Al-Mulk( الملك)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ تَبٰرَكَ الَّذى بِيَدِهِ المُلكُ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(1)
وہ ذات نہایت بابرکت ہے جس کے دستِ (قدرت) میں (تمام جہانوں کی) سلطنت ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے،(1)
الَّذى خَلَقَ المَوتَ وَالحَيوٰةَ لِيَبلُوَكُم أَيُّكُم أَحسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ العَزيزُ الغَفورُ(2)
جس نے موت اور زندگی کو (اِس لئے) پیدا فرمایا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے، اور وہ غالب ہے بڑا بخشنے والا ہے،(2)
الَّذى خَلَقَ سَبعَ سَمٰوٰتٍ طِباقًا ۖ ما تَرىٰ فى خَلقِ الرَّحمٰنِ مِن تَفٰوُتٍ ۖ فَارجِعِ البَصَرَ هَل تَرىٰ مِن فُطورٍ(3)
جس نے سات (یا متعدّد) آسمانی کرّے باہمی مطابقت کے ساتھ (طبق دَر طبق) پیدا فرمائے، تم (خدائے) رحمان کے نظامِ تخلیق میں کوئی بے ضابطگی اور عدمِ تناسب نہیں دیکھو گے، سو تم نگاہِ (غور و فکر) پھیر کر دیکھو، کیا تم اس (تخلیق) میں کوئی شگاف یا خلل (یعنی شکستگی یا اِنقطاع) دیکھتے ہو،(3)
ثُمَّ ارجِعِ البَصَرَ كَرَّتَينِ يَنقَلِب إِلَيكَ البَصَرُ خاسِئًا وَهُوَ حَسيرٌ(4)
تم پھر نگاہِ (تحقیق) کو بار بار (مختلف زاویوں اور سائنسی طریقوں سے) پھیر کر دیکھو، (ہر بار) نظر تمہاری طرف تھک کر پلٹ آئے گی اور وہ (کوئی بھی نقص تلاش کرنے میں) ناکام ہوگی،(4)
وَلَقَد زَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنيا بِمَصٰبيحَ وَجَعَلنٰها رُجومًا لِلشَّيٰطينِ ۖ وَأَعتَدنا لَهُم عَذابَ السَّعيرِ(5)
اور بے شک ہم نے سب سے قریبی آسمانی کائنات کو (ستاروں، سیاروں، دیگر خلائی کرّوں اور ذرّوں کی شکل میں) چراغوں سے مزیّن فرما دیا ہے، اور ہم نے ان (ہی میں سے بعض) کو شیطانوں (یعنی سرکش قوتوں) کو مار بھگانے (یعنی ان کے منفی اَثرات ختم کرنے) کا ذریعہ (بھی) بنایا ہے، اور ہم نے ان (شیطانوں) کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے،(5)
وَلِلَّذينَ كَفَروا بِرَبِّهِم عَذابُ جَهَنَّمَ ۖ وَبِئسَ المَصيرُ(6)
اور ایسے لوگوں کے لئے جنہوں نے اپنے رب کا اِنکار کیا دوزخ کا عذاب ہے، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے،(6)
إِذا أُلقوا فيها سَمِعوا لَها شَهيقًا وَهِىَ تَفورُ(7)
جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کی خوف ناک آواز سنیں گے اور وہ (آگ) جوش مار رہی ہوگی،(7)
تَكادُ تَمَيَّزُ مِنَ الغَيظِ ۖ كُلَّما أُلقِىَ فيها فَوجٌ سَأَلَهُم خَزَنَتُها أَلَم يَأتِكُم نَذيرٌ(8)
گویا (ابھی) شدتِ غضب سے پھٹ کر پارہ پارہ ہو جائے گی، جب اس میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے: کیا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا تھا،(8)
قالوا بَلىٰ قَد جاءَنا نَذيرٌ فَكَذَّبنا وَقُلنا ما نَزَّلَ اللَّهُ مِن شَيءٍ إِن أَنتُم إِلّا فى ضَلٰلٍ كَبيرٍ(9)
وہ کہیں گے: کیوں نہیں! بے شک ہمارے پاس ڈر سنانے والا آیا تھا تو ہم نے جھٹلا دیا اور ہم نے کہا کہ اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی، تم تو محض بڑی گمراہی میں (پڑے ہوئے) ہو،(9)
وَقالوا لَو كُنّا نَسمَعُ أَو نَعقِلُ ما كُنّا فى أَصحٰبِ السَّعيرِ(10)
اور کہیں گے: اگر ہم (حق کو) سنتے یا سمجھتے ہوتے تو ہم (آج) اہلِ جہنم میں (شامل) نہ ہوتے،(10)
فَاعتَرَفوا بِذَنبِهِم فَسُحقًا لِأَصحٰبِ السَّعيرِ(11)
پس وہ اپنے گناہ کا اِعتراف کر لیں گے، سو دوزخ والوں کے لئے (رحمتِ اِلٰہی سے) دُوری (مقرر) ہے،(11)
إِنَّ الَّذينَ يَخشَونَ رَبَّهُم بِالغَيبِ لَهُم مَغفِرَةٌ وَأَجرٌ كَبيرٌ(12)
بے شک جو لوگ بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور بڑا اَجر ہے،(12)
وَأَسِرّوا قَولَكُم أَوِ اجهَروا بِهِ ۖ إِنَّهُ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ(13)
اور تم لوگ اپنی بات چھپا کر کہو یا اُسے بلند آواز میں کہو، یقیناً وہ سینوں کی (چھپی) باتوں کو (بھی) خوب جانتا ہے،(13)
أَلا يَعلَمُ مَن خَلَقَ وَهُوَ اللَّطيفُ الخَبيرُ(14)
بھلا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے؟ حالانکہ وہ بڑا باریک بین (ہر چیز سے) خبردار ہے،(14)
هُوَ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَرضَ ذَلولًا فَامشوا فى مَناكِبِها وَكُلوا مِن رِزقِهِ ۖ وَإِلَيهِ النُّشورُ(15)
وُہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم و مسخر کر دیا، سو تم اس کے راستوں میں چلو پھرو، اور اُس کے (دئیے ہوئے) رِزق میں سے کھاؤ، اور اُسی کی طرف (مرنے کے بعد) اُٹھ کر جانا ہے،(15)
ءَأَمِنتُم مَن فِى السَّماءِ أَن يَخسِفَ بِكُمُ الأَرضَ فَإِذا هِىَ تَمورُ(16)
کیا تم آسمان والے (رب) سے بے خوف ہو گئے ہو کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے (اس طرح) کہ وہ اچانک لرزنے لگے،(16)
أَم أَمِنتُم مَن فِى السَّماءِ أَن يُرسِلَ عَلَيكُم حاصِبًا ۖ فَسَتَعلَمونَ كَيفَ نَذيرِ(17)
کیا تم آسمان والے (رب) سے بے خوف ہو گئے ہو کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا بھیج دے؟ سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے،(17)
وَلَقَد كَذَّبَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم فَكَيفَ كانَ نَكيرِ(18)
اور بے شک ان لوگوں نے (بھی) جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے تھے، سو میرا اِنکار کیسا (عبرت ناک ثابت) ہوا،(18)
أَوَلَم يَرَوا إِلَى الطَّيرِ فَوقَهُم صٰفّٰتٍ وَيَقبِضنَ ۚ ما يُمسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحمٰنُ ۚ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ بَصيرٌ(19)
کیا اُنہوں نے پرندوں کو اپنے اوپر پر پھیلائے ہوئے اور (کبھی) پر سمیٹے ہوئے نہیں دیکھا؟ اُنہیں (فضا میں گرنے سے) کوئی نہیں روک سکتا سوائے رحمان کے (بنائے ہوئے قانون کے)، بے شک وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے،(19)
أَمَّن هٰذَا الَّذى هُوَ جُندٌ لَكُم يَنصُرُكُم مِن دونِ الرَّحمٰنِ ۚ إِنِ الكٰفِرونَ إِلّا فى غُرورٍ(20)
بھلا کوئی ایسا ہے جو تمہاری فوج بن کر (خدائے) رحمان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے؟ کافر محض دھوکہ میں (مبتلا) ہیں،(20)
أَمَّن هٰذَا الَّذى يَرزُقُكُم إِن أَمسَكَ رِزقَهُ ۚ بَل لَجّوا فى عُتُوٍّ وَنُفورٍ(21)
بھلا کوئی ایسا ہے جو تمہیں رِزق دے سکے اگر (اللہ تم سے) اپنا رِزق روک لے؟ بلکہ وہ سرکشی اور (حق سے) نفرت میں مضبوطی سے اَڑے ہوئے ہیں،(21)
أَفَمَن يَمشى مُكِبًّا عَلىٰ وَجهِهِ أَهدىٰ أَمَّن يَمشى سَوِيًّا عَلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(22)
کیا وہ شخص جو منہ کے بل اوندھا چل رہا ہے زیادہ راہِ راست پر ہے یا وہ شخص جو سیدھی حالت میں صحیح راہ پر گامزن ہے؟،(22)
قُل هُوَ الَّذى أَنشَأَكُم وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمعَ وَالأَبصٰرَ وَالأَفـِٔدَةَ ۖ قَليلًا ما تَشكُرونَ(23)
آپ فرما دیجئے: وُہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا اور تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دِل بنائے، تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو،(23)
قُل هُوَ الَّذى ذَرَأَكُم فِى الأَرضِ وَإِلَيهِ تُحشَرونَ(24)
فرما دیجئے: وُہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا اور تم (روزِ قیامت) اُسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے،(24)
وَيَقولونَ مَتىٰ هٰذَا الوَعدُ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(25)
اور وہ کہتے ہیں: یہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو،(25)
قُل إِنَّمَا العِلمُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّما أَنا۠ نَذيرٌ مُبينٌ(26)
فرما دیجئے کہ (اُس کے وقت کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور میں تو صرف واضح ڈر سنانے والا ہوں (اگر وقت بتا دیا جائے تو ڈر ختم ہو جائے گا)،(26)
فَلَمّا رَأَوهُ زُلفَةً سيـَٔت وُجوهُ الَّذينَ كَفَروا وَقيلَ هٰذَا الَّذى كُنتُم بِهِ تَدَّعونَ(27)
پھر جب اس (دن) کو قریب دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ کر سیاہ ہو جائیں گے، اور (ان سے) کہا جائے گا: یہی وہ (وعدہ) ہے جس کے (جلد ظاہر کیے جانے کے) تم بہت طلب گار تھے،(27)
قُل أَرَءَيتُم إِن أَهلَكَنِىَ اللَّهُ وَمَن مَعِىَ أَو رَحِمَنا فَمَن يُجيرُ الكٰفِرينَ مِن عَذابٍ أَليمٍ(28)
فرما دیجئے: بھلا یہ بتاؤ اگر اللہ مجھے موت سے ہم کنار کر دے (جیسے تم خواہش کرتے ہو) اور جو میرے ساتھ ہیں (ان کو بھی)، یا ہم پر رحم فرمائے (یعنی ہماری موت کو مؤخر کر دے) تو (ان دونوں صورتوں میں) کون ہے جو کافروں کو دردناک عذاب سے پناہ دے گا،(28)
قُل هُوَ الرَّحمٰنُ ءامَنّا بِهِ وَعَلَيهِ تَوَكَّلنا ۖ فَسَتَعلَمونَ مَن هُوَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(29)
فرما دیجئے: وُہی (خدائے) رحمان ہے جس پر ہم ایمان لائے ہیں اور اُسی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے، پس تم عنقریب جان لو گے کہ کون شخص کھلی گمراہی میں ہے،(29)
قُل أَرَءَيتُم إِن أَصبَحَ ماؤُكُم غَورًا فَمَن يَأتيكُم بِماءٍ مَعينٍ(30)
فرما دیجئے: اگر تمہارا پانی زمین میں بہت نیچے اتر جائے (یعنی خشک ہو جائے) تو کون ہے جو تمہیں (زمین پر) بہتا ہوا پانی لا دے،(30)