Al-Jathiya( الجاثية)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ حم(1)
حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،(1)
تَنزيلُ الكِتٰبِ مِنَ اللَّهِ العَزيزِ الحَكيمِ(2)
(اِس) کتاب کا اتارا جانا اللہ کی جانب سے ہے جو بڑی عزّت والا بڑی حکمت والا ہے،(2)
إِنَّ فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ لَءايٰتٍ لِلمُؤمِنينَ(3)
بیشک آسمانوں اور زمین میں یقیناً مومنوں کے لئے نشانیاں ہیں،(3)
وَفى خَلقِكُم وَما يَبُثُّ مِن دابَّةٍ ءايٰتٌ لِقَومٍ يوقِنونَ(4)
اور تمہاری (اپنی) پیدائش میں اور اُن جانوروں میں جنہیں وہ پھیلاتا ہے، یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں،(4)
وَاختِلٰفِ الَّيلِ وَالنَّهارِ وَما أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّماءِ مِن رِزقٍ فَأَحيا بِهِ الأَرضَ بَعدَ مَوتِها وَتَصريفِ الرِّيٰحِ ءايٰتٌ لِقَومٍ يَعقِلونَ(5)
اور رات دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور (بصورتِ بارش) اُس رِزق میں جسے اللہ آسمان سے اتارتا ہے، پھر اس سے زمین کو اُس کی مُردنی کے بعد زندہ کر دیتا ہے اور (اسی طرح) ہواؤں کے رُخ پھیرنے میں، اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل و شعور رکھتے ہیں،(5)
تِلكَ ءايٰتُ اللَّهِ نَتلوها عَلَيكَ بِالحَقِّ ۖ فَبِأَىِّ حَديثٍ بَعدَ اللَّهِ وَءايٰتِهِ يُؤمِنونَ(6)
یہ اللہ کی آیتیں ہیں جنہیں ہم آپ پر پوری سچائی کے ساتھ تلاوت فرماتے ہیں، پھر اللہ اور اُس کی آیتوں کے بعد یہ لوگ کس بات پر ایمان لائیں گے،(6)
وَيلٌ لِكُلِّ أَفّاكٍ أَثيمٍ(7)
ہر بہتان تراشنے والے کذّاب (اور) بڑے سیاہ کار کے لئے ہلاکت ہے،(7)
يَسمَعُ ءايٰتِ اللَّهِ تُتلىٰ عَلَيهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُستَكبِرًا كَأَن لَم يَسمَعها ۖ فَبَشِّرهُ بِعَذابٍ أَليمٍ(8)
جو اللہ کی (اُن) آیتوں کو سنتا ہے جو اُس پر پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں پھر (اپنے کفر پر) اصرار کرتا ہے تکبّر کرتے ہوئے، گویا اُس نے انہیں سنا ہی نہیں، تو آپ اسے دردناک عذاب کی بشارت دے دیں،(8)
وَإِذا عَلِمَ مِن ءايٰتِنا شَيـًٔا اتَّخَذَها هُزُوًا ۚ أُولٰئِكَ لَهُم عَذابٌ مُهينٌ(9)
اور جب اسے ہماری (قرآنی) آیات میں سے کسی چیز کا (بھی) علم ہو جاتا ہے تو اسے مذاق بنا لیتا ہے، ایسے ہی لوگوں کے لئے ذلّت انگیز عذاب ہے،(9)
مِن وَرائِهِم جَهَنَّمُ ۖ وَلا يُغنى عَنهُم ما كَسَبوا شَيـًٔا وَلا مَا اتَّخَذوا مِن دونِ اللَّهِ أَولِياءَ ۖ وَلَهُم عَذابٌ عَظيمٌ(10)
اُن کے (اس عرصۂ حیات کے) بعد دوزخ ہے اور جو (مالِ دنیا) انہوں نے کما رکھا ہے اُن کے کچھ کام نہیں آئے گا اور نہ وہ بت (ہی کام آئیں گے) جنہیں اللہ کے سوا انہوں نے کارساز بنا رکھا ہے، اور اُن کے لئے بہت سخت عذاب ہے،(10)
هٰذا هُدًى ۖ وَالَّذينَ كَفَروا بِـٔايٰتِ رَبِّهِم لَهُم عَذابٌ مِن رِجزٍ أَليمٌ(11)
یہ (قرآن) ہدایت ہے، اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیات کے ساتھ کفر کیا اُن کے لئے سخت ترین دردناک عذاب ہے،(11)
۞ اللَّهُ الَّذى سَخَّرَ لَكُمُ البَحرَ لِتَجرِىَ الفُلكُ فيهِ بِأَمرِهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ(12)
اللہ ہی ہے جس نے سمندر کو تمہارے قابو میں کر دیا تاکہ اس کے حکم سے اُس میں جہاز اور کشتیاں چلیں اور تاکہ تم (بحری راستوں سے بھی) اُس کا فضل (یعنی رزق) تلاش کر سکو، اور اس لئے کہ تم شکر گزار ہو جاؤ،(12)
وَسَخَّرَ لَكُم ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ جَميعًا مِنهُ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ(13)
اور اُس نے تمہارے لئے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کو اپنی طرف سے (نظام کے تحت) مسخر کر دیا ہے، بیشک اس میں اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں،(13)
قُل لِلَّذينَ ءامَنوا يَغفِروا لِلَّذينَ لا يَرجونَ أَيّامَ اللَّهِ لِيَجزِىَ قَومًا بِما كانوا يَكسِبونَ(14)
آپ ایمان والوں سے فرما دیجئے کہ وہ اُن لوگوں کو نظر انداز کر دیں جو اللہ کے دنوں کی (آمد کی) امید اور خوف نہیں رکھتے تاکہ وہ اُن لوگوں کو اُن (کے اعمال) کا پورا بدلہ دے دے جو وہ کمایا کرتے تھے،(14)
مَن عَمِلَ صٰلِحًا فَلِنَفسِهِ ۖ وَمَن أَساءَ فَعَلَيها ۖ ثُمَّ إِلىٰ رَبِّكُم تُرجَعونَ(15)
جس نے کوئی نیک عمل کیا سو اپنی ہی جان کے (نفع کے) لئے اور جِس نے برائی کی تو (اس کا وبال بھی) اسی پر ہے پھر تم سب اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے،(15)
وَلَقَد ءاتَينا بَنى إِسرٰءيلَ الكِتٰبَ وَالحُكمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقنٰهُم مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلنٰهُم عَلَى العٰلَمينَ(16)
اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائی، اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور ہم نے انہیں (ان کے ہم زمانہ) جہانوں پر (یعنی اس دور کی قوموں اور تہذیبوں پر) فضیلت بخشی،(16)
وَءاتَينٰهُم بَيِّنٰتٍ مِنَ الأَمرِ ۖ فَمَا اختَلَفوا إِلّا مِن بَعدِ ما جاءَهُمُ العِلمُ بَغيًا بَينَهُم ۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقضى بَينَهُم يَومَ القِيٰمَةِ فيما كانوا فيهِ يَختَلِفونَ(17)
اور ہم نے ان کو دین (اور نبوّت) کے واضح دلائل اور نشانیاں دی ہیں مگر اس کے بعد کہ اُن کے پاس (بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا) علم آچکا انہوں نے (اس سے) اختلاف کیا محض باہمی حسد و عداوت کے باعث، بیشک آپ کا رب اُن کے درمیان قیامت کے دن اس امر کا فیصلہ فرما دے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے،(17)
ثُمَّ جَعَلنٰكَ عَلىٰ شَريعَةٍ مِنَ الأَمرِ فَاتَّبِعها وَلا تَتَّبِع أَهواءَ الَّذينَ لا يَعلَمونَ(18)
پھر ہم نے آپ کو دین کے کھلے راستے (شریعت) پر مامور فرما دیا، سو آپ اسی راہ پر چلتے جائیے اور اُن لوگوں کی خواہشوں کو قبول نہ فرمائیے جنہیں (آپ کی اور آپ کے دین کی عظمت و حقّانیت کا) علم ہی نہیں ہے،(18)
إِنَّهُم لَن يُغنوا عَنكَ مِنَ اللَّهِ شَيـًٔا ۚ وَإِنَّ الظّٰلِمينَ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ ۖ وَاللَّهُ وَلِىُّ المُتَّقينَ(19)
بیشک یہ لوگ اللہ کی جانب سے (اسلام کی راہ میں پیش آمدہ مشکلات کے وقت میں وعدوں کے باوجود) ہرگز آپ کے کام نہیں آئیں گے، اور بیشک ظالم لوگ (دنیا میں) ایک دوسرے کے ہی دوست اور مددگار ہوا کرتے ہیں، اور اللہ پرہیزگاروں کا دوست اور مددگار ہے،(19)
هٰذا بَصٰئِرُ لِلنّاسِ وَهُدًى وَرَحمَةٌ لِقَومٍ يوقِنونَ(20)
یہ (قرآن) لوگوں کے لئے بصیرت و عبرت کے دلائل ہیں اور یقین رکھنے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے،(20)
أَم حَسِبَ الَّذينَ اجتَرَحُوا السَّيِّـٔاتِ أَن نَجعَلَهُم كَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَواءً مَحياهُم وَمَماتُهُم ۚ ساءَ ما يَحكُمونَ(21)
کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیاں کما رکھی ہیں یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم انہیں اُن لوگوں کی مانند کر دیں گے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے (کہ) اُن کی زندگی اور ان کی موت برابر ہو جائے۔ جو دعوٰی (یہ کفّار) کر رہے ہیں نہایت برا ہے،(21)
وَخَلَقَ اللَّهُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ بِالحَقِّ وَلِتُجزىٰ كُلُّ نَفسٍ بِما كَسَبَت وَهُم لا يُظلَمونَ(22)
اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق (پر مبنی حکمت) کے ساتھ پیدا فرمایا اور اس لئے کہ ہر جان کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے جو اس نے کمائے ہیں اور اُن پر ظلم نہیں کیا جائے گا،(22)
أَفَرَءَيتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوىٰهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلىٰ عِلمٍ وَخَتَمَ عَلىٰ سَمعِهِ وَقَلبِهِ وَجَعَلَ عَلىٰ بَصَرِهِ غِشٰوَةً فَمَن يَهديهِ مِن بَعدِ اللَّهِ ۚ أَفَلا تَذَكَّرونَ(23)
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ ٹھہرا دیا ہے اور اس کے کان اور اس کے دل پر مُہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے، پھر اُسے اللہ کے بعد کون ہدایت کر سکتا ہے، سو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے،(23)
وَقالوا ما هِىَ إِلّا حَياتُنَا الدُّنيا نَموتُ وَنَحيا وَما يُهلِكُنا إِلَّا الدَّهرُ ۚ وَما لَهُم بِذٰلِكَ مِن عِلمٍ ۖ إِن هُم إِلّا يَظُنّونَ(24)
اور وہ کہتے ہیں: ہماری دنیوی زندگی کے سوا (اور) کچھ نہیں ہے ہم (بس) یہیں مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں زمانے کے (حالات و واقعات کے) سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا (گویا خدا اور آخرت کا مکمل انکار کرتے ہیں)، اور انہیں اس (حقیقت) کا کچھ بھی علم نہیں ہے، وہ صرف خیال و گمان سے کام لے رہے ہیں،(24)
وَإِذا تُتلىٰ عَلَيهِم ءايٰتُنا بَيِّنٰتٍ ما كانَ حُجَّتَهُم إِلّا أَن قالُوا ائتوا بِـٔابائِنا إِن كُنتُم صٰدِقينَ(25)
اور جب اُن پر ہماری واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو اس کے سوا اُن کی کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر کے) لے آؤ، اگر تم سچے ہو،(25)
قُلِ اللَّهُ يُحييكُم ثُمَّ يُميتُكُم ثُمَّ يَجمَعُكُم إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ لا رَيبَ فيهِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ(26)
فرما دیجئے: اللہ ہی تمہیں زندگی دیتا ہے اور پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے پھر تم سب کو قیامت کے دن کی طرف جمع فرمائے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،(26)
وَلِلَّهِ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ وَيَومَ تَقومُ السّاعَةُ يَومَئِذٍ يَخسَرُ المُبطِلونَ(27)
اور اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اور جِس دن قیامت برپا ہوگی تب (سب) اہلِ باطل سخت خسارے میں پڑ جائیں گے،(27)
وَتَرىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جاثِيَةً ۚ كُلُّ أُمَّةٍ تُدعىٰ إِلىٰ كِتٰبِهَا اليَومَ تُجزَونَ ما كُنتُم تَعمَلونَ(28)
اور آپ دیکھیں گے (کفّار و منکرین کا) ہر گروہ گھٹنوں کے بل گِرا ہوا بیٹھا ہو گا، ہر فرقے کو اس (کے اعمال) کی کتاب کی طرف بلایا جائے گا، آج تمہیں اُن اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے،(28)
هٰذا كِتٰبُنا يَنطِقُ عَلَيكُم بِالحَقِّ ۚ إِنّا كُنّا نَستَنسِخُ ما كُنتُم تَعمَلونَ(29)
یہ ہمارا نوشتہ ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کرے گا، بیشک ہم وہ سب کچھ لکھوا (کر محفوظ کر) لیا کرتے تھے جو تم کرتے تھے،(29)
فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُدخِلُهُم رَبُّهُم فى رَحمَتِهِ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الفَوزُ المُبينُ(30)
پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو اُن کا رب انہیں اپنی رحمت میں داخل فرما لے گا، یہی تو واضح کامیابی ہے،(30)
وَأَمَّا الَّذينَ كَفَروا أَفَلَم تَكُن ءايٰتى تُتلىٰ عَلَيكُم فَاستَكبَرتُم وَكُنتُم قَومًا مُجرِمينَ(31)
اور جن لوگوں نے کُفر کیا (اُن سے کہا جائے گا:) کیا میری آیتیں تم پر پڑھ پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں، پس تم نے تکبّر کیا اور تم مُجرم لوگ تھے،(31)
وَإِذا قيلَ إِنَّ وَعدَ اللَّهِ حَقٌّ وَالسّاعَةُ لا رَيبَ فيها قُلتُم ما نَدرى مَا السّاعَةُ إِن نَظُنُّ إِلّا ظَنًّا وَما نَحنُ بِمُستَيقِنينَ(32)
اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت (کے آنے) میں کوئی شک نہیں ہے تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے، ہم اُسے وہم و گمان کے سوا کچھ نہیں سمجھتے اور ہم (اِس پر) یقین کرنے والے نہیں ہیں،(32)
وَبَدا لَهُم سَيِّـٔاتُ ما عَمِلوا وَحاقَ بِهِم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(33)
اور اُن کے لئے وہ سب برائیاں ظاہر ہو جائیں گی جو وہ انجام دیتے تھے اور وہ (عذاب) انہیں گھیر لے گا جِس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،(33)
وَقيلَ اليَومَ نَنسىٰكُم كَما نَسيتُم لِقاءَ يَومِكُم هٰذا وَمَأوىٰكُمُ النّارُ وَما لَكُم مِن نٰصِرينَ(34)
اور (اُن سے) کہا جائے گا: آج ہم تمہیں بھلائے دیتے ہیں جِس طرح تم نے اپنے اِس دن کی پیشی کو بھلا دیا تھا اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور تمہارے لئے کوئی بھی مددگار نہ ہوگا،(34)
ذٰلِكُم بِأَنَّكُمُ اتَّخَذتُم ءايٰتِ اللَّهِ هُزُوًا وَغَرَّتكُمُ الحَيوٰةُ الدُّنيا ۚ فَاليَومَ لا يُخرَجونَ مِنها وَلا هُم يُستَعتَبونَ(35)
یہ اس وجہ سے (ہے) کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو مذاق بنا رکھا تھا اور دنیوی زندگی نے تمہیں دھوکہ میں ڈال دیا تھا، سو آج نہ تو وہ اُس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے اور نہ اُن سے توبہ کے ذریعے (اللہ کی) رضاجوئی قبول کی جائے گی،(35)
فَلِلَّهِ الحَمدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الأَرضِ رَبِّ العٰلَمينَ(36)
پس اللہ ہی کے لئے ساری تعریفیں ہیں جو آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا مالک ہے، سب جہانوں کا پروردگار (بھی) ہے،(36)
وَلَهُ الكِبرِياءُ فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(37)
اور آسمانوں اور زمین میں ساری کبریائی (یعنی بڑائی) اسی کے لئے ہے اور وہی بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے،(37)