Al-Hijr( الحجر)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الر ۚ تِلكَ ءايٰتُ الكِتٰبِ وَقُرءانٍ مُبينٍ(1)
الف، لام، را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ (برگزیدہ) کتاب اور روشن قرآن کی آیتیں ہیں،(1)
رُبَما يَوَدُّ الَّذينَ كَفَروا لَو كانوا مُسلِمينَ(2)
کفار (آخرت میں مومنوں پر اللہ کی رحمت کے مناظر دیکھ کر) بار بار آرزو کریں گے کہ کاش! وہ مسلمان ہوتے،(2)
ذَرهُم يَأكُلوا وَيَتَمَتَّعوا وَيُلهِهِمُ الأَمَلُ ۖ فَسَوفَ يَعلَمونَ(3)
آپ (غمگین نہ ہوں) انہیں چھوڑ دیجئے وہ کھاتے (پیتے) رہیں اور عیش کرتے رہیں اور (ان کی) جھوٹی امیدیں انہیں (آخرت سے) غافل رکھیں پھر وہ عنقریب (اپنا انجام) جان لیں گے،(3)
وَما أَهلَكنا مِن قَريَةٍ إِلّا وَلَها كِتابٌ مَعلومٌ(4)
اور ہم نے کوئی بھی بستی ہلاک نہیں کی مگر یہ کہ اُس کے لئے ایک معلوم نوشتۂ (قانون) تھا (جس کی انہوں نے خلاف ورزی کی اور اپنے انجام کو جا پہنچے)،(4)
ما تَسبِقُ مِن أُمَّةٍ أَجَلَها وَما يَستَـٔخِرونَ(5)
کوئی بھی قوم (قانونِ عروج و زوال کی) اپنی مقررہ مدت سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے،(5)
وَقالوا يٰأَيُّهَا الَّذى نُزِّلَ عَلَيهِ الذِّكرُ إِنَّكَ لَمَجنونٌ(6)
اور (کفار گستاخی کرتے ہوئے) کہتے ہیں: اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے! بیشک تم دیوانے ہو،(6)
لَو ما تَأتينا بِالمَلٰئِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ(7)
تم ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتے اگر تم سچے ہو،(7)
ما نُنَزِّلُ المَلٰئِكَةَ إِلّا بِالحَقِّ وَما كانوا إِذًا مُنظَرينَ(8)
ہم فرشتوں کو نہیں اتارا کرتے مگر (فیصلۂ) حق کے ساتھ (یعنی جب عذاب کی گھڑی آپہنچے تو اس کے نفاذ کے لئے اتارتے ہیں) اور اس وقت انہیں مہلت نہیں دی جاتی،(8)
إِنّا نَحنُ نَزَّلنَا الذِّكرَ وَإِنّا لَهُ لَحٰفِظونَ(9)
بیشک یہ ذکرِ عظیم (قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے،(9)
وَلَقَد أَرسَلنا مِن قَبلِكَ فى شِيَعِ الأَوَّلينَ(10)
اور بیشک ہم نے آپ سے قبل پہلی امتوں میں بھی رسول بھیجے تھے،(10)
وَما يَأتيهِم مِن رَسولٍ إِلّا كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(11)
اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا تھا مگر یہ کہ وہ اس کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے،(11)
كَذٰلِكَ نَسلُكُهُ فى قُلوبِ المُجرِمينَ(12)
اسی طرح ہم اس (تمسخر اور استہزاء) کو مجرموں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں،(12)
لا يُؤمِنونَ بِهِ ۖ وَقَد خَلَت سُنَّةُ الأَوَّلينَ(13)
یہ لوگ اِس (قرآن) پر ایمان نہیں لائیں گے اور بیشک پہلوں کی (یہی) روش گزر چکی ہے،(13)
وَلَو فَتَحنا عَلَيهِم بابًا مِنَ السَّماءِ فَظَلّوا فيهِ يَعرُجونَ(14)
اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ (بھی) کھول دیں (اور ان کے لئے یہ بھی ممکن بنا دیں کہ) وہ سارا دن اس میں (سے) اوپر چڑھتے رہیں،(14)
لَقالوا إِنَّما سُكِّرَت أَبصٰرُنا بَل نَحنُ قَومٌ مَسحورونَ(15)
(تب بھی) یہ لوگ یقیناً (یہ) کہیں گے کہ ہماری آنکھیں (کسی حیلہ و فریب کے ذریعے) باندھ دی گئی ہیں بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے،(15)
وَلَقَد جَعَلنا فِى السَّماءِ بُروجًا وَزَيَّنّٰها لِلنّٰظِرينَ(16)
اور بیشک ہم نے آسمان میں (کہکشاؤں کی صورت میں ستاروں کی حفاطت کے لئے) قلعے بنائے اور ہم نے اس (خلائی کائنات) کو دیکھنے والوں کے لئے آراستہ کر دیا،(16)
وَحَفِظنٰها مِن كُلِّ شَيطٰنٍ رَجيمٍ(17)
اور ہم نے اس (آسمانی کائنات کے نظام) کو ہر مردود شیطان (یعنی ہر سرکش قوت کے شرانگیز عمل) سے محفوظ کر دیا،(17)
إِلّا مَنِ استَرَقَ السَّمعَ فَأَتبَعَهُ شِهابٌ مُبينٌ(18)
مگر جو کوئی بھی چوری چھپے سننے کے لئے آگھسا تو اس کے پیچھے ایک (جلتا) چمکتا شہاب ہو جاتا ہے،(18)
وَالأَرضَ مَدَدنٰها وَأَلقَينا فيها رَوٰسِىَ وَأَنبَتنا فيها مِن كُلِّ شَيءٍ مَوزونٍ(19)
اور زمین کو ہم نے (گولائی کے باوجود) پھیلا دیا اور ہم نے اس میں (مختلف مادوں کو باہم ملا کر) مضبوط پہاڑ بنا دیئے اور ہم نے اس میں ہر جنس کو (مطلوبہ) توازن کے مطابق نشو و نما دی،(19)
وَجَعَلنا لَكُم فيها مَعٰيِشَ وَمَن لَستُم لَهُ بِرٰزِقينَ(20)
اور ہم نے اس میں تمہارے لئے اسبابِ معیشت پیدا کئے اور ان (انسانوں، جانوروں اور پرندوں) کے لئے بھی جنہیں تم رزق مہیا نہیں کرتے،(20)
وَإِن مِن شَيءٍ إِلّا عِندَنا خَزائِنُهُ وَما نُنَزِّلُهُ إِلّا بِقَدَرٍ مَعلومٍ(21)
اور (کائنات) کی کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے مگر یہ کہ ہمارے پاس اس کے خزانے ہیں اور ہم اسے صرف معیّن مقدار کے مطابق ہی اتارتے رہتے ہیں،(21)
وَأَرسَلنَا الرِّيٰحَ لَوٰقِحَ فَأَنزَلنا مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَسقَينٰكُموهُ وَما أَنتُم لَهُ بِخٰزِنينَ(22)
اور ہم ہواؤں کو بادلوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے بھیجتے ہیں پھر ہم آسمان کی جانب سے پانی اتارتے ہیں پھر ہم اسے تم ہی کو پلاتے ہیں اور تم اس کے خزانے رکھنے والے نہیں ہو،(22)
وَإِنّا لَنَحنُ نُحيۦ وَنُميتُ وَنَحنُ الوٰرِثونَ(23)
اور بیشک ہم ہی جلاتے ہیں اور مارتے ہیں اور ہم ہی (سب کے) وارث (و مالک) ہیں،(23)
وَلَقَد عَلِمنَا المُستَقدِمينَ مِنكُم وَلَقَد عَلِمنَا المُستَـٔخِرينَ(24)
اور بیشک ہم اُن کو بھی جانتے ہیں جو تم سے پہلے گزر چکے اور بیشک ہم بعد میں آنے والوں کو بھی جانتے ہیں،(24)
وَإِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحشُرُهُم ۚ إِنَّهُ حَكيمٌ عَليمٌ(25)
اور بیشک آپ کا رب ہی تو انہیں (روزِ قیامت) جمع فرمائے گا۔ بیشک وہ بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے،(25)
وَلَقَد خَلَقنَا الإِنسٰنَ مِن صَلصٰلٍ مِن حَمَإٍ مَسنونٍ(26)
اور بیشک ہم نے انسان کی (کیمیائی) تخلیق ایسے خشک بجنے والے گارے سے کی جو (پہلے) سِن رسیدہ (اور دھوپ اور دیگر طبیعیاتی اور کیمیائی اثرات کے باعث تغیر پذیر ہو کر) سیاہ بو دار ہو چکا تھا،(26)
وَالجانَّ خَلَقنٰهُ مِن قَبلُ مِن نارِ السَّمومِ(27)
اور اِس سے پہلے ہم نے جنّوں کو شدید جلا دینے والی آگ سے پیدا کیا جس میں دھواں نہیں تھا،(27)
وَإِذ قالَ رَبُّكَ لِلمَلٰئِكَةِ إِنّى خٰلِقٌ بَشَرًا مِن صَلصٰلٍ مِن حَمَإٍ مَسنونٍ(28)
اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں سِن رسیدہ (اور) سیاہ بودار، بجنے والے گارے سے ایک بشری پیکر پیدا کرنے والا ہوں،(28)
فَإِذا سَوَّيتُهُ وَنَفَختُ فيهِ مِن روحى فَقَعوا لَهُ سٰجِدينَ(29)
پھر جب میں اس کی (ظاہری) تشکیل کو کامل طور پر درست حالت میں لا چکوں اور اس پیکرِ (بشری کے باطن) میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں تو تم اس کے لئے سجدہ میں گر پڑنا،(29)
فَسَجَدَ المَلٰئِكَةُ كُلُّهُم أَجمَعونَ(30)
پس (اس پیکرِ بشری کے اندر نورِ ربانی کا چراغ جلتے ہی) سارے کے سارے فرشتوں نے سجدہ کیا،(30)
إِلّا إِبليسَ أَبىٰ أَن يَكونَ مَعَ السّٰجِدينَ(31)
سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا،(31)
قالَ يٰإِبليسُ ما لَكَ أَلّا تَكونَ مَعَ السّٰجِدينَ(32)
(اللہ نے) ارشاد فرمایا: اے ابلیس! تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا،(32)
قالَ لَم أَكُن لِأَسجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقتَهُ مِن صَلصٰلٍ مِن حَمَإٍ مَسنونٍ(33)
(ابلیس نے) کہا: میں ہر گز ایسا نہیں (ہو سکتا) کہ بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سِن رسیدہ (اور) سیاہ بودار، بجنے والے گارے سے تخلیق کیا ہے،(33)
قالَ فَاخرُج مِنها فَإِنَّكَ رَجيمٌ(34)
(اللہ نے) فرمایا: تو یہاں سے نکل جا پس بیشک تو مردود (راندۂ درگاہ) ہے،(34)
وَإِنَّ عَلَيكَ اللَّعنَةَ إِلىٰ يَومِ الدّينِ(35)
اور بیشک تجھ پر روزِ جزا تک لعنت (پڑتی) رہے گی،(35)
قالَ رَبِّ فَأَنظِرنى إِلىٰ يَومِ يُبعَثونَ(36)
اُس نے کہا: اے پروردگار! پس تو مجھے اُس دن تک مہلت دے دے (جس دن) لوگ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے،(36)
قالَ فَإِنَّكَ مِنَ المُنظَرينَ(37)
اللہ نے فرمایا: سو بیشک تو مہلت یافتہ لوگوں میں سے ہے،(37)
إِلىٰ يَومِ الوَقتِ المَعلومِ(38)
وقتِ مقررہ کے دن (قیامت) تک،(38)
قالَ رَبِّ بِما أَغوَيتَنى لَأُزَيِّنَنَّ لَهُم فِى الأَرضِ وَلَأُغوِيَنَّهُم أَجمَعينَ(39)
ابلیس نے کہا: اے پروردگار! اس سبب سے جو تو نے مجھے گمراہ کیا میں (بھی) یقیناً ان کے لئے زمین میں (گناہوں اور نافرمانیوں کو) خوب آراستہ و خوش نما بنا دوں گا اور ان سب کو ضرور گمراہ کر کے رہوں گا،(39)
إِلّا عِبادَكَ مِنهُمُ المُخلَصينَ(40)
سوائے تیرے ان برگزیدہ بندوں کے جو (میرے اور نفس کے فریبوں سے) خلاصی پا چکے ہیں،(40)
قالَ هٰذا صِرٰطٌ عَلَىَّ مُستَقيمٌ(41)
اللہ نے ارشاد فرمایا: یہ (اخلاص ہی) راستہ ہے جو سیدھا میرے در پر آتا ہے،(41)
إِنَّ عِبادى لَيسَ لَكَ عَلَيهِم سُلطٰنٌ إِلّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الغاوينَ(42)
بیشک میرے (اخلاص یافتہ) بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا سوائے ان بھٹکے ہوؤں کے جنہوں نے تیری راہ اختیار کی،(42)
وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوعِدُهُم أَجمَعينَ(43)
اور بیشک ان سب کے لئے وعدہ کی جگہ جہنم ہے،(43)
لَها سَبعَةُ أَبوٰبٍ لِكُلِّ بابٍ مِنهُم جُزءٌ مَقسومٌ(44)
جس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لئے ان میں سے الگ حصہ مخصوص کیا گیا ہے،(44)
إِنَّ المُتَّقينَ فى جَنّٰتٍ وَعُيونٍ(45)
بیشک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں رہیں گے،(45)
ادخُلوها بِسَلٰمٍ ءامِنينَ(46)
(ان سے کہا جائے گا:) ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف ہو کر داخل ہو جاؤ،(46)
وَنَزَعنا ما فى صُدورِهِم مِن غِلٍّ إِخوٰنًا عَلىٰ سُرُرٍ مُتَقٰبِلينَ(47)
اور ہم وہ ساری کدورت باہر کھینچ لیں گے جو (دنیا میں) ان کے سینوں میں (مغالطہ کے باعث ایک دوسرے سے) تھی، وہ (جنت میں) بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے،(47)
لا يَمَسُّهُم فيها نَصَبٌ وَما هُم مِنها بِمُخرَجينَ(48)
انہیں وہاں کوئی تکلیف نہ پہنچے گی اور نہ ہی وہ وہاں سے نکالے جائیں گے،(48)
۞ نَبِّئ عِبادى أَنّى أَنَا الغَفورُ الرَّحيمُ(49)
(اے حبیب!) آپ میرے بندوں کو بتا دیجئے کہ میں ہی بیشک بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہوں،(49)
وَأَنَّ عَذابى هُوَ العَذابُ الأَليمُ(50)
اور (اس بات سے بھی آگاہ کر دیجئے) کہ میرا ہی عذاب بڑا دردناک عذاب ہے،(50)
وَنَبِّئهُم عَن ضَيفِ إِبرٰهيمَ(51)
اور انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی خبر (بھی) سنائیے،(51)
إِذ دَخَلوا عَلَيهِ فَقالوا سَلٰمًا قالَ إِنّا مِنكُم وَجِلونَ(52)
جب وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو انہوں نے (آپ کو) سلام کہا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ ہم آپ سے کچھ ڈر محسوس کر رہے ہیں،(52)
قالوا لا تَوجَل إِنّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَليمٍ(53)
(مہمان فرشتوں نے) کہا: آپ خائف نہ ہوں ہم آپ کو ایک دانش مند لڑکے (کی پیدائش) کی خوشخبری سناتے ہیں،(53)
قالَ أَبَشَّرتُمونى عَلىٰ أَن مَسَّنِىَ الكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرونَ(54)
ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: تم مجھے اس حال میں خوشخبری سنا رہے ہو جبکہ مجھے بڑھاپا لاحق ہو چکا ہے سو اب تم کس چیز کی خوشخبری سناتے ہو؟،(54)
قالوا بَشَّرنٰكَ بِالحَقِّ فَلا تَكُن مِنَ القٰنِطينَ(55)
انہوں نے کہا: ہم آپ کو سچی بشارت دے رہے ہیں سو آپ نا امید نہ ہوں،(55)
قالَ وَمَن يَقنَطُ مِن رَحمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضّالّونَ(56)
ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: اپنے رب کی رحمت سے گمراہوں کے سوا اور کون مایوس ہو سکتا ہے،(56)
قالَ فَما خَطبُكُم أَيُّهَا المُرسَلونَ(57)
ابراہیم (علیہ السلام) نے دریافت کیا: اے (اللہ کے) بھیجے ہوئے فرشتو! (اس بشارت کے علاوہ) اور تمہارا کیا کام ہے (جس کے لئے آئے ہو)،(57)
قالوا إِنّا أُرسِلنا إِلىٰ قَومٍ مُجرِمينَ(58)
انہوں نے کہا: ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں،(58)
إِلّا ءالَ لوطٍ إِنّا لَمُنَجّوهُم أَجمَعينَ(59)
سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھرانے کے، بیشک ہم ان سب کو ضرور بچا لیں گے،(59)
إِلَّا امرَأَتَهُ قَدَّرنا ۙ إِنَّها لَمِنَ الغٰبِرينَ(60)
بجز ان کی بیوی کے، ہم (یہ) طے کر چکے ہیں کہ وہ ضرور (عذاب کے لئے) پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے،(60)
فَلَمّا جاءَ ءالَ لوطٍ المُرسَلونَ(61)
پھر جب لوط (علیہ السلام) کے خاندان کے پاس وہ فرستادہ (فرشتے) آئے،(61)
قالَ إِنَّكُم قَومٌ مُنكَرونَ(62)
لوط (علیہ السلام) نے کہا: بیشک تم اجنبی لوگ (معلوم ہوتے) ہو،(62)
قالوا بَل جِئنٰكَ بِما كانوا فيهِ يَمتَرونَ(63)
انہوں نے کہا: (ایسا نہیں) بلکہ ہم آپ کے پاس وہ (عذاب) لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کرتے رہے ہیں،(63)
وَأَتَينٰكَ بِالحَقِّ وَإِنّا لَصٰدِقونَ(64)
اور ہم آپ کے پاس حق (کا فیصلہ) لے کر آئے ہیں اور ہم یقیناً سچے ہیں،(64)
فَأَسرِ بِأَهلِكَ بِقِطعٍ مِنَ الَّيلِ وَاتَّبِع أَدبٰرَهُم وَلا يَلتَفِت مِنكُم أَحَدٌ وَامضوا حَيثُ تُؤمَرونَ(65)
پس آپ اپنے اہلِ خانہ کو رات کے کسی حصہ میں لے کر نکل جائیے اور آپ خود ان کے پیچھے پیچھے چلئے اور آپ میں سے کوئی مڑ کر (بھی) پیچھے نہ دیکھے اور آپ کو جہاں جانے کا حکم دیا گیا ہے (وہاں) چلے جائیے،(65)
وَقَضَينا إِلَيهِ ذٰلِكَ الأَمرَ أَنَّ دابِرَ هٰؤُلاءِ مَقطوعٌ مُصبِحينَ(66)
اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اس فیصلہ سے بذریعہ وحی آگاہ کر دیا کہ بیشک اُن کے صبح کرتے ہی اُن لوگوں کی جڑ کٹ جائے گی،(66)
وَجاءَ أَهلُ المَدينَةِ يَستَبشِرونَ(67)
اور اہلِ شہر (اپنی بد مستی میں) خوشیاں مناتے ہوئے (لوط علیہ السلام کے پاس) آپہنچے،(67)
قالَ إِنَّ هٰؤُلاءِ ضَيفى فَلا تَفضَحونِ(68)
لوط (علیہ السلام) نے کہا: بیشک یہ لوگ میرے مہمان ہیں پس تم مجھے (اِن کے بارے میں) شرم سار نہ کرو،(68)
وَاتَّقُوا اللَّهَ وَلا تُخزونِ(69)
اور اللہ (کے غضب) سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو،(69)
قالوا أَوَلَم نَنهَكَ عَنِ العٰلَمينَ(70)
وہ (بد مست لوگ) بولے: (اے لوط!) کیا ہم نے تمہیں دنیا بھر کے لوگوں (کی حمایت) سے منع نہیں کیا تھا،(70)
قالَ هٰؤُلاءِ بَناتى إِن كُنتُم فٰعِلينَ(71)
لوط (علیہ السلام) نے کہا: یہ میری (قوم کی) بیٹیاں ہیں اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو (تو بجائے بدکرداری کے ان سے نکاح کر لو)،(71)
لَعَمرُكَ إِنَّهُم لَفى سَكرَتِهِم يَعمَهونَ(72)
(اے حبیبِ مکرّم!) آپ کی عمرِ مبارک کی قَسم، بیشک یہ لوگ (بھی قومِ لوط کی طرح) اپنی بدمستی میں سرگرداں پھر رہے ہیں،(72)
فَأَخَذَتهُمُ الصَّيحَةُ مُشرِقينَ(73)
پس انہیں طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی سخت آتشیں کڑک نے آلیا،(73)
فَجَعَلنا عٰلِيَها سافِلَها وَأَمطَرنا عَلَيهِم حِجارَةً مِن سِجّيلٍ(74)
سو ہم نے ان کی بستی کو زِیر و زَبر کر دیا اور ہم نے ان پر پتھر کی طرح سخت مٹی کے کنکر برسائے،(74)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِلمُتَوَسِّمينَ(75)
بیشک اس (واقعہ) میں اہلِ فراست کے لئے نشانیاں ہیں،(75)
وَإِنَّها لَبِسَبيلٍ مُقيمٍ(76)
اور بیشک وہ بستی ایک آباد راستہ پر واقع ہے،(76)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِلمُؤمِنينَ(77)
بیشک اس (واقعۂ قومِ لوط) میں اہلِ ایمان کے لئے نشانی (عبرت) ہے،(77)
وَإِن كانَ أَصحٰبُ الأَيكَةِ لَظٰلِمينَ(78)
اور بیشک باشندگانِ اَیکہ (یعنی گھنی جھاڑیوں کے رہنے والے) بھی بڑے ظالم تھے،(78)
فَانتَقَمنا مِنهُم وَإِنَّهُما لَبِإِمامٍ مُبينٍ(79)
پس ہم نے ان سے (بھی) انتقام لیا، اور یہ دونوں (بستیاں) کھلے راستہ پر (موجود) ہیں،(79)
وَلَقَد كَذَّبَ أَصحٰبُ الحِجرِ المُرسَلينَ(80)
اور بیشک وادئ حجر کے باشندوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا،(80)
وَءاتَينٰهُم ءايٰتِنا فَكانوا عَنها مُعرِضينَ(81)
اور ہم نے انہیں (بھی) اپنی نشانیاں دیں مگر وہ ان سے رُوگردانی کرتے رہے،(81)
وَكانوا يَنحِتونَ مِنَ الجِبالِ بُيوتًا ءامِنينَ(82)
اور وہ لوگ بے خوف و خطر پہاڑوں میں گھر تراشتے تھے،(82)
فَأَخَذَتهُمُ الصَّيحَةُ مُصبِحينَ(83)
تو انہیں (بھی) صبح کرتے ہی خوفناک کڑک نے آپکڑا،(83)
فَما أَغنىٰ عَنهُم ما كانوا يَكسِبونَ(84)
سو جو (مال) وہ کمایا کرتے تھے وہ ان سے (اللہ کے عذاب) کو دفع نہ کر سکا،(84)
وَما خَلَقنَا السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما إِلّا بِالحَقِّ ۗ وَإِنَّ السّاعَةَ لَءاتِيَةٌ ۖ فَاصفَحِ الصَّفحَ الجَميلَ(85)
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے عبث پیدا نہیں کیا، اور یقیناً قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، سو (اے اخلاقِ مجسّم!) آپ بڑے حسن و خوبی کے ساتھ درگزر کرتے رہئے،(85)
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الخَلّٰقُ العَليمُ(86)
بیشک آپ کا رب ہی سب کو پیدا فرمانے والا خوب جاننے والا ہے،(86)
وَلَقَد ءاتَينٰكَ سَبعًا مِنَ المَثانى وَالقُرءانَ العَظيمَ(87)
اور بیشک ہم نے آپ کو بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں (یعنی سورۂ فاتحہ) اور بڑی عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے،(87)
لا تَمُدَّنَّ عَينَيكَ إِلىٰ ما مَتَّعنا بِهِ أَزوٰجًا مِنهُم وَلا تَحزَن عَلَيهِم وَاخفِض جَناحَكَ لِلمُؤمِنينَ(88)
آپ ان چیزوں کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے جن سے ہم نے کافروں کے گروہوں کو (چند روزہ) عیش کے لئے بہرہ مند کیا ہے، اور ان (کی گمراہی) پر رنجیدہ خاطر بھی نہ ہوں اور اہلِ ایمان (کی دل جوئی) کے لئے اپنے (شفقت و التفات کے) بازو جھکائے رکھئے،(88)
وَقُل إِنّى أَنَا النَّذيرُ المُبينُ(89)
اور فرما دیجئے کہ بیشک (اب) میں ہی (عذابِ الٰہی کا) واضح و صریح ڈر سنانے والا ہوں،(89)
كَما أَنزَلنا عَلَى المُقتَسِمينَ(90)
جیسا (عذاب) کہ ہم نے تقسیم کرنے والوں (یعنی یہود و نصارٰی) پر اتارا تھا،(90)
الَّذينَ جَعَلُوا القُرءانَ عِضينَ(91)
جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (کر کے تقسیم) کر ڈالا (یعنی موافق آیتوں کو مان لیا اور غیر موافق کو نہ مانا)،(91)
فَوَرَبِّكَ لَنَسـَٔلَنَّهُم أَجمَعينَ(92)
سو آپ کے رب کی قسم! ہم ان سب سے ضرور پرسش کریں گے،(92)
عَمّا كانوا يَعمَلونَ(93)
ان اعمال سے متعلق جو وہ کرتے رہے تھے،(93)
فَاصدَع بِما تُؤمَرُ وَأَعرِض عَنِ المُشرِكينَ(94)
پس آپ وہ (باتیں) اعلانیہ کہہ ڈالیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور آپ مشرکوں سے منہ پھیر لیجئے،(94)
إِنّا كَفَينٰكَ المُستَهزِءينَ(95)
بیشک مذاق کرنے والوں (کو انجام تک پہنچانے) کے لئے ہم آپ کو کافی ہیں،(95)
الَّذينَ يَجعَلونَ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ ۚ فَسَوفَ يَعلَمونَ(96)
جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود بناتے ہیں سو وہ عنقریب (اپنا انجام) جان لیں گے،(96)
وَلَقَد نَعلَمُ أَنَّكَ يَضيقُ صَدرُكَ بِما يَقولونَ(97)
اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینۂ (اقدس) ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں،(97)
فَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّكَ وَكُن مِنَ السّٰجِدينَ(98)
سو آپ حمد کے ساتھ اپنے رب کی تسبیح کیا کریں اور سجود کرنے والوں میں (شامل) رہا کریں،(98)
وَاعبُد رَبَّكَ حَتّىٰ يَأتِيَكَ اليَقينُ(99)
اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو (آپ کی شان کے لائق) مقامِ یقین مل جائے (یعنی انشراحِ کامل نصیب ہو جائے یا لمحۂ وصالِ حق)،(99)