Al-Qasas( القصص)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ طسم(1)
طا، سین، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،(1)
تِلكَ ءايٰتُ الكِتٰبِ المُبينِ(2)
یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں،(2)
نَتلوا عَلَيكَ مِن نَبَإِ موسىٰ وَفِرعَونَ بِالحَقِّ لِقَومٍ يُؤمِنونَ(3)
(اے حبیبِ مکرّم!) ہم آپ پر موسٰی (علیہ السلام) اور فرعون کے حقیقت پر مبنی حال میں سے ان لوگوں کے لئے کچھ پڑھ کر سناتے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں،(3)
إِنَّ فِرعَونَ عَلا فِى الأَرضِ وَجَعَلَ أَهلَها شِيَعًا يَستَضعِفُ طائِفَةً مِنهُم يُذَبِّحُ أَبناءَهُم وَيَستَحيۦ نِساءَهُم ۚ إِنَّهُ كانَ مِنَ المُفسِدينَ(4)
بیشک فرعون زمین میں سرکش و متکبّر (یعنی آمرِ مطلق) ہوگیا تھا اور اس نے اپنے (ملک کے) باشندوں کو (مختلف) فرقوں (اور گروہوں) میں بانٹ دیا تھا اس نے ان میں سے ایک گروہ (یعنی بنی اسرائیل کے عوام) کو کمزور کردیا تھا کہ ان کے لڑکوں کو (ان کے مستقبل کی طاقت کچلنے کے لئے) ذبح کر ڈالتا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا (تاکہ مَردوں کے بغیر ان کی تعداد بڑھے اور ان میں اخلاقی بے راہ روی کا اضافہ ہو)، بیشک وہ فساد انگیز لوگوں میں سے تھا،(4)
وَنُريدُ أَن نَمُنَّ عَلَى الَّذينَ استُضعِفوا فِى الأَرضِ وَنَجعَلَهُم أَئِمَّةً وَنَجعَلَهُمُ الوٰرِثينَ(5)
اور ہم چاہتے تھے کہ ہم ایسے لوگوں پر احسان کریں جو زمین میں (حقوق اور آزادی سے محرومی اور ظلم و استحصال کے باعث) کمزور کر دیئے گئے تھے اور انہیں (مظلوم قوم کے) رہبر و پیشوا بنا دیں اور انہیں (ملکی تخت کا) وارث بنا دیں،(5)
وَنُمَكِّنَ لَهُم فِى الأَرضِ وَنُرِىَ فِرعَونَ وَهٰمٰنَ وَجُنودَهُما مِنهُم ما كانوا يَحذَرونَ(6)
اور ہم انہیں ملک میں حکومت و اقتدار بخشیں اور فرعون اور ہامان اور ان دونوں کی فوجوں کو وہ (انقلاب) دکھا دیں جس سے وہ ڈرا کرتے تھے،(6)
وَأَوحَينا إِلىٰ أُمِّ موسىٰ أَن أَرضِعيهِ ۖ فَإِذا خِفتِ عَلَيهِ فَأَلقيهِ فِى اليَمِّ وَلا تَخافى وَلا تَحزَنى ۖ إِنّا رادّوهُ إِلَيكِ وَجاعِلوهُ مِنَ المُرسَلينَ(7)
اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ تم انہیں دودھ پلاتی رہو، پھر جب تمہیں ان پر (قتل کردیئے جانے کا) اندیشہ ہو جائے تو انہیں دریا میں ڈال دینا اور نہ تم (اس صورتِ حال سے) خوفزدہ ہونا اور نہ رنجیدہ ہونا، بیشک ہم انہیں تمہاری طرف واپس لوٹانے والے ہیں اور انہیں رسولوں میں(شامل) کرنے والے ہیں۔،(7)
فَالتَقَطَهُ ءالُ فِرعَونَ لِيَكونَ لَهُم عَدُوًّا وَحَزَنًا ۗ إِنَّ فِرعَونَ وَهٰمٰنَ وَجُنودَهُما كانوا خٰطِـٔينَ(8)
پھر فرعون کے گھر والوں نے انہیں (دریا سے) اٹھا لیا تاکہ وہ (مشیّتِ الٰہی سے) ان کے لئے دشمن اور (باعثِ) غم ثابت ہوں، بیشک فرعون اور ہامان اور ان دونوں کی فوجیں سب خطاکار تھے،(8)
وَقالَتِ امرَأَتُ فِرعَونَ قُرَّتُ عَينٍ لى وَلَكَ ۖ لا تَقتُلوهُ عَسىٰ أَن يَنفَعَنا أَو نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُم لا يَشعُرونَ(9)
اور فرعون کی بیوی نے (موسٰی علیہ السلام کو دیکھ کر) کہا کہ (یہ بچہ) میری اور تیری آنکھ کے لئے ٹھنڈک ہے۔ اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں اور وہ (اس تجویز کے انجام سے) بے خبر تھے،(9)
وَأَصبَحَ فُؤادُ أُمِّ موسىٰ فٰرِغًا ۖ إِن كادَت لَتُبدى بِهِ لَولا أَن رَبَطنا عَلىٰ قَلبِها لِتَكونَ مِنَ المُؤمِنينَ(10)
اور موسٰی (علیہ السلام) کی والدہ کا دل (صبر سے) خالی ہوگیا، قریب تھا کہ وہ (اپنی بے قراری کے باعث) اس راز کو ظاہر کردیتیں اگر ہم ان کے دل پر صبر و سکون کی قوّت نہ اتارتے تاکہ وہ (وعدۂ الٰہی پر) یقین رکھنے والوں میں سے رہیں،(10)
وَقالَت لِأُختِهِ قُصّيهِ ۖ فَبَصُرَت بِهِ عَن جُنُبٍ وَهُم لا يَشعُرونَ(11)
اور (موسٰی علیہ السلام کی والدہ نے) ان کی بہن سے کہا کہ (ان کا حال معلوم کرنے کے لئے) ان کے پیچھے جاؤ سو وہ انہیں دور سے دیکھتے رہے اور وہ لوگ (بالکل) بے خبر تھے،(11)
۞ وَحَرَّمنا عَلَيهِ المَراضِعَ مِن قَبلُ فَقالَت هَل أَدُلُّكُم عَلىٰ أَهلِ بَيتٍ يَكفُلونَهُ لَكُم وَهُم لَهُ نٰصِحونَ(12)
اور ہم نے پہلے ہی سے موسٰی (علیہ السلام) پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا سو (موسٰی علیہ السلام کی بہن نے) کہا: کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کی نشاندہی کروں جو تمہارے لئے اس (بچے) کی پرورش کر دیں اور وہ اس کے خیر خواہ (بھی) ہوں،(12)
فَرَدَدنٰهُ إِلىٰ أُمِّهِ كَى تَقَرَّ عَينُها وَلا تَحزَنَ وَلِتَعلَمَ أَنَّ وَعدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ(13)
پس ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو (یوں) ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ ان کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور تاکہ وہ (یقین سے) جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،(13)
وَلَمّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاستَوىٰ ءاتَينٰهُ حُكمًا وَعِلمًا ۚ وَكَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ(14)
اور جب موسٰی (علیہ السلام) اپنی جوانی کو پہنچ گئے اور (سنِّ) اعتدال پر آگئے تو ہم نے انہیں حکمِ (نبوّت) اور علم و دانش سے نوازا، اور ہم نیکوکاروں کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں،(14)
وَدَخَلَ المَدينَةَ عَلىٰ حينِ غَفلَةٍ مِن أَهلِها فَوَجَدَ فيها رَجُلَينِ يَقتَتِلانِ هٰذا مِن شيعَتِهِ وَهٰذا مِن عَدُوِّهِ ۖ فَاستَغٰثَهُ الَّذى مِن شيعَتِهِ عَلَى الَّذى مِن عَدُوِّهِ فَوَكَزَهُ موسىٰ فَقَضىٰ عَلَيهِ ۖ قالَ هٰذا مِن عَمَلِ الشَّيطٰنِ ۖ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُضِلٌّ مُبينٌ(15)
اور موسٰی (علیہ السلام) شہرِ (مصر) میں داخل ہوئے اس حال میں کہ شہر کے باشندے (نیند میں) غافل پڑے تھے، تو انہوں نے اس میں دو مَردوں کو باہم لڑتے ہوئے پایا یہ (ایک) تو ان کے (اپنے) گروہ (بنی اسرائیل) میں سے تھا اور یہ (دوسرا) ان کے دشمنوں (قومِ فرعون) میں سے تھا، پس اس شخص نے جو انہی کے گروہ میں سے تھا آپ سے اس شخص کے خلاف مدد طلب کی جو آپ کے دشمنوں میں سے تھا پس موسٰی (علیہ السلام) نے اسے مکّا مارا تو اس کا کام تمام کردیا، (پھر) فرمانے لگے: یہ شیطان کا کام ہے (جو مجھ سے سرزَد ہوا ہے)، بیشک وہ صریح بہکانے والا دشمن ہے،(15)
قالَ رَبِّ إِنّى ظَلَمتُ نَفسى فَاغفِر لى فَغَفَرَ لَهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الغَفورُ الرَّحيمُ(16)
(موسٰی علیہ السلام) عرض کرنے لگے: اے میرے رب! بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا سو تو مجھے معاف فرما دے پس اس نے انہیں معاف فرما دیا، بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(16)
قالَ رَبِّ بِما أَنعَمتَ عَلَىَّ فَلَن أَكونَ ظَهيرًا لِلمُجرِمينَ(17)
(مزید) عرض کرنے لگے: اے میرے رب! اس سبب سے کہ تو نے مجھ پر (اپنی مغفرت کے ذریعہ) احسان فرمایا ہے اب میں ہرگز مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا،(17)
فَأَصبَحَ فِى المَدينَةِ خائِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا الَّذِى استَنصَرَهُ بِالأَمسِ يَستَصرِخُهُ ۚ قالَ لَهُ موسىٰ إِنَّكَ لَغَوِىٌّ مُبينٌ(18)
پس موسٰی (علیہ السلام) نے اس شہر میں ڈرتے ہوئے صبح کی اس انتظار میں (کہ اب کیا ہوگا؟) تو دفعتًہ وہی شخص جس نے آپ سے گزشتہ روز مدد طلب کی تھی آپ کو (دوبارہ) امداد کے لئے پکار رہا ہے تو موسٰی (علیہ السلام) نے اس سے کہا: بیشک تو صریح گمراہ ہے،(18)
فَلَمّا أَن أَرادَ أَن يَبطِشَ بِالَّذى هُوَ عَدُوٌّ لَهُما قالَ يٰموسىٰ أَتُريدُ أَن تَقتُلَنى كَما قَتَلتَ نَفسًا بِالأَمسِ ۖ إِن تُريدُ إِلّا أَن تَكونَ جَبّارًا فِى الأَرضِ وَما تُريدُ أَن تَكونَ مِنَ المُصلِحينَ(19)
سو جب انہوں نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو پکڑیں جو ان دونوں کا دشمن ہے تو وہ بول اٹھا: اے موسٰی! کیا تم مجھے (بھی) قتل کرنا چاہتے ہو جیسا کہ تم نے کل ایک شخص کو قتل کر ڈالا تھا۔ تم صرف یہی چاہتے ہو کہ ملک میں بڑے جابر بن جاؤ اور تم یہ نہیں چاہتے کہ اصلاح کرنے والوں میں سے بنو،(19)
وَجاءَ رَجُلٌ مِن أَقصَا المَدينَةِ يَسعىٰ قالَ يٰموسىٰ إِنَّ المَلَأَ يَأتَمِرونَ بِكَ لِيَقتُلوكَ فَاخرُج إِنّى لَكَ مِنَ النّٰصِحينَ(20)
اور شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا: اے موسٰی! (قومِ فرعون کے) سردار آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ وہ آپ کو قتل کردیں سو آپ (یہاں سے) نکل جائیں بیشک میں آپ کے خیر خواہوں میں سے ہوں،(20)
فَخَرَجَ مِنها خائِفًا يَتَرَقَّبُ ۖ قالَ رَبِّ نَجِّنى مِنَ القَومِ الظّٰلِمينَ(21)
سو موسٰی (علیہ السلام) وہاں سے خوف زدہ ہو کر (مددِ الٰہی کا) انتظار کرتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے، عرض کیا: اے رب! مجھے ظالم قوم سے نجات عطا فرما،(21)
وَلَمّا تَوَجَّهَ تِلقاءَ مَديَنَ قالَ عَسىٰ رَبّى أَن يَهدِيَنى سَواءَ السَّبيلِ(22)
اور جب وہ مَديَن کی طرف رخ کر کے چلے (تو) کہنے لگے: امید ہے میرا رب مجھے (منزلِ مقصود تک پہنچانے کے لئے) سیدھی راہ دکھا دے گا،(22)
وَلَمّا وَرَدَ ماءَ مَديَنَ وَجَدَ عَلَيهِ أُمَّةً مِنَ النّاسِ يَسقونَ وَوَجَدَ مِن دونِهِمُ امرَأَتَينِ تَذودانِ ۖ قالَ ما خَطبُكُما ۖ قالَتا لا نَسقى حَتّىٰ يُصدِرَ الرِّعاءُ ۖ وَأَبونا شَيخٌ كَبيرٌ(23)
اور جب وہ مَدْيَنَْ کے پانی (کے کنویں) پر پہنچے تو انہوں نے اس پر لوگوں کا ایک ہجوم پایا جو (اپنے جانوروں کو) پانی پلا رہے تھے اور ان سے الگ ایک جانب دو عورتیں دیکھیں جو (اپنی بکریوں کو) روکے ہوئے تھیں (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: تم دونوں اس حال میں کیوں (کھڑی) ہو؟ دونوں بولیں کہ ہم (اپنی بکریوں کو) پانی نہیں پلا سکتیں یہاں تک کہ چرواہے (اپنے مویشیوں کو) واپس لے جائیں، اور ہمارے والد عمر رسیدہ بزرگ ہیں،(23)
فَسَقىٰ لَهُما ثُمَّ تَوَلّىٰ إِلَى الظِّلِّ فَقالَ رَبِّ إِنّى لِما أَنزَلتَ إِلَىَّ مِن خَيرٍ فَقيرٌ(24)
سو انہوں نے دونوں (کے ریوڑ) کو پانی پلا دیا پھر سایہ کی طرف پلٹ گئے اور عرض کیا: اے رب! میں ہر اس بھلائی کا جو تو میری طرف اتارے محتا ج ہوں،(24)
فَجاءَتهُ إِحدىٰهُما تَمشى عَلَى استِحياءٍ قالَت إِنَّ أَبى يَدعوكَ لِيَجزِيَكَ أَجرَ ما سَقَيتَ لَنا ۚ فَلَمّا جاءَهُ وَقَصَّ عَلَيهِ القَصَصَ قالَ لا تَخَف ۖ نَجَوتَ مِنَ القَومِ الظّٰلِمينَ(25)
پھر (تھوڑی دیر بعد) ان کے پاس ان دونوں میں سے ایک (لڑکی) آئی جو شرم و حیاء (کے انداز) سے چل رہی تھی۔ اس نے کہا: میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ وہ آپ کو اس (محنت) کا معاوضہ دیں جو آپ نے ہمارے لئے (بکریوں کو) پانی پلایا ہے۔ سو جب موسٰی (علیہ السلام) ان (لڑکیوں کے والد شعیب علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان سے (پچھلے) واقعات بیان کئے تو انہوں نے کہا: آپ خوف نہ کریں آپ نے ظالم قوم سے نجات پا لی ہے،(25)
قالَت إِحدىٰهُما يٰأَبَتِ استَـٔجِرهُ ۖ إِنَّ خَيرَ مَنِ استَـٔجَرتَ القَوِىُّ الأَمينُ(26)
ان میں سے ایک (لڑکی) نے کہا: اے (میرے) والد گرامی! انہیں (اپنے پاس مزدوری) پر رکھ لیں بیشک بہترین شخص جسے آپ مزدوری پر رکھیں وہی ہے جو طاقتور امانت دار ہو (اور یہ اس ذمہ داری کے اہل ہیں)،(26)
قالَ إِنّى أُريدُ أَن أُنكِحَكَ إِحدَى ابنَتَىَّ هٰتَينِ عَلىٰ أَن تَأجُرَنى ثَمٰنِىَ حِجَجٍ ۖ فَإِن أَتمَمتَ عَشرًا فَمِن عِندِكَ ۖ وَما أُريدُ أَن أَشُقَّ عَلَيكَ ۚ سَتَجِدُنى إِن شاءَ اللَّهُ مِنَ الصّٰلِحينَ(27)
انہوں نے (موسٰی علیہ السلام سے) کہا: میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ سے کردوں اس (مَہر) پر کہ آپ آٹھ سال تک میرے پاس اُجرت پر کام کریں، پھر اگر آپ نے دس (سال) پور ے کردیئے تو آپ کی طرف سے (احسان) ہوگا اور میں آپ پر مشقت نہیں ڈالنا چاہتا، اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے نیک لوگوں میں سے پائیں گے،(27)
قالَ ذٰلِكَ بَينى وَبَينَكَ ۖ أَيَّمَا الأَجَلَينِ قَضَيتُ فَلا عُدوٰنَ عَلَىَّ ۖ وَاللَّهُ عَلىٰ ما نَقولُ وَكيلٌ(28)
موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: یہ (معاہدہ) میرے اور آپ کے درمیان (طے) ہوگیا، دو میں سے جو مدت بھی میں پوری کروں سو مجھ پر کوئی جبر نہیں ہوگا، اور اللہ اس (بات) پر جو ہم کہہ رہے ہیں نگہبان ہے،(28)
۞ فَلَمّا قَضىٰ موسَى الأَجَلَ وَسارَ بِأَهلِهِ ءانَسَ مِن جانِبِ الطّورِ نارًا قالَ لِأَهلِهِ امكُثوا إِنّى ءانَستُ نارًا لَعَلّى ءاتيكُم مِنها بِخَبَرٍ أَو جَذوَةٍ مِنَ النّارِ لَعَلَّكُم تَصطَلونَ(29)
پھر جب موسٰی (علیہ السلام) نے مقررہ مدت پوری کر لی اور اپنی اہلیہ کو لے کر چلے (تو) انہوں نے طور کی جانب سے ایک آگ دیکھی (وہ شعلۂ حسنِ مطلق تھا جس کی طرف آپ کی طبیعت مانوس ہوگئی)، انہوں نے اپنی اہلیہ سے فرمایا: تم (یہیں) ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے۔ شاید میں تمہارے لئے اس (آگ) سے کچھ (اُس کی) خبر لاؤں (جس کی تلاش میں مدتوں سے سرگرداں ہوں) یا آتشِ (سوزاں) کی کوئی چنگاری (لادوں) تاکہ تم (بھی) تپ اٹھو،(29)
فَلَمّا أَتىٰها نودِىَ مِن شٰطِئِ الوادِ الأَيمَنِ فِى البُقعَةِ المُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يٰموسىٰ إِنّى أَنَا اللَّهُ رَبُّ العٰلَمينَ(30)
جب موسٰی (علیہ السلام) وہاں پہنچے تو وادئ (طور) کے دائیں کنارے سے بابرکت مقام میں (واقع) ایک درخت سے آواز دی گئی کہ اے موسٰی! بیشک میں ہی اللہ ہوں (جو) تمام جہانوں کا پروردگار (ہوں)،(30)
وَأَن أَلقِ عَصاكَ ۖ فَلَمّا رَءاها تَهتَزُّ كَأَنَّها جانٌّ وَلّىٰ مُدبِرًا وَلَم يُعَقِّب ۚ يٰموسىٰ أَقبِل وَلا تَخَف ۖ إِنَّكَ مِنَ الءامِنينَ(31)
اور یہ کہ اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دو، پھر جب موسٰی (علیہ السلام) نے اسے دیکھا کہ وہ تیز لہراتی تڑپتی ہوئی حرکت کر رہی ہے گویا وہ سانپ ہو، تو پیٹھ پھیر کر چل پڑے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا، (ندا آئی:) اے موسٰی! سامنے آؤ اور خوف نہ کرو، بیشک تم امان یافتہ لوگوں میں سے ہو،(31)
اسلُك يَدَكَ فى جَيبِكَ تَخرُج بَيضاءَ مِن غَيرِ سوءٍ وَاضمُم إِلَيكَ جَناحَكَ مِنَ الرَّهبِ ۖ فَذٰنِكَ بُرهٰنانِ مِن رَبِّكَ إِلىٰ فِرعَونَ وَمَلَإِي۟هِ ۚ إِنَّهُم كانوا قَومًا فٰسِقينَ(32)
اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ بغیر کسی عیب کے سفید چمک دار ہوکر نکلے گا اور خوف (دور کرنے کی غرض) سے اپنا بازو اپنے (سینے کی) طرف سکیڑ لو، پس تمہارے رب کی جانب سے یہ دو دلیلیں فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف (بھیجنے اور مشاہدہ کرانے کے لئے) ہیں، بیشک وہ نافرمان لوگ ہیں،(32)
قالَ رَبِّ إِنّى قَتَلتُ مِنهُم نَفسًا فَأَخافُ أَن يَقتُلونِ(33)
(موسٰی علیہ السلام نے) عرض کیا: اے پروردگار! میں نے ان میں سے ایک شخص کو قتل کر ڈالا تھا سو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کرڈالیں گے،(33)
وَأَخى هٰرونُ هُوَ أَفصَحُ مِنّى لِسانًا فَأَرسِلهُ مَعِىَ رِدءًا يُصَدِّقُنى ۖ إِنّى أَخافُ أَن يُكَذِّبونِ(34)
اور میرے بھائی ہارون (علیہ السلام)، وہ زبان میں مجھ سے زیادہ فصیح ہیں سو انہیں میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج دے کہ وہ میری تصدیق کر سکیں میں اس بات سے (بھی) ڈرتا ہوں کہ (وہ) لوگ مجھے جھٹلائیں گے،(34)
قالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخيكَ وَنَجعَلُ لَكُما سُلطٰنًا فَلا يَصِلونَ إِلَيكُما ۚ بِـٔايٰتِنا أَنتُما وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الغٰلِبونَ(35)
ارشاد فرمایا: ہم تمہارا بازو تمہارے بھائی کے ذریعے مضبوط کر دیں گے۔ اور ہم تم دونوں کے لئے (لوگوں کے دلوں میں اور تمہاری کاوشوں میں) ہیبت و غلبہ پیدا کئے دیتے ہیں۔ سو وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم تک (گزند پہنچانے کے لئے) نہیں پہنچ سکیں گے، تم دونوں اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے غالب رہیں گے،(35)
فَلَمّا جاءَهُم موسىٰ بِـٔايٰتِنا بَيِّنٰتٍ قالوا ما هٰذا إِلّا سِحرٌ مُفتَرًى وَما سَمِعنا بِهٰذا فى ءابائِنَا الأَوَّلينَ(36)
پھر جب موسٰی (علیہ السلام) ان کے پاس ہماری واضح اور روشن نشانیاں لے کر آئے تو وہ لوگ کہنے لگے کہ یہ تو مَن گھڑت جادو کے سوا (کچھ) نہیں ہے۔ اور ہم نے یہ باتیں اپنے پہلے آباء و اجداد میں (کبھی) نہیں سنی تھیں،(36)
وَقالَ موسىٰ رَبّى أَعلَمُ بِمَن جاءَ بِالهُدىٰ مِن عِندِهِ وَمَن تَكونُ لَهُ عٰقِبَةُ الدّارِ ۖ إِنَّهُ لا يُفلِحُ الظّٰلِمونَ(37)
اور موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: میرا رب اس کو خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لے کر آیا ہے اور اس کو (بھی) جس کے لئے آخرت کے گھر کا انجام (بہتر) ہوگا، بیشک ظالم فلاح نہیں پائیں گے،(37)
وَقالَ فِرعَونُ يٰأَيُّهَا المَلَأُ ما عَلِمتُ لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرى فَأَوقِد لى يٰهٰمٰنُ عَلَى الطّينِ فَاجعَل لى صَرحًا لَعَلّى أَطَّلِعُ إِلىٰ إِلٰهِ موسىٰ وَإِنّى لَأَظُنُّهُ مِنَ الكٰذِبينَ(38)
اور فرعون نے کہا: اے درباریو! میں تمہارے لئے اپنے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں جانتا۔ اے ہامان! میرے لئے گارے کو آگ لگا (کر کچھ اینٹیں پکا) دے، پھر میرے لئے (ان سے) ایک اونچی عمارت تیار کر، شاید میں (اس پر چڑھ کر) موسٰی کے خدا تک رسائی پا سکوں، اور میں تو اس کو جھوٹ بولنے والوں میں گمان کرتا ہوں،(38)
وَاستَكبَرَ هُوَ وَجُنودُهُ فِى الأَرضِ بِغَيرِ الحَقِّ وَظَنّوا أَنَّهُم إِلَينا لا يُرجَعونَ(39)
اور اس (فرعون) نے خود اور اس کی فوجوں نے ملک میں ناحق تکبّر و سرکشی کی اور یہ گمان کر بیٹھے کہ وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے،(39)
فَأَخَذنٰهُ وَجُنودَهُ فَنَبَذنٰهُم فِى اليَمِّ ۖ فَانظُر كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ الظّٰلِمينَ(40)
سو ہم نے اس کو اور اس کی فوجوں کو (عذاب میں) پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا، تو آپ دیکھئے کہ ظالموں کا انجام کیسا (عبرت ناک) ہوا،(40)
وَجَعَلنٰهُم أَئِمَّةً يَدعونَ إِلَى النّارِ ۖ وَيَومَ القِيٰمَةِ لا يُنصَرونَ(41)
اور ہم نے انہیں (دوزخیوں کا) پیشوا بنا دیا کہ وہ (لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی،(41)
وَأَتبَعنٰهُم فى هٰذِهِ الدُّنيا لَعنَةً ۖ وَيَومَ القِيٰمَةِ هُم مِنَ المَقبوحينَ(42)
اور ہم نے ان کے پیچھے اس دنیا میں (بھی) لعنت لگا دی اور قیامت کے دن (بھی) وہ بدحال لوگوں میں (شمار) ہوں گے،(42)
وَلَقَد ءاتَينا موسَى الكِتٰبَ مِن بَعدِ ما أَهلَكنَا القُرونَ الأولىٰ بَصائِرَ لِلنّاسِ وَهُدًى وَرَحمَةً لَعَلَّهُم يَتَذَكَّرونَ(43)
اور بیشک ہم نے اس (صورتِ حال) کے بعد کہ ہم پہلی (نافرمان) قوموں کو ہلاک کر چکے تھے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی جو لوگوں کے لئے (خزانۂ) بصیرت اور ہدایت و رحمت تھی، تاکہ وہ نصیحت قبول کریں،(43)
وَما كُنتَ بِجانِبِ الغَربِىِّ إِذ قَضَينا إِلىٰ موسَى الأَمرَ وَما كُنتَ مِنَ الشّٰهِدينَ(44)
اور آپ (اس وقت طُور کے) مغربی جانب (تو موجود) نہیں تھے جب ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی طرف حکمِ (رسالت) بھیجا تھا، اور نہ (ہی) آپ (ان ستّر افراد میں شامل تھے جو وحیِ موسٰی علیہ السلام کی) گواہی دینے والوں میں سے تھے (پس یہ سارا بیان غیب کی خبر نہیں تو اور کیا ہے؟)،(44)
وَلٰكِنّا أَنشَأنا قُرونًا فَتَطاوَلَ عَلَيهِمُ العُمُرُ ۚ وَما كُنتَ ثاوِيًا فى أَهلِ مَديَنَ تَتلوا عَلَيهِم ءايٰتِنا وَلٰكِنّا كُنّا مُرسِلينَ(45)
لیکن ہم نے (موسٰی علیہ السلام کے بعد یکے بعد دیگرے) کئی قومیں پیدا فرمائیں پھر ان پر طویل مدّت گزر گئی، اور نہ (ہی) آپ (موسٰی اور شعیب علیہما السلام کی طرح) اہل مدین میں مقیم تھے کہ آپ ان پر ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہوں لیکن ہم ہی (آپ کو اخبارِ غیب سے سرفراز فرما کر) مبعوث فرمانے والے ہیں،(45)
وَما كُنتَ بِجانِبِ الطّورِ إِذ نادَينا وَلٰكِن رَحمَةً مِن رَبِّكَ لِتُنذِرَ قَومًا ما أَتىٰهُم مِن نَذيرٍ مِن قَبلِكَ لَعَلَّهُم يَتَذَكَّرونَ(46)
اور نہ (ہی) آپ طُور کے کنارے (اس وقت موجود) تھے جب ہم نے (موسٰی علیہ السلام کو) ندا فرمائی مگر (آپ کو ان تمام احوالِ غیب پر مطلع فرمانا) آپ کے رب کی جانب سے (خصوصی) رحمت ہے۔ تاکہ آپ (ان واقعات سے باخبر ہو کر) اس قوم کو (عذابِ الٰہی سے) ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا، تاکہ وہ نصیحت قبول کریں،(46)
وَلَولا أَن تُصيبَهُم مُصيبَةٌ بِما قَدَّمَت أَيديهِم فَيَقولوا رَبَّنا لَولا أَرسَلتَ إِلَينا رَسولًا فَنَتَّبِعَ ءايٰتِكَ وَنَكونَ مِنَ المُؤمِنينَ(47)
اور (ہم کوئی رسول نہ بھیجتے) اگر یہ بات نہ ہوتی کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچے ان کے اعمالِ بد کے باعث جو انہوں نے خود انجام دیئے تو وہ یہ نہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ہم ایمان والوں میں سے ہوجاتے،(47)
فَلَمّا جاءَهُمُ الحَقُّ مِن عِندِنا قالوا لَولا أوتِىَ مِثلَ ما أوتِىَ موسىٰ ۚ أَوَلَم يَكفُروا بِما أوتِىَ موسىٰ مِن قَبلُ ۖ قالوا سِحرانِ تَظٰهَرا وَقالوا إِنّا بِكُلٍّ كٰفِرونَ(48)
پھر جب ان کے پاس ہمارے حضور سے حق آپہنچا (تو) وہ کہنے لگے کہ اس (رسول) کو ان (نشانیوں) جیسی (نشانیاں) کیوں نہیں دی گئیں جو موسٰی (علیہ السلام) کو دی گئیں تھیں؟ کیا انہوں نے ان (نشانیوں) کا انکار نہیں کیا تھا جو اس سے پہلے موسٰی (علیہ السلام) کو دی گئی تھیں؟ وہ کہنے لگے کہ دونوں (قرآن اور تورات) جادو ہیں (جو) ایک دوسرے کی تائید و موافقت کرتے ہیں، اور انہوں نے کہا کہ ہم (ان) سب کے منکر ہیں،(48)
قُل فَأتوا بِكِتٰبٍ مِن عِندِ اللَّهِ هُوَ أَهدىٰ مِنهُما أَتَّبِعهُ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(49)
آپ فرما دیں کہ تم اللہ کے حضور سے کوئی (اور) کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو (تو) میں اس کی پیروی کروں گا اگر تم (اپنے الزامات میں) سچے ہو،(49)
فَإِن لَم يَستَجيبوا لَكَ فَاعلَم أَنَّما يَتَّبِعونَ أَهواءَهُم ۚ وَمَن أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوىٰهُ بِغَيرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ(50)
پھر اگر وہ آپ کا ارشاد قبول نہ کریں تو آپ جان لیں (کہ ان کے لئے کوئی حجت باقی نہیں رہی) وہ محض اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی جانب سے ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔ بیشک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا،(50)
۞ وَلَقَد وَصَّلنا لَهُمُ القَولَ لَعَلَّهُم يَتَذَكَّرونَ(51)
اور درحقیقت ہم ان کے لئے پے در پے (قرآن کے) فرمان بھیجتے رہے تاکہ وہ نصیحت قبو ل کریں،(51)
الَّذينَ ءاتَينٰهُمُ الكِتٰبَ مِن قَبلِهِ هُم بِهِ يُؤمِنونَ(52)
جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب عطا کی تھی وہ (اسی ہدایت کے تسلسل میں) اس (قرآن) پر (بھی) ایمان رکھتے ہیں،(52)
وَإِذا يُتلىٰ عَلَيهِم قالوا ءامَنّا بِهِ إِنَّهُ الحَقُّ مِن رَبِّنا إِنّا كُنّا مِن قَبلِهِ مُسلِمينَ(53)
اور جب ان پر (قرآن) پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اس پر ایمان لائے بیشک یہ ہمارے رب کی جانب سے حق ہے، حقیقت میں تو ہم اس سے پہلے ہی مسلمان (یعنی فرمانبردار) ہوچکے تھے،(53)
أُولٰئِكَ يُؤتَونَ أَجرَهُم مَرَّتَينِ بِما صَبَروا وَيَدرَءونَ بِالحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمّا رَزَقنٰهُم يُنفِقونَ(54)
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دوبار دیا جائے گا اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ برائی کو بھلائی کے ذریعے دفع کرتے ہیں اور اس عطا میں سے جو ہم نے انہیں بخشی خرچ کرتے ہیں،(54)
وَإِذا سَمِعُوا اللَّغوَ أَعرَضوا عَنهُ وَقالوا لَنا أَعمٰلُنا وَلَكُم أَعمٰلُكُم سَلٰمٌ عَلَيكُم لا نَبتَغِى الجٰهِلينَ(55)
اورجب وہ کوئی بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، تم پر سلامتی ہو ہم جاہلوں (کے فکر و عمل) کو (اپنانا) نہیں چاہتے (گویا ان کی برائی کے عوض ہم اپنی اچھائی کیوں چھوڑیں)،(55)
إِنَّكَ لا تَهدى مَن أَحبَبتَ وَلٰكِنَّ اللَّهَ يَهدى مَن يَشاءُ ۚ وَهُوَ أَعلَمُ بِالمُهتَدينَ(56)
حقیقت یہ ہے کہ جسے آپ (راہِ ہدایت پر لانا) چاہتے ہیں اسے راہِ ہدایت پر آپ خود نہیں لاتے بلکہ جسے اللہ چاہتا ہے (آپ کے ذریعے) راہِ ہدایت پر چلا دیتا ہے، اور وہ راہِ ہدایت پانے والوں سے خوب واقف ہے۔،(56)
وَقالوا إِن نَتَّبِعِ الهُدىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّف مِن أَرضِنا ۚ أَوَلَم نُمَكِّن لَهُم حَرَمًا ءامِنًا يُجبىٰ إِلَيهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيءٍ رِزقًا مِن لَدُنّا وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ(57)
اور (قدر ناشناس) کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کی معیّت میں ہدایت کی پیروی کر لیں تو ہم اپنے ملک سے اچک لئے جائیں گے۔ کیا ہم نے انہیں (اس) امن والے حرم (شہرِ مکہ جو آپ ہی کا وطن ہے) میں نہیں بسایا جہاں ہماری طرف سے رزق کے طور پر (دنیا کی ہر سمت سے) ہر جنس کے پھل پہنچائے جاتے ہیں، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے (کہ یہ سب کچھ کس کے صدقے سے ہو رہا ہے)،(57)
وَكَم أَهلَكنا مِن قَريَةٍ بَطِرَت مَعيشَتَها ۖ فَتِلكَ مَسٰكِنُهُم لَم تُسكَن مِن بَعدِهِم إِلّا قَليلًا ۖ وَكُنّا نَحنُ الوٰرِثينَ(58)
اور ہم نے کتنی ہی (ایسی) بستیوں کو برباد کر ڈالا جو اپنی خوشحال معیشت پر غرور و ناشکری کر رہی تھیں، تو یہ ان کے (تباہ شدہ) مکانات ہیں جو ان کے بعد کبھی آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت کم، اور (آخر کار) ہم ہی وارث و مالک ہیں،(58)
وَما كانَ رَبُّكَ مُهلِكَ القُرىٰ حَتّىٰ يَبعَثَ فى أُمِّها رَسولًا يَتلوا عَلَيهِم ءايٰتِنا ۚ وَما كُنّا مُهلِكِى القُرىٰ إِلّا وَأَهلُها ظٰلِمونَ(59)
اور آپ کا رب بستیوں کو تباہ کرنے والا نہیں ہے یہاں تک کہ وہ اس کے بڑے مرکزی شہر میں پیغمبر بھیج دے جو ان پر ہماری آیتیں تلاوت کرے، اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں ہیں مگر اس حال میں کہ وہاں کے مکین ظالم ہوں،(59)
وَما أوتيتُم مِن شَيءٍ فَمَتٰعُ الحَيوٰةِ الدُّنيا وَزينَتُها ۚ وَما عِندَ اللَّهِ خَيرٌ وَأَبقىٰ ۚ أَفَلا تَعقِلونَ(60)
اور جو چیز بھی تمہیں عطا کی گئی ہے سو (وہ) دنیوی زندگی کا سامان اور اس کی رونق و زینت ہے۔ مگر جو چیز (بھی) اللہ کے پاس ہے وہ (اس سے) زیادہ بہتر اور دائمی ہے۔ کیا تم (اس حقیقت کو) نہیں سمجھتے،(60)
أَفَمَن وَعَدنٰهُ وَعدًا حَسَنًا فَهُوَ لٰقيهِ كَمَن مَتَّعنٰهُ مَتٰعَ الحَيوٰةِ الدُّنيا ثُمَّ هُوَ يَومَ القِيٰمَةِ مِنَ المُحضَرينَ(61)
کیا وہ شخص جس سے ہم نے کوئی (آخرت کا) اچھا وعدہ فرمایا ہو پھر وہ اسے پانے والا ہو جائے، اس (بدنصیب) کی مثل ہو سکتا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کے سامان سے نوازا ہو پھر وہ (کفرانِ نعمت کے باعث) روزِ قیامت (عذاب کے لئے) حاضر کئے جانے والوں میں سے ہو جائے،(61)
وَيَومَ يُناديهِم فَيَقولُ أَينَ شُرَكاءِىَ الَّذينَ كُنتُم تَزعُمونَ(62)
اور جس دن (اللہ) انہیں پکارے گا تو فرمائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جنہیں تم (معبود) خیال کیا کرتے تھے،(62)
قالَ الَّذينَ حَقَّ عَلَيهِمُ القَولُ رَبَّنا هٰؤُلاءِ الَّذينَ أَغوَينا أَغوَينٰهُم كَما غَوَينا ۖ تَبَرَّأنا إِلَيكَ ۖ ما كانوا إِيّانا يَعبُدونَ(63)
وہ لوگ جن پر (عذاب کا) فرمان ثابت ہو چکا کہیں گے: اے ہمارے رب! یہی وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا ہم نے انہیں (اسی طرح) گمراہ کیا تھا جس طرح ہم (خود) گمراہ ہوئے تھے، ہم ان سے بیزاری ظاہر کرتے ہوئے تیری طرف متوجہ ہوتے ہیں اور وہ (درحقیقت) ہماری پرستش نہیں کرتے تھے (بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کے پجاری تھے)،(63)
وَقيلَ ادعوا شُرَكاءَكُم فَدَعَوهُم فَلَم يَستَجيبوا لَهُم وَرَأَوُا العَذابَ ۚ لَو أَنَّهُم كانوا يَهتَدونَ(64)
اور (ان سے) کہا جائے گا: تم اپنے (خود ساختہ) شریکوں کو بلاؤ، سو وہ انہیں پکاریں گے پس وہ (شریک) انہیں کوئی جواب نہ دیں گے اور وہ لوگ عذاب کو دیکھ لیں گے، کاش! وہ (دنیا میں) راہِ ہدایت پا چکے ہوتے،(64)
وَيَومَ يُناديهِم فَيَقولُ ماذا أَجَبتُمُ المُرسَلينَ(65)
اور جس دن (اللہ) انہیں پکارے گا تو وہ فرمائے گا: تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا تھا،(65)
فَعَمِيَت عَلَيهِمُ الأَنباءُ يَومَئِذٍ فَهُم لا يَتَساءَلونَ(66)
تو ان پر اس دن خبریں پوشیدہ ہو جائیں گی سو وہ ایک دوسرے سے پوچھ (بھی) نہ سکیں گے،(66)
فَأَمّا مَن تابَ وَءامَنَ وَعَمِلَ صٰلِحًا فَعَسىٰ أَن يَكونَ مِنَ المُفلِحينَ(67)
لیکن جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا تو یقیناً وہ فلاح پانے والوں میں سے ہوگا،(67)
وَرَبُّكَ يَخلُقُ ما يَشاءُ وَيَختارُ ۗ ما كانَ لَهُمُ الخِيَرَةُ ۚ سُبحٰنَ اللَّهِ وَتَعٰلىٰ عَمّا يُشرِكونَ(68)
اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور (جسے چاہتا ہے نبوت اور حقِ شفاعت سے نوازنے کے لئے) منتخب فرما لیتا ہے، ان (منکر اور مشرک) لوگوں کو (اس امر میں) کوئی مرضی اور اختیار حاصل نہیں ہے۔ اللہ پاک ہے اور بالاتر ہے ان (باطل معبودوں) سے جنہیں وہ (اللہ کا) شریک گردانتے ہیں۔،(68)
وَرَبُّكَ يَعلَمُ ما تُكِنُّ صُدورُهُم وَما يُعلِنونَ(69)
اور آپ کا رب ان (تمام باتوں) کو جانتا ہے جو ان کے سینے (اپنے اندر) چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ آشکار کرتے ہیں۔،(69)
وَهُوَ اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ لَهُ الحَمدُ فِى الأولىٰ وَالءاخِرَةِ ۖ وَلَهُ الحُكمُ وَإِلَيهِ تُرجَعونَ(70)
اور وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ دنیا اور آخرت میں ساری تعریفیں اسی کے لئے ہیں، اور (حقیقی) حکم و فرمانروائی (بھی) اسی کی ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے،(70)
قُل أَرَءَيتُم إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيكُمُ الَّيلَ سَرمَدًا إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ مَن إِلٰهٌ غَيرُ اللَّهِ يَأتيكُم بِضِياءٍ ۖ أَفَلا تَسمَعونَ(71)
فرما دیجئے: ذرا اتنا بتاؤ کہ اگر اللہ تمہارے اوپر روزِ قیامت تک ہمیشہ رات طاری فرما دے (تو) اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہیں روشنی لا دے۔ کیا تم (یہ باتیں) سنتے نہیں ہو،(71)
قُل أَرَءَيتُم إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيكُمُ النَّهارَ سَرمَدًا إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ مَن إِلٰهٌ غَيرُ اللَّهِ يَأتيكُم بِلَيلٍ تَسكُنونَ فيهِ ۖ أَفَلا تُبصِرونَ(72)
فرما دیجئے: ذرا یہ (بھی) بتاؤ کہ اگر اللہ تمہارے اوپر روزِ قیامت تک ہمیشہ دن طاری فرما دے (تو) اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہیں رات لا دے کہ تم اس میں آرام کر سکو، کیا تم دیکھتے نہیں ہو،(72)
وَمِن رَحمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ الَّيلَ وَالنَّهارَ لِتَسكُنوا فيهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ(73)
اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم رات میں آرام کرو اور (دن میں) اس کا فضل (روزی) تلاش کرسکو اور تاکہ تم شکر گزار بنو،(73)
وَيَومَ يُناديهِم فَيَقولُ أَينَ شُرَكاءِىَ الَّذينَ كُنتُم تَزعُمونَ(74)
اور جس دن وہ انہیں پکارے گا تو ارشاد فرمائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جنہیں تم (معبود) خیال کرتے تھے،(74)
وَنَزَعنا مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهيدًا فَقُلنا هاتوا بُرهٰنَكُم فَعَلِموا أَنَّ الحَقَّ لِلَّهِ وَضَلَّ عَنهُم ما كانوا يَفتَرونَ(75)
اور ہم ہر امت سے ایک گواہ نکالیں گے پھر ہم (کفار سے) کہیں گے کہ تم اپنی دلیل لاؤ تو وہ جان لیں گے کہ سچ بات اللہ ہی کی ہے اور ان سے وہ سب (باتیں) جاتی رہیں گی جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے،(75)
۞ إِنَّ قٰرونَ كانَ مِن قَومِ موسىٰ فَبَغىٰ عَلَيهِم ۖ وَءاتَينٰهُ مِنَ الكُنوزِ ما إِنَّ مَفاتِحَهُ لَتَنوأُ بِالعُصبَةِ أُولِى القُوَّةِ إِذ قالَ لَهُ قَومُهُ لا تَفرَح ۖ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الفَرِحينَ(76)
بیشک قارون موسٰی (علیہ السلام) کی قوم سے تھا پھر اس نے لوگوں پر سرکشی کی اور ہم نے اسے اس قدر خزانے عطا کئے تھے کہ اس کی کنجیاں (اٹھانا) ایک بڑی طاقتور جماعت کو دشوار ہوتا تھا، جبکہ اس کی قوم نے اس سے کہا: تُو (خوشی کے مارے) غُرور نہ کر بیشک اللہ اِترانے والوں کو پسند نہیں فرماتا،(76)
وَابتَغِ فيما ءاتىٰكَ اللَّهُ الدّارَ الءاخِرَةَ ۖ وَلا تَنسَ نَصيبَكَ مِنَ الدُّنيا ۖ وَأَحسِن كَما أَحسَنَ اللَّهُ إِلَيكَ ۖ وَلا تَبغِ الفَسادَ فِى الأَرضِ ۖ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ المُفسِدينَ(77)
اور تو اس (دولت) میں سے جو اللہ نے تجھے دے رکھی ہے آخرت کا گھر طلب کر، اور دنیا سے (بھی) اپنا حصہ نہ بھول اور تو (لوگوں سے ویسا ہی) احسان کر جیسا احسان اللہ نے تجھ سے فرمایا ہے اور ملک میں (ظلم، ارتکاز اور استحصال کی صورت میں) فساد انگیزی (کی راہیں) تلاش نہ کر، بیشک اللہ فساد بپا کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا،(77)
قالَ إِنَّما أوتيتُهُ عَلىٰ عِلمٍ عِندى ۚ أَوَلَم يَعلَم أَنَّ اللَّهَ قَد أَهلَكَ مِن قَبلِهِ مِنَ القُرونِ مَن هُوَ أَشَدُّ مِنهُ قُوَّةً وَأَكثَرُ جَمعًا ۚ وَلا يُسـَٔلُ عَن ذُنوبِهِمُ المُجرِمونَ(78)
وہ کہنے لگا: (میں یہ مال معاشرے اور عوام پر کیوں خرچ کروں) مجھے تویہ مال صرف اس (کسبی) علم و ہنر کی بنا پر دیا گیا ہے جو میرے پاس ہے۔ کیا اسے یہ معلوم نہ تھا کہ اللہ نے واقعۃً اس سے پہلے بہت سی ایسی قوموں کو ہلاک کر دیا تھا جو طاقت میں اس سے کہیں زیادہ سخت تھیں اور (مال و دولت اور افرادی قوت کے) جمع کرنے میں کہیں زیادہ (آگے) تھیں، اور (بوقتِ ہلاکت) مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں (مزید تحقیق یا کوئی عذر اور سبب) نہیں پوچھا جائے گا،(78)
فَخَرَجَ عَلىٰ قَومِهِ فى زينَتِهِ ۖ قالَ الَّذينَ يُريدونَ الحَيوٰةَ الدُّنيا يٰلَيتَ لَنا مِثلَ ما أوتِىَ قٰرونُ إِنَّهُ لَذو حَظٍّ عَظيمٍ(79)
پھر وہ اپنی قوم کے سامنے (پوری) زینت و آرائش (کی حالت) میں نکلا۔ (اس کی ظاہری شان و شوکت کو دیکھ کر) وہ لوگ بول اٹھے جو دنیوی زندگی کے خواہش مند تھے: کاش! ہمارے لئے (بھی) ایسا (مال و متاع) ہوتا جیسا قارون کو دیا گیا ہے، بیشک وہ بڑے نصیب والا ہے،(79)
وَقالَ الَّذينَ أوتُوا العِلمَ وَيلَكُم ثَوابُ اللَّهِ خَيرٌ لِمَن ءامَنَ وَعَمِلَ صٰلِحًا وَلا يُلَقّىٰها إِلَّا الصّٰبِرونَ(80)
اور (دوسری طرف) وہ لوگ جنہیں علمِ (حق) دیا گیا تھا بول اٹھے: تم پر افسوس ہے اللہ کا ثواب اس شخص کے لئے (اس دولت و زینت سے کہیں زیادہ) بہتر ہے جو ایمان لایا ہو اور نیک عمل کرتا ہو، مگر یہ (اجر و ثواب) صبر کرنے والوں کے سوا کسی کو عطا نہیں کیا جائے گا،(80)
فَخَسَفنا بِهِ وَبِدارِهِ الأَرضَ فَما كانَ لَهُ مِن فِئَةٍ يَنصُرونَهُ مِن دونِ اللَّهِ وَما كانَ مِنَ المُنتَصِرينَ(81)
پھرہم نے اس (قارون) کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، سو اللہ کے سوا اس کے لئے کوئی بھی جماعت (ایسی) نہ تھی جو (عذاب سے بچانے میں) اس کی مدد کرسکتی اور نہ وہ خود ہی عذاب کو روک سکا،(81)
وَأَصبَحَ الَّذينَ تَمَنَّوا مَكانَهُ بِالأَمسِ يَقولونَ وَيكَأَنَّ اللَّهَ يَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ وَيَقدِرُ ۖ لَولا أَن مَنَّ اللَّهُ عَلَينا لَخَسَفَ بِنا ۖ وَيكَأَنَّهُ لا يُفلِحُ الكٰفِرونَ(82)
اور جو لوگ کل اس کے مقام و مرتبہ کی تمنا کر رہے تھے (اَز رہِ ندامت) کہنے لگے: کتنا عجیب ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ فرماتا اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ فرماتا ہے، اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ فرمایا ہوتا تو ہمیں (بھی) دھنسا دیتا، ہائے تعجب ہے! (اب معلوم ہوا) کہ کافر نجات نہیں پا سکتے،(82)
تِلكَ الدّارُ الءاخِرَةُ نَجعَلُها لِلَّذينَ لا يُريدونَ عُلُوًّا فِى الأَرضِ وَلا فَسادًا ۚ وَالعٰقِبَةُ لِلمُتَّقينَ(83)
(یہ) وہ آخرت کا گھر ہے جسے ہم نے ایسے لوگوں کے لئے بنایا ہے جو نہ (تو) زمین میں سرکشی و تکبر چاہتے ہیں اور نہ فساد انگیزی، اور نیک انجام پرہیزگاروں کے لئے ہے،(83)
مَن جاءَ بِالحَسَنَةِ فَلَهُ خَيرٌ مِنها ۖ وَمَن جاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلا يُجزَى الَّذينَ عَمِلُوا السَّيِّـٔاتِ إِلّا ما كانوا يَعمَلونَ(84)
جو شخص نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے اس سے بہتر (صلہ) ہے اور جو شخص برائی لے کر آئے گا تو برے کام کرنے والوں کو کوئی بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر اسی قدر جو وہ کرتے رہے تھے،(84)
إِنَّ الَّذى فَرَضَ عَلَيكَ القُرءانَ لَرادُّكَ إِلىٰ مَعادٍ ۚ قُل رَبّى أَعلَمُ مَن جاءَ بِالهُدىٰ وَمَن هُوَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(85)
بیشک جس (رب) نے آپ پر قرآن (کی تبلیغ و اقامت کو) فرض کیا ہے یقیناً وہ آپ کو (آپ کی چاہت کے مطابق) لوٹنے کی جگہ (مکہ یا آخرت) کی طرف (فتح و کامیابی کے ساتھ) واپس لے جانے والا ہے۔ فرما دیجئے: میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو ہدایت لے کر آیا اور اسے (بھی) جو صریح گمراہی میں ہے۔٭، ٭ (یہ آیت مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرماتے ہوئے حجفہ کے مقام پر نازل ہوئی اور یہ وعدہ فتح مکہ کے دن پورا ہو گیا۔)(85)
وَما كُنتَ تَرجوا أَن يُلقىٰ إِلَيكَ الكِتٰبُ إِلّا رَحمَةً مِن رَبِّكَ ۖ فَلا تَكونَنَّ ظَهيرًا لِلكٰفِرينَ(86)
اور تم (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے اُمتِ محمدی کو خطاب ہے) اس بات کی امید نہ رکھتے تھے کہ تم پر (یہ) کتاب اتاری جائے گی مگر (یہ) تمہارے رب کی رحمت (سے اتری) ہے، پس تم ہرگز کافروں کے مددگار نہ بننا،(86)
وَلا يَصُدُّنَّكَ عَن ءايٰتِ اللَّهِ بَعدَ إِذ أُنزِلَت إِلَيكَ ۖ وَادعُ إِلىٰ رَبِّكَ ۖ وَلا تَكونَنَّ مِنَ المُشرِكينَ(87)
اور وہ (کفار) تمہیں ہرگز اللہ کی آیتوں (کی تعمیل و تبلیغ) سے باز نہ رکھیں اس کے بعد کہ وہ تمہاری طرف اتاری جا چکی ہیں اور تم (لوگوں کو) اپنے رب کی طرف بلاتے رہو اور مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہونا،(87)
وَلا تَدعُ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ ۘ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۚ كُلُّ شَيءٍ هالِكٌ إِلّا وَجهَهُ ۚ لَهُ الحُكمُ وَإِلَيهِ تُرجَعونَ(88)
اور تم اللہ کے ساتھ کسی دوسرے (خود ساختہ) معبود کو نہ پوجا کرو، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے، حکم اسی کا ہے اور تم (سب) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے،(88)