Al-Muddathth( المدّثر)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يٰأَيُّهَا المُدَّثِّرُ(1)
اے چادر اوڑھنے والے (حبیب!)،(1)
قُم فَأَنذِر(2)
اُٹھیں اور (لوگوں کو اللہ کا) ڈر سنائیں،(2)
وَرَبَّكَ فَكَبِّر(3)
اور اپنے رب کی بڑائی (اور عظمت) بیان فرمائیں،(3)
وَثِيابَكَ فَطَهِّر(4)
اور اپنے (ظاہر و باطن کے) لباس (پہلے کی طرح ہمیشہ) پاک رکھیں،(4)
وَالرُّجزَ فَاهجُر(5)
اور (حسبِ سابق گناہوں اور) بتوں سے الگ رہیں،(5)
وَلا تَمنُن تَستَكثِرُ(6)
اور (اس غرض سے کسی پر) احسان نہ کریں کہ اس سے زیادہ کے طالب ہوں،(6)
وَلِرَبِّكَ فَاصبِر(7)
اور آپ اپنے رب کے لئے صبر کیا کریں،(7)
فَإِذا نُقِرَ فِى النّاقورِ(8)
پھر جب (دوبارہ) صور میں پھونک ماری جائے گی،(8)
فَذٰلِكَ يَومَئِذٍ يَومٌ عَسيرٌ(9)
سو وہ دن (یعنی روزِ قیامت) بڑا ہی سخت دن ہوگا،(9)
عَلَى الكٰفِرينَ غَيرُ يَسيرٍ(10)
کافروں پر ہرگز آسان نہ ہوگا،(10)
ذَرنى وَمَن خَلَقتُ وَحيدًا(11)
آپ مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا (اِنتقام لینے کے لئے) چھوڑ دیں،(11)
وَجَعَلتُ لَهُ مالًا مَمدودًا(12)
اور میں نے اسے بہت وسیع مال مہیا کیا تھا،(12)
وَبَنينَ شُهودًا(13)
اور (اس کے سامنے) حاضر رہنے والے بیٹے (دئیے) تھے،(13)
وَمَهَّدتُ لَهُ تَمهيدًا(14)
اور میں نے اسے (سامانِ عیش و عشرت میں) خوب وُسعت دی تھی،(14)
ثُمَّ يَطمَعُ أَن أَزيدَ(15)
پھر (بھی) وہ حرص رکھتا ہے کہ میں اور زیادہ کروں،(15)
كَلّا ۖ إِنَّهُ كانَ لِءايٰتِنا عَنيدًا(16)
ہرگز (ایسا) نہ ہوگا، بے شک وہ ہماری آیتوں کا دشمن رہا ہے،(16)
سَأُرهِقُهُ صَعودًا(17)
عنقریب میں اسے سخت مشقت (کے عذاب) کی تکلیف دوں گا،(17)
إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ(18)
بے شک اس نے سوچ بچار کی اور (دِل میں) ایک تجویز مقرر کر لی،(18)
فَقُتِلَ كَيفَ قَدَّرَ(19)
بس اس پر (اللہ کی) مار (یعنی لعنت) ہو، اس نے کیسی تجویز کی،(19)
ثُمَّ قُتِلَ كَيفَ قَدَّرَ(20)
اس پر پھر (اللہ کی) مار (یعنی لعنت) ہو، اس نے کیسی تجویز کی،(20)
ثُمَّ نَظَرَ(21)
پھر اس نے (اپنی تجویز پر دوبارہ) غور کیا،(21)
ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ(22)
پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑا،(22)
ثُمَّ أَدبَرَ وَاستَكبَرَ(23)
پھر (حق سے) پیٹھ پھیر لی اور تکبّر کیا،(23)
فَقالَ إِن هٰذا إِلّا سِحرٌ يُؤثَرُ(24)
پھر کہنے لگا کہ یہ (قرآن) جادو کے سوا کچھ نہیں جو (اگلے جادوگروں سے) نقل ہوتا چلا آرہا ہے،(24)
إِن هٰذا إِلّا قَولُ البَشَرِ(25)
یہ (قرآن) بجز اِنسان کے کلام کے (اور کچھ) نہیں،(25)
سَأُصليهِ سَقَرَ(26)
میں عنقریب اسے دوزخ میں جھونک دوں گا،(26)
وَما أَدرىٰكَ ما سَقَرُ(27)
اور آپ کو کس نے بتایا ہے کہ سَقَر کیا ہے،(27)
لا تُبقى وَلا تَذَرُ(28)
وہ (ایسی آگ ہے جو) نہ باقی رکھتی ہے اور نہ چھوڑتی ہے،(28)
لَوّاحَةٌ لِلبَشَرِ(29)
(وہ) جسمانی کھال کو جھلسا کر سیاہ کر دینے والی ہے،(29)
عَلَيها تِسعَةَ عَشَرَ(30)
اس پر اُنیس (١٩ فرشتے داروغے مقرر) ہیں،(30)
وَما جَعَلنا أَصحٰبَ النّارِ إِلّا مَلٰئِكَةً ۙ وَما جَعَلنا عِدَّتَهُم إِلّا فِتنَةً لِلَّذينَ كَفَروا لِيَستَيقِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ وَيَزدادَ الَّذينَ ءامَنوا إيمٰنًا ۙ وَلا يَرتابَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ وَالمُؤمِنونَ ۙ وَلِيَقولَ الَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ وَالكٰفِرونَ ماذا أَرادَ اللَّهُ بِهٰذا مَثَلًا ۚ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَن يَشاءُ وَيَهدى مَن يَشاءُ ۚ وَما يَعلَمُ جُنودَ رَبِّكَ إِلّا هُوَ ۚ وَما هِىَ إِلّا ذِكرىٰ لِلبَشَرِ(31)
اور ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے ہی مقرر کئے ہیں اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کے لئے محض آزمائش کے طور پر مقرر کی ہے تاکہ اہلِ کتاب یقین کر لیں (کہ قرآن اور نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حق ہے کیونکہ ان کی کتب میں بھی یہی تعداد بیان کی گئی تھی) اور اہلِ ایمان کا ایمان (اس تصدیق سے) مزید بڑھ جائے، اور اہلِ کتاب اور مومنین (اس کی حقانیت میں) شک نہ کر سکیں، اور تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے اور کفار یہ کہیں کہ اس (تعداد کی) مثال سے اللہ کی مراد کیا ہے؟ اسی طرح اللہ (ایک ہی بات سے) جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہراتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے، اور آپ کے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور یہ (دوزخ کا بیان) اِنسان کی نصیحت کے لئے ہی ہے،(31)
كَلّا وَالقَمَرِ(32)
ہاں، چاند کی قَسم (جس کا گھٹنا، بڑھنا اور غائب ہو جانا گواہی ہے)،(32)
وَالَّيلِ إِذ أَدبَرَ(33)
اور رات کی قَسم جب وہ پیٹھ پھیر کر رخصت ہونے لگے،(33)
وَالصُّبحِ إِذا أَسفَرَ(34)
اور صبح کی قَسم جب وہ روشن ہو جائے،(34)
إِنَّها لَإِحدَى الكُبَرِ(35)
بے شک یہ (دوزخ) بہت بڑی آفتوں میں سے ایک ہے،(35)
نَذيرًا لِلبَشَرِ(36)
انسان کو ڈرانے والی ہے،(36)
لِمَن شاءَ مِنكُم أَن يَتَقَدَّمَ أَو يَتَأَخَّرَ(37)
(یعنی) اس شخص کے لئے جو تم میں سے (نیکی میں) آگے بڑھنا چاہے یا جو (بدی میں پھنس کر) پیچھے رہ جائے،(37)
كُلُّ نَفسٍ بِما كَسَبَت رَهينَةٌ(38)
ہر شخص اُن (اَعمال) کے بدلے جو اُس نے کما رکھے ہیں گروی ہے،(38)
إِلّا أَصحٰبَ اليَمينِ(39)
سوائے دائیں جانب والوں کے،(39)
فى جَنّٰتٍ يَتَساءَلونَ(40)
(وہ) باغات میں ہوں گے، اور آپس میں پوچھتے ہوں گے،(40)
عَنِ المُجرِمينَ(41)
مجرموں کے بارے میں،(41)
ما سَلَكَكُم فى سَقَرَ(42)
(اور کہیں گے:) تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی،(42)
قالوا لَم نَكُ مِنَ المُصَلّينَ(43)
وہ کہیں گے: ہم نماز پڑھنے والوں میں نہ تھے،(43)
وَلَم نَكُ نُطعِمُ المِسكينَ(44)
اور ہم محتاجوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے،(44)
وَكُنّا نَخوضُ مَعَ الخائِضينَ(45)
اور بیہودہ مشاغل والوں کے ساتھ (مل کر) ہم بھی بیہودہ مشغلوں میں پڑے رہتے تھے،(45)
وَكُنّا نُكَذِّبُ بِيَومِ الدّينِ(46)
اور ہم روزِ جزا کو جھٹلایا کرتے تھے،(46)
حَتّىٰ أَتىٰنَا اليَقينُ(47)
یہاں تک کہ ہم پر جس کا آنا یقینی تھا (وہ موت) آپہنچی،(47)
فَما تَنفَعُهُم شَفٰعَةُ الشّٰفِعينَ(48)
سو (اب) شفاعت کرنے والوں کی شفاعت انہیں کوئی نفع نہیں پہنچائے گی،(48)
فَما لَهُم عَنِ التَّذكِرَةِ مُعرِضينَ(49)
تو ان (کفّار) کو کیا ہوگیا ہے کہ (پھر بھی) نصیحت سے رُوگردانی کئے ہوئے ہیں،(49)
كَأَنَّهُم حُمُرٌ مُستَنفِرَةٌ(50)
گویا وہ بِدکے ہوئے (وحشی) گدھے ہیں،(50)
فَرَّت مِن قَسوَرَةٍ(51)
جو شیر سے بھاگ کھڑے ہوئے ہیں،(51)
بَل يُريدُ كُلُّ امرِئٍ مِنهُم أَن يُؤتىٰ صُحُفًا مُنَشَّرَةً(52)
بلکہ ان میں سے ہر ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ اُسے (براہِ راست) کھلے ہوئے (آسمانی) صحیفے دے دئیے جائیں،(52)
كَلّا ۖ بَل لا يَخافونَ الءاخِرَةَ(53)
ایسا ہرگز ممکن نہیں، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) وہ لوگ آخرت سے ڈرتے ہی نہیں،(53)
كَلّا إِنَّهُ تَذكِرَةٌ(54)
کچھ شک نہیں کہ یہ (قرآن) نصیحت ہے،(54)
فَمَن شاءَ ذَكَرَهُ(55)
پس جو چاہے اِسے یاد رکھے،(55)
وَما يَذكُرونَ إِلّا أَن يَشاءَ اللَّهُ ۚ هُوَ أَهلُ التَّقوىٰ وَأَهلُ المَغفِرَةِ(56)
اور یہ لوگ (اِسے) یاد نہیں رکھیں گے مگر جب اللہ چاہے گا، وُہی تقوٰی (و پرہیزگاری) کا مستحق ہے اور مغفرت کا مالک ہے،(56)