Al-Mujadila ( المجادلة)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ قَد سَمِعَ اللَّهُ قَولَ الَّتى تُجٰدِلُكَ فى زَوجِها وَتَشتَكى إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسمَعُ تَحاوُرَكُما ۚ إِنَّ اللَّهَ سَميعٌ بَصيرٌ(1)
بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ سے فریاد کر رہی تھی، اور اللہ آپ دونوں کے باہمی سوال و جواب سن رہا تھا، بیشک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے،(1)
الَّذينَ يُظٰهِرونَ مِنكُم مِن نِسائِهِم ما هُنَّ أُمَّهٰتِهِم ۖ إِن أُمَّهٰتُهُم إِلَّا الّٰـٔى وَلَدنَهُم ۚ وَإِنَّهُم لَيَقولونَ مُنكَرًا مِنَ القَولِ وَزورًا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفورٌ(2)
تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظِہار کر بیٹھتے ہیں (یعنی یہ کہہ بیٹھتے ہیں کہ تم مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہو)، تو (یہ کہنے سے) وہ اُن کی مائیں نہیں (ہوجاتیں)، اُن کی مائیں تو صرف وہی ہیں جنہوں نے اُن کو جَنا ہے، اور بیشک وہ لوگ بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں، اور بیشک اﷲ ضرور درگزر فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہے،(2)
وَالَّذينَ يُظٰهِرونَ مِن نِسائِهِم ثُمَّ يَعودونَ لِما قالوا فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مِن قَبلِ أَن يَتَماسّا ۚ ذٰلِكُم توعَظونَ بِهِ ۚ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ خَبيرٌ(3)
اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں پھر جو کہا ہے اس سے پلٹنا چاہیں تو ایک گردن (غلام یا باندی) کا آزاد کرنا لازم ہے قبل اِس کے کہ وہ ایک دوسرے کو مَس کریں، تمہیں اس بات کی نصیحت کی جاتی ہے، اور اللہ اُن کاموں سے خوب آگاہ ہے جو تم کرتے ہو،(3)
فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ شَهرَينِ مُتَتابِعَينِ مِن قَبلِ أَن يَتَماسّا ۖ فَمَن لَم يَستَطِع فَإِطعامُ سِتّينَ مِسكينًا ۚ ذٰلِكَ لِتُؤمِنوا بِاللَّهِ وَرَسولِهِ ۚ وَتِلكَ حُدودُ اللَّهِ ۗ وَلِلكٰفِرينَ عَذابٌ أَليمٌ(4)
پھر جسے (غلام یا باندی) میسّر نہ ہو تو دو ماہ متواتر روزے رکھنا (لازم ہے) قبل اِس کے کہ وہ ایک دوسرے کو مَس کریں، پھر جو شخص اِس کی (بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (لازم ہے)، یہ اِس لئے کہ تم اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان رکھو۔ اور یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدود ہیں، اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے،(4)
إِنَّ الَّذينَ يُحادّونَ اللَّهَ وَرَسولَهُ كُبِتوا كَما كُبِتَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ وَقَد أَنزَلنا ءايٰتٍ بَيِّنٰتٍ ۚ وَلِلكٰفِرينَ عَذابٌ مُهينٌ(5)
بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عداوت رکھتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل کئے جائیں گے جس طرح اُن سے پہلے لوگ ذلیل کئے جاچکے ہیں اور بیشک ہم نے واضح آیتیں نازل فرما دی ہیں، اور کافروں کے لئے ذِلت انگیز عذاب ہے،(5)
يَومَ يَبعَثُهُمُ اللَّهُ جَميعًا فَيُنَبِّئُهُم بِما عَمِلوا ۚ أَحصىٰهُ اللَّهُ وَنَسوهُ ۚ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ شَهيدٌ(6)
جس دن اللہ ان سب لوگوں کو (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے گا پھر انہیں اُن کے اعمال سے آگاہ فرمائے گا، اللہ نے (ان کے) ہر عمل کو شمار کر رکھا ہے حالانکہ وہ اسے بھول (بھی) چکے ہیں، اور اللہ ہر چیز پر مطّلع (اور آگاہ) ہے،(6)
أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعلَمُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۖ ما يَكونُ مِن نَجوىٰ ثَلٰثَةٍ إِلّا هُوَ رابِعُهُم وَلا خَمسَةٍ إِلّا هُوَ سادِسُهُم وَلا أَدنىٰ مِن ذٰلِكَ وَلا أَكثَرَ إِلّا هُوَ مَعَهُم أَينَ ما كانوا ۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِما عَمِلوا يَومَ القِيٰمَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ(7)
(اے انسان!) کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ اُن سب چیزوں کو جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، کہیں بھی تین (آدمیوں) کی کوئی سرگوشی نہیں ہوتی مگر یہ کہ وہ (اللہ اپنے محیط علم و آگہی کے ساتھ) اُن کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی پانچ (آدمیوں) کی سرگوشی ہوتی ہے مگر وہ (اپنے علمِ محیط کے ساتھ) اُن کا چھٹا ہوتا ہے، اور نہ اس سے کم (لوگوں) کی اور نہ زیادہ کی مگر وہ (ہمیشہ) اُن کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوتے ہیں، پھر وہ قیامت کے دن انہیں اُن کاموں سے خبردار کر دے گا جو وہ کرتے رہے تھے، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے،(7)
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ نُهوا عَنِ النَّجوىٰ ثُمَّ يَعودونَ لِما نُهوا عَنهُ وَيَتَنٰجَونَ بِالإِثمِ وَالعُدوٰنِ وَمَعصِيَتِ الرَّسولِ وَإِذا جاءوكَ حَيَّوكَ بِما لَم يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقولونَ فى أَنفُسِهِم لَولا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِما نَقولُ ۚ حَسبُهُم جَهَنَّمُ يَصلَونَها ۖ فَبِئسَ المَصيرُ(8)
کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں سرگوشیوں سے منع کیا گیا تھا پھر وہ لوگ وہی کام کرنے لگے جس سے روکے گئے تھے اور وہ گناہ اور سرکشی اور نافرمانئ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعلق سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس حاضر ہوتے ہیں تو آپ کو اُن (نازیبا) کلمات کے ساتھ سلام کرتے ہیں جن سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں فرمایا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ رسول سچے ہیں تو) اللہ ہمیں اِن (باتوں) پر عذاب کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں؟ انہیں دوزخ (کا عذاب) ہی کافی ہے، وہ اسی میں داخل ہوں گے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے،(8)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا تَنٰجَيتُم فَلا تَتَنٰجَوا بِالإِثمِ وَالعُدوٰنِ وَمَعصِيَتِ الرَّسولِ وَتَنٰجَوا بِالبِرِّ وَالتَّقوىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذى إِلَيهِ تُحشَرونَ(9)
اے ایمان والو! جب تم آپس میں سرگوشی کرو تو گناہ اور ظلم و سرکشی اور نافرمانئ رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سرگوشی نہ کیا کرو اور نیکی اور پرہیزگاری کی بات ایک دوسرے کے کان میں کہہ لیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تم سب جمع کئے جاؤ گے،(9)
إِنَّمَا النَّجوىٰ مِنَ الشَّيطٰنِ لِيَحزُنَ الَّذينَ ءامَنوا وَلَيسَ بِضارِّهِم شَيـًٔا إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَليَتَوَكَّلِ المُؤمِنونَ(10)
(منفی اور تخریبی) سرگوشی محض شیطان ہی کی طرف سے ہوتی ہے تاکہ وہ ایمان والوں کو پریشان کرے حالانکہ وہ (شیطان) اُن (مومنوں) کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا مگر اللہ کے حکم سے، اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے،(10)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا قيلَ لَكُم تَفَسَّحوا فِى المَجٰلِسِ فَافسَحوا يَفسَحِ اللَّهُ لَكُم ۖ وَإِذا قيلَ انشُزوا فَانشُزوا يَرفَعِ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا مِنكُم وَالَّذينَ أوتُوا العِلمَ دَرَجٰتٍ ۚ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ خَبيرٌ(11)
اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ (اپنی) مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو کشادہ ہو جایا کرو اللہ تمہیں کشادگی عطا فرمائے گا اور جب کہا جائے کھڑے ہو جاؤ تو تم کھڑے ہوجایا کرو، اللہ اُن لوگوں کے درجات بلند فرما دے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم سے نوازا گیا، اور اللہ اُن کاموں سے جو تم کرتے ہو خوب آگاہ ہے،(11)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا نٰجَيتُمُ الرَّسولَ فَقَدِّموا بَينَ يَدَى نَجوىٰكُم صَدَقَةً ۚ ذٰلِكَ خَيرٌ لَكُم وَأَطهَرُ ۚ فَإِن لَم تَجِدوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ(12)
اے ایمان والو! جب تم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی راز کی بات تنہائی میں عرض کرنا چاہو تو اپنی رازدارانہ بات کہنے سے پہلے کچھ صدقہ و خیرات کر لیا کرو، یہ (عمل) تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ تر ہے، پھر اگر (خیرات کے لئے) کچھ نہ پاؤ تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے،(12)
ءَأَشفَقتُم أَن تُقَدِّموا بَينَ يَدَى نَجوىٰكُم صَدَقٰتٍ ۚ فَإِذ لَم تَفعَلوا وَتابَ اللَّهُ عَلَيكُم فَأَقيمُوا الصَّلوٰةَ وَءاتُوا الزَّكوٰةَ وَأَطيعُوا اللَّهَ وَرَسولَهُ ۚ وَاللَّهُ خَبيرٌ بِما تَعمَلونَ(13)
کیا (بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں) تنہائی و رازداری کے ساتھ بات کرنے سے قبل صدقات و خیرات دینے سے تم گھبرا گئے؟ پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور اللہ نے تم سے باز پرس اٹھا لی (یعنی یہ پابندی اٹھا دی) تو (اب) نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے رہو، اور اللہ تمہارے سب کاموں سے خوب آگاہ ہے،(13)
۞ أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ تَوَلَّوا قَومًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِم ما هُم مِنكُم وَلا مِنهُم وَيَحلِفونَ عَلَى الكَذِبِ وَهُم يَعلَمونَ(14)
کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسی جماعت کے ساتھ دوستی رکھتے ہیں جن پر اللہ نے غضب فرمایا، نہ وہ تم میں سے ہیں اور نہ اُن میں سے ہیں اور جھوٹی قَسمیں کھاتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں،(14)
أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم عَذابًا شَديدًا ۖ إِنَّهُم ساءَ ما كانوا يَعمَلونَ(15)
اللہ نے اُن کے لئے سخت عذاب تیار فرما رکھا ہے، بیشک وہ برا (کام) ہے جو وہ کر رہے ہیں،(15)
اتَّخَذوا أَيمٰنَهُم جُنَّةً فَصَدّوا عَن سَبيلِ اللَّهِ فَلَهُم عَذابٌ مُهينٌ(16)
انہوں نے اپنی (جھوٹی) قَسموں کو ڈھال بنا لیا ہے سو وہ (دوسروں کو) راہِ خدا سے روکتے ہیں، پس اُن کے لئے ذِلّت انگیز عذاب ہے،(16)
لَن تُغنِىَ عَنهُم أَموٰلُهُم وَلا أَولٰدُهُم مِنَ اللَّهِ شَيـًٔا ۚ أُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ(17)
اللہ (کے عذاب) سے ہرگز نہ ہی اُن کے مال انہیں بچا سکیں گے اور نہ اُن کی اولاد ہی (انہیں بچا سکے گی)، یہی لوگ اہلِ دوزخ ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں،(17)
يَومَ يَبعَثُهُمُ اللَّهُ جَميعًا فَيَحلِفونَ لَهُ كَما يَحلِفونَ لَكُم ۖ وَيَحسَبونَ أَنَّهُم عَلىٰ شَيءٍ ۚ أَلا إِنَّهُم هُمُ الكٰذِبونَ(18)
جس دن اللہ اُن سب کو (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے گا تو وہ اُس کے حضور (بھی) قَسمیں کھا جائیں گے جیسے تمہارے سامنے قَسمیں کھاتے ہیں اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ کسی (اچھی) شے (یعنی روِش) پر ہیں۔ آگاہ رہو کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں،(18)
استَحوَذَ عَلَيهِمُ الشَّيطٰنُ فَأَنسىٰهُم ذِكرَ اللَّهِ ۚ أُولٰئِكَ حِزبُ الشَّيطٰنِ ۚ أَلا إِنَّ حِزبَ الشَّيطٰنِ هُمُ الخٰسِرونَ(19)
اُن پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے سو اُس نے انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے، یہی لوگ شیطان کا لشکر ہیں۔ جان لو کہ بیشک شیطانی گروہ کے لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں،(19)
إِنَّ الَّذينَ يُحادّونَ اللَّهَ وَرَسولَهُ أُولٰئِكَ فِى الأَذَلّينَ(20)
بیشک جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عداوت رکھتے ہیں وہی ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں،(20)
كَتَبَ اللَّهُ لَأَغلِبَنَّ أَنا۠ وَرُسُلى ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزيزٌ(21)
اللہ نے لکھ دیا ہے کہ یقینا میں اور میرے رسول ضرور غالب ہو کر رہیں گے، بیشک اللہ بڑی قوت والا بڑے غلبہ والا ہے،(21)
لا تَجِدُ قَومًا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ يُوادّونَ مَن حادَّ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَلَو كانوا ءاباءَهُم أَو أَبناءَهُم أَو إِخوٰنَهُم أَو عَشيرَتَهُم ۚ أُولٰئِكَ كَتَبَ فى قُلوبِهِمُ الإيمٰنَ وَأَيَّدَهُم بِروحٍ مِنهُ ۖ وَيُدخِلُهُم جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها ۚ رَضِىَ اللَّهُ عَنهُم وَرَضوا عَنهُ ۚ أُولٰئِكَ حِزبُ اللَّهِ ۚ أَلا إِنَّ حِزبَ اللَّهِ هُمُ المُفلِحونَ(22)
آپ اُن لوگوں کو جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کبھی اس شخص سے دوستی کرتے ہوئے نہ پائیں گے جو اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دشمنی رکھتا ہے خواہ وہ اُن کے باپ (اور دادا) ہوں یا بیٹے (اور پوتے) ہوں یا اُن کے بھائی ہوں یا اُن کے قریبی رشتہ دار ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اُس (اللہ) نے ایمان ثبت فرما دیا ہے اور انہیں اپنی روح (یعنی فیضِ خاص) سے تقویت بخشی ہے، اور انہیں (ایسی) جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ اُن سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں، یہی اﷲ (والوں) کی جماعت ہے، یاد رکھو! بیشک اﷲ (والوں) کی جماعت ہی مراد پانے والی ہے،(22)