Al-Mutaffife( المطففين)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَيلٌ لِلمُطَفِّفينَ(1)
بربادی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے،(1)
الَّذينَ إِذَا اكتالوا عَلَى النّاسِ يَستَوفونَ(2)
یہ لوگ جب (دوسرے) لوگوں سے ناپ لیتے ہیں تو (ان سے) پورا لیتے ہیں،(2)
وَإِذا كالوهُم أَو وَزَنوهُم يُخسِرونَ(3)
اور جب انہیں (خود) ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو گھٹا کر دیتے ہیں،(3)
أَلا يَظُنُّ أُولٰئِكَ أَنَّهُم مَبعوثونَ(4)
کیا یہ لوگ اس بات کا یقین نہیں رکھتے کہ وہ (مرنے کے بعد دوبارہ) اٹھائے جائیں گے،(4)
لِيَومٍ عَظيمٍ(5)
ایک بڑے سخت دن کے لئے،(5)
يَومَ يَقومُ النّاسُ لِرَبِّ العٰلَمينَ(6)
جس دن سب لوگ تمام جہانوں کے رب کے حضور کھڑے ہوں گے،(6)
كَلّا إِنَّ كِتٰبَ الفُجّارِ لَفى سِجّينٍ(7)
یہ حق ہے کہ بدکرداروں کا نامۂ اعمال سجین (یعنی دیوان خانۂ جہنم) میں ہے،(7)
وَما أَدرىٰكَ ما سِجّينٌ(8)
اور آپ نے کیا جانا کہ سجین کیا ہے،(8)
كِتٰبٌ مَرقومٌ(9)
(یہ قید خانۂ دوزخ میں اس بڑے دیوان کے اندر) لکھی ہوئی (ایک) کتاب ہے (جس میں ہر جہنمی کا نام اور اس کے اعمال درج ہیں)،(9)
وَيلٌ يَومَئِذٍ لِلمُكَذِّبينَ(10)
اس دن جھٹلانے والوں کے لئے تباہی ہوگی،(10)
الَّذينَ يُكَذِّبونَ بِيَومِ الدّينِ(11)
جو لوگ روزِ جزا کو جھٹلاتے ہیں،(11)
وَما يُكَذِّبُ بِهِ إِلّا كُلُّ مُعتَدٍ أَثيمٍ(12)
اور اسے کوئی نہیں جھٹلاتا سوائے ہر اس شخص کے جو سرکش و گنہگار ہے،(12)
إِذا تُتلىٰ عَلَيهِ ءايٰتُنا قالَ أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ(13)
جب اس پر ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا (یا سمجھتا) ہے کہ (یہ تو) اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں،(13)
كَلّا ۖ بَل ۜ رانَ عَلىٰ قُلوبِهِم ما كانوا يَكسِبونَ(14)
(ایسا) ہرگز نہیں بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) ان کے دلوں پر ان اَعمالِ (بد) کا زنگ چڑھ گیا ہے جو وہ کمایا کرتے تھے (اس لیے آیتیں ان کے دل پر اثر نہیں کرتیں)،(14)
كَلّا إِنَّهُم عَن رَبِّهِم يَومَئِذٍ لَمَحجوبونَ(15)
حق یہ ہے کہ بیشک اس دن انہیں اپنے ر ب کے دیدار سے (محروم کرنے کے لئے) پسِ پردہ کر دیا جائے گا،(15)
ثُمَّ إِنَّهُم لَصالُوا الجَحيمِ(16)
پھر وہ دوزخ میں جھونک دیئے جائیں گے،(16)
ثُمَّ يُقالُ هٰذَا الَّذى كُنتُم بِهِ تُكَذِّبونَ(17)
پھر ان سے کہا جائے گا: یہ وہ (عذابِ جہنم) ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے،(17)
كَلّا إِنَّ كِتٰبَ الأَبرارِ لَفى عِلِّيّينَ(18)
یہ (بھی) حق ہے کہ بیشک نیکوکاروں کا نوشتہ اعمال علّیّین (یعنی دیوان خانۂ جنت) میں ہے،(18)
وَما أَدرىٰكَ ما عِلِّيّونَ(19)
اور آپ نے کیا جانا کہ علّیّین کیا ہے،(19)
كِتٰبٌ مَرقومٌ(20)
(یہ جنت کے اعلیٰ درجہ میں اس بڑے دیوان کے اندر) لکھی ہوئی (ایک) کتاب ہے (جس میں ان جنتیوں کے نام اور اَعمال درج ہیں جنہیں اعلیٰ مقامات دئیے جائیں گے)،(20)
يَشهَدُهُ المُقَرَّبونَ(21)
اس جگہ (اللہ کے) مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں،(21)
إِنَّ الأَبرارَ لَفى نَعيمٍ(22)
بیشک نیکوکار (راحت و مسرت سے) نعمتوں والی جنت میں ہوں گے،(22)
عَلَى الأَرائِكِ يَنظُرونَ(23)
تختوں پر بیٹھے نظارے کر رہے ہوں گے،(23)
تَعرِفُ فى وُجوهِهِم نَضرَةَ النَّعيمِ(24)
آپ ان کے چہروں سے ہی نعمت و راحت کی رونق اور شگفتگی معلوم کر لیں گے،(24)
يُسقَونَ مِن رَحيقٍ مَختومٍ(25)
انہیں سر بہ مہر بڑی لذیذ شرابِ طہور پلائی جائے گی،(25)
خِتٰمُهُ مِسكٌ ۚ وَفى ذٰلِكَ فَليَتَنافَسِ المُتَنٰفِسونَ(26)
اس کی مُہر کستوری کی ہوگی، اور (یہی وہ شراب ہے) جس کے حصول میں شائقین کو جلد کوشش کر کے سبقت لینی چاہیے (کوئی شرابِ نعمت کا طالب و شائق ہے، کوئی شرابِ قربت کا اور کوئی شرابِ دیدار کا۔ ہر کسی کو اس کے شوق کے مطابق پلائی جائے گی)،(26)
وَمِزاجُهُ مِن تَسنيمٍ(27)
اور اس (شراب) میں آبِ تسنیم کی آمیزش ہوگی،(27)
عَينًا يَشرَبُ بِهَا المُقَرَّبونَ(28)
(یہ تسنیم) ایک چشمہ ہے جہاں سے صرف اہلِ قربت پیتے ہیں،(28)
إِنَّ الَّذينَ أَجرَموا كانوا مِنَ الَّذينَ ءامَنوا يَضحَكونَ(29)
بیشک مجرم لوگ ایمان والوں کا (دنیا میں) مذاق اڑایا کرتے تھے،(29)
وَإِذا مَرّوا بِهِم يَتَغامَزونَ(30)
اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ بازی کرتے تھے،(30)
وَإِذَا انقَلَبوا إِلىٰ أَهلِهِمُ انقَلَبوا فَكِهينَ(31)
اور جب اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتے تو (مومنوں کی تنگ دستی اور اپنی خوش حالی کا موازنہ کر کے) اِتراتے اور دل لگی کرتے ہوئے پلٹتے تھے،(31)
وَإِذا رَأَوهُم قالوا إِنَّ هٰؤُلاءِ لَضالّونَ(32)
اور جب یہ (مغرور لوگ) ان (کمزور حال مومنوں) کو دیکھتے تو کہتے: یقیناً یہ لوگ راہ سے بھٹک گئے ہیں (یعنی یہ دنیا گنوا بیٹھے ہیں اور آخرت تو ہے ہی فقط افسانہ)،(32)
وَما أُرسِلوا عَلَيهِم حٰفِظينَ(33)
حالانکہ وہ ان (کے حال) پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے،(33)
فَاليَومَ الَّذينَ ءامَنوا مِنَ الكُفّارِ يَضحَكونَ(34)
پس آج (دیکھو) اہلِ ایمان کافروں پر ہنس رہے ہیں،(34)
عَلَى الأَرائِكِ يَنظُرونَ(35)
سجے ہوئے تختوں پر بیٹھے (اپنی خوش حالی اور کافروں کی بدحالی کا) نظارہ کر رہے ہیں،(35)
هَل ثُوِّبَ الكُفّارُ ما كانوا يَفعَلونَ(36)
سو کیا کافروں کو اس (مذاق) کا پورا بدلہ دے دیا گیا جو وہ (مسلمانوں سے) کیا کرتے تھے،(36)