Ar-Ra'd( الرعد)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ المر ۚ تِلكَ ءايٰتُ الكِتٰبِ ۗ وَالَّذى أُنزِلَ إِلَيكَ مِن رَبِّكَ الحَقُّ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يُؤمِنونَ(1)
الف، لام، میم، را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ کتابِ الٰہی کی آیتیں ہیں، اور جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ کی جانب نازل کیا گیا ہے (وہ) حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے،(1)
اللَّهُ الَّذى رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيرِ عَمَدٍ تَرَونَها ۖ ثُمَّ استَوىٰ عَلَى العَرشِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمسَ وَالقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجرى لِأَجَلٍ مُسَمًّى ۚ يُدَبِّرُ الأَمرَ يُفَصِّلُ الءايٰتِ لَعَلَّكُم بِلِقاءِ رَبِّكُم توقِنونَ(2)
اور اﷲ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے (خلا میں) بلند فرمایا (جیسا کہ) تم دیکھ رہے ہو پھر (پوری کائنات پر محیط اپنے) تختِ اقتدار پر متمکن ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو نظام کا پابند بنا دیا، ہر ایک اپنی مقررہ میعاد (میں مسافت مکمل کرنے) کے لئے (اپنے اپنے مدار میں) چلتا ہے۔ وہی (ساری کائنات کے) پورے نظام کی تدبیر فرماتا ہے، (سب) نشانیوں (یا قوانینِ فطرت) کو تفصیلاً واضح فرماتا ہے تاکہ تم اپنے رب کے روبرو حاضر ہونے کا یقین کر لو،(2)
وَهُوَ الَّذى مَدَّ الأَرضَ وَجَعَلَ فيها رَوٰسِىَ وَأَنهٰرًا ۖ وَمِن كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فيها زَوجَينِ اثنَينِ ۖ يُغشِى الَّيلَ النَّهارَ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ(3)
اور وہی ہے جس نے (گولائی کے باوجود) زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے، اور ہر قسم کے پھلوں میں (بھی) اس نے دو دو (جنسوں کے) جوڑے بنائے (وہی) رات سے دن کو ڈھانک لیتا ہے، بیشک اس میں تفکر کرنے والوں کے لئے (بہت) نشانیاں ہیں،(3)
وَفِى الأَرضِ قِطَعٌ مُتَجٰوِرٰتٌ وَجَنّٰتٌ مِن أَعنٰبٍ وَزَرعٌ وَنَخيلٌ صِنوانٌ وَغَيرُ صِنوانٍ يُسقىٰ بِماءٍ وٰحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعضَها عَلىٰ بَعضٍ فِى الأُكُلِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَعقِلونَ(4)
اور زمین میں (مختلف قسم کے) قطعات ہیں جو ایک دوسرے کے قریب ہیں اور انگوروں کے باغات ہیں اور کھیتیاں ہیں اور کھجور کے درخت ہیں، جھنڈدار اور بغیر جھنڈ کے، ان (سب) کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے، اور (اس کے باوجود) ہم ذائقہ میں بعض کو بعض پر فضیلت بخشتے ہیں، بیشک اس میں عقل مندوں کے لئے (بڑی) نشانیاں ہیں،(4)
۞ وَإِن تَعجَب فَعَجَبٌ قَولُهُم أَءِذا كُنّا تُرٰبًا أَءِنّا لَفى خَلقٍ جَديدٍ ۗ أُولٰئِكَ الَّذينَ كَفَروا بِرَبِّهِم ۖ وَأُولٰئِكَ الأَغلٰلُ فى أَعناقِهِم ۖ وَأُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ(5)
اور اگر آپ (کفار کے انکار پر) تعجب کریں تو ان کا (یہ) کہنا عجیب (تر) ہے کہ کیا جب ہم (مر کر) خاک ہو جائیں گے تو کیا ہم اَز سرِ نو تخلیق کئے جائیں گے؟ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا، اور انہی لوگوں کی گردنوں میں طوق (پڑے) ہوں گے اور یہی لوگ اہلِ جہنم ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں،(5)
وَيَستَعجِلونَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبلَ الحَسَنَةِ وَقَد خَلَت مِن قَبلِهِمُ المَثُلٰتُ ۗ وَإِنَّ رَبَّكَ لَذو مَغفِرَةٍ لِلنّاسِ عَلىٰ ظُلمِهِم ۖ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَديدُ العِقابِ(6)
اور یہ لوگ رحمت سے پہلے آپ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں، حالانکہ ان سے پہلے کئی عذاب گزر چکے ہیں، اور (اے حبیب!) بیشک آپ کا رب لوگوں کے لئے ان کے ظلم کے باوجود بخشش والا ہے اور یقیناً آپ کا رب سخت عذاب دینے والا (بھی) ہے،(6)
وَيَقولُ الَّذينَ كَفَروا لَولا أُنزِلَ عَلَيهِ ءايَةٌ مِن رَبِّهِ ۗ إِنَّما أَنتَ مُنذِرٌ ۖ وَلِكُلِّ قَومٍ هادٍ(7)
اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (رسول) پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ (اے رسولِ مکرّم!) آپ تو فقط (نافرمانوں کو انجامِ بد سے) ڈرانے والے اور (دنیا کی) ہر قوم کے لئے ہدایت بہم پہنچانے والے ہیں،(7)
اللَّهُ يَعلَمُ ما تَحمِلُ كُلُّ أُنثىٰ وَما تَغيضُ الأَرحامُ وَما تَزدادُ ۖ وَكُلُّ شَيءٍ عِندَهُ بِمِقدارٍ(8)
اﷲ جانتا ہے جو کچھ ہر مادہ اپنے پیٹ میں اٹھاتی ہے اور رحم جس قدر سکڑتے اور جس قدر بڑھتے ہیں، اور ہر چیز اس کے ہاں مقرر حد کے ساتھ ہے،(8)
عٰلِمُ الغَيبِ وَالشَّهٰدَةِ الكَبيرُ المُتَعالِ(9)
وہ ہر نہاں اور عیاں کو جاننے والا ہے سب سے برتر (اور) اعلیٰ رتبہ والا ہے،(9)
سَواءٌ مِنكُم مَن أَسَرَّ القَولَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَن هُوَ مُستَخفٍ بِالَّيلِ وَسارِبٌ بِالنَّهارِ(10)
تم میں سے جو شخص آہستہ بات کرے اور جو بلند آواز سے کرے اور جو رات (کی تاریکی) میں چھپا ہو اور جو دن (کی روشنی) میں چلتا پھرتا ہو (اس کے لئے) سب برابر ہیں،(10)
لَهُ مُعَقِّبٰتٌ مِن بَينِ يَدَيهِ وَمِن خَلفِهِ يَحفَظونَهُ مِن أَمرِ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لا يُغَيِّرُ ما بِقَومٍ حَتّىٰ يُغَيِّروا ما بِأَنفُسِهِم ۗ وَإِذا أَرادَ اللَّهُ بِقَومٍ سوءًا فَلا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَما لَهُم مِن دونِهِ مِن والٍ(11)
(ہر) انسان کے لئے یکے بعد دیگرے آنے والے (فرشتے) ہیں جو اس کے آگے اور اس کے پیچھے اﷲ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ بیشک اﷲ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کر ڈالیں، اور جب اﷲ کسی قوم کے ساتھ (اس کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے) عذاب کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اسے کوئی ٹال نہیں سکتا، اور نہ ہی ان کے لئے اﷲ کے مقابلہ میں کوئی مددگار ہوتا ہے،(11)
هُوَ الَّذى يُريكُمُ البَرقَ خَوفًا وَطَمَعًا وَيُنشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ(12)
وہی ہے جو تمہیں (کبھی) ڈرانے اور (کبھی) امید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا ہے اور (کبھی) بھاری (گھنے) بادلوں کو اٹھاتا ہے،(12)
وَيُسَبِّحُ الرَّعدُ بِحَمدِهِ وَالمَلٰئِكَةُ مِن خيفَتِهِ وَيُرسِلُ الصَّوٰعِقَ فَيُصيبُ بِها مَن يَشاءُ وَهُم يُجٰدِلونَ فِى اللَّهِ وَهُوَ شَديدُ المِحالِ(13)
(بجلیوں اور بادلوں کی) گرج (یا اس پر متعین فرشتہ) اور تمام فرشتے اس کے خوف سے اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں، اور وہ کڑکتی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے اسے گرا دیتا ہے، اور وہ (کفار قدرت کی ان نشانیوں کے باوجود) اﷲ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں، اور وہ سخت تدبیر و گرفت والا ہے،(13)
لَهُ دَعوَةُ الحَقِّ ۖ وَالَّذينَ يَدعونَ مِن دونِهِ لا يَستَجيبونَ لَهُم بِشَيءٍ إِلّا كَبٰسِطِ كَفَّيهِ إِلَى الماءِ لِيَبلُغَ فاهُ وَما هُوَ بِبٰلِغِهِ ۚ وَما دُعاءُ الكٰفِرينَ إِلّا فى ضَلٰلٍ(14)
اسی کے لئے حق (یعنی توحید) کی دعوت ہے، اور وہ (کافر) لوگ جو اس کے سوا (معبودانِ باطلہ یعنی بتوں) کی عبادت کرتے ہیں، وہ انہیں کسی چیز کا جواب بھی نہیں دے سکتے۔ ان کی مثال تو صرف اس شخص جیسی ہے جو اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلائے (بیٹھا) ہو کہ پانی (خود) اس کے منہ تک پہنچ جائے اور (یوں تو) وہ (پانی) اس تک پہنچنے والا نہیں، اور (اسی طرح) کافروں کا (بتوں کی عبادت اور ان سے) دعا کرنا گمراہی میں بھٹکنے کے سوا کچھ نہیں،(14)
وَلِلَّهِ يَسجُدُ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ طَوعًا وَكَرهًا وَظِلٰلُهُم بِالغُدُوِّ وَالءاصالِ ۩(15)
اور جو کوئی (بھی) آسمانوں اور زمین میں ہے وہ تو اﷲ ہی کے لئے سجدہ کرتا ہے (بعض) خوشی سے اور (بعض) مجبوراً اور ان کے سائے (بھی) صبح و شام (اسی کو سجدہ کرتے ہیں، تو پھر ان کافروں نے اﷲ کو چھوڑ کر بتوں کی سجدہ ریزی کیوں شروع کر لی ہے؟)،(15)
قُل مَن رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ قُلِ اللَّهُ ۚ قُل أَفَاتَّخَذتُم مِن دونِهِ أَولِياءَ لا يَملِكونَ لِأَنفُسِهِم نَفعًا وَلا ضَرًّا ۚ قُل هَل يَستَوِى الأَعمىٰ وَالبَصيرُ أَم هَل تَستَوِى الظُّلُمٰتُ وَالنّورُ ۗ أَم جَعَلوا لِلَّهِ شُرَكاءَ خَلَقوا كَخَلقِهِ فَتَشٰبَهَ الخَلقُ عَلَيهِم ۚ قُلِ اللَّهُ خٰلِقُ كُلِّ شَيءٍ وَهُوَ الوٰحِدُ القَهّٰرُ(16)
(ان کافروں کے سامنے) فرمایئے کہ آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے؟ آپ (خود ہی) فرما دیجئے: اﷲ ہے۔ (پھر) آپ (ان سے دریافت) فرمایئے: کیا تم نے اس کے سوا (ان بتوں) کو کارساز بنا لیا ہے جو نہ اپنی ذاتوں کے لئے کسی نفع کے مالک ہیں اور نہ کسی نقصان کے۔ آپ فرما دیجئے: کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں یا کیا تاریکیاں اور روشنی برابر ہو سکتی ہیں۔ کیا انہوں نے اﷲ کے لئے ایسے شریک بنائے ہیں جنہوں نے اﷲ کی مخلوق کی طرح (کچھ مخلوق) خود (بھی) پیدا کی ہو، سو (ان بتوں کی پیدا کردہ) اس مخلوق سے ان کو تشابُہ (یعنی مغالطہ) ہو گیا ہو، فرما دیجئے: اﷲ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہ ایک ہے، وہ سب پر غالب ہے،(16)
أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَسالَت أَودِيَةٌ بِقَدَرِها فَاحتَمَلَ السَّيلُ زَبَدًا رابِيًا ۚ وَمِمّا يوقِدونَ عَلَيهِ فِى النّارِ ابتِغاءَ حِليَةٍ أَو مَتٰعٍ زَبَدٌ مِثلُهُ ۚ كَذٰلِكَ يَضرِبُ اللَّهُ الحَقَّ وَالبٰطِلَ ۚ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذهَبُ جُفاءً ۖ وَأَمّا ما يَنفَعُ النّاسَ فَيَمكُثُ فِى الأَرضِ ۚ كَذٰلِكَ يَضرِبُ اللَّهُ الأَمثالَ(17)
اس نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا تو وادیاں اپنی (اپنی) گنجائش کے مطابق بہہ نکلیں، پھر سیلاب کی رَو نے ابھرا ہوا جھاگ اٹھا لیا، اور جن چیزوں کو آگ میں تپاتے ہیں، زیور یا دوسرا سامان بنانے کے لئے اس پر بھی ویسا ہی جھاگ اٹھتا ہے، اس طرح اﷲ حق اور باطل کی مثالیں بیان فرماتا ہے، سو جھاگ تو (پانی والا ہو یا آگ والا سب) بے کار ہو کر رہ جاتا ہے اور البتہ جو کچھ لوگوں کے لئے نفع بخش ہوتا ہے وہ زمین میں باقی رہتا ہے، اﷲ اس طرح مثالیں بیان فرماتا ہے،(17)
لِلَّذينَ استَجابوا لِرَبِّهِمُ الحُسنىٰ ۚ وَالَّذينَ لَم يَستَجيبوا لَهُ لَو أَنَّ لَهُم ما فِى الأَرضِ جَميعًا وَمِثلَهُ مَعَهُ لَافتَدَوا بِهِ ۚ أُولٰئِكَ لَهُم سوءُ الحِسابِ وَمَأوىٰهُم جَهَنَّمُ ۖ وَبِئسَ المِهادُ(18)
ایسے لوگوں کے لئے جنہوں نے اپنے رب کا حکم قبول کیا بھلائی ہے، اور جنہوں نے اس کا حکم قبول نہیں کیا اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہو سو وہ اسے (عذاب سے نجات کے لئے) فدیہ دے ڈالیں (تب بھی) انہی لوگوں کا حساب برا ہوگا، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے،(18)
۞ أَفَمَن يَعلَمُ أَنَّما أُنزِلَ إِلَيكَ مِن رَبِّكَ الحَقُّ كَمَن هُوَ أَعمىٰ ۚ إِنَّما يَتَذَكَّرُ أُولُوا الأَلبٰبِ(19)
بھلا وہ شخص جو یہ جانتا ہے کہ جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے حق ہے، اس شخص کے مانند ہو سکتا ہے جو اندھا ہے، بات یہی ہے کہ نصیحت عقل مند ہی قبول کرتے ہیں،(19)
الَّذينَ يوفونَ بِعَهدِ اللَّهِ وَلا يَنقُضونَ الميثٰقَ(20)
جو لوگ اﷲ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور قول و قرار کو نہیں توڑتے،(20)
وَالَّذينَ يَصِلونَ ما أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يوصَلَ وَيَخشَونَ رَبَّهُم وَيَخافونَ سوءَ الحِسابِ(21)
اور جو لوگ ان سب (حقوق اﷲ، حقوق الرسول، حقوق العباد اور اپنے حقوقِ قرابت) کو جوڑے رکھتے ہیں، جن کے جوڑے رکھنے کا اﷲ نے حکم فرمایا ہے اور اپنے رب کی خشیّت میں رہتے ہیں اور برے حساب سے خائف رہتے ہیں،(21)
وَالَّذينَ صَبَرُوا ابتِغاءَ وَجهِ رَبِّهِم وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ وَأَنفَقوا مِمّا رَزَقنٰهُم سِرًّا وَعَلانِيَةً وَيَدرَءونَ بِالحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولٰئِكَ لَهُم عُقبَى الدّارِ(22)
اور جو لوگ اپنے رب کی رضاجوئی کے لئے صبر کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ (دونوں طرح) خرچ کرتے ہیں اور نیکی کے ذریعہ برائی کو دور کرتے رہتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت کا (حسین) گھر ہے،(22)
جَنّٰتُ عَدنٍ يَدخُلونَها وَمَن صَلَحَ مِن ءابائِهِم وَأَزوٰجِهِم وَذُرِّيّٰتِهِم ۖ وَالمَلٰئِكَةُ يَدخُلونَ عَلَيهِم مِن كُلِّ بابٍ(23)
(جہاں) سدا بہار باغات ہیں ان میں وہ لوگ داخل ہوں گے اور ان کے آباء و اجداد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو بھی نیکوکار ہوگا اور فرشتے ان کے پاس (جنت کے) ہر دروازے سے آئیں گے،(23)
سَلٰمٌ عَلَيكُم بِما صَبَرتُم ۚ فَنِعمَ عُقبَى الدّارِ(24)
(انہیں خوش آمدید کہتے اور مبارک باد دیتے ہوئے کہیں گے:) تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کرنے کے صلہ میں، پس (اب دیکھو) آخرت کا گھر کیا خوب ہے،(24)
وَالَّذينَ يَنقُضونَ عَهدَ اللَّهِ مِن بَعدِ ميثٰقِهِ وَيَقطَعونَ ما أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يوصَلَ وَيُفسِدونَ فِى الأَرضِ ۙ أُولٰئِكَ لَهُمُ اللَّعنَةُ وَلَهُم سوءُ الدّارِ(25)
اور جو لوگ اﷲ کا عہد اس کے مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور ان تمام (رشتوں اور حقوق) کو قطع کر دیتے ہیں جن کے جوڑے رکھنے کا اﷲ نے حکم فرمایا ہے اور زمین میں فساد انگیزی کرتے ہیں انہی لوگوں کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر ہے،(25)
اللَّهُ يَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن يَشاءُ وَيَقدِرُ ۚ وَفَرِحوا بِالحَيوٰةِ الدُّنيا وَمَا الحَيوٰةُ الدُّنيا فِى الءاخِرَةِ إِلّا مَتٰعٌ(26)
اﷲ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ فرما دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے، اور وہ (کافر) دنیا کی زندگی سے بہت مسرور ہیں، حالانکہ دنیوی زندگی آخرت کے مقابلہ میں ایک حقیر متاع کے سوا کچھ بھی نہیں،(26)
وَيَقولُ الَّذينَ كَفَروا لَولا أُنزِلَ عَلَيهِ ءايَةٌ مِن رَبِّهِ ۗ قُل إِنَّ اللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشاءُ وَيَهدى إِلَيهِ مَن أَنابَ(27)
اور کافر لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس (رسول) پر اس کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری، فرما دیجئے: بیشک اﷲ جسے چاہتا ہے (نشانیوں کے باوجود) گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے اپنی جانب رہنمائی فرما دیتا ہے،(27)
الَّذينَ ءامَنوا وَتَطمَئِنُّ قُلوبُهُم بِذِكرِ اللَّهِ ۗ أَلا بِذِكرِ اللَّهِ تَطمَئِنُّ القُلوبُ(28)
جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اﷲ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے،(28)
الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طوبىٰ لَهُم وَحُسنُ مَـٔابٍ(29)
جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لئے (آخرت میں) عیش و مسرت ہے اور عمدہ ٹھکانا ہے،(29)
كَذٰلِكَ أَرسَلنٰكَ فى أُمَّةٍ قَد خَلَت مِن قَبلِها أُمَمٌ لِتَتلُوَا۟ عَلَيهِمُ الَّذى أَوحَينا إِلَيكَ وَهُم يَكفُرونَ بِالرَّحمٰنِ ۚ قُل هُوَ رَبّى لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ عَلَيهِ تَوَكَّلتُ وَإِلَيهِ مَتابِ(30)
(اے حبیب!) اسی طرح ہم نے آپ کو ایسی امت میں (رسول بنا کر) بھیجا ہے کہ جس سے پہلے حقیقت میں (ساری) امتیں گزر چکی ہیں (اب یہ سب سے آخری امت ہے) تاکہ آپ ان پر وہ (کتاب) پڑھ کر سنا دیں جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے اور وہ رحمان کا انکار کر رہے ہیں، آپ فرما دیجئے: وہ میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے،(30)
وَلَو أَنَّ قُرءانًا سُيِّرَت بِهِ الجِبالُ أَو قُطِّعَت بِهِ الأَرضُ أَو كُلِّمَ بِهِ المَوتىٰ ۗ بَل لِلَّهِ الأَمرُ جَميعًا ۗ أَفَلَم يَا۟يـَٔسِ الَّذينَ ءامَنوا أَن لَو يَشاءُ اللَّهُ لَهَدَى النّاسَ جَميعًا ۗ وَلا يَزالُ الَّذينَ كَفَروا تُصيبُهُم بِما صَنَعوا قارِعَةٌ أَو تَحُلُّ قَريبًا مِن دارِهِم حَتّىٰ يَأتِىَ وَعدُ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لا يُخلِفُ الميعادَ(31)
اور اگر کوئی ایسا قرآن ہوتا جس کے ذریعے پہاڑ چلا دیئے جاتے یا اس سے زمین پھاڑ دی جاتی یا اس کے ذریعے مُردوں سے بات کرا دی جاتی (تب بھی وہ ایمان نہ لاتے)، بلکہ سب کام اﷲ ہی کے اختیار میں ہیں، تو کیا ایمان والوں کو (یہ) معلوم نہیں کہ اگر اﷲ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت فرما دیتا، اور ہمیشہ کافر لوگوں کو ان کے کرتوتوں کے باعث کوئی (نہ کوئی) مصیبت پہنچتی رہے گی یا ان کے گھروں (یعنی بستیوں) کے آس پاس اترتی رہے گی یہاں تک کہ اﷲ کا وعدۂ (عذاب) آپہنچے، بیشک اﷲ وعدہ خلافی نہیں کرتا،(31)
وَلَقَدِ استُهزِئَ بِرُسُلٍ مِن قَبلِكَ فَأَملَيتُ لِلَّذينَ كَفَروا ثُمَّ أَخَذتُهُم ۖ فَكَيفَ كانَ عِقابِ(32)
اور بیشک آپ سے قبل (بھی کفار کی جانب سے) رسولوں کے ساتھ مذاق کیا جاتا رہا سو میں نے کافروں کو مہلت دی پھر میں نے انہیں (عذاب کی) گرفت میں لے لیا۔ پھر (دیکھئے) میرا عذاب کیسا تھا،(32)
أَفَمَن هُوَ قائِمٌ عَلىٰ كُلِّ نَفسٍ بِما كَسَبَت ۗ وَجَعَلوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُل سَمّوهُم ۚ أَم تُنَبِّـٔونَهُ بِما لا يَعلَمُ فِى الأَرضِ أَم بِظٰهِرٍ مِنَ القَولِ ۗ بَل زُيِّنَ لِلَّذينَ كَفَروا مَكرُهُم وَصُدّوا عَنِ السَّبيلِ ۗ وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن هادٍ(33)
کیا وہ (اﷲ) جو ہر جان پر اس کے اعمال کی نگہبانی فرما رہا ہے اور (وہ بت جو کافر) لوگوں نے اﷲ کے شریک بنا لئے (ایک جیسے ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں)۔ آپ فرما دیجئے کہ ان کے نام (تو) بتاؤ۔ (نادانو!) کیا تم اس (اﷲ) کو اس چیز کی خبر دیتے ہو جس (کے وجود) کو وہ ساری زمین میں نہیں جانتا یا (یہ صرف) ظاہری باتیں ہی ہیں (جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں) بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) کافروں کے لئے ان کا فریب خوش نما بنا دیا گیا ہے اور وہ (سیدھی) راہ سے روک دیئے گئے ہیں، اور جسے اﷲ گمراہ ٹھہرا دے تو اس کے لئے کوئی ہادی نہیں ہو سکتا،(33)
لَهُم عَذابٌ فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَلَعَذابُ الءاخِرَةِ أَشَقُّ ۖ وَما لَهُم مِنَ اللَّهِ مِن واقٍ(34)
ان کے لئے دنیوی زندگی میں (بھی) عذاب ہے اور یقیناً آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے، اور انہیں اﷲ (کے عذاب) سے کوئی بچانے والا نہیں،(34)
۞ مَثَلُ الجَنَّةِ الَّتى وُعِدَ المُتَّقونَ ۖ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ ۖ أُكُلُها دائِمٌ وَظِلُّها ۚ تِلكَ عُقبَى الَّذينَ اتَّقَوا ۖ وَعُقبَى الكٰفِرينَ النّارُ(35)
اس جنت کا حال جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے (یہ ہے) کہ اس کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کا پھل بھی ہمیشہ رہنے والا ہے اور اس کا سایہ (بھی)، یہ ان لوگوں کا (حسنِ) انجام ہے جنہوں نے تقوٰی اختیار کیا، اور کافروں کا انجام آتشِ دوزخ ہے،(35)
وَالَّذينَ ءاتَينٰهُمُ الكِتٰبَ يَفرَحونَ بِما أُنزِلَ إِلَيكَ ۖ وَمِنَ الأَحزابِ مَن يُنكِرُ بَعضَهُ ۚ قُل إِنَّما أُمِرتُ أَن أَعبُدَ اللَّهَ وَلا أُشرِكَ بِهِ ۚ إِلَيهِ أَدعوا وَإِلَيهِ مَـٔابِ(36)
اور جن لوگوں کو ہم کتاب (تورات) دے چکے ہیں (اگر وہ صحیح مومن ہیں تو) وہ اس (قرآن) سے خوش ہوتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور ان (ہی کے) فرقوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اس کے کچھ حصہ کا انکار کرتے ہیں، فرما دیجئے کہ بس مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اﷲ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ (کسی کو) شریک نہ ٹھہراؤں، اسی کی طرف میں بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہے،(36)
وَكَذٰلِكَ أَنزَلنٰهُ حُكمًا عَرَبِيًّا ۚ وَلَئِنِ اتَّبَعتَ أَهواءَهُم بَعدَما جاءَكَ مِنَ العِلمِ ما لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلا واقٍ(37)
اور اسی طرح ہم نے اس (قرآن) کو حکم بنا کر عربی زبان میں اتارا ہے، اور (اے سننے والے!) اگر تو نے ان (کافروں) کی خواہشات کی پیروی کی اس کے بعد کہ تیرے پاس (قطعی) علم آچکا ہے تو تیرے لئے اﷲ کے مقابلہ میں نہ کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی محافظ،(37)
وَلَقَد أَرسَلنا رُسُلًا مِن قَبلِكَ وَجَعَلنا لَهُم أَزوٰجًا وَذُرِّيَّةً ۚ وَما كانَ لِرَسولٍ أَن يَأتِىَ بِـٔايَةٍ إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ ۗ لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ(38)
اور (اے رسول!) بیشک ہم نے آپ سے پہلے (بہت سے) پیغمبروں کو بھیجا اور ہم نے ان کے لئے بیویاں (بھی) بنائیں اور اولاد (بھی)، اور کسی رسول کا یہ کام نہیں کہ وہ نشانی لے آئے مگر اﷲ کے حکم سے، ہر ایک میعاد کے لئے ایک نوشتہ ہے،(38)
يَمحُوا اللَّهُ ما يَشاءُ وَيُثبِتُ ۖ وَعِندَهُ أُمُّ الكِتٰبِ(39)
اﷲ جس (لکھے ہوئے) کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) ثبت فرما دیتا ہے، اور اسی کے پاس اصل کتاب (لوحِ محفوظ) ہے،(39)
وَإِن ما نُرِيَنَّكَ بَعضَ الَّذى نَعِدُهُم أَو نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّما عَلَيكَ البَلٰغُ وَعَلَينَا الحِسابُ(40)
اور اگر ہم (اس عذاب کا) کچھ حصہ جس کا ہم نے ان (کافروں) سے وعدہ کیا ہے آپ کو (حیاتِ ظاہری میں ہی) دکھا دیں یا ہم آپ کو (اس سے قبل) اٹھا لیں (یہ دونوں چیزیں ہماری مرضی پر منحصر ہیں) آپ پر تو صرف (احکام کے) پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے،(40)
أَوَلَم يَرَوا أَنّا نَأتِى الأَرضَ نَنقُصُها مِن أَطرافِها ۚ وَاللَّهُ يَحكُمُ لا مُعَقِّبَ لِحُكمِهِ ۚ وَهُوَ سَريعُ الحِسابِ(41)
کیا وہ نہیں دیکھ رہے کہ ہم (ان کے زیرِ تسلّط) زمین کو ہر طرف سے گھٹاتے چلے جا رہے ہیں (اور ان کے بیشتر علاقے رفتہ رفتہ اسلام کے تابع ہوتے جا رہے ہیں)، اور اﷲ ہی حکم فرماتا ہے کوئی بھی اس کے حکم کو ردّ کرنے والا نہیں، اور وہ حساب جلد لینے والا ہے،(41)
وَقَد مَكَرَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم فَلِلَّهِ المَكرُ جَميعًا ۖ يَعلَمُ ما تَكسِبُ كُلُّ نَفسٍ ۗ وَسَيَعلَمُ الكُفّٰرُ لِمَن عُقبَى الدّارِ(42)
اور بیشک ان لوگوں نے بھی مکر و فریب کیا تھا جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں سو ان سب تدبیروں کو توڑنا (بھی) اﷲ کے اختیار میں ہے۔ وہ خوب جانتا ہے جو کچھ ہر شخص کما رہا ہے، اور کفّار جلد ہی جان لیں گے کہ آخرت کا گھر کس کے لئے ہے،(42)
وَيَقولُ الَّذينَ كَفَروا لَستَ مُرسَلًا ۚ قُل كَفىٰ بِاللَّهِ شَهيدًا بَينى وَبَينَكُم وَمَن عِندَهُ عِلمُ الكِتٰبِ(43)
اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ آپ پیغمبر نہیں ہیں، فرما دیجئے: (میری رسالت پر) میرے اور تمہارے درمیان اﷲ بطورِ گواہ کافی ہے اور وہ شخص بھی جس کے پاس (صحیح طور پر آسمانی) کتاب کا علم ہے،(43)