Al-Qamar( القمر)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ اقتَرَبَتِ السّاعَةُ وَانشَقَّ القَمَرُ(1)
قیامت قریب آپہنچی اور چاند دو ٹکڑے ہوگیا،(1)
وَإِن يَرَوا ءايَةً يُعرِضوا وَيَقولوا سِحرٌ مُستَمِرٌّ(2)
اور اگر وہ (کفّار) کوئی نشانی (یعنی معجزہ) دیکھتے ہیں تو مُنہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (یہ تو) ہمیشہ سے چلا آنے والا طاقتور جادو ہے،(2)
وَكَذَّبوا وَاتَّبَعوا أَهواءَهُم ۚ وَكُلُّ أَمرٍ مُستَقِرٌّ(3)
اور انہوں نے (اب بھی) جھٹلایا اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلے اور ہر کام (جس کا وعدہ کیا گیا ہے) مقررّہ وقت پر ہونے والا ہے،(3)
وَلَقَد جاءَهُم مِنَ الأَنباءِ ما فيهِ مُزدَجَرٌ(4)
اور بیشک اُن کے پاس (پہلی قوموں کی) ایسی خبریں آچکی ہیں جن میں (کفر و نافرمانی پر بڑی) عبرت و سرزنش ہے،(4)
حِكمَةٌ بٰلِغَةٌ ۖ فَما تُغنِ النُّذُرُ(5)
(یہ قرآن) کامل دانائی و حکمت ہے کیا پھر بھی ڈر سنانے والے کچھ فائدہ نہیں دیتے،(5)
فَتَوَلَّ عَنهُم ۘ يَومَ يَدعُ الدّاعِ إِلىٰ شَيءٍ نُكُرٍ(6)
سو آپ اُن سے منہ پھیر لیں، جس دن بلانے والا (فرشتہ) ایک نہایت ناگوار چیز (میدانِ حشر) کی طرف بلائے گا،(6)
خُشَّعًا أَبصٰرُهُم يَخرُجونَ مِنَ الأَجداثِ كَأَنَّهُم جَرادٌ مُنتَشِرٌ(7)
اپنی آنکھیں جھکائے ہوئے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہیں،(7)
مُهطِعينَ إِلَى الدّاعِ ۖ يَقولُ الكٰفِرونَ هٰذا يَومٌ عَسِرٌ(8)
پکارنے والے کی طرف دوڑ کر جا رہے ہوں گے، کفّار کہتے ہوں گے: یہ بڑا سخت دِن ہے،(8)
۞ كَذَّبَت قَبلَهُم قَومُ نوحٍ فَكَذَّبوا عَبدَنا وَقالوا مَجنونٌ وَازدُجِرَ(9)
اِن سے پہلے قومِ نوح نے (بھی) جھٹلایا تھا۔ سو انہوں نے ہمارے بندۂ (مُرسَل نُوح علیہ السلام) کی تکذیب کی اور کہا: (یہ) دیوانہ ہے، اور انہیں دھمکیاں دی گئیں،(9)
فَدَعا رَبَّهُ أَنّى مَغلوبٌ فَانتَصِر(10)
سو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں (اپنی قوم کے مظالم سے) عاجز ہوں پس تو انتقام لے،(10)
فَفَتَحنا أَبوٰبَ السَّماءِ بِماءٍ مُنهَمِرٍ(11)
پھر ہم نے موسلادھار بارش کے ساتھ آسمان کے دروازے کھول دئیے،(11)
وَفَجَّرنَا الأَرضَ عُيونًا فَالتَقَى الماءُ عَلىٰ أَمرٍ قَد قُدِرَ(12)
اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کر دیئے، سو (زمین و آسمان کا) پانی ایک ہی کام کے لئے جمع ہو گیا جو (اُن کی ہلاکت کے لئے) پہلے سے مقرر ہو چکا تھا،(12)
وَحَمَلنٰهُ عَلىٰ ذاتِ أَلوٰحٍ وَدُسُرٍ(13)
اور ہم نے اُن کو (یعنی نوح علیہ السلام کو) تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کر لیا،(13)
تَجرى بِأَعيُنِنا جَزاءً لِمَن كانَ كُفِرَ(14)
جو ہماری نگاہوں کے سامنے (ہماری حفاظت میں) چلتی تھی، (یہ سب کچھ) اس (ایک) شخص (نوح علیہ السلام) کا بدلہ لینے کی خاطر تھا جس کا انکار کیا گیا تھا،(14)
وَلَقَد تَرَكنٰها ءايَةً فَهَل مِن مُدَّكِرٍ(15)
اور بیشک ہم نے اِس (طوفانِ نوح کے آثار) کو نشانی کے طور پر باقی رکھا تو کیا کوئی سوچنے (اور نصیحت قبول کرنے) والا ہے،(15)
فَكَيفَ كانَ عَذابى وَنُذُرِ(16)
سو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا؟،(16)
وَلَقَد يَسَّرنَا القُرءانَ لِلذِّكرِ فَهَل مِن مُدَّكِرٍ(17)
اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت قبول کرنے والا ہے،(17)
كَذَّبَت عادٌ فَكَيفَ كانَ عَذابى وَنُذُرِ(18)
(قومِ) عاد نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا سو (اُن پر) میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا (عبرت ناک) رہا،(18)
إِنّا أَرسَلنا عَلَيهِم ريحًا صَرصَرًا فى يَومِ نَحسٍ مُستَمِرٍّ(19)
بیشک ہم نے اُن پر نہایت سخت آواز والی تیز آندھی (اُن کے حق میں) دائمی نحوست کے دن میں بھیجی،(19)
تَنزِعُ النّاسَ كَأَنَّهُم أَعجازُ نَخلٍ مُنقَعِرٍ(20)
جو لوگوں کو (اس طرح) اکھاڑ پھینکتی تھی گویا وہ اکھڑے ہوئے کھجور کے درختوں کے تنے ہیں،(20)
فَكَيفَ كانَ عَذابى وَنُذُرِ(21)
پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا (عبرت ناک) رہا،(21)
وَلَقَد يَسَّرنَا القُرءانَ لِلذِّكرِ فَهَل مِن مُدَّكِرٍ(22)
اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے،(22)
كَذَّبَت ثَمودُ بِالنُّذُرِ(23)
(قومِ) ثمود نے بھی ڈرسنانے والے پیغمبروں کو جھٹلایا،(23)
فَقالوا أَبَشَرًا مِنّا وٰحِدًا نَتَّبِعُهُ إِنّا إِذًا لَفى ضَلٰلٍ وَسُعُرٍ(24)
پس وہ کہنے لگے: کیا ایک بشر جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں، تب تو ہم یقیناً گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گے،(24)
أَءُلقِىَ الذِّكرُ عَلَيهِ مِن بَينِنا بَل هُوَ كَذّابٌ أَشِرٌ(25)
کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (یعنی وحی) اتاری گئی ہے؟ بلکہ وہ بڑا جھوٹا، خود پسند (اور متکبّر) ہے،(25)
سَيَعلَمونَ غَدًا مَنِ الكَذّابُ الأَشِرُ(26)
انہیں کل (قیامت کے دن) ہی معلوم ہو جائے گا کہ کون بڑا جھوٹا، خود پسند (اور متکبّر) ہے،(26)
إِنّا مُرسِلُوا النّاقَةِ فِتنَةً لَهُم فَارتَقِبهُم وَاصطَبِر(27)
بیشک ہم اُن کی آزمائش کے لئے اونٹنی بھیجنے والے ہیں، پس (اے صالح!) اُن (کے انجام) کا انتظار کریں اور صبر جاری رکھیں،(27)
وَنَبِّئهُم أَنَّ الماءَ قِسمَةٌ بَينَهُم ۖ كُلُّ شِربٍ مُحتَضَرٌ(28)
اور انہیں اس بات سے آگاہ کر دیں کہ اُن کے (اور اونٹنی کے) درمیان پانی تقسیم کر دیا گیا ہے، ہر ایک (کو) پانی کا حصّہ اس کی باری پر حاضر کیا جائے گا،(28)
فَنادَوا صاحِبَهُم فَتَعاطىٰ فَعَقَرَ(29)
پس انہوں نے (قدار نامی) اپنے ایک ساتھی کو بلایا، اس نے (اونٹنی پر تلوار سے) وار کیا اور کونچیں کاٹ دیں،(29)
فَكَيفَ كانَ عَذابى وَنُذُرِ(30)
پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا (عبرت ناک) ہوا؟،(30)
إِنّا أَرسَلنا عَلَيهِم صَيحَةً وٰحِدَةً فَكانوا كَهَشيمِ المُحتَظِرِ(31)
بیشک ہم نے اُن پر ایک نہایت خوفناک آواز بھیجی سو وہ باڑ لگانے والے کے بچے ہوئے اور روندے گئے بھوسے کی طرح ہوگئے،(31)
وَلَقَد يَسَّرنَا القُرءانَ لِلذِّكرِ فَهَل مِن مُدَّكِرٍ(32)
اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے،(32)
كَذَّبَت قَومُ لوطٍ بِالنُّذُرِ(33)
قومِ لُوط نے بھی ڈرسنانے والوں کو جھٹلایا،(33)
إِنّا أَرسَلنا عَلَيهِم حاصِبًا إِلّا ءالَ لوطٍ ۖ نَجَّينٰهُم بِسَحَرٍ(34)
بیشک ہم نے اُن پر کنکریاں برسانے والی آندھی بھیجی سوائے اولادِ لُوط (علیہ السلام) کے، ہم نے انہیں پچھلی رات (عذاب سے) بچا لیا،(34)
نِعمَةً مِن عِندِنا ۚ كَذٰلِكَ نَجزى مَن شَكَرَ(35)
اپنی طرف سے خاص انعام کے ساتھ، اسی طرح ہم اس شخص کو جزا دیا کرتے ہیں جو شکر گزار ہوتا ہے،(35)
وَلَقَد أَنذَرَهُم بَطشَتَنا فَتَمارَوا بِالنُّذُرِ(36)
اور بیشک لُوط (علیہ السلام) نے انہیں ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا پھر اُن لوگوں نے اُن کے ڈرانے میں شک کرتے ہوئے جھٹلایا،(36)
وَلَقَد رٰوَدوهُ عَن ضَيفِهِ فَطَمَسنا أَعيُنَهُم فَذوقوا عَذابى وَنُذُرِ(37)
اور بیشک اُن لوگوں نے لُوط (علیہ السلام) سے اُن کے مہمانوں کو چھین لینے کا ارادہ کیا سو ہم نے اُن کی آنکھوں کی ساخت مٹا کر انہیں بے نور کر دیا۔ پھر (اُن سے کہا:) میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو،(37)
وَلَقَد صَبَّحَهُم بُكرَةً عَذابٌ مُستَقِرٌّ(38)
اور بیشک اُن پر صبح سویرے ہی ہمیشہ قائم رہنے والا عذاب آپہنچا،(38)
فَذوقوا عَذابى وَنُذُرِ(39)
پھر (اُن سے کہا گیا:) میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو،(39)
وَلَقَد يَسَّرنَا القُرءانَ لِلذِّكرِ فَهَل مِن مُدَّكِرٍ(40)
اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے،(40)
وَلَقَد جاءَ ءالَ فِرعَونَ النُّذُرُ(41)
اور بیشک قومِ فرعون کے پاس (بھی) ڈر سنانے والے آئے،(41)
كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا كُلِّها فَأَخَذنٰهُم أَخذَ عَزيزٍ مُقتَدِرٍ(42)
انہوں نے ہماری سب نشانیوں کو جھٹلا دیا پھر ہم نے انہیں بڑے غالب بڑی قدرت والے کی پکڑ کی شان کے مطابق پکڑ لیا،(42)
أَكُفّارُكُم خَيرٌ مِن أُولٰئِكُم أَم لَكُم بَراءَةٌ فِى الزُّبُرِ(43)
(اے قریشِ مکہ!) کیا تمہارے کافر اُن (اگلے) لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لئے (آسمانی) کتابوں میں نجات لکھی ہوئی ہے،(43)
أَم يَقولونَ نَحنُ جَميعٌ مُنتَصِرٌ(44)
یا یہ (کفّار) کہتے ہیں کہ ہم (نبیِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) غالب رہنے والی مضبوط جماعت ہیں،(44)
سَيُهزَمُ الجَمعُ وَيُوَلّونَ الدُّبُرَ(45)
عنقریب یہ جتّھہ (میدانِ بدر میں) شکست کھائے گا اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے،(45)
بَلِ السّاعَةُ مَوعِدُهُم وَالسّاعَةُ أَدهىٰ وَأَمَرُّ(46)
بلکہ اُن کا (اصل) وعدہ تو قیامت ہے اور قیامت کی گھڑی بہت ہی سخت اور بہت ہی تلخ ہے،(46)
إِنَّ المُجرِمينَ فى ضَلٰلٍ وَسُعُرٍ(47)
بیشک مجرم لوگ گمراہی اور دیوانگی (یا آگ کی لپیٹ) میں ہیں،(47)
يَومَ يُسحَبونَ فِى النّارِ عَلىٰ وُجوهِهِم ذوقوا مَسَّ سَقَرَ(48)
جس دن وہ لوگ اپنے مُنہ کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے (تو اُن سے کہا جائے گا:) آگ میں جلنے کا مزہ چکھو،(48)
إِنّا كُلَّ شَيءٍ خَلَقنٰهُ بِقَدَرٍ(49)
بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک مقرّرہ اندازے کے مطابق بنایا ہے،(49)
وَما أَمرُنا إِلّا وٰحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالبَصَرِ(50)
اور ہمارا حکم تو فقط یک بارگی واقع ہو جاتا ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا ہے،(50)
وَلَقَد أَهلَكنا أَشياعَكُم فَهَل مِن مُدَّكِرٍ(51)
اور بیشک ہم نے تمہارے (بہت سے) گروہوں کو ہلاک کر ڈالا، سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے،(51)
وَكُلُّ شَيءٍ فَعَلوهُ فِى الزُّبُرِ(52)
اور جو کچھ (بھی) انہوں نے کیا اعمال ناموں میں (درج) ہے،(52)
وَكُلُّ صَغيرٍ وَكَبيرٍ مُستَطَرٌ(53)
اور ہر چھوٹا اور بڑا (عمل) لکھ دیا گیا ہے،(53)
إِنَّ المُتَّقينَ فى جَنّٰتٍ وَنَهَرٍ(54)
بیشک پرہیزگار جنتوں اور نہروں میں (لطف اندوز) ہوں گے،(54)
فى مَقعَدِ صِدقٍ عِندَ مَليكٍ مُقتَدِرٍ(55)
پاکیزہ مجالس میں (حقیقی) اقتدار کے مالک بادشاہ کی خاص قربت میں (بیٹھے) ہوں گے،(55)