٰئِكَ فِى العَذابِ مُحضَرونَ(16)
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا تو یہی لوگ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے،(16)
فَسُبحٰنَ اللَّهِ حينَ تُمسونَ وَحينَ تُصبِحونَ(17)
پس تم اﷲ کی تسبیح کیا کرو جب تم شام کرو (یعنی مغرب اور عشاء کے وقت) اور جب تم صبح کرو (یعنی فجر کے وقت)،(17)
وَلَهُ الحَمدُ فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَعَشِيًّا وَحينَ تُظهِرونَ(18)
اور ساری تعریفیں آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے ہیں اور (تم تسبیح کیا کرو) سہ پہر کو بھی (یعنی عصر کے وقت) اور جب تم دوپہر کرو (یعنی ظہر کے وقت)،(18)
يُخرِجُ الحَىَّ مِنَ المَيِّتِ وَيُخرِجُ المَيِّتَ مِنَ الحَىِّ وَيُحىِ الأَرضَ بَعدَ مَوتِها ۚ وَكَذٰلِكَ تُخرَجونَ(19)
وُہی مُردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مُردہ کو نکالتا ہے اور زمین کو اس کی مُردنی کے بعد زندہ و شاداب فرماتا ہے، اور تم (بھی) اسی طرح (قبروں سے) نکالے جاؤ گے،(19)
وَمِن ءايٰتِهِ أَن خَلَقَكُم مِن تُرابٍ ثُمَّ إِذا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرونَ(20)
اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر اب تم انسان ہو جو (زمین میں) پھیلے ہوئے ہو،(20)
وَمِن ءايٰتِهِ أَن خَلَقَ لَكُم مِن أَنفُسِكُم أَزوٰجًا لِتَسكُنوا إِلَيها وَجَعَلَ بَينَكُم مَوَدَّةً وَرَحمَةً ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ(21)
اور یہ (بھی) اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بیشک اس (نظامِ تخلیق) میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں،(21)
وَمِن ءايٰتِهِ خَلقُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَاختِلٰفُ أَلسِنَتِكُم وَأَلوٰنِكُم ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِلعٰلِمينَ(22)
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق (بھی) ہے اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف (بھی) ہے، بیشک اس میں اہلِ علم (و تحقیق) کے لئے نشانیاں ہیں،(22)
وَمِن ءايٰتِهِ مَنامُكُم بِالَّيلِ وَالنَّهارِ وَابتِغاؤُكُم مِن فَضلِهِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَسمَعونَ(23)
اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کے فضل (یعنی رزق) کو تمہارا تلاش کرنا (بھی) ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو (غور سے) سنتے ہیں،(23)
وَمِن ءايٰتِهِ يُريكُمُ البَرقَ خَوفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّماءِ ماءً فَيُحيۦ بِهِ الأَرضَ بَعدَ مَوتِها ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَعقِلونَ(24)
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ (بھی) ہے کہ وہ تمہیں ڈرانے اور امید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے (بارش کا) پانی اتارتا ہے پھر اس سے زمین کو اس کی مُردنی کے بعد زندہ و شاداب کر دیتا ہے، بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں،(24)
وَمِن ءايٰتِهِ أَن تَقومَ السَّماءُ وَالأَرضُ بِأَمرِهِ ۚ ثُمَّ إِذا دَعاكُم دَعوَةً مِنَ الأَرضِ إِذا أَنتُم تَخرُجونَ(25)
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے (نظامِ) اَمر کے ساتھ قائم ہیں پھر جب وہ تم کو زمین سے (نکلنے کے لئے) ایک بار پکارے گا تو تم اچانک (باہر) نکل آؤ گے،(25)
وَلَهُ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ كُلٌّ لَهُ قٰنِتونَ(26)
اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے، سب اسی کے اطاعت گزار ہیں،(26)
وَهُوَ الَّذى يَبدَؤُا۟ الخَلقَ ثُمَّ يُعيدُهُ وَهُوَ أَهوَنُ عَلَيهِ ۚ وَلَهُ المَثَلُ الأَعلىٰ فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(27)
اور وہی ہے جو پہلی بار تخلیق کرتا ہے پھر اس کا اِعادہ فرمائے گا اور یہ (دوبارہ پیدا کرنا) اُس پر بہت آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی شان اسی کی ہے، اور وہ غالب ہے حکمت والا ہے،(27)
ضَرَبَ لَكُم مَثَلًا مِن أَنفُسِكُم ۖ هَل لَكُم مِن ما مَلَكَت أَيمٰنُكُم مِن شُرَكاءَ فى ما رَزَقنٰكُم فَأَنتُم فيهِ سَواءٌ تَخافونَهُم كَخيفَتِكُم أَنفُسَكُم ۚ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الءايٰتِ لِقَومٍ يَعقِلونَ(28)
اُس نے (نکتۂ توحید سمجھانے کے لئے) تمہارے لئے تمہاری ذاتی زندگیوں سے ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ کیا جو (لونڈی، غلام) تمہاری مِلک میں ہیں اس مال میں جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے شراکت دار ہیں، کہ تم (سب) اس (ملکیت) میں برابر ہو جاؤ۔ (مزید یہ کہ کیا) تم ان سے اسی طرح ڈرتے ہو جس طرح تمہیں اپنوں کا خوف ہوتا ہے (نہیں) اسی طرح ہم عقل رکھنے والوں کے لئے نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں (کہ اﷲ کا بھی اس کی مخلوق میں کوئی شریک نہیں ہے)،(28)
بَلِ اتَّبَعَ الَّذينَ ظَلَموا أَهواءَهُم بِغَيرِ عِلمٍ ۖ فَمَن يَهدى مَن أَضَلَّ اللَّهُ ۖ وَما لَهُم مِن نٰصِرينَ(29)
بلکہ جن لوگوں نے ظلم کیا ہے وہ بغیر علم (و ہدایت) کے اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، پس اس شخص کو کون ہدایت دے سکتا ہے جسے اﷲ نے گمراہ ٹھہرا دیا ہو اور ان لوگوں کے لئے کوئی مددگار نہیں ہے،(29)
فَأَقِم وَجهَكَ لِلدّينِ حَنيفًا ۚ فِطرَتَ اللَّهِ الَّتى فَطَرَ النّاسَ عَلَيها ۚ لا تَبديلَ لِخَلقِ اللَّهِ ۚ ذٰلِكَ الدّينُ القَيِّمُ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ(30)
پس آپ اپنا رخ اﷲ کی اطاعت کے لئے کامل یک سُوئی کے ساتھ قائم رکھیں۔ اﷲ کی (بنائی ہوئی) فطرت (اسلام) ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے (اسے اختیار کر لو)، اﷲ کی پیدا کردہ (سرِشت) میں تبدیلی نہیں ہوگی، یہ دین مستقیم ہے لیکن اکثر لوگ (ان حقیقتوں کو) نہیں جانتے،(30)
۞ مُنيبينَ إِلَيهِ وَاتَّقوهُ وَأَقيمُوا الصَّلوٰةَ وَلا تَكونوا مِنَ المُشرِكينَ(31)
اسی کی طرف رجوع و اِنابت کا حال رکھو اور اس کا تقوٰی اختیار کرو اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے مت ہو جاؤ،(31)
مِنَ الَّذينَ فَرَّقوا دينَهُم وَكانوا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزبٍ بِما لَدَيهِم فَرِحونَ(32)
ان (یہود و نصارٰی) میں سے (بھی نہ ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور وہ گروہ در گروہ ہو گئے، ہر گروہ اسی (ٹکڑے) پر اِتراتا ہے جو اس کے پاس ہے،(32)
وَإِذا مَسَّ النّاسَ ضُرٌّ دَعَوا رَبَّهُم مُنيبينَ إِلَيهِ ثُمَّ إِذا أَذاقَهُم مِنهُ رَحمَةً إِذا فَريقٌ مِنهُم بِرَبِّهِم يُشرِكونَ(33)
اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں، پھر جب وہ ان کو اپنی جانب سے رحمت سے لطف اندوز فرماتا ہے تو پھر فوراً ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں،(33)
لِيَكفُروا بِما ءاتَينٰهُم ۚ فَتَمَتَّعوا فَسَوفَ تَعلَمونَ(34)
تاکہ اس نعمت کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں عطا کی ہے پس تم (چند روزہ زندگی کے) فائدے اٹھا لو، پھر عنقریب تم (اپنے انجام کو) جان لو گے،(34)
أَم أَنزَلنا عَلَيهِم سُلطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِما كانوا بِهِ يُشرِكونَ(35)
کیا ہم نے ان پر کوئی (ایسی) دلیل اتاری ہے جو ان (بتوں) کے حق میں شہادۃً کلام کرتی ہو جنہیں وہ اﷲ کا شریک بنا رہے ہیں،(35)
وَإِذا أَذَقنَا النّاسَ رَحمَةً فَرِحوا بِها ۖ وَإِن تُصِبهُم سَيِّئَةٌ بِما قَدَّمَت أَيديهِم إِذا هُم يَقنَطونَ(36)
اور جب ہم لوگوں کو رحمت سے لطف اندوز کرتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں، اور جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے ان (گناہوں) کے باعث جو وہ پہلے سے کر چکے ہیں تو وہ فوراً مایوس ہو جاتے ہیں،(36)
أَوَلَم يَرَوا أَنَّ اللَّهَ يَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن يَشاءُ وَيَقدِرُ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يُؤمِنونَ(37)
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اﷲ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ فرما دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں،(37)
فَـٔاتِ ذَا القُربىٰ حَقَّهُ وَالمِسكينَ وَابنَ السَّبيلِ ۚ ذٰلِكَ خَيرٌ لِلَّذينَ يُريدونَ وَجهَ اللَّهِ ۖ وَأُولٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ(38)
پس آپ قرابت دار کو اس کا حق ادا کرتے رہیں اور محتاج اور مسافر کو (ان کا حق)، یہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اﷲ کی رضامندی کے طالب ہیں، اور وہی لوگ مراد پانے والے ہیں،(38)
وَما ءاتَيتُم مِن رِبًا لِيَربُوَا۟ فى أَموٰلِ النّاسِ فَلا يَربوا عِندَ اللَّهِ ۖ وَما ءاتَيتُم مِن زَكوٰةٍ تُريدونَ وَجهَ اللَّهِ فَأُولٰئِكَ هُمُ المُضعِفونَ(39)
اور جو مال تم سود پر دیتے ہو تاکہ (تمہارا اثاثہ) لوگوں کے مال میں مل کر بڑھتا رہے تو وہ اﷲ کے نزدیک نہیں بڑھے گا اور جو مال تم زکوٰۃ (و خیرات) میں دیتے ہو (فقط) اﷲ کی رضا چاہتے ہوئے تو وہی لوگ (اپنا مال عند اﷲ) کثرت سے بڑھانے والے ہیں،(39)
اللَّهُ الَّذى خَلَقَكُم ثُمَّ رَزَقَكُم ثُمَّ يُميتُكُم ثُمَّ يُحييكُم ۖ هَل مِن شُرَكائِكُم مَن يَفعَلُ مِن ذٰلِكُم مِن شَيءٍ ۚ سُبحٰنَهُ وَتَعٰلىٰ عَمّا يُشرِكونَ(40)
اﷲ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر اس نے تمہیں رزق بخشا پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں زندہ فرمائے گا، کیا تمہارے (خود ساختہ) شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان (کاموں) میں سے کچھ بھی کر سکے، وہ (اﷲ) پاک ہے اور ان چیزوں سے برتر ہے جنہیں وہ (اس کا) شریک ٹھہراتے ہیں،(40)
ظَهَرَ الفَسادُ فِى البَرِّ وَالبَحرِ بِما كَسَبَت أَيدِى النّاسِ لِيُذيقَهُم بَعضَ الَّذى عَمِلوا لَعَلَّهُم يَرجِعونَ(41)
بحر و بر میں فساد ان (گناہوں) کے باعث پھیل گیا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کما رکھے ہیں تاکہ (اﷲ) انہیں بعض (برے) اعمال کا مزہ چکھا دے جو انہوں نے کئے ہیں، تاکہ وہ باز آجائیں،(41)
قُل سيروا فِى الأَرضِ فَانظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ الَّذينَ مِن قَبلُ ۚ كانَ أَكثَرُهُم مُشرِكينَ(42)
آپ فرما دیجئے کہ تم زمین میں سیر و سیاحت کیا کرو پھر دیکھو پہلے لوگوں کا کیسا (عبرت ناک) انجام ہوا، ان میں زیادہ تر مشرک تھے،(42)
فَأَقِم وَجهَكَ لِلدّينِ القَيِّمِ مِن قَبلِ أَن يَأتِىَ يَومٌ لا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ ۖ يَومَئِذٍ يَصَّدَّعونَ(43)
سو آپ اپنا رُخِ (انور) سیدھے دین کے لئے قائم رکھیئے قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جسے اﷲ کی طرف سے (قطعاً) نہیں پھرنا ہے۔ اس دن سب لوگ جدا جدا ہو جائیں گے،(43)
مَن كَفَرَ فَعَلَيهِ كُفرُهُ ۖ وَمَن عَمِلَ صٰلِحًا فَلِأَنفُسِهِم يَمهَدونَ(44)
جس نے کفر کیا تو اس کا (وبالِ) کفر اسی پر ہے اور جو نیک عمل کرے سو یہ لوگ اپنے لئے (جنّت کی) آرام گاہیں درست کر رہے ہیں،(44)
لِيَجزِىَ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِن فَضلِهِ ۚ إِنَّهُ لا يُحِبُّ الكٰفِرينَ(45)
تاکہ اﷲ اپنے فضل سے ان لوگوں کو بدلہ دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا،(45)
وَمِن ءايٰتِهِ أَن يُرسِلَ الرِّياحَ مُبَشِّرٰتٍ وَلِيُذيقَكُم مِن رَحمَتِهِ وَلِتَجرِىَ الفُلكُ بِأَمرِهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ(46)
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ (بھی) ہے کہ وہ (بارش کی) خوشخبری سنانے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے تاکہ تمہیں (بارش کے ثمرات کی صورت میں) اپنی رحمت سے بہرہ اندوز فرمائے اور تاکہ (ان ہواؤں کے ذریعے) جہاز (بھی) اس کے حکم سے چلیں۔ اور (یہ سب) اس لئے ہے کہ تم اس کا فضل (بصورتِ زراعت و تجارت) تلاش کرو اور شاید تم (یوں) شکرگزار ہو جاؤ،(46)
وَلَقَد أَرسَلنا مِن قَبلِكَ رُسُلًا إِلىٰ قَومِهِم فَجاءوهُم بِالبَيِّنٰتِ فَانتَقَمنا مِنَ الَّذينَ أَجرَموا ۖ وَكانَ حَقًّا عَلَينا نَصرُ المُؤمِنينَ(47)
اور درحقیقت ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے پھر ہم نے (تکذیب کرنے والے) مجرموں سے بدلہ لے لیا، اور مومنوں کی مدد کرنا ہمارے ذمۂ کرم پر تھا (اور ہے)،(47)
اللَّهُ الَّذى يُرسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثيرُ سَحابًا فَيَبسُطُهُ فِى السَّماءِ كَيفَ يَشاءُ وَيَجعَلُهُ كِسَفًا فَتَرَى الوَدقَ يَخرُجُ مِن خِلٰلِهِ ۖ فَإِذا أَصابَ بِهِ مَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ إِذا هُم يَستَبشِرونَ(48)
اﷲ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے تو وہ بادل کو ابھارتی ہیں پھر وہ اس (بادل) کو فضائے آسمانی میں جس طرح چاہتا ہے پھیلا دیتا ہے پھر اسے (متفرق) ٹکڑے (کر کے تہ بہ تہ) کر دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ بارش اس کے درمیان سے نکلتی ہے، پھر جب اس (بارش) کو اپنے بندوں میں سے جنہیں چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے تو وہ فوراً خوش ہو جاتے ہیں،(48)
وَإِن كانوا مِن قَبلِ أَن يُنَزَّلَ عَلَيهِم مِن قَبلِهِ لَمُبلِسينَ(49)
اگرچہ ان پر بارش کے اتارے جانے سے پہلے وہ لوگ مایوس ہو رہے تھے،(49)
فَانظُر إِلىٰ ءاثٰرِ رَحمَتِ اللَّهِ كَيفَ يُحىِ الأَرضَ بَعدَ مَوتِها ۚ إِنَّ ذٰلِكَ لَمُحىِ المَوتىٰ ۖ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(50)
سو آپ اﷲ کی رحمت کے اثرات کی طرف دیکھئے کہ وہ کس طرح زمین کو اس کی مُردنی کے بعد زندہ فرما دیتا ہے، بیشک وہ مُردوں کو (بھی اسی طرح) ضرور زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے،(50)
وَلَئِن أَرسَلنا ريحًا فَرَأَوهُ مُصفَرًّا لَظَلّوا مِن بَعدِهِ يَكفُرونَ(51)
اور اگر ہم (خشک) ہوا بھیج دیں اور وہ (اپنی) کھیتی کو زرد ہوتا ہوا دیکھ لیں تو اس کے بعد وہ (پہلی تمام نعمتوں سے) کفر کرنے لگیں گے،(51)
فَإِنَّكَ لا تُسمِعُ المَوتىٰ وَلا تُسمِعُ الصُّمَّ الدُّعاءَ إِذا وَلَّوا مُدبِرينَ(52)
(اے حبیب!) بیشک آپ نہ تو (اِن کافر) مُردوں کو اپنی پکار سناتے ہیں اور نہ (بدبخت) بہروں کو، جبکہ وہ (آپ ہی سے) پیٹھ پھیرے جا رہے ہوں،(52)
وَما أَنتَ بِهٰدِ العُمىِ عَن ضَلٰلَتِهِم ۖ إِن تُسمِعُ إِلّا مَن يُؤمِنُ بِـٔايٰتِنا فَهُم مُسلِمونَ(53)
اور نہ ہی آپ (ان) اندھوں کو (جو محرومِ بصیرت ہیں) گمراہی سے راہِ ہدایت پر لانے والے ہیں، آپ تو صرف انہی لوگوں کو (فہم اور قبولیت کی توفیق کے ساتھ) سناتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لے آتے ہیں، سو وہی مسلمان ہیں (ان کے سوا کسی اور کو آپ سناتے ہی نہیں ہیں)،(53)
۞ اللَّهُ الَّذى خَلَقَكُم مِن ضَعفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعدِ ضَعفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعدِ قُوَّةٍ ضَعفًا وَشَيبَةً ۚ يَخلُقُ ما يَشاءُ ۖ وَهُوَ العَليمُ القَديرُ(54)
اﷲ ہی ہے جس نے تمہیں کمزور چیز (یعنی نطفہ) سے پیدا فرمایا پھر اس نے کمزوری کے بعد قوتِ (شباب) پیدا کیا، پھر اس نے قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا پیدا کر دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور وہ خوب جاننے والا، بڑی قدرت والا ہے،(54)
وَيَومَ تَقومُ السّاعَةُ يُقسِمُ المُجرِمونَ ما لَبِثوا غَيرَ ساعَةٍ ۚ كَذٰلِكَ كانوا يُؤفَكونَ(55)
اور جس دن قیامت برپا ہوگی مُجرم لوگ قَسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی کے سوا ٹھہرے ہی نہیں تھے، اسی طرح وہ (دنیا میں بھی حق سے) پھرے رہتے تھے،(55)
وَقالَ الَّذينَ أوتُوا العِلمَ وَالإيمٰنَ لَقَد لَبِثتُم فى كِتٰبِ اللَّهِ إِلىٰ يَومِ البَعثِ ۖ فَهٰذا يَومُ البَعثِ وَلٰكِنَّكُم كُنتُم لا تَعلَمونَ(56)
اور جنہیں علم اور ایمان سے نوازا گیا ہے (ان سے) کہیں گے: درحقیقت تم اﷲ کی کتاب میں (ایک گھڑی نہیں بلکہ) اٹھنے کے دن تک ٹھہرے رہے ہو، سو یہ ہے اٹھنے کا دن، لیکن تم جانتے ہی نہ تھے،(56)
فَيَومَئِذٍ لا يَنفَعُ الَّذينَ ظَلَموا مَعذِرَتُهُم وَلا هُم يُستَعتَبونَ(57)
پس اس دن ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ہی ان سے (اﷲ کو) راضی کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا،(57)
وَلَقَد ضَرَبنا لِلنّاسِ فى هٰذَا القُرءانِ مِن كُلِّ مَثَلٍ ۚ وَلَئِن جِئتَهُم بِـٔايَةٍ لَيَقولَنَّ الَّذينَ كَفَروا إِن أَنتُم إِلّا مُبطِلونَ(58)
اور درحقیقت ہم نے لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے، اور اگر آپ ان کے پاس کوئی (ظاہری) نشانی لے آئیں تب بھی یہ کافر لوگ ضرور (یہی) کہہ دیں گے کہ آپ محض باطل و فریب کار ہیں،(58)
كَذٰلِكَ يَطبَعُ اللَّهُ عَلىٰ قُلوبِ الَّذينَ لا يَعلَمونَ(59)
اسی طرح اﷲ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو (حق کو) نہیں جانتے،(59)
فَاصبِر إِنَّ وَعدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ وَلا يَستَخِفَّنَّكَ الَّذينَ لا يوقِنونَ(60)
پس آپ صبر کیجئے، بیشک اﷲ کا وعدہ سچا ہے، جو لوگ یقین نہیں رکھتے کہیں (ان کی گمراہی کا غم اور ہدایت کی فکر) آپ کو کمزور ہی نہ کر دیں۔ (اے جانِ جہاں! ان کے کفر کو غمِ جاں نہ بنا لیں)،(60)