An-Nisaa(النساء)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يٰأَيُّهَا النّاسُ اتَّقوا رَبَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم مِن نَفسٍ وٰحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنها زَوجَها وَبَثَّ مِنهُما رِجالًا كَثيرًا وَنِساءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذى تَساءَلونَ بِهِ وَالأَرحامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلَيكُم رَقيبًا(1)
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا، اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابتوں (میں بھی تقوٰی اختیار کرو)، بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے،(1)
وَءاتُوا اليَتٰمىٰ أَموٰلَهُم ۖ وَلا تَتَبَدَّلُوا الخَبيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلا تَأكُلوا أَموٰلَهُم إِلىٰ أَموٰلِكُم ۚ إِنَّهُ كانَ حوبًا كَبيرًا(2)
اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور بُری چیز کو عمدہ چیز سے نہ بدلا کرو اور نہ ان کے مال اپنے مالوں میں ملا کر کھایا کرو، یقیناً یہ بہت بڑا گناہ ہے،(2)
وَإِن خِفتُم أَلّا تُقسِطوا فِى اليَتٰمىٰ فَانكِحوا ما طابَ لَكُم مِنَ النِّساءِ مَثنىٰ وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۖ فَإِن خِفتُم أَلّا تَعدِلوا فَوٰحِدَةً أَو ما مَلَكَت أَيمٰنُكُم ۚ ذٰلِكَ أَدنىٰ أَلّا تَعولوا(3)
اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے (نکاح کرو) یا وہ کنیزیں جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں آئی ہوں، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو،(3)
وَءاتُوا النِّساءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحلَةً ۚ فَإِن طِبنَ لَكُم عَن شَيءٍ مِنهُ نَفسًا فَكُلوهُ هَنيـًٔا مَريـًٔا(4)
اور عورتوں کو ان کے مَہر خوش دلی سے ادا کیا کرو، پھر اگر وہ اس (مَہر) میں سے کچھ تمہارے لئے اپنی خوشی سے چھوڑ دیں تو تب اسے (اپنے لئے) سازگار اور خوشگوار سمجھ کر کھاؤ،(4)
وَلا تُؤتُوا السُّفَهاءَ أَموٰلَكُمُ الَّتى جَعَلَ اللَّهُ لَكُم قِيٰمًا وَارزُقوهُم فيها وَاكسوهُم وَقولوا لَهُم قَولًا مَعروفًا(5)
اور تم بے سمجھوں کو اپنے (یا ان کے) مال سپرد نہ کرو جنہیں اللہ نے تمہاری معیشت کی استواری کا سبب بنایا ہے۔ ہاں انہیں اس میں سے کھلاتے رہو اور پہناتے رہو اور ان سے بھلائی کی بات کیا کرو،(5)
وَابتَلُوا اليَتٰمىٰ حَتّىٰ إِذا بَلَغُوا النِّكاحَ فَإِن ءانَستُم مِنهُم رُشدًا فَادفَعوا إِلَيهِم أَموٰلَهُم ۖ وَلا تَأكُلوها إِسرافًا وَبِدارًا أَن يَكبَروا ۚ وَمَن كانَ غَنِيًّا فَليَستَعفِف ۖ وَمَن كانَ فَقيرًا فَليَأكُل بِالمَعروفِ ۚ فَإِذا دَفَعتُم إِلَيهِم أَموٰلَهُم فَأَشهِدوا عَلَيهِم ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ حَسيبًا(6)
اور یتیموں کی (تربیتہً) جانچ اور آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ نکاح (کی عمر) کو پہنچ جائیں پھر اگر تم ان میں ہوشیاری (اور حُسنِ تدبیر) دیکھ لو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو، اور ان کے مال فضول خرچی اور جلد بازی میں (اس اندیشے سے) نہ کھا ڈالو کہ وہ بڑے ہو (کر واپس لے) جائیں گے، اور جو کوئی خوشحال ہو وہ (مالِ یتیم سے) بالکل بچا رہے اور جو (خود) نادار ہو اسے (صرف) مناسب حد تک کھانا چاہئے، اور جب تم ان کے مال ان کے سپرد کرنے لگو تو ان پر گواہ بنا لیا کرو، اور حساب لینے والا اللہ ہی کافی ہے،(6)
لِلرِّجالِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ وَلِلنِّساءِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ مِمّا قَلَّ مِنهُ أَو كَثُرَ ۚ نَصيبًا مَفروضًا(7)
مردوں کے لئے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہے،(7)
وَإِذا حَضَرَ القِسمَةَ أُولُوا القُربىٰ وَاليَتٰمىٰ وَالمَسٰكينُ فَارزُقوهُم مِنهُ وَقولوا لَهُم قَولًا مَعروفًا(8)
اور اگر تقسیمِ (وراثت) کے موقع پر (غیر وارث) رشتہ دار اور یتیم اور محتاج موجود ہوں تو اس میں سے کچھ انہیں بھی دے دو اور ان سے نیک بات کہو،(8)
وَليَخشَ الَّذينَ لَو تَرَكوا مِن خَلفِهِم ذُرِّيَّةً ضِعٰفًا خافوا عَلَيهِم فَليَتَّقُوا اللَّهَ وَليَقولوا قَولًا سَديدًا(9)
اور (یتیموں سے معاملہ کرنے والے) لوگوں کو ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے پیچھے ناتواں بچے چھوڑ جاتے تو (مرتے وقت) ان بچوں کے حال پر (کتنے) خوفزدہ (اور فکر مند) ہوتے، سو انہیں (یتیموں کے بارے میں) اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے اور (ان سے) سیدھی بات کہنی چاہئے،(9)
إِنَّ الَّذينَ يَأكُلونَ أَموٰلَ اليَتٰمىٰ ظُلمًا إِنَّما يَأكُلونَ فى بُطونِهِم نارًا ۖ وَسَيَصلَونَ سَعيرًا(10)
بیشک جو لوگ یتیموں کے مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں نری آگ بھرتے ہیں، اور وہ جلد ہی دہکتی ہوئی آگ میں جا گریں گے،(10)
يوصيكُمُ اللَّهُ فى أَولٰدِكُم ۖ لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ الأُنثَيَينِ ۚ فَإِن كُنَّ نِساءً فَوقَ اثنَتَينِ فَلَهُنَّ ثُلُثا ما تَرَكَ ۖ وَإِن كانَت وٰحِدَةً فَلَهَا النِّصفُ ۚ وَلِأَبَوَيهِ لِكُلِّ وٰحِدٍ مِنهُمَا السُّدُسُ مِمّا تَرَكَ إِن كانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَم يَكُن لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَواهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كانَ لَهُ إِخوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ يوصى بِها أَو دَينٍ ۗ ءاباؤُكُم وَأَبناؤُكُم لا تَدرونَ أَيُّهُم أَقرَبُ لَكُم نَفعًا ۚ فَريضَةً مِنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَليمًا حَكيمًا(11)
اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے، پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زائد تو ان کے لئے اس ترکہ کا دو تہائی حصہ ہے، اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے، اور مُورِث کے ماں باپ کے لئے ان دونوں میں سے ہر ایک کو ترکہ کا چھٹا حصہ (ملے گا) بشرطیکہ مُورِث کی کوئی اولاد ہو، پھر اگر اس میت (مُورِث) کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے وارث صرف اس کے ماں باپ ہوں تو اس کی ماں کے لئے تہائی ہے (اور باقی سب باپ کا حصہ ہے)، پھر اگر مُورِث کے بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لئے چھٹا حصہ ہے (یہ تقسیم) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہو گی)، تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تمہیں معلوم نہیں کہ فائدہ پہنچانے میں ان میں سے کون تمہارے قریب تر ہے، یہ (تقسیم) اللہ کی طرف سے فریضہ (یعنی مقرر) ہے، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،(11)
۞ وَلَكُم نِصفُ ما تَرَكَ أَزوٰجُكُم إِن لَم يَكُن لَهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمّا تَرَكنَ ۚ مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ يوصينَ بِها أَو دَينٍ ۚ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمّا تَرَكتُم إِن لَم يَكُن لَكُم وَلَدٌ ۚ فَإِن كانَ لَكُم وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمّا تَرَكتُم ۚ مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ توصونَ بِها أَو دَينٍ ۗ وَإِن كانَ رَجُلٌ يورَثُ كَلٰلَةً أَوِ امرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَو أُختٌ فَلِكُلِّ وٰحِدٍ مِنهُمَا السُّدُسُ ۚ فَإِن كانوا أَكثَرَ مِن ذٰلِكَ فَهُم شُرَكاءُ فِى الثُّلُثِ ۚ مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ يوصىٰ بِها أَو دَينٍ غَيرَ مُضارٍّ ۚ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَليمٌ(12)
اور تمہارے لئے اس (مال) کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں بشرطیکہ ان کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو تمہارے لئے ان کے ترکہ سے چوتھائی ہے (یہ بھی) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد، اور تمہاری بیویوں کا تمہارے چھوڑے ہوئے (مال) میں سے چوتھا حصہ ہے بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو ان کے لئے تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے تمہاری اس (مال) کی نسبت کی ہوئی وصیت (پوری کرنے) یا (تمہارے) قرض کی ادائیگی کے بعد، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کی وراثت تقسیم کی جا رہی ہو جس کے نہ ماں باپ ہوں نہ کوئی اولاد اور اس کا (ماں کی طرف سے) ایک بھائی یا ایک بہن ہو (یعنی اخیافی بھائی یا بہن) تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے، پھر اگر وہ بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ تقسیم بھی) اس وصیت کے بعد (ہو گی) جو (وارثوں کو) نقصان پہنچائے بغیر کی گئی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد، یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے، اور اللہ خوب علم و حلم والا ہے،(12)
تِلكَ حُدودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسولَهُ يُدخِلهُ جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها ۚ وَذٰلِكَ الفَوزُ العَظيمُ(13)
یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدیں ہیں، اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمانبرداری کرے اسے وہ بہشتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بڑی کامیابی ہے،(13)
وَمَن يَعصِ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدودَهُ يُدخِلهُ نارًا خٰلِدًا فيها وَلَهُ عَذابٌ مُهينٌ(14)
اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کرے اور اس کی حدود سے تجاوز کرے اسے وہ دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس کے لئے ذلّت انگیز عذاب ہے،(14)
وَالّٰتى يَأتينَ الفٰحِشَةَ مِن نِسائِكُم فَاستَشهِدوا عَلَيهِنَّ أَربَعَةً مِنكُم ۖ فَإِن شَهِدوا فَأَمسِكوهُنَّ فِى البُيوتِ حَتّىٰ يَتَوَفّىٰهُنَّ المَوتُ أَو يَجعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبيلًا(15)
اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو ان پر اپنے لوگوں میں سے چار مردوں کی گواہی طلب کرو، پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند کر دو یہاں تک کہ موت ان کے عرصۂ حیات کو پورا کر دے یا اللہ ان کے لئے کوئی راہ (یعنی نیا حکم) مقرر فرما دے،(15)
وَالَّذانِ يَأتِيٰنِها مِنكُم فَـٔاذوهُما ۖ فَإِن تابا وَأَصلَحا فَأَعرِضوا عَنهُما ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ تَوّابًا رَحيمًا(16)
اور تم میں سے جو بھی کوئی بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان دونوں کو ایذا پہنچاؤ، پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور (اپنی) اصلاح کر لیں تو انہیں سزا دینے سے گریز کرو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان ہے،(16)
إِنَّمَا التَّوبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذينَ يَعمَلونَ السّوءَ بِجَهٰلَةٍ ثُمَّ يَتوبونَ مِن قَريبٍ فَأُولٰئِكَ يَتوبُ اللَّهُ عَلَيهِم ۗ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا(17)
اللہ نے صرف انہی لوگوں کی توبہ قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے جو نادانی کے باعث برائی کر بیٹھیں پھر جلد ہی توبہ کر لیں پس اللہ ایسے لوگوں پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرمائے گا، اور اللہ بڑے علم بڑی حکمت والا ہے،(17)
وَلَيسَتِ التَّوبَةُ لِلَّذينَ يَعمَلونَ السَّيِّـٔاتِ حَتّىٰ إِذا حَضَرَ أَحَدَهُمُ المَوتُ قالَ إِنّى تُبتُ الـٰٔنَ وَلَا الَّذينَ يَموتونَ وَهُم كُفّارٌ ۚ أُولٰئِكَ أَعتَدنا لَهُم عَذابًا أَليمًا(18)
اور ایسے لوگوں کے لئے توبہ (کی قبولیت) نہیں ہے جو گناہ کرتے چلے جائیں، یہاں تک کہ ان میں سے کسی کے سامنے موت آپہنچے تو (اس وقت) کہے کہ میں اب توبہ کرتا ہوں اور نہ ہی ایسے لوگوں کے لئے ہے جو کفر کی حالت پر مریں، ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،(18)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا يَحِلُّ لَكُم أَن تَرِثُوا النِّساءَ كَرهًا ۖ وَلا تَعضُلوهُنَّ لِتَذهَبوا بِبَعضِ ما ءاتَيتُموهُنَّ إِلّا أَن يَأتينَ بِفٰحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ۚ وَعاشِروهُنَّ بِالمَعروفِ ۚ فَإِن كَرِهتُموهُنَّ فَعَسىٰ أَن تَكرَهوا شَيـًٔا وَيَجعَلَ اللَّهُ فيهِ خَيرًا كَثيرًا(19)
اے ایمان والو! تمہارے لئے یہ حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ، اور انہیں اس غرض سے نہ روک رکھو کہ جو مال تم نے انہیں دیا تھا اس میں سے کچھ (واپس) لے جاؤ سوائے اس کے کہ وہ کھلی بدکاری کی مرتکب ہوں، اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے برتاؤ کرو، پھر اگر تم انہیں نا پسند کرتے ہو تو ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت سی بھلائی رکھ دے،(19)
وَإِن أَرَدتُمُ استِبدالَ زَوجٍ مَكانَ زَوجٍ وَءاتَيتُم إِحدىٰهُنَّ قِنطارًا فَلا تَأخُذوا مِنهُ شَيـًٔا ۚ أَتَأخُذونَهُ بُهتٰنًا وَإِثمًا مُبينًا(20)
اور اگر تم ایک بیوی کے بدلے دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو تب بھی اس میں سے کچھ واپس مت لو، کیا تم ناحق الزام اور صریح گناہ کے ذریعے وہ مال (واپس) لینا چاہتے ہو،(20)
وَكَيفَ تَأخُذونَهُ وَقَد أَفضىٰ بَعضُكُم إِلىٰ بَعضٍ وَأَخَذنَ مِنكُم ميثٰقًا غَليظًا(21)
اور تم اسے کیسے واپس لے سکتے ہو حالانکہ تم ایک دوسرے سے پہلو بہ پہلو مل چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد (بھی) لے چکی ہیں،(21)
وَلا تَنكِحوا ما نَكَحَ ءاباؤُكُم مِنَ النِّساءِ إِلّا ما قَد سَلَفَ ۚ إِنَّهُ كانَ فٰحِشَةً وَمَقتًا وَساءَ سَبيلًا(22)
اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نکاح کر چکے ہوں مگر جو (اس حکم سے پہلے) گزر چکا (وہ معاف ہے)، بیشک یہ بڑی بے حیائی اور غضب (کا باعث) ہے اور بہت بری روِش ہے،(22)
حُرِّمَت عَلَيكُم أُمَّهٰتُكُم وَبَناتُكُم وَأَخَوٰتُكُم وَعَمّٰتُكُم وَخٰلٰتُكُم وَبَناتُ الأَخِ وَبَناتُ الأُختِ وَأُمَّهٰتُكُمُ الّٰتى أَرضَعنَكُم وَأَخَوٰتُكُم مِنَ الرَّضٰعَةِ وَأُمَّهٰتُ نِسائِكُم وَرَبٰئِبُكُمُ الّٰتى فى حُجورِكُم مِن نِسائِكُمُ الّٰتى دَخَلتُم بِهِنَّ فَإِن لَم تَكونوا دَخَلتُم بِهِنَّ فَلا جُناحَ عَلَيكُم وَحَلٰئِلُ أَبنائِكُمُ الَّذينَ مِن أَصلٰبِكُم وَأَن تَجمَعوا بَينَ الأُختَينِ إِلّا ما قَد سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ غَفورًا رَحيمًا(23)
تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری (وہ) مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری رضاعت میں شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں (سب) حرام کر دی گئی ہیں، اور (اسی طرح) تمہاری گود میں پرورش پانے والی وہ لڑکیاں جو تمہاری ان عورتوں (کے بطن) سے ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو (بھی حرام ہیں)، پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی حرج نہیں، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں (بھی تم پر حرام ہیں) جو تمہاری پشت سے ہیں، اور یہ (بھی حرام ہے) کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ (نکاح میں) جمع کرو سوائے اس کے کہ جو دورِ جہالت میں گزر چکا۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے،(23)
۞ وَالمُحصَنٰتُ مِنَ النِّساءِ إِلّا ما مَلَكَت أَيمٰنُكُم ۖ كِتٰبَ اللَّهِ عَلَيكُم ۚ وَأُحِلَّ لَكُم ما وَراءَ ذٰلِكُم أَن تَبتَغوا بِأَموٰلِكُم مُحصِنينَ غَيرَ مُسٰفِحينَ ۚ فَمَا استَمتَعتُم بِهِ مِنهُنَّ فَـٔاتوهُنَّ أُجورَهُنَّ فَريضَةً ۚ وَلا جُناحَ عَلَيكُم فيما تَرٰضَيتُم بِهِ مِن بَعدِ الفَريضَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَليمًا حَكيمًا(24)
اور شوہر والی عورتیں (بھی تم پرحرام ہیں) سوائے ان (کافروں کی قیدی عورتوں) کے جو تمہاری مِلک میں آجائیں، (ان احکامِ حرمت کو) اللہ نے تم پر فرض کر دیا ہے، اور ان کے سوا (سب عورتیں) تمہارے لئے حلال کر دی گئی ہیں تاکہ تم اپنے اموال کے ذریعے طلبِ نکاح کرو پاک دامن رہتے ہوئے نہ کہ شہوت رانی کرتے ہوئے، پھر ان میں سے جن سے تم نے اس (مال) کے عوض فائدہ اٹھایا ہے انہیں ان کا مقرر شدہ مَہر ادا کر دو، اور تم پر اس مال کے بارے میں کوئی گناہ نہیں جس پر تم مَہر مقرر کرنے کے بعد باہم رضا مند ہو جاؤ، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،(24)
وَمَن لَم يَستَطِع مِنكُم طَولًا أَن يَنكِحَ المُحصَنٰتِ المُؤمِنٰتِ فَمِن ما مَلَكَت أَيمٰنُكُم مِن فَتَيٰتِكُمُ المُؤمِنٰتِ ۚ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِإيمٰنِكُم ۚ بَعضُكُم مِن بَعضٍ ۚ فَانكِحوهُنَّ بِإِذنِ أَهلِهِنَّ وَءاتوهُنَّ أُجورَهُنَّ بِالمَعروفِ مُحصَنٰتٍ غَيرَ مُسٰفِحٰتٍ وَلا مُتَّخِذٰتِ أَخدانٍ ۚ فَإِذا أُحصِنَّ فَإِن أَتَينَ بِفٰحِشَةٍ فَعَلَيهِنَّ نِصفُ ما عَلَى المُحصَنٰتِ مِنَ العَذابِ ۚ ذٰلِكَ لِمَن خَشِىَ العَنَتَ مِنكُم ۚ وَأَن تَصبِروا خَيرٌ لَكُم ۗ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ(25)
اور تم میں سے جو کوئی (اتنی) استطاعت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کر سکے تو ان مسلمان کنیزوں سے نکاح کرلے جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں ہیں، اور اللہ تمہارے ایمان (کی کیفیت) کو خوب جانتا ہے، تم (سب) ایک دوسرے کی جنس میں سے ہی ہو، پس ان (کنیزوں) سے ان کے مالکوں کی اجازت کے ساتھ نکاح کرو اور انہیں ان کے مَہر حسبِ دستور ادا کرو درآنحالیکہ وہ (عفت قائم رکھتے ہوئے) قیدِ نکاح میں آنے والی ہوں نہ بدکاری کرنے والی ہوں اور نہ درپردہ آشنائی کرنے والی ہوں، پس جب وہ نکاح کے حصار میں آجائیں پھر اگر بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی آدھی سزا لازم ہے جو آزاد (کنواری) عورتوں کے لئے (مقرر) ہے، یہ اجازت اس شخص کے لئے ہے جسے تم میں سے گناہ (کے ارتکاب) کا اندیشہ ہو، اور اگر تم صبر کرو تو (یہ) تمہارے حق میں بہتر ہے، اور اللہ بخشنے والا مہر بان ہے،(25)
يُريدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُم وَيَهدِيَكُم سُنَنَ الَّذينَ مِن قَبلِكُم وَيَتوبَ عَلَيكُم ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ(26)
اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے لئے (اپنے احکام کی) وضاحت فرما دے اور تمہیں ان (نیک) لوگوں کی راہوں پر چلائے جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں اور تمہارے اوپر رحمت کے ساتھ رجوع فرمائے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،(26)
وَاللَّهُ يُريدُ أَن يَتوبَ عَلَيكُم وَيُريدُ الَّذينَ يَتَّبِعونَ الشَّهَوٰتِ أَن تَميلوا مَيلًا عَظيمًا(27)
اور اللہ تم پر مہربانی فرمانا چاہتا ہے، اور جو لوگ خواہشاتِ (نفسانی) کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہِ راست سے بھٹک کر بہت دور جا پڑو،(27)
يُريدُ اللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُم ۚ وَخُلِقَ الإِنسٰنُ ضَعيفًا(28)
اللہ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ ہلکا کر دے، اور اِنسان کمزور پیدا کیا گیا ہے،(28)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَأكُلوا أَموٰلَكُم بَينَكُم بِالبٰطِلِ إِلّا أَن تَكونَ تِجٰرَةً عَن تَراضٍ مِنكُم ۚ وَلا تَقتُلوا أَنفُسَكُم ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِكُم رَحيمًا(29)
اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے،(29)
وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ عُدوٰنًا وَظُلمًا فَسَوفَ نُصليهِ نارًا ۚ وَكانَ ذٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسيرًا(30)
اور جو کوئی تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اللہ پر بالکل آسان ہے،(30)
إِن تَجتَنِبوا كَبائِرَ ما تُنهَونَ عَنهُ نُكَفِّر عَنكُم سَيِّـٔاتِكُم وَنُدخِلكُم مُدخَلًا كَريمًا(31)
اگر تم کبیرہ گناہوں سے جن سے تمہیں روکا گیا ہے بچتے رہو تو ہم تم سے تمہاری چھوٹی برائیاں مٹا دیں گے اور تمہیں عزت والی جگہ میں داخل فرما دیں گے،(31)
وَلا تَتَمَنَّوا ما فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعضَكُم عَلىٰ بَعضٍ ۚ لِلرِّجالِ نَصيبٌ مِمَّا اكتَسَبوا ۖ وَلِلنِّساءِ نَصيبٌ مِمَّا اكتَسَبنَ ۚ وَسـَٔلُوا اللَّهَ مِن فَضلِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمًا(32)
اور تم اس چیز کی تمنا نہ کیا کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، مردوں کے لئے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا، اور عورتوں کے لئے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا، اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے،(32)
وَلِكُلٍّ جَعَلنا مَوٰلِىَ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ ۚ وَالَّذينَ عَقَدَت أَيمٰنُكُم فَـٔاتوهُم نَصيبَهُم ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ شَهيدًا(33)
اور ہم نے سب کے لئے ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے چھوڑے ہوئے مال میں حق دار (یعنی وارث) مقرر کر دیئے ہیں، اور جن سے تمہارا معاہدہ ہو چکا ہے سو اُنہیں ان کا حصہ دے دو، بیشک اللہ ہر چیز کا مشاہدہ فرمانے والا ہے،(33)
الرِّجالُ قَوّٰمونَ عَلَى النِّساءِ بِما فَضَّلَ اللَّهُ بَعضَهُم عَلىٰ بَعضٍ وَبِما أَنفَقوا مِن أَموٰلِهِم ۚ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِلغَيبِ بِما حَفِظَ اللَّهُ ۚ وَالّٰتى تَخافونَ نُشوزَهُنَّ فَعِظوهُنَّ وَاهجُروهُنَّ فِى المَضاجِعِ وَاضرِبوهُنَّ ۖ فَإِن أَطَعنَكُم فَلا تَبغوا عَلَيهِنَّ سَبيلًا ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلِيًّا كَبيرًا(34)
مرد عورتوں پر محافظ و منتظِم ہیں اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے (بھی) کہ مرد (ان پر) اپنے مال خرچ کرتے ہیں، پس نیک بیویاں اطاعت شعار ہوتی ہیں شوہروں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ (اپنی عزت کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں، اور تمہیں جن عورتوں کی نافرمانی و سرکشی کا اندیشہ ہو تو انہیں نصیحت کرو اور (اگر نہ سمجھیں تو) انہیں خواب گاہوں میں (خود سے) علیحدہ کر دو اور (اگر پھر بھی اصلاح پذیر نہ ہوں تو) انہیں (تادیباً ہلکا سا) مارو، پھر اگر وہ تمہاری فرمانبردار ہو جائیں تو ان پر (ظلم کا) کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بیشک اللہ سب سے بلند سب سے بڑا ہے،(34)
وَإِن خِفتُم شِقاقَ بَينِهِما فَابعَثوا حَكَمًا مِن أَهلِهِ وَحَكَمًا مِن أَهلِها إِن يُريدا إِصلٰحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَينَهُما ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَليمًا خَبيرًا(35)
اور اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان مخالفت کا اندیشہ ہو تو تم ایک مُنصِف مرد کے خاندان سے اور ایک مُنصِف عورت کے خاندان سے مقرر کر لو، اگر وہ دونوں (مُنصِف) صلح کرانے کا اِرادہ رکھیں تو اللہ ان دونوں کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا، بیشک اللہ خوب جاننے والا خبردار ہے،(35)
۞ وَاعبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشرِكوا بِهِ شَيـًٔا ۖ وَبِالوٰلِدَينِ إِحسٰنًا وَبِذِى القُربىٰ وَاليَتٰمىٰ وَالمَسٰكينِ وَالجارِ ذِى القُربىٰ وَالجارِ الجُنُبِ وَالصّاحِبِ بِالجَنبِ وَابنِ السَّبيلِ وَما مَلَكَت أَيمٰنُكُم ۗ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ مَن كانَ مُختالًا فَخورًا(36)
اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں (سے) اور نزدیکی ہمسائے اور اجنبی پڑوسی اور ہم مجلس اور مسافر (سے)، اور جن کے تم مالک ہو چکے ہو، (ان سے نیکی کیا کرو)، بیشک اللہ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو تکبرّ کرنے والا (مغرور) فخر کرنے والا (خود بین) ہو،(36)
الَّذينَ يَبخَلونَ وَيَأمُرونَ النّاسَ بِالبُخلِ وَيَكتُمونَ ما ءاتىٰهُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ ۗ وَأَعتَدنا لِلكٰفِرينَ عَذابًا مُهينًا(37)
جو لوگ (خود بھی) بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو (بھی) بخل کا حکم دیتے ہیں اور اس (نعمت) کو چھپاتے ہیں جواللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کی ہے، اور ہم نے کافروں کے لئے ذلت انگیز عذاب تیار کر رکھا ہے،(37)
وَالَّذينَ يُنفِقونَ أَموٰلَهُم رِئاءَ النّاسِ وَلا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَلا بِاليَومِ الءاخِرِ ۗ وَمَن يَكُنِ الشَّيطٰنُ لَهُ قَرينًا فَساءَ قَرينًا(38)
اور جو لوگ اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یومِ آخرت پر، اور شیطان جس کا بھی ساتھی ہوگیا تو وہ برا ساتھی ہے،(38)
وَماذا عَلَيهِم لَو ءامَنوا بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ وَأَنفَقوا مِمّا رَزَقَهُمُ اللَّهُ ۚ وَكانَ اللَّهُ بِهِم عَليمًا(39)
اور ان کا کیا نقصان تھا اگر وہ اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لے آتے اور جو کچھ اللہ نے انہیں دیا تھا اس میں سے (اس کی راہ میں) خرچ کرتے، اور اللہ ان (کے حال) سے خوب واقف ہے،(39)
إِنَّ اللَّهَ لا يَظلِمُ مِثقالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضٰعِفها وَيُؤتِ مِن لَدُنهُ أَجرًا عَظيمًا(40)
بیشک اللہ ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا، اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دوگنا کر دیتا ہے اور اپنے پاس سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے،(40)
فَكَيفَ إِذا جِئنا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهيدٍ وَجِئنا بِكَ عَلىٰ هٰؤُلاءِ شَهيدًا(41)
پھر اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے حبیب!) ہم آپ کو ان سب پر گواہ لائیں گے،(41)
يَومَئِذٍ يَوَدُّ الَّذينَ كَفَروا وَعَصَوُا الرَّسولَ لَو تُسَوّىٰ بِهِمُ الأَرضُ وَلا يَكتُمونَ اللَّهَ حَديثًا(42)
اس دن وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کی، آرزو کریں گے کہ کاش (انہیں مٹی میں دبا کر) ان پر زمین برابر کر دی جاتی، اور وہ اللہ سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے،(42)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَقرَبُوا الصَّلوٰةَ وَأَنتُم سُكٰرىٰ حَتّىٰ تَعلَموا ما تَقولونَ وَلا جُنُبًا إِلّا عابِرى سَبيلٍ حَتّىٰ تَغتَسِلوا ۚ وَإِن كُنتُم مَرضىٰ أَو عَلىٰ سَفَرٍ أَو جاءَ أَحَدٌ مِنكُم مِنَ الغائِطِ أَو لٰمَستُمُ النِّساءَ فَلَم تَجِدوا ماءً فَتَيَمَّموا صَعيدًا طَيِّبًا فَامسَحوا بِوُجوهِكُم وَأَيديكُم ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَفُوًّا غَفورًا(43)
اے ایمان والو! تم نشہ کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ تم وہ بات سمجھنے لگو جو کہتے ہو اور نہ حالتِ جنابت میں (نماز کے قریب جاؤ) تا آنکہ تم غسل کر لو سوائے اس کے کہ تم سفر میں راستہ طے کر رہے ہو، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے لوٹے یا تم نے (اپنی) عورتوں سے مباشرت کی ہو پھر تم پانی نہ پاسکو تو تم پاک مٹی سے تیمم کر لو پس اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مسح کر لیا کرو، بیشک اللہ معاف فرمانے والا بہت بخشنے والا ہے،(43)
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ أوتوا نَصيبًا مِنَ الكِتٰبِ يَشتَرونَ الضَّلٰلَةَ وَيُريدونَ أَن تَضِلُّوا السَّبيلَ(44)
کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں (آسمانی) کتاب کا ایک حصہ عطا کیا گیا وہ گمراہی خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم (بھی) سیدھے راستے سے بہک جاؤ،(44)
وَاللَّهُ أَعلَمُ بِأَعدائِكُم ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفىٰ بِاللَّهِ نَصيرًا(45)
اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے، اور اللہ (بطور) کارساز کافی ہے اور اللہ (بطور) مددگار کافی ہے،(45)
مِنَ الَّذينَ هادوا يُحَرِّفونَ الكَلِمَ عَن مَواضِعِهِ وَيَقولونَ سَمِعنا وَعَصَينا وَاسمَع غَيرَ مُسمَعٍ وَرٰعِنا لَيًّا بِأَلسِنَتِهِم وَطَعنًا فِى الدّينِ ۚ وَلَو أَنَّهُم قالوا سَمِعنا وَأَطَعنا وَاسمَع وَانظُرنا لَكانَ خَيرًا لَهُم وَأَقوَمَ وَلٰكِن لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفرِهِم فَلا يُؤمِنونَ إِلّا قَليلًا(46)
اور کچھ یہودی (تورات کے) کلمات کو اپنے (اصل) مقامات سے پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں: ہم نے سن لیا اور نہیں مانا، اور (یہ بھی کہتے ہیں:) سنیئے! (معاذ اللہ!) آپ سنوائے نہ جائیں، اور اپنی زبانیں مروڑ کر دین میں طعنہ زنی کرتے ہوئے”رَاعِنَا“ کہتے ہیں، اور اگر وہ لوگ (اس کی جگہ) یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور (حضور! ہماری گزارش) سنئے اور ہماری طرف نظرِ (کرم) فرمائیے تو یہ اُن کے لئے بہتر ہوتا اور (یہ قول بھی) درست اور مناسب ہوتا، لیکن اللہ نے ان کے کفر کے باعث ان پر لعنت کی سو تھوڑے لوگوں کے سوا وہ ایمان نہیں لاتے،(46)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ ءامِنوا بِما نَزَّلنا مُصَدِّقًا لِما مَعَكُم مِن قَبلِ أَن نَطمِسَ وُجوهًا فَنَرُدَّها عَلىٰ أَدبارِها أَو نَلعَنَهُم كَما لَعَنّا أَصحٰبَ السَّبتِ ۚ وَكانَ أَمرُ اللَّهِ مَفعولًا(47)
اے اہلِ کتاب! اس (کتاب) پر ایمان لاؤ جو ہم نے (اب اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) اتاری ہے جو اس کتاب کی (اصلاً) تصدیق کرتی ہے جو تمہارے پاس ہے، اس سے قبل کہ ہم (بعض) چہروں (کے نقوش) کو مٹا دیں اور انہیں ان کی پشت کی حالت پر پھیر دیں یا ان پر اسی طرح لعنت کریں جیسے ہم نے ہفتہ کے دن (نافرمانی کرنے) والوں پر لعنت کی تھی اور اللہ کا حکم پورا ہو کر ہی رہتا ہے،(47)
إِنَّ اللَّهَ لا يَغفِرُ أَن يُشرَكَ بِهِ وَيَغفِرُ ما دونَ ذٰلِكَ لِمَن يَشاءُ ۚ وَمَن يُشرِك بِاللَّهِ فَقَدِ افتَرىٰ إِثمًا عَظيمًا(48)
بیشک اللہ اِس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم تر (جو گناہ بھی ہو) جس کے لئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے، اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس نے واقعۃً زبردست گناہ کا بہتان باندھا،(48)
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ يُزَكّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ اللَّهُ يُزَكّى مَن يَشاءُ وَلا يُظلَمونَ فَتيلًا(49)
کیا آپ نے ایسے لوگوں کو نہیں دیکھا جو خود کو پاک ظاہر کرتے ہیں، بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے پاک فرماتا ہے اور ان پر ایک دھاگہ کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا،(49)
انظُر كَيفَ يَفتَرونَ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ ۖ وَكَفىٰ بِهِ إِثمًا مُبينًا(50)
آپ دیکھئے وہ اللہ پر کیسے جھوٹا بہتان باندھتے ہیں، اور (ان کے عذاب کے لئے) یہی کھلا گناہ کافی ہے،(50)
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ أوتوا نَصيبًا مِنَ الكِتٰبِ يُؤمِنونَ بِالجِبتِ وَالطّٰغوتِ وَيَقولونَ لِلَّذينَ كَفَروا هٰؤُلاءِ أَهدىٰ مِنَ الَّذينَ ءامَنوا سَبيلًا(51)
کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں (آسمانی) کتاب کا حصہ دیا گیا ہے (پھر بھی) وہ بتوں اور شیطان پر ایمان رکھتے ہیں اور کافروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی نسبت یہ (کافر) زیادہ سیدھی راہ پر ہیں،(51)
أُولٰئِكَ الَّذينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ ۖ وَمَن يَلعَنِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ نَصيرًا(52)
یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی، اور جس پر اللہ لعنت کرے تُو اس کے لئے ہرگز کوئی مددگار نہ پائے گا،(52)
أَم لَهُم نَصيبٌ مِنَ المُلكِ فَإِذًا لا يُؤتونَ النّاسَ نَقيرًا(53)
کیا ان کا سلطنت میں کچھ حصہ ہے؟ اگر ایسا ہو تو یہ (اپنے بخل کے باعث) لوگوں کو تِل برابر بھی (کوئی چیز) نہیں دیں گے،(53)
أَم يَحسُدونَ النّاسَ عَلىٰ ما ءاتىٰهُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ ۖ فَقَد ءاتَينا ءالَ إِبرٰهيمَ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَءاتَينٰهُم مُلكًا عَظيمًا(54)
کیا یہ (یہود) لوگوں (سے ان نعمتوں) پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں، سو واقعی ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ہم نے انہیں بڑی سلطنت بخشی،(54)
فَمِنهُم مَن ءامَنَ بِهِ وَمِنهُم مَن صَدَّ عَنهُ ۚ وَكَفىٰ بِجَهَنَّمَ سَعيرًا(55)
پس ان میں سے کوئی تو اس پر ایمان لے آیا اور ان میں سے کسی نے اس سے روگردانی کی، اور (روگردانی کرنے والے کے لئے) دوزخ کی بھڑکتی آگ کافی ہے،(55)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا بِـٔايٰتِنا سَوفَ نُصليهِم نارًا كُلَّما نَضِجَت جُلودُهُم بَدَّلنٰهُم جُلودًا غَيرَها لِيَذوقُوا العَذابَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَزيزًا حَكيمًا(56)
بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ہم عنقریب انہیں (دوزخ کی) آگ میں جھونک دیں گے، جب ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ہم انہیں دوسری کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ (مسلسل) عذاب (کا مزہ) چکھتے رہیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،(56)
وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدخِلُهُم جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها أَبَدًا ۖ لَهُم فيها أَزوٰجٌ مُطَهَّرَةٌ ۖ وَنُدخِلُهُم ظِلًّا ظَليلًا(57)
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ہم انہیں بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں رواں ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے لئے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور ہم ان کو بہت گھنے سائے میں داخل کریں گے،(57)
۞ إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُكُم أَن تُؤَدُّوا الأَمٰنٰتِ إِلىٰ أَهلِها وَإِذا حَكَمتُم بَينَ النّاسِ أَن تَحكُموا بِالعَدلِ ۚ إِنَّ اللَّهَ نِعِمّا يَعِظُكُم بِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ سَميعًا بَصيرًا(58)
بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو، بیشک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے،(58)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَأُولِى الأَمرِ مِنكُم ۖ فَإِن تَنٰزَعتُم فى شَيءٍ فَرُدّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسولِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۚ ذٰلِكَ خَيرٌ وَأَحسَنُ تَأويلًا(59)
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لئے) اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے،(59)
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ يَزعُمونَ أَنَّهُم ءامَنوا بِما أُنزِلَ إِلَيكَ وَما أُنزِلَ مِن قَبلِكَ يُريدونَ أَن يَتَحاكَموا إِلَى الطّٰغوتِ وَقَد أُمِروا أَن يَكفُروا بِهِ وَيُريدُ الشَّيطٰنُ أَن يُضِلَّهُم ضَلٰلًا بَعيدًا(60)
کیا آپ نے اِن (منافقوں) کو نہیں دیکھا جو (زبان سے) دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ اس (کتاب یعنی قرآن) پر ایمان لائے جوآپ کی طرف اتارا گیا اور ان (آسمانی کتابوں) پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئیں (مگر) چاہتے یہ ہیں کہ اپنے مقدمات (فیصلے کے لئے) شیطان (یعنی احکامِ الٰہی سے سرکشی پر مبنی قانون) کی طرف لے جائیں حالانکہ انہیں حکم دیا جا چکا ہے کہ اس کا (کھلا) انکار کر دیں، اور شیطان تویہی چاہتا ہے کہ انہیں دور دراز گمراہی میں بھٹکاتا رہے،(60)
وَإِذا قيلَ لَهُم تَعالَوا إِلىٰ ما أَنزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسولِ رَأَيتَ المُنٰفِقينَ يَصُدّونَ عَنكَ صُدودًا(61)
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ (قرآن) کی طرف اور رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آجاؤ تو آپ منافقوں کو دیکھیں گے کہ وہ آپ (کی طرف رجوع کرنے) سے گریزاں رہتے ہیں،(61)
فَكَيفَ إِذا أَصٰبَتهُم مُصيبَةٌ بِما قَدَّمَت أَيديهِم ثُمَّ جاءوكَ يَحلِفونَ بِاللَّهِ إِن أَرَدنا إِلّا إِحسٰنًا وَتَوفيقًا(62)
پھر (اس وقت) ان کی حالت کیا ہوگی جب اپنی کارستانیوں کے باعث ان پر کوئی مصیبت آن پڑے تو اللہ کی قَسمیں کھاتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوں (اور یہ کہیں) کہ ہم نے تو صرف بھلائی اور باہمی موافقت کا ہی ارادہ کیا تھا،(62)
أُولٰئِكَ الَّذينَ يَعلَمُ اللَّهُ ما فى قُلوبِهِم فَأَعرِض عَنهُم وَعِظهُم وَقُل لَهُم فى أَنفُسِهِم قَولًا بَليغًا(63)
یہ وہ (منافق اور مُفسِد) لوگ ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کی ہر بات کو خوب جانتا ہے، پس آپ ان سے اِعراض برتیں اور انہیں نصیحت کرتے رہیں اور ان سے ان کے بارے میں مؤثر گفتگو فرماتے رہیں،(63)
وَما أَرسَلنا مِن رَسولٍ إِلّا لِيُطاعَ بِإِذنِ اللَّهِ ۚ وَلَو أَنَّهُم إِذ ظَلَموا أَنفُسَهُم جاءوكَ فَاستَغفَرُوا اللَّهَ وَاستَغفَرَ لَهُمُ الرَّسولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوّابًا رَحيمًا(64)
اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے، اور (اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اوراللہ سے معافی مانگتے اور رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے لئے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس وسیلہ اور شفاعت کی بنا پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتے،(64)
فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤمِنونَ حَتّىٰ يُحَكِّموكَ فيما شَجَرَ بَينَهُم ثُمَّ لا يَجِدوا فى أَنفُسِهِم حَرَجًا مِمّا قَضَيتَ وَيُسَلِّموا تَسليمًا(65)
پس (اے حبیب!) آپ کے رب کی قسم یہ لوگ مسلمان نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ وہ اپنے درمیان واقع ہونے والے ہر اختلاف میں آپ کو حاکم بنالیں پھر اس فیصلہ سے جو آپ صادر فرما دیں اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور (آپ کے حکم کو) بخوشی پوری فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں،(65)
وَلَو أَنّا كَتَبنا عَلَيهِم أَنِ اقتُلوا أَنفُسَكُم أَوِ اخرُجوا مِن دِيٰرِكُم ما فَعَلوهُ إِلّا قَليلٌ مِنهُم ۖ وَلَو أَنَّهُم فَعَلوا ما يوعَظونَ بِهِ لَكانَ خَيرًا لَهُم وَأَشَدَّ تَثبيتًا(66)
اور اگر ہم ان پر فرض کر دیتے کہ تم اپنے آپ کو قتل کر ڈالو یا اپنے گھروں کو چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں سے بہت تھوڑے لوگ اس پر عمل کرتے، اورانہیں جو نصیحت کی جاتی ہے اگر وہ اس پر عمل پیرا ہو جاتے تویہ ان کے حق میں بہتر ہوتا اور (ایمان پر) بہت زیادہ ثابت قدم رکھنے والا ہوتا،(66)
وَإِذًا لَءاتَينٰهُم مِن لَدُنّا أَجرًا عَظيمًا(67)
اور اس وقت ہم بھی انہیں اپنے حضور سے عظیم اجر عطا فرماتے،(67)
وَلَهَدَينٰهُم صِرٰطًا مُستَقيمًا(68)
اور ہم انہیں واقعۃً سیدھی راہ پر لگا دیتے،(68)
وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسولَ فَأُولٰئِكَ مَعَ الَّذينَ أَنعَمَ اللَّهُ عَلَيهِم مِنَ النَّبِيّۦنَ وَالصِّدّيقينَ وَالشُّهَداءِ وَالصّٰلِحينَ ۚ وَحَسُنَ أُولٰئِكَ رَفيقًا(69)
اور جو کوئی اللہ اور رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرے تو یہی لوگ (روزِ قیامت) ان (ہستیوں) کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا ہے جو کہ انبیاء، صدیقین، شہداءاور صالحین ہیں، اور یہ بہت اچھے ساتھی ہیں،(69)
ذٰلِكَ الفَضلُ مِنَ اللَّهِ ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ عَليمًا(70)
یہ فضل (خاص) اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ جاننے والا کافی ہے،(70)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا خُذوا حِذرَكُم فَانفِروا ثُباتٍ أَوِ انفِروا جَميعًا(71)
اے ایمان والو! اپنی حفاظت کا سامان لے لیا کرو پھر (جہاد کے لئے) متفرق جماعتیں ہو کر نکلو یا سب اکٹھے ہو کر کوچ کرو،(71)
وَإِنَّ مِنكُم لَمَن لَيُبَطِّئَنَّ فَإِن أَصٰبَتكُم مُصيبَةٌ قالَ قَد أَنعَمَ اللَّهُ عَلَىَّ إِذ لَم أَكُن مَعَهُم شَهيدًا(72)
اور یقیناً تم میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو (عمداً سستی کرتے ہوئے) دیر لگاتے ہیں، پھر اگر (جنگ میں) تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو (شریک نہ ہونے والا شخص) کہتا ہے کہ بیشک اللہ نے مجھ پراحسان فرمایا کہ میں ان کے ساتھ (میدانِ جنگ میں) حاضر نہ تھا،(72)
وَلَئِن أَصٰبَكُم فَضلٌ مِنَ اللَّهِ لَيَقولَنَّ كَأَن لَم تَكُن بَينَكُم وَبَينَهُ مَوَدَّةٌ يٰلَيتَنى كُنتُ مَعَهُم فَأَفوزَ فَوزًا عَظيمًا(73)
اور اگر تمہیں اللہ کی جانب سے کوئی نعمت نصیب ہو جائے تو (پھر) یہی (منافق افسوس کرتے ہوئے) ضرور (یوں) کہے گا گویا تمہارے اور اس کے درمیان کچھ دوستی ہی نہ تھی کہ اے کاش! میں ان کے ساتھ ہوتا تو میں بھی بڑی کامیابی حاصل کرتا،(73)
۞ فَليُقٰتِل فى سَبيلِ اللَّهِ الَّذينَ يَشرونَ الحَيوٰةَ الدُّنيا بِالءاخِرَةِ ۚ وَمَن يُقٰتِل فى سَبيلِ اللَّهِ فَيُقتَل أَو يَغلِب فَسَوفَ نُؤتيهِ أَجرًا عَظيمًا(74)
پس ان (مؤمنوں) کو اللہ کی راہ میں (دین کی سربلندی کے لئے) لڑنا چاہئے جو آخرت کے عوض دنیوی زندگی کو بیچ دیتے ہیں، اور جو کوئی اللہ کی راہ میں جنگ کرے، خواہ وہ (خود) قتل ہو جائے یا غالب آجائے توہم (دونوں صورتوں میں) عنقریب اسے عظیم اجر عطا فرمائیں گے،(74)
وَما لَكُم لا تُقٰتِلونَ فى سَبيلِ اللَّهِ وَالمُستَضعَفينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالوِلدٰنِ الَّذينَ يَقولونَ رَبَّنا أَخرِجنا مِن هٰذِهِ القَريَةِ الظّالِمِ أَهلُها وَاجعَل لَنا مِن لَدُنكَ وَلِيًّا وَاجعَل لَنا مِن لَدُنكَ نَصيرًا(75)
اور (مسلمانو!) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں (غلبۂ دین کے لئے) اور ان بے بس (مظلوم و مقہور) مردوں، عورتوں اور بچوں (کی آزادی) کے لئے جنگ نہیں کرتے جو (ظلم و ستم سے تنگ ہو کر) پکارتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جہاں کے (وڈیرے) لوگ ظالم ہیں، اور کسی کو اپنی بارگاہ سے ہمارا کارساز مقرر فرما دے، اور کسی کو اپنی بارگاہ سے ہمارا مددگار بنا دے،(75)
الَّذينَ ءامَنوا يُقٰتِلونَ فى سَبيلِ اللَّهِ ۖ وَالَّذينَ كَفَروا يُقٰتِلونَ فى سَبيلِ الطّٰغوتِ فَقٰتِلوا أَولِياءَ الشَّيطٰنِ ۖ إِنَّ كَيدَ الشَّيطٰنِ كانَ ضَعيفًا(76)
جو لوگ ایمان لائے وہ اللہ کی راہ میں (نیک مقاصد کے لئے) جنگ کرتے ہیں اورجنہوں نے کفر کیا وہ شیطان کی راہ میں (طاغوتی مقاصد کے لئے) جنگ کرتے ہیں، پس (اے مؤمنو!) تم شیطان کے دوستوں (یعنی شیطانی مشن کے مددگاروں) سے لڑو، بیشک شیطان کا داؤ کمزور ہے،(76)
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ قيلَ لَهُم كُفّوا أَيدِيَكُم وَأَقيمُوا الصَّلوٰةَ وَءاتُوا الزَّكوٰةَ فَلَمّا كُتِبَ عَلَيهِمُ القِتالُ إِذا فَريقٌ مِنهُم يَخشَونَ النّاسَ كَخَشيَةِ اللَّهِ أَو أَشَدَّ خَشيَةً ۚ وَقالوا رَبَّنا لِمَ كَتَبتَ عَلَينَا القِتالَ لَولا أَخَّرتَنا إِلىٰ أَجَلٍ قَريبٍ ۗ قُل مَتٰعُ الدُّنيا قَليلٌ وَالءاخِرَةُ خَيرٌ لِمَنِ اتَّقىٰ وَلا تُظلَمونَ فَتيلًا(77)
کیا آپ نے ان لوگوں کا حال نہیں دیکھا جنہیں (ابتداءً کچھ عرصہ کے لئے) یہ کہا گیا کہ اپنے ہاتھ (قتال سے) روکے رکھو اور نماز قائم کئے رہواور زکوٰۃ دیتے رہو (تو وہ اس پر خوش تھے)، پھر جب ان پر جہاد (یعنی کفر اور ظلم سے ٹکرانا) فرض کر دیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ (مخالف) لوگوں سے (یوں) ڈرنے لگا جیسے اللہ سے ڈرا جاتا ہے یا اس سے بھی بڑھ کر۔ اور کہنے لگے: اے ہمارے رب! تو نے ہم پر (اس قدر جلدی) جہاد کیوں فرض کر دیا؟ تو نے ہمیں مزید تھوڑی مدت تک مہلت کیوں نہ دی؟ آپ (انہیں) فرما دیجئے کہ دنیا کا مفاد بہت تھوڑا (یعنی معمولی شے) ہے، اور آخرت بہت اچھی (نعمت) ہے اس کے لئے جو پرہیزگار بن جائے، وہاں ایک دھاگے کے برابر بھی تمہاری حق تلفی نہیں کی جائے گی،(77)
أَينَما تَكونوا يُدرِككُمُ المَوتُ وَلَو كُنتُم فى بُروجٍ مُشَيَّدَةٍ ۗ وَإِن تُصِبهُم حَسَنَةٌ يَقولوا هٰذِهِ مِن عِندِ اللَّهِ ۖ وَإِن تُصِبهُم سَيِّئَةٌ يَقولوا هٰذِهِ مِن عِندِكَ ۚ قُل كُلٌّ مِن عِندِ اللَّهِ ۖ فَمالِ هٰؤُلاءِ القَومِ لا يَكادونَ يَفقَهونَ حَديثًا(78)
(اے موت کے ڈر سے جہاد سے گریز کرنے والو!) تم جہاں کہیں (بھی) ہوگے موت تمہیں (وہیں) آپکڑے گی خواہ تم مضبوط قلعوں میں (ہی) ہو، اور (ان کی ذہنیت یہ ہے کہ) اگر انہیں کوئی بھلائی (فائدہ) پہنچے توکہتے ہیں کہ یہ (تو) اللہ کی طرف سے ہے (اس میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت اور واسطے کا کوئی دخل نہیں)، اور اگر انہیں کوئی برائی (نقصان) پہنچے تو کہتے ہیں: (اے رسول!) یہ آپ کی طرف سے (یعنی آپ کی وجہ سے) ہے۔ آپ فرما دیں: (حقیقۃً) سب کچھ اللہ کی طرف سے (ہوتا) ہے۔ پس اس قوم کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ کوئی بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں آتے،(78)
ما أَصابَكَ مِن حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ وَما أَصابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَفسِكَ ۚ وَأَرسَلنٰكَ لِلنّاسِ رَسولًا ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ شَهيدًا(79)
(اے انسان! اپنی تربیت یوں کر کہ) جب تجھے کوئی بھلائی پہنچے تو (سمجھ کہ) وہ اللہ کی طرف سے ہے (اسے اپنے حسنِ تدبیر کی طرف منسوب نہ کر)، اور جب تجھے کوئی برائی پہنچے تو (سمجھ کہ) وہ تیری اپنی طرف سے ہے (یعنی اسے اپنی خرابئ نفس کی طرف منسوب کر)، اور (اے محبوب!) ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے، اور (آپ کی رسالت پر) اللہ گواہی میں کافی ہے،(79)
مَن يُطِعِ الرَّسولَ فَقَد أَطاعَ اللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلّىٰ فَما أَرسَلنٰكَ عَلَيهِم حَفيظًا(80)
جس نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ (ہی) کا حکم مانا، اور جس نے روگردانی کی تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا،(80)
وَيَقولونَ طاعَةٌ فَإِذا بَرَزوا مِن عِندِكَ بَيَّتَ طائِفَةٌ مِنهُم غَيرَ الَّذى تَقولُ ۖ وَاللَّهُ يَكتُبُ ما يُبَيِّتونَ ۖ فَأَعرِض عَنهُم وَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ وَكيلًا(81)
اور (ان منافقوں کا یہ حال ہے کہ آپ کے سامنے) کہتے ہیں کہ (ہم نے آپ کا حکم) مان لیا، پھر وہ آپ کے پاس سے (اٹھ کر) باہر جاتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ آپ کی کہی ہوئی بات کے برعکس رات کو رائے زنی (اور سازشی مشورے) کرتا ہے، اور اللہ (وہ سب کچھ) لکھ رہا ہے جو وہ رات بھر منصوبے بناتے ہیں۔ پس (اے محبوب!) آپ ان سے رُخِ انور پھیر لیجئے اوراللہ پر بھروسہ رکھئیے، اور اللہ کافی کارساز ہے،(81)
أَفَلا يَتَدَبَّرونَ القُرءانَ ۚ وَلَو كانَ مِن عِندِ غَيرِ اللَّهِ لَوَجَدوا فيهِ اختِلٰفًا كَثيرًا(82)
تو کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے، اور اگر یہ (قرآن) غیرِ خدا کی طرف سے (آیا) ہوتا تو یہ لوگ اس میں بہت سا اختلاف پاتے،(82)
وَإِذا جاءَهُم أَمرٌ مِنَ الأَمنِ أَوِ الخَوفِ أَذاعوا بِهِ ۖ وَلَو رَدّوهُ إِلَى الرَّسولِ وَإِلىٰ أُولِى الأَمرِ مِنهُم لَعَلِمَهُ الَّذينَ يَستَنبِطونَهُ مِنهُم ۗ وَلَولا فَضلُ اللَّهِ عَلَيكُم وَرَحمَتُهُ لَاتَّبَعتُمُ الشَّيطٰنَ إِلّا قَليلًا(83)
اور جب ان کے پاس کوئی خبر امن یا خوف کی آتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں اور اگر وہ (بجائے شہرت دینے کے) اسے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی طرف لوٹادیتے تو ضرور ان میں سے وہ لوگ جو (کسی) بات کانتیجہ اخذ کرسکتے ہیں اس (خبر کی حقیقت) کو جان لیتے، اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقیناً چند ایک کے سوا تم (سب) شیطان کی پیروی کرنے لگتے،(83)
فَقٰتِل فى سَبيلِ اللَّهِ لا تُكَلَّفُ إِلّا نَفسَكَ ۚ وَحَرِّضِ المُؤمِنينَ ۖ عَسَى اللَّهُ أَن يَكُفَّ بَأسَ الَّذينَ كَفَروا ۚ وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأسًا وَأَشَدُّ تَنكيلًا(84)
پس (اے محبوب!) آپ اللہ کی راہ میں جہاد کیجئے، آپ کو اپنی جان کے سوا (کسی اور کے لئے) ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا اور آپ مسلمانوں کو (جہاد کے لئے) اُبھاریں، عجب نہیں کہ اللہ کافروں کا جنگی زور توڑ دے، اور اللہ گرفت میں (بھی) بہت سخت ہے اور سزا دینے میں (بھی) بہت سخت،(84)
مَن يَشفَع شَفٰعَةً حَسَنَةً يَكُن لَهُ نَصيبٌ مِنها ۖ وَمَن يَشفَع شَفٰعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَهُ كِفلٌ مِنها ۗ وَكانَ اللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ مُقيتًا(85)
جو شخص کوئی نیک سفارش کرے تو اس کے لئے اس (کے ثواب) سے حصہ (مقرر) ہے، اور جو کوئی بری سفارش کرے تو اس کے لئے اس (کے گناہ) سے حصہ (مقرر) ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،(85)
وَإِذا حُيّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيّوا بِأَحسَنَ مِنها أَو رُدّوها ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ حَسيبًا(86)
اور جب (کسی لفظ) سلام کے ذریعے تمہاری تکریم کی جائے تو تم (جواب میں) اس سے بہتر (لفظ کے ساتھ) سلام پیش کیا کرو یا (کم از کم) وہی (الفاظ جواب میں) لوٹا دیا کرو، بیشک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے،(86)
اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۚ لَيَجمَعَنَّكُم إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ لا رَيبَ فيهِ ۗ وَمَن أَصدَقُ مِنَ اللَّهِ حَديثًا(87)
اللہ ہے (کہ) اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں۔ وہ تمہیں ضرور قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں، اور اللہ سے بات میں زیادہ سچا کون ہے،(87)
۞ فَما لَكُم فِى المُنٰفِقينَ فِئَتَينِ وَاللَّهُ أَركَسَهُم بِما كَسَبوا ۚ أَتُريدونَ أَن تَهدوا مَن أَضَلَّ اللَّهُ ۖ وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبيلًا(88)
پس تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقوں کے بارے میں تم دو گروہ ہو گئے ہو حالانکہ اللہ نے ان کے اپنے کرتوتوں کے باعث ان (کی عقل اور سوچ) کو اوندھا کر دیا ہے۔ کیا تم اس شخص کو راہِ راست پر لانا چاہتے ہو جسے اللہ نے گمراہ ٹھہرا دیا ہے، اور (اے مخاطب!) جسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو اس کے لئے ہرگز کوئی راہِ (ہدایت) نہیں پاسکتا،(88)
وَدّوا لَو تَكفُرونَ كَما كَفَروا فَتَكونونَ سَواءً ۖ فَلا تَتَّخِذوا مِنهُم أَولِياءَ حَتّىٰ يُهاجِروا فى سَبيلِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوا فَخُذوهُم وَاقتُلوهُم حَيثُ وَجَدتُموهُم ۖ وَلا تَتَّخِذوا مِنهُم وَلِيًّا وَلا نَصيرًا(89)
وہ (منافق تو) یہ تمنا کرتے ہیں کہ تم بھی کفر کروجیسے انہوں نے کفر کیا تاکہ تم سب برابر ہو جاؤ۔ سو تم ان میں سے (کسی کو) دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت (کر کے اپنا ایمان اور اخلاص ثابت) کریں، پھر اگر وہ روگردانی کریں تو انہیں پکڑ لو اور جہاں بھی پاؤ انہیں قتل کر ڈالو اور ان میں سے (کسی کو) دوست نہ بناؤ اور نہ مددگار،(89)
إِلَّا الَّذينَ يَصِلونَ إِلىٰ قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثٰقٌ أَو جاءوكُم حَصِرَت صُدورُهُم أَن يُقٰتِلوكُم أَو يُقٰتِلوا قَومَهُم ۚ وَلَو شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُم عَلَيكُم فَلَقٰتَلوكُم ۚ فَإِنِ اعتَزَلوكُم فَلَم يُقٰتِلوكُم وَأَلقَوا إِلَيكُمُ السَّلَمَ فَما جَعَلَ اللَّهُ لَكُم عَلَيهِم سَبيلًا(90)
مگر ان لوگوں کو (قتل نہ کرو) جو ایسی قوم سے جا ملے ہوں کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدۂ (امان ہوچکا) ہو یا وہ (حوصلہ ہار کر) تمہارے پاس اس حال میں آجائیں کہ ان کے سینے (اس بات سے) تنگ آچکے ہوں کہ وہ تم سے لڑیں یا اپنی قوم سے لڑیں، اور اگر اللہ چاہتا تو (ان کے دلوں کو ہمت دیتے ہوئے) یقینا انہیں تم پر غالب کر دیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے، پس اگر وہ تم سے کنارہ کشی کر لیں اور تمہارے ساتھ جنگ نہ کریں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو اللہ نے تمہارے لئے (بھی صلح جوئی کی صورت میں) ان پر (دست درازی کی) کوئی راہ نہیں بنائی،(90)
سَتَجِدونَ ءاخَرينَ يُريدونَ أَن يَأمَنوكُم وَيَأمَنوا قَومَهُم كُلَّ ما رُدّوا إِلَى الفِتنَةِ أُركِسوا فيها ۚ فَإِن لَم يَعتَزِلوكُم وَيُلقوا إِلَيكُمُ السَّلَمَ وَيَكُفّوا أَيدِيَهُم فَخُذوهُم وَاقتُلوهُم حَيثُ ثَقِفتُموهُم ۚ وَأُولٰئِكُم جَعَلنا لَكُم عَلَيهِم سُلطٰنًا مُبينًا(91)
اب تم کچھ دوسرے لوگوں کو بھی پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ (منافقانہ طریقے سے ایمان ظاہر کرکے) تم سے (بھی) امن میں رہیں اور (پوشیدہ طریقے سے کفر کی موافقت کرکے) اپنی قوم سے (بھی) امن میں رہیں، (مگر ان کی حالت یہ ہے کہ) جب بھی (مسلمانوں کے خلاف) فتنہ انگیزی کی طرف پھیرے جاتے ہیں تو وہ اس میں (اوندھے) کود پڑتے ہیں، سو اگر یہ (لوگ) تم سے (لڑنے سے) کنارہ کش نہ ہوں اور (نہ ہی) تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں اور (نہ ہی) اپنے ہاتھ (فتنہ انگیزی سے) روکیں تو تم انہیں پکڑ (کر قید کر) لو اور انہیں قتل کر ڈالو جہاں کہیں بھی انہیں پاؤ، اور یہ وہ لوگ ہیں جن پر ہم نے تمہیں کھلا اختیار دیا ہے،(91)
وَما كانَ لِمُؤمِنٍ أَن يَقتُلَ مُؤمِنًا إِلّا خَطَـًٔا ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤمِنًا خَطَـًٔا فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ إِلّا أَن يَصَّدَّقوا ۚ فَإِن كانَ مِن قَومٍ عَدُوٍّ لَكُم وَهُوَ مُؤمِنٌ فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ ۖ وَإِن كانَ مِن قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثٰقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ وَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ ۖ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ شَهرَينِ مُتَتابِعَينِ تَوبَةً مِنَ اللَّهِ ۗ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا(92)
اور کسی مسلمان کے لئے (جائز) نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو قتل کر دے مگر (بغیر قصد) غلطی سے، اور جس نے کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کر دیا تو (اس پر) ایک مسلمان غلام / باندی کا آزاد کرنا اور خون بہا (کا ادا کرنا) جو مقتول کے گھر والوں کے سپرد کیا جائے (لازم ہے) مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں، پھر اگر وہ (مقتول) تمہاری دشمن قوم سے ہو اور وہ مومن (بھی) ہو تو (صرف) ایک غلام / باندی کا آزاد کرنا (ہی لازم) ہے اور اگر وہ (مقتول) اس قوم میں سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان (صلح کا) معاہدہ ہے تو خون بہا (بھی) جو اس کے گھر والوں کے سپرد کیا جائے اور ایک مسلمان غلام / باندی کا آزاد کرنا (بھی لازم) ہے۔ پھر جس شخص کو (غلام / باندی) میسر نہ ہو تو (اس پر) پے در پے دو مہینے کے روزے (لازم) ہیں۔ اللہ کی طرف سے (یہ اس کی) توبہ ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،(92)
وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا(93)
اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے،(93)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا ضَرَبتُم فى سَبيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنوا وَلا تَقولوا لِمَن أَلقىٰ إِلَيكُمُ السَّلٰمَ لَستَ مُؤمِنًا تَبتَغونَ عَرَضَ الحَيوٰةِ الدُّنيا فَعِندَ اللَّهِ مَغانِمُ كَثيرَةٌ ۚ كَذٰلِكَ كُنتُم مِن قَبلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيكُم فَتَبَيَّنوا ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِما تَعمَلونَ خَبيرًا(94)
اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں (جہاد کے لئے) سفر پر نکلو تو تحقیق کر لیا کرو اور اس کو جو تمہیں سلام کرے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے، تم (ایک مسلمان کو کافر کہہ کر مارنے کے بعد مالِ غنیمت کی صورت میں) دنیوی زندگی کا سامان تلاش کرتے ہو تو (یقین کرو) اللہ کے پاس بہت اَموالِ غنیمت ہیں۔ اس سے پیشتر تم (بھی) توایسے ہی تھے پھر اللہ نے تم پر احسان کیا (اور تم مسلمان ہوگئے) پس (دوسروں کے بارے میں بھی) تحقیق کر لیا کرو۔ بیشک اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،(94)
لا يَستَوِى القٰعِدونَ مِنَ المُؤمِنينَ غَيرُ أُولِى الضَّرَرِ وَالمُجٰهِدونَ فى سَبيلِ اللَّهِ بِأَموٰلِهِم وَأَنفُسِهِم ۚ فَضَّلَ اللَّهُ المُجٰهِدينَ بِأَموٰلِهِم وَأَنفُسِهِم عَلَى القٰعِدينَ دَرَجَةً ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الحُسنىٰ ۚ وَفَضَّلَ اللَّهُ المُجٰهِدينَ عَلَى القٰعِدينَ أَجرًا عَظيمًا(95)
مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو (جہاد سے جی چرا کر) بغیر کسی (عذر) تکلیف کے (گھروں میں) بیٹھ رہنے والے ہیں اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والے ہیں (یہ دونوں درجہ و ثواب میں) برابر نہیں ہوسکتے۔ اللہ نے اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر مرتبہ میں فضیلت بخشی ہے اوراللہ نے سب (ایمان والوں) سے وعدہ (تو) بھلائی کا (ہی) فرمایا ہے، اور اللہ نے جہاد کرنے والوں کو (بہر طور) بیٹھ رہنے والوں پر زبردست اجر (و ثواب) کی فضیلت دی ہے،(95)
دَرَجٰتٍ مِنهُ وَمَغفِرَةً وَرَحمَةً ۚ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا(96)
اس کی طرف سے (ان کے لئے بہت) درجات ہیں اور بخشائش اور رحمت ہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے،(96)
إِنَّ الَّذينَ تَوَفّىٰهُمُ المَلٰئِكَةُ ظالِمى أَنفُسِهِم قالوا فيمَ كُنتُم ۖ قالوا كُنّا مُستَضعَفينَ فِى الأَرضِ ۚ قالوا أَلَم تَكُن أَرضُ اللَّهِ وٰسِعَةً فَتُهاجِروا فيها ۚ فَأُولٰئِكَ مَأوىٰهُم جَهَنَّمُ ۖ وَساءَت مَصيرًا(97)
بیشک جن لوگوں کی روح فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ (اسلام دشمن ماحول میں رہ کر) اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں (تو) وہ ان سے دریافت کرتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے (تم نے اِقامتِ دین کی جد و جہد کی نہ سرزمینِ کُفر کو چھوڑا)؟ وہ (معذرۃً) کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور و بے بس تھے، فرشتے (جواباً) کہتے ہیں: کیا اللہ کی زمین فراخ نہ تھی کہ تم اس میں (کہیں) ہجرت کر جاتے، سو یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے،(97)
إِلَّا المُستَضعَفينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالوِلدٰنِ لا يَستَطيعونَ حيلَةً وَلا يَهتَدونَ سَبيلًا(98)
سوائے ان واقعی مجبور و بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کے، جو نہ کسی تدبیر پر قدرت رکھتے ہیں اور نہ (وہاں سے نکلنے کا) کوئی راستہ جانتے ہیں،(98)
فَأُولٰئِكَ عَسَى اللَّهُ أَن يَعفُوَ عَنهُم ۚ وَكانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفورًا(99)
سو یہ وہ لوگ ہیں کہ یقیناً اللہ ان سے درگزر فرمائے گا، اور اللہ بڑا معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے،(99)
۞ وَمَن يُهاجِر فى سَبيلِ اللَّهِ يَجِد فِى الأَرضِ مُرٰغَمًا كَثيرًا وَسَعَةً ۚ وَمَن يَخرُج مِن بَيتِهِ مُهاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسولِهِ ثُمَّ يُدرِكهُ المَوتُ فَقَد وَقَعَ أَجرُهُ عَلَى اللَّهِ ۗ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا(100)
اور جو کوئی اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑ کرنکلے وہ زمین میں (ہجرت کے لئے) بہت سی جگہیں اور (معاش کے لئے) کشائش پائے گا، اور جو شخص بھی اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلے پھر اسے (راستے میں ہی) موت آپکڑے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ثابت ہو گیا، اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے،(100)
وَإِذا ضَرَبتُم فِى الأَرضِ فَلَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ أَن تَقصُروا مِنَ الصَّلوٰةِ إِن خِفتُم أَن يَفتِنَكُمُ الَّذينَ كَفَروا ۚ إِنَّ الكٰفِرينَ كانوا لَكُم عَدُوًّا مُبينًا(101)
اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز میں قصر کرو (یعنی چار رکعت فرض کی جگہ دو پڑھو) اگر تمہیں اندیشہ ہے کہ کافر تمہیں تکلیف میں مبتلا کر دیں گے۔ بیشک کفار تمہارے کھلے دشمن ہیں،(101)
وَإِذا كُنتَ فيهِم فَأَقَمتَ لَهُمُ الصَّلوٰةَ فَلتَقُم طائِفَةٌ مِنهُم مَعَكَ وَليَأخُذوا أَسلِحَتَهُم فَإِذا سَجَدوا فَليَكونوا مِن وَرائِكُم وَلتَأتِ طائِفَةٌ أُخرىٰ لَم يُصَلّوا فَليُصَلّوا مَعَكَ وَليَأخُذوا حِذرَهُم وَأَسلِحَتَهُم ۗ وَدَّ الَّذينَ كَفَروا لَو تَغفُلونَ عَن أَسلِحَتِكُم وَأَمتِعَتِكُم فَيَميلونَ عَلَيكُم مَيلَةً وٰحِدَةً ۚ وَلا جُناحَ عَلَيكُم إِن كانَ بِكُم أَذًى مِن مَطَرٍ أَو كُنتُم مَرضىٰ أَن تَضَعوا أَسلِحَتَكُم ۖ وَخُذوا حِذرَكُم ۗ إِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلكٰفِرينَ عَذابًا مُهينًا(102)
اور (اے محبوب!) جب آپ ان (مجاہدوں) میں (تشریف فرما) ہوں تو ان کے لئے نماز (کی جماعت) قائم کریں پس ان میں سے ایک جماعت کو (پہلے) آپ کے ساتھ (اقتداءً) کھڑا ہونا چاہئے اور انہیں اپنے ہتھیار بھی لئے رہنا چاہئیں، پھر جب وہ سجدہ کر چکیں تو (ہٹ کر) تم لوگوں کے پیچھے ہو جائیں اور (اب) دوسری جماعت کو جنہوں نے (ابھی) نماز نہیں پڑھی آجانا چاہیے پھر وہ آپ کے ساتھ (مقتدی بن کر) نماز پڑھیں اور چاہئے کہ وہ (بھی بدستور) اپنے اسبابِ حفاظت اور اپنے ہتھیار لئے رہیں، کافر چاہتے ہیں کہ کہیں تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے اسباب سے غافل ہو جاؤ تو وہ تم پر دفعۃً حملہ کر دیں، اور تم پر کچھ مضائقہ نہیں کہ اگر تمہیں بارش کی وجہ سے کوئی تکلیف ہو یا بیمار ہو تو اپنے ہتھیار (اُتار کر) رکھ دو، اوراپنا سامانِ حفاظت لئے رہو۔ بیشک اللہ نے کافروں کے لئے ذلّت انگیز عذاب تیار کر رکھا ہے،(102)
فَإِذا قَضَيتُمُ الصَّلوٰةَ فَاذكُرُوا اللَّهَ قِيٰمًا وَقُعودًا وَعَلىٰ جُنوبِكُم ۚ فَإِذَا اطمَأنَنتُم فَأَقيمُوا الصَّلوٰةَ ۚ إِنَّ الصَّلوٰةَ كانَت عَلَى المُؤمِنينَ كِتٰبًا مَوقوتًا(103)
پھر (اے مسلمانو!) جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر (لیٹے ہر حال میں) یاد کرتے رہو، پھر جب تم (حالتِ خوف سے نکل کر) اطمینان پالو تو نماز کو (حسبِ دستور) قائم کرو۔ بیشک نماز مومنوں پر مقررہ وقت کے حساب سے فرض ہے،(103)
وَلا تَهِنوا فِى ابتِغاءِ القَومِ ۖ إِن تَكونوا تَألَمونَ فَإِنَّهُم يَألَمونَ كَما تَألَمونَ ۖ وَتَرجونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرجونَ ۗ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا(104)
اور تم (دشمن) قوم کی تلاش میں سستی نہ کرو۔ اگر تمہیں (پیچھا کرنے میں) تکلیف پہنچتی ہے تو انہیں بھی (تو ایسی ہی) تکلیف پہنچتی ہے جیسی تکلیف تمہیں پہنچ رہی ہے حالانکہ تم اللہ سے (اجر و ثواب کی) وہ امیدیں رکھتے ہو جو اُمیدیں وہ نہیں رکھتے۔ اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،(104)
إِنّا أَنزَلنا إِلَيكَ الكِتٰبَ بِالحَقِّ لِتَحكُمَ بَينَ النّاسِ بِما أَرىٰكَ اللَّهُ ۚ وَلا تَكُن لِلخائِنينَ خَصيمًا(105)
(اے رسولِ گرامی!) بیشک ہم نے آپ کی طرف حق پر مبنی کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں میں اس (حق) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے آپ کو دکھایا ہے، اور آپ (کبھی) بددیانت لوگوں کی طرف داری میں بحث کرنے والے نہ بنیں،(105)
وَاستَغفِرِ اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ كانَ غَفورًا رَحيمًا(106)
اور آپ اللہ سے بخشش طلب کریں، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے،(106)
وَلا تُجٰدِل عَنِ الَّذينَ يَختانونَ أَنفُسَهُم ۚ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ مَن كانَ خَوّانًا أَثيمًا(107)
اور آپ ایسے لوگوں کی طرف سے (دفاعاً) نہ جھگڑیں جو اپنی ہی جانوں سے دھوکہ کر رہے ہیں۔ بیشک اللہ کسی (ایسے شخص) کو پسند نہیں فرماتا جو بڑا بددیانت اور بدکار ہے،(107)
يَستَخفونَ مِنَ النّاسِ وَلا يَستَخفونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُم إِذ يُبَيِّتونَ ما لا يَرضىٰ مِنَ القَولِ ۚ وَكانَ اللَّهُ بِما يَعمَلونَ مُحيطًا(108)
وہ لوگوں سے (شرماتے ہوئے اپنی دغابازی کو) چھپاتے ہیں اور اللہ سے نہیں شرماتے درآنحالیکہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ رات کو (کسی) ایسی بات سے متعلق (چھپ کر) مشورہ کرتے ہیں جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے، اور اللہ جو کچھ وہ کرتے ہیں (اسے) احاطہ کئے ہوئے ہے،(108)
هٰأَنتُم هٰؤُلاءِ جٰدَلتُم عَنهُم فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا فَمَن يُجٰدِلُ اللَّهَ عَنهُم يَومَ القِيٰمَةِ أَم مَن يَكونُ عَلَيهِم وَكيلًا(109)
خبردار! تم وہ لوگ ہو جو دنیا کی زندگی میں ان کی طرف سے جھگڑے۔ پھر کون ایسا شخص ہے جو قیامت کے دن (بھی) ان کی طرف سے اللہ کے ساتھ جھگڑے گا یا کون ہے جو (اس دن بھی) ان پر وکیل ہوگا؟،(109)
وَمَن يَعمَل سوءًا أَو يَظلِم نَفسَهُ ثُمَّ يَستَغفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفورًا رَحيمًا(110)
اور جو کوئی برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش طلب کرے وہ اللہ کو بڑا بخشنے والا نہایت مہربان پائے گا،(110)
وَمَن يَكسِب إِثمًا فَإِنَّما يَكسِبُهُ عَلىٰ نَفسِهِ ۚ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا(111)
اور جو شخص کوئی گناہ کرے تو بس وہ اپنی ہی جان پر (اس کا وبال عائد) کر رہا ہے اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،(111)
وَمَن يَكسِب خَطيـَٔةً أَو إِثمًا ثُمَّ يَرمِ بِهِ بَريـًٔا فَقَدِ احتَمَلَ بُهتٰنًا وَإِثمًا مُبينًا(112)
اور جو شحص کسی خطا یا گناہ کا ارتکاب کرے پھر اس کی تہمت کسی بے گناہ پرلگا دے تو اس نے یقیناً ایک بہتان اور کھلے گناہ (کے بوجھ) کو اٹھا لیا،(112)
وَلَولا فَضلُ اللَّهِ عَلَيكَ وَرَحمَتُهُ لَهَمَّت طائِفَةٌ مِنهُم أَن يُضِلّوكَ وَما يُضِلّونَ إِلّا أَنفُسَهُم ۖ وَما يَضُرّونَكَ مِن شَيءٍ ۚ وَأَنزَلَ اللَّهُ عَلَيكَ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَعَلَّمَكَ ما لَم تَكُن تَعلَمُ ۚ وَكانَ فَضلُ اللَّهِ عَلَيكَ عَظيمًا(113)
اور (اے حبیب!) اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان (دغابازوں) میں سے ایک گروہ یہ ارادہ کر چکا تھا کہ آپ کو بہکا دیں، جب کہ وہ محض اپنے آپ کو ہی گمراہ کر رہے ہیں اور آپ کا تو کچھ بگاڑ ہی نہیں سکتے، اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی ہے اور اس نے آپ کو وہ سب علم عطا کر دیا ہے جوآپ نہیں جانتے تھے، اورآپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے،(113)
۞ لا خَيرَ فى كَثيرٍ مِن نَجوىٰهُم إِلّا مَن أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَو مَعروفٍ أَو إِصلٰحٍ بَينَ النّاسِ ۚ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ ابتِغاءَ مَرضاتِ اللَّهِ فَسَوفَ نُؤتيهِ أَجرًا عَظيمًا(114)
ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں سوائے اس شخص (کے مشورے) کے جو کسی خیرات کا یا نیک کام کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم دیتا ہے اور جو کوئی یہ کام اللہ کی رضا جوئی کے لئے کرے تو ہم اس کو عنقریب عظیم اجر عطا کریں گے،(114)
وَمَن يُشاقِقِ الرَّسولَ مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُ الهُدىٰ وَيَتَّبِع غَيرَ سَبيلِ المُؤمِنينَ نُوَلِّهِ ما تَوَلّىٰ وَنُصلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَساءَت مَصيرًا(115)
اور جو شخص رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرے اس کے بعد کہ اس پر ہدایت کی راہ واضح ہو چکی اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ کی پیروی کرے تو ہم اسے اسی (گمراہی) کی طرف پھیرے رکھیں گے جدھر وہ (خود) پھر گیا ہے اور (بالآخر) اسے دوزخ میں ڈالیں گے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے،(115)
إِنَّ اللَّهَ لا يَغفِرُ أَن يُشرَكَ بِهِ وَيَغفِرُ ما دونَ ذٰلِكَ لِمَن يَشاءُ ۚ وَمَن يُشرِك بِاللَّهِ فَقَد ضَلَّ ضَلٰلًا بَعيدًا(116)
بیشک اللہ اس (بات) کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور جو (گناہ) اس سے نیچے ہے جس کے لئے چاہے معاف فرما دیتا ہے، اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے وہ واقعی دور کی گمراہی میں بھٹک گیا،(116)
إِن يَدعونَ مِن دونِهِ إِلّا إِنٰثًا وَإِن يَدعونَ إِلّا شَيطٰنًا مَريدًا(117)
یہ (مشرکین) اللہ کے سوا محض زنانی چیزوں ہی کی پرستش کرتے ہیں اور یہ فقط سرکش شیطان ہی کی پوجا کرتے ہیں،(117)
لَعَنَهُ اللَّهُ ۘ وَقالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِن عِبادِكَ نَصيبًا مَفروضًا(118)
جس پراللہ نے لعنت کی ہے اور جس نے کہا تھا کہ میں تیرے بندوں میں سے ایک معیّن حصہ (اپنے لئے) ضرور لے لوں گا،(118)
وَلَأُضِلَّنَّهُم وَلَأُمَنِّيَنَّهُم وَلَءامُرَنَّهُم فَلَيُبَتِّكُنَّ ءاذانَ الأَنعٰمِ وَلَءامُرَنَّهُم فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلقَ اللَّهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيطٰنَ وَلِيًّا مِن دونِ اللَّهِ فَقَد خَسِرَ خُسرانًا مُبينًا(119)
میں انہیں ضرور گمراہ کردوں گا اور ضرور انہیں غلط اُمیدیں دلاؤں گا اور انہیں ضرور حکم دیتا رہوں گا سو وہ یقیناً جانوروں کے کان چیرا کریں گے اور میں انہیں ضرور حکم دیتا رہوں گا سو وہ یقیناً اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کو بدلا کریں گے، اور جو کوئی اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنالے تو واقعی وہ صریح نقصان میں رہا،(119)
يَعِدُهُم وَيُمَنّيهِم ۖ وَما يَعِدُهُمُ الشَّيطٰنُ إِلّا غُرورًا(120)
شیطان انہیں (غلط) وعدے دیتا ہے اور انہیں (جھوٹی) اُمیدیں دلاتا ہے اور شیطان فریب کے سوا ان سے کوئی وعدہ نہیں کرتا،(120)
أُولٰئِكَ مَأوىٰهُم جَهَنَّمُ وَلا يَجِدونَ عَنها مَحيصًا(121)
یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ وہاں سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے،(121)
وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدخِلُهُم جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها أَبَدًا ۖ وَعدَ اللَّهِ حَقًّا ۚ وَمَن أَصدَقُ مِنَ اللَّهِ قيلًا(122)
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم انہیں عنقریب بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے، اور اللہ سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے،(122)
لَيسَ بِأَمانِيِّكُم وَلا أَمانِىِّ أَهلِ الكِتٰبِ ۗ مَن يَعمَل سوءًا يُجزَ بِهِ وَلا يَجِد لَهُ مِن دونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلا نَصيرًا(123)
(اللہ کا وعدۂ مغفرت) نہ تمہاری خواہشات پر موقوف ہے اور نہ اہلِ کتاب کی خواہشات پر، جو کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کی سزا دی جائے گی اور نہ وہ اللہ کے سوا اپنا کوئی حمایتی پائے گا اور نہ مددگار،(123)
وَمَن يَعمَل مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِن ذَكَرٍ أَو أُنثىٰ وَهُوَ مُؤمِنٌ فَأُولٰئِكَ يَدخُلونَ الجَنَّةَ وَلا يُظلَمونَ نَقيرًا(124)
اور جو کوئی نیک اعمال کرے گا (خواہ) مرد ہو یا عورت درآنحالیکہ وہ مومن ہے پس وہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اوران کی تِل برابر (بھی) حق تلفی نہیں کی جائے گے،(124)
وَمَن أَحسَنُ دينًا مِمَّن أَسلَمَ وَجهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبرٰهيمَ حَنيفًا ۗ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبرٰهيمَ خَليلًا(125)
اور دینی اعتبار سے اُس شخص سے بہتر کون ہو سکتا ہے جس نے اپنا رُوئے نیاز اللہ کے لئے جھکا دیا اور وہ صاحبِ احسان بھی ہوا، اور وہ دینِ ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کرتا رہا جو (اللہ کے لئے) یک سُو (اور) راست رَو تھے، اور اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا مخلص دوست بنا لیا تھا (سو وہ شخص بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت سے اللہ کا دوست ہو گیا)،(125)
وَلِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۚ وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ مُحيطًا(126)
اور (سب) اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کا احاطہ فرمائے ہوئے ہے،(126)
وَيَستَفتونَكَ فِى النِّساءِ ۖ قُلِ اللَّهُ يُفتيكُم فيهِنَّ وَما يُتلىٰ عَلَيكُم فِى الكِتٰبِ فى يَتٰمَى النِّساءِ الّٰتى لا تُؤتونَهُنَّ ما كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرغَبونَ أَن تَنكِحوهُنَّ وَالمُستَضعَفينَ مِنَ الوِلدٰنِ وَأَن تَقوموا لِليَتٰمىٰ بِالقِسطِ ۚ وَما تَفعَلوا مِن خَيرٍ فَإِنَّ اللَّهَ كانَ بِهِ عَليمًا(127)
اور (اے پیغمبر!) لوگ آپ سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ آپ فرما دیں کہ اللہ تمہیں ان کے بارے میں حکم دیتا ہے اور جو حکم تم کو (پہلے سے) کتابِ مجید میں سنایا جا رہا ہے (وہ بھی) ان یتیم عورتوں ہی کے بارے میں ہے جنہیں تم وہ (حقوق) نہیں دیتے جو ان کے لئے مقرر کئے گئے ہیں اور چاہتے ہو کہ (ان کا مال قبضے میں لینے کی خاطر) ان کے ساتھ خود نکاح کر لو اور نیز بے بس بچوں کے بارے میں (بھی حکم) ہے کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف پر قائم رہا کرو، اور تم جو بھلائی بھی کروگے تو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے،(127)
وَإِنِ امرَأَةٌ خافَت مِن بَعلِها نُشوزًا أَو إِعراضًا فَلا جُناحَ عَلَيهِما أَن يُصلِحا بَينَهُما صُلحًا ۚ وَالصُّلحُ خَيرٌ ۗ وَأُحضِرَتِ الأَنفُسُ الشُّحَّ ۚ وَإِن تُحسِنوا وَتَتَّقوا فَإِنَّ اللَّهَ كانَ بِما تَعمَلونَ خَبيرًا(128)
اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی جانب سے زیادتی یا بے رغبتی کا خوف رکھتی ہو تو دونوں (میاں بیوی) پر کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں کسی مناسب بات پر صلح کر لیں، اور صلح (حقیقت میں) اچھی چیز ہے اور طبیعتوں میں (تھوڑا بہت) بخل (ضرور) رکھ دیا گیا ہے، اور اگر تم احسان کرو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو بیشک اللہ ان کاموں سے جو تم کر رہے ہو (اچھی طرح) خبردار ہے،(128)
وَلَن تَستَطيعوا أَن تَعدِلوا بَينَ النِّساءِ وَلَو حَرَصتُم ۖ فَلا تَميلوا كُلَّ المَيلِ فَتَذَروها كَالمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِن تُصلِحوا وَتَتَّقوا فَإِنَّ اللَّهَ كانَ غَفورًا رَحيمًا(129)
اور تم ہرگز اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ (ایک سے زائد) بیویوں کے درمیان (پورا پورا) عدل کر سکو اگرچہ تم کتنا بھی چاہو۔ پس (ایک کی طرف) پورے میلان طبع کے ساتھ (یوں) نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو (درمیان میں) لٹکتی ہوئی چیز کی طرح چھوڑ دو۔ اور اگر تم اصلاح کر لو اور (حق تلفی و زیادتی سے) بچتے رہو تو اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(129)
وَإِن يَتَفَرَّقا يُغنِ اللَّهُ كُلًّا مِن سَعَتِهِ ۚ وَكانَ اللَّهُ وٰسِعًا حَكيمًا(130)
اور اگر دونوں (میاں بیوی) جدا ہو جائیں تواللہ ہر ایک کو اپنی کشائش سے (ایک دوسرے سے) بے نیاز کر دے گا اور اللہ بڑی وسعت والا بڑی حکمت والا ہے،(130)
وَلِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ وَلَقَد وَصَّينَا الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ مِن قَبلِكُم وَإِيّاكُم أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ ۚ وَإِن تَكفُروا فَإِنَّ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۚ وَكانَ اللَّهُ غَنِيًّا حَميدًا(131)
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اورجو کچھ زمین میں ہے۔ اور بیشک ہم نے ان لوگوں کو (بھی) جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی حکم دیا ہے اور تمہیں (بھی) کہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔ اور اگر تم نافرمانی کرو گے تو بیشک (سب کچھ) اللہ ہی کا ہے جو آسمانوں میں اورجو زمین میں ہے اوراللہ بے نیاز، ستودہ صفات ہے،(131)
وَلِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ وَكيلًا(132)
اوراللہ ہی کا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، اور اللہ کا کارساز ہونا کافی ہے،(132)
إِن يَشَأ يُذهِبكُم أَيُّهَا النّاسُ وَيَأتِ بِـٔاخَرينَ ۚ وَكانَ اللَّهُ عَلىٰ ذٰلِكَ قَديرًا(133)
اے لوگو! اگر وہ چاہے تو تمہیں نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) دوسروں کو لے آئے، اور اللہ اس پر بڑی قدرت والا ہے،(133)
مَن كانَ يُريدُ ثَوابَ الدُّنيا فَعِندَ اللَّهِ ثَوابُ الدُّنيا وَالءاخِرَةِ ۚ وَكانَ اللَّهُ سَميعًا بَصيرًا(134)
جو کوئی دنیا کا انعام چاہتا ہے تو اللہ کے پاس دنیا و آخرت (دونوں) کاانعام ہے، اور اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے،(134)
۞ يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كونوا قَوّٰمينَ بِالقِسطِ شُهَداءَ لِلَّهِ وَلَو عَلىٰ أَنفُسِكُم أَوِ الوٰلِدَينِ وَالأَقرَبينَ ۚ إِن يَكُن غَنِيًّا أَو فَقيرًا فَاللَّهُ أَولىٰ بِهِما ۖ فَلا تَتَّبِعُوا الهَوىٰ أَن تَعدِلوا ۚ وَإِن تَلوۥا أَو تُعرِضوا فَإِنَّ اللَّهَ كانَ بِما تَعمَلونَ خَبيرًا(135)
اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے (محض) اللہ کے لئے گواہی دینے والے ہو جاؤ خواہ (گواہی) خود تمہارے اپنے یا (تمہارے) والدین یا (تمہارے) رشتہ داروں کے ہی خلاف ہو، اگرچہ (جس کے خلاف گواہی ہو) مال دار ہے یا محتاج، اللہ ان دونوں کا (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے۔ سو تم خواہشِ نفس کی پیروی نہ کیا کرو کہ عدل سے ہٹ جاؤ (گے)، اور اگر تم (گواہی میں) پیچ دار بات کرو گے یا (حق سے) پہلو تہی کرو گے تو بیشک اللہ ان سب کاموں سے جو تم کر رہے ہو خبردار ہے،(135)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا ءامِنوا بِاللَّهِ وَرَسولِهِ وَالكِتٰبِ الَّذى نَزَّلَ عَلىٰ رَسولِهِ وَالكِتٰبِ الَّذى أَنزَلَ مِن قَبلُ ۚ وَمَن يَكفُر بِاللَّهِ وَمَلٰئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَاليَومِ الءاخِرِ فَقَد ضَلَّ ضَلٰلًا بَعيدًا(136)
اے ایمان والو! تم اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائی ہے اور اس کتاب پر جو اس نے (اس سے) پہلے اتاری تھی ایمان لاؤ، اور جو کوئی اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا انکار کرے تو بیشک وہ دور دراز کی گمراہی میں بھٹک گیا،(136)
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا ثُمَّ كَفَروا ثُمَّ ءامَنوا ثُمَّ كَفَروا ثُمَّ ازدادوا كُفرًا لَم يَكُنِ اللَّهُ لِيَغفِرَ لَهُم وَلا لِيَهدِيَهُم سَبيلًا(137)
بیشک جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے، پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے، پھر کفر میں اوربڑھ گئے تواللہ ہرگز (یہ ارادہ فرمانے والا) نہیں کہ انہیں بخش دے اور نہ (یہ کہ) انہیں سیدھا راستہ دکھائے،(137)
بَشِّرِ المُنٰفِقينَ بِأَنَّ لَهُم عَذابًا أَليمًا(138)
(اے نبی!) آپ منافقوں کو یہ خبر سنا دیں کہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے،(138)
الَّذينَ يَتَّخِذونَ الكٰفِرينَ أَولِياءَ مِن دونِ المُؤمِنينَ ۚ أَيَبتَغونَ عِندَهُمُ العِزَّةَ فَإِنَّ العِزَّةَ لِلَّهِ جَميعًا(139)
(یہ) ایسے لوگ (ہیں) جو مسلمانوں کی بجائے کافروں کو دوست بناتے ہیں، کیا یہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں؟ پس عزت تو ساری اللہ (تعالٰی) کے لئے ہے،(139)
وَقَد نَزَّلَ عَلَيكُم فِى الكِتٰبِ أَن إِذا سَمِعتُم ءايٰتِ اللَّهِ يُكفَرُ بِها وَيُستَهزَأُ بِها فَلا تَقعُدوا مَعَهُم حَتّىٰ يَخوضوا فى حَديثٍ غَيرِهِ ۚ إِنَّكُم إِذًا مِثلُهُم ۗ إِنَّ اللَّهَ جامِعُ المُنٰفِقينَ وَالكٰفِرينَ فى جَهَنَّمَ جَميعًا(140)
اور بیشک (اللہ نے) تم پر کتاب میں یہ (حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے تو تم ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو یہاں تک کہ وہ (انکار اور تمسخر کو چھوڑ کر) کسی دوسری بات میں مشغول ہو جائیں۔ ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے۔ بیشک اللہ منافقوں اور کافروں سب کو دوزخ میں جمع کرنے والا ہے،(140)
الَّذينَ يَتَرَبَّصونَ بِكُم فَإِن كانَ لَكُم فَتحٌ مِنَ اللَّهِ قالوا أَلَم نَكُن مَعَكُم وَإِن كانَ لِلكٰفِرينَ نَصيبٌ قالوا أَلَم نَستَحوِذ عَلَيكُم وَنَمنَعكُم مِنَ المُؤمِنينَ ۚ فَاللَّهُ يَحكُمُ بَينَكُم يَومَ القِيٰمَةِ ۗ وَلَن يَجعَلَ اللَّهُ لِلكٰفِرينَ عَلَى المُؤمِنينَ سَبيلًا(141)
وہ (منافق) جو تمہاری (فتح و شکست کی) تاک میں رہتے ہیں، پھر اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح نصیب ہو جائے تو کہتے ہیں: کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اور اگر کافروں کو (ظاہری فتح میں سے) کچھ حصہ مل گیا تو (ان سے) کہتے ہیں: کیا ہم تم پر غالب نہیں ہو گئے تھے اور (اس کے باوجود) کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں (کے ہاتھوں نقصان) سے نہیں بچایا؟ پس اللہ تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا، اور اللہ کافروں کو مسلمانوں پر (غلبہ پانے کی) ہرگز کوئی راہ نہ دے گا،(141)
إِنَّ المُنٰفِقينَ يُخٰدِعونَ اللَّهَ وَهُوَ خٰدِعُهُم وَإِذا قاموا إِلَى الصَّلوٰةِ قاموا كُسالىٰ يُراءونَ النّاسَ وَلا يَذكُرونَ اللَّهَ إِلّا قَليلًا(142)
بیشک منافق (بزعمِ خویش) اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں حالانکہ وہ انہیں (اپنے ہی) دھوکے کی سزا دینے والا ہے، اور جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی کے ساتھ (محض) لوگوں کو دکھانے کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کویاد (بھی) نہیں کرتے مگر تھوڑا،(142)
مُذَبذَبينَ بَينَ ذٰلِكَ لا إِلىٰ هٰؤُلاءِ وَلا إِلىٰ هٰؤُلاءِ ۚ وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبيلًا(143)
اس (کفر اور ایمان) کے درمیان تذبذب میں ہیں نہ ان (کافروں) کی طرف ہیں اور نہ ان (مؤمنوں) کی طرف ہیں، اورجسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو آپ ہرگز اس کے لئے کوئی (ہدایت کی) راہ نہ پائیں گے،(143)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذُوا الكٰفِرينَ أَولِياءَ مِن دونِ المُؤمِنينَ ۚ أَتُريدونَ أَن تَجعَلوا لِلَّهِ عَلَيكُم سُلطٰنًا مُبينًا(144)
اے ایمان والو! مسلمانوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ، کیا تم چاہتے ہو کہ (نافرمانوں کی دوستی کے ذریعے) اپنے خلاف اللہ کی صریح حجت قائم کر لو،(144)
إِنَّ المُنٰفِقينَ فِى الدَّركِ الأَسفَلِ مِنَ النّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُم نَصيرًا(145)
بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے اور آپ ان کے لئے ہرگز کوئی مددگار نہ پائیں گے،(145)
إِلَّا الَّذينَ تابوا وَأَصلَحوا وَاعتَصَموا بِاللَّهِ وَأَخلَصوا دينَهُم لِلَّهِ فَأُولٰئِكَ مَعَ المُؤمِنينَ ۖ وَسَوفَ يُؤتِ اللَّهُ المُؤمِنينَ أَجرًا عَظيمًا(146)
مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کر لی وہ سنور گئے اورانہوں نے اللہ سے مضبوط تعلق جوڑ لیا اور انہوں نے اپنا دین اللہ کے لئے خالص کر لیا تو یہ مؤمنوں کی سنگت میں ہوں گے اور عنقریب اللہ مومنوں کو عظیم اجر عطا فرمائے گا،(146)
ما يَفعَلُ اللَّهُ بِعَذابِكُم إِن شَكَرتُم وَءامَنتُم ۚ وَكانَ اللَّهُ شاكِرًا عَليمًا(147)
اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ، اور اللہ (ہر حق کا) قدر شناس ہے (ہر عمل کا) خوب جاننے والا ہے،(147)
۞ لا يُحِبُّ اللَّهُ الجَهرَ بِالسّوءِ مِنَ القَولِ إِلّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكانَ اللَّهُ سَميعًا عَليمًا(148)
اﷲ کسی (کی) بری بات کا بآوازِ بلند (ظاہراً و علانیۃً) کہنا پسند نہیں فرماتا سوائے اس کے جس پر ظلم ہوا ہو (اسے ظالم کا ظلم آشکار کرنے کی اجازت ہے)، اور اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے،(148)
إِن تُبدوا خَيرًا أَو تُخفوهُ أَو تَعفوا عَن سوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كانَ عَفُوًّا قَديرًا(149)
اگر تم کسی کارِ خیر کو ظاہر کرو یا اسے مخفی رکھو یا کسی (کی) برائی سے در گزر کرو تو بیشک اﷲ بڑا معاف فرمانے والا بڑی قدرت والا ہے،(149)
إِنَّ الَّذينَ يَكفُرونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُريدونَ أَن يُفَرِّقوا بَينَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقولونَ نُؤمِنُ بِبَعضٍ وَنَكفُرُ بِبَعضٍ وَيُريدونَ أَن يَتَّخِذوا بَينَ ذٰلِكَ سَبيلًا(150)
بلا شبہ جو لوگ اﷲ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اﷲ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اس (ایمان و کفر) کے درمیان کوئی راہ نکال لیں،(150)
أُولٰئِكَ هُمُ الكٰفِرونَ حَقًّا ۚ وَأَعتَدنا لِلكٰفِرينَ عَذابًا مُهينًا(151)
ایسے ہی لوگ درحقیقت کافر ہیں، اور ہم نے کافروں کے لئے رُسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے،(151)
وَالَّذينَ ءامَنوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَم يُفَرِّقوا بَينَ أَحَدٍ مِنهُم أُولٰئِكَ سَوفَ يُؤتيهِم أُجورَهُم ۗ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا(152)
اور جو لوگ اﷲ اور اس کے (سب) رسولوں پر ایمان لائے اور ان (پیغمبروں) میں سے کسی کے درمیان (ایمان لانے میں) فرق نہ کیا تو عنقریب وہ انہیں ان کے اجر عطا فرمائے گا، اور اﷲ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(152)
يَسـَٔلُكَ أَهلُ الكِتٰبِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيهِم كِتٰبًا مِنَ السَّماءِ ۚ فَقَد سَأَلوا موسىٰ أَكبَرَ مِن ذٰلِكَ فَقالوا أَرِنَا اللَّهَ جَهرَةً فَأَخَذَتهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلمِهِم ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا العِجلَ مِن بَعدِ ما جاءَتهُمُ البَيِّنٰتُ فَعَفَونا عَن ذٰلِكَ ۚ وَءاتَينا موسىٰ سُلطٰنًا مُبينًا(153)
(اے حبیب!) آپ سے اہلِ کتاب سوال کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے (ایک ہی دفعہ پوری لکھی ہوئی) کوئی کتاب اتار لائیں، تو وہ موسٰی (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑا سوال کر چکے ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں اﷲ (کی ذات) کھلم کھلا دکھا دو، پس ان کے (اس) ظلم (یعنی گستاخانہ سوال) کی وجہ سے انہیں آسمانی بجلی نے آپکڑا (جس کے باعث وہ مرگئے، پھر موسٰی علیہ السلام کی دعا سے زندہ ہوئے)، پھر انہوں نے بچھڑے کو (اپنا معبود) بنا لیا اس کے بعد کہ ان کے پاس (حق کی نشاندہی کرنے والی) واضح نشانیاں آچکی تھیں، پھر ہم نے اس (جرم) سے بھی درگزر کیا اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو (ان پر) واضح غلبہ عطا فرمایا،(153)
وَرَفَعنا فَوقَهُمُ الطّورَ بِميثٰقِهِم وَقُلنا لَهُمُ ادخُلُوا البابَ سُجَّدًا وَقُلنا لَهُم لا تَعدوا فِى السَّبتِ وَأَخَذنا مِنهُم ميثٰقًا غَليظًا(154)
اور (جب یہود تورات کے احکام سے پھر انکاری ہوگئے تو) ہم نے ان سے (پختہ) عہد لینے کے لئے (کوہِ) طور کو ان کے اوپر اٹھا (کر معلّق کر) دیا، اور ہم نے ان سے فرمایا کہ تم (اس شہر کے) دروازے (یعنی بابِ ایلیاء) میں سجدۂ (شکر) کرتے ہوئے داخل ہونا، اور ہم نے ان سے (مزید) فرمایا کہ ہفتہ کے دن (مچھلی کے شکار کی ممانعت کے حکم) میں بھی تجاوز نہ کرنا اور ہم نے ان سے بڑا تاکیدی عہد لیا تھا،(154)
فَبِما نَقضِهِم ميثٰقَهُم وَكُفرِهِم بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَقَتلِهِمُ الأَنبِياءَ بِغَيرِ حَقٍّ وَقَولِهِم قُلوبُنا غُلفٌ ۚ بَل طَبَعَ اللَّهُ عَلَيها بِكُفرِهِم فَلا يُؤمِنونَ إِلّا قَليلًا(155)
پس (انہیں جو سزائیں ملیں وہ) ان کی اپنی عہد شکنی پر اور آیاتِ الٰہی سے انکار (کے سبب) اور انبیاء کو ان کے ناحق قتل کر ڈالنے (کے باعث)، نیز ان کی اس بات (کے سبب) سے کہ ہمارے دلوں پر غلاف (چڑھے ہوئے) ہیں، (حقیقت میں ایسا نہ تھا) بلکہ اﷲ نے ان کے کفر کے باعث ان کے دلوں پر مُہر لگا دی ہے، سو وہ چند ایک کے سوا ایمان نہیں لائیں گے،(155)
وَبِكُفرِهِم وَقَولِهِم عَلىٰ مَريَمَ بُهتٰنًا عَظيمًا(156)
اور (مزید یہ کہ) ان کے (اس) کفر اور قول کے باعث جو انہوں نے مریم (علیہا السلام) پر زبردست بہتان لگایا،(156)
وَقَولِهِم إِنّا قَتَلنَا المَسيحَ عيسَى ابنَ مَريَمَ رَسولَ اللَّهِ وَما قَتَلوهُ وَما صَلَبوهُ وَلٰكِن شُبِّهَ لَهُم ۚ وَإِنَّ الَّذينَ اختَلَفوا فيهِ لَفى شَكٍّ مِنهُ ۚ ما لَهُم بِهِ مِن عِلمٍ إِلَّا اتِّباعَ الظَّنِّ ۚ وَما قَتَلوهُ يَقينًا(157)
اور ان کے اس کہنے (یعنی فخریہ دعوٰی) کی وجہ سے (بھی) کہ ہم نے اﷲ کے رسول، مریم کے بیٹے عیسٰی مسیح کو قتل کر ڈالا ہے، حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ انہیں سولی چڑھایا مگر (ہوا یہ کہ) ان کے لئے (کسی کو عیسٰی علیہ السلام کا) ہم شکل بنا دیا گیا، اور بیشک جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ یقیناً اس (قتل کے حوالے) سے شک میں پڑے ہوئے ہیں، انہیں (حقیقتِ حال کا) کچھ بھی علم نہیں مگر یہ کہ گمان کی پیروی (کر رہے ہیں)، اور انہوں نے عیسٰی (علیہ السلام) کو یقیناً قتل نہیں کیا،(157)
بَل رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيهِ ۚ وَكانَ اللَّهُ عَزيزًا حَكيمًا(158)
بلکہ اﷲ نے انہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھا لیا، اور اﷲ غالب حکمت والا ہے،(158)
وَإِن مِن أَهلِ الكِتٰبِ إِلّا لَيُؤمِنَنَّ بِهِ قَبلَ مَوتِهِ ۖ وَيَومَ القِيٰمَةِ يَكونُ عَلَيهِم شَهيدًا(159)
اور (قربِ قیامت نزولِ مسیح علیہ السلام کے وقت) اہلِ کتاب میں سے کوئی (فرد یا فرقہ) نہ رہے گا مگر وہ عیسٰی (علیہ السلام) پر ان کی موت سے پہلے ضرور (صحیح طریقے سے) ایمان لے آئے گا، اور قیامت کے دن عیسٰی (علیہ السلام) ان پر گواہ ہوں گے،(159)
فَبِظُلمٍ مِنَ الَّذينَ هادوا حَرَّمنا عَلَيهِم طَيِّبٰتٍ أُحِلَّت لَهُم وَبِصَدِّهِم عَن سَبيلِ اللَّهِ كَثيرًا(160)
پھر یہودیوں کے ظلم ہی کی وجہ سے ہم نے ان پر (کئی) پاکیزہ چیزیں حرام کر دیں جو (پہلے) ان کے لئے حلال کی جاچکی تھیں، اور اس وجہ سے (بھی) کہ وہ (لوگوں کو) اﷲ کی راہ سے بکثرت روکتے تھے،(160)
وَأَخذِهِمُ الرِّبوٰا۟ وَقَد نُهوا عَنهُ وَأَكلِهِم أَموٰلَ النّاسِ بِالبٰطِلِ ۚ وَأَعتَدنا لِلكٰفِرينَ مِنهُم عَذابًا أَليمًا(161)
اور ان کے سود لینے کے سبب سے، حالانکہ وہ اس سے روکے گئے تھے، اور ان کے لوگوں کا ناحق مال کھانے کی وجہ سے (بھی انہیں سزا ملی) اور ہم نے ان میں سے کافروں کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،(161)
لٰكِنِ الرّٰسِخونَ فِى العِلمِ مِنهُم وَالمُؤمِنونَ يُؤمِنونَ بِما أُنزِلَ إِلَيكَ وَما أُنزِلَ مِن قَبلِكَ ۚ وَالمُقيمينَ الصَّلوٰةَ ۚ وَالمُؤتونَ الزَّكوٰةَ وَالمُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ أُولٰئِكَ سَنُؤتيهِم أَجرًا عَظيمًا(162)
لیکن ان میں سے پختہ علم والے اور مومن لوگ اس (وحی) پر جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور اس (وحی) پر جو آپ سے پہلے نازل کی گئی (برابر) ایمان لاتے ہیں، اور وہ (کتنے اچھے ہیں کہ) نماز قائم کرنے والے (ہیں) اور زکوٰۃ دینے والے (ہیں) اور اﷲ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے (ہیں)۔ ایسے ہی لوگوں کو ہم عنقریب بڑا اجر عطا فرمائیں گے،(162)
۞ إِنّا أَوحَينا إِلَيكَ كَما أَوحَينا إِلىٰ نوحٍ وَالنَّبِيّۦنَ مِن بَعدِهِ ۚ وَأَوحَينا إِلىٰ إِبرٰهيمَ وَإِسمٰعيلَ وَإِسحٰقَ وَيَعقوبَ وَالأَسباطِ وَعيسىٰ وَأَيّوبَ وَيونُسَ وَهٰرونَ وَسُلَيمٰنَ ۚ وَءاتَينا داوۥدَ زَبورًا(163)
(اے حبیب!) بیشک ہم نے آپ کی طرف (اُسی طرح) وحی بھیجی ہے جیسے ہم نے نوح (علیہ السلام) کی طرف اور ان کے بعد (دوسرے) پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل اور اسحاق و یعقوب اور (ان کی) اولاد اور عیسٰی اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان (علیھم السلام) کی طرف (بھی) وحی فرمائی، اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو (بھی) زبور عطا کی تھی،(163)
وَرُسُلًا قَد قَصَصنٰهُم عَلَيكَ مِن قَبلُ وَرُسُلًا لَم نَقصُصهُم عَلَيكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّهُ موسىٰ تَكليمًا(164)
اور (ہم نے کئی) ایسے رسول (بھیجے) ہیں جن کے حالات ہم (اس سے) پہلے آپ کو سنا چکے ہیں اور (کئی) ایسے رسول بھی (بھیجے) ہیں جن کے حالات ہم نے (ابھی تک) آپ کو نہیں سنائے اور اﷲ نے موسٰی (علیہ السلام) سے (بلاواسطہ) گفتگو (بھی) فرمائی،(164)
رُسُلًا مُبَشِّرينَ وَمُنذِرينَ لِئَلّا يَكونَ لِلنّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعدَ الرُّسُلِ ۚ وَكانَ اللَّهُ عَزيزًا حَكيمًا(165)
رسول جو خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے تھے (اس لئے بھیجے گئے) تاکہ (ان) پیغمبروں (کے آجانے) کے بعد لوگوں کے لئے اﷲ پر کوئی عذر باقی نہ رہے، اور اﷲ بڑا غالب حکمت والا ہے،(165)
لٰكِنِ اللَّهُ يَشهَدُ بِما أَنزَلَ إِلَيكَ ۖ أَنزَلَهُ بِعِلمِهِ ۖ وَالمَلٰئِكَةُ يَشهَدونَ ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ شَهيدًا(166)
(اے حبیب! کوئی آپ کی نبوت پر ایمان لائے یا نہ لائے) مگر اﷲ (خود اس بات کی) گواہی دیتا ہے کہ جو کچھ اس نے آپ کی طرف نازل فرمایا ہے، اسے اپنے علم سے نازل فرمایا ہے اور فرشتے (بھی آپ کی خاطر) گواہی دیتے ہیں، اور اﷲ کا گواہ ہونا (ہی) کافی ہے،(166)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا وَصَدّوا عَن سَبيلِ اللَّهِ قَد ضَلّوا ضَلٰلًا بَعيدًا(167)
بیشک جنہوں نے کفر کیا (یعنی نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کی) اور (لوگوں کو) اﷲ کی راہ سے روکا، یقینا وہ (حق سے) بہت دور کی گمراہی میں جا بھٹکے،(167)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا وَظَلَموا لَم يَكُنِ اللَّهُ لِيَغفِرَ لَهُم وَلا لِيَهدِيَهُم طَريقًا(168)
بیشک جنہوں نے (اﷲ کی گواہی کو نہ مان کر) کفر کیا اور (رسول کی شان کو نہ مان کر) ظلم کیا، اﷲ ہرگز (ایسا) نہیں کہ انہیں بخش دے اور نہ (ایسا ہے کہ آخرت میں) انہیں کوئی راستہ دکھائے،(168)
إِلّا طَريقَ جَهَنَّمَ خٰلِدينَ فيها أَبَدًا ۚ وَكانَ ذٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسيرًا(169)
سوائے جہنم کے راستے کے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہ کام اﷲ پر آسان ہے،(169)
يٰأَيُّهَا النّاسُ قَد جاءَكُمُ الرَّسولُ بِالحَقِّ مِن رَبِّكُم فَـٔامِنوا خَيرًا لَكُم ۚ وَإِن تَكفُروا فَإِنَّ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا(170)
اے لوگو! بیشک تمہارے پاس یہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے رب کی طرف سے حق کے ساتھ تشریف لایا ہے، سو تم (ان پر) اپنی بہتری کے لئے ایمان لے آؤ اور اگر تم کفر (یعنی ان کی رسالت سے انکار) کرو گے تو (جان لو وہ تم سے بے نیاز ہے کیونکہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے یقیناً (وہ سب) اﷲ ہی کا ہے اور اﷲ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،(170)
يٰأَهلَ الكِتٰبِ لا تَغلوا فى دينِكُم وَلا تَقولوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الحَقَّ ۚ إِنَّمَا المَسيحُ عيسَى ابنُ مَريَمَ رَسولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلقىٰها إِلىٰ مَريَمَ وَروحٌ مِنهُ ۖ فَـٔامِنوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۖ وَلا تَقولوا ثَلٰثَةٌ ۚ انتَهوا خَيرًا لَكُم ۚ إِنَّمَا اللَّهُ إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۖ سُبحٰنَهُ أَن يَكونَ لَهُ وَلَدٌ ۘ لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ وَكَفىٰ بِاللَّهِ وَكيلًا(171)
اے اہلِ کتاب! تم اپنے دین میں حد سے زائد نہ بڑھو اور اﷲ کی شان میں سچ کے سوا کچھ نہ کہو، حقیقت صرف یہ ہے کہ مسیح عیسٰی ابن مریم (علیہما السلام) اﷲ کا رسول اور اس کا کلمہ ہے جسے اس نے مریم کی طرف پہنچا دیا اور اس (کی طرف) سے ایک روح ہے۔ پس تم اﷲ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور مت کہو کہ (معبود) تین ہیں، (اس عقیدہ سے) باز آجاؤ، (یہ) تمہارے لئے بہتر ہے۔ بیشک اﷲ ہی یکتا معبود ہے، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کے لئے کوئی اولاد ہو، (سب کچھ) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اﷲ کا کارساز ہونا کافی ہے،(171)
لَن يَستَنكِفَ المَسيحُ أَن يَكونَ عَبدًا لِلَّهِ وَلَا المَلٰئِكَةُ المُقَرَّبونَ ۚ وَمَن يَستَنكِف عَن عِبادَتِهِ وَيَستَكبِر فَسَيَحشُرُهُم إِلَيهِ جَميعًا(172)
مسیح (علیہ السلام) اس (بات) سے ہرگز عار نہیں رکھتا کہ وہ اﷲ کا بندہ ہو اور نہ ہی مقرّب فرشتوں کو (اس سے کوئی عار ہے)، اور جو کوئی اس کی بندگی سے عار محسوس کرے اور تکبر کرے تو وہ ایسے تمام لوگوں کو عنقریب اپنے پاس جمع فرمائے گا،(172)
فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفّيهِم أُجورَهُم وَيَزيدُهُم مِن فَضلِهِ ۖ وَأَمَّا الَّذينَ استَنكَفوا وَاستَكبَروا فَيُعَذِّبُهُم عَذابًا أَليمًا وَلا يَجِدونَ لَهُم مِن دونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلا نَصيرًا(173)
پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ انہیں پورے پورے اجر عطا فرمائے گا اور (پھر) اپنے فضل سے انہیں اور زیادہ دے گا، اور وہ لوگ جنہوں نے (اﷲ کی عبادت سے) عار محسوس کی اور تکبرّ کیا تو وہ انہیں دردناک عذاب دے گا، اور وہ اپنے لئے اﷲ کے سوا نہ کوئی دوست پائیں گے اور نہ کوئی مددگار،(173)
يٰأَيُّهَا النّاسُ قَد جاءَكُم بُرهٰنٌ مِن رَبِّكُم وَأَنزَلنا إِلَيكُم نورًا مُبينًا(174)
اے لوگو! بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے (ذاتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت میں ذاتِ حق جل مجدہ کی سب سے زیادہ مضبوط، کامل اور واضح) دلیلِ قاطع آگئی ہے اور ہم نے تمہاری طرف (اسی کے ساتھ قرآن کی صورت میں) واضح اور روشن نُور (بھی) اتار دیا ہے،(174)
فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا بِاللَّهِ وَاعتَصَموا بِهِ فَسَيُدخِلُهُم فى رَحمَةٍ مِنهُ وَفَضلٍ وَيَهديهِم إِلَيهِ صِرٰطًا مُستَقيمًا(175)
پس جو لوگ اﷲ پر ایمان لائے اور اس (کے دامن) کو مضبوطی سے پکڑے رکھا تو عنقریب (اﷲ) انہیں اپنی (خاص) رحمت اور فضل میں داخل فرمائے گا، اور انہیں اپنی طرف (پہنچنے کا) سیدھا راستہ دکھائے گا،(175)
يَستَفتونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفتيكُم فِى الكَلٰلَةِ ۚ إِنِ امرُؤٌا۟ هَلَكَ لَيسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُختٌ فَلَها نِصفُ ما تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُها إِن لَم يَكُن لَها وَلَدٌ ۚ فَإِن كانَتَا اثنَتَينِ فَلَهُمَا الثُّلُثانِ مِمّا تَرَكَ ۚ وَإِن كانوا إِخوَةً رِجالًا وَنِساءً فَلِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ الأُنثَيَينِ ۗ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُم أَن تَضِلّوا ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ(176)
لوگ آپ سے فتویٰ (یعنی شرعی حکم) دریافت کرتے ہیں۔ فرما دیجئے کہ اﷲ تمہیں (بغیر اولاد اور بغیر والدین کے فوت ہونے والے) کلالہ (کی وراثت) کے بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص فوت ہو جائے جو بے اولاد ہو مگر اس کی ایک بہن ہو تو اس کے لئے اس (مال) کا آدھا (حصہ) ہے جو اس نے چھوڑا ہے، اور (اگر اس کے برعکس بہن کلالہ ہو تو اس کے مرنے کی صورت میں اس کا) بھائی اس (بہن) کا وارث (کامل) ہوگا اگر اس (بہن) کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر (کلالہ بھائی کی موت پر) دو (بہنیں وارث) ہوں تو ان کے لئے اس (مال) کا دو تہائی (حصہ) ہے جو اس نے چھوڑا ہے، اور اگر (بصورتِ کلالہ مرحوم کے) چند بھائی بہن مرد (بھی) اور عورتیں (بھی وارث) ہوں تو پھر (ہر) ایک مرد کا (حصہ) دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہوگا۔ (یہ احکام) اﷲ تمہارے لئے کھول کر بیان فرما رہا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو، اور اﷲ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے،(176)