Al-Kahf( الكهف)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى أَنزَلَ عَلىٰ عَبدِهِ الكِتٰبَ وَلَم يَجعَل لَهُ عِوَجا ۜ(1)
تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جس نے اپنے (محبوب و مقرّب) بندے پر کتابِ (عظیم) نازل فرمائی اور اس میں کوئی کجی نہ رکھی،(1)
قَيِّمًا لِيُنذِرَ بَأسًا شَديدًا مِن لَدُنهُ وَيُبَشِّرَ المُؤمِنينَ الَّذينَ يَعمَلونَ الصّٰلِحٰتِ أَنَّ لَهُم أَجرًا حَسَنًا(2)
(اسے) سیدھا اور معتدل (بنایا) تاکہ وہ (منکرین کو) اﷲ کی طرف سے (آنے والے) شدید عذاب سے ڈرائے اور مومنین کو جو نیک اعمال کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ ان کے لئے بہتر اجر (جنت) ہے،(2)
مٰكِثينَ فيهِ أَبَدًا(3)
جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے،(3)
وَيُنذِرَ الَّذينَ قالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا(4)
اور (نیز) ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اﷲ نے (اپنے لئے) لڑکا بنا رکھا ہے،(4)
ما لَهُم بِهِ مِن عِلمٍ وَلا لِءابائِهِم ۚ كَبُرَت كَلِمَةً تَخرُجُ مِن أَفوٰهِهِم ۚ إِن يَقولونَ إِلّا كَذِبًا(5)
نہ اس کا کوئی علم انہیں ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا، (یہ) کتنا بڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکل رہا ہے، وہ (سراسر) جھوٹ کے سوا کچھ کہتے ہی نہیں،(5)
فَلَعَلَّكَ بٰخِعٌ نَفسَكَ عَلىٰ ءاثٰرِهِم إِن لَم يُؤمِنوا بِهٰذَا الحَديثِ أَسَفًا(6)
(اے حبیبِ مکرّم!) تو کیا آپ ان کے پیچھے شدتِ غم میں اپنی جانِ (عزیز بھی) گھلا دیں گے اگر وہ اس کلامِ (ربّانی) پر ایمان نہ لائے،(6)
إِنّا جَعَلنا ما عَلَى الأَرضِ زينَةً لَها لِنَبلُوَهُم أَيُّهُم أَحسَنُ عَمَلًا(7)
اور بیشک ہم نے اُن تمام چیزوں کو جو زمین پر ہیں اس کے لئے باعثِ زینت (و آرائش) بنایا تاکہ ہم ان لوگوں کو (جو زمین کے باسی ہیں) آزمائیں کہ ان میں سے بہ اِعتبارِ عمل کون بہتر ہے،(7)
وَإِنّا لَجٰعِلونَ ما عَلَيها صَعيدًا جُرُزًا(8)
اور بیشک ہم اِن (تمام) چیزوں کو جو اس (روئے زمین) پر ہیں (نابود کر کے) بنجر میدان بنا دینے والے ہیں،(8)
أَم حَسِبتَ أَنَّ أَصحٰبَ الكَهفِ وَالرَّقيمِ كانوا مِن ءايٰتِنا عَجَبًا(9)
کیا آپ نے یہ خیال کیا ہے کہ کہف و رقیم (یعنی غار اور لوحِ غار یا وادئ رقیم) والے ہماری (قدرت کی) نشانیوں میں سے (کتنی) عجیب نشانی تھے؟،(9)
إِذ أَوَى الفِتيَةُ إِلَى الكَهفِ فَقالوا رَبَّنا ءاتِنا مِن لَدُنكَ رَحمَةً وَهَيِّئ لَنا مِن أَمرِنا رَشَدًا(10)
(وہ وقت یاد کیجئے) جب چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے تو انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بارگاہ سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں راہ یابی (کے اسباب) مہیا فرما،(10)
فَضَرَبنا عَلىٰ ءاذانِهِم فِى الكَهفِ سِنينَ عَدَدًا(11)
پس ہم نے اس غار میں گنتی کے چند سال ان کے کانوں پر تھپکی دے کر (انہیں سلا دیا)،(11)
ثُمَّ بَعَثنٰهُم لِنَعلَمَ أَىُّ الحِزبَينِ أَحصىٰ لِما لَبِثوا أَمَدًا(12)
پھر ہم نے انہیں اٹھا دیا کہ دیکھیں دونوں گروہوں میں سے کون اس (مدّت) کو صحیح شمار کرنے والا ہے جو وہ (غار میں) ٹھہرے رہے،(12)
نَحنُ نَقُصُّ عَلَيكَ نَبَأَهُم بِالحَقِّ ۚ إِنَّهُم فِتيَةٌ ءامَنوا بِرَبِّهِم وَزِدنٰهُم هُدًى(13)
(اب) ہم آپ کو ان کا حال صحیح صحیح سناتے ہیں، بیشک وہ (چند) نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کے لئے (نورِ) ہدایت میں اور اضافہ فرما دیا،(13)
وَرَبَطنا عَلىٰ قُلوبِهِم إِذ قاموا فَقالوا رَبُّنا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ لَن نَدعُوَا۟ مِن دونِهِ إِلٰهًا ۖ لَقَد قُلنا إِذًا شَطَطًا(14)
اور ہم نے ان کے دلوں کو (اپنے ربط و نسبت سے) مضبوط و مستحکم فرما دیا، جب وہ (اپنے بادشاہ کے سامنے) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے: ہمارا رب تو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا ہرگز کسی (جھوٹے) معبود کی پرستش نہیں کریں گے (اگر ایسا کریں تو) اس وقت ہم ضرور حق سے ہٹی ہوئی بات کریں گے،(14)
هٰؤُلاءِ قَومُنَا اتَّخَذوا مِن دونِهِ ءالِهَةً ۖ لَولا يَأتونَ عَلَيهِم بِسُلطٰنٍ بَيِّنٍ ۖ فَمَن أَظلَمُ مِمَّنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا(15)
یہ ہماری قوم کے لوگ ہیں جنہوں نے اس کے سوا کئی معبود بنا لئے ہیں، تو یہ ان (کے معبود ہونے) پر کوئی واضح سند کیوں نہیں لاتے؟ سو اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے،(15)
وَإِذِ اعتَزَلتُموهُم وَما يَعبُدونَ إِلَّا اللَّهَ فَأوۥا إِلَى الكَهفِ يَنشُر لَكُم رَبُّكُم مِن رَحمَتِهِ وَيُهَيِّئ لَكُم مِن أَمرِكُم مِرفَقًا(16)
اور (ان نوجوانوں نے آپس میں کہا:) جب تم ان سے اور ان (جھوٹے معبودوں) سے جنہیں یہ اﷲ کے سوا پوجتے ہیں کنارہ کش ہو گئے ہو تو تم (اس) غار میں پناہ لے لو، تمہارا رب تمہارے لئے اپنی رحمت کشادہ فرما دے گا اور تمہارے لئے تمہارے کام میں سہولت مہیا فرما دے گا،(16)
۞ وَتَرَى الشَّمسَ إِذا طَلَعَت تَزٰوَرُ عَن كَهفِهِم ذاتَ اليَمينِ وَإِذا غَرَبَت تَقرِضُهُم ذاتَ الشِّمالِ وَهُم فى فَجوَةٍ مِنهُ ۚ ذٰلِكَ مِن ءايٰتِ اللَّهِ ۗ مَن يَهدِ اللَّهُ فَهُوَ المُهتَدِ ۖ وَمَن يُضلِل فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرشِدًا(17)
اور آپ دیکھتے ہیں جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں جانب ہٹ جاتا ہے اور جب غروب ہونے لگتا ہے تو ان سے بائیں جانب کترا جاتا ہے اور وہ اس غار کے کشادہ میدان میں (لیٹے) ہیں، یہ (سورج کا اپنے راستے کو بدل لینا) اﷲ کی (قدرت کی بڑی) نشانیوں میں سے ہے، جسے اﷲ ہدایت فرما دے سو وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ ٹھہرا دے تو آپ اس کے لئے کوئی ولی مرشد (یعنی راہ دکھانے والا مددگار) نہیں پائیں گے،(17)
وَتَحسَبُهُم أَيقاظًا وَهُم رُقودٌ ۚ وَنُقَلِّبُهُم ذاتَ اليَمينِ وَذاتَ الشِّمالِ ۖ وَكَلبُهُم بٰسِطٌ ذِراعَيهِ بِالوَصيدِ ۚ لَوِ اطَّلَعتَ عَلَيهِم لَوَلَّيتَ مِنهُم فِرارًا وَلَمُلِئتَ مِنهُم رُعبًا(18)
اور (اے سننے والے!) تو انہیں (دیکھے تو) بیدار خیال کرے گا حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم (وقفوں کے ساتھ) انہیں دائیں جانب اور بائیں جانب کروٹیں بدلاتے رہتے ہیں، اور ان کا کتا (ان کی) چوکھٹ پر اپنے دونوں بازو پھیلائے (بیٹھا) ہے، اگر تو انہیں جھانک کر دیکھ لیتا تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا اور تیرے دل میں ان کی دہشت بھر جاتی،(18)
وَكَذٰلِكَ بَعَثنٰهُم لِيَتَساءَلوا بَينَهُم ۚ قالَ قائِلٌ مِنهُم كَم لَبِثتُم ۖ قالوا لَبِثنا يَومًا أَو بَعضَ يَومٍ ۚ قالوا رَبُّكُم أَعلَمُ بِما لَبِثتُم فَابعَثوا أَحَدَكُم بِوَرِقِكُم هٰذِهِ إِلَى المَدينَةِ فَليَنظُر أَيُّها أَزكىٰ طَعامًا فَليَأتِكُم بِرِزقٍ مِنهُ وَليَتَلَطَّف وَلا يُشعِرَنَّ بِكُم أَحَدًا(19)
اور اسی طرح ہم نے انہیں اٹھا دیا تاکہ وہ آپس میں دریافت کریں، (چنانچہ) ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا: تم (یہاں) کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم (یہاں) ایک دن یا اس کا (بھی) کچھ حصہ ٹھہرے ہیں، (بالآخر) کہنے لگے: تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ تم (یہاں) کتنا عرصہ ٹھہرے ہو، سو تم اپنے میں سے کسی ایک کو اپنا یہ سکہ دے کر شہر کی طرف بھیجو پھر وہ دیکھے کہ کون سا کھانا زیادہ حلال اور پاکیزہ ہے تو اس میں سے کچھ کھانا تمہارے پاس لے آئے اور اسے چاہئے کہ (آنے جانے اور خریدنے میں) آہستگی اور نرمی سے کام لے اور کسی ایک شخص کو (بھی) تمہاری خبر نہ ہونے دے،(19)
إِنَّهُم إِن يَظهَروا عَلَيكُم يَرجُموكُم أَو يُعيدوكُم فى مِلَّتِهِم وَلَن تُفلِحوا إِذًا أَبَدًا(20)
بیشک اگر انہوں نے تم (سے آگاہ ہو کر تم) پر دسترس پالی تو تمہیں سنگسار کر ڈالیں گے یا تمہیں (جبرًا) اپنے مذہب میں پلٹا لیں گے اور (اگر ایسا ہو گیا تو) تب تم ہرگز کبھی بھی فلاح نہیں پاؤ گے،(20)
وَكَذٰلِكَ أَعثَرنا عَلَيهِم لِيَعلَموا أَنَّ وَعدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السّاعَةَ لا رَيبَ فيها إِذ يَتَنٰزَعونَ بَينَهُم أَمرَهُم ۖ فَقالُوا ابنوا عَلَيهِم بُنيٰنًا ۖ رَبُّهُم أَعلَمُ بِهِم ۚ قالَ الَّذينَ غَلَبوا عَلىٰ أَمرِهِم لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيهِم مَسجِدًا(21)
اور اس طرح ہم نے ان (کے حال) پر ان لوگوں کو (جو چند صدیاں بعد کے تھے) مطلع کردیا تاکہ وہ جان لیں کہ اﷲ کا وعدہ سچا ہے اور یہ (بھی) کہ قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے۔ جب وہ (بستی والے) آپس میں ان کے معاملہ میں جھگڑا کرنے لگے (جب اصحابِ کہف وفات پاگئے) تو انہوں نے کہا کہ ان (کے غار) پر ایک عمارت (بطور یادگار) بنا دو، ان کا رب ان (کے حال) سے خوب واقف ہے، ان (ایمان والوں) نے کہا جنہیں ان کے معاملہ پر غلبہ حاصل تھا کہ ہم ان (کے دروازہ) پر ضرور ایک مسجد بنائیں گے (تاکہ مسلمان اس میں نماز پڑھیں اور ان کی قربت سے خصوصی برکت حاصل کریں)،(21)
سَيَقولونَ ثَلٰثَةٌ رابِعُهُم كَلبُهُم وَيَقولونَ خَمسَةٌ سادِسُهُم كَلبُهُم رَجمًا بِالغَيبِ ۖ وَيَقولونَ سَبعَةٌ وَثامِنُهُم كَلبُهُم ۚ قُل رَبّى أَعلَمُ بِعِدَّتِهِم ما يَعلَمُهُم إِلّا قَليلٌ ۗ فَلا تُمارِ فيهِم إِلّا مِراءً ظٰهِرًا وَلا تَستَفتِ فيهِم مِنهُم أَحَدًا(22)
(اب) کچھ لوگ کہیں گے: (اصحابِ کہف) تین تھے ان میں سے چوتھا ان کا کتا تھا، اور بعض کہیں گے: پانچ تھے ان میں سے چھٹا ان کا کتا تھا، یہ بِن دیکھے اندازے ہیں، اور بعض کہیں گے: (وہ) سات تھے اور ان میں سے آٹھواں ان کا کتا تھا۔ فرما دیجئے: میرا رب ہی ان کی تعداد کو خوب جانتا ہے اور سوائے چند لوگوں کے ان (کی صحیح تعداد) کا علم کسی کو نہیں، سو آپ کسی سے ان کے بارے میں بحث نہ کیا کریں سوائے اس قدر وضاحت کے جو ظاہر ہو چکی ہے اور نہ ان میں سے کسی سے ان (اصحابِ کہف) کے بارے میں کچھ دریافت کریں،(22)
وَلا تَقولَنَّ لِشَا۟يءٍ إِنّى فاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا(23)
اورکسی بھی چیز کی نسبت یہ ہرگز نہ کہا کریں کہ میں اس کام کو کل کرنے والا ہوں،(23)
إِلّا أَن يَشاءَ اللَّهُ ۚ وَاذكُر رَبَّكَ إِذا نَسيتَ وَقُل عَسىٰ أَن يَهدِيَنِ رَبّى لِأَقرَبَ مِن هٰذا رَشَدًا(24)
مگر یہ کہ اگر اﷲ چاہے (یعنی اِن شاء اﷲ کہہ کر) اور اپنے رب کا ذکر کیا کریں جب آپ بھول جائیں اور کہیں: امید ہے میرا رب مجھے اس سے (بھی) قریب تر ہدایت کی راہ دکھا دے گا،(24)
وَلَبِثوا فى كَهفِهِم ثَلٰثَ مِا۟ئَةٍ سِنينَ وَازدادوا تِسعًا(25)
اور وہ (اصحابِ کہف) اپنی غار میں تین سو برس ٹھہرے رہے اور انہوں نے (اس پر) نو (سال) اور بڑھا دیئے،(25)
قُلِ اللَّهُ أَعلَمُ بِما لَبِثوا ۖ لَهُ غَيبُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ أَبصِر بِهِ وَأَسمِع ۚ ما لَهُم مِن دونِهِ مِن وَلِىٍّ وَلا يُشرِكُ فى حُكمِهِ أَحَدًا(26)
فرما دیجئے: اﷲ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت (وہاں) ٹھہرے رہے، آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں اسی کے علم میں ہیں، کیا خوب دیکھنے والا اور کیاخوب سننے والا ہے، اس کے سوا ان کا نہ کوئی کارساز ہے اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک فرماتا ہے،(26)
وَاتلُ ما أوحِىَ إِلَيكَ مِن كِتابِ رَبِّكَ ۖ لا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهِ وَلَن تَجِدَ مِن دونِهِ مُلتَحَدًا(27)
اور آپ وہ (کلام) پڑھ کر سنائیں جو آپ کے رب کی کتاب میں سے آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے، اس کے کلام کو کوئی بدلنے والا نہیں اور آپ اس کے سوا ہرگز کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گے،(27)
وَاصبِر نَفسَكَ مَعَ الَّذينَ يَدعونَ رَبَّهُم بِالغَدوٰةِ وَالعَشِىِّ يُريدونَ وَجهَهُ ۖ وَلا تَعدُ عَيناكَ عَنهُم تُريدُ زينَةَ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَلا تُطِع مَن أَغفَلنا قَلبَهُ عَن ذِكرِنا وَاتَّبَعَ هَوىٰهُ وَكانَ أَمرُهُ فُرُطًا(28)
(اے میرے بندے!) تو اپنے آپ کو ان لوگوں کی سنگت میں جمائے رکھا کر جو صبح و شام اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اس کی رضا کے طلب گار رہتے ہیں (اس کی دید کے متمنی اور اس کا مکھڑا تکنے کے آرزو مند ہیں) تیری (محبت اور توجہ کی) نگاہیں ان سے نہ ہٹیں، کیا تو (ان فقیروں سے دھیان ہٹا کر) دنیوی زندگی کی آرائش چاہتا ہے، اور تو اس شخص کی اطاعت (بھی) نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی ہوائے نفس کی پیروی کرتا ہے اور اس کا حال حد سے گزر گیا ہے،(28)
وَقُلِ الحَقُّ مِن رَبِّكُم ۖ فَمَن شاءَ فَليُؤمِن وَمَن شاءَ فَليَكفُر ۚ إِنّا أَعتَدنا لِلظّٰلِمينَ نارًا أَحاطَ بِهِم سُرادِقُها ۚ وَإِن يَستَغيثوا يُغاثوا بِماءٍ كَالمُهلِ يَشوِى الوُجوهَ ۚ بِئسَ الشَّرابُ وَساءَت مُرتَفَقًا(29)
اور فرما دیجئے کہ (یہ) حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے انکار کردے، بیشک ہم نے ظالموں کے لئے (دوزخ کی) آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی، اور اگر وہ (پیاس اور تکلیف کے باعث) فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو ان کے چہروں کو بھون دے گا، کتنا برا مشروب ہے، اور کتنی بری آرام گاہ ہے،(29)
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ إِنّا لا نُضيعُ أَجرَ مَن أَحسَنَ عَمَلًا(30)
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے یقیناً ہم اس شخص کا اجر ضائع نہیں کرتے جو نیک عمل کرتا ہے،(30)
أُولٰئِكَ لَهُم جَنّٰتُ عَدنٍ تَجرى مِن تَحتِهِمُ الأَنهٰرُ يُحَلَّونَ فيها مِن أَساوِرَ مِن ذَهَبٍ وَيَلبَسونَ ثِيابًا خُضرًا مِن سُندُسٍ وَإِستَبرَقٍ مُتَّكِـٔينَ فيها عَلَى الأَرائِكِ ۚ نِعمَ الثَّوابُ وَحَسُنَت مُرتَفَقًا(31)
ان لوگوں کے لئے ہمیشہ (آباد) رہنے والے باغات ہیں (جن میں) ان (کے محلات) کے نیچے نہریں جاری ہیں انہیں ان جنتوں میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور بھاری اطلس کے (ریشمی) سبز لباس پہنیں گے اور پر تکلف تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، کیا خوب ثواب ہے اور کتنی حسین آرام گاہ ہے،(31)
۞ وَاضرِب لَهُم مَثَلًا رَجُلَينِ جَعَلنا لِأَحَدِهِما جَنَّتَينِ مِن أَعنٰبٍ وَحَفَفنٰهُما بِنَخلٍ وَجَعَلنا بَينَهُما زَرعًا(32)
اور آپ ان سے ان دو شخصوں کی مثال بیان کریں جن میں سے ایک کے لئے ہم نے انگور کے دو باغات بنائے اور ہم نے ان دونوں کو تمام اَطراف سے کھجور کے درختوں کے ساتھ ڈھانپ دیا اور ہم نے ان کے درمیان (سرسبز و شاداب) کھیتیاں اگا دیں،(32)
كِلتَا الجَنَّتَينِ ءاتَت أُكُلَها وَلَم تَظلِم مِنهُ شَيـًٔا ۚ وَفَجَّرنا خِلٰلَهُما نَهَرًا(33)
یہ دونوں باغ (کثرت سے) اپنے پھل لائے اور ان کی (پیداوار) میں کوئی کمی نہ رہی اور ہم نے ان دونوں (میں سے ہر ایک) کے درمیان ایک نہر (بھی) جاری کر دی،(33)
وَكانَ لَهُ ثَمَرٌ فَقالَ لِصٰحِبِهِ وَهُوَ يُحاوِرُهُ أَنا۠ أَكثَرُ مِنكَ مالًا وَأَعَزُّ نَفَرًا(34)
اور اس شخص کے پاس (اس کے سوا بھی) بہت سے پھل (یعنی وسائل) تھے، تو اس نے اپنے ساتھی سے کہا اور وہ اس سے تبادلہ خیال کر رہا تھا کہ میں تجھ سے مال و دولت میں کہیں زیادہ ہوں اور قبیلہ و خاندان کے لحاظ سے (بھی) زیادہ باعزت ہوں،(34)
وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظالِمٌ لِنَفسِهِ قالَ ما أَظُنُّ أَن تَبيدَ هٰذِهِ أَبَدًا(35)
اور وہ (اسے لے کر) اپنے باغ میں داخل ہوا (تکبّر کی صورت میں) اپنی جان پر ظلم کرتے ہوئے کہنے لگا: میں یہ گمان (ہی) نہیں کرتا کہ یہ باغ تباہ ہوگا،(35)
وَما أَظُنُّ السّاعَةَ قائِمَةً وَلَئِن رُدِدتُ إِلىٰ رَبّى لَأَجِدَنَّ خَيرًا مِنها مُنقَلَبًا(36)
اور نہ ہی یہ گمان کرتا ہوں کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو بھی یقیناً میں ان باغات سے بہتر پلٹنے کی جگہ پاؤں گا،(36)
قالَ لَهُ صاحِبُهُ وَهُوَ يُحاوِرُهُ أَكَفَرتَ بِالَّذى خَلَقَكَ مِن تُرابٍ ثُمَّ مِن نُطفَةٍ ثُمَّ سَوّىٰكَ رَجُلًا(37)
اس کے ساتھی نے اس سے کہا اور وہ اس سے تبادلہء خیال کر رہا تھا: کیا تو نے اس (رب) کا انکار کیا ہے جس نے تجھے (اوّلاً) مٹی سے پیدا کیا پھر ایک تولیدی قطرہ سے پھر تجھے (جسمانی طور پر) پورا مرد بنا دیا؟،(37)
لٰكِنّا۠ هُوَ اللَّهُ رَبّى وَلا أُشرِكُ بِرَبّى أَحَدًا(38)
لیکن میں (تو یہ کہتا ہوں) کہ وہی اﷲ میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں گردانتا،(38)
وَلَولا إِذ دَخَلتَ جَنَّتَكَ قُلتَ ما شاءَ اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ۚ إِن تَرَنِ أَنا۠ أَقَلَّ مِنكَ مالًا وَوَلَدًا(39)
اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے کیوں نہیں کہا: ”ما شاء اﷲ لا قوۃ اِلا باﷲ“ (وہی ہونا ہے جو اﷲ چاہے کسی کو کچھ طاقت نہیں مگر اﷲ کی مدد سے)، اگر تو (اِس وقت) مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کم تر دیکھتا ہے (تو کیا ہوا)،(39)
فَعَسىٰ رَبّى أَن يُؤتِيَنِ خَيرًا مِن جَنَّتِكَ وَيُرسِلَ عَلَيها حُسبانًا مِنَ السَّماءِ فَتُصبِحَ صَعيدًا زَلَقًا(40)
کچھ بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس (باغ) پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج دے پھر وہ چٹیل چکنی زمین بن جائے،(40)
أَو يُصبِحَ ماؤُها غَورًا فَلَن تَستَطيعَ لَهُ طَلَبًا(41)
یا اس کا پانی زمین کی گہرائی میں چلا جائے پھر تو اسے حاصل کرنے کی طاقت بھی نہ پا سکے،(41)
وَأُحيطَ بِثَمَرِهِ فَأَصبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيهِ عَلىٰ ما أَنفَقَ فيها وَهِىَ خاوِيَةٌ عَلىٰ عُروشِها وَيَقولُ يٰلَيتَنى لَم أُشرِك بِرَبّى أَحَدًا(42)
اور (اس تکبّر کے باعث) اس کے (سارے) پھل (تباہی میں) گھیر لئے گئے تو صبح کو وہ اس پونجی پر جو اس نے اس (باغ کے لگانے) میں خرچ کی تھی کفِ افسوس ملتا رہ گیا اور وہ باغ اپنے چھپروں پر گرا پڑا تھا اور وہ (سراپا حسرت و یاس بن کر) کہہ رہا تھا: ہائے کاش! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا (اور اپنے اوپر گھمنڈ نہ کیا ہوتا)،(42)
وَلَم تَكُن لَهُ فِئَةٌ يَنصُرونَهُ مِن دونِ اللَّهِ وَما كانَ مُنتَصِرًا(43)
اور اس کے لئے کوئی گروہ (بھی) ایسا نہ تھا جو اﷲ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتے اور نہ وہ خود (ہی اس تباہی کا) بدلہ لینے کے قابل تھا،(43)
هُنالِكَ الوَلٰيَةُ لِلَّهِ الحَقِّ ۚ هُوَ خَيرٌ ثَوابًا وَخَيرٌ عُقبًا(44)
یہاں (پتہ چلتا ہے) کہ سب اختیار اﷲ ہی کا ہے (جو) حق ہے، وہی بہتر ہے انعام دینے میں اور وہی بہتر ہے انجام کرنے میں،(44)
وَاضرِب لَهُم مَثَلَ الحَيوٰةِ الدُّنيا كَماءٍ أَنزَلنٰهُ مِنَ السَّماءِ فَاختَلَطَ بِهِ نَباتُ الأَرضِ فَأَصبَحَ هَشيمًا تَذروهُ الرِّيٰحُ ۗ وَكانَ اللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ مُقتَدِرًا(45)
اور آپ انہیں دنیوی زندگی کی مثال (بھی) بیان کیجئے (جو) اس پانی جیسی ہے جسے ہم نے آسمان کی طرف سے اتارا تو اس کے باعث زمین کا سبزہ خوب گھنا ہوگیا پھر وہ سوکھی گھاس کا چورا بن گیا جسے ہوائیں اڑا لے جاتی ہیں، اور اﷲ ہر چیز پر کامل قدرت والا ہے،(45)
المالُ وَالبَنونَ زينَةُ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَالبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوابًا وَخَيرٌ أَمَلًا(46)
مال اور اولاد (تو صرف) دنیاوی زندگی کی زینت ہیں اور (حقیقت میں) باقی رہنے والی (تو) نیکیاں (ہیں جو) آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے (بھی) بہتر ہیں اور آرزو کے لحاظ سے (بھی) خوب تر ہیں،(46)
وَيَومَ نُسَيِّرُ الجِبالَ وَتَرَى الأَرضَ بارِزَةً وَحَشَرنٰهُم فَلَم نُغادِر مِنهُم أَحَدًا(47)
وہ دن (قیامت کا) ہوگا جب ہم پہاڑوں کو (ریزہ ریزہ کر کے فضا میں) چلائیں گے اور آپ زمین کو صاف میدان دیکھیں گے (اس پر شجر، حجر اور حیوانات و نباتات میں سے کچھ بھی نہ ہوگا) اور ہم سب انسانوں کو جمع فرمائیں گے اور ان میں سے کسی کو (بھی) نہیں چھوڑیں گے،(47)
وَعُرِضوا عَلىٰ رَبِّكَ صَفًّا لَقَد جِئتُمونا كَما خَلَقنٰكُم أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ بَل زَعَمتُم أَلَّن نَجعَلَ لَكُم مَوعِدًا(48)
اور (سب لوگ) آپ کے رب کے حضور قطار در قطار پیش کئے جائیں گے، (ان سے کہا جائے گا:) بیشک تم ہمارے پاس (آج اسی طرح) آئے ہو جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا بلکہ تم یہ گمان کرتے تھے کہ ہم تمہارے لئے ہرگز وعدہ کا وقت مقرر ہی نہیں کریں گے،(48)
وَوُضِعَ الكِتٰبُ فَتَرَى المُجرِمينَ مُشفِقينَ مِمّا فيهِ وَيَقولونَ يٰوَيلَتَنا مالِ هٰذَا الكِتٰبِ لا يُغادِرُ صَغيرَةً وَلا كَبيرَةً إِلّا أَحصىٰها ۚ وَوَجَدوا ما عَمِلوا حاضِرًا ۗ وَلا يَظلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا(49)
اور (ہر ایک کے سامنے) اَعمال نامہ رکھ دیا جائے گا سو آپ مجرموں کو دیکھیں گے (وہ) ان (گناہوں اور جرموں) سے خوفزدہ ہوں گے جو اس (اَعمال نامہ) میں درج ہوں گے اور کہیں گے: ہائے ہلاکت! اس اَعمال نامہ کو کیا ہوا ہے اس نے نہ کوئی چھوٹی (بات) چھوڑی ہے اور نہ کوئی بڑی (بات)، مگر اس نے (ہر ہر بات کو) شمار کر لیا ہے اور وہ جو کچھ کرتے رہے تھے (اپنے سامنے) حاضر پائیں گے، اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہ فرمائے گا،(49)
وَإِذ قُلنا لِلمَلٰئِكَةِ اسجُدوا لِءادَمَ فَسَجَدوا إِلّا إِبليسَ كانَ مِنَ الجِنِّ فَفَسَقَ عَن أَمرِ رَبِّهِ ۗ أَفَتَتَّخِذونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَولِياءَ مِن دونى وَهُم لَكُم عَدُوٌّ ۚ بِئسَ لِلظّٰلِمينَ بَدَلًا(50)
اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم آدم (علیہ السلام) کو سجدۂ (تعظیم) کرو سو ان (سب) نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ (ابلیس) جنّات میں سے تھا تو وہ اپنے رب کی طاعت سے باہر نکل گیا، کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو مجھے چھوڑ کر دوست بنا رہے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں، یہ ظالموں کے لئے کیا ہی برا بدل ہے (جو انہوں نے میری جگہ منتخب کیا ہے)،(50)
۞ ما أَشهَدتُهُم خَلقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَلا خَلقَ أَنفُسِهِم وَما كُنتُ مُتَّخِذَ المُضِلّينَ عَضُدًا(51)
میں نے نہ (تو) انہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر (معاونت یا گواہی کے لئے) بلایا تھا اور نہ خود ان کی اپنی تخلیق (کے وقت)، اور نہ (ہی) میں ایسا تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو (اپنا) دست و بازو بناتا،(51)
وَيَومَ يَقولُ نادوا شُرَكاءِىَ الَّذينَ زَعَمتُم فَدَعَوهُم فَلَم يَستَجيبوا لَهُم وَجَعَلنا بَينَهُم مَوبِقًا(52)
اور اُس دن (کو یاد کرو جب) اﷲ فرمائے گا: انہیں پکارو جنہیں تم میرا شریک گمان کرتے تھے، سو وہ انہیں بلائیں گے مگر وہ انہیں کوئی جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان (ایک وادئ جہنم کو) ہلاکت کی جگہ بنا دیں گے،(52)
وَرَءَا المُجرِمونَ النّارَ فَظَنّوا أَنَّهُم مُواقِعوها وَلَم يَجِدوا عَنها مَصرِفًا(53)
اور مجرم لوگ آتشِ دوزخ کو دیکھیں گے تو جان لیں گے کہ وہ یقیناً اسی میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے گریز کی کوئی جگہ نہ پاسکیں گے،(53)
وَلَقَد صَرَّفنا فى هٰذَا القُرءانِ لِلنّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٍ ۚ وَكانَ الإِنسٰنُ أَكثَرَ شَيءٍ جَدَلًا(54)
اور بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثال کو (انداز بدل بدل کر) بار بار بیان کیا ہے، اور انسان جھگڑنے میں ہر چیز سے بڑھ کر ہے،(54)
وَما مَنَعَ النّاسَ أَن يُؤمِنوا إِذ جاءَهُمُ الهُدىٰ وَيَستَغفِروا رَبَّهُم إِلّا أَن تَأتِيَهُم سُنَّةُ الأَوَّلينَ أَو يَأتِيَهُمُ العَذابُ قُبُلًا(55)
اور لوگوں کو جبکہ ان کے پاس ہدایت آچکی تھی کسی نے (اس بات سے) منع نہیں کیا تھا کہ وہ ایمان لائیں اور اپنے رب سے مغفرت طلب کریں سوائے اس (انتظار) کے کہ انہیں اگلے لوگوں کا طریقہ (ہلاکت) پیش آئے یا عذاب ان کے سامنے آجائے،(55)
وَما نُرسِلُ المُرسَلينَ إِلّا مُبَشِّرينَ وَمُنذِرينَ ۚ وَيُجٰدِلُ الَّذينَ كَفَروا بِالبٰطِلِ لِيُدحِضوا بِهِ الحَقَّ ۖ وَاتَّخَذوا ءايٰتى وَما أُنذِروا هُزُوًا(56)
اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجا کرتے مگر (لوگوں کو) خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے (بنا کر)، اور کافر لوگ (ان رسولوں سے) بیہودہ باتوں کے سہارے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس (باطل) کے ذریعہ حق کو زائل کردیں اور وہ میری آیتوں کو اور اس (عذاب) کو جس سے وہ ڈرائے جاتے ہیں ہنسی مذاق بنا لیتے ہیں،(56)
وَمَن أَظلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـٔايٰتِ رَبِّهِ فَأَعرَضَ عَنها وَنَسِىَ ما قَدَّمَت يَداهُ ۚ إِنّا جَعَلنا عَلىٰ قُلوبِهِم أَكِنَّةً أَن يَفقَهوهُ وَفى ءاذانِهِم وَقرًا ۖ وَإِن تَدعُهُم إِلَى الهُدىٰ فَلَن يَهتَدوا إِذًا أَبَدًا(57)
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی نشانیاں یاد دلائی گئیں تو اس نے ان سے رُوگردانی کی اور ان (بداَعمالیوں) کو بھول گیا جو اس کے ہاتھ آگے بھیج چکے تھے، بیشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اس حق کو سمجھ (نہ) سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ پیدا کر دیا ہے (کہ وہ اس حق کو سن نہ سکیں)، اور اگر آپ انہیں ہدایت کی طرف بلائیں تو وہ کبھی بھی قطعًا ہدایت نہیں پائیں گے،(57)
وَرَبُّكَ الغَفورُ ذُو الرَّحمَةِ ۖ لَو يُؤاخِذُهُم بِما كَسَبوا لَعَجَّلَ لَهُمُ العَذابَ ۚ بَل لَهُم مَوعِدٌ لَن يَجِدوا مِن دونِهِ مَوئِلًا(58)
اور آپ کا رب بڑا بخشنے والا صاحبِ رحمت ہے، اگر وہ ان کے کئے پر ان کا مؤاخذہ فرماتا تو ان پر یقیناً جلد عذاب بھیجتا، بلکہ ان کے لئے (تو) وقتِ وعدہ (مقرر) ہے (جب وہ وقت آئے گا تو) اس کے سوا ہرگز کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گے،(58)
وَتِلكَ القُرىٰ أَهلَكنٰهُم لَمّا ظَلَموا وَجَعَلنا لِمَهلِكِهِم مَوعِدًا(59)
اور یہ بستیاں ہیں ہم نے جن کے رہنے والوں کو ہلاک کر ڈالا جب انہوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا تھا،(59)
وَإِذ قالَ موسىٰ لِفَتىٰهُ لا أَبرَحُ حَتّىٰ أَبلُغَ مَجمَعَ البَحرَينِ أَو أَمضِىَ حُقُبًا(60)
اور (وہ واقعہ بھی یاد کیجئے) جب موسٰی (علیہ السلام) نے اپنے (جواں سال ساتھی اور) خادم (یوشع بن نون علیہ السلام) سے کہا: میں (پیچھے) نہیں ہٹ سکتا یہاں تک کہ میں دو دریاؤں کے سنگم کی جگہ تک پہنچ جاؤں یا مدتوں چلتا رہوں،(60)
فَلَمّا بَلَغا مَجمَعَ بَينِهِما نَسِيا حوتَهُما فَاتَّخَذَ سَبيلَهُ فِى البَحرِ سَرَبًا(61)
سو جب وہ دونوں دو دریاؤں کے درمیان سنگم پر پہنچے تو وہ دونوں اپنی مچھلی (وہیں) بھول گئے پس وہ (تلی ہوئی مچھلی زندہ ہوکر) دریا میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بناتے ہوئے (نکل گئی)،(61)
فَلَمّا جاوَزا قالَ لِفَتىٰهُ ءاتِنا غَداءَنا لَقَد لَقينا مِن سَفَرِنا هٰذا نَصَبًا(62)
پھر جب وہ دونوں آگے بڑھ گئے (تو) موسٰی (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کہا: ہمارا کھانا ہمارے پاس لاؤ بیشک ہم نے اپنے اس سفر میں بڑی مشقت کا سامنا کیا ہے،(62)
قالَ أَرَءَيتَ إِذ أَوَينا إِلَى الصَّخرَةِ فَإِنّى نَسيتُ الحوتَ وَما أَنسىٰنيهُ إِلَّا الشَّيطٰنُ أَن أَذكُرَهُ ۚ وَاتَّخَذَ سَبيلَهُ فِى البَحرِ عَجَبًا(63)
(خادم نے) کہا: کیا آپ نے دیکھا جب ہم نے پتھر کے پاس آرام کیا تھا تو میں (وہاں) مچھلی بھول گیا تھا، اور مجھے یہ کسی نے نہیں بھلایا سوائے شیطان کے کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں، اور اس (مچھلی) نے تو (زندہ ہوکر) دریا میں عجیب طریقہ سے اپنا راستہ بنا لیا تھا (اور وہ غائب ہو گئی تھی)،(63)
قالَ ذٰلِكَ ما كُنّا نَبغِ ۚ فَارتَدّا عَلىٰ ءاثارِهِما قَصَصًا(64)
موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: یہی وہ (مقام) ہے ہم جسے تلاش کر رہے تھے، پس دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر (وہی راستہ) تلاش کرتے ہوئے (اسی مقام پر) واپس پلٹ آئے،(64)
فَوَجَدا عَبدًا مِن عِبادِنا ءاتَينٰهُ رَحمَةً مِن عِندِنا وَعَلَّمنٰهُ مِن لَدُنّا عِلمًا(65)
تو دونوں نے (وہاں) ہمارے بندوں میں سے ایک (خاص) بندے (خضر علیہ السلام) کو پا لیا جسے ہم نے اپنی بارگاہ سے (خصوصی) رحمت عطا کی تھی اور ہم نے اسے اپنا علم لدنّی (یعنی اَسرار و معارف کا الہامی علم) سکھایا تھا،(65)
قالَ لَهُ موسىٰ هَل أَتَّبِعُكَ عَلىٰ أَن تُعَلِّمَنِ مِمّا عُلِّمتَ رُشدًا(66)
اس سے موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا میں آپ کے ساتھ اس (شرط) پر رہ سکتا ہوں کہ آپ مجھے (بھی) اس علم میں سے کچھ سکھائیں گے جو آپ کو بغرضِ ارشاد سکھایا گیا ہے،(66)
قالَ إِنَّكَ لَن تَستَطيعَ مَعِىَ صَبرًا(67)
اس (خضرعلیہ السلام) نے کہا: بیشک آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہ کر سکیں گے،(67)
وَكَيفَ تَصبِرُ عَلىٰ ما لَم تُحِط بِهِ خُبرًا(68)
اور آپ اس (بات) پر کیسے صبر کر سکتے ہیں جسے آپ (پورے طور پر) اپنے احاطہء علم میں نہیں لائے ہوں گے،(68)
قالَ سَتَجِدُنى إِن شاءَ اللَّهُ صابِرًا وَلا أَعصى لَكَ أَمرًا(69)
موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: آپ اِن شاء اﷲ مجھے ضرور صابر پائیں گے اور میں آپ کی کسی بات کی خلاف ورزی نہیں کروں گا،(69)
قالَ فَإِنِ اتَّبَعتَنى فَلا تَسـَٔلنى عَن شَيءٍ حَتّىٰ أُحدِثَ لَكَ مِنهُ ذِكرًا(70)
(خضرعلیہ السلام نے) کہا: پس اگر آپ میرے ساتھ رہیں تو مجھ سے کسی چیز کی بابت سوال نہ کریں یہاں تک کہ میں خود آپ سے اس کا ذکر کردوں،(70)
فَانطَلَقا حَتّىٰ إِذا رَكِبا فِى السَّفينَةِ خَرَقَها ۖ قالَ أَخَرَقتَها لِتُغرِقَ أَهلَها لَقَد جِئتَ شَيـًٔا إِمرًا(71)
پس دونوں چل دیئے یہاں تک کہ جب دونوں کشتی میں سوار ہوئے (تو خضر علیہ السلام نے) اس (کشتی) میں شگاف کر دیا، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا آپ نے اسے اس لئے (شگاف کر کے) پھاڑ ڈالا ہے کہ آپ کشتی والوں کو غرق کردیں، بیشک آپ نے بڑی عجیب بات کی،(71)
قالَ أَلَم أَقُل إِنَّكَ لَن تَستَطيعَ مَعِىَ صَبرًا(72)
(خضرعلیہ السلام نے) کہا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کرسکیں گے،(72)
قالَ لا تُؤاخِذنى بِما نَسيتُ وَلا تُرهِقنى مِن أَمرى عُسرًا(73)
موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: آپ میری بھول پر میری گرفت نہ کریں اور میرے (اس) معاملہ میں مجھے زیادہ مشکل میں نہ ڈالیں،(73)
فَانطَلَقا حَتّىٰ إِذا لَقِيا غُلٰمًا فَقَتَلَهُ قالَ أَقَتَلتَ نَفسًا زَكِيَّةً بِغَيرِ نَفسٍ لَقَد جِئتَ شَيـًٔا نُكرًا(74)
پھر وہ دونوں چل دیئے یہاں تک کہ دونوں ایک لڑکے سے ملے تو (خضر علیہ السلام نے) اسے قتل کر ڈالا، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا آپ نے بے گناہ جان کو بغیر کسی جان (کے بدلہ) کے قتل کر دیا ہے، بیشک آپ نے بڑا ہی سخت کام کیا ہے،(74)
۞ قالَ أَلَم أَقُل لَكَ إِنَّكَ لَن تَستَطيعَ مَعِىَ صَبرًا(75)
(خضرعلیہ السلام نے) کہا: کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہ کر سکیں گے،(75)
قالَ إِن سَأَلتُكَ عَن شَيءٍ بَعدَها فَلا تُصٰحِبنى ۖ قَد بَلَغتَ مِن لَدُنّى عُذرًا(76)
موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اگر میں اس کے بعد آپ سے کسی چیز کی نسبت سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا، بیشک میری طرف سے آپ حدِ عذر کو پہنچ گئے ہیں،(76)
فَانطَلَقا حَتّىٰ إِذا أَتَيا أَهلَ قَريَةٍ استَطعَما أَهلَها فَأَبَوا أَن يُضَيِّفوهُما فَوَجَدا فيها جِدارًا يُريدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقامَهُ ۖ قالَ لَو شِئتَ لَتَّخَذتَ عَلَيهِ أَجرًا(77)
پھر دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب دونوں ایک بستی والوں کے پاس آپہنچے، دونوں نے وہاں کے باشندوں سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے ان دونوں کی میزبانی کرنے سے انکار کر دیا، پھر دونوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرا چاہتی تھی تو (خضر علیہ السلام نے) اسے سیدھا کر دیا، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس (تعمیر) پر مزدوری لے لیتے،(77)
قالَ هٰذا فِراقُ بَينى وَبَينِكَ ۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأويلِ ما لَم تَستَطِع عَلَيهِ صَبرًا(78)
(خضرعلیہ السلام نے) کہا: یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی (کا وقت) ہے، اب میں آپ کو ان باتوں کی حقیقت سے آگاہ کئے دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے،(78)
أَمَّا السَّفينَةُ فَكانَت لِمَسٰكينَ يَعمَلونَ فِى البَحرِ فَأَرَدتُ أَن أَعيبَها وَكانَ وَراءَهُم مَلِكٌ يَأخُذُ كُلَّ سَفينَةٍ غَصبًا(79)
وہ جو کشتی تھی سو وہ چند غریب لوگوں کی تھی وہ دریا میں محنت مزدوری کیا کرتے تھے پس میں نے ارادہ کیا کہ اسے عیب دار کر دوں اور (اس کی وجہ یہ تھی کہ) ان کے آگے ایک (جابر) بادشاہ (کھڑا) تھا جو ہر (بے عیب) کشتی کو زبردستی (مالکوں سے بلامعاوضہ) چھین رہا تھا،(79)
وَأَمَّا الغُلٰمُ فَكانَ أَبَواهُ مُؤمِنَينِ فَخَشينا أَن يُرهِقَهُما طُغيٰنًا وَكُفرًا(80)
اور وہ جو لڑکا تھا تو اس کے ماں باپ صاحبِ ایمان تھے پس ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ (اگر زندہ رہا تو کافر بنے گا اور) ان دونوں کو (بڑا ہو کر) سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گا،(80)
فَأَرَدنا أَن يُبدِلَهُما رَبُّهُما خَيرًا مِنهُ زَكوٰةً وَأَقرَبَ رُحمًا(81)
پس ہم نے ارادہ کیا کہ ان کا رب انہیں (ایسا) بدل عطا فرمائے جو پاکیزگی میں (بھی) اس (لڑکے) سے بہتر ہو اور شفقت و رحم دلی میں (بھی والدین سے) قریب تر ہو،(81)
وَأَمَّا الجِدارُ فَكانَ لِغُلٰمَينِ يَتيمَينِ فِى المَدينَةِ وَكانَ تَحتَهُ كَنزٌ لَهُما وَكانَ أَبوهُما صٰلِحًا فَأَرادَ رَبُّكَ أَن يَبلُغا أَشُدَّهُما وَيَستَخرِجا كَنزَهُما رَحمَةً مِن رَبِّكَ ۚ وَما فَعَلتُهُ عَن أَمرى ۚ ذٰلِكَ تَأويلُ ما لَم تَسطِع عَلَيهِ صَبرًا(82)
اور وہ جو دیوار تھی تو وہ شہر میں (رہنے والے) دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لئے ایک خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ صالح (شخص) تھا، سو آپ کے رب نے ارادہ کیا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور آپ کے رب کی رحمت سے وہ اپنا خزانہ (خود ہی) نکالیں، اور میں نے (جو کچھ بھی کیا) وہ اَز خود نہیں کیا، یہ ان (واقعات) کی حقیقت ہے جن پر آپ صبر نہ کر سکے،(82)
وَيَسـَٔلونَكَ عَن ذِى القَرنَينِ ۖ قُل سَأَتلوا عَلَيكُم مِنهُ ذِكرًا(83)
اور (اے حبیبِ معظّم!) یہ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں، فرما دیجئے: میں ابھی تمہیں اس کے حال کا تذکرہ پڑھ کر سناتا ہوں،(83)
إِنّا مَكَّنّا لَهُ فِى الأَرضِ وَءاتَينٰهُ مِن كُلِّ شَيءٍ سَبَبًا(84)
بیشک ہم نے اسے (زمانۂ قدیم میں) زمین پر اقتدار بخشا تھا اور ہم نے اس (کی سلطنت) کو تمام وسائل و اسباب سے نوازا تھا،(84)
فَأَتبَعَ سَبَبًا(85)
پس وہ (مزید) اسباب کے پیچھے چل پڑا،(85)
حَتّىٰ إِذا بَلَغَ مَغرِبَ الشَّمسِ وَجَدَها تَغرُبُ فى عَينٍ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِندَها قَومًا ۗ قُلنا يٰذَا القَرنَينِ إِمّا أَن تُعَذِّبَ وَإِمّا أَن تَتَّخِذَ فيهِم حُسنًا(86)
یہاں تک کہ وہ غروبِ آفتاب (کی سمت آبادی) کے آخری کنارے پر جا پہنچا وہاں اس نے سورج کے غروب کے منظر کو ایسے محسوس کیا جیسے وہ (کیچڑ کی طرح سیاہ رنگ) پانی کے گرم چشمہ میں ڈوب رہا ہو اور اس نے وہاں ایک قوم کو (آباد) پایا۔ ہم نے فرمایا: اے ذوالقرنین! (یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے) خواہ تم انہیں سزا دو یا ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو،(86)
قالَ أَمّا مَن ظَلَمَ فَسَوفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلىٰ رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذابًا نُكرًا(87)
ذوالقرنین نے کہا: جو شخص (کفر و فسق کی صورت میں) ظلم کرے گا تو ہم اسے ضرور سزا دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا، پھر وہ اسے بہت ہی سخت عذاب دے گا،(87)
وَأَمّا مَن ءامَنَ وَعَمِلَ صٰلِحًا فَلَهُ جَزاءً الحُسنىٰ ۖ وَسَنَقولُ لَهُ مِن أَمرِنا يُسرًا(88)
اور جو شخص ایمان لے آئے گا اور نیک عمل کرے گا تو اس کے لئے بہتر جزا ہے اور ہم (بھی) اس کے لئے اپنے احکام میں آسان بات کہیں گے،(88)
ثُمَّ أَتبَعَ سَبَبًا(89)
(مغرب میں فتوحات مکمل کرنے کے بعد) پھر وہ (دوسرے) راستہ پر چل پڑا،(89)
حَتّىٰ إِذا بَلَغَ مَطلِعَ الشَّمسِ وَجَدَها تَطلُعُ عَلىٰ قَومٍ لَم نَجعَل لَهُم مِن دونِها سِترًا(90)
یہاں تک کہ وہ طلوعِ آفتاب (کی سمت آبادی) کے آخری کنارے پر جا پہنچا، وہاں اس نے سورج (کے طلوع کے منظر) کو ایسے محسوس کیا (جیسے) سورج (زمین کے اس خطہ پر آباد) ایک قوم پر اُبھر رہا ہو جس کے لئے ہم نے سورج سے (بچاؤ کی خاطر) کوئی حجاب تک نہیں بنایا تھا (یعنی وہ لوگ بغیر لباس اور مکان کے غاروں میں رہتے تھے)،(90)
كَذٰلِكَ وَقَد أَحَطنا بِما لَدَيهِ خُبرًا(91)
واقعہ اسی طرح ہے، اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم نے اپنے علم سے اس کا احاطہ کر لیا ہے،(91)
ثُمَّ أَتبَعَ سَبَبًا(92)
(مشرق میں فتوحات مکمل کرنے کے بعد) پھر وہ (ایک اور) راستہ پر چل پڑا،(92)
حَتّىٰ إِذا بَلَغَ بَينَ السَّدَّينِ وَجَدَ مِن دونِهِما قَومًا لا يَكادونَ يَفقَهونَ قَولًا(93)
یہاں تک کہ وہ (ایک مقام پر) دو پہاڑوں کے درمیان جا پہنچا اس نے ان پہاڑوں کے پیچھے ایک ایسی قوم کو آباد پایا جو (کسی کی) بات نہیں سمجھ سکتے تھے،(93)
قالوا يٰذَا القَرنَينِ إِنَّ يَأجوجَ وَمَأجوجَ مُفسِدونَ فِى الأَرضِ فَهَل نَجعَلُ لَكَ خَرجًا عَلىٰ أَن تَجعَلَ بَينَنا وَبَينَهُم سَدًّا(94)
انہوں نے کہا: اے ذوالقرنین! بیشک یاجوج اور ماجوج نے زمین میں فساد بپا کر رکھا ہے تو کیا ہم آپ کے لئے اس (شرط) پر کچھ مالِ (خراج) مقرر کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک بلند دیوار بنا دیں،(94)
قالَ ما مَكَّنّى فيهِ رَبّى خَيرٌ فَأَعينونى بِقُوَّةٍ أَجعَل بَينَكُم وَبَينَهُم رَدمًا(95)
(ذوالقرنین نے) کہا: مجھے میرے رب نے اس بارے میں جو اختیار دیا ہے (وہ) بہتر ہے، تم اپنے زورِ بازو (یعنی محنت و مشقت) سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں گا،(95)
ءاتونى زُبَرَ الحَديدِ ۖ حَتّىٰ إِذا ساوىٰ بَينَ الصَّدَفَينِ قالَ انفُخوا ۖ حَتّىٰ إِذا جَعَلَهُ نارًا قالَ ءاتونى أُفرِغ عَلَيهِ قِطرًا(96)
تم مجھے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دو، یہاں تک کہ جب اس نے (وہ لوہے کی دیوار پہاڑوں کی) دونوں چوٹیوں کے درمیان برابر کر دی تو کہنے لگا: (اب آگ لگا کر اسے) دھونکو، یہاں تک کہ جب اس نے اس (لوہے) کو (دھونک دھونک کر) آگ بنا ڈالا تو کہنے لگا: میرے پاس لاؤ (اب) میں اس پر پگھلا ہوا تانبا ڈالوں گا،(96)
فَمَا اسطٰعوا أَن يَظهَروهُ وَمَا استَطٰعوا لَهُ نَقبًا(97)
پھر ان (یاجوج اور ماجوج) میں نہ اتنی طاقت تھی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ اتنی قدرت پا سکے کہ اس میں سوراخ کر دیں،(97)
قالَ هٰذا رَحمَةٌ مِن رَبّى ۖ فَإِذا جاءَ وَعدُ رَبّى جَعَلَهُ دَكّاءَ ۖ وَكانَ وَعدُ رَبّى حَقًّا(98)
(ذوالقرنین نے) کہا: یہ میرے رب کی جانب سے رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدۂ (قیامت قریب) آئے گا تو وہ اس دیوار کو (گرا کر) ہموار کردے گا (دیوار ریزہ ریزہ ہوجائے گی)، اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے،(98)
۞ وَتَرَكنا بَعضَهُم يَومَئِذٍ يَموجُ فى بَعضٍ ۖ وَنُفِخَ فِى الصّورِ فَجَمَعنٰهُم جَمعًا(99)
اور ہم اس وقت (جملہ مخلوقات یا یاجوج اور ماجوج کو) آزاد کر دیں گے وہ (تیز و تند موجوں کی طرح) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم ان سب کو (میدانِ حشر میں) جمع کرلیں گے،(99)
وَعَرَضنا جَهَنَّمَ يَومَئِذٍ لِلكٰفِرينَ عَرضًا(100)
اور ہم اس دن دوزخ کو کافروں کے سامنے بالکل عیاں کر کے پیش کریں گے،(100)
الَّذينَ كانَت أَعيُنُهُم فى غِطاءٍ عَن ذِكرى وَكانوا لا يَستَطيعونَ سَمعًا(101)
وہ لوگ جن کی آنکھیں میری یاد سے حجابِ (غفلت) میں تھیں اور وہ (میرا ذکر) سن بھی نہ سکتے تھے،(101)
أَفَحَسِبَ الَّذينَ كَفَروا أَن يَتَّخِذوا عِبادى مِن دونى أَولِياءَ ۚ إِنّا أَعتَدنا جَهَنَّمَ لِلكٰفِرينَ نُزُلًا(102)
کیا کافر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو کار ساز بنا لیں گے، بیشک ہم نے کافروں کے لئے جہنم کی میزبانی کو تیار کر رکھا ہے،(102)
قُل هَل نُنَبِّئُكُم بِالأَخسَرينَ أَعمٰلًا(103)
فرما دیجئے: کیا ہم تمہیں ایسے لوگوں سے خبردار کر دیں جو اعمال کے حساب سے سخت خسارہ پانے والے ہیں،(103)
الَّذينَ ضَلَّ سَعيُهُم فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا وَهُم يَحسَبونَ أَنَّهُم يُحسِنونَ صُنعًا(104)
یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری جد و جہد دنیا کی زندگی میں ہی برباد ہوگئی اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم بڑے اچھے کام انجام دے رہے ہیں،(104)
أُولٰئِكَ الَّذينَ كَفَروا بِـٔايٰتِ رَبِّهِم وَلِقائِهِ فَحَبِطَت أَعمٰلُهُم فَلا نُقيمُ لَهُم يَومَ القِيٰمَةِ وَزنًا(105)
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا اور (مرنے کے بعد) اس سے ملاقات کا انکار کردیا ہے سو ان کے سارے اعمال اکارت گئے پس ہم ان کے لئے قیامت کے دن کوئی وزن اور حیثیت (ہی) قائم نہیں کریں گے،(105)
ذٰلِكَ جَزاؤُهُم جَهَنَّمُ بِما كَفَروا وَاتَّخَذوا ءايٰتى وَرُسُلى هُزُوًا(106)
یہی دوزخ ہی ان کی جزا ہے اس وجہ سے کہ وہ کفر کرتے رہے اور میری نشانیوں اور میرے رسولوں کا مذاق اڑاتے رہے،(106)
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كانَت لَهُم جَنّٰتُ الفِردَوسِ نُزُلًا(107)
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کے لئے فردوس کے باغات کی مہمانی ہوگی،(107)
خٰلِدينَ فيها لا يَبغونَ عَنها حِوَلًا(108)
وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے وہاں سے (اپنا ٹھکانا) کبھی بدلنا نہ چاہیں گے،(108)
قُل لَو كانَ البَحرُ مِدادًا لِكَلِمٰتِ رَبّى لَنَفِدَ البَحرُ قَبلَ أَن تَنفَدَ كَلِمٰتُ رَبّى وَلَو جِئنا بِمِثلِهِ مَدَدًا(109)
فرما دیجئے: اگر سمندر میرے رب کے کلمات کے لئے روشنائی ہوجائے تو وہ سمندر میرے رب کے کلمات کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گا اگرچہ ہم اس کی مثل اور (سمندر یا روشنائی) مدد کے لئے لے آئیں،(109)
قُل إِنَّما أَنا۠ بَشَرٌ مِثلُكُم يوحىٰ إِلَىَّ أَنَّما إِلٰهُكُم إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۖ فَمَن كانَ يَرجوا لِقاءَ رَبِّهِ فَليَعمَل عَمَلًا صٰلِحًا وَلا يُشرِك بِعِبادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا(110)
فرما دیجئے: میں تو صرف (بخلقتِ ظاہری) بشر ہونے میں تمہاری مثل ہوں (اس کے سوا اور تمہاری مجھ سے کیا مناسبت ہے! ذرا غور کرو) میری طرف وحی کی جاتی ہے (بھلا تم میں یہ نوری استعداد کہاں ہے کہ تم پر کلامِ الٰہی اتر سکے) وہ یہ کہ تمہارا معبود، معبودِ یکتا ہی ہے پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے،(110)