An-Nabaa( النبأ)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ عَمَّ يَتَساءَلونَ(1)
یہ لوگ آپس میں کس (چیز) سے متعلق سوال کرتے ہیں،(1)
عَنِ النَّبَإِ العَظيمِ(2)
(کیا) اس عظیم خبر سے متعلق (پوچھ گچھ کر رہے ہیں)،(2)
الَّذى هُم فيهِ مُختَلِفونَ(3)
جس کے بارے میں وہ اختلاف کرتے ہیں،(3)
كَلّا سَيَعلَمونَ(4)
ہرگز (وہ خبر لائقِ انکار) نہیں! وہ عنقریب (اس حقیقت کو) جان جائیں گے،(4)
ثُمَّ كَلّا سَيَعلَمونَ(5)
(ہم) پھر (کہتے ہیں: اختلاف و انکار) ہرگز (درست) نہیں! وہ عنقریب جان جائیں گے،(5)
أَلَم نَجعَلِ الأَرضَ مِهٰدًا(6)
کیا ہم نے زمین کو (زندگی کے) قیام اور کسب و عمل کی جگہ نہیں بنایا،(6)
وَالجِبالَ أَوتادًا(7)
اور (کیا) پہاڑوں کو (اس میں) ابھار کر کھڑا (نہیں) کیا،(7)
وَخَلَقنٰكُم أَزوٰجًا(8)
اور (غور کرو) ہم نے تمہیں (فروغِ نسل کے لئے) جوڑا جوڑا پیدا فرمایا (ہے)،(8)
وَجَعَلنا نَومَكُم سُباتًا(9)
اور ہم نے تمہاری نیند کو (جسمانی) راحت (کا سبب) بنایا (ہے)،(9)
وَجَعَلنَا الَّيلَ لِباسًا(10)
اور ہم نے رات کو (اس کی تاریکی کے باعث) پردہ پوش بنایا (ہے)،(10)
وَجَعَلنَا النَّهارَ مَعاشًا(11)
اور ہم نے دن کو (کسبِ) معاش (کا وقت) بنایا (ہے)،(11)
وَبَنَينا فَوقَكُم سَبعًا شِدادًا(12)
اور (اب خلائی کائنات میں بھی غور کرو) ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط (طبقات) بنائے،(12)
وَجَعَلنا سِراجًا وَهّاجًا(13)
اور ہم نے (سورج کو) روشنی اور حرارت کا (زبردست) منبع بنایا،(13)
وَأَنزَلنا مِنَ المُعصِرٰتِ ماءً ثَجّاجًا(14)
اور ہم نے بھرے بادلوں سے موسلادھار پانی برسایا،(14)
لِنُخرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَباتًا(15)
تاکہ ہم اس (بارش) کے ذریعے (زمین سے) اناج اور سبزہ نکالیں،(15)
وَجَنّٰتٍ أَلفافًا(16)
اور گھنے گھنے باغات (اگائیں)،(16)
إِنَّ يَومَ الفَصلِ كانَ ميقٰتًا(17)
(ہماری قدرت کی ان نشانیوں کو دیکھ کر جان لو کہ) بیشک فیصلہ کا دن (قیامت بھی) ایک مقررہ وقت ہے،(17)
يَومَ يُنفَخُ فِى الصّورِ فَتَأتونَ أَفواجًا(18)
جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم گروہ در گروہ (اﷲ کے حضور) چلے آؤ گے،(18)
وَفُتِحَتِ السَّماءُ فَكانَت أَبوٰبًا(19)
اور آسمان (کے طبقات) پھاڑ دیئے جائیں گے تو (پھٹنے کے باعث گویا) وہ دروازے ہی دروازے ہو جائیں گے،(19)
وَسُيِّرَتِ الجِبالُ فَكانَت سَرابًا(20)
اور پہاڑ (غبار بنا کر فضا میں) اڑا دیئے جائیں گے، سو وہ سراب (کی طرح کالعدم) ہو جائیں گے،(20)
إِنَّ جَهَنَّمَ كانَت مِرصادًا(21)
بیشک دوزخ ایک گھات ہے،(21)
لِلطّٰغينَ مَـٔابًا(22)
(وہ) سرکشوں کا ٹھکانا ہے،(22)
لٰبِثينَ فيها أَحقابًا(23)
وہ ختم نہ ہونے والی پے در پے مدتیں اسی میں پڑے رہیں گے،(23)
لا يَذوقونَ فيها بَردًا وَلا شَرابًا(24)
نہ وہ اس میں (کسی قسم کی) ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کا،(24)
إِلّا حَميمًا وَغَسّاقًا(25)
سوائے کھولتے ہوئے گرم پانی اور (دوزخیوں کے زخموں سے) بہتی ہوئی پیپ کے،(25)
جَزاءً وِفاقًا(26)
(یہی ان کی سرکشی کے) موافق بدلہ ہے،(26)
إِنَّهُم كانوا لا يَرجونَ حِسابًا(27)
اس لئے کہ وہ قطعًا حسابِ (آخرت) کا خوف نہیں رکھتے تھے،(27)
وَكَذَّبوا بِـٔايٰتِنا كِذّابًا(28)
اور وہ ہماری آیتوں کو خوب جھٹلایا کرتے تھے،(28)
وَكُلَّ شَيءٍ أَحصَينٰهُ كِتٰبًا(29)
اور ہم نے ہر (چھوٹی بڑی) چیز کو لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے،(29)
فَذوقوا فَلَن نَزيدَكُم إِلّا عَذابًا(30)
(اے منکرو!) اب تم (اپنے کئے کا) مزہ چکھو (تم دنیا میں کفر و سرکشی میں بڑھتے گئے) اب ہم تم پر عذاب ہی کو بڑھاتے جائیں گے،(30)
إِنَّ لِلمُتَّقينَ مَفازًا(31)
بیشک پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے،(31)
حَدائِقَ وَأَعنٰبًا(32)
(ان کے لئے) باغات اور انگور (ہوں گے)،(32)
وَكَواعِبَ أَترابًا(33)
اور جواں سال ہم عمر دوشیزائیں (ہوں گی)،(33)
وَكَأسًا دِهاقًا(34)
اور (شرابِ طہور کے) چھلکتے ہوئے جام (ہوں گے)،(34)
لا يَسمَعونَ فيها لَغوًا وَلا كِذّٰبًا(35)
وہاں یہ (لوگ) نہ کوئی بے ہودہ بات سنیں گے اور نہ (ایک دوسرے کو) جھٹلانا (ہوگا)،(35)
جَزاءً مِن رَبِّكَ عَطاءً حِسابًا(36)
یہ آپ کے رب کی طرف سے صلہ ہے جو (اعمال کے حساب سے) کافی (بڑی) عطا ہے،(36)
رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُمَا الرَّحمٰنِ ۖ لا يَملِكونَ مِنهُ خِطابًا(37)
(وہ) آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے (سب) کا پروردگار ہے، بڑی ہی رحمت والا ہے (مگر روزِ قیامت اس کے رعب و جلال کا عالم یہ ہوگا کہ) اس سے بات کرنے کا (مخلوقات میں سے) کسی کو (بھی) یارا نہ ہوگا،(37)
يَومَ يَقومُ الرّوحُ وَالمَلٰئِكَةُ صَفًّا ۖ لا يَتَكَلَّمونَ إِلّا مَن أَذِنَ لَهُ الرَّحمٰنُ وَقالَ صَوابًا(38)
جس دن جبرائیل (روح الامین) اور (تمام) فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے، کوئی لب کشائی نہ کر سکے گا، سوائے اس شخص کے جسے خدائے رحمان نے اِذنِ (شفاعت) دے رکھا تھا اور اس نے (زندگی میں تعلیماتِ اسلام کے مطابق) بات بھی درست کہی تھی،(38)
ذٰلِكَ اليَومُ الحَقُّ ۖ فَمَن شاءَ اتَّخَذَ إِلىٰ رَبِّهِ مَـٔابًا(39)
یہ روزِ حق ہے، پس جو شخص چاہے اپنے رب کے حضور (رحمت و قربت کا) ٹھکانا بنا لے،(39)
إِنّا أَنذَرنٰكُم عَذابًا قَريبًا يَومَ يَنظُرُ المَرءُ ما قَدَّمَت يَداهُ وَيَقولُ الكافِرُ يٰلَيتَنى كُنتُ تُرٰبًا(40)
بلا شبہ ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا ہے، اس دن ہر آدمی ان (اعمال) کو جو اس نے آگے بھیجے ہیں دیکھ لے گا، اور (ہر) کافر کہے گا: اے کاش! میں مٹی ہوتا (اور اس عذاب سے بچ جاتا)،(40)