Al-Ma'arij( المعارج)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ سَأَلَ سائِلٌ بِعَذابٍ واقِعٍ(1)
ایک سائل نے ایسا عذاب طلب کیا جو واقع ہونے والا ہے،(1)
لِلكٰفِرينَ لَيسَ لَهُ دافِعٌ(2)
کافروں کے لئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں،(2)
مِنَ اللَّهِ ذِى المَعارِجِ(3)
(وہ) اللہ کی جانب سے (واقع ہوگا) جو آسمانی زینوں (اور بلند مراتب درجات) کا مالک ہے،(3)
تَعرُجُ المَلٰئِكَةُ وَالرّوحُ إِلَيهِ فى يَومٍ كانَ مِقدارُهُ خَمسينَ أَلفَ سَنَةٍ(4)
اس (کے عرش) کی طرف فرشتے اور روح الامین عروج کرتے ہیں ایک دن میں، جس کا اندازہ (دنیوی حساب سے) پچاس ہزار برس کا ہے٭، ٭ فِی یَومٍ اگر وَاقِعٍ کا صلہ ہو تو معنی ہوگا کہ جس دن (یومِ قیامت) کو عذاب واقع ہوگا اس کا دورانیہ ٥٠ ہزار برس کے قریب ہے۔ اور اگر یہ تَعرُجُ کا صلہ ہو تو معنی ہوگا کہ ملائکہ اور اَرواحِ مومنین جو عرشِ اِلٰہی کی طرف عروج کرتی ہیں ان کے عروج کی رفتار ٥٠ ہزار برس یومیہ ہے، وہ پھر بھی کتنی مدت میں منزلِ مقصود تک پہنچتے ہیں۔ واﷲ أعلم بالصواب۔ (یہاں سے نوری سال (لا‌ّّّ‎ئٹ ائیر) کے تصور کا اِستنباط ہوتا ہے۔)(4)
فَاصبِر صَبرًا جَميلًا(5)
سو (اے حبیب!) آپ (کافروں کی باتوں پر) ہر شکوہ سے پاک صبر فرمائیں،(5)
إِنَّهُم يَرَونَهُ بَعيدًا(6)
بے شک وہ (تو) اس (دن) کو دور سمجھ رہے ہیں،(6)
وَنَرىٰهُ قَريبًا(7)
اور ہم اسے قریب ہی دیکھتے ہیں،(7)
يَومَ تَكونُ السَّماءُ كَالمُهلِ(8)
جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو جائے گا،(8)
وَتَكونُ الجِبالُ كَالعِهنِ(9)
اور پہاڑ (دُھنکی ہوئی) رنگین اُون کی طرح ہو جائیں گے،(9)
وَلا يَسـَٔلُ حَميمٌ حَميمًا(10)
اور کوئی دوست کسی دوست کا پرساں نہ ہوگا،(10)
يُبَصَّرونَهُم ۚ يَوَدُّ المُجرِمُ لَو يَفتَدى مِن عَذابِ يَومِئِذٍ بِبَنيهِ(11)
(حالانکہ) وہ (ایک دوسرے کو) دکھائے جا رہے ہوں گے، مجرم آرزو کرے گا کہ کاش! اس دن کے عذاب (سے رہائی) کے بدلہ میں اپنے بیٹے دے دے،(11)
وَصٰحِبَتِهِ وَأَخيهِ(12)
اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی (دے ڈالے)،(12)
وَفَصيلَتِهِ الَّتى تُـٔويهِ(13)
اور اپنا (تمام) خاندان جو اُسے پناہ دیتا تھا،(13)
وَمَن فِى الأَرضِ جَميعًا ثُمَّ يُنجيهِ(14)
اور جتنے لوگ بھی زمین میں ہیں، سب کے سب (اپنی ذات کے لئے بدلہ کر دے)، پھر یہ (فدیہ) اُسے (اللہ کے عذاب سے) بچا لے،(14)
كَلّا ۖ إِنَّها لَظىٰ(15)
ایسا ہرگز نہ ہوگا، بے شک وہ شعلہ زن آگ ہے،(15)
نَزّاعَةً لِلشَّوىٰ(16)
سر اور تمام اَعضائے بدن کی کھال اتار دینے والی ہے،(16)
تَدعوا مَن أَدبَرَ وَتَوَلّىٰ(17)
وہ اُسے بلا رہی ہے جس نے (حق سے) پیٹھ پھیری اور رُوگردانی کی،(17)
وَجَمَعَ فَأَوعىٰ(18)
اور (اس نے) مال جمع کیا پھر (اسے تقسیم سے) روکے رکھا،(18)
۞ إِنَّ الإِنسٰنَ خُلِقَ هَلوعًا(19)
بے شک انسان بے صبر اور لالچی پیدا ہوا ہے،(19)
إِذا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزوعًا(20)
جب اسے مصیبت (یا مالی نقصان) پہنچے تو گھبرا جاتا ہے،(20)
وَإِذا مَسَّهُ الخَيرُ مَنوعًا(21)
اور جب اسے بھلائی (یا مالی فراخی) حاصل ہو تو بخل کرتا ہے،(21)
إِلَّا المُصَلّينَ(22)
مگر وہ نماز ادا کرنے والے،(22)
الَّذينَ هُم عَلىٰ صَلاتِهِم دائِمونَ(23)
جو اپنی نماز پر ہمیشگی قائم رکھنے والے ہیں،(23)
وَالَّذينَ فى أَموٰلِهِم حَقٌّ مَعلومٌ(24)
اور وہ (ایثار کیش) لوگ جن کے اَموال میں حصہ مقرر ہے،(24)
لِلسّائِلِ وَالمَحرومِ(25)
مانگنے والے اور نہ مانگنے والے محتاج کا،(25)
وَالَّذينَ يُصَدِّقونَ بِيَومِ الدّينِ(26)
اور وہ لوگ جو روزِ جزا کی تصدیق کرتے ہیں،(26)
وَالَّذينَ هُم مِن عَذابِ رَبِّهِم مُشفِقونَ(27)
اور وہ لوگ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں،(27)
إِنَّ عَذابَ رَبِّهِم غَيرُ مَأمونٍ(28)
بے شک ان کے رب کا عذاب ایسا نہیں جس سے بے خوف ہوا جائے،(28)
وَالَّذينَ هُم لِفُروجِهِم حٰفِظونَ(29)
اور وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں،(29)
إِلّا عَلىٰ أَزوٰجِهِم أَو ما مَلَكَت أَيمٰنُهُم فَإِنَّهُم غَيرُ مَلومينَ(30)
سوائے اپنی منکوحہ بیویوں کے یا اپنی مملوکہ کنیزوں کے، سو (اِس میں) اُن پر کوئی ملامت نہیں،(30)
فَمَنِ ابتَغىٰ وَراءَ ذٰلِكَ فَأُولٰئِكَ هُمُ العادونَ(31)
سو جو ان کے علاوہ طلب کرے تو وہی لوگ حد سے گزرنے والے ہیں،(31)
وَالَّذينَ هُم لِأَمٰنٰتِهِم وَعَهدِهِم رٰعونَ(32)
اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کی نگہداشت کرتے ہیں،(32)
وَالَّذينَ هُم بِشَهٰدٰتِهِم قائِمونَ(33)
اور وہ لوگ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں،(33)
وَالَّذينَ هُم عَلىٰ صَلاتِهِم يُحافِظونَ(34)
اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں،(34)
أُولٰئِكَ فى جَنّٰتٍ مُكرَمونَ(35)
یہی لوگ ہیں جو جنتوں میں معزّز و مکرّم ہوں گے،(35)
فَمالِ الَّذينَ كَفَروا قِبَلَكَ مُهطِعينَ(36)
تو کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ آپ کی طرف دوڑے چلے آرہے ہیں،(36)
عَنِ اليَمينِ وَعَنِ الشِّمالِ عِزينَ(37)
دائیں جانب سے (بھی) اور بائیں جانب سے (بھی) گروہ در گروہ،(37)
أَيَطمَعُ كُلُّ امرِئٍ مِنهُم أَن يُدخَلَ جَنَّةَ نَعيمٍ(38)
کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ (بغیر ایمان و عمل کے) نعمتوں والی جنت میں داخل کر دیا جائے گا؟،(38)
كَلّا ۖ إِنّا خَلَقنٰهُم مِمّا يَعلَمونَ(39)
ہرگز نہیں، بے شک ہم نے انہیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ (بھی) جانتے ہیں،(39)
فَلا أُقسِمُ بِرَبِّ المَشٰرِقِ وَالمَغٰرِبِ إِنّا لَقٰدِرونَ(40)
سو میں مشارق اور مغارب کے رب کی قَسم کھاتا ہوں کہ بے شک ہم پوری قدرت رکھتے ہیں،(40)
عَلىٰ أَن نُبَدِّلَ خَيرًا مِنهُم وَما نَحنُ بِمَسبوقينَ(41)
اس پر کہ ہم بدل کر ان سے بہتر لوگ لے آئیں، اور ہم ہرگز عاجز نہیں ہیں،(41)
فَذَرهُم يَخوضوا وَيَلعَبوا حَتّىٰ يُلٰقوا يَومَهُمُ الَّذى يوعَدونَ(42)
سو آپ انہیں چھوڑ دیجئے کہ وہ اپنی بے ہودہ باتوں اور کھیل تماشے میں پڑے رہیں یہاں تک کہ اپنے اس دن سے آملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے،(42)
يَومَ يَخرُجونَ مِنَ الأَجداثِ سِراعًا كَأَنَّهُم إِلىٰ نُصُبٍ يوفِضونَ(43)
جس دن وہ قبروں سے دوڑتے ہوئے یوں نکلیں گے گویا وہ بتوں کے اَستھانوں کی طرف دوڑے جا رہے ہیں،(43)
خٰشِعَةً أَبصٰرُهُم تَرهَقُهُم ذِلَّةٌ ۚ ذٰلِكَ اليَومُ الَّذى كانوا يوعَدونَ(44)
(ان کا) حال یہ ہو گا کہ ان کی آنکھیں (شرم اور خوف سے) جھک رہی ہوں گی، ذِلت ان پر چھا رہی ہوگی، یہی ہے وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا،(44)