An-Nahl( النحل)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ أَتىٰ أَمرُ اللَّهِ فَلا تَستَعجِلوهُ ۚ سُبحٰنَهُ وَتَعٰلىٰ عَمّا يُشرِكونَ(1)
اللہ کا وعدہ (قریب) آپہنچا سو تم اس کے چاہنے میں عجلت نہ کرو۔ وہ پاک ہے اور وہ ان چیزوں سے برتر ہے جنہیں کفار (اس کا) شریک ٹھہراتے ہیں،(1)
يُنَزِّلُ المَلٰئِكَةَ بِالرّوحِ مِن أَمرِهِ عَلىٰ مَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ أَن أَنذِروا أَنَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا أَنا۠ فَاتَّقونِ(2)
وہی فرشتوں کو وحی کے ساتھ (جو جملہ تعلیماتِ دین کی روح اور جان ہے) اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل فرماتا ہے کہ (لوگوں کو) ڈر سناؤ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں سو میری پرہیزگاری اختیار کرو،(2)
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ بِالحَقِّ ۚ تَعٰلىٰ عَمّا يُشرِكونَ(3)
اُسی نے آسمانوں اور زمین کو درست تدبیر کے ساتھ پیدا فرمایا، وہ ان چیزوں سے برتر ہے جنہیں کفار (اس کا) شریک گردانتے ہیں،(3)
خَلَقَ الإِنسٰنَ مِن نُطفَةٍ فَإِذا هُوَ خَصيمٌ مُبينٌ(4)
اُسی نے انسان کو ایک تولیدی قطرہ سے پیدا فرمایا، پھر بھی وہ (اللہ کے حضور مطیع ہونے کی بجائے) کھلا جھگڑالو بن گیا،(4)
وَالأَنعٰمَ خَلَقَها ۗ لَكُم فيها دِفءٌ وَمَنٰفِعُ وَمِنها تَأكُلونَ(5)
اور اُسی نے تمہارے لئے چوپائے پیدا فرمائے، ان میں تمہارے لئے گرم لباس ہے اور (دوسرے) فوائد ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے (بھی) ہو،(5)
وَلَكُم فيها جَمالٌ حينَ تُريحونَ وَحينَ تَسرَحونَ(6)
اور ان میں تمہارے لئے رونق (اور دل کشی بھی) ہے جب تم شام کو چراگاہ سے (واپس) لاتے ہو اور جب تم صبح کو (چرانے کے لئے) لے جاتے ہو،(6)
وَتَحمِلُ أَثقالَكُم إِلىٰ بَلَدٍ لَم تَكونوا بٰلِغيهِ إِلّا بِشِقِّ الأَنفُسِ ۚ إِنَّ رَبَّكُم لَرَءوفٌ رَحيمٌ(7)
اور یہ (جانور) تمہارے بوجھ (بھی) ان شہروں تک اٹھا لے جاتے ہیں جہاں تم بغیر جانکاہ مشقت کے نہیں پہنچ سکتے تھے، بیشک تمہارا رب نہایت شفقت والا نہایت مہربان ہے،(7)
وَالخَيلَ وَالبِغالَ وَالحَميرَ لِتَركَبوها وَزينَةً ۚ وَيَخلُقُ ما لا تَعلَمونَ(8)
اور (اُسی نے) گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کو (پیدا کیا) تاکہ تم ان پر سواری کر سکو اور وہ (تمہارے لئے) باعثِ زینت بھی ہوں، اور وہ (مزید ایسی بازینت سواریوں کو بھی) پیدا فرمائے گا جنہیں تم (آج) نہیں جانتے،(8)
وَعَلَى اللَّهِ قَصدُ السَّبيلِ وَمِنها جائِرٌ ۚ وَلَو شاءَ لَهَدىٰكُم أَجمَعينَ(9)
اور درمیانی راہ اللہ (کے دروازے) پر جا پہنچتی ہے اور اس میں سے کئی ٹیڑھی راہیں بھی (نکلتی) ہیں، اور اگر وہ چاہتا تو تم سب ہی کو ہدایت فرما دیتا،(9)
هُوَ الَّذى أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً ۖ لَكُم مِنهُ شَرابٌ وَمِنهُ شَجَرٌ فيهِ تُسيمونَ(10)
وہی ہے جس نے تمہارے لئے آسمان کی جانب سے پانی اتارا، اس میں سے (کچھ) پینے کا ہے اور اسی میں سے (کچھ) شجر کاری کا ہے (جس سے نباتات، سبزے اور چراگاہیں اُگتی ہیں) جن میں تم (اپنے مویشی) چراتے ہو،(10)
يُنبِتُ لَكُم بِهِ الزَّرعَ وَالزَّيتونَ وَالنَّخيلَ وَالأَعنٰبَ وَمِن كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ(11)
اُسی پانی سے تمہارے لئے کھیت اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (اور میوے) اگاتا ہے، بیشک اِس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے نشانی ہے،(11)
وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيلَ وَالنَّهارَ وَالشَّمسَ وَالقَمَرَ ۖ وَالنُّجومُ مُسَخَّرٰتٌ بِأَمرِهِ ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَعقِلونَ(12)
اور اُسی نے تمہارے لئے رات اور دن کو اور سورج اور چاند کو مسخر کر دیا، اور تمام ستارے بھی اُسی کی تدبیر (سے نظام) کے پابند ہیں، بیشک اس میں عقل رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں،(12)
وَما ذَرَأَ لَكُم فِى الأَرضِ مُختَلِفًا أَلوٰنُهُ ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِقَومٍ يَذَّكَّرونَ(13)
اور (حیوانات، نباتات اور معدنیات وغیرہ میں سے بقیہ) جو کچھ بھی اس نے تمہارے لئے زمین میں پیدا فرمایا ہے جن کے رنگ (یعنی جنسیں، نوعیں، قسمیں، خواص اور منافع) الگ الگ ہیں (سب تمہارے لئے مسخر ہیں)، بیشک اس میں نصیحت قبول کرنے والے لوگوں کے لئے نشانی ہے،(13)
وَهُوَ الَّذى سَخَّرَ البَحرَ لِتَأكُلوا مِنهُ لَحمًا طَرِيًّا وَتَستَخرِجوا مِنهُ حِليَةً تَلبَسونَها وَتَرَى الفُلكَ مَواخِرَ فيهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ(14)
اور وہی ہے جس نے (فضا و بر کے علاوہ) بحر (یعنی دریاؤں اور سمندروں) کو بھی مسخر فرما دیا تاکہ تم اس میں سے تازہ (و پسندیدہ) گوشت کھاؤ اور تم اس میں سے موتی (وغیرہ) نکالو جنہیں تم زیبائش کے لئے پہنتے ہو، اور (اے انسان!) تُو کشتیوں (اور جہازوں) کو دیکھتا ہے جو (دریاؤں اور سمندروں کا) پانی چیرتے ہوئے اس میں چلے جاتے ہیں، اور (یہ سب کچھ اس لئے کیا) تاکہ تم (دور دور تک) اس کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرو اور یہ کہ تم شکر گزار بن جاؤ،(14)
وَأَلقىٰ فِى الأَرضِ رَوٰسِىَ أَن تَميدَ بِكُم وَأَنهٰرًا وَسُبُلًا لَعَلَّكُم تَهتَدونَ(15)
اور اسی نے زمین میں (مختلف مادوں کو باہم ملا کر) بھاری پہاڑ بنا دیئے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کہیں وہ (اپنے مدار میں حرکت کرتے ہوئے) تمہیں لے کر کانپنے لگے اور نہریں اور (قدرتی) راستے (بھی) بنائے تاکہ تم (منزلوں تک پہنچنے کے لئے) راہ پا سکو،(15)
وَعَلٰمٰتٍ ۚ وَبِالنَّجمِ هُم يَهتَدونَ(16)
اور (دن کو راہ تلاش کرنے کے لئے) علامتیں بنائیں، اور (رات کو) لوگ ستاروں کے ذریعہ (بھی) راہ پاتے ہیں،(16)
أَفَمَن يَخلُقُ كَمَن لا يَخلُقُ ۗ أَفَلا تَذَكَّرونَ(17)
کیا وہ خالق جو (اتنا کچھ) پیدا فرمائے اس کے مثل ہو سکتا ہے جو (کچھ بھی) پیدا نہ کر سکے، کیا تم لوگ نصیحت قبول نہیں کرتے،(17)
وَإِن تَعُدّوا نِعمَةَ اللَّهِ لا تُحصوها ۗ إِنَّ اللَّهَ لَغَفورٌ رَحيمٌ(18)
اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو انہیں پورا شمار نہ کر سکو گے، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(18)
وَاللَّهُ يَعلَمُ ما تُسِرّونَ وَما تُعلِنونَ(19)
اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو،(19)
وَالَّذينَ يَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ لا يَخلُقونَ شَيـًٔا وَهُم يُخلَقونَ(20)
اور یہ (مشرک) لوگ جن (بتوں) کو اللہ کے سوا پوجتے ہیں وہ کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں،(20)
أَموٰتٌ غَيرُ أَحياءٍ ۖ وَما يَشعُرونَ أَيّانَ يُبعَثونَ(21)
(وہ) مُردے ہیں زندہ نہیں، اور (انہیں اتنا بھی) شعور نہیں کہ (لوگ) کب اٹھائے جائیں گے،(21)
إِلٰهُكُم إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۚ فَالَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ قُلوبُهُم مُنكِرَةٌ وَهُم مُستَكبِرونَ(22)
تمہارا معبود، معبودِ یکتا ہے، پس جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ سرکش و متکبّر ہیں،(22)
لا جَرَمَ أَنَّ اللَّهَ يَعلَمُ ما يُسِرّونَ وَما يُعلِنونَ ۚ إِنَّهُ لا يُحِبُّ المُستَكبِرينَ(23)
یہ بات حق و ثابت ہے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ سرکشوں متکبّروں کو پسند نہیں کرتا،(23)
وَإِذا قيلَ لَهُم ماذا أَنزَلَ رَبُّكُم ۙ قالوا أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ(24)
اور جب اُن سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا ہے؟ (تو) وہ کہتے ہیں: اگلی قوموں کے جھوٹے قصے (اتارے ہیں)،(24)
لِيَحمِلوا أَوزارَهُم كامِلَةً يَومَ القِيٰمَةِ ۙ وَمِن أَوزارِ الَّذينَ يُضِلّونَهُم بِغَيرِ عِلمٍ ۗ أَلا ساءَ ما يَزِرونَ(25)
(یہ سب کچھ اس لئے کہہ رہے ہیں) تاکہ روزِ قیامت وہ اپنے (اعمالِ بد کے) پورے پورے بوجھ اٹھائیں اور کچھ بوجھ اُن لوگوں کے بھی (اٹھائیں) جنہیں (اپنی) جہالت کے ذریعہ گمراہ کئے جا رہے ہیں، جان لو! بہت بُرا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں،(25)
قَد مَكَرَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم فَأَتَى اللَّهُ بُنيٰنَهُم مِنَ القَواعِدِ فَخَرَّ عَلَيهِمُ السَّقفُ مِن فَوقِهِم وَأَتىٰهُمُ العَذابُ مِن حَيثُ لا يَشعُرونَ(26)
بیشک اُن لوگوں نے (بھی) فریب کیا جو اِن سے پہلے تھے تو اللہ نے اُن (کے مکر و فریب) کی عمارت کو بنیادوں سے اکھاڑ دیا تو ان کے اوپر سے ان پر چھت گر پڑی اور ان پر اس طرف سے عذاب آپہنچا جس کا اُنہیں کچھ خیال بھی نہ تھا،(26)
ثُمَّ يَومَ القِيٰمَةِ يُخزيهِم وَيَقولُ أَينَ شُرَكاءِىَ الَّذينَ كُنتُم تُشٰقّونَ فيهِم ۚ قالَ الَّذينَ أوتُوا العِلمَ إِنَّ الخِزىَ اليَومَ وَالسّوءَ عَلَى الكٰفِرينَ(27)
پھر وہ اُنہیں قیامت کے دن رسوا کرے گا اور ارشاد فرمائے گا: میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے حق میں تم (مومنوں سے) جھگڑا کرتے تھے؟ وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے کہیں گے: بیشک آج کافروں پر (ہر قسم کی) رسوائی اور بربادی ہے،(27)
الَّذينَ تَتَوَفّىٰهُمُ المَلٰئِكَةُ ظالِمى أَنفُسِهِم ۖ فَأَلقَوُا السَّلَمَ ما كُنّا نَعمَلُ مِن سوءٍ ۚ بَلىٰ إِنَّ اللَّهَ عَليمٌ بِما كُنتُم تَعمَلونَ(28)
جن کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر (بدستور) ظلم کئے جا رہے ہوں، سو وہ (روزِ قیامت) اطاعت و فرمانبرداری کا اظہار کریں گے (اور کہیں گے:) ہم (دنیا میں) کوئی برائی نہیں کیا کرتے تھے، کیوں نہیں بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کیا کرتے تھے،(28)
فَادخُلوا أَبوٰبَ جَهَنَّمَ خٰلِدينَ فيها ۖ فَلَبِئسَ مَثوَى المُتَكَبِّرينَ(29)
پس تم دوزخ کے دروازوں سے داخل ہو جاؤ، تم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو، سو تکبّر کرنے والوں کا کیا ہی برا ٹھکانا ہے،(29)
۞ وَقيلَ لِلَّذينَ اتَّقَوا ماذا أَنزَلَ رَبُّكُم ۚ قالوا خَيرًا ۗ لِلَّذينَ أَحسَنوا فى هٰذِهِ الدُّنيا حَسَنَةٌ ۚ وَلَدارُ الءاخِرَةِ خَيرٌ ۚ وَلَنِعمَ دارُ المُتَّقينَ(30)
اور پرہیزگار لوگوں سے کہا جائے کہ تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا ہے؟ وہ کہتے ہیں: (دنیا و آخرت کی) بھلائی (اتاری ہے)، ان لوگوں کے لئے جو نیکی کرتے رہے اس دنیا میں (بھی) بھلائی ہے، اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی بہتر ہے، اور پرہیزگاروں کا گھر کیا ہی خوب ہے،(30)
جَنّٰتُ عَدنٍ يَدخُلونَها تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ ۖ لَهُم فيها ما يَشاءونَ ۚ كَذٰلِكَ يَجزِى اللَّهُ المُتَّقينَ(31)
سدا بہار باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی، اِن میں اُن کے لئے جو کچھ وہ چاہیں گے (میسّر) ہوگا، اس طرح اللہ پرہیزگاروں کو صلہ عطا فرماتا ہے،(31)
الَّذينَ تَتَوَفّىٰهُمُ المَلٰئِكَةُ طَيِّبينَ ۙ يَقولونَ سَلٰمٌ عَلَيكُمُ ادخُلُوا الجَنَّةَ بِما كُنتُم تَعمَلونَ(32)
جن کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ (نیکی و طاعت کے باعث) پاکیزہ اور خوش و خرم ہوں، (ان سے فرشتے قبضِ روح کے وقت ہی کہہ دیتے ہیں:) تم پر سلامتی ہو، تم جنت میں داخل ہو جاؤ ان (اَعمالِ صالحہ) کے باعث جو تم کیا کرتے تھے،(32)
هَل يَنظُرونَ إِلّا أَن تَأتِيَهُمُ المَلٰئِكَةُ أَو يَأتِىَ أَمرُ رَبِّكَ ۚ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ وَما ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلٰكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ(33)
یہ اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے اِس کے کہ ِان کے پاس فرشتے آجائیں یا آپ کے رب کا حکمِ (عذاب) آپہنچے، یہی کچھ ان لوگوں نے (بھی) کیا تھا جو اِن سے پہلے تھے، اور اللہ نے اُن پر ظلم نہیں کیا تھا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے،(33)
فَأَصابَهُم سَيِّـٔاتُ ما عَمِلوا وَحاقَ بِهِم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(34)
سو جو اَعمال انہوں نے کئے تھے انہی کی سزائیں ان کو پہنچیں اور اسی (عذاب) نے انہیں آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،(34)
وَقالَ الَّذينَ أَشرَكوا لَو شاءَ اللَّهُ ما عَبَدنا مِن دونِهِ مِن شَيءٍ نَحنُ وَلا ءاباؤُنا وَلا حَرَّمنا مِن دونِهِ مِن شَيءٍ ۚ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ فَهَل عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا البَلٰغُ المُبينُ(35)
اور مشرک لوگ کہتے ہیں: اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی بھی چیز کی پرستش نہ کرتے، نہ ہی ہم اور نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم اس کے (حکم کے) بغیر کسی چیز کو حرام قرار دیتے، یہی کچھ ان لوگوں نے (بھی) کیا تھا جو اِن سے پہلے تھے، تو کیا رسولوں کے ذمہ (اللہ کے پیغام اور احکام) واضح طور پر پہنچا دینے کے علاوہ بھی کچھ ہے،(35)
وَلَقَد بَعَثنا فى كُلِّ أُمَّةٍ رَسولًا أَنِ اعبُدُوا اللَّهَ وَاجتَنِبُوا الطّٰغوتَ ۖ فَمِنهُم مَن هَدَى اللَّهُ وَمِنهُم مَن حَقَّت عَلَيهِ الضَّلٰلَةُ ۚ فَسيروا فِى الأَرضِ فَانظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُكَذِّبينَ(36)
اور بیشک ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ (لوگو) تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت (یعنی شیطان اور بتوں کی اطاعت و پرستش) سے اجتناب کرو، سو اُن میں بعض وہ ہوئے جنہیں اللہ نے ہدایت فرما دی اور اُن میں بعض وہ ہوئے جن پر گمراہی (ٹھیک) ثابت ہوئی، سو تم لوگ زمین میں سیر و سیاحت کرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا،(36)
إِن تَحرِص عَلىٰ هُدىٰهُم فَإِنَّ اللَّهَ لا يَهدى مَن يُضِلُّ ۖ وَما لَهُم مِن نٰصِرينَ(37)
اگر آپ ان کے ہدایت پر آجانے کی شدید طلب رکھتے ہیں تو (آپ اپنی طبیعتِ مطہرہ پر اس قدر بوجھ نہ لائیں) بیشک اللہ جسے گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اسے ہدایت نہیں فرماتا اور ان کے لئے کوئی مددگار نہیں ہوتا،(37)
وَأَقسَموا بِاللَّهِ جَهدَ أَيمٰنِهِم ۙ لا يَبعَثُ اللَّهُ مَن يَموتُ ۚ بَلىٰ وَعدًا عَلَيهِ حَقًّا وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ(38)
اور یہ لوگ بڑی شدّ و مد سے اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں کہ جو مَر جائے اللہ اسے (دوبارہ) نہیں اٹھائے گا، کیوں نہیں اس کے ذمۂ کرم پر سچا وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،(38)
لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذى يَختَلِفونَ فيهِ وَلِيَعلَمَ الَّذينَ كَفَروا أَنَّهُم كانوا كٰذِبينَ(39)
(مُردوں کا اٹھایا جانا اس لئے ہے) تاکہ ان کے لئے وہ (حق) بات واضح کر دے جس میں وہ لوگ اختلاف کرتے ہیں اور یہ کہ کافر لوگ جان لیں کہ حقیقت میں وہی جھوٹے ہیں،(39)
إِنَّما قَولُنا لِشَيءٍ إِذا أَرَدنٰهُ أَن نَقولَ لَهُ كُن فَيَكونُ(40)
ہمارا فرمان تو کسی چیز کے لئے صرف اِسی قدر ہوتا ہے کہ جب ہم اُس (کو وجود میں لانے) کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم اُسے فرماتے ہیں: ”ہو جا“ پس وہ ہو جاتی ہے،(40)
وَالَّذينَ هاجَروا فِى اللَّهِ مِن بَعدِ ما ظُلِموا لَنُبَوِّئَنَّهُم فِى الدُّنيا حَسَنَةً ۖ وَلَأَجرُ الءاخِرَةِ أَكبَرُ ۚ لَو كانوا يَعلَمونَ(41)
اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی اس کے بعد کہ ان پر (طرح طرح کے) ظلم توڑے گئے تو ہم ضرور انہیں دنیا (ہی) میں بہتر ٹھکانا دیں گے، اور آخرت کا اجر تو یقیناً بہت بڑا ہے، کاش! وہ (اس راز کو) جانتے ہوتے،(41)
الَّذينَ صَبَروا وَعَلىٰ رَبِّهِم يَتَوَكَّلونَ(42)
جن لوگوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر توکل کئے رکھتے ہیں،(42)
وَما أَرسَلنا مِن قَبلِكَ إِلّا رِجالًا نوحى إِلَيهِم ۚ فَسـَٔلوا أَهلَ الذِّكرِ إِن كُنتُم لا تَعلَمونَ(43)
اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مَردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے سو تم اہلِ ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تمہیں خود (کچھ) معلوم نہ ہو،(43)
بِالبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ ۗ وَأَنزَلنا إِلَيكَ الذِّكرَ لِتُبَيِّنَ لِلنّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيهِم وَلَعَلَّهُم يَتَفَكَّرونَ(44)
(انہیں بھی) واضح دلائل اور کتابوں کے ساتھ (بھیجا تھا)، اور (اے نبیِ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف ذکرِ عظیم (قرآن) نازل فرمایا ہے تاکہ آپ لوگوں کے لئے وہ (پیغام اور احکام) خوب واضح کر دیں جو ان کی طرف اتارے گئے ہیں اور تاکہ وہ غور و فکر کریں،(44)
أَفَأَمِنَ الَّذينَ مَكَرُوا السَّيِّـٔاتِ أَن يَخسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الأَرضَ أَو يَأتِيَهُمُ العَذابُ مِن حَيثُ لا يَشعُرونَ(45)
کیا وہ بُرے مکر و فریب کرنے والے لوگ اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا (کسی) ایسی جگہ سے ان پر عذاب بھیج دے جس کا انہیں کوئی خیال بھی نہ ہو،(45)
أَو يَأخُذَهُم فى تَقَلُّبِهِم فَما هُم بِمُعجِزينَ(46)
یا ان کی نقل و حرکت (سفر اور شغلِ تجارت) کے دوران ہی انہیں پکڑ لے سو وہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے،(46)
أَو يَأخُذَهُم عَلىٰ تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُم لَرَءوفٌ رَحيمٌ(47)
یا انہیں ان کے خوف زدہ ہونے پر پکڑ لے، تو بیشک تمہارا رب بڑا شفیق نہایت مہربان ہے،(47)
أَوَلَم يَرَوا إِلىٰ ما خَلَقَ اللَّهُ مِن شَيءٍ يَتَفَيَّؤُا۟ ظِلٰلُهُ عَنِ اليَمينِ وَالشَّمائِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُم دٰخِرونَ(48)
کیا انہوں نے ان (سایہ دار) چیزوں کی طرف نہیں دیکھا جو اللہ نے پیدا فرمائی ہیں (کہ) ان کے سائے دائیں اور بائیں اَطراف سے اللہ کے لئے سجدہ کرتے ہوئے پھرتے رہتے ہیں اور وہ (درحقیقت) طاعت و عاجزی کا اظہار کرتے ہیں،(48)
وَلِلَّهِ يَسجُدُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ مِن دابَّةٍ وَالمَلٰئِكَةُ وَهُم لا يَستَكبِرونَ(49)
اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے جملہ جاندار اور فرشتے، اللہ (ہی) کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ (ذرا بھی) غرور و تکبر نہیں کرتے،(49)
يَخافونَ رَبَّهُم مِن فَوقِهِم وَيَفعَلونَ ما يُؤمَرونَ ۩(50)
وہ اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم انہیں دیا جاتا ہے (اسے) بجا لاتے ہیں،(50)
۞ وَقالَ اللَّهُ لا تَتَّخِذوا إِلٰهَينِ اثنَينِ ۖ إِنَّما هُوَ إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۖ فَإِيّٰىَ فَارهَبونِ(51)
اور اللہ نے فرمایا ہے: تم دو معبود مت بناؤ، بیشک وہی (اللہ) معبودِ یکتا ہے، اور تم مجھ ہی سے ڈرتے رہو،(51)
وَلَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَلَهُ الدّينُ واصِبًا ۚ أَفَغَيرَ اللَّهِ تَتَّقونَ(52)
اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے اور (سب کے لئے) اسی کی فرمانبرداری واجب ہے۔ تو کیا تم غیر اَز خدا (کسی) سے ڈرتے ہو،(52)
وَما بِكُم مِن نِعمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ ثُمَّ إِذا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيهِ تَجـَٔرونَ(53)
اور تمہیں جو نعمت بھی حاصل ہے سو وہ اللہ ہی کی جانب سے ہے، پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو تم اسی کے آگے گریہ و زاری کرتے ہو،(53)
ثُمَّ إِذا كَشَفَ الضُّرَّ عَنكُم إِذا فَريقٌ مِنكُم بِرَبِّهِم يُشرِكونَ(54)
پھر جب اللہ اس تکلیف کو تم سے دور فرما دیتا ہے تو تم میں سے ایک گروہ اس وقت اپنے رب سے شرک کرنے لگتا ہے،(54)
لِيَكفُروا بِما ءاتَينٰهُم ۚ فَتَمَتَّعوا ۖ فَسَوفَ تَعلَمونَ(55)
(یہ کفر و شرک اس لئے) تاکہ وہ ان (نعمتوں) کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں عطا کر رکھی ہیں، پس (اے مشرکو! چند روزہ) فائدہ اٹھا لو پھر تم عنقریب (اپنے انجام کو) جان لو گے،(55)
وَيَجعَلونَ لِما لا يَعلَمونَ نَصيبًا مِمّا رَزَقنٰهُم ۗ تَاللَّهِ لَتُسـَٔلُنَّ عَمّا كُنتُم تَفتَرونَ(56)
اور یہ ان (بتوں) کے لئے جن (کی حقیقت) کو وہ خود بھی نہیں جانتے اس رزق میں سے حصہ مقرر کرتے ہیں جو ہم نے انہیں عطا کر رکھا ہے۔ اللہ کی قسم! تم سے اس بہتان کی نسبت ضرور پوچھ گچھ کی جائے گی جو تم باندھا کرتے ہو،(56)
وَيَجعَلونَ لِلَّهِ البَنٰتِ سُبحٰنَهُ ۙ وَلَهُم ما يَشتَهونَ(57)
اور یہ (کفار و مشرکین) اللہ کے لئے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں وہ (اس سے) پاک ہے اور اپنے لئے وہ کچھ (یعنی بیٹے) جن کی وہ خواہش کرتے ہیں،(57)
وَإِذا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالأُنثىٰ ظَلَّ وَجهُهُ مُسوَدًّا وَهُوَ كَظيمٌ(58)
اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی (کی پیدائش) کی خبر سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غصہ سے بھر جاتا ہے،(58)
يَتَوٰرىٰ مِنَ القَومِ مِن سوءِ ما بُشِّرَ بِهِ ۚ أَيُمسِكُهُ عَلىٰ هونٍ أَم يَدُسُّهُ فِى التُّرابِ ۗ أَلا ساءَ ما يَحكُمونَ(59)
وہ لوگوں سے چُھپا پھرتا ہے (بزعمِ خویش) اس بری خبر کی وجہ سے جو اسے سنائی گئی ہے، (اب یہ سوچنے لگتا ہے کہ) آیا اسے ذلت و رسوائی کے ساتھ (زندہ) رکھے یا اسے مٹی میں دبا دے (یعنی زندہ درگور کر دے)، خبردار! کتنا برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں،(59)
لِلَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ مَثَلُ السَّوءِ ۖ وَلِلَّهِ المَثَلُ الأَعلىٰ ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(60)
ان لوگوں کی جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے (یہ) نہایت بری صفت ہے، اور بلند تر صفت اللہ ہی کی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے،(60)
وَلَو يُؤاخِذُ اللَّهُ النّاسَ بِظُلمِهِم ما تَرَكَ عَلَيها مِن دابَّةٍ وَلٰكِن يُؤَخِّرُهُم إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۖ فَإِذا جاءَ أَجَلُهُم لا يَستَـٔخِرونَ ساعَةً ۖ وَلا يَستَقدِمونَ(61)
اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کے عوض (فوراً) پکڑ لیا کرتا تو اس (زمین) پر کسی جاندار کو نہ چھوڑتا لیکن وہ انہیں مقررہ میعاد تک مہلت دیتا ہے، پھر جب ان کا مقرر وقت آپہنچتا ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہو سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں،(61)
وَيَجعَلونَ لِلَّهِ ما يَكرَهونَ وَتَصِفُ أَلسِنَتُهُمُ الكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ الحُسنىٰ ۖ لا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ النّارَ وَأَنَّهُم مُفرَطونَ(62)
اور وہ اللہ کے لئے وہ کچھ مقرر کرتے ہیں جو (اپنے لئے) ناپسند کرتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹ بولتی ہیں کہ ان کے لئے بھلائی ہے، (ہرگز نہیں!) حقیقت یہ ہے کہ ان کے لئے دوزخ ہے اور یہ (دوزخ میں) سب سے پہلے بھیجے جائیں گے (اور اس میں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیئے جائیں گے)،(62)
تَاللَّهِ لَقَد أَرسَلنا إِلىٰ أُمَمٍ مِن قَبلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيطٰنُ أَعمٰلَهُم فَهُوَ وَلِيُّهُمُ اليَومَ وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ(63)
اللہ کی قسم! یقیناً ہم نے آپ سے پہلے (بھی بہت سی) امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے ان (امتوں) کے لئے ان کے (برے) اعمال آراستہ و خوش نما کر دکھائے، سو وہی (شیطان) آج ان کا دوست ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے،(63)
وَما أَنزَلنا عَلَيكَ الكِتٰبَ إِلّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِى اختَلَفوا فيهِ ۙ وَهُدًى وَرَحمَةً لِقَومٍ يُؤمِنونَ(64)
اور ہم نے آپ کی طرف کتاب نہیں اتاری مگر اس لئے کہ آپ ان پر وہ (اُمور) واضح کر دیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور (اس لئے کہ یہ کتاب) ہدایت اور رحمت ہے اس قوم کے لئے جو ایمان لے آئی ہے،(64)
وَاللَّهُ أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَحيا بِهِ الأَرضَ بَعدَ مَوتِها ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِقَومٍ يَسمَعونَ(65)
اور اللہ نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ زمین کو اس کے مردہ (یعنی بنجر) ہونے کے بعد زندہ (یعنی سرسبز و شاداب) کر دیا۔ بیشک اس میں (نصیحت) سننے والوں کے لئے نشانی ہے،(65)
وَإِنَّ لَكُم فِى الأَنعٰمِ لَعِبرَةً ۖ نُسقيكُم مِمّا فى بُطونِهِ مِن بَينِ فَرثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خالِصًا سائِغًا لِلشّٰرِبينَ(66)
اور بیشک تمہارے لئے مویشیوں میں (بھی) مقامِ غور ہے، ہم ان کے جسموں کے اندر کی اس چیز سے جو آنتوں کے (بعض) مشمولات اور خون کے اختلاط سے (وجود میں آتی ہے) خالص دودھ نکال کر تمہیں پلاتے ہیں (جو) پینے والوں کے لئے فرحت بخش ہوتا ہے،(66)
وَمِن ثَمَرٰتِ النَّخيلِ وَالأَعنٰبِ تَتَّخِذونَ مِنهُ سَكَرًا وَرِزقًا حَسَنًا ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِقَومٍ يَعقِلونَ(67)
اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم شکّر اور (دیگر) عمدہ غذائیں بناتے ہو، بیشک اس میں اہلِ عقل کے لئے نشانی ہے،(67)
وَأَوحىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحلِ أَنِ اتَّخِذى مِنَ الجِبالِ بُيوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمّا يَعرِشونَ(68)
اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں (خیال) ڈال دیا کہ تو بعض پہاڑوں میں اپنے گھر بنا اور بعض درختوں میں اور بعض چھپروں میں (بھی) جنہیں لوگ (چھت کی طرح) اونچا بناتے ہیں،(68)
ثُمَّ كُلى مِن كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسلُكى سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ۚ يَخرُجُ مِن بُطونِها شَرابٌ مُختَلِفٌ أَلوٰنُهُ فيهِ شِفاءٌ لِلنّاسِ ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ(69)
پس تو ہر قسم کے پھلوں سے رس چوسا کر پھر اپنے رب کے (سمجھائے ہوئے) راستوں پر (جو ان پھلوں اور پھولوں تک جاتے ہیں جن سے تو نے رس چوسنا ہے، دوسری مکھیوں کے لئے بھی) آسانی فراہم کرتے ہوئے چلا کر، ان کے شکموں سے ایک پینے کی چیز نکلتی ہے (وہ شہد ہے) جس کے رنگ جداگانہ ہوتے ہیں، اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے، بیشک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانی ہے،(69)
وَاللَّهُ خَلَقَكُم ثُمَّ يَتَوَفّىٰكُم ۚ وَمِنكُم مَن يُرَدُّ إِلىٰ أَرذَلِ العُمُرِ لِكَى لا يَعلَمَ بَعدَ عِلمٍ شَيـًٔا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَليمٌ قَديرٌ(70)
اور اللہ نے تمہیں پیدا فرمایا ہے پھر وہ تمہیں وفات دیتا (یعنی تمہاری روح قبض کرتا) ہے۔ اور تم میں سے کسی کو ناقص ترین عمر (بڑھاپا) کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ (زندگی میں بہت کچھ) جان لینے کے بعد اب کچھ بھی نہ جانے (یعنی انسان مرنے سے پہلے اپنی بے بسی و کم مائیگی کا منظر بھی دیکھ لے)، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی قدرت والا ہے،(70)
وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعضَكُم عَلىٰ بَعضٍ فِى الرِّزقِ ۚ فَمَا الَّذينَ فُضِّلوا بِرادّى رِزقِهِم عَلىٰ ما مَلَكَت أَيمٰنُهُم فَهُم فيهِ سَواءٌ ۚ أَفَبِنِعمَةِ اللَّهِ يَجحَدونَ(71)
اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق (کے درجات) میں فضیلت دی ہے (تاکہ وہ تمہیں حکمِ انفاق کے ذریعے آزمائے)، مگر جن لوگوں کو فضیلت دی گئی ہے وہ اپنی دولت (کے کچھ حصہ کو بھی) اپنے زیردست لوگوں پر نہیں لوٹاتے (یعنی خرچ نہیں کرتے) حالانکہ وہ سب اس میں (بنیادی ضروریات کی حد تک) برابر ہیں، تو کیا وہ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں،(71)
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِن أَنفُسِكُم أَزوٰجًا وَجَعَلَ لَكُم مِن أَزوٰجِكُم بَنينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُم مِنَ الطَّيِّبٰتِ ۚ أَفَبِالبٰطِلِ يُؤمِنونَ وَبِنِعمَتِ اللَّهِ هُم يَكفُرونَ(72)
اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لئے جوڑے پیدا فرمائے اور تمہارے جوڑوں (یعنی بیویوں) سے تمہارے لئے بیٹے اور پوتے/ نواسے پیدا فرمائے اور تمہیں پاکیزہ رزق عطا فرمایا، تو کیا پھر بھی وہ (حق کو چھوڑ کر) باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت سے وہ ناشکری کرتے ہیں،(72)
وَيَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَملِكُ لَهُم رِزقًا مِنَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ شَيـًٔا وَلا يَستَطيعونَ(73)
اور اللہ کے سوا ان (بتوں) کی پرستش کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین سے ان کے لئے کسی قدر رزق دینے کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ہی کچھ قدرت رکھتے ہیں،(73)
فَلا تَضرِبوا لِلَّهِ الأَمثالَ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَعلَمُ وَأَنتُم لا تَعلَمونَ(74)
پس تم اللہ کے لئے مثل نہ ٹھہرایا کرو، بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،(74)
۞ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبدًا مَملوكًا لا يَقدِرُ عَلىٰ شَيءٍ وَمَن رَزَقنٰهُ مِنّا رِزقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنفِقُ مِنهُ سِرًّا وَجَهرًا ۖ هَل يَستَوۥنَ ۚ الحَمدُ لِلَّهِ ۚ بَل أَكثَرُهُم لا يَعلَمونَ(75)
اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے (کہ) ایک غلام ہے (جو کسی کی) ملکیت میں ہے (خود) کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور (دوسرا) وہ شخص ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے عمدہ روزی عطا فرمائی ہے سو وہ اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا ہے، کیا وہ برابر ہو سکتے ہیں، سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر (بنیادی حقیقت کو بھی) نہیں جانتے،(75)
وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلَينِ أَحَدُهُما أَبكَمُ لا يَقدِرُ عَلىٰ شَيءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلىٰ مَولىٰهُ أَينَما يُوَجِّههُ لا يَأتِ بِخَيرٍ ۖ هَل يَستَوى هُوَ وَمَن يَأمُرُ بِالعَدلِ ۙ وَهُوَ عَلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(76)
اور اللہ نے دو (ایسے) آدمیوں کی مثال بیان فرمائی ہے جن میں سے ایک گونگا ہے وہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے وہ (مالک) اسے جدھر بھی بھیجتا ہے کوئی بھلائی لے کر نہیں آتا، کیا وہ (گونگا) اور (دوسرا) وہ شخص جو (اس منصب کا حامل ہے کہ) لوگوں کو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور وہ خود بھی سیدھی راہ پر گامزن ہے (دونوں) برابر ہو سکتے ہیں،(76)
وَلِلَّهِ غَيبُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ وَما أَمرُ السّاعَةِ إِلّا كَلَمحِ البَصَرِ أَو هُوَ أَقرَبُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(77)
اور آسمانوں اور زمین کا (سب) غیب اللہ ہی کے لئے ہے، اور قیامت کے بپا ہونے کا واقعہ اس قدر تیزی سے ہوگا جیسے آنکھ کا جھپکنا یا ا س سے بھی تیز تر، بیشک اللہ ہر چیز پر بڑا قادر ہے،(77)
وَاللَّهُ أَخرَجَكُم مِن بُطونِ أُمَّهٰتِكُم لا تَعلَمونَ شَيـًٔا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمعَ وَالأَبصٰرَ وَالأَفـِٔدَةَ ۙ لَعَلَّكُم تَشكُرونَ(78)
اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے (اس حالت میں) باہر نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر بجا لاؤ،(78)
أَلَم يَرَوا إِلَى الطَّيرِ مُسَخَّرٰتٍ فى جَوِّ السَّماءِ ما يُمسِكُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يُؤمِنونَ(79)
کیا انہوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو آسمان کی ہوا میں (قانونِ حرکت و پرواز کے) پابند (ہو کر اڑتے رہتے) ہیں، انہیں اللہ کے (قانون کے) سوا کوئی چیز تھامے ہوئے نہیں ہے۔ بیشک اس (پرواز کے اصول) میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں،(79)
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِن بُيوتِكُم سَكَنًا وَجَعَلَ لَكُم مِن جُلودِ الأَنعٰمِ بُيوتًا تَستَخِفّونَها يَومَ ظَعنِكُم وَيَومَ إِقامَتِكُم ۙ وَمِن أَصوافِها وَأَوبارِها وَأَشعارِها أَثٰثًا وَمَتٰعًا إِلىٰ حينٍ(80)
اور اللہ نے تمہارے لئے تمہارے گھروں کو (مستقل) سکونت کی جگہ بنایا اور تمہارے لئے چوپایوں کی کھالوں سے (عارضی) گھر (یعنی خیمے) بنائے جنہیں تم اپنے سفر کے وقت اور (دورانِ سفر منزلوں پر) اپنے ٹھہرنے کے وقت ہلکا پھلکا پاتے ہو اور (اسی اللہ نے تمہارے لئے) بھیڑوں اور دنبوں کی اون اور اونٹوں کی پشم اور بکریوں کے بالوں سے گھریلو استعمال اور (معیشت و تجارت میں) فائدہ اٹھانے کے اسباب بنائے (جو) مقررہ مدت تک (ہیں)،(80)
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِمّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَجَعَلَ لَكُم مِنَ الجِبالِ أَكنٰنًا وَجَعَلَ لَكُم سَرٰبيلَ تَقيكُمُ الحَرَّ وَسَرٰبيلَ تَقيكُم بَأسَكُم ۚ كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعمَتَهُ عَلَيكُم لَعَلَّكُم تُسلِمونَ(81)
اور اللہ ہی نے تمہارے لئے اپنی پیدا کردہ کئی چیزوں کے سائے بنائے اور اس نے تمہارے لئے پہاڑوں میں پناہ گاہیں بنائیں اور اس نے تمہارے لئے (کچھ) ایسے لباس بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور (کچھ) ایسے لباس جو تمہیں شدید جنگ میں (دشمن کے وار سے) بچاتے ہیں، اس طرح اللہ تم پر اپنی نعمتِ (کفالت و حفاظت) پوری فرماتا ہے تاکہ تم (اس کے حضور) سرِ نیاز خم کر دو،(81)
فَإِن تَوَلَّوا فَإِنَّما عَلَيكَ البَلٰغُ المُبينُ(82)
سو اگر (پھر بھی) وہ رُوگردانی کریں تو (اے نبئ معظم!) آپ کے ذمہ تو صرف (میرے پیغام اور احکام کو) صاف صاف پہنچا دینا ہے،(82)
يَعرِفونَ نِعمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنكِرونَها وَأَكثَرُهُمُ الكٰفِرونَ(83)
یہ لوگ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر کافر ہیں،(83)
وَيَومَ نَبعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهيدًا ثُمَّ لا يُؤذَنُ لِلَّذينَ كَفَروا وَلا هُم يُستَعتَبونَ(84)
اور جس دن ہم ہر اُمت سے (اس کے رسول کو اس کے اعمال پر) گواہ بنا کر اٹھائیں گے پھر کافر لوگوں کو (کوئی عذر پیش کرنے کی) اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ (اس وقت) ان سے توبہ و رجوع کا مطالبہ کیا جائے گا،(84)
وَإِذا رَءَا الَّذينَ ظَلَمُوا العَذابَ فَلا يُخَفَّفُ عَنهُم وَلا هُم يُنظَرونَ(85)
اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو نہ ان سے (اس عذاب کی) تخفیف کی جائے گی اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی،(85)
وَإِذا رَءَا الَّذينَ أَشرَكوا شُرَكاءَهُم قالوا رَبَّنا هٰؤُلاءِ شُرَكاؤُنَا الَّذينَ كُنّا نَدعوا مِن دونِكَ ۖ فَأَلقَوا إِلَيهِمُ القَولَ إِنَّكُم لَكٰذِبونَ(86)
اور جب مشرک لوگ اپنے (خود ساختہ) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے: اے ہمارے رب! یہی ہمارے شریک تھے جن کی ہم تجھے چھوڑ کر پرستش کرتے تھے، پس وہ (شرکاء) انہیں (جواباً) پیغام بھیجیں گے کہ بیشک تم جھوٹے ہو،(86)
وَأَلقَوا إِلَى اللَّهِ يَومَئِذٍ السَّلَمَ ۖ وَضَلَّ عَنهُم ما كانوا يَفتَرونَ(87)
اور یہ (مشرکین) اس دن اللہ کے حضور عاجزی و فرمانبرداری ظاہر کریں گے اور ان سے وہ سارا بہتان جاتا رہے گا جو یہ باندھا کرتے تھے،(87)
الَّذينَ كَفَروا وَصَدّوا عَن سَبيلِ اللَّهِ زِدنٰهُم عَذابًا فَوقَ العَذابِ بِما كانوا يُفسِدونَ(88)
جن لوگوں نے کفر کیا اور (دوسروں کو) اللہ کی راہ سے روکتے رہے ہم ان کے عذاب پر عذاب کا اضافہ کریں گے اس وجہ سے کہ وہ فساد انگیزی کرتے تھے،(88)
وَيَومَ نَبعَثُ فى كُلِّ أُمَّةٍ شَهيدًا عَلَيهِم مِن أَنفُسِهِم ۖ وَجِئنا بِكَ شَهيدًا عَلىٰ هٰؤُلاءِ ۚ وَنَزَّلنا عَلَيكَ الكِتٰبَ تِبيٰنًا لِكُلِّ شَيءٍ وَهُدًى وَرَحمَةً وَبُشرىٰ لِلمُسلِمينَ(89)
اور (یہ) وہ دن ہوگا (جب) ہم ہر امت میں انہی میں سے خود ان پر ایک گواہ اٹھائیں گے اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم آپ کو ان سب (امتوں اور پیغمبروں) پر گواہ بنا کر لائیں گے، اور ہم نے آپ پر وہ عظیم کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کا بڑا واضح بیان ہے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے،(89)
۞ إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُ بِالعَدلِ وَالإِحسٰنِ وَإيتائِ ذِى القُربىٰ وَيَنهىٰ عَنِ الفَحشاءِ وَالمُنكَرِ وَالبَغىِ ۚ يَعِظُكُم لَعَلَّكُم تَذَكَّرونَ(90)
بیشک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے اور قرابت داروں کو دیتے رہنے کا اور بے حیائی اور برے کاموں اور سرکشی و نافرمانی سے منع فرماتا ہے، وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم خوب یاد رکھو،(90)
وَأَوفوا بِعَهدِ اللَّهِ إِذا عٰهَدتُم وَلا تَنقُضُوا الأَيمٰنَ بَعدَ تَوكيدِها وَقَد جَعَلتُمُ اللَّهَ عَلَيكُم كَفيلًا ۚ إِنَّ اللَّهَ يَعلَمُ ما تَفعَلونَ(91)
اور تم اللہ کا عہد پورا کر دیا کرو جب تم عہد کرو اور قسموں کو پختہ کر لینے کے بعد انہیں مت توڑا کرو حالانکہ تم اللہ کو اپنے آپ پر ضامن بنا چکے ہو، بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو،(91)
وَلا تَكونوا كَالَّتى نَقَضَت غَزلَها مِن بَعدِ قُوَّةٍ أَنكٰثًا تَتَّخِذونَ أَيمٰنَكُم دَخَلًا بَينَكُم أَن تَكونَ أُمَّةٌ هِىَ أَربىٰ مِن أُمَّةٍ ۚ إِنَّما يَبلوكُمُ اللَّهُ بِهِ ۚ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُم يَومَ القِيٰمَةِ ما كُنتُم فيهِ تَختَلِفونَ(92)
اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کات لینے کے بعد توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، تم اپنی قَسموں کو اپنے درمیان فریب کاری کا ذریعہ بناتے ہو تاکہ (اس طرح) ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ہو جائے، بات یہ ہے کہ اللہ (بھی) تمہیں اسی کے ذریعہ آزماتا ہے، اور وہ تمہارے لئے قیامت کے دن ان باتوں کو ضرور واضح فرما دے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے،(92)
وَلَو شاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُم أُمَّةً وٰحِدَةً وَلٰكِن يُضِلُّ مَن يَشاءُ وَيَهدى مَن يَشاءُ ۚ وَلَتُسـَٔلُنَّ عَمّا كُنتُم تَعمَلونَ(93)
اور اگر اللہ چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرما دیتا ہے، اور تم سے ان کاموں کی نسبت ضرور پوچھا جائے گا جو تم انجام دیا کرتے تھے،(93)
وَلا تَتَّخِذوا أَيمٰنَكُم دَخَلًا بَينَكُم فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعدَ ثُبوتِها وَتَذوقُوا السّوءَ بِما صَدَدتُم عَن سَبيلِ اللَّهِ ۖ وَلَكُم عَذابٌ عَظيمٌ(94)
اور تم اپنی قَسموں کو آپس میں فریب کاری کا ذریعہ نہ بنایا کرو ورنہ قدم (اسلام پر) جم جانے کے بعد لڑکھڑا جائے گا اور تم اس وجہ سے کہ اللہ کی راہ سے روکتے تھے برے انجام کا مزہ چکھو گے، اور تمہارے لئے زبردست عذاب ہے،(94)
وَلا تَشتَروا بِعَهدِ اللَّهِ ثَمَنًا قَليلًا ۚ إِنَّما عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ(95)
اور اللہ کے عہد حقیر سی قیمت (یعنی دنیوی مال و دولت) کے عوض مت بیچ ڈالا کرو، بیشک جو (اجر) اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم (اس راز کو) جانتے ہو،(95)
ما عِندَكُم يَنفَدُ ۖ وَما عِندَ اللَّهِ باقٍ ۗ وَلَنَجزِيَنَّ الَّذينَ صَبَروا أَجرَهُم بِأَحسَنِ ما كانوا يَعمَلونَ(96)
جو (مال و زر) تمہارے پاس ہے فنا ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے باقی رہنے والا ہے، اور ہم ان لوگوں کو جنہوں نے صبر کیا ضرور ان کا اجر عطا فرمائیں گے ان کے اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے رہے تھے،(96)
مَن عَمِلَ صٰلِحًا مِن ذَكَرٍ أَو أُنثىٰ وَهُوَ مُؤمِنٌ فَلَنُحيِيَنَّهُ حَيوٰةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجزِيَنَّهُم أَجرَهُم بِأَحسَنِ ما كانوا يَعمَلونَ(97)
جو کوئی نیک عمل کرے (خواہ) مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے، اور انہیں ضرور ان کا اجر (بھی) عطا فرمائیں گے ان اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے تھے،(97)
فَإِذا قَرَأتَ القُرءانَ فَاستَعِذ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطٰنِ الرَّجيمِ(98)
سو جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود (کی وسوسہ اندازیوں) سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں،(98)
إِنَّهُ لَيسَ لَهُ سُلطٰنٌ عَلَى الَّذينَ ءامَنوا وَعَلىٰ رَبِّهِم يَتَوَكَّلونَ(99)
بیشک اسے ان لوگوں پر کچھ (بھی) غلبہ حاصل نہیں ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں،(99)
إِنَّما سُلطٰنُهُ عَلَى الَّذينَ يَتَوَلَّونَهُ وَالَّذينَ هُم بِهِ مُشرِكونَ(100)
بس اس کا غلبہ صرف انہی لوگوں پر ہے جو اسے دوست بناتے ہیں اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے ہیں،(100)
وَإِذا بَدَّلنا ءايَةً مَكانَ ءايَةٍ ۙ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِما يُنَزِّلُ قالوا إِنَّما أَنتَ مُفتَرٍ ۚ بَل أَكثَرُهُم لا يَعلَمونَ(101)
اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے جو (کچھ) وہ نازل فرماتا ہے (تو) کفار کہتے ہیں کہ آپ تو بس اپنی طرف سے گھڑنے والے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ (آیتوں کے اتارنے اور بدلنے کی حکمت) نہیں جانتے،(101)
قُل نَزَّلَهُ روحُ القُدُسِ مِن رَبِّكَ بِالحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذينَ ءامَنوا وَهُدًى وَبُشرىٰ لِلمُسلِمينَ(102)
فرما دیجئے: اس (قرآن) کو روحُ القدس (جبرئیل علیہ السلام) نے آپ کے رب کی طرف سے سچائی کے ساتھ اتارا ہے تاکہ ایمان والوں کو ثابت قدم رکھے اور (یہ) مسلمانوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہے،(102)
وَلَقَد نَعلَمُ أَنَّهُم يَقولونَ إِنَّما يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ ۗ لِسانُ الَّذى يُلحِدونَ إِلَيهِ أَعجَمِىٌّ وَهٰذا لِسانٌ عَرَبِىٌّ مُبينٌ(103)
اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ (کفار و مشرکین) کہتے ہیں کہ انہیں یہ (قرآن) محض کوئی آدمی ہی سکھاتا ہے، جس شخص کی طرف وہ بات کو حق سے ہٹاتے ہوئے منسوب کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ قرآن واضح و روشن عربی زبان (میں) ہے،(103)
إِنَّ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ لا يَهديهِمُ اللَّهُ وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ(104)
بیشک جو لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اللہ انہیں ہدایت (یعنی صحیح فہم و بصیرت کی توفیق بھی) نہیں دیتا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے،(104)
إِنَّما يَفتَرِى الكَذِبَ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ ۖ وَأُولٰئِكَ هُمُ الكٰذِبونَ(105)
بیشک جھوٹی افترا پردازی (بھی) وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اور وہی لوگ جھوٹے ہیں،(105)
مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعدِ إيمٰنِهِ إِلّا مَن أُكرِهَ وَقَلبُهُ مُطمَئِنٌّ بِالإيمٰنِ وَلٰكِن مَن شَرَحَ بِالكُفرِ صَدرًا فَعَلَيهِم غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُم عَذابٌ عَظيمٌ(106)
جو شخص اپنے ایمان لانے کے بعد کفر کرے، سوائے اس کے جسے انتہائی مجبور کر دیا گیا مگر اس کا دل (بدستور) ایمان سے مطمئن ہے، لیکن (ہاں) وہ شخص جس نے (دوبارہ) شرحِ صدر کے ساتھ کفر (اختیار) کیا سو ان پر اللہ کی طرف سے غضب ہے اور ان کے لئے زبردست عذاب ہے،(106)
ذٰلِكَ بِأَنَّهُمُ استَحَبُّوا الحَيوٰةَ الدُّنيا عَلَى الءاخِرَةِ وَأَنَّ اللَّهَ لا يَهدِى القَومَ الكٰفِرينَ(107)
یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت پر عزیز رکھا اور اس لئے کہ اللہ کافروں کی قوم کو ہدایت نہیں فرماتا،(107)
أُولٰئِكَ الَّذينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلىٰ قُلوبِهِم وَسَمعِهِم وَأَبصٰرِهِم ۖ وَأُولٰئِكَ هُمُ الغٰفِلونَ(108)
یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر مُہر لگا دی ہے اور یہی لوگ ہی (آخرت کے انجام سے) غافل ہیں،(108)
لا جَرَمَ أَنَّهُم فِى الءاخِرَةِ هُمُ الخٰسِرونَ(109)
یہ حقیقت ہے کہ بیشک یہی لوگ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہیں،(109)
ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذينَ هاجَروا مِن بَعدِ ما فُتِنوا ثُمَّ جٰهَدوا وَصَبَروا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعدِها لَغَفورٌ رَحيمٌ(110)
پھر آپ کا رب ان لوگوں کے لئے جنہوں نے آزمائشوں (اور تکلیفوں) میں مبتلا کئے جانے کے بعد ہجرت کی (یعنی اللہ کے لئے اپنے وطن چھوڑ دیئے) پھر جہاد کئے اور (پریشانیوں پر) صبر کئے تو (اے حبیبِ مکرّم!) آپ کا رب اس کے بعد بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(110)
۞ يَومَ تَأتى كُلُّ نَفسٍ تُجٰدِلُ عَن نَفسِها وَتُوَفّىٰ كُلُّ نَفسٍ ما عَمِلَت وَهُم لا يُظلَمونَ(111)
وہ دن (یاد کریں) جب ہر شخص محض اپنی جان کی طرف سے (دفاع کے لئے) جھگڑتا ہوا حاضر ہوگا اور ہر جان کو جو کچھ اس نے کیا ہوگا اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا،(111)
وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَريَةً كانَت ءامِنَةً مُطمَئِنَّةً يَأتيها رِزقُها رَغَدًا مِن كُلِّ مَكانٍ فَكَفَرَت بِأَنعُمِ اللَّهِ فَأَذٰقَهَا اللَّهُ لِباسَ الجوعِ وَالخَوفِ بِما كانوا يَصنَعونَ(112)
اور اللہ نے ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرمائی ہے جو (بڑے) امن اور اطمینان سے (آباد) تھی اس کا رزق اس کے (مکینوں کے) پاس ہر طرف سے بڑی وسعت و فراغت کے ساتھ آتا تھا پھر اس بستی (والوں) نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کے عذاب کا لباس پہنا دیا ان اعمال کے سبب سے جو وہ کرتے تھے،(112)
وَلَقَد جاءَهُم رَسولٌ مِنهُم فَكَذَّبوهُ فَأَخَذَهُمُ العَذابُ وَهُم ظٰلِمونَ(113)
اور بیشک ان کے پاس انہی میں سے ایک رسول آیا تو انہوں نے اسے جھٹلایا پس انہیں عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم ہی تھے،(113)
فَكُلوا مِمّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلٰلًا طَيِّبًا وَاشكُروا نِعمَتَ اللَّهِ إِن كُنتُم إِيّاهُ تَعبُدونَ(114)
پس جو حلال اور پاکیزہ رزق تمہیں اللہ نے بخشا ہے، تم اس میں سے کھایا کرو اور اللہ کی نعمت کا شکر بجا لاتے رہو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو،(114)
إِنَّما حَرَّمَ عَلَيكُمُ المَيتَةَ وَالدَّمَ وَلَحمَ الخِنزيرِ وَما أُهِلَّ لِغَيرِ اللَّهِ بِهِ ۖ فَمَنِ اضطُرَّ غَيرَ باغٍ وَلا عادٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ(115)
اس نے تم پر صرف مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ (جانور) جس پر ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو، حرام کیا ہے، پھر جو شخص حالتِ اضطرار (یعنی انتہائی مجبوری کی حالت) میں ہو، نہ (طلبِ لذت میں احکامِ الٰہی سے) سرکشی کرنے والا ہو اور نہ (مجبوری کی حد سے) تجاوز کرنے والا ہو، تو بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(115)
وَلا تَقولوا لِما تَصِفُ أَلسِنَتُكُمُ الكَذِبَ هٰذا حَلٰلٌ وَهٰذا حَرامٌ لِتَفتَروا عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ ۚ إِنَّ الَّذينَ يَفتَرونَ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ لا يُفلِحونَ(116)
اور وہ جھوٹ مت کہا کرو جو تمہاری زبانیں بیان کرتی رہتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے اس طرح کہ تم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھو، بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ (کبھی) فلاح نہیں پائیں گے،(116)
مَتٰعٌ قَليلٌ وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ(117)
فائدہ تھوڑا ہے مگر ان کے لئے عذاب (بڑا) دردناک ہے،(117)
وَعَلَى الَّذينَ هادوا حَرَّمنا ما قَصَصنا عَلَيكَ مِن قَبلُ ۖ وَما ظَلَمنٰهُم وَلٰكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ(118)
اور یہود پر ہم نے وہی چیزیں حرام کی تھیں جو ہم پہلے آپ سے بیان کر چکے ہیں اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے،(118)
ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذينَ عَمِلُوا السّوءَ بِجَهٰلَةٍ ثُمَّ تابوا مِن بَعدِ ذٰلِكَ وَأَصلَحوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعدِها لَغَفورٌ رَحيمٌ(119)
پھر بیشک آپ کا رب ان لوگوں کے لئے جنہوں نے نادانی سے غلطیاں کیں پھر اس کے بعد تائب ہوگئے اور (اپنی) حالت درست کرلی تو بیشک آپ کا رب اس کے بعد بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(119)
إِنَّ إِبرٰهيمَ كانَ أُمَّةً قانِتًا لِلَّهِ حَنيفًا وَلَم يَكُ مِنَ المُشرِكينَ(120)
بیشک ابراہیم (علیہ السلام تنہا ذات میں) ایک اُمت تھے، اللہ کے بڑے فرمانبردار تھے، ہر باطل سے کنارہ کش (صرف اسی کی طرف یک سُو) تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے،(120)
شاكِرًا لِأَنعُمِهِ ۚ اجتَبىٰهُ وَهَدىٰهُ إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(121)
اس (اللہ) کی نعمتوں پر شاکر تھے، اللہ نے انہیں چن (کر اپنی بارگاہ میں خاص برگزیدہ بنا) لیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرما دی،(121)
وَءاتَينٰهُ فِى الدُّنيا حَسَنَةً ۖ وَإِنَّهُ فِى الءاخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحينَ(122)
اور ہم نے اسے دنیا میں (بھی) بھلائی عطا فرمائی، اور بیشک وہ آخرت میں (بھی) صالحین میں سے ہوں گے،(122)
ثُمَّ أَوحَينا إِلَيكَ أَنِ اتَّبِع مِلَّةَ إِبرٰهيمَ حَنيفًا ۖ وَما كانَ مِنَ المُشرِكينَ(123)
پھر (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ آپ ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی پیروی کریں جو ہر باطل سے جدا تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے،(123)
إِنَّما جُعِلَ السَّبتُ عَلَى الَّذينَ اختَلَفوا فيهِ ۚ وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَحكُمُ بَينَهُم يَومَ القِيٰمَةِ فيما كانوا فيهِ يَختَلِفونَ(124)
ہفتہ کا دن صرف انہی لوگوں پر مقرر کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا، اور بیشک آپ کا رب قیامت کے دن اُن کے درمیان اُن (باتوں) کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے،(124)
ادعُ إِلىٰ سَبيلِ رَبِّكَ بِالحِكمَةِ وَالمَوعِظَةِ الحَسَنَةِ ۖ وَجٰدِلهُم بِالَّتى هِىَ أَحسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعلَمُ بِالمُهتَدينَ(125)
(اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجئے جو نہایت حسین ہو، بیشک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو (بھی) خوب جانتا ہے،(125)
وَإِن عاقَبتُم فَعاقِبوا بِمِثلِ ما عوقِبتُم بِهِ ۖ وَلَئِن صَبَرتُم لَهُوَ خَيرٌ لِلصّٰبِرينَ(126)
اور اگر تم سزا دینا چاہو تو اتنی ہی سزا دو جس قدر تکلیف تمہیں دی گئی تھی، اور اگر تم صبر کرو تو یقیناً وہ صبر کرنے والوں کے لئے بہتر ہے،(126)
وَاصبِر وَما صَبرُكَ إِلّا بِاللَّهِ ۚ وَلا تَحزَن عَلَيهِم وَلا تَكُ فى ضَيقٍ مِمّا يَمكُرونَ(127)
اور (اے حبیبِ مکرّم!) صبر کیجئے اور آپ کا صبر کرنا اللہ ہی کے ساتھ ہے اور آپ ان (کی سرکشی) پر رنجیدہ خاطر نہ ہوا کریں اور آپ ان کی فریب کاریوں سے (اپنے کشادہ سینہ میں) تنگی (بھی) محسوس نہ کیا کریں،(127)
إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذينَ اتَّقَوا وَالَّذينَ هُم مُحسِنونَ(128)
بیشک اللہ اُن لوگوں کو اپنی معیتِ (خاص) سے نوازتا ہے جو صاحبانِ تقوٰی ہوں اور وہ لوگ جو صاحبانِ اِحسان (بھی) ہوں،(128)