Al-Jumu'a( الجمعة)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يُسَبِّحُ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ المَلِكِ القُدّوسِ العَزيزِ الحَكيمِ(1)
(ہر چیز) جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اللہ کی تسبیح کرتی ہے (جو حقیقی) بادشاہ ہے، (ہر نقص و عیب سے) پاک ہے، عزت و غلبہ والا ہے بڑی حکمت والا ہے،(1)
هُوَ الَّذى بَعَثَ فِى الأُمِّيّۦنَ رَسولًا مِنهُم يَتلوا عَلَيهِم ءايٰتِهِ وَيُزَكّيهِم وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَإِن كانوا مِن قَبلُ لَفى ضَلٰلٍ مُبينٍ(2)
وہی ہے جس نے اَن پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک (با عظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا وہ اُن پر اُس کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں اور اُن (کے ظاہر و باطن) کو پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، بیشک وہ لوگ اِن (کے تشریف لانے) سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے،(2)
وَءاخَرينَ مِنهُم لَمّا يَلحَقوا بِهِم ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(3)
اور اِن میں سے دوسرے لوگوں میں بھی (اِس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تزکیہ و تعلیم کے لئے بھیجا ہے) جو ابھی اِن لوگوں سے نہیں ملے (جو اس وقت موجود ہیں یعنی اِن کے بعد کے زمانہ میں آئیں گے)، اور وہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے،(3)
ذٰلِكَ فَضلُ اللَّهِ يُؤتيهِ مَن يَشاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الفَضلِ العَظيمِ(4)
یہ (یعنی اس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد اور اِن کا فیض و ہدایت) اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے اس سے نوازتا ہے، اوراللہ بڑے فضل والا ہے،(4)
مَثَلُ الَّذينَ حُمِّلُوا التَّورىٰةَ ثُمَّ لَم يَحمِلوها كَمَثَلِ الحِمارِ يَحمِلُ أَسفارًا ۚ بِئسَ مَثَلُ القَومِ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِ اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ(5)
اُن لوگوں کا حال جن پر تورات (کے احکام و تعلیمات) کا بوجھ ڈالا گیا پھر انہوں نے اسے نہ اٹھایا (یعنی اس میں اِس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر موجود تھا مگر وہ اِن پر ایمان نہ لائے) گدھے کی مِثل ہے جو پیٹھ پر بڑی بڑی کتابیں لادے ہوئے ہو، اُن لوگوں کی مثال کیا ہی بُری ہے جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا ہے، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا،(5)
قُل يٰأَيُّهَا الَّذينَ هادوا إِن زَعَمتُم أَنَّكُم أَولِياءُ لِلَّهِ مِن دونِ النّاسِ فَتَمَنَّوُا المَوتَ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(6)
آپ فرما دیجئے: اے یہودیو! اگر تم یہ گمان کرتے ہو کہ سب لوگوں کو چھوڑ کر تم ہی اللہ کے دوست (یعنی اولیاء) ہو تو موت کی آرزو کرو (کیونکہ اس کے اولیاء کو تو قبر و حشر میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی) اگر تم (اپنے خیال میں) سچے ہو،(6)
وَلا يَتَمَنَّونَهُ أَبَدًا بِما قَدَّمَت أَيديهِم ۚ وَاللَّهُ عَليمٌ بِالظّٰلِمينَ(7)
اور یہ لوگ کبھی بھی اس کی تمنا نہیں کریں گے اُس (رسول کی تکذیب اور کفر) کے باعث جو وہ آگے بھیج چکے ہیں۔ اور اللہ ظالموں کو خُوب جانتا ہے،(7)
قُل إِنَّ المَوتَ الَّذى تَفِرّونَ مِنهُ فَإِنَّهُ مُلٰقيكُم ۖ ثُمَّ تُرَدّونَ إِلىٰ عٰلِمِ الغَيبِ وَالشَّهٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم تَعمَلونَ(8)
فرما دیجئے: جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ ضرور تمہیں ملنے والی ہے پھر تم ہر پوشیدہ و ظاہر چیز کو جاننے والے (رب) کی طرف لوٹائے جاؤ گے، سو وہ تمہیں آگاہ کر دے گا جو کچھ تم کرتے تھے،(8)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا نودِىَ لِلصَّلوٰةِ مِن يَومِ الجُمُعَةِ فَاسعَوا إِلىٰ ذِكرِ اللَّهِ وَذَرُوا البَيعَ ۚ ذٰلِكُم خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ(9)
اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن (جمعہ کی) نماز کے لئے اذان دی جائے تو فوراً اللہ کے ذکر (یعنی خطبہ و نماز) کی طرف تیزی سے چل پڑو اور خرید و فروخت (یعنی کاروبار) چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو،(9)
فَإِذا قُضِيَتِ الصَّلوٰةُ فَانتَشِروا فِى الأَرضِ وَابتَغوا مِن فَضلِ اللَّهِ وَاذكُرُوا اللَّهَ كَثيرًا لَعَلَّكُم تُفلِحونَ(10)
پھر جب نماز ادا ہوچکے تو زمین میں منتشر ہو جاؤ اور (پھر) اللہ کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرنے لگو اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پاؤ،(10)
وَإِذا رَأَوا تِجٰرَةً أَو لَهوًا انفَضّوا إِلَيها وَتَرَكوكَ قائِمًا ۚ قُل ما عِندَ اللَّهِ خَيرٌ مِنَ اللَّهوِ وَمِنَ التِّجٰرَةِ ۚ وَاللَّهُ خَيرُ الرّٰزِقينَ(11)
اور جب انہوں نے کوئی تجارت یا کھیل تماشا دیکھا تو (اپنی حاجت مندی اور معاشی تنگی کے باعث) اس کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے اور آپ کو (خطبہ میں) کھڑے چھوڑ گئے، فرما دیجئے: جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل سے اور تجارت سے بہتر ہے، اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے،(11)