Al-Israa( الإسراء)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ سُبحٰنَ الَّذى أَسرىٰ بِعَبدِهِ لَيلًا مِنَ المَسجِدِ الحَرامِ إِلَى المَسجِدِ الأَقصَا الَّذى بٰرَكنا حَولَهُ لِنُرِيَهُ مِن ءايٰتِنا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّميعُ البَصيرُ(1)
وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصٰی تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندۂ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بیشک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے،(1)
وَءاتَينا موسَى الكِتٰبَ وَجَعَلنٰهُ هُدًى لِبَنى إِسرٰءيلَ أَلّا تَتَّخِذوا مِن دونى وَكيلًا(2)
اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب (تورات) عطا کی اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنایا (اور انہیں حکم دیا) کہ تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ ٹھہراؤ،(2)
ذُرِّيَّةَ مَن حَمَلنا مَعَ نوحٍ ۚ إِنَّهُ كانَ عَبدًا شَكورًا(3)
(اے) ان لوگوں کی اولاد جنہیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ (کشتی میں) اٹھا لیا تھا، بیشک نوح (علیہ السلام) بڑے شکر گزار بندے تھے،(3)
وَقَضَينا إِلىٰ بَنى إِسرٰءيلَ فِى الكِتٰبِ لَتُفسِدُنَّ فِى الأَرضِ مَرَّتَينِ وَلَتَعلُنَّ عُلُوًّا كَبيرًا(4)
اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل کو قطعی طور پر بتا دیا تھا کہ تم زمین میں ضرور دو مرتبہ فساد کرو گے اور (اطاعتِ الٰہی سے) بڑی سرکشی برتو گے،(4)
فَإِذا جاءَ وَعدُ أولىٰهُما بَعَثنا عَلَيكُم عِبادًا لَنا أُولى بَأسٍ شَديدٍ فَجاسوا خِلٰلَ الدِّيارِ ۚ وَكانَ وَعدًا مَفعولًا(5)
پھر جب ان دونوں میں سے پہلی مرتبہ کا وعدہ آپہنچا تو ہم نے تم پر اپنے ایسے بندے مسلّط کر دیئے جو سخت جنگ جُو تھے پھر وہ (تمہاری) تلاش میں (تمہارے) گھروں تک جا گھسے، اور (یہ) وعدہ ضرور پورا ہونا ہی تھا،(5)
ثُمَّ رَدَدنا لَكُمُ الكَرَّةَ عَلَيهِم وَأَمدَدنٰكُم بِأَموٰلٍ وَبَنينَ وَجَعَلنٰكُم أَكثَرَ نَفيرًا(6)
پھر ہم نے ان کے اوپر غلبہ کو تمہارے حق میں پلٹا دیا اور ہم نے اموال و اولاد (کی کثرت) کے ذریعے تمہاری مدد فرمائی اور ہم نے تمہیں افرادی قوت میں (بھی) بڑھا دیا،(6)
إِن أَحسَنتُم أَحسَنتُم لِأَنفُسِكُم ۖ وَإِن أَسَأتُم فَلَها ۚ فَإِذا جاءَ وَعدُ الءاخِرَةِ لِيَسۥـٔوا وُجوهَكُم وَلِيَدخُلُوا المَسجِدَ كَما دَخَلوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِّروا ما عَلَوا تَتبيرًا(7)
اگر تم بھلائی کرو گے تو اپنے (ہی) لئے بھلائی کرو گے، اور اگر تم برائی کرو گے تو اپنی (ہی) جان کے لئے، پھر جب دوسرے وعدہ کی گھڑی آئی (تو اور ظالموں کو تم پر مسلّط کر دیا) تاکہ (مار مار کر) تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ مسجدِ اقصٰی میں (اسی طرح) داخل ہوں جیسے اس میں (حملہ آور لوگ) پہلی مرتبہ داخل ہوئے تھے اور تاکہ جس (مقام) پر غلبہ پائیں اسے تباہ و برباد کر ڈالیں،(7)
عَسىٰ رَبُّكُم أَن يَرحَمَكُم ۚ وَإِن عُدتُم عُدنا ۘ وَجَعَلنا جَهَنَّمَ لِلكٰفِرينَ حَصيرًا(8)
امید ہے (اس کے بعد) تمہارا رب تم پر رحم فرمائے گا اور اگر تم نے پھر وہی (سرکشی کا طرزِ عمل اختیار) کیا تو ہم بھی وہی (عذاب دوبارہ) کریں گے، اور ہم نے دوزخ کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا دیا ہے،(8)
إِنَّ هٰذَا القُرءانَ يَهدى لِلَّتى هِىَ أَقوَمُ وَيُبَشِّرُ المُؤمِنينَ الَّذينَ يَعمَلونَ الصّٰلِحٰتِ أَنَّ لَهُم أَجرًا كَبيرًا(9)
بیشک یہ قرآن اس (منزل) کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے درست ہے اور ان مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری سناتا ہے کہ ان کے لئے بڑا اجر ہے،(9)
وَأَنَّ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ أَعتَدنا لَهُم عَذابًا أَليمًا(10)
اور یہ کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،(10)
وَيَدعُ الإِنسٰنُ بِالشَّرِّ دُعاءَهُ بِالخَيرِ ۖ وَكانَ الإِنسٰنُ عَجولًا(11)
اور انسان (کبھی تنگ دل اور پریشان ہو کر) برائی کی دعا مانگنے لگتا ہے جس طرح (اپنے لئے) بھلائی کی دعا مانگتا ہے، اور انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے،(11)
وَجَعَلنَا الَّيلَ وَالنَّهارَ ءايَتَينِ ۖ فَمَحَونا ءايَةَ الَّيلِ وَجَعَلنا ءايَةَ النَّهارِ مُبصِرَةً لِتَبتَغوا فَضلًا مِن رَبِّكُم وَلِتَعلَموا عَدَدَ السِّنينَ وَالحِسابَ ۚ وَكُلَّ شَيءٍ فَصَّلنٰهُ تَفصيلًا(12)
اور ہم نے رات اور دن کو (اپنی قدرت کی) دو نشانیاں بنایا پھر ہم نے رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا تاکہ تم اپنے رب کا فضل (رزق) تلاش کر سکو اور تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو، اور ہم نے ہر چیز کو پوری تفصیل سے واضح کر دیا ہے،(12)
وَكُلَّ إِنسٰنٍ أَلزَمنٰهُ طٰئِرَهُ فى عُنُقِهِ ۖ وَنُخرِجُ لَهُ يَومَ القِيٰمَةِ كِتٰبًا يَلقىٰهُ مَنشورًا(13)
اور ہم نے ہر انسان کے اعمال کا نوشتہ اس کی گردن میں لٹکا دیا ہے، اور ہم اس کے لئے قیامت کے دن (یہ) نامۂ اعمال نکالیں گے جسے وہ (اپنے سامنے) کھلا ہوا پائے گا،(13)
اقرَأ كِتٰبَكَ كَفىٰ بِنَفسِكَ اليَومَ عَلَيكَ حَسيبًا(14)
(اس سے کہا جائے گا:) اپنی کتابِ (اَعمال) پڑھ لے، آج تو اپنا حساب جانچنے کے لئے خود ہی کافی ہے،(14)
مَنِ اهتَدىٰ فَإِنَّما يَهتَدى لِنَفسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيها ۚ وَلا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزرَ أُخرىٰ ۗ وَما كُنّا مُعَذِّبينَ حَتّىٰ نَبعَثَ رَسولًا(15)
جو کوئی راہِ ہدایت اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے فائدہ کے لئے ہدایت پر چلتا ہے اور جو شخص گمراہ ہوتا ہے تو اس کی گمراہی کا وبال (بھی) اسی پر ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے (کے گناہوں) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور ہم ہرگز عذاب دینے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ہم (اس قوم میں) کسی رسول کو بھیج لیں،(15)
وَإِذا أَرَدنا أَن نُهلِكَ قَريَةً أَمَرنا مُترَفيها فَفَسَقوا فيها فَحَقَّ عَلَيهَا القَولُ فَدَمَّرنٰها تَدميرًا(16)
اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم وہاں کے امراء اور خوشحال لوگوں کو (کوئی) حکم دیتے ہیں (تاکہ ان کے ذریعہ عوام اور غرباء بھی درست ہو جائیں) تو وہ اس (بستی) میں نافرمانی کرتے ہیں پس اس پر ہمارا فرمانِ (عذاب) واجب ہو جاتا ہے پھر ہم اس بستی کو بالکل ہی مسمار کر دیتے ہیں،(16)
وَكَم أَهلَكنا مِنَ القُرونِ مِن بَعدِ نوحٍ ۗ وَكَفىٰ بِرَبِّكَ بِذُنوبِ عِبادِهِ خَبيرًا بَصيرًا(17)
اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کے بعد کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر ڈالا، اور آپ کا رب کافی ہے (وہ) اپنے بندوں کے گناہوں سے خوب خبردار خوب دیکھنے والا ہے،(17)
مَن كانَ يُريدُ العاجِلَةَ عَجَّلنا لَهُ فيها ما نَشاءُ لِمَن نُريدُ ثُمَّ جَعَلنا لَهُ جَهَنَّمَ يَصلىٰها مَذمومًا مَدحورًا(18)
جو کوئی صرف دنیا کی خوشحالی (کی صورت میں اپنی محنت کا جلدی بدلہ) چاہتا ہے تو ہم اسی دنیا میں جسے چاہتے ہیں جتنا چاہتے ہیں جلدی دے دیتے ہیں پھر ہم نے اس کے لئے دوزخ بنا دی ہے جس میں وہ ملامت سنتا ہوا (رب کی رحمت سے) دھتکارا ہوا داخل ہوگا،(18)
وَمَن أَرادَ الءاخِرَةَ وَسَعىٰ لَها سَعيَها وَهُوَ مُؤمِنٌ فَأُولٰئِكَ كانَ سَعيُهُم مَشكورًا(19)
اور جو شخص آخرت کا خواہش مند ہوا اور اس نے اس کے لئے اس کے لائق کوشش کی اور وہ مومن (بھی) ہے تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش مقبولیت پائے گی،(19)
كُلًّا نُمِدُّ هٰؤُلاءِ وَهٰؤُلاءِ مِن عَطاءِ رَبِّكَ ۚ وَما كانَ عَطاءُ رَبِّكَ مَحظورًا(20)
ہم ہر ایک کی مدد کرتے ہیں ان (طالبانِ دنیا) کی بھی اور ان (طالبانِ آخرت) کی بھی (اے حبیبِ مکرّم! یہ سب کچھ) آپ کے رب کی عطا سے ہے، اور آپ کے رب کی عطا (کسی کے لئے) ممنوع اور بند نہیں ہے،(20)
انظُر كَيفَ فَضَّلنا بَعضَهُم عَلىٰ بَعضٍ ۚ وَلَلءاخِرَةُ أَكبَرُ دَرَجٰتٍ وَأَكبَرُ تَفضيلًا(21)
دیکھئے ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر کس طرح فضیلت دے رکھی ہے، اور یقینًا آخرت (دنیا کے مقابلہ میں) درجات کے لحاظ سے (بھی) بہت بڑی ہے اور فضیلت کے لحاظ سے (بھی) بہت بڑی ہے،(21)
لا تَجعَل مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ فَتَقعُدَ مَذمومًا مَخذولًا(22)
(اے سننے والے!) اﷲ کے ساتھ دوسرا معبود نہ بنا (ورنہ) تو ملامت زدہ (اور) بے یار و مددگار ہو کر بیٹھا رہ جائے گا،(22)
۞ وَقَضىٰ رَبُّكَ أَلّا تَعبُدوا إِلّا إِيّاهُ وَبِالوٰلِدَينِ إِحسٰنًا ۚ إِمّا يَبلُغَنَّ عِندَكَ الكِبَرَ أَحَدُهُما أَو كِلاهُما فَلا تَقُل لَهُما أُفٍّ وَلا تَنهَرهُما وَقُل لَهُما قَولًا كَريمًا(23)
اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ”اُف“ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو،(23)
وَاخفِض لَهُما جَناحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحمَةِ وَقُل رَبِّ ارحَمهُما كَما رَبَّيانى صَغيرًا(24)
اور ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجز و انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا،(24)
رَبُّكُم أَعلَمُ بِما فى نُفوسِكُم ۚ إِن تَكونوا صٰلِحينَ فَإِنَّهُ كانَ لِلأَوّٰبينَ غَفورًا(25)
تمہارا رب ان (باتوں) سے خوب آگاہ ہے جو تمہارے دلوں میں ہیں، اگر تم نیک سیرت ہو جاؤ تو بیشک وہ (اﷲ اپنی طرف) رجوع کرنے والوں کو بہت بخشنے والا ہے،(25)
وَءاتِ ذَا القُربىٰ حَقَّهُ وَالمِسكينَ وَابنَ السَّبيلِ وَلا تُبَذِّر تَبذيرًا(26)
اور قرابت داروں کو ان کا حق ادا کرو اور محتاجوں اور مسافروں کو بھی (دو) اور (اپنا مال) فضول خرچی سے مت اڑاؤ،(26)
إِنَّ المُبَذِّرينَ كانوا إِخوٰنَ الشَّيٰطينِ ۖ وَكانَ الشَّيطٰنُ لِرَبِّهِ كَفورًا(27)
بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے،(27)
وَإِمّا تُعرِضَنَّ عَنهُمُ ابتِغاءَ رَحمَةٍ مِن رَبِّكَ تَرجوها فَقُل لَهُم قَولًا مَيسورًا(28)
اور اگر تم (اپنی تنگ دستی کے باعث) ان (مستحقین) سے گریز کرنا چاہتے ہو اپنے رب کی جانب سے رحمت (خوش حالی) کے انتظار میں جس کی تم توقع رکھتے ہو تو ان سے نرمی کی بات کہہ دیا کرو،(28)
وَلا تَجعَل يَدَكَ مَغلولَةً إِلىٰ عُنُقِكَ وَلا تَبسُطها كُلَّ البَسطِ فَتَقعُدَ مَلومًا مَحسورًا(29)
اور نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھا ہوا رکھو (کہ کسی کو کچھ نہ دو) اور نہ ہی اسے سارا کا سارا کھول دو (کہ سب کچھ ہی دے ڈالو) کہ پھر تمہیں خود ملامت زدہ (اور) تھکا ہارا بن کر بیٹھنا پڑے،(29)
إِنَّ رَبَّكَ يَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن يَشاءُ وَيَقدِرُ ۚ إِنَّهُ كانَ بِعِبادِهِ خَبيرًا بَصيرًا(30)
بیشک آپ کا رب جس کے لئے چاہتاہے رزق کشادہ فرما دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے، بیشک وہ اپنے بندوں (کے اعمال و احوال) کی خوب خبر رکھنے والا خوب دیکھنے والا ہے،(30)
وَلا تَقتُلوا أَولٰدَكُم خَشيَةَ إِملٰقٍ ۖ نَحنُ نَرزُقُهُم وَإِيّاكُم ۚ إِنَّ قَتلَهُم كانَ خِطـًٔا كَبيرًا(31)
اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل مت کرو، ہم ہی انہیں (بھی) روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی، بیشک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے،(31)
وَلا تَقرَبُوا الزِّنىٰ ۖ إِنَّهُ كانَ فٰحِشَةً وَساءَ سَبيلًا(32)
اور تم زنا (بدکاری) کے قریب بھی مت جانا بیشک یہ بے حیائی کا کام ہے، اور بہت ہی بری راہ ہے،(32)
وَلا تَقتُلُوا النَّفسَ الَّتى حَرَّمَ اللَّهُ إِلّا بِالحَقِّ ۗ وَمَن قُتِلَ مَظلومًا فَقَد جَعَلنا لِوَلِيِّهِ سُلطٰنًا فَلا يُسرِف فِى القَتلِ ۖ إِنَّهُ كانَ مَنصورًا(33)
اور تم کسی جان کو قتل مت کرنا جسے (قتل کرنا) اﷲ نے حرام قرار دیا ہے سوائے اس کے کہ (اس کا قتل کرنا شریعت کی رُو سے) حق ہو، اور جو شخص ظلماً قتل کردیا گیا تو بیشک ہم نے اس کے وارث کے لئے (قصاص کا) حق مقرر کر دیا ہے سو وہ بھی (قصاص کے طور پر بدلہ کے) قتل میں حد سے تجاوز نہ کرے، بیشک وہ (اﷲ کی طرف سے) مدد یافتہ ہے (سو اس کی مدد و حمایت کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی)،(33)
وَلا تَقرَبوا مالَ اليَتيمِ إِلّا بِالَّتى هِىَ أَحسَنُ حَتّىٰ يَبلُغَ أَشُدَّهُ ۚ وَأَوفوا بِالعَهدِ ۖ إِنَّ العَهدَ كانَ مَسـٔولًا(34)
اور تم یتیم کے مال کے (بھی) قریب تک نہ جانا مگر ایسے طریقہ سے جو (یتیم کے لئے) بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے، اور وعدہ پورا کیا کرو، بیشک وعدہ کی ضرور پوچھ گچھ ہوگی،(34)
وَأَوفُوا الكَيلَ إِذا كِلتُم وَزِنوا بِالقِسطاسِ المُستَقيمِ ۚ ذٰلِكَ خَيرٌ وَأَحسَنُ تَأويلًا(35)
اور ناپ پورا رکھا کرو جب (بھی) تم (کوئی چیز) ناپو اور (جب تولنے لگو تو) سیدھے ترازو سے تولا کرو، یہ (دیانت داری) بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے (بھی) خوب تر ہے،(35)
وَلا تَقفُ ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ ۚ إِنَّ السَّمعَ وَالبَصَرَ وَالفُؤادَ كُلُّ أُولٰئِكَ كانَ عَنهُ مَسـٔولًا(36)
اور (اے انسان!) تو اس بات کی پیروی نہ کر جس کا تجھے (صحیح) علم نہیں، بیشک کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے باز پرس ہوگی،(36)
وَلا تَمشِ فِى الأَرضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَن تَخرِقَ الأَرضَ وَلَن تَبلُغَ الجِبالَ طولًا(37)
اور زمین میں اکڑ کر مت چل، بیشک تو زمین کو (اپنی رعونت کے زور سے) ہرگز چیر نہیں سکتا اور نہ ہی ہرگز تو بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتا ہے (تو جو کچھ ہے وہی رہے گا)،(37)
كُلُّ ذٰلِكَ كانَ سَيِّئُهُ عِندَ رَبِّكَ مَكروهًا(38)
ان سب (مذکورہ) باتوں کی برائی تیرے رب کو بڑی ناپسند ہے،(38)
ذٰلِكَ مِمّا أَوحىٰ إِلَيكَ رَبُّكَ مِنَ الحِكمَةِ ۗ وَلا تَجعَل مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ فَتُلقىٰ فى جَهَنَّمَ مَلومًا مَدحورًا(39)
یہ حکمت و دانائی کی ان باتوں میں سے ہے جو آپ کے رب نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہیں، اور (اے انسان!) اﷲ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ ٹھہرا (ورنہ) تو ملامت زدہ (اور اﷲ کی رحمت سے) دھتکارا ہوا ہو کر دوزخ میں جھونک دیا جائے گا،(39)
أَفَأَصفىٰكُم رَبُّكُم بِالبَنينَ وَاتَّخَذَ مِنَ المَلٰئِكَةِ إِنٰثًا ۚ إِنَّكُم لَتَقولونَ قَولًا عَظيمًا(40)
(اے مشرکو! خود سوچو!) بھلا تمہیں تو تمہارے رب نے بیٹوں کے لئے چن لیا ہے اور (اپنے لئے) اس نے فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا ہے، بیشک تم (اپنے ہی گھڑے ہوئے خیالات کے پیمانہ پر) بڑی سخت بات کہتے ہو،(40)
وَلَقَد صَرَّفنا فى هٰذَا القُرءانِ لِيَذَّكَّروا وَما يَزيدُهُم إِلّا نُفورًا(41)
اور بیشک ہم نے اس قرآن میں (حقائق اور نصائح کو) انداز بدل کر بار بار بیان کیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں، مگر (منکرین کا عالم یہ ہے کہ) اس سے ان کی نفرت ہی مزید بڑھتی جاتی ہے،(41)
قُل لَو كانَ مَعَهُ ءالِهَةٌ كَما يَقولونَ إِذًا لَابتَغَوا إِلىٰ ذِى العَرشِ سَبيلًا(42)
فرما دیجئے: اگر اس کے ساتھ کچھ اور بھی معبود ہوتے جیسا کہ وہ (کفار و مشرکین) کہتے ہیں تو وہ (مل کر) مالکِ عرش تک پہنچنے (یعنی اس کے نظامِ اقتدار میں دخل اندازی کرنے) کا کوئی راستہ ضرور تلاش کرلیتے،(42)
سُبحٰنَهُ وَتَعٰلىٰ عَمّا يَقولونَ عُلُوًّا كَبيرًا(43)
وہ پاک ہے اور ان باتوں سے جو وہ کہتے رہتے ہیں بہت ہی بلند و برتر ہے،(43)
تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبعُ وَالأَرضُ وَمَن فيهِنَّ ۚ وَإِن مِن شَيءٍ إِلّا يُسَبِّحُ بِحَمدِهِ وَلٰكِن لا تَفقَهونَ تَسبيحَهُم ۗ إِنَّهُ كانَ حَليمًا غَفورًا(44)
ساتوں آسمان اور زمین اور وہ سارے موجودات جو ان میں ہیں اﷲ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، اور (جملہ کائنات میں) کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح (کی کیفیت) کو سمجھ نہیں سکتے، بیشک وہ بڑا بُردبار بڑا بخشنے والا ہے،(44)
وَإِذا قَرَأتَ القُرءانَ جَعَلنا بَينَكَ وَبَينَ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ حِجابًا مَستورًا(45)
اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں (تو) ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک پوشیدہ پردہ حائل کر دیتے ہیں،(45)
وَجَعَلنا عَلىٰ قُلوبِهِم أَكِنَّةً أَن يَفقَهوهُ وَفى ءاذانِهِم وَقرًا ۚ وَإِذا ذَكَرتَ رَبَّكَ فِى القُرءانِ وَحدَهُ وَلَّوا عَلىٰ أَدبٰرِهِم نُفورًا(46)
اور ہم ان کے دلوں پر (بھی) پردے ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ اسے سمجھ (نہ) سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ پیدا کر دیتے ہیں (تاکہ اسے سن نہ سکیں)، اور جب آپ قرآن میں اپنے رب کا تنہا ذکر کرتے ہیں (ان کے بتوں کا نام نہیں آتا) تو وہ نفرت کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں،(46)
نَحنُ أَعلَمُ بِما يَستَمِعونَ بِهِ إِذ يَستَمِعونَ إِلَيكَ وَإِذ هُم نَجوىٰ إِذ يَقولُ الظّٰلِمونَ إِن تَتَّبِعونَ إِلّا رَجُلًا مَسحورًا(47)
ہم خوب جانتے ہیں یہ جس مقصد کے لئے دھیان سے سنتے ہیں جب یہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں جب یہ ظالم لوگ (مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ تم تو محض ایک ایسے شخص کی پیروی کر رہے ہو جو سحر زدہ ہے (یعنی اس پر جادو کردیا گیا ہے تو ہم یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہوتے ہیں)،(47)
انظُر كَيفَ ضَرَبوا لَكَ الأَمثالَ فَضَلّوا فَلا يَستَطيعونَ سَبيلًا(48)
(اے حبیب!) دیکھئے (یہ لوگ) آپ کے لئے کیسی (کیسی) تشبیہیں دیتے ہیں پس یہ گمراہ ہو چکے، اب راہِ راست پر نہیں آسکتے،(48)
وَقالوا أَءِذا كُنّا عِظٰمًا وَرُفٰتًا أَءِنّا لَمَبعوثونَ خَلقًا جَديدًا(49)
اور کہتے ہیں: جب ہم (مَر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہمیں اَز سرِ نو پیدا کر کے اٹھایا جائے گا،(49)
۞ قُل كونوا حِجارَةً أَو حَديدًا(50)
فرما دیجئے: تم پتھر ہو جاؤ یا لوہا،(50)
أَو خَلقًا مِمّا يَكبُرُ فى صُدورِكُم ۚ فَسَيَقولونَ مَن يُعيدُنا ۖ قُلِ الَّذى فَطَرَكُم أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ فَسَيُنغِضونَ إِلَيكَ رُءوسَهُم وَيَقولونَ مَتىٰ هُوَ ۖ قُل عَسىٰ أَن يَكونَ قَريبًا(51)
یا کوئی ایسی مخلوق جو تمہارے خیال میں (ان چیزوں سے بھی) زیادہ سخت ہو (کہ اس میں زندگی پانے کی بالکل صلاحیت ہی نہ ہو)، پھر وہ (اس حال میں) کہیں گے کہ ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا؟ فرما دیجئے: وہی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا فرمایا تھا، پھر وہ (تعجب اور تمسخر کے طور پر) آپ کے سامنے اپنے سر ہلا دیں گے اور کہیں گے: یہ کب ہوگا؟ فرما دیجئے: امید ہے جلد ہی ہو جائے گا،(51)
يَومَ يَدعوكُم فَتَستَجيبونَ بِحَمدِهِ وَتَظُنّونَ إِن لَبِثتُم إِلّا قَليلًا(52)
جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرتے ہوگے کہ تم (دنیا میں) بہت تھوڑا عرصہ ٹھہرے ہو،(52)
وَقُل لِعِبادى يَقولُوا الَّتى هِىَ أَحسَنُ ۚ إِنَّ الشَّيطٰنَ يَنزَغُ بَينَهُم ۚ إِنَّ الشَّيطٰنَ كانَ لِلإِنسٰنِ عَدُوًّا مُبينًا(53)
اور آپ میرے بندوں سے فرما دیں کہ وہ ایسی باتیں کیا کریں جو بہتر ہوں، بیشک شیطان لوگوں کے درمیان فساد بپا کرتا ہے، یقینا شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے،(53)
رَبُّكُم أَعلَمُ بِكُم ۖ إِن يَشَأ يَرحَمكُم أَو إِن يَشَأ يُعَذِّبكُم ۚ وَما أَرسَلنٰكَ عَلَيهِم وَكيلًا(54)
تمہارا رب تمہارے حال سے بہتر واقف ہے، اگر چاہے تم پر رحم فرما دے یا اگر چاہے تم پر عذاب کرے، اور ہم نے آپ کو ان پر (ان کے امور کا) ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا،(54)
وَرَبُّكَ أَعلَمُ بِمَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۗ وَلَقَد فَضَّلنا بَعضَ النَّبِيّۦنَ عَلىٰ بَعضٍ ۖ وَءاتَينا داوۥدَ زَبورًا(55)
اور آپ کا رب ان کو خوب جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں (آباد) ہیں، اور بیشک ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت بخشی اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا کی،(55)
قُلِ ادعُوا الَّذينَ زَعَمتُم مِن دونِهِ فَلا يَملِكونَ كَشفَ الضُّرِّ عَنكُم وَلا تَحويلًا(56)
فرما دیجئے: تم ان سب کو بلا لو جنہیں تم اﷲ کے سوا (معبود) گمان کرتے ہو وہ تم سے تکلیف دور کرنے پر قادر نہیں ہیں اور نہ (اسے دوسروں کی طرف) پھیر دینے کا (اختیار رکھتے ہیں)،(56)
أُولٰئِكَ الَّذينَ يَدعونَ يَبتَغونَ إِلىٰ رَبِّهِمُ الوَسيلَةَ أَيُّهُم أَقرَبُ وَيَرجونَ رَحمَتَهُ وَيَخافونَ عَذابَهُ ۚ إِنَّ عَذابَ رَبِّكَ كانَ مَحذورًا(57)
یہ لوگ جن کی عبادت کرتے ہیں (یعنی ملائکہ، جنّات، عیسٰی اور عزیر علیہما السلام وغیرھم کے بت اور تصویریں بنا کر انہیں پوجتے ہیں) وہ (تو خود ہی) اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے (بارگاہِ الٰہی میں) زیادہ مقرّب کون ہے اور (وہ خود) اس کی رحمت کے امیدوار ہیں اور (وہ خود ہی) اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں، (اب تم ہی بتاؤ کہ وہ معبود کیسے ہو سکتے ہیں وہ تو خود معبودِ برحق کے سامنے جھک رہے ہیں)، بیشک آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے،(57)
وَإِن مِن قَريَةٍ إِلّا نَحنُ مُهلِكوها قَبلَ يَومِ القِيٰمَةِ أَو مُعَذِّبوها عَذابًا شَديدًا ۚ كانَ ذٰلِكَ فِى الكِتٰبِ مَسطورًا(58)
اور (کفر و سرکشی کرنے والوں کی) کوئی بستی ایسی نہیں مگر ہم اسے روزِ قیامت سے قبل ہی تباہ کر دیں گے یا اسے نہایت ہی سخت عذاب دیں گے، یہ (امر) کتاب (لوحِ محفوظ) میں لکھا ہوا ہے،(58)
وَما مَنَعَنا أَن نُرسِلَ بِالءايٰتِ إِلّا أَن كَذَّبَ بِهَا الأَوَّلونَ ۚ وَءاتَينا ثَمودَ النّاقَةَ مُبصِرَةً فَظَلَموا بِها ۚ وَما نُرسِلُ بِالءايٰتِ إِلّا تَخويفًا(59)
اور ہم کو (اب بھی ان کے مطالبہ پر) نشانیاں بھیجنے سے (کسی چیز نے) منع نہیں کیا سوائے اس کے کہ ان ہی (نشانیوں) کو پہلے لوگوں نے جھٹلا دیا تھا (سو اس کے بعد وہ فوراً تباہ و برباد کر دیئے گئے اور کوئی مہلت باقی نہ رہی، اے حبیب! ہم آپ کی بِعثت کے بعد آپ کی قوم سے یہ معاملہ نہیں کرنا چاہتے)، اور ہم نے قومِ ثمود کو (صالح علیہ السلام کی) اونٹنی (کی) کھلی نشانی دی تھی تو انہوں نے اس پر ظلم کیا، اور ہم نشانیاں نہیں بھیجا کرتے مگر (عذاب کی آمد سے قبل آخری بار) خوفزدہ کرنے کے لئے (پھر جب اس نشانی کا انکار ہو جاتا ہے تو اسی وقت تباہ کن عذاب بھیج دیا جاتا ہے)،(59)
وَإِذ قُلنا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحاطَ بِالنّاسِ ۚ وَما جَعَلنَا الرُّءيَا الَّتى أَرَينٰكَ إِلّا فِتنَةً لِلنّاسِ وَالشَّجَرَةَ المَلعونَةَ فِى القُرءانِ ۚ وَنُخَوِّفُهُم فَما يَزيدُهُم إِلّا طُغيٰنًا كَبيرًا(60)
اور (یاد کیجئے) جب ہم نے آپ سے فرمایا کہ بیشک آپ کے رب نے (سب) لوگوں کو (اپنے علم و قدرت کے) احاطہ میں لے رکھا ہے، اور ہم نے تو (شبِ معراج کے) اس نظّارہ کو جو ہم نے آپ کو دکھایا لوگوں کے لئے صرف ایک آزمائش بنایا ہے (ایمان والے مان گئے اور ظاہر بین الجھ گئے) اور اس درخت (شجرۃ الزقوم) کو بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، اور ہم انہیں ڈراتے ہیں مگر یہ (ڈرانا بھی) ان میں کوئی اضافہ نہیں کرتا سوائے اور بڑی سرکشی کے،(60)
وَإِذ قُلنا لِلمَلٰئِكَةِ اسجُدوا لِءادَمَ فَسَجَدوا إِلّا إِبليسَ قالَ ءَأَسجُدُ لِمَن خَلَقتَ طينًا(61)
اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، اس نے کہا: کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے،(61)
قالَ أَرَءَيتَكَ هٰذَا الَّذى كَرَّمتَ عَلَىَّ لَئِن أَخَّرتَنِ إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ لَأَحتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلّا قَليلًا(62)
(اور شیطان یہ بھی) کہنے لگا: مجھے بتا تو سہی کہ یہ وہ شخص ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے (آخر اس کی کیا وجہ ہے؟) اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے تو میں اس کی اولاد کو سوائے چند افراد کے (اپنے قبضہ میں لے کر) جڑ سے اکھاڑ دوں گا،(62)
قالَ اذهَب فَمَن تَبِعَكَ مِنهُم فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزاؤُكُم جَزاءً مَوفورًا(63)
اﷲ نے فرمایا: جا (تجھے مہلت ہے) پس ان میں سے جو بھی تیری پیروی کرے گا تو بیشک دوزخ (ہی) تم سب کی پوری پوری سزا ہے،(63)
وَاستَفزِز مَنِ استَطَعتَ مِنهُم بِصَوتِكَ وَأَجلِب عَلَيهِم بِخَيلِكَ وَرَجِلِكَ وَشارِكهُم فِى الأَموٰلِ وَالأَولٰدِ وَعِدهُم ۚ وَما يَعِدُهُمُ الشَّيطٰنُ إِلّا غُرورًا(64)
اور جس پر بھی تیرا بس چل سکتا ہے تو (اسے) اپنی آواز سے ڈگمگا لے اور ان پر اپنی (فوج کے) سوار اور پیادہ دستوں کو چڑھا دے اور ان کے مال و اولاد میں ان کا شریک بن جا اور ان سے (جھوٹے) وعدے کر، اور ان سے شیطان دھوکہ و فریب کے سوا (کوئی) وعدہ نہیں کرتا،(64)
إِنَّ عِبادى لَيسَ لَكَ عَلَيهِم سُلطٰنٌ ۚ وَكَفىٰ بِرَبِّكَ وَكيلًا(65)
بیشک جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا تسلط نہیں ہو سکے گا، اور تیرا رب ان (اﷲ والوں) کی کارسازی کے لئے کافی ہے،(65)
رَبُّكُمُ الَّذى يُزجى لَكُمُ الفُلكَ فِى البَحرِ لِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ ۚ إِنَّهُ كانَ بِكُم رَحيمًا(66)
تمہارا رب وہ ہے جو سمندر (اور دریا) میں تمہارے لئے (جہاز اور) کشتیاں رواں فرماتا ہے تاکہ تم (اندرونی و بیرونی تجارت کے ذریعہ) اس کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرو، بیشک وہ تم پر بڑا مہربان ہے،(66)
وَإِذا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِى البَحرِ ضَلَّ مَن تَدعونَ إِلّا إِيّاهُ ۖ فَلَمّا نَجّىٰكُم إِلَى البَرِّ أَعرَضتُم ۚ وَكانَ الإِنسٰنُ كَفورًا(67)
اور جب سمندر میں تمہیں کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو وہ (سب بت تمہارے ذہنوں سے) گم ہو جاتے ہیں جن کی تم پرستش کرتے رہتے ہو سوائے اسی (اﷲ) کے (جسے تم اس وقت یاد کرتے ہو)، پھر جب وہ (اﷲ) تمہیں بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے (تو پھر اس سے) رُوگردانی کرنے لگتے ہو، اور انسان بڑا ناشکرا واقع ہوا ہے،(67)
أَفَأَمِنتُم أَن يَخسِفَ بِكُم جانِبَ البَرِّ أَو يُرسِلَ عَلَيكُم حاصِبًا ثُمَّ لا تَجِدوا لَكُم وَكيلًا(68)
کیا تم اس بات سے بے خوف ہو گئے ہو کہ وہ تمہیں خشکی کے کنارے پر ہی (زمین میں) دھنسا دے یا تم پر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے پھر تم اپنے لئے کوئی کارساز نہ پاسکو گے،(68)
أَم أَمِنتُم أَن يُعيدَكُم فيهِ تارَةً أُخرىٰ فَيُرسِلَ عَلَيكُم قاصِفًا مِنَ الرّيحِ فَيُغرِقَكُم بِما كَفَرتُم ۙ ثُمَّ لا تَجِدوا لَكُم عَلَينا بِهِ تَبيعًا(69)
یا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ اس (سمندر) میں پلٹا کر لے جائے اور تم پر کشتیاں توڑ دینے والی آندھی بھیج دے پھر تمہیں اس کفر کے باعث جو تم کرتے تھے (سمندر میں) غرق کر دے پھر تم اپنے لئے اس (ڈبونے) پر ہم سے مؤاخذہ کرنے والا کوئی نہیں پاؤ گے،(69)
۞ وَلَقَد كَرَّمنا بَنى ءادَمَ وَحَمَلنٰهُم فِى البَرِّ وَالبَحرِ وَرَزَقنٰهُم مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلنٰهُم عَلىٰ كَثيرٍ مِمَّن خَلَقنا تَفضيلًا(70)
اور بیشک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ہم نے ان کو خشکی اور تری (یعنی شہروں اور صحراؤں اور سمندروں اور دریاؤں) میں (مختلف سواریوں پر) سوار کیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا اور ہم نے انہیں اکثر مخلوقات پر جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے فضیلت دے کر برتر بنا دیا،(70)
يَومَ نَدعوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمٰمِهِم ۖ فَمَن أوتِىَ كِتٰبَهُ بِيَمينِهِ فَأُولٰئِكَ يَقرَءونَ كِتٰبَهُم وَلا يُظلَمونَ فَتيلًا(71)
وہ دن (یاد کریں) جب ہم لوگوں کے ہر طبقہ کو ان کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے، سو جسے اس کا نوشتۂ اَعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا پس یہ لوگ اپنا نامۂ اعمال (مسرت و شادمانی سے) پڑھیں گے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا،(71)
وَمَن كانَ فى هٰذِهِ أَعمىٰ فَهُوَ فِى الءاخِرَةِ أَعمىٰ وَأَضَلُّ سَبيلًا(72)
اور جو شخص اس (دنیا) میں (حق سے) اندھا رہا سو وہ آخرت میں بھی اندھا اور راہِ (نجات) سے بھٹکا رہے گا،(72)
وَإِن كادوا لَيَفتِنونَكَ عَنِ الَّذى أَوحَينا إِلَيكَ لِتَفتَرِىَ عَلَينا غَيرَهُ ۖ وَإِذًا لَاتَّخَذوكَ خَليلًا(73)
اور کفار تو یہی چاہتے تھے کہ آپ کو اس (حکمِ الٰہی) سے پھیر دیں جس کی ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے تاکہ آپ اس (وحی) کے سوا ہم پر کچھ اور (باتوں) کو منسوب کر دیں اور تب آپ کو اپنا دوست بنا لیں،(73)
وَلَولا أَن ثَبَّتنٰكَ لَقَد كِدتَ تَركَنُ إِلَيهِم شَيـًٔا قَليلًا(74)
اور اگر ہم نے آپ کو (پہلے ہی سے عصمتِ نبوت کے ذریعہ) ثابت قدم نہ بنایا ہوتا تو تب بھی آپ ان کی طرف (اپنے پاکیزہ نفس اور طبعی استعداد کے باعث) بہت ہی معمولی سے جھکاؤ کے قریب جاتے۔(ان کی طرف پھر بھی زیادہ مائل نہ ہوتے اور وہ ناکام رہتے مگر اﷲ نے آپ کو عصمتِ نبوت کے ذریعہ اس معمولی سے میلان کے قریب جانے سے بھی محفوظ فرما لیا ہے)،(74)
إِذًا لَأَذَقنٰكَ ضِعفَ الحَيوٰةِ وَضِعفَ المَماتِ ثُمَّ لا تَجِدُ لَكَ عَلَينا نَصيرًا(75)
(اگر بالفرض آپ مائل ہو جاتے تو) اس وقت ہم آپ کو دوگنا مزہ زندگی میں اور دوگنا موت میں چکھاتے پھر آپ اپنے لئے (بھی) ہم پر کوئی مدد گار نہ پاتے،(75)
وَإِن كادوا لَيَستَفِزّونَكَ مِنَ الأَرضِ لِيُخرِجوكَ مِنها ۖ وَإِذًا لا يَلبَثونَ خِلٰفَكَ إِلّا قَليلًا(76)
اور کفار یہ بھی چاہتے تھے کہ آپ کے قدم سرزمینِ (مکّہ) سے اکھاڑ دیں تاکہ وہ آپ کو یہاں سے نکال سکیں اور (اگر بالفرض ایسا ہو جاتا تو) اس وقت وہ (خود بھی) آپ کے پیچھے تھوڑی سی مدت کے سوا ٹھہر نہ سکتے،(76)
سُنَّةَ مَن قَد أَرسَلنا قَبلَكَ مِن رُسُلِنا ۖ وَلا تَجِدُ لِسُنَّتِنا تَحويلًا(77)
ان سب رسولوں (کے لئے اﷲ) کا دستور (یہی رہا ہے) جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا اور آپ ہمارے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے،(77)
أَقِمِ الصَّلوٰةَ لِدُلوكِ الشَّمسِ إِلىٰ غَسَقِ الَّيلِ وَقُرءانَ الفَجرِ ۖ إِنَّ قُرءانَ الفَجرِ كانَ مَشهودًا(78)
آپ سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک (ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی) نماز قائم فرمایا کریں اور نمازِ فجر کا قرآن پڑھنا بھی (لازم کر لیں)، بیشک نمازِ فجر کے قرآن میں (فرشتوں کی) حاضری ہوتی ہے (اور حضوری بھی نصیب ہوتی ہے)،(78)
وَمِنَ الَّيلِ فَتَهَجَّد بِهِ نافِلَةً لَكَ عَسىٰ أَن يَبعَثَكَ رَبُّكَ مَقامًا مَحمودًا(79)
اور رات کے کچھ حصہ میں (بھی قرآن کے ساتھ شب خیزی کرتے ہوئے) نماز تہجد پڑھا کریں یہ خاص آپ کے لئے زیادہ (کی گئی) ہے، یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا (یعنی وہ مقامِ شفاعتِ عظمٰی جہاں جملہ اوّلین و آخرین آپ کی طرف رجوع اور آپ کی حمد کریں گے)،(79)
وَقُل رَبِّ أَدخِلنى مُدخَلَ صِدقٍ وَأَخرِجنى مُخرَجَ صِدقٍ وَاجعَل لى مِن لَدُنكَ سُلطٰنًا نَصيرًا(80)
اور آپ (اپنے رب کے حضور یہ) عرض کرتے رہیں: اے میرے رب! مجھے سچائی (خوشنودی) کے ساتھ داخل فرما (جہاں بھی داخل فرمانا ہو) اور مجھے سچائی (و خوشنودی) کے ساتھ باہر لے آ(جہاں سے بھی لانا ہو) اور مجھے اپنی جانب سے مددگار غلبہ و قوت عطا فرما دے،(80)
وَقُل جاءَ الحَقُّ وَزَهَقَ البٰطِلُ ۚ إِنَّ البٰطِلَ كانَ زَهوقًا(81)
اور فرما دیجئے: حق آگیا اور باطل بھاگ گیا، بیشک باطل نے زائل و نابود ہی ہو جانا ہے،(81)
وَنُنَزِّلُ مِنَ القُرءانِ ما هُوَ شِفاءٌ وَرَحمَةٌ لِلمُؤمِنينَ ۙ وَلا يَزيدُ الظّٰلِمينَ إِلّا خَسارًا(82)
اور ہم قرآن میں وہ چیز نازل فرما رہے ہیں جو ایمان والوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کے لئے تو صرف نقصان ہی میں اضافہ کر رہا ہے،(82)
وَإِذا أَنعَمنا عَلَى الإِنسٰنِ أَعرَضَ وَنَـٔا بِجانِبِهِ ۖ وَإِذا مَسَّهُ الشَّرُّ كانَ يَـٔوسًا(83)
اور جب ہم انسان پر (کوئی) انعام فرماتے ہیں تو وہ (شکر سے) گریز کرتا اور پہلو تہی کر جاتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو مایوس ہو جاتا ہے (گویا نہ شاکر ہے نہ صابر)،(83)
قُل كُلٌّ يَعمَلُ عَلىٰ شاكِلَتِهِ فَرَبُّكُم أَعلَمُ بِمَن هُوَ أَهدىٰ سَبيلًا(84)
فرما دیجئے: ہر کوئی (اپنے) اپنے طریقہ و فطرت پر عمل پیرا ہے، اور آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ سیدھی راہ پر کون ہے،(84)
وَيَسـَٔلونَكَ عَنِ الرّوحِ ۖ قُلِ الرّوحُ مِن أَمرِ رَبّى وَما أوتيتُم مِنَ العِلمِ إِلّا قَليلًا(85)
اور یہ (کفّار) آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، فرما دیجئے: روح میرے رب کے اَمر سے ہے اور تمہیں بہت ہی تھوڑا سا علم دیا گیا ہے،(85)
وَلَئِن شِئنا لَنَذهَبَنَّ بِالَّذى أَوحَينا إِلَيكَ ثُمَّ لا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَينا وَكيلًا(86)
اور اگر ہم چاہیں تو اس (کتاب) کو جو ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے (لوگوں کے دلوں اور تحریری نسخوں سے) محو فرما دیں پھر آپ اپنے لئے اس (وحی) کے لے جانے پر ہماری بارگاہ میں کوئی وکالت کرنے والا بھی نہ پائیں گے،(86)
إِلّا رَحمَةً مِن رَبِّكَ ۚ إِنَّ فَضلَهُ كانَ عَلَيكَ كَبيرًا(87)
مگر یہ کہ آپ کے رب کی رحمت سے (ہم نے اسے قائم رکھا ہے)، بیشک (یہ) آپ پر (اور آپ کے وسیلہ سے آپ کی امّت پر)اس کا بہت بڑا فضل ہے،(87)
قُل لَئِنِ اجتَمَعَتِ الإِنسُ وَالجِنُّ عَلىٰ أَن يَأتوا بِمِثلِ هٰذَا القُرءانِ لا يَأتونَ بِمِثلِهِ وَلَو كانَ بَعضُهُم لِبَعضٍ ظَهيرًا(88)
فرما دیجئے: اگر تمام انسان اور جنّات اس بات پر جمع ہو جائیں کہ وہ اس قرآن کے مثل (کوئی دوسرا کلام بنا) لائیں گے تو (بھی) وہ اس کی مثل نہیں لاسکتے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں،(88)
وَلَقَد صَرَّفنا لِلنّاسِ فى هٰذَا القُرءانِ مِن كُلِّ مَثَلٍ فَأَبىٰ أَكثَرُ النّاسِ إِلّا كُفورًا(89)
اور بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثال (مختلف طریقوں سے) بار بار بیان کی ہے مگر اکثر لوگوں نے (اسے) قبول نہ کیا (یہ) سوائے ناشکری کے (اور کچھ نہیں)،(89)
وَقالوا لَن نُؤمِنَ لَكَ حَتّىٰ تَفجُرَ لَنا مِنَ الأَرضِ يَنبوعًا(90)
اور وہ (کفّارِ مکّہ) کہتے ہیں کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری کر دیں،(90)
أَو تَكونَ لَكَ جَنَّةٌ مِن نَخيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الأَنهٰرَ خِلٰلَها تَفجيرًا(91)
یا آپ کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو تو آپ اس کے اندر بہتی ہوئی نہریں جاری کردیں،(91)
أَو تُسقِطَ السَّماءَ كَما زَعَمتَ عَلَينا كِسَفًا أَو تَأتِىَ بِاللَّهِ وَالمَلٰئِكَةِ قَبيلًا(92)
یا جیسا کہ آپ کا خیال ہے ہم پر (ابھی) آسمان کے چند ٹکڑے گرا دیں یا آپ اﷲ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئیں،(92)
أَو يَكونَ لَكَ بَيتٌ مِن زُخرُفٍ أَو تَرقىٰ فِى السَّماءِ وَلَن نُؤمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّىٰ تُنَزِّلَ عَلَينا كِتٰبًا نَقرَؤُهُ ۗ قُل سُبحانَ رَبّى هَل كُنتُ إِلّا بَشَرًا رَسولًا(93)
یا آپ کا کوئی سونے کا گھر ہو (جس میں آپ خوب عیش سے رہیں) یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں، پھر بھی ہم آپ کے (آسمان میں) چڑھ جانے پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ (وہاں سے) ہمارے اوپر کوئی کتاب اتار لائیں جسے ہم (خود) پڑھ سکیں، فرما دیجئے: میرا رب (ان خرافات میں الجھنے سے) پاک ہے میں تو ایک انسان (اور) اﷲ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں،(93)
وَما مَنَعَ النّاسَ أَن يُؤمِنوا إِذ جاءَهُمُ الهُدىٰ إِلّا أَن قالوا أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَسولًا(94)
اور (ان) لوگوں کو ایمان لانے سے اور کوئی چیز مانع نہ ہوئی جبکہ ان کے پاس ہدایت (بھی) آچکی تھی سوائے اس کے کہ وہ کہنے لگے: کیا اﷲ نے (ایک) بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے،(94)
قُل لَو كانَ فِى الأَرضِ مَلٰئِكَةٌ يَمشونَ مُطمَئِنّينَ لَنَزَّلنا عَلَيهِم مِنَ السَّماءِ مَلَكًا رَسولًا(95)
فرما دیجئے: اگر زمین میں (انسانوں کی بجائے) فرشتے چلتے پھرتے سکونت پذیر ہوتے تو یقیناً ہم (بھی) ان پر آسمان سے کسی فرشتہ کو رسول بنا کر اتارتے،(95)
قُل كَفىٰ بِاللَّهِ شَهيدًا بَينى وَبَينَكُم ۚ إِنَّهُ كانَ بِعِبادِهِ خَبيرًا بَصيرًا(96)
فرما دیجئے: میرے اور تمہارے درمیان اﷲ ہی گواہ کے طور پر کافی ہے، بیشک وہ اپنے بندوں سے خوب آگاہ خوب دیکھنے والا ہے،(96)
وَمَن يَهدِ اللَّهُ فَهُوَ المُهتَدِ ۖ وَمَن يُضلِل فَلَن تَجِدَ لَهُم أَولِياءَ مِن دونِهِ ۖ وَنَحشُرُهُم يَومَ القِيٰمَةِ عَلىٰ وُجوهِهِم عُميًا وَبُكمًا وَصُمًّا ۖ مَأوىٰهُم جَهَنَّمُ ۖ كُلَّما خَبَت زِدنٰهُم سَعيرًا(97)
اور اﷲ جسے ہدایت فرما دے تو وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ ٹھہرا دے تو آپ ان کے لئے اس کے سوا مددگار نہیں پائیں گے، اور ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اٹھائیں گے اس حال میں کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، جب بھی وہ بجھنے لگے گی ہم انہیں (عذاب دینے کے لئے) اور زیادہ بھڑکا دیں گے،(97)
ذٰلِكَ جَزاؤُهُم بِأَنَّهُم كَفَروا بِـٔايٰتِنا وَقالوا أَءِذا كُنّا عِظٰمًا وَرُفٰتًا أَءِنّا لَمَبعوثونَ خَلقًا جَديدًا(98)
یہ ان لوگوں کی سزا ہے اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور یہ کہتے رہے کہ کیا جب ہم (مَر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم اَز سرِ نو پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے؟،(98)
۞ أَوَلَم يَرَوا أَنَّ اللَّهَ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ قادِرٌ عَلىٰ أَن يَخلُقَ مِثلَهُم وَجَعَلَ لَهُم أَجَلًا لا رَيبَ فيهِ فَأَبَى الظّٰلِمونَ إِلّا كُفورًا(99)
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس اﷲ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے (وہ) اس بات پر (بھی) قادر ہے کہ وہ ان لوگوں کی مثل (دوبارہ) پیدا فرما دے اور اس نے ان کے لئے ایک وقت مقرر فرما دیا ہے جس میں کوئی شک نہیں، پھر بھی ظالموں نے انکار کردیا ہے مگر (یہ) ناشکری ہے،(99)
قُل لَو أَنتُم تَملِكونَ خَزائِنَ رَحمَةِ رَبّى إِذًا لَأَمسَكتُم خَشيَةَ الإِنفاقِ ۚ وَكانَ الإِنسٰنُ قَتورًا(100)
فرما دیجئے: اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تب بھی (سب) خرچ ہوجانے کے خوف سے تم (اپنے ہاتھ) روکے رکھتے، اور انسان بہت ہی تنگ دل اور بخیل واقع ہوا ہے،(100)
وَلَقَد ءاتَينا موسىٰ تِسعَ ءايٰتٍ بَيِّنٰتٍ ۖ فَسـَٔل بَنى إِسرٰءيلَ إِذ جاءَهُم فَقالَ لَهُ فِرعَونُ إِنّى لَأَظُنُّكَ يٰموسىٰ مَسحورًا(101)
اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو نو روشن نشانیاں دیں تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھیئے جب (موسٰی علیہ السلام) ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا: میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے موسٰی! تم سحر زدہ ہو (تمہیں جادو کر دیا گیا ہے)،(101)
قالَ لَقَد عَلِمتَ ما أَنزَلَ هٰؤُلاءِ إِلّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ بَصائِرَ وَإِنّى لَأَظُنُّكَ يٰفِرعَونُ مَثبورًا(102)
موسٰی (علیہ السلام) نے فرمایا: تو (دل سے) جانتا ہے کہ ان نشانیوں کو کسی اور نے نہیں اتارا مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے عبرت و بصیرت بنا کر، اور میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے فرعون! تم ہلاک زدہ ہو (تو جلدی ہلاک ہوا چاہتا ہے)،(102)
فَأَرادَ أَن يَستَفِزَّهُم مِنَ الأَرضِ فَأَغرَقنٰهُ وَمَن مَعَهُ جَميعًا(103)
پھر (فرعون نے) ارادہ کیا کہ ان کو (یعنی موسٰی علیہ السلام اور ان کی قوم کو) سر زمینِ (مصر) سے اکھاڑ کر پھینک دے پس ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو غرق کردیا،(103)
وَقُلنا مِن بَعدِهِ لِبَنى إِسرٰءيلَ اسكُنُوا الأَرضَ فَإِذا جاءَ وَعدُ الءاخِرَةِ جِئنا بِكُم لَفيفًا(104)
اور ہم نے اس کے بعد بنی اسرائیل سے فرمایا: تم اس ملک میں آباد ہو جاؤ پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا (تو) ہم تم سب کو اکٹھا سمیٹ کر لے جائیں گے،(104)
وَبِالحَقِّ أَنزَلنٰهُ وَبِالحَقِّ نَزَلَ ۗ وَما أَرسَلنٰكَ إِلّا مُبَشِّرًا وَنَذيرًا(105)
اور حق کے ساتھ ہی ہم نے اس (قرآن) کو اتارا ہے اور حق ہی کے ساتھ وہ اترا ہے، اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ کو خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا ہی بنا کر بھیجا ہے،(105)
وَقُرءانًا فَرَقنٰهُ لِتَقرَأَهُ عَلَى النّاسِ عَلىٰ مُكثٍ وَنَزَّلنٰهُ تَنزيلًا(106)
اور قرآن کو ہم نے جدا جدا کر کے اتارا تاکہ آپ اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور ہم نے اسے رفتہ رفتہ (حالات اور مصالح کے مطابق) تدریجاً اتارا ہے،(106)
قُل ءامِنوا بِهِ أَو لا تُؤمِنوا ۚ إِنَّ الَّذينَ أوتُوا العِلمَ مِن قَبلِهِ إِذا يُتلىٰ عَلَيهِم يَخِرّونَ لِلأَذقانِ سُجَّدًا(107)
فرما دیجئے: تم اس پر ایمان لاؤ یا ایمان نہ لاؤ، بیشک جن لوگوں کو اس سے قبل علمِ (کتاب) عطا کیا گیا تھا جب یہ (قرآن) انہیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں،(107)
وَيَقولونَ سُبحٰنَ رَبِّنا إِن كانَ وَعدُ رَبِّنا لَمَفعولًا(108)
اور کہتے ہیں: ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہمارے رب کا وعدہ پورا ہو کر ہی رہنا تھا،(108)
وَيَخِرّونَ لِلأَذقانِ يَبكونَ وَيَزيدُهُم خُشوعًا ۩(109)
اور ٹھوڑیوں کے بل گریہ و زاری کرتے ہوئے گر جاتے ہیں، اور یہ (قرآن) ان کے خشوع و خضوع میں مزید اضافہ کرتا چلا جاتا ہے،(109)
قُلِ ادعُوا اللَّهَ أَوِ ادعُوا الرَّحمٰنَ ۖ أَيًّا ما تَدعوا فَلَهُ الأَسماءُ الحُسنىٰ ۚ وَلا تَجهَر بِصَلاتِكَ وَلا تُخافِت بِها وَابتَغِ بَينَ ذٰلِكَ سَبيلًا(110)
فرما دیجئے کہ اﷲ کو پکارو یا رحمان کو پکارو، جس نام سے بھی پکارتے ہو (سب) اچھے نام اسی کے ہیں، اور نہ اپنی نماز (میں قرات) بلند آواز سے کریں اور نہ بالکل آہستہ پڑھیں اور دونوں کے درمیان (معتدل) راستہ اختیار فرمائیں،(110)
وَقُلِ الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى لَم يَتَّخِذ وَلَدًا وَلَم يَكُن لَهُ شَريكٌ فِى المُلكِ وَلَم يَكُن لَهُ وَلِىٌّ مِنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّرهُ تَكبيرًا(111)
اور فرمائیے کہ سب تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جس نے نہ تو (اپنے لئے) کوئی بیٹا بنایا اور نہ ہی (اس کی) سلطنت و فرمانروائی میں کوئی شریک ہے اور نہ کمزوری کے باعث اس کا کوئی مددگار ہے (اے حبیب!) آپ اسی کو بزرگ تر جان کر اس کی خوب بڑائی (بیان) کرتے رہئے،(111)