Al-Qalam( القلم)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ ن ۚ وَالقَلَمِ وَما يَسطُرونَ(1)
نون (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، قلم کی قَسم اور اُس (مضمون) کی قَسم جو (فرشتے) لکھتے ہیں،(1)
ما أَنتَ بِنِعمَةِ رَبِّكَ بِمَجنونٍ(2)
(اے حبیبِ مکرّم!) آپ اپنے رب کے فضل سے (ہرگز) دیوانے نہیں ہیں،(2)
وَإِنَّ لَكَ لَأَجرًا غَيرَ مَمنونٍ(3)
اور بے شک آپ کے لئے ایسا اَجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا،(3)
وَإِنَّكَ لَعَلىٰ خُلُقٍ عَظيمٍ(4)
اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں)،(4)
فَسَتُبصِرُ وَيُبصِرونَ(5)
پس عنقریب آپ (بھی) دیکھ لیں گے اور وہ (بھی) دیکھ لیں گے،(5)
بِأَييِكُمُ المَفتونُ(6)
کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے،(6)
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبيلِهِ وَهُوَ أَعلَمُ بِالمُهتَدينَ(7)
بے شک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے، اور وہ ان کو (بھی) خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہیں،(7)
فَلا تُطِعِ المُكَذِّبينَ(8)
سو آپ جھٹلانے والوں کی بات نہ مانیں،(8)
وَدّوا لَو تُدهِنُ فَيُدهِنونَ(9)
وہ تو چاہتے ہیں کہ (دین کے معاملے میں) آپ (بے جا) نرمی اِختیار کر لیں تو وہ بھی نرم پڑ جائیں گے،(9)
وَلا تُطِع كُلَّ حَلّافٍ مَهينٍ(10)
اور آپ کسی ایسے شخص کی بات نہ مانیں جو بہت قَسمیں کھانے والا اِنتہائی ذلیل ہے،(10)
هَمّازٍ مَشّاءٍ بِنَميمٍ(11)
(جو) طعنہ زَن، عیب جُو (ہے اور) لوگوں میں فساد انگیزی کے لئے چغل خوری کرتا پھرتا ہے،(11)
مَنّاعٍ لِلخَيرِ مُعتَدٍ أَثيمٍ(12)
(جو) بھلائی کے کام سے بہت روکنے والا بخیل، حد سے بڑھنے والا سرکش (اور) سخت گنہگار ہے،(12)
عُتُلٍّ بَعدَ ذٰلِكَ زَنيمٍ(13)
(جو) بد مزاج درُشت خو ہے، مزید برآں بد اَصل (بھی) ہے٭، ٭ یہ آیات ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ جتنے ذِلت آمیز اَلقاب باری تعالیٰ نے اس بدبخت کو دئیے آج تک کلامِ اِلٰہی میں کسی اور کے لئے استعمال نہیں ہوئے۔ وجہ یہ تھی کہ اُس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اَقدس میں گستاخی کی، جس پر غضبِ اِلٰہی بھڑک اٹھا۔ ولید نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ایک کلمہ بولا تھا، جواباً باری تعالیٰ نے اُس کے دس رذائل بیان کیے اور آخر میں نطفۂ حرام ہونا بھی ظاہر کر دیا، اور اس کی ماں نے بعد ازاں اِس اَمر کی بھی تصدیق کر دی۔ (تفسیر قرطبی، رازی، نسفی وغیرھم)(13)
أَن كانَ ذا مالٍ وَبَنينَ(14)
اِس لئے (اس کی بات کو اہمیت نہ دیں) کہ وہ مال دار اور صاحبِ اَولاد ہے،(14)
إِذا تُتلىٰ عَلَيهِ ءايٰتُنا قالَ أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ(15)
جب اس پر ہماری آیتیں تلاوت کی جائیں (تو) کہتا ہے: یہ (تو) پہلے لوگوں کے اَفسانے ہیں،(15)
سَنَسِمُهُ عَلَى الخُرطومِ(16)
اب ہم اس کی سونڈ جیسی ناک پر داغ لگا دیں گے،(16)
إِنّا بَلَونٰهُم كَما بَلَونا أَصحٰبَ الجَنَّةِ إِذ أَقسَموا لَيَصرِمُنَّها مُصبِحينَ(17)
بے شک ہم ان (اہلِ مکہ) کی (اُسی طرح) آزمائش کریں گے جس طرح ہم نے (یمن کے) ان باغ والوں کو آزمایا تھا جب انہوں نے قَسم کھائی تھی کہ ہم صبح سویرے یقیناً اس کے پھل توڑ لیں گے،(17)
وَلا يَستَثنونَ(18)
اور انہوں نے (اِن شاء اللہ کہہ کر یا غریبوں کے حصہ کا) اِستثناء نہ کیا،(18)
فَطافَ عَلَيها طائِفٌ مِن رَبِّكَ وَهُم نائِمونَ(19)
پس آپ کے رب کی جانب سے ایک پھرنے والا (عذاب رات ہی رات میں) اس (باغ) پر پھر گیا اور وہ سوتے ہی رہے،(19)
فَأَصبَحَت كَالصَّريمِ(20)
سو وہ (لہلہاتا پھلوں سے لدا ہوا باغ) صبح کو کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا،(20)
فَتَنادَوا مُصبِحينَ(21)
پھر صبح ہوتے ہی وہ ایک دوسرے کو پکارنے لگے،(21)
أَنِ اغدوا عَلىٰ حَرثِكُم إِن كُنتُم صٰرِمينَ(22)
کہ اپنی کھیتی پر سویرے سویرے چلے چلو اگر تم پھل توڑنا چاہتے ہو،(22)
فَانطَلَقوا وَهُم يَتَخٰفَتونَ(23)
سو وہ لوگ چل پڑے اور وہ آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے،(23)
أَن لا يَدخُلَنَّهَا اليَومَ عَلَيكُم مِسكينٌ(24)
کہ آج اس باغ میں تمہارے پاس ہرگز کوئی محتاج نہ آنے پائے،(24)
وَغَدَوا عَلىٰ حَردٍ قٰدِرينَ(25)
اور وہ صبح سویرے (پھل کاٹنے اور غریبوں کو اُن کے حصہ سے محروم کرنے کے) منصوبے پر قادِر بنتے ہوئے چل پڑے،(25)
فَلَمّا رَأَوها قالوا إِنّا لَضالّونَ(26)
پھر جب انہوں نے اس (ویران باغ) کو دیکھا تو کہنے لگے: ہم یقیناً راستہ بھول گئے ہیں (یہ ہمارا باغ نہیں ہے)،(26)
بَل نَحنُ مَحرومونَ(27)
(جب غور سے دیکھا تو پکار اٹھے: نہیں نہیں،) بلکہ ہم تو محروم ہو گئے ہیں،(27)
قالَ أَوسَطُهُم أَلَم أَقُل لَكُم لَولا تُسَبِّحونَ(28)
ان کے ایک عدل پسند زِیرک شخص نے کہا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم (اللہ کا) ذِکر و تسبیح کیوں نہیں کرتے،(28)
قالوا سُبحٰنَ رَبِّنا إِنّا كُنّا ظٰلِمينَ(29)
(تب) وہ کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے، بے شک ہم ہی ظالم تھے،(29)
فَأَقبَلَ بَعضُهُم عَلىٰ بَعضٍ يَتَلٰوَمونَ(30)
سو وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باہم ملامت کرنے لگے،(30)
قالوا يٰوَيلَنا إِنّا كُنّا طٰغينَ(31)
کہنے لگے: ہائے ہماری شامت! بے شک ہم ہی سرکش و باغی تھے،(31)
عَسىٰ رَبُّنا أَن يُبدِلَنا خَيرًا مِنها إِنّا إِلىٰ رَبِّنا رٰغِبونَ(32)
امید ہے ہمارا رب ہمیں اس کے بدلہ میں اس سے بہتر دے گا، بے شک ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں،(32)
كَذٰلِكَ العَذابُ ۖ وَلَعَذابُ الءاخِرَةِ أَكبَرُ ۚ لَو كانوا يَعلَمونَ(33)
عذاب اسی طرح ہوتا ہے، اور واقعی آخرت کا عذاب (اِس سے) کہیں بڑھ کر ہے، کاش! وہ لوگ جانتے ہوتے،(33)
إِنَّ لِلمُتَّقينَ عِندَ رَبِّهِم جَنّٰتِ النَّعيمِ(34)
بے شک پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس نعمتوں والے باغات ہیں،(34)
أَفَنَجعَلُ المُسلِمينَ كَالمُجرِمينَ(35)
کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح (محروم) کر دیں گے،(35)
ما لَكُم كَيفَ تَحكُمونَ(36)
تمہیں کیا ہو گیا ہے، کیا فیصلہ کرتے ہو،(36)
أَم لَكُم كِتٰبٌ فيهِ تَدرُسونَ(37)
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم (یہ) پڑھتے ہو،(37)
إِنَّ لَكُم فيهِ لَما تَخَيَّرونَ(38)
کہ تمہارے لئے اس میں وہ کچھ ہے جو تم پسند کرتے ہو،(38)
أَم لَكُم أَيمٰنٌ عَلَينا بٰلِغَةٌ إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ ۙ إِنَّ لَكُم لَما تَحكُمونَ(39)
یا تمہارے لئے ہمارے ذِمّہ کچھ (ایسے) پختہ عہد و پیمان ہیں جو روزِ قیامت تک باقی رہیں (جن کے ذریعے ہم پابند ہوں) کہ تمہارے لئے وہی کچھ ہوگا جس کا تم (اپنے حق میں) فیصلہ کرو گے،(39)
سَلهُم أَيُّهُم بِذٰلِكَ زَعيمٌ(40)
ان سے پوچھئے کہ ان میں سے کون اس (قسم کی بے ہودہ بات) کا ذِمّہ دار ہے،(40)
أَم لَهُم شُرَكاءُ فَليَأتوا بِشُرَكائِهِم إِن كانوا صٰدِقينَ(41)
یا ان کے کچھ اور شریک (بھی) ہیں؟ تو انہیں چاہئے کہ اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر وہ سچے ہیں،(41)
يَومَ يُكشَفُ عَن ساقٍ وَيُدعَونَ إِلَى السُّجودِ فَلا يَستَطيعونَ(42)
جس دن ساق (یعنی اَحوالِ قیامت کی ہولناک شدت) سے پردہ اٹھایا جائے گا اور وہ (نافرمان) لوگ سجدہ کے لئے بلائے جائیں گے تو وہ (سجدہ) نہ کر سکیں گے،(42)
خٰشِعَةً أَبصٰرُهُم تَرهَقُهُم ذِلَّةٌ ۖ وَقَد كانوا يُدعَونَ إِلَى السُّجودِ وَهُم سٰلِمونَ(43)
ان کی آنکھیں (ہیبت اور ندامت کے باعث) جھکی ہوئی ہوں گی (اور) ان پر ذِلت چھا رہی ہوگی، حالانکہ وہ (دنیا میں بھی) سجدہ کے لئے بلائے جاتے تھے جبکہ وہ تندرست تھے (مگر پھر بھی سجدہ کے اِنکاری تھے)،(43)
فَذَرنى وَمَن يُكَذِّبُ بِهٰذَا الحَديثِ ۖ سَنَستَدرِجُهُم مِن حَيثُ لا يَعلَمونَ(44)
پس (اے حبیبِ مکرم!) آپ مجھے اور اس شخص کو جو اس کلام کو جھٹلاتا ہے (اِنتقام کے لئے) چھوڑ دیں، اب ہم انہیں آہستہ آہستہ (تباہی کی طرف) اس طرح لے جائیں گے کہ انہیں معلوم تک نہ ہوگا،(44)
وَأُملى لَهُم ۚ إِنَّ كَيدى مَتينٌ(45)
اور میں اُنہیں مہلت دے رہا ہوں، بے شک میری تدبیر بہت مضبوط ہے،(45)
أَم تَسـَٔلُهُم أَجرًا فَهُم مِن مَغرَمٍ مُثقَلونَ(46)
کیا آپ ان سے (تبلیغِ رسالت پر) کوئی معاوضہ مانگ رہے ہیں کہ وہ تاوان (کے بوجھ) سے دبے جا رہے ہیں،(46)
أَم عِندَهُمُ الغَيبُ فَهُم يَكتُبونَ(47)
کیا ان کے پاس علمِ غیب ہے کہ وہ (اس کی بنیاد پر اپنے فیصلے) لکھتے ہیں،(47)
فَاصبِر لِحُكمِ رَبِّكَ وَلا تَكُن كَصاحِبِ الحوتِ إِذ نادىٰ وَهُوَ مَكظومٌ(48)
پس آپ اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر فرمائیے اور مچھلی والے (پیغمبر یونس علیہ السلام) کی طرح (دل گرفتہ) نہ ہوں، جب انہوں نے (اللہ کو) پکارا اس حال میں کہ وہ (اپنی قوم پر) غم و غصہ سے بھرے ہوئے تھے،(48)
لَولا أَن تَدٰرَكَهُ نِعمَةٌ مِن رَبِّهِ لَنُبِذَ بِالعَراءِ وَهُوَ مَذمومٌ(49)
اگر ان کے رب کی رحمت و نعمت ان کی دستگیری نہ کرتی تو وہ ضرور چٹیل میدان میں پھینک دئیے جاتے اور وہ ملامت زدہ ہوتے (مگر اللہ نے انہیں ا س سے محفوط رکھا)،(49)
فَاجتَبٰهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصّٰلِحينَ(50)
پھر ان کے رب نے انہیں برگزیدہ بنا لیا اور انہیں (اپنے قربِ خاص سے نواز کر) کامل نیکو کاروں میں (شامل) فرما دیا،(50)
وَإِن يَكادُ الَّذينَ كَفَروا لَيُزلِقونَكَ بِأَبصٰرِهِم لَمّا سَمِعُوا الذِّكرَ وَيَقولونَ إِنَّهُ لَمَجنونٌ(51)
اور بے شک کافر لوگ جب قرآن سنتے ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ آپ کو اپنی (حاسدانہ بد) نظروں سے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ ہے،(51)
وَما هُوَ إِلّا ذِكرٌ لِلعٰلَمينَ(52)
اور وہ (قرآن) تو سارے جہانوں کے لئے نصیحت ہے،(52)