Al-Mumtahana( الممتحنة)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذوا عَدُوّى وَعَدُوَّكُم أَولِياءَ تُلقونَ إِلَيهِم بِالمَوَدَّةِ وَقَد كَفَروا بِما جاءَكُم مِنَ الحَقِّ يُخرِجونَ الرَّسولَ وَإِيّاكُم ۙ أَن تُؤمِنوا بِاللَّهِ رَبِّكُم إِن كُنتُم خَرَجتُم جِهٰدًا فى سَبيلى وَابتِغاءَ مَرضاتى ۚ تُسِرّونَ إِلَيهِم بِالمَوَدَّةِ وَأَنا۠ أَعلَمُ بِما أَخفَيتُم وَما أَعلَنتُم ۚ وَمَن يَفعَلهُ مِنكُم فَقَد ضَلَّ سَواءَ السَّبيلِ(1)
اے ایمان والو! تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم (اپنے) دوستی کے باعث اُن تک خبریں پہنچاتے ہو حالانکہ وہ اس حق کے ہی مُنکر ہیں جو تمہارے پاس آیا ہے، وہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور تم کو اس وجہ سے (تمہارے وطن سے) نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر جو تمہارا پروردگار ہے، ایمان لے آئے ہو۔ اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے اور میری رضا تلاش کرنے کے لئے نکلے ہو (تو پھر اُن سے دوستی نہ رکھو) تم اُن کی طرف دوستی کے خفیہ پیغام بھیجتے ہو حالانکہ میں خوب جانتا ہوں جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم آشکار کرتے ہو، اور جو شخص بھی تم میں سے یہ (حرکت) کرے سو وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا ہے،(1)
إِن يَثقَفوكُم يَكونوا لَكُم أَعداءً وَيَبسُطوا إِلَيكُم أَيدِيَهُم وَأَلسِنَتَهُم بِالسّوءِ وَوَدّوا لَو تَكفُرونَ(2)
اگر وہ تم پر قدرت پا لیں تو (دیکھنا) وہ تمہارے (کھلے) دشمن ہوں گے اور وہ اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں تمہاری طرف برائی کے ساتھ دراز کریں گے اور آرزو مند ہوں گے کہ تم (کسی طرح) کافر ہوجاؤ،(2)
لَن تَنفَعَكُم أَرحامُكُم وَلا أَولٰدُكُم ۚ يَومَ القِيٰمَةِ يَفصِلُ بَينَكُم ۚ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ(3)
تمہیں قیامت کے دن ہرگز نہ تمہاری (کافر و مشرک) قرابتیں فائدہ دیں گی اور نہ تمہاری (کافر و مشرک) اولاد، (اُس دن اللہ) تمہارے درمیان مکمل جدائی کر دے گا (مومن جنت میں اور کافر دوزخ میں بھیج دیئے جائیں گے)، اور اللہ اُن کاموں کو خوب دیکھنے والا ہے جو تم کر رہے ہو،(3)
قَد كانَت لَكُم أُسوَةٌ حَسَنَةٌ فى إِبرٰهيمَ وَالَّذينَ مَعَهُ إِذ قالوا لِقَومِهِم إِنّا بُرَءٰؤُا۟ مِنكُم وَمِمّا تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ كَفَرنا بِكُم وَبَدا بَينَنا وَبَينَكُمُ العَدٰوَةُ وَالبَغضاءُ أَبَدًا حَتّىٰ تُؤمِنوا بِاللَّهِ وَحدَهُ إِلّا قَولَ إِبرٰهيمَ لِأَبيهِ لَأَستَغفِرَنَّ لَكَ وَما أَملِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَيءٍ ۖ رَبَّنا عَلَيكَ تَوَكَّلنا وَإِلَيكَ أَنَبنا وَإِلَيكَ المَصيرُ(4)
بیشک تمہارے لئے ابراہیم (علیہ السلام) میں اور اُن کے ساتھیوں میں بہترین نمونۂ (اقتداء) ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: ہم تم سے اور اُن بتوں سے جن کی تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو کلیتہً بیزار (اور لاتعلق) ہیں، ہم نے تم سب کا کھلا انکار کیا ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور نفرت و عناد ہمیشہ کے لئے ظاہر ہوچکا، یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لے آؤ، مگر ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے (پرورش کرنے والے) باپ سے یہ کہنا کہ میں تمہارے لئے ضرور بخشش طلب کروں گا، (فقط پہلے کا کیا ہوا ایک وعدہ تھا جو انہوں نے پورا کر دیا اور ساتھ یوں جتا بھی دیا) اور یہ کہ میں تمہارے لئے (تمہارے کفر و شرک کے باعث) اللہ کے حضور کسی چیز کا مالک نہیں ہوں۔ (پھر وہ یہ دعا کر کے قوم سے الگ ہوگئے:) اے ہمارے رب! ہم نے تجھ پر ہی بھروسہ کیا اور ہم نے تیری طرف ہی رجوع کیا اور (سب کو) تیری ہی طرف لوٹنا ہے،(4)
رَبَّنا لا تَجعَلنا فِتنَةً لِلَّذينَ كَفَروا وَاغفِر لَنا رَبَّنا ۖ إِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الحَكيمُ(5)
اے ہمارے رب! تو ہمیں کافروں کے لئے سببِ آزمائش نہ بنا (یعنی انہیں ہم پر مسلّط نہ کر) اور ہمیں بخش دے، اے ہمارے پروردگار! بیشک تو ہی غلبہ و عزت والا بڑی حکمت والا ہے،(5)
لَقَد كانَ لَكُم فيهِم أُسوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كانَ يَرجُوا اللَّهَ وَاليَومَ الءاخِرَ ۚ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الغَنِىُّ الحَميدُ(6)
بیشک تمہارے لئے ان میں بہترین نمونۂ (اِقتداء) ہے (خاص طور پر) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ (کی بارگاہ میں حاضری) کی اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے، اور جو شخص رُوگردانی کرتا ہے تو بیشک اللہ بے نیاز اور لائقِ ہر حمد و ثناء ہے،(6)
۞ عَسَى اللَّهُ أَن يَجعَلَ بَينَكُم وَبَينَ الَّذينَ عادَيتُم مِنهُم مَوَدَّةً ۚ وَاللَّهُ قَديرٌ ۚ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ(7)
عجب نہیں کہ اللہ تمہارے اور اُن میں سے بعض لوگوں کے درمیان جن سے تمہاری دشمنی ہے (کسی وقت بعد میں) دوستی پیدا کر دے، اور اللہ بڑی قدرت والا ہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(7)
لا يَنهىٰكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذينَ لَم يُقٰتِلوكُم فِى الدّينِ وَلَم يُخرِجوكُم مِن دِيٰرِكُم أَن تَبَرّوهُم وَتُقسِطوا إِلَيهِم ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُقسِطينَ(8)
اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں فرماتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے (یعنی وطن سے) نکالا ہے کہ تم ان سے بھلائی کا سلوک کرو اور اُن سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو، بیشک اللہ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے،(8)
إِنَّما يَنهىٰكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذينَ قٰتَلوكُم فِى الدّينِ وَأَخرَجوكُم مِن دِيٰرِكُم وَظٰهَروا عَلىٰ إِخراجِكُم أَن تَوَلَّوهُم ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم فَأُولٰئِكَ هُمُ الظّٰلِمونَ(9)
اللہ تو محض تمہیں ایسے لوگوں سے دوستی کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں (یعنی وطن) سے نکالا اور تمہارے باہر نکالے جانے پر (تمہارے دشمنوں کی) مدد کی۔ اور جو شخص اُن سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں،(9)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا جاءَكُمُ المُؤمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامتَحِنوهُنَّ ۖ اللَّهُ أَعلَمُ بِإيمٰنِهِنَّ ۖ فَإِن عَلِمتُموهُنَّ مُؤمِنٰتٍ فَلا تَرجِعوهُنَّ إِلَى الكُفّارِ ۖ لا هُنَّ حِلٌّ لَهُم وَلا هُم يَحِلّونَ لَهُنَّ ۖ وَءاتوهُم ما أَنفَقوا ۚ وَلا جُناحَ عَلَيكُم أَن تَنكِحوهُنَّ إِذا ءاتَيتُموهُنَّ أُجورَهُنَّ ۚ وَلا تُمسِكوا بِعِصَمِ الكَوافِرِ وَسـَٔلوا ما أَنفَقتُم وَليَسـَٔلوا ما أَنفَقوا ۚ ذٰلِكُم حُكمُ اللَّهِ ۖ يَحكُمُ بَينَكُم ۚ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ(10)
اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو انہیں اچھی طرح جانچ لیا کرو، اللہ اُن کے ایمان (کی حقیقت) سے خوب آگاہ ہے، پھر اگر تمہیں اُن کے مومن ہونے کا یقین ہو جائے تو انہیں کافروں کی طرف واپس نہ بھیجو، نہ یہ (مومنات) اُن (کافروں) کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ (کفّار) اِن (مومن عورتوں) کے لئے حلال ہیں، اور اُن (کافروں) نے جو (مال بصورتِ مَہر اِن پر) خرچ کیا ہو وہ اُن کو ادا کر دو، اور تم پر اس (بات) میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اِن سے نکاح کر لو جبکہ تم اُن (عورتوں) کا مَہر انہیں ادا کر دو، اور (اے مسلمانو!) تم بھی کافر عورتوں کو (اپنے) عقدِ نکاح میں نہ روکے رکھو اور تم (کفّار سے) وہ (مال) طلب کر لو جو تم نے (اُن عورتوں پر بصورتِ مَہر) خرچ کیا تھا اور وہ (کفّار تم سے) وہ (مال) مانگ لیں جو انہوں نے (اِن عورتوں پر بصورتِ مَہر) خرچ کیا تھا، یہی اللہ کا حکم ہے، اور وہ تمہارے درمیان فیصلہ فرما رہا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،(10)
وَإِن فاتَكُم شَيءٌ مِن أَزوٰجِكُم إِلَى الكُفّارِ فَعاقَبتُم فَـٔاتُوا الَّذينَ ذَهَبَت أَزوٰجُهُم مِثلَ ما أَنفَقوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذى أَنتُم بِهِ مُؤمِنونَ(11)
اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی تم سے چھوٹ کر کافروں کی طرف چلی جائے پھر (جب) تم جنگ میں غالب آجاؤ اور مالِ غنیمت پاؤ تو (اس میں سے) ان لوگوں کو جن کی عورتیں چلی گئی تھیں اس قدر (مال) ادا کر دو جتنا وہ (اُن کے مَہر میں)خرچ کر چکے تھے، اور اُس اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو،(11)
يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ إِذا جاءَكَ المُؤمِنٰتُ يُبايِعنَكَ عَلىٰ أَن لا يُشرِكنَ بِاللَّهِ شَيـًٔا وَلا يَسرِقنَ وَلا يَزنينَ وَلا يَقتُلنَ أَولٰدَهُنَّ وَلا يَأتينَ بِبُهتٰنٍ يَفتَرينَهُ بَينَ أَيديهِنَّ وَأَرجُلِهِنَّ وَلا يَعصينَكَ فى مَعروفٍ ۙ فَبايِعهُنَّ وَاستَغفِر لَهُنَّ اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ(12)
اے نبی! جب آپ کی خدمت میں مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور چوری نہیں کریں گی اور بدکاری نہیں کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان سے کوئی جھوٹا بہتان گھڑ کر نہیں لائیں گی (یعنی اپنے شوہر کو دھوکہ دیتے ہوئے کسی غیر کے بچے کو اپنے پیٹ سے جنا ہوا نہیں بتائیں گی) اور (کسی بھی) امرِ شریعت میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی، تو آپ اُن سے بیعت لے لیا کریں اور اُن کے لئے اللہ سے بخشش طلب فرمائیں، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(12)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَوَلَّوا قَومًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِم قَد يَئِسوا مِنَ الءاخِرَةِ كَما يَئِسَ الكُفّارُ مِن أَصحٰبِ القُبورِ(13)
اے ایمان والو! ایسے لوگوں سے دوستی مت رکھو جن پر اللہ غضبناک ہوا ہے بیشک وہ آخرت سے (اس طرح) مایوس ہو چکے ہیں جیسے کفار اہلِ قبور سے مایوس ہیں،(13)