Al-Insaan( الإنسان)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ هَل أَتىٰ عَلَى الإِنسٰنِ حينٌ مِنَ الدَّهرِ لَم يَكُن شَيـًٔا مَذكورًا(1)
بے شک انسان پر زمانے کا ایک ایسا وقت بھی گزر چکا ہے کہ وہ کوئی قابلِ ذِکر چیز ہی نہ تھا،(1)
إِنّا خَلَقنَا الإِنسٰنَ مِن نُطفَةٍ أَمشاجٍ نَبتَليهِ فَجَعَلنٰهُ سَميعًا بَصيرًا(2)
بے شک ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا فرمایا جسے ہم (تولّد تک ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلہ کی طرف) پلٹتے اور جانچتے رہتے ہیں، پس ہم نے اسے (ترتیب سے) سننے والا (پھر) دیکھنے والا بنایا ہے،(2)
إِنّا هَدَينٰهُ السَّبيلَ إِمّا شاكِرًا وَإِمّا كَفورًا(3)
بے شک ہم نے اسے (حق و باطل میں تمیز کرنے کے لئے شعور و بصیرت کی) راہ بھی دکھا دی، (اب) خواہ وہ شکر گزار ہو جائے یا ناشکر گزار رہے،(3)
إِنّا أَعتَدنا لِلكٰفِرينَ سَلٰسِلَا۟ وَأَغلٰلًا وَسَعيرًا(4)
بیشک ہم نے کافروں کے لئے (پاؤں کی) زنجیریں اور (گردن کے) طوق اور (دوزخ کی) دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے،(4)
إِنَّ الأَبرارَ يَشرَبونَ مِن كَأسٍ كانَ مِزاجُها كافورًا(5)
بیشک مخلص اِطاعت گزار (شرابِ طہور کے) ایسے جام پئیں گے جس میں (خوشبو، رنگت اور لذت بڑھانے کے لئے) کافور کی آمیزش ہوگی،(5)
عَينًا يَشرَبُ بِها عِبادُ اللَّهِ يُفَجِّرونَها تَفجيرًا(6)
(کافور جنت کا) ایک چشمہ ہے جس سے (خاص) بندگانِ خدا (یعنی اَولیاء اللہ) پیا کریں گے (اور) جہاں چاہیں گے (دوسروں کو پلانے کے لئے) اسے چھوٹی چھوٹی نہروں کی شکل میں بہا کر (بھی) لے جائیں گے،(6)
يوفونَ بِالنَّذرِ وَيَخافونَ يَومًا كانَ شَرُّهُ مُستَطيرًا(7)
(یہ بندگانِ خاص وہ ہیں) جو (اپنی) نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی خوب پھیل جانے والی ہے،(7)
وَيُطعِمونَ الطَّعامَ عَلىٰ حُبِّهِ مِسكينًا وَيَتيمًا وَأَسيرًا(8)
اور (اپنا) کھانا اﷲ کی محبت میں (خود اس کی طلب و حاجت ہونے کے باوُجود اِیثاراً) محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں،(8)
إِنَّما نُطعِمُكُم لِوَجهِ اللَّهِ لا نُريدُ مِنكُم جَزاءً وَلا شُكورًا(9)
(اور کہتے ہیں کہ) ہم تو محض اللہ کی رضا کے لئے تمہیں کھلا رہے ہیں، نہ تم سے کسی بدلہ کے خواست گار ہیں اور نہ شکرگزاری کے (خواہش مند) ہیں،(9)
إِنّا نَخافُ مِن رَبِّنا يَومًا عَبوسًا قَمطَريرًا(10)
ہمیں تو اپنے ربّ سے اُس دن کا خوف رہتا ہے جو (چہروں کو) نہایت سیاہ (اور) بدنما کر دینے والا ہے،(10)
فَوَقىٰهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذٰلِكَ اليَومِ وَلَقّىٰهُم نَضرَةً وَسُرورًا(11)
پس اللہ انہیں (خوفِ اِلٰہی کے سبب سے) اس دن کی سختی سے بچا لے گا اور انہیں (چہروں پر) رونق و تازگی اور (دلوں میں) سرور و مسرّت بخشے گا،(11)
وَجَزىٰهُم بِما صَبَروا جَنَّةً وَحَريرًا(12)
اور اِس بات کے عوض کہ انہوں نے صبر کیا ہے (رہنے کو) جنت اور (پہننے کو) ریشمی پوشاک عطا کرے گا،(12)
مُتَّكِـٔينَ فيها عَلَى الأَرائِكِ ۖ لا يَرَونَ فيها شَمسًا وَلا زَمهَريرًا(13)
یہ لوگ اس میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، نہ وہاں دھوپ کی تپش پائیں گے اور نہ سردی کی شدّت،(13)
وَدانِيَةً عَلَيهِم ظِلٰلُها وَذُلِّلَت قُطوفُها تَذليلًا(14)
اور (جنت کے درختوں کے) سائے ان پر جھک رہے ہوں گے اور ان کے (میووں کے) گچھے جھک کر لٹک رہے ہوں گے،(14)
وَيُطافُ عَلَيهِم بِـٔانِيَةٍ مِن فِضَّةٍ وَأَكوابٍ كانَت قَواريرا۠(15)
اور (خُدام) ان کے گرد چاندی کے برتن اور (صاف ستھرے) شیشے کے گلاس لئے پھرتے ہوں گے،(15)
قَواريرَا۟ مِن فِضَّةٍ قَدَّروها تَقديرًا(16)
اور شیشے بھی چاندی کے (بنے) ہوں گے جنہیں انہوں نے (ہر ایک کی طلب کے مطابق) ٹھیک ٹھیک اندازہ سے بھرا ہوگا،(16)
وَيُسقَونَ فيها كَأسًا كانَ مِزاجُها زَنجَبيلًا(17)
اور انہیں وہاں (شرابِ طہور کے) ایسے جام پلائے جائیں گے جن میں زنجبیل کی آمیزش ہوگی،(17)
عَينًا فيها تُسَمّىٰ سَلسَبيلًا(18)
(زنجبیل) اس (جنت) میں ایک ایسا چشمہ ہے جس کا نام "سلسبیل" رکھا گیا ہے،(18)
۞ وَيَطوفُ عَلَيهِم وِلدٰنٌ مُخَلَّدونَ إِذا رَأَيتَهُم حَسِبتَهُم لُؤلُؤًا مَنثورًا(19)
اور ان کے اِرد گرد ایسے (معصوم) بچے گھومتے رہیں گے، جو ہمیشہ اسی حال میں رہیں گے، جب آپ انہیں دیکھیں گے تو انہیں بکھرے ہوئے موتی گمان کریں گے،(19)
وَإِذا رَأَيتَ ثَمَّ رَأَيتَ نَعيمًا وَمُلكًا كَبيرًا(20)
اور جب آپ (بہشت پر) نظر ڈالیں گے تو وہاں (کثرت سے) نعمتیں اور (ہر طرف) بڑی سلطنت دیکھیں گے،(20)
عٰلِيَهُم ثِيابُ سُندُسٍ خُضرٌ وَإِستَبرَقٌ ۖ وَحُلّوا أَساوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقىٰهُم رَبُّهُم شَرابًا طَهورًا(21)
ان (کے جسموں) پر باریک ریشم کے سبز اور دبیز اطلس کے کپڑے ہوں گے، اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا ربّ انہیں پاکیزہ شراب پلائے گا،(21)
إِنَّ هٰذا كانَ لَكُم جَزاءً وَكانَ سَعيُكُم مَشكورًا(22)
بے شک یہ تمہارا صلہ ہوگا اور تمہاری محنت مقبول ہوچکی،(22)
إِنّا نَحنُ نَزَّلنا عَلَيكَ القُرءانَ تَنزيلًا(23)
بے شک ہم نے آپ پر قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ہے،(23)
فَاصبِر لِحُكمِ رَبِّكَ وَلا تُطِع مِنهُم ءاثِمًا أَو كَفورًا(24)
سو آپ اپنے ربّ کے حکم کی خاطر صبر (جاری) رکھیں اور ان میں سے کسی کاذب و گنہگار یا کافر و ناشکرگزار کی بات پر کان نہ دھریں،(24)
وَاذكُرِ اسمَ رَبِّكَ بُكرَةً وَأَصيلًا(25)
اور صبح و شام اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کریں،(25)
وَمِنَ الَّيلِ فَاسجُد لَهُ وَسَبِّحهُ لَيلًا طَويلًا(26)
اور رات کی کچھ گھڑیاں اس کے حضور سجدہ ریزی کیا کریں اور رات کے (بقیہ) طویل حصہ میں اس کی تسبیح کیا کریں،(26)
إِنَّ هٰؤُلاءِ يُحِبّونَ العاجِلَةَ وَيَذَرونَ وَراءَهُم يَومًا ثَقيلًا(27)
بے شک یہ (طالبانِ دنیا) جلد ملنے والے مفاد کو عزیز رکھتے ہیں اور سخت بھاری دن (کی یاد) کو اپنے پسِ پشت چھوڑے ہوئے ہیں،(27)
نَحنُ خَلَقنٰهُم وَشَدَدنا أَسرَهُم ۖ وَإِذا شِئنا بَدَّلنا أَمثٰلَهُم تَبديلًا(28)
(وہ نہیں سوچتے کہ) ہم ہی نے انہیں پیدا فرمایا ہے اور ان کے جوڑ جوڑ کو مضبوط بنایا ہے، اور ہم جب چاہیں (انہیں) انہی جیسے لوگوں سے بدل ڈالیں،(28)
إِنَّ هٰذِهِ تَذكِرَةٌ ۖ فَمَن شاءَ اتَّخَذَ إِلىٰ رَبِّهِ سَبيلًا(29)
بے شک یہ (قرآن) نصیحت ہے، سو جو کوئی چاہے اپنے رب کی طرف (پہنچنے کا) راستہ اِختیار کر لے،(29)
وَما تَشاءونَ إِلّا أَن يَشاءَ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَليمًا حَكيمًا(30)
اور تم خود کچھ نہیں چاہ سکتے سوائے اس کے جو اللہ چاہے، بے شک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،(30)
يُدخِلُ مَن يَشاءُ فى رَحمَتِهِ ۚ وَالظّٰلِمينَ أَعَدَّ لَهُم عَذابًا أَليمًا(31)
وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت (کے دائرے) میں داخل فرما لیتا ہے، اور ظالموں کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،(31)