Al-Qiyamat( القيامة)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ لا أُقسِمُ بِيَومِ القِيٰمَةِ(1)
میں قسم کھاتا ہوں روزِ قیامت کی،(1)
وَلا أُقسِمُ بِالنَّفسِ اللَّوّامَةِ(2)
اور میں قسم کھاتا ہوں (برائیوں پر) ملامت کرنے والے نفس کی،(2)
أَيَحسَبُ الإِنسٰنُ أَلَّن نَجمَعَ عِظامَهُ(3)
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اُس کی ہڈیوں کو (جو مرنے کے بعد ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گی) ہرگز اِکٹھا نہ کریں گے،(3)
بَلىٰ قٰدِرينَ عَلىٰ أَن نُسَوِّىَ بَنانَهُ(4)
کیوں نہیں! ہم تو اس بات پر بھی قادر ہیں کہ اُس کی اُنگلیوں کے ایک ایک جوڑ اور پوروں تک کو درست کر دیں،(4)
بَل يُريدُ الإِنسٰنُ لِيَفجُرَ أَمامَهُ(5)
بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ اپنے آگے (کی زندگی میں) بھی گناہ کرتا رہے،(5)
يَسـَٔلُ أَيّانَ يَومُ القِيٰمَةِ(6)
وہ (بہ اَندازِ تمسخر) پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا،(6)
فَإِذا بَرِقَ البَصَرُ(7)
پھر جب آنکھیں چوندھیا جائیں گی،(7)
وَخَسَفَ القَمَرُ(8)
اور چاند (اپنی) روشنی کھو دے گا،(8)
وَجُمِعَ الشَّمسُ وَالقَمَرُ(9)
اور سورج اور چاند اِکٹھے (بے نور) ہو جائیں گے،(9)
يَقولُ الإِنسٰنُ يَومَئِذٍ أَينَ المَفَرُّ(10)
اُس وقت انسان پکار اٹھے گا کہ بھاگ جانے کا ٹھکانا کہاں ہے،(10)
كَلّا لا وَزَرَ(11)
ہرگز نہیں! کوئی جائے پناہ نہیں ہے،(11)
إِلىٰ رَبِّكَ يَومَئِذٍ المُستَقَرُّ(12)
اُس دن آپ کے رب ہی کے پاس قرارگاہ ہوگی،(12)
يُنَبَّؤُا۟ الإِنسٰنُ يَومَئِذٍ بِما قَدَّمَ وَأَخَّرَ(13)
اُس دن اِنسان اُن (اَعمال) سے خبردار کیا جائے گا جو اُس نے آگے بھیجے تھے اور جو (اَثرات اپنی موت کے بعد) پیچھے چھوڑے تھے،(13)
بَلِ الإِنسٰنُ عَلىٰ نَفسِهِ بَصيرَةٌ(14)
بلکہ اِنسان اپنے (اَحوالِ) نفس پر (خود ہی) آگاہ ہوگا،(14)
وَلَو أَلقىٰ مَعاذيرَهُ(15)
اگرچہ وہ اپنے تمام عذر پیش کرے گا،(15)
لا تُحَرِّك بِهِ لِسانَكَ لِتَعجَلَ بِهِ(16)
(اے حبیب!) آپ (قرآن کو یاد کرنے کی) جلدی میں (نزولِ وحی کے ساتھ) اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کریں،(16)
إِنَّ عَلَينا جَمعَهُ وَقُرءانَهُ(17)
بے شک اسے (آپ کے سینہ میں) جمع کرنا اور اسے (آپ کی زبان سے) پڑھانا ہمارا ذِمّہ ہے،(17)
فَإِذا قَرَأنٰهُ فَاتَّبِع قُرءانَهُ(18)
پھر جب ہم اسے (زبانِ جبریل سے) پڑھ چکیں تو آپ اس پڑھے ہوئے کی پیروی کیا کریں،(18)
ثُمَّ إِنَّ عَلَينا بَيانَهُ(19)
پھر بے شک اس (کے معانی) کا کھول کر بیان کرنا ہمارا ہی ذِمّہ ہے،(19)
كَلّا بَل تُحِبّونَ العاجِلَةَ(20)
حقیقت یہ ہے (اے کفّار!) تم جلد ملنے والی (دنیا) کو محبوب رکھتے ہو،(20)
وَتَذَرونَ الءاخِرَةَ(21)
اور تم آخرت کو چھوڑے ہوئے ہو،(21)
وُجوهٌ يَومَئِذٍ ناضِرَةٌ(22)
بہت سے چہرے اُس دن شگفتہ و تروتازہ ہوں گے،(22)
إِلىٰ رَبِّها ناظِرَةٌ(23)
اور (بلا حجاب) اپنے رب (کے حسن و جمال) کو تک رہے ہوں گے،(23)
وَوُجوهٌ يَومَئِذٍ باسِرَةٌ(24)
اور کتنے ہی چہرے اُس دن بگڑی ہوئی حالت میں (مایوس اور سیاہ) ہوں گے،(24)
تَظُنُّ أَن يُفعَلَ بِها فاقِرَةٌ(25)
یہ گمان کرتے ہوں گے کہ اُن کے ساتھ ایسی سختی کی جائے گی جو اُن کی کمر توڑ دے گی،(25)
كَلّا إِذا بَلَغَتِ التَّراقِىَ(26)
نہیں نہیں، جب جان گلے تک پہنچ جائے،(26)
وَقيلَ مَن ۜ راقٍ(27)
اور کہا جا رہا ہو کہ (اِس وقت) کون ہے جھاڑ پھونک سے علاج کرنے والا (جس سے شفایابی کرائیں)،(27)
وَظَنَّ أَنَّهُ الفِراقُ(28)
اور (جان دینے والا) سمجھ لے کہ (اب سب سے) جدائی ہے،(28)
وَالتَفَّتِ السّاقُ بِالسّاقِ(29)
اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹنے لگے،(29)
إِلىٰ رَبِّكَ يَومَئِذٍ المَساقُ(30)
تو اس دن آپ کے رب کی طرف جانا ہوتا ہے،(30)
فَلا صَدَّقَ وَلا صَلّىٰ(31)
تو (کتنی بد نصیبی ہے کہ) اس نے نہ (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتوں کی) تصدیق کی نہ نماز پڑھی،(31)
وَلٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلّىٰ(32)
بلکہ وہ جھٹلاتا رہا اور رُوگردانی کرتا رہا،(32)
ثُمَّ ذَهَبَ إِلىٰ أَهلِهِ يَتَمَطّىٰ(33)
پھر اپنے اہلِ خانہ کی طرف اکڑ کر چل دیا،(33)
أَولىٰ لَكَ فَأَولىٰ(34)
تمہارے لئے (مرتے وقت) تباہی ہے، پھر (قبر میں) تباہی ہے،(34)
ثُمَّ أَولىٰ لَكَ فَأَولىٰ(35)
پھر تمہارے لئے (روزِ قیامت) ہلاکت ہے، پھر (دوزخ کی) ہلاکت ہے،(35)
أَيَحسَبُ الإِنسٰنُ أَن يُترَكَ سُدًى(36)
کیا اِنسان یہ خیال کرتا ہے کہ اُسے بے کار (بغیر حساب و کتاب کے) چھوڑ دیا جائے گا،(36)
أَلَم يَكُ نُطفَةً مِن مَنِىٍّ يُمنىٰ(37)
کیا وہ (اپنی اِبتداء میں) منی کا ایک قطرہ نہ تھا جو (عورت کے رحم میں) ٹپکا دیا جاتا ہے،(37)
ثُمَّ كانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّىٰ(38)
پھر وہ (رحم میں جال کی طرح جما ہوا) ایک معلّق وجود بن گیا، پھر اُس نے (تمام جسمانی اَعضاء کی اِبتدائی شکل کو اس وجود میں) پیدا فرمایا، پھر اس نے (انہیں) درست کیا،(38)
فَجَعَلَ مِنهُ الزَّوجَينِ الذَّكَرَ وَالأُنثىٰ(39)
پھر یہ کہ اس نے اسی نطفہ ہی کے ذریعہ دو قِسمیں بنائیں: مرد اور عورت،(39)
أَلَيسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلىٰ أَن يُحۦِىَ المَوتىٰ(40)
تو کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ مُردوں کو پھر سے زندہ کر دے،(40)