Al-Waqi'a( الواقعة)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ إِذا وَقَعَتِ الواقِعَةُ(1)
جب واقع ہونے والی (قیامت) واقع ہو جائے گی،(1)
لَيسَ لِوَقعَتِها كاذِبَةٌ(2)
اُس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں ہے،(2)
خافِضَةٌ رافِعَةٌ(3)
(وہ قیامت کسی کو) نیچا کر دینے والی (کسی کو) اونچا کر دینے والی (ہے)،(3)
إِذا رُجَّتِ الأَرضُ رَجًّا(4)
جب زمین کپکپا کر شدید لرزنے لگے گی،(4)
وَبُسَّتِ الجِبالُ بَسًّا(5)
اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے،(5)
فَكانَت هَباءً مُنبَثًّا(6)
پھر وہ غبار بن کر منتشر ہو جائیں گے،(6)
وَكُنتُم أَزوٰجًا ثَلٰثَةً(7)
اور تم لوگ تین قِسموں میں بٹ جاؤ گے،(7)
فَأَصحٰبُ المَيمَنَةِ ما أَصحٰبُ المَيمَنَةِ(8)
سو (ایک) دائیں جانب والے، دائیں جانب والوں کا کیا کہنا،(8)
وَأَصحٰبُ المَشـَٔمَةِ ما أَصحٰبُ المَشـَٔمَةِ(9)
اور (دوسرے) بائیں جانب والے، کیا (ہی برے حال میں ہوں گے) بائیں جانب والے،(9)
وَالسّٰبِقونَ السّٰبِقونَ(10)
اور (تیسرے) سبقت لے جانے والے (یہ) پیش قدمی کرنے والے ہیں،(10)
أُولٰئِكَ المُقَرَّبونَ(11)
یہی لوگ (اللہ کے) مقرّب ہوں گے،(11)
فى جَنّٰتِ النَّعيمِ(12)
نعمتوں کے باغات میں (رہیں گے)،(12)
ثُلَّةٌ مِنَ الأَوَّلينَ(13)
(اِن مقرّبین میں) بڑا گروہ اگلے لوگوں میں سے ہوگا،(13)
وَقَليلٌ مِنَ الءاخِرينَ(14)
اور پچھلے لوگوں میں سے (ان میں) تھوڑے ہوں گے،(14)
عَلىٰ سُرُرٍ مَوضونَةٍ(15)
(یہ مقرّبین) زر نگار تختوں پر ہوں گے،(15)
مُتَّكِـٔينَ عَلَيها مُتَقٰبِلينَ(16)
اُن پر تکیے لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے،(16)
يَطوفُ عَلَيهِم وِلدٰنٌ مُخَلَّدونَ(17)
ہمیشہ ایک ہی حال میں رہنے والے نوجوان خدمت گار ان کے اردگرد گھومتے ہوں گے،(17)
بِأَكوابٍ وَأَباريقَ وَكَأسٍ مِن مَعينٍ(18)
کوزے، آفتابے اور چشموں سے بہتی ہوئی (شفاف) شرابِ (قربت) کے جام لے کر (حاضرِ خدمت رہیں گے)،(18)
لا يُصَدَّعونَ عَنها وَلا يُنزِفونَ(19)
انہیں نہ تو اُس (کے پینے) سے دردِ سر کی شکایت ہوگی اور نہ ہی عقل میں فتور (اور بدمستی) آئے گی،(19)
وَفٰكِهَةٍ مِمّا يَتَخَيَّرونَ(20)
اور (جنّتی خدمت گزار) پھل (اور میوے) لے کر (بھی پھر رہے ہوں گے) جنہیں وہ (مقرّبین) پسند کریں گے،(20)
وَلَحمِ طَيرٍ مِمّا يَشتَهونَ(21)
اور پرندوں کا گوشت بھی (دستیاب ہوگا) جِس کی وہ (اہلِ قربت) خواہش کریں گے،(21)
وَحورٌ عينٌ(22)
اور خوبصورت کشادہ آنکھوں والی حوریں بھی (اُن کی رفاقت میں ہوں گی)،(22)
كَأَمثٰلِ اللُّؤلُؤِ المَكنونِ(23)
جیسے محفوظ چھپائے ہوئے موتی ہوں،(23)
جَزاءً بِما كانوا يَعمَلونَ(24)
(یہ) اُن (نیک) اعمال کی جزا ہوگی جو وہ کرتے رہے تھے،(24)
لا يَسمَعونَ فيها لَغوًا وَلا تَأثيمًا(25)
وہ اِس میں نہ کوئی بیہودگی سنیں گے اور نہ کوئی گناہ کی بات،(25)
إِلّا قيلًا سَلٰمًا سَلٰمًا(26)
مگر ایک ہی بات (کہ یہ سلام والے ہر طرف سے) سلام ہی سلام سنیں گے،(26)
وَأَصحٰبُ اليَمينِ ما أَصحٰبُ اليَمينِ(27)
اور دائیں جانب والے، کیا کہنا دائیں جانب والوں کا،(27)
فى سِدرٍ مَخضودٍ(28)
وہ بے خار بیریوں میں،(28)
وَطَلحٍ مَنضودٍ(29)
اور تہ بہ تہ کیلوں میں،(29)
وَظِلٍّ مَمدودٍ(30)
اور لمبے لمبے (پھیلے ہوئے) سایوں میں،(30)
وَماءٍ مَسكوبٍ(31)
اور بہتے چھلکتے پانیوں میں،(31)
وَفٰكِهَةٍ كَثيرَةٍ(32)
اور بکثرت پھلوں اور میووں میں (لطف اندوز ہوں گے)،(32)
لا مَقطوعَةٍ وَلا مَمنوعَةٍ(33)
جو نہ (کبھی) ختم ہوں گے اور نہ اُن (کے کھانے) کی ممانعت ہوگی،(33)
وَفُرُشٍ مَرفوعَةٍ(34)
اور (وہ) اونچے (پرشکوہ) فرشوں پر (قیام پذیر) ہوں گے،(34)
إِنّا أَنشَأنٰهُنَّ إِنشاءً(35)
بیشک ہم نے اِن (حوروں) کو (حسن و لطافت کی آئینہ دار) خاص خِلقت پر پیدا فرمایا ہے،(35)
فَجَعَلنٰهُنَّ أَبكارًا(36)
پھر ہم نے اِن کو کنواریاں بنایا ہے،(36)
عُرُبًا أَترابًا(37)
جو خوب محبت کرنے والی ہم عمر (ازواج) ہیں،(37)
لِأَصحٰبِ اليَمينِ(38)
یہ (حوریں اور دیگر نعمتیں) دائیں جانب والوں کے لئے ہیں،(38)
ثُلَّةٌ مِنَ الأَوَّلينَ(39)
(ان میں) بڑی جماعت اگلے لوگوں میں سے ہوگی،(39)
وَثُلَّةٌ مِنَ الءاخِرينَ(40)
اور (ان میں) پچھلے لوگوں میں سے (بھی) بڑی ہی جماعت ہوگی،(40)
وَأَصحٰبُ الشِّمالِ ما أَصحٰبُ الشِّمالِ(41)
اور بائیں جانب والے، کیا (ہی برے لوگ) ہیں بائیں جانب والے،(41)
فى سَمومٍ وَحَميمٍ(42)
جو دوزخ کی سخت گرم ہوا اور کھولتے ہوئے پانی میں،(42)
وَظِلٍّ مِن يَحمومٍ(43)
اور سیاہ دھویں کے سایے میں ہوں گے،(43)
لا بارِدٍ وَلا كَريمٍ(44)
جو نہ (کبھی) ٹھنڈا ہوگا اور نہ فرحت بخش ہوگا،(44)
إِنَّهُم كانوا قَبلَ ذٰلِكَ مُترَفينَ(45)
بیشک وہ (اہلِ دوزخ) اس سے پہلے (دنیا میں) خوش حال رہ چکے تھے،(45)
وَكانوا يُصِرّونَ عَلَى الحِنثِ العَظيمِ(46)
اور وہ گناہِ عظیم (یعنی کفر و شرک) پر اصرار کیا کرتے تھے،(46)
وَكانوا يَقولونَ أَئِذا مِتنا وَكُنّا تُرابًا وَعِظٰمًا أَءِنّا لَمَبعوثونَ(47)
اور کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہم خاک (کا ڈھیر) اور (بوسیدہ) ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم (پھر زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے،(47)
أَوَءاباؤُنَا الأَوَّلونَ(48)
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (زندہ کئے جائیں گے)،(48)
قُل إِنَّ الأَوَّلينَ وَالءاخِرينَ(49)
آپ فرما دیں: بیشک اگلے اور پچھلے،(49)
لَمَجموعونَ إِلىٰ ميقٰتِ يَومٍ مَعلومٍ(50)
(سب کے سب) ایک معیّن دِن کے مقررّہ وقت پر جمع کئے جائیں گے،(50)
ثُمَّ إِنَّكُم أَيُّهَا الضّالّونَ المُكَذِّبونَ(51)
پھر بیشک تم لوگ اے گمراہو! جھٹلانے والو،(51)
لَءاكِلونَ مِن شَجَرٍ مِن زَقّومٍ(52)
تم ضرور کانٹے دار (تھوہڑ کے) درخت سے کھانے والے ہو،(52)
فَمالِـٔونَ مِنهَا البُطونَ(53)
سو اُس سے اپنے پیٹ بھرنے والے ہو،(53)
فَشٰرِبونَ عَلَيهِ مِنَ الحَميمِ(54)
پھر اُس پر سخت کھولتا پانی پینے والے ہو،(54)
فَشٰرِبونَ شُربَ الهيمِ(55)
پس تم سخت پیاسے اونٹ کے پینے کی طرح پینے والے ہو،(55)
هٰذا نُزُلُهُم يَومَ الدّينِ(56)
یہ قیامت کے دِن اُن کی ضیافت ہوگی،(56)
نَحنُ خَلَقنٰكُم فَلَولا تُصَدِّقونَ(57)
ہم ہی نے تمہیں پیدا کیا تھا پھر تم (دوبارہ پیدا کئے جانے کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے،(57)
أَفَرَءَيتُم ما تُمنونَ(58)
بھلا یہ بتاؤ جو نطفہ (تولیدی قطرہ) تم (رِحم میں) ٹپکاتے ہو،(58)
ءَأَنتُم تَخلُقونَهُ أَم نَحنُ الخٰلِقونَ(59)
تو کیا اس (سے انسان) کو تم پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا فرمانے والے ہیں،(59)
نَحنُ قَدَّرنا بَينَكُمُ المَوتَ وَما نَحنُ بِمَسبوقينَ(60)
ہم ہی نے تمہارے درمیان موت کو مقرّر فرمایا ہے اور ہم (اِس کے بعد پھر زندہ کرنے سے بھی) عاجز نہیں ہیں،(60)
عَلىٰ أَن نُبَدِّلَ أَمثٰلَكُم وَنُنشِئَكُم فى ما لا تَعلَمونَ(61)
اس بات سے (بھی عاجز نہیں ہیں) کہ تمہارے جیسے اوروں کو بدل (کر بنا) دیں اور تمہیں ایسی صورت میں پیدا کر دیں جسے تم جانتے بھی نہ ہو،(61)
وَلَقَد عَلِمتُمُ النَّشأَةَ الأولىٰ فَلَولا تَذَكَّرونَ(62)
اور بیشک تم نے پہلے پیدائش (کی حقیقت) معلوم کر لی پھر تم نصیحت قبول کیوں نہیں کرتے،(62)
أَفَرَءَيتُم ما تَحرُثونَ(63)
بھلا یہ بتاؤ جو (بیج) تم کاشت کرتے ہو،(63)
ءَأَنتُم تَزرَعونَهُ أَم نَحنُ الزّٰرِعونَ(64)
تو کیا اُس (سے کھیتی) کو تم اُگاتے ہو یا ہم اُگانے والے ہیں،(64)
لَو نَشاءُ لَجَعَلنٰهُ حُطٰمًا فَظَلتُم تَفَكَّهونَ(65)
اگر ہم چاہیں تو اسے ریزہ ریزہ کر دیں پھر تم تعجب اور ندامت ہی کرتے رہ جاؤ،(65)
إِنّا لَمُغرَمونَ(66)
(اور کہنے لگو): ہم پر تاوان پڑ گیا،(66)
بَل نَحنُ مَحرومونَ(67)
بلکہ ہم بے نصیب ہوگئے،(67)
أَفَرَءَيتُمُ الماءَ الَّذى تَشرَبونَ(68)
بھلا یہ بتاؤ جو پانی تم پیتے ہو،(68)
ءَأَنتُم أَنزَلتُموهُ مِنَ المُزنِ أَم نَحنُ المُنزِلونَ(69)
کیا اسے تم نے بادل سے اتارا ہے یا ہم اتارنے والے ہیں،(69)
لَو نَشاءُ جَعَلنٰهُ أُجاجًا فَلَولا تَشكُرونَ(70)
اگر ہم چاہیں تو اسے کھاری بنا دیں، پھر تم شکر ادا کیوں نہیں کرتے،(70)
أَفَرَءَيتُمُ النّارَ الَّتى تورونَ(71)
بھلا یہ بتاؤ جو آگ تم سُلگاتے ہو،(71)
ءَأَنتُم أَنشَأتُم شَجَرَتَها أَم نَحنُ المُنشِـٔونَ(72)
کیا اِس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم (اسے) پیدا فرمانے والے ہیں،(72)
نَحنُ جَعَلنٰها تَذكِرَةً وَمَتٰعًا لِلمُقوينَ(73)
ہم ہی نے اِس (درخت کی آگ) کو (آتشِ جہنّم کی) یاد دلانے والی (نصیحت و عبرت) اور جنگلوں کے مسافروں کے لئے باعثِ منفعت بنایا ہے،(73)
فَسَبِّح بِاسمِ رَبِّكَ العَظيمِ(74)
سو اپنے ربِّ عظیم کے نام کی تسبیح کیا کریں،(74)
۞ فَلا أُقسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجومِ(75)
پس میں اُن جگہوں کی قَسم کھاتا ہوں جہاں جہاں قرآن کے مختلف حصے (رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) اترتے ہیں٭، ٭ یہ ترجمہ حضرت عبد اللہ بن عباس کے بیان کردہ معنی پر کیا گیا ہے، مزید حضرت عکرمہ، حضرت مجاہد، حضرت عبد اللہ بن جبیر، حضرت سدی، حضرت فراء اور حضرت زجاج رضی اللہ عنھم اور دیگر ائمہ تفسیر کا قول بھی یہی ہے؛ اور سیاقِ کلام بھی اسی کا تقاضا کرتا ہے۔ پیچھے سورۃ النجم میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نجم کہا گیا ہے، یہاں قرآن کی سورتوں کو نجوم کہا گیا ہے۔ حوالہ جات کے لئے ملاحظہ کریں: تفسیر بغوی، خازن، طبری، الدر المنثور، الکشاف، تفسیر ابن ابی حاتم، روح المعانی، ابن کثیر، اللباب، البحر المحیط، جمل، زاد المسیر، فتح القدیر، المظہری، البیضاوی، تفسیر ابی سعود اور مجمع البیان۔(75)
وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَو تَعلَمونَ عَظيمٌ(76)
اور اگر تم سمجھو تو بیشک یہ بہت بڑی قَسم ہے،(76)
إِنَّهُ لَقُرءانٌ كَريمٌ(77)
بیشک یہ بڑی عظمت والا قرآن ہے (جو بڑی عظمت والے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اتر رہا ہے)،(77)
فى كِتٰبٍ مَكنونٍ(78)
(اس سے پہلے یہ) لوحِ محفوظ میں (لکھا ہوا) ہے،(78)
لا يَمَسُّهُ إِلَّا المُطَهَّرونَ(79)
اس کو پاک (طہارت والے) لوگوں کے سوا کوئی نہیں چُھوئے گا،(79)
تَنزيلٌ مِن رَبِّ العٰلَمينَ(80)
تمام جہانوں کے ربّ کی طرف سے اتارا گیا ہے،(80)
أَفَبِهٰذَا الحَديثِ أَنتُم مُدهِنونَ(81)
سو کیا تم اسی کلام کی تحقیر کرتے ہو،(81)
وَتَجعَلونَ رِزقَكُم أَنَّكُم تُكَذِّبونَ(82)
اور تم نے اپنا رِزق (اور نصیب) اسی بات کو بنا رکھا ہے کہ تم (اسے) جھٹلاتے رہو،(82)
فَلَولا إِذا بَلَغَتِ الحُلقومَ(83)
پھر کیوں نہیں (روح کو واپس لوٹا لیتے) جب وہ (پرواز کرنے کے لئے) حلق تک آپہنچتی ہے،(83)
وَأَنتُم حينَئِذٍ تَنظُرونَ(84)
اور تم اس وقت دیکھتے ہی رہ جاتے ہو،(84)
وَنَحنُ أَقرَبُ إِلَيهِ مِنكُم وَلٰكِن لا تُبصِرونَ(85)
اور ہم اس (مرنے والے) سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم (ہمیں) دیکھتے نہیں ہو،(85)
فَلَولا إِن كُنتُم غَيرَ مَدينينَ(86)
پھر کیوں نہیں (ایسا کر سکتے) اگر تم کسی کی مِلک و اختیار میں نہیں ہو،(86)
تَرجِعونَها إِن كُنتُم صٰدِقينَ(87)
کہ اس (رُوح) کو واپس پھیر لو اگر تم سچّے ہو،(87)
فَأَمّا إِن كانَ مِنَ المُقَرَّبينَ(88)
پھر اگر وہ (وفات پانے والا) مقرّبین میں سے تھا،(88)
فَرَوحٌ وَرَيحانٌ وَجَنَّتُ نَعيمٍ(89)
تو (اس کے لئے) سرور و فرحت اور روحانی رزق و استراحت اور نعمتوں بھری جنت ہے،(89)
وَأَمّا إِن كانَ مِن أَصحٰبِ اليَمينِ(90)
اور اگر وہ اصحاب الیمین میں سے تھا،(90)
فَسَلٰمٌ لَكَ مِن أَصحٰبِ اليَمينِ(91)
تو (اس سے کہا جائے گا:) تمہارے لئے دائیں جانب والوں کی طرف سے سلام ہے (یا اے نبی! آپ پر اصحابِ یمین کی جانب سے سلام ہے)،(91)
وَأَمّا إِن كانَ مِنَ المُكَذِّبينَ الضّالّينَ(92)
اور اگر وہ (مرنے والا) جھٹلانے والے گمراہوں میں سے تھا،(92)
فَنُزُلٌ مِن حَميمٍ(93)
تو (اس کی) سخت کھولتے ہوئے پانی سے ضیافت ہوگی،(93)
وَتَصلِيَةُ جَحيمٍ(94)
اور (اس کا انجام) دوزخ میں داخل کر دیا جانا ہے،(94)
إِنَّ هٰذا لَهُوَ حَقُّ اليَقينِ(95)
بیشک یہی قطعی طور پر حق الیقین ہے،(95)
فَسَبِّح بِاسمِ رَبِّكَ العَظيمِ(96)
سو آپ اپنے ربِّ عظیم کے نام کی تسبیح کیا کریں،(96)