Al-Muzzammil( المزّمِّل)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يٰأَيُّهَا المُزَّمِّلُ(1)
اے کملی کی جھرمٹ والے (حبیب!)،(1)
قُمِ الَّيلَ إِلّا قَليلًا(2)
آپ رات کو (نماز میں) قیام فرمایا کریں مگر تھوڑی دیر (کے لئے)،(2)
نِصفَهُ أَوِ انقُص مِنهُ قَليلًا(3)
آدھی رات یا اِس سے تھوڑا کم کر دیں،(3)
أَو زِد عَلَيهِ وَرَتِّلِ القُرءانَ تَرتيلًا(4)
یا اس پر کچھ زیادہ کر دیں اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریں،(4)
إِنّا سَنُلقى عَلَيكَ قَولًا ثَقيلًا(5)
ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری فرمان نازل کریں گے،(5)
إِنَّ ناشِئَةَ الَّيلِ هِىَ أَشَدُّ وَطـًٔا وَأَقوَمُ قيلًا(6)
بے شک رات کا اُٹھنا (نفس کو) سخت پامال کرتا ہے اور (دِل و دِماغ کی یک سُوئی کے ساتھ) زبان سے سیدھی بات نکالتا ہے،(6)
إِنَّ لَكَ فِى النَّهارِ سَبحًا طَويلًا(7)
بے شک آپ کے لئے دن میں بہت سی مصروفیات ہوتی ہیں،(7)
وَاذكُرِ اسمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّل إِلَيهِ تَبتيلًا(8)
اور آپ اپنے رب کے نام کا ذِکر کرتے رہیں اور (اپنے قلب و باطن میں) ہر ایک سے ٹوٹ کر اُسی کے ہو رہیں،(8)
رَبُّ المَشرِقِ وَالمَغرِبِ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ فَاتَّخِذهُ وَكيلًا(9)
وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، سو اُسی کو (اپنا) کارساز بنا لیں،(9)
وَاصبِر عَلىٰ ما يَقولونَ وَاهجُرهُم هَجرًا جَميلًا(10)
اور آپ ان (باتوں) پر صبر کریں جو کچھ وہ (کفار) کہتے ہیں، اور نہایت خوبصورتی کے ساتھ ان سے کنارہ کش ہو جائیں،(10)
وَذَرنى وَالمُكَذِّبينَ أُولِى النَّعمَةِ وَمَهِّلهُم قَليلًا(11)
اور آپ مجھے اور جھٹلانے والے سرمایہ داروں کو (اِنتقام لینے کے لئے) چھوڑ دیں اور انہیں تھوڑی سی مہلت دے دیں (تاکہ اُن کے اَعمالِ بد اپنی اِنتہاء کو پہنچ جائیں)،(11)
إِنَّ لَدَينا أَنكالًا وَجَحيمًا(12)
بیشک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں اور (دوزخ کی) بھڑکتی ہوئی آگ ہے،(12)
وَطَعامًا ذا غُصَّةٍ وَعَذابًا أَليمًا(13)
اور حلق میں اٹک جانے والا کھانا اور نہایت دردناک عذاب ہے،(13)
يَومَ تَرجُفُ الأَرضُ وَالجِبالُ وَكانَتِ الجِبالُ كَثيبًا مَهيلًا(14)
جس دن زمین اورپہاڑ زور سے لرزنے لگیں گے اور پہاڑ بکھرتی ریت کے ٹیلے ہو جائیں گے،(14)
إِنّا أَرسَلنا إِلَيكُم رَسولًا شٰهِدًا عَلَيكُم كَما أَرسَلنا إِلىٰ فِرعَونَ رَسولًا(15)
بے شک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھیجا ہے جو تم پر (اَحوال کا مشاہدہ فرما کر) گواہی دینے والا ہے، جیسا کہ ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول کو بھیجا تھا،(15)
فَعَصىٰ فِرعَونُ الرَّسولَ فَأَخَذنٰهُ أَخذًا وَبيلًا(16)
پس فرعون نے اس رسول (علیہ السلام) کی نافرمانی کی، سو ہم نے اس کو ہلاکت انگیز گرفت میں پکڑ لیا،(16)
فَكَيفَ تَتَّقونَ إِن كَفَرتُم يَومًا يَجعَلُ الوِلدٰنَ شيبًا(17)
اگر تم کفر کرتے رہو تو اُس دن (کے عذاب) سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کردے گا،(17)
السَّماءُ مُنفَطِرٌ بِهِ ۚ كانَ وَعدُهُ مَفعولًا(18)
(جس دن کی) شدت کے باعث آسمان پھٹ جائے گا، اُس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا،(18)
إِنَّ هٰذِهِ تَذكِرَةٌ ۖ فَمَن شاءَ اتَّخَذَ إِلىٰ رَبِّهِ سَبيلًا(19)
بے شک یہ (قرآن) نصیحت ہے، پس جو شخص چاہے اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ اِختیار کر لے،(19)
۞ إِنَّ رَبَّكَ يَعلَمُ أَنَّكَ تَقومُ أَدنىٰ مِن ثُلُثَىِ الَّيلِ وَنِصفَهُ وَثُلُثَهُ وَطائِفَةٌ مِنَ الَّذينَ مَعَكَ ۚ وَاللَّهُ يُقَدِّرُ الَّيلَ وَالنَّهارَ ۚ عَلِمَ أَن لَن تُحصوهُ فَتابَ عَلَيكُم ۖ فَاقرَءوا ما تَيَسَّرَ مِنَ القُرءانِ ۚ عَلِمَ أَن سَيَكونُ مِنكُم مَرضىٰ ۙ وَءاخَرونَ يَضرِبونَ فِى الأَرضِ يَبتَغونَ مِن فَضلِ اللَّهِ ۙ وَءاخَرونَ يُقٰتِلونَ فى سَبيلِ اللَّهِ ۖ فَاقرَءوا ما تَيَسَّرَ مِنهُ ۚ وَأَقيمُوا الصَّلوٰةَ وَءاتُوا الزَّكوٰةَ وَأَقرِضُوا اللَّهَ قَرضًا حَسَنًا ۚ وَما تُقَدِّموا لِأَنفُسِكُم مِن خَيرٍ تَجِدوهُ عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيرًا وَأَعظَمَ أَجرًا ۚ وَاستَغفِرُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ(20)
بے شک آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ (کبھی) دو تہائی شب کے قریب اور (کبھی) نصف شب اور (کبھی) ایک تہائی شب (نماز میں) قیام کرتے ہیں، اور اُن لوگوں کی ایک جماعت (بھی) جو آپ کے ساتھ ہیں (قیام میں شریک ہوتی ہے)، اور اﷲ ہی رات اور دن (کے گھٹنے اور بڑھنے) کا صحیح اندازہ رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ تم ہرگز اُس کے اِحاطہ کی طاقت نہیں رکھتے، سو اُس نے تم پر (مشقت میں تخفیف کر کے) معافی دے دی، پس جتنا آسانی سے ہو سکے قرآن پڑھ لیا کرو، وہ جانتا ہے کہ تم میں سے (بعض لوگ) بیمار ہوں گے اور (بعض) دوسرے لوگ زمین میں سفر کریں گے تاکہ اﷲ کا فضل تلاش کریں اور (بعض) دیگر اﷲ کی راہ میں جنگ کریں گے، سو جتنا آسانی سے ہو سکے اُتنا (ہی) پڑھ لیا کرو، اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اﷲ کو قرضِ حسن دیا کرو، اور جو بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اُسے اﷲ کے حضور بہتر اور اَجر میں بزرگ تر پا لوگے، اور اﷲ سے بخشش طلب کرتے رہو، اﷲ بہت بخشنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہے،(20)