Al-Haqqa( الحاقة)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الحاقَّةُ(1)
یقیناً واقع ہونے والی گھڑی،(1)
مَا الحاقَّةُ(2)
کیا چیز ہے یقیناً واقع ہونے والی گھڑی،(2)
وَما أَدرىٰكَ مَا الحاقَّةُ(3)
اور آپ کو کس چیز نے خبردار کیا کہ یقیناً واقع ہونے والی (قیامت) کیسی ہے،(3)
كَذَّبَت ثَمودُ وَعادٌ بِالقارِعَةِ(4)
ثمود اور عاد نے (جملہ موجودات کو) باہمی ٹکراؤ سے پاش پاش کر دینے والی (قیامت) کو جھٹلایا تھا،(4)
فَأَمّا ثَمودُ فَأُهلِكوا بِالطّاغِيَةِ(5)
پس قومِ ثمود کے لوگ! تو وہ حد سے زیادہ کڑک دار چنگھاڑ والی آواز سے ہلاک کر دئیے گئے،(5)
وَأَمّا عادٌ فَأُهلِكوا بِريحٍ صَرصَرٍ عاتِيَةٍ(6)
اور رہے قومِ عاد کے لوگ! تو وہ (بھی) ایسی تیز آندھی سے ہلاک کر دئیے گئے جو انتہائی سرد نہایت گرج دار تھی،(6)
سَخَّرَها عَلَيهِم سَبعَ لَيالٍ وَثَمٰنِيَةَ أَيّامٍ حُسومًا فَتَرَى القَومَ فيها صَرعىٰ كَأَنَّهُم أَعجازُ نَخلٍ خاوِيَةٍ(7)
اللہ نے اس (آندھی) کو ان پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن مسلّط رکھا، سو تُو ان لوگوں کو اس (عرصہ) میں (اس طرح) مرے پڑے دیکھتا (تو یوں لگتا) گویا وہ کھجور کے گرے ہوئے درختوں کی کھوکھلی جڑیں ہیں،(7)
فَهَل تَرىٰ لَهُم مِن باقِيَةٍ(8)
سو تُو کیا ان میں سے کسی کو باقی دیکھتا ہے،(8)
وَجاءَ فِرعَونُ وَمَن قَبلَهُ وَالمُؤتَفِكٰتُ بِالخاطِئَةِ(9)
اور فرعون اور جو اُس سے پہلے تھے اور (قومِ لوط کی) اُلٹی ہوئی بستیوں (کے باشندوں) نے بڑی خطائیں کی تھیں،(9)
فَعَصَوا رَسولَ رَبِّهِم فَأَخَذَهُم أَخذَةً رابِيَةً(10)
پس انہوں نے (بھی) اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی، سو اللہ نے انہیں نہایت سخت گرفت میں پکڑ لیا،(10)
إِنّا لَمّا طَغَا الماءُ حَمَلنٰكُم فِى الجارِيَةِ(11)
بے شک جب (طوفانِ نوح کا) پانی حد سے گزر گیا تو ہم نے تمہیں رواں کشتی میں سوار کر لیا،(11)
لِنَجعَلَها لَكُم تَذكِرَةً وَتَعِيَها أُذُنٌ وٰعِيَةٌ(12)
تاکہ ہم اس (واقعہ) کو تمہارے لئے (یادگار) نصیحت بنا دیں اور محفوظ رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں،(12)
فَإِذا نُفِخَ فِى الصّورِ نَفخَةٌ وٰحِدَةٌ(13)
پھر جب صور میں ایک مرتبہ پھونک ماری جائے گے،(13)
وَحُمِلَتِ الأَرضُ وَالجِبالُ فَدُكَّتا دَكَّةً وٰحِدَةً(14)
اور زمین اور پہاڑ (اپنی جگہوں سے) اٹھا لئے جائیں گے، پھر وہ ایک ہی بار ٹکرا کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے،(14)
فَيَومَئِذٍ وَقَعَتِ الواقِعَةُ(15)
سو اُس وقت واقع ہونے والی (قیامت) برپا ہو جائے گے،(15)
وَانشَقَّتِ السَّماءُ فَهِىَ يَومَئِذٍ واهِيَةٌ(16)
اور (سب) آسمانی کرّے پھٹ جائیں گے اور یہ کائنات (ایک نظام میں مربوط اور حرکت میں رکھنے والی) قوت کے ذریعے (سیاہ) شگافوں٭ پر مشتمل ہو جائے گی، ٭ واھیۃ.... الوَھی: وَھِی، یَھِی، وَھیًا کا معنیٰ ہے: شق فی الادیم والثوب ونحوھما، یقال: وَھِیَ الثوب أی انشَقّ وَ تَخَرّقَ (چمڑے، کپڑے یا اس قسم کی دوسری چیزوں کا پھٹ جانا اور ان میں شگاف ہو جانا۔ اِسی لئے کہا جاتا ہے: کپڑا پھٹ گیا اور اس میں شگاف ہوگیا).... (المفردات، لسان العرب، قاموس المحیط، المنجد وغیرہ)۔ اسے جدید سائنس نے بلیک ہولز سے تعبیر کیا ہے۔(16)
وَالمَلَكُ عَلىٰ أَرجائِها ۚ وَيَحمِلُ عَرشَ رَبِّكَ فَوقَهُم يَومَئِذٍ ثَمٰنِيَةٌ(17)
اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے، اور آپ کے رب کے عرش کو اس دن ان کے اوپر آٹھ (فرشتے یا فرشتوں کے طبقات) اٹھائے ہوئے ہوں گے،(17)
يَومَئِذٍ تُعرَضونَ لا تَخفىٰ مِنكُم خافِيَةٌ(18)
اُس دن تم (حساب کے لئے) پیش کیے جاؤ گے، تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہ رہے گی،(18)
فَأَمّا مَن أوتِىَ كِتٰبَهُ بِيَمينِهِ فَيَقولُ هاؤُمُ اقرَءوا كِتٰبِيَه(19)
سو وہ شخص جس کا نامۂ اَعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ (خوشی سے) کہے گا: آؤ میرا نامۂ اَعمال پڑھ لو،(19)
إِنّى ظَنَنتُ أَنّى مُلٰقٍ حِسابِيَه(20)
میں تو یقین رکھتا تھا کہ میں اپنے حساب کو (آسان) پانے والا ہوں،(20)
فَهُوَ فى عيشَةٍ راضِيَةٍ(21)
سو وہ پسندیدہ زندگی بسر کرے گا،(21)
فى جَنَّةٍ عالِيَةٍ(22)
بلند و بالا جنت میں،(22)
قُطوفُها دانِيَةٌ(23)
جس کے خوشے (پھلوں کی کثرت کے باعث) جھکے ہوئے ہوں گے،(23)
كُلوا وَاشرَبوا هَنيـًٔا بِما أَسلَفتُم فِى الأَيّامِ الخالِيَةِ(24)
(اُن سے کہا جائے گا:) خوب لطف اندوزی کے ساتھ کھاؤ اور پیو اُن (اَعمال) کے بدلے جو تم گزشتہ (زندگی کے) اَیام میں آگے بھیج چکے تھے،(24)
وَأَمّا مَن أوتِىَ كِتٰبَهُ بِشِمالِهِ فَيَقولُ يٰلَيتَنى لَم أوتَ كِتٰبِيَه(25)
اور وہ شخص جس کا نامۂ اَعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا: ہائے کاش! مجھے میرا نامۂ اَعمال نہ دیا گیا ہوتا،(25)
وَلَم أَدرِ ما حِسابِيَه(26)
اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے،(26)
يٰلَيتَها كانَتِ القاضِيَةَ(27)
ہائے کاش! وُہی (موت) کام تمام کر چکی ہوتی،(27)
ما أَغنىٰ عَنّى مالِيَه ۜ(28)
(آج) میرا مال مجھ سے (عذاب کو) کچھ بھی دور نہ کر سکا،(28)
هَلَكَ عَنّى سُلطٰنِيَه(29)
مجھ سے میری قوت و سلطنت (بھی) جاتی رہی،(29)
خُذوهُ فَغُلّوهُ(30)
(حکم ہوگا:) اسے پکڑ لو اور اسے طوق پہنا دو،(30)
ثُمَّ الجَحيمَ صَلّوهُ(31)
پھر اسے دوزخ میں جھونک دو،(31)
ثُمَّ فى سِلسِلَةٍ ذَرعُها سَبعونَ ذِراعًا فَاسلُكوهُ(32)
پھر ایک زنجیر میں جس کی لمبائی ستر گز ہے اسے جکڑ دو،(32)
إِنَّهُ كانَ لا يُؤمِنُ بِاللَّهِ العَظيمِ(33)
بے شک یہ بڑی عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا،(33)
وَلا يَحُضُّ عَلىٰ طَعامِ المِسكينِ(34)
اور نہ محتاج کو کھانا کھلانے پر رغبت دلاتا تھا،(34)
فَلَيسَ لَهُ اليَومَ هٰهُنا حَميمٌ(35)
سو آج کے دن نہ اس کا کوئی گرم جوش دوست ہے،(35)
وَلا طَعامٌ إِلّا مِن غِسلينٍ(36)
اور نہ پیپ کے سوا (اُس کے لئے) کوئی کھانا ہے،(36)
لا يَأكُلُهُ إِلَّا الخٰطِـٔونَ(37)
جسے گنہگاروں کے سوا کوئی نہ کھائے گا،(37)
فَلا أُقسِمُ بِما تُبصِرونَ(38)
سو میں قَسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو،(38)
وَما لا تُبصِرونَ(39)
اور ان چیزوں کی (بھی) جنہیں تم نہیں دیکھتے،(39)
إِنَّهُ لَقَولُ رَسولٍ كَريمٍ(40)
بے شک یہ (قرآن) بزرگی و عظمت والے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا (منزّل من اللہ) فرمان ہے، (جسے وہ رسالۃً اور نیابۃً بیان فرماتے ہیں)،(40)
وَما هُوَ بِقَولِ شاعِرٍ ۚ قَليلًا ما تُؤمِنونَ(41)
اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں (کہ اَدبی مہارت سے خود لکھا گیا ہو)، تم بہت ہی کم یقین رکھتے ہو،(41)
وَلا بِقَولِ كاهِنٍ ۚ قَليلًا ما تَذَكَّرونَ(42)
اور نہ (یہ) کسی کاہن کا کلام ہے (کہ فنی اَندازوں سے وضع کیا گیا ہو)، تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو،(42)
تَنزيلٌ مِن رَبِّ العٰلَمينَ(43)
(یہ) تمام جہانوں کے رب کی طرف سے نازل شدہ ہے،(43)
وَلَو تَقَوَّلَ عَلَينا بَعضَ الأَقاويلِ(44)
اور اگر وہ ہم پر کوئی (ایک) بات بھی گھڑ کر کہہ دیتے،(44)
لَأَخَذنا مِنهُ بِاليَمينِ(45)
تو یقیناً ہم اُن کو پوری قوت و قدرت کے ساتھ پکڑ لیتے،(45)
ثُمَّ لَقَطَعنا مِنهُ الوَتينَ(46)
پھر ہم ضرور اُن کی شہ رگ کاٹ دیتے،(46)
فَما مِنكُم مِن أَحَدٍ عَنهُ حٰجِزينَ(47)
پھر تم میں سے کوئی بھی (ہمیں) اِس سے روکنے والا نہ ہوتا،(47)
وَإِنَّهُ لَتَذكِرَةٌ لِلمُتَّقينَ(48)
اور پس بلاشبہ یہ (قرآن) پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہے،(48)
وَإِنّا لَنَعلَمُ أَنَّ مِنكُم مُكَذِّبينَ(49)
اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض لوگ (اس کھلی سچائی کو) جھٹلانے والے ہیں،(49)
وَإِنَّهُ لَحَسرَةٌ عَلَى الكٰفِرينَ(50)
اور واقعی یہ کافروں کے لئے (موجبِ) حسرت ہے،(50)
وَإِنَّهُ لَحَقُّ اليَقينِ(51)
اور بے شک یہ حق الیقین ہے،(51)
فَسَبِّح بِاسمِ رَبِّكَ العَظيمِ(52)
سو (اے حبیبِ مکرّم!) آپ اپنے عظمت والے رب کے نام کی تسبیح کرتے رہیں،(52)