Ar-Rahman( الرحمن)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الرَّحمٰنُ(1)
(وہ) رحمان ہی ہے،(1)
عَلَّمَ القُرءانَ(2)
جس نے (خود رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) قرآن سکھایا٭، ٭ کفّار و مشرکینِ مکہ کے اِس الزام کے جواب میں یہ آیت اتری کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (معاذ اللہ) کوئی شخص خفیہ قرآن سکھاتا ہے۔ حوالہ جات کے لئے ملاحظہ کریں: تفسیر بغوی، خازن، القشیری، البحر المحیط، الجمل، فتح القدیر، المظہری، اللباب، الصاوی، السراج المنیر، مراغی، اضواء البیان اور مجمع البیان وغیرھم۔(2)
خَلَقَ الإِنسٰنَ(3)
اُسی نے (اِس کامل) انسان کو پیدا فرمایا،(3)
عَلَّمَهُ البَيانَ(4)
اسی نے اِسے (یعنی نبیِ برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مَا کَانَ وَ مَا یَکُونُ کا) بیان سکھایا٭، ٭ مفسرین کرام نے بیان کا معنی علمِ مَا کَانَ وَ مَا یَکُونُ بھی بیان کیا ہے۔ حوالہ جات کے لئے ملاخطہ کریں: تفسیر بغوی، خازن، جمل، المظہری، اللباب، زاد المسیر، صاوی، السراج المنیر اور مجمع البیان۔(4)
الشَّمسُ وَالقَمَرُ بِحُسبانٍ(5)
سورج اور چاند (اسی کے) مقررّہ حساب سے چل رہے ہیں،(5)
وَالنَّجمُ وَالشَّجَرُ يَسجُدانِ(6)
اور زمین پر پھیلنے والی بوٹیاں اور سب درخت (اسی کو) سجدہ کر رہے ہیں،(6)
وَالسَّماءَ رَفَعَها وَوَضَعَ الميزانَ(7)
اور اسی نے آسمان کو بلند کر رکھا ہے اور (اسی نے عدل کے لئے) ترازو قائم کر رکھی ہے،(7)
أَلّا تَطغَوا فِى الميزانِ(8)
تاکہ تم تولنے میں بے اعتدالی نہ کرو،(8)
وَأَقيمُوا الوَزنَ بِالقِسطِ وَلا تُخسِرُوا الميزانَ(9)
اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول کو کم نہ کرو،(9)
وَالأَرضَ وَضَعَها لِلأَنامِ(10)
زمین کو اسی نے مخلوق کے لئے بچھا دیا،(10)
فيها فٰكِهَةٌ وَالنَّخلُ ذاتُ الأَكمامِ(11)
اس میں میوے ہیں اور خوشوں والی کھجوریں ہیں،(11)
وَالحَبُّ ذُو العَصفِ وَالرَّيحانُ(12)
اور بھوسہ والا اناج ہے اور خوشبودار (پھل) پھول ہیں،(12)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(13)
پس (اے گروہِ جنّ و انسان!) تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(13)
خَلَقَ الإِنسٰنَ مِن صَلصٰلٍ كَالفَخّارِ(14)
اسی نے انسان کو ٹھیکری کی طرح بجتے ہوئے خشک گارے سے بنایا،(14)
وَخَلَقَ الجانَّ مِن مارِجٍ مِن نارٍ(15)
اور جنّات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا،(15)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(16)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(16)
رَبُّ المَشرِقَينِ وَرَبُّ المَغرِبَينِ(17)
(وہی) دونوں مشرقوں کا مالک ہے اور (وہی) دونوں مغربوں کا مالک ہے،(17)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(18)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(18)
مَرَجَ البَحرَينِ يَلتَقِيانِ(19)
اسی نے دو سمندر رواں کئے جو باہم مل جاتے ہیں،(19)
بَينَهُما بَرزَخٌ لا يَبغِيانِ(20)
اُن دونوں کے درمیان ایک آڑ ہے وہ (اپنی اپنی) حد سے تجاوز نہیں کرسکتے،(20)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(21)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(21)
يَخرُجُ مِنهُمَا اللُّؤلُؤُ وَالمَرجانُ(22)
اُن دونوں (سمندروں) سے موتی (جس کی جھلک سبز ہوتی ہے) اور مَرجان (جِس کی رنگت سرخ ہوتی ہے) نکلتے ہیں،(22)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(23)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(23)
وَلَهُ الجَوارِ المُنشَـٔاتُ فِى البَحرِ كَالأَعلٰمِ(24)
اوربلند بادبان والے بڑے بڑے جہاز (بھی) اسی کے (اختیار میں) ہیں جو پہاڑوں کی طرح سمندر میں (کھڑے ہوتے یا چلتے) ہیں،(24)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(25)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(25)
كُلُّ مَن عَلَيها فانٍ(26)
ہر کوئی جو بھی زمین پر ہے فنا ہو جانے والا ہے،(26)
وَيَبقىٰ وَجهُ رَبِّكَ ذُو الجَلٰلِ وَالإِكرامِ(27)
اور آپ کے رب ہی کی ذات باقی رہے گی جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ انعام و اکرام ہے،(27)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(28)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(28)
يَسـَٔلُهُ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ كُلَّ يَومٍ هُوَ فى شَأنٍ(29)
سب اسی سے مانگتے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ وہ ہر آن نئی شان میں ہوتا ہے،(29)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(30)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(30)
سَنَفرُغُ لَكُم أَيُّهَ الثَّقَلانِ(31)
اے ہر دو گروہانِ (اِنس و جِن!) ہم عنقریب تمہارے حساب کی طرف متوّجہ ہوتے ہیں،(31)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(32)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(32)
يٰمَعشَرَ الجِنِّ وَالإِنسِ إِنِ استَطَعتُم أَن تَنفُذوا مِن أَقطارِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ فَانفُذوا ۚ لا تَنفُذونَ إِلّا بِسُلطٰنٍ(33)
اے گروہِ جن و اِنس! اگر تم اِس بات پر قدرت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل سکو (اور تسخیرِ کائنات کرو) تو تم نکل جاؤ، تم جس (کرّۂ سماوی کے) مقام پر بھی نکل کر جاؤ گے وہاں بھی اسی کی سلطنت ہوگی،(33)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(34)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(34)
يُرسَلُ عَلَيكُما شُواظٌ مِن نارٍ وَنُحاسٌ فَلا تَنتَصِرانِ(35)
تم دونوں پر آگ کے خالص شعلے بھیج دیئے جائیں گے اور (بغیر شعلوں کے) دھواں (بھی بھیجا جائے گا) اور تم دونوں اِن سے بچ نہ سکو گے،(35)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(36)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(36)
فَإِذَا انشَقَّتِ السَّماءُ فَكانَت وَردَةً كَالدِّهانِ(37)
پھر جب آسمان پھٹ جائیں گے اور جلے ہوئے تیل (یا سرخ چمڑے) کی طرح گلابی ہو جائیں گے،(37)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(38)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(38)
فَيَومَئِذٍ لا يُسـَٔلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلا جانٌّ(39)
سو اُس دن نہ تو کسی انسان سے اُس کے گناہ کی بابت پوچھا جائے گا اور نہ ہی کسی جِن سے،(39)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(40)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(40)
يُعرَفُ المُجرِمونَ بِسيمٰهُم فَيُؤخَذُ بِالنَّوٰصى وَالأَقدامِ(41)
مجرِم لوگ اپنے چہروں کی سیاہی سے پہچان لئے جائیں گے پس انہیں پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ کر کھینچا جائے گا،(41)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(42)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(42)
هٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتى يُكَذِّبُ بِهَا المُجرِمونَ(43)
(اُن سے کہا جائے گا:) یہی ہے وہ دوزخ جسے مجرِم لوگ جھٹلایا کرتے تھے،(43)
يَطوفونَ بَينَها وَبَينَ حَميمٍ ءانٍ(44)
وہ اُس (دوزخ) میں اور کھولتے گرم پانی میں گھومتے پھریں گے،(44)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(45)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(45)
وَلِمَن خافَ مَقامَ رَبِّهِ جَنَّتانِ(46)
اور جو شخص اپنے رب کے حضور (پیشی کے لئے) کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اُس کے لئے دو جنتیں ہیں،(46)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(47)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(47)
ذَواتا أَفنانٍ(48)
جو دونوں (سرسبز و شاداب) گھنی شاخوں والی (جنتیں) ہیں،(48)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(49)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(49)
فيهِما عَينانِ تَجرِيانِ(50)
ان دونوں میں دو چشمے بہہ رہے ہیں،(50)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(51)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(51)
فيهِما مِن كُلِّ فٰكِهَةٍ زَوجانِ(52)
ان دونوں میں ہر پھل (اور میوے) کی دو دو قِسمیں ہیں،(52)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(53)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(53)
مُتَّكِـٔينَ عَلىٰ فُرُشٍ بَطائِنُها مِن إِستَبرَقٍ ۚ وَجَنَى الجَنَّتَينِ دانٍ(54)
اہلِ جنت ایسے بستروں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استر نفِیس اور دبیز ریشم (یعنی اَطلس) کے ہوں گے، اور دونوں جنتوں کے پھل (اُن کے) قریب جھک رہے ہوں گے،(54)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(55)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(55)
فيهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرفِ لَم يَطمِثهُنَّ إِنسٌ قَبلَهُم وَلا جانٌّ(56)
اور اُن میں نیچی نگاہ رکھنے والی (حوریں) ہوں گی جنہیں پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جِن نے،(56)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(57)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(57)
كَأَنَّهُنَّ الياقوتُ وَالمَرجانُ(58)
گویا وہ (حوریں) یا قوت اور مرجان ہیں،(58)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(59)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(59)
هَل جَزاءُ الإِحسٰنِ إِلَّا الإِحسٰنُ(60)
نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے،(60)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(61)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(61)
وَمِن دونِهِما جَنَّتانِ(62)
اور (اُن کے لئے) اِن دو کے سوا دو اور بہشتیں بھی ہیں،(62)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(63)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(63)
مُدهامَّتانِ(64)
وہ دونوں گہری سبز رنگت میں سیاہی مائل لگتی ہیں،(64)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(65)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(65)
فيهِما عَينانِ نَضّاخَتانِ(66)
اُن دونوں میں (بھی) دو چشمے ہیں جو خوب چھلک رہے ہوں گے،(66)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(67)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(67)
فيهِما فٰكِهَةٌ وَنَخلٌ وَرُمّانٌ(68)
ان دونوں میں (بھی) پھل اور کھجوریں اور انار ہیں،(68)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(69)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(69)
فيهِنَّ خَيرٰتٌ حِسانٌ(70)
ان میں (بھی) خوب سیرت و خوب صورت (حوریں) ہیں،(70)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(71)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(71)
حورٌ مَقصورٰتٌ فِى الخِيامِ(72)
ایسی حوریں جو خیموں میں پردہ نشین ہیں،(72)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(73)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(73)
لَم يَطمِثهُنَّ إِنسٌ قَبلَهُم وَلا جانٌّ(74)
انہیں پہلے نہ کسی انسان ہی نے ہاتھ سے چُھوا ہے اور نہ کسی جِن نے،(74)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(75)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(75)
مُتَّكِـٔينَ عَلىٰ رَفرَفٍ خُضرٍ وَعَبقَرِىٍّ حِسانٍ(76)
(اہلِ جنت) سبز قالینوں پر اور نادر و نفیس بچھونوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے،(76)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(77)
پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،(77)
تَبٰرَكَ اسمُ رَبِّكَ ذِى الجَلٰلِ وَالإِكرامِ(78)
آپ کے رب کا نام بڑی برکت والا ہے، جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ اِنعام و اِکرام ہے،(78)