Al-Hajj( الحج)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يٰأَيُّهَا النّاسُ اتَّقوا رَبَّكُم ۚ إِنَّ زَلزَلَةَ السّاعَةِ شَيءٌ عَظيمٌ(1)
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے،(1)
يَومَ تَرَونَها تَذهَلُ كُلُّ مُرضِعَةٍ عَمّا أَرضَعَت وَتَضَعُ كُلُّ ذاتِ حَملٍ حَملَها وَتَرَى النّاسَ سُكٰرىٰ وَما هُم بِسُكٰرىٰ وَلٰكِنَّ عَذابَ اللَّهِ شَديدٌ(2)
جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی (ماں) اس (بچی) کو بھول جائے گی جسے وہ دودھ پلا رہی تھی اور ہر حمل والی عورت اپنا حمل گرا دے گی اور (اے دیکھنے والے!) تو لوگوں کو نشہ (کی حالت) میں دیکھے گا حالانکہ وہ (فی الحقیقت) نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن اﷲ کا عذاب (ہی اتنا) سخت ہوگا (کہ ہر شخص حواس باختہ ہو جائے گا)،(2)
وَمِنَ النّاسِ مَن يُجٰدِلُ فِى اللَّهِ بِغَيرِ عِلمٍ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيطٰنٍ مَريدٍ(3)
اور کچھ لوگ (ایسے) ہیں جو اﷲ کے بارے میں بغیر علم و دانش کے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں،(3)
كُتِبَ عَلَيهِ أَنَّهُ مَن تَوَلّاهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَيَهديهِ إِلىٰ عَذابِ السَّعيرِ(4)
جس (شیطان) کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو شخص اسے دوست رکھے گا سو وہ اسے گمراہ کر دے گا اور اسے دوزخ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا،(4)
يٰأَيُّهَا النّاسُ إِن كُنتُم فى رَيبٍ مِنَ البَعثِ فَإِنّا خَلَقنٰكُم مِن تُرابٍ ثُمَّ مِن نُطفَةٍ ثُمَّ مِن عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُضغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَيرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُم ۚ وَنُقِرُّ فِى الأَرحامِ ما نَشاءُ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ نُخرِجُكُم طِفلًا ثُمَّ لِتَبلُغوا أَشُدَّكُم ۖ وَمِنكُم مَن يُتَوَفّىٰ وَمِنكُم مَن يُرَدُّ إِلىٰ أَرذَلِ العُمُرِ لِكَيلا يَعلَمَ مِن بَعدِ عِلمٍ شَيـًٔا ۚ وَتَرَى الأَرضَ هامِدَةً فَإِذا أَنزَلنا عَلَيهَا الماءَ اهتَزَّت وَرَبَت وَأَنبَتَت مِن كُلِّ زَوجٍ بَهيجٍ(5)
اے لوگو! اگر تمہیں (مرنے کے بعد) جی اٹھنے میں شک ہے تو (اپنی تخلیق و ارتقاء پر غور کرو) کہ ہم نے تمہاری تخلیق (کی کیمیائی ابتداء) مٹی سے کی پھر (حیاتیاتی ابتداء) ایک تولیدی قطرہ سے پھر (رِحمِ مادر کے اندر جونک کی صورت میں) معلق وجود سے پھر ایک (ایسے) لوتھڑے سے جو دانتوں سے چبایا ہوا لگتا ہے، جس میں بعض اعضاء کی ابتدائی تخلیق نمایاں ہو چکی ہے اور بعض (اعضاء) کی تخلیق ابھی عمل میں نہیں آئی تاکہ ہم تمہارے لئے (اپنی قدرت اور اپنے کلام کی حقانیت) ظاہر کر دیں، اور ہم جسے چاہتے ہیں رحموں میں مقررہ مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر ہم تمہیں بچہ بنا کر نکالتے ہیں، پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، اور تم میں سے وہ بھی ہیں جو (جلد) وفات پا جاتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو نہایت ناکارہ عمر تک لوٹائے جاتے ہیں تاکہ وہ (شخص یہ منظر بھی دیکھ لے کہ) سب کچھ جان لینے کے بعد (اب پھر) کچھ (بھی) نہیں جانتا، اور تو زمین کو بالکل خشک (مُردہ) دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو اس میں تازگی و شادابی کی جنبش آجاتی ہے اور وہ پھولنے بڑھنے لگتی ہے اور خوش نما نباتات میں سے ہر نوع کے جوڑے اگاتی ہے،(5)
ذٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الحَقُّ وَأَنَّهُ يُحىِ المَوتىٰ وَأَنَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(6)
یہ (سب کچھ) اس لئے (ہوتا رہتا) ہے کہ اﷲ ہی سچا (خالق اور رب) ہے اور بیشک وہی مُردوں (بے جان) کو زندہ (جان دار) کرتا ہے، اور یقینًا وہی ہر چیز پر بڑا قادر ہے،(6)
وَأَنَّ السّاعَةَ ءاتِيَةٌ لا رَيبَ فيها وَأَنَّ اللَّهَ يَبعَثُ مَن فِى القُبورِ(7)
اور بیشک قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور یقیناً اﷲ ان لوگوں کو زندہ کر کے اٹھا دے گا جو قبروں میں ہوں گے،(7)
وَمِنَ النّاسِ مَن يُجٰدِلُ فِى اللَّهِ بِغَيرِ عِلمٍ وَلا هُدًى وَلا كِتٰبٍ مُنيرٍ(8)
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اﷲ (کی ذات و صفات اور قدرتوں) کے بارے میں جھگڑا کرتے رہتے ہیں بغیر علم و دانش کے اور بغیر کسی ہدایت و دلیل کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے (جو آسمان سے اتری ہو)،(8)
ثانِىَ عِطفِهِ لِيُضِلَّ عَن سَبيلِ اللَّهِ ۖ لَهُ فِى الدُّنيا خِزىٌ ۖ وَنُذيقُهُ يَومَ القِيٰمَةِ عَذابَ الحَريقِ(9)
اپنی گردن کو (تکبّر سے) مروڑے ہوئے تاکہ (دوسروں کو بھی) اﷲ کی راہ سے بہکا دے، اس کے لئے دنیا میں (بھی) رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے جلا دینے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے،(9)
ذٰلِكَ بِما قَدَّمَت يَداكَ وَأَنَّ اللَّهَ لَيسَ بِظَلّٰمٍ لِلعَبيدِ(10)
یہ تیرے ان اعمال کے باعث ہے جو تیرے ہاتھ آگے بھیج چکے تھے اور بیشک اﷲ اپنے بندوں پر بالکل ظلم کرنے والا نہیں ہے،(10)
وَمِنَ النّاسِ مَن يَعبُدُ اللَّهَ عَلىٰ حَرفٍ ۖ فَإِن أَصابَهُ خَيرٌ اطمَأَنَّ بِهِ ۖ وَإِن أَصابَتهُ فِتنَةٌ انقَلَبَ عَلىٰ وَجهِهِ خَسِرَ الدُّنيا وَالءاخِرَةَ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الخُسرانُ المُبينُ(11)
اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو (بالکل دین کے) کنارے پر (رہ کر) اﷲ کی عبادت کرتا ہے، پس اگر اسے کوئی (دنیاوی) بھلائی پہنچتی ہے تو وہ اس (دین) سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش پہنچتی ہے تو اپنے منہ کے بل (دین سے) پلٹ جاتا ہے، اس نے دنیا میں (بھی) نقصان اٹھایا اور آخرت میں (بھی)، یہی تو واضح (طور پر) بڑا خسارہ ہے،(11)
يَدعوا مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُ وَما لا يَنفَعُهُ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ البَعيدُ(12)
وہ (شخص) اﷲ کو چھوڑ کر اس (بت) کی عبادت کرتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچا سکے اور نہ ہی اسے نفع پہنچا سکے، یہی تو (بہت) دور کی گمراہی ہے،(12)
يَدعوا لَمَن ضَرُّهُ أَقرَبُ مِن نَفعِهِ ۚ لَبِئسَ المَولىٰ وَلَبِئسَ العَشيرُ(13)
وہ اسے پوجتا ہے جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے، وہ کیا ہی برا مددگار ہے اور کیا ہی برا ساتھی ہے،(13)
إِنَّ اللَّهَ يُدخِلُ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَفعَلُ ما يُريدُ(14)
بیشک اﷲ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں رواں ہیں، یقیناً اﷲ جو ارادہ فرماتا ہے کر دیتا ہے،(14)
مَن كانَ يَظُنُّ أَن لَن يَنصُرَهُ اللَّهُ فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ فَليَمدُد بِسَبَبٍ إِلَى السَّماءِ ثُمَّ ليَقطَع فَليَنظُر هَل يُذهِبَنَّ كَيدُهُ ما يَغيظُ(15)
جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اﷲ اپنے (محبوب و برگزیدہ) رسول کی دنیا و آخرت میں ہرگز مدد نہیں کرے گا اسے چاہئے کہ (گھر کی) چھت سے ایک رسی باندھ کر لٹک جائے پھر (خود کو) پھانسی دے لے پھر دیکھے کیا اس کی یہ تدبیر اس (نصرتِ الٰہی) کو دور کر دیتی ہے جس پر غصہ کھا رہا ہے،(15)
وَكَذٰلِكَ أَنزَلنٰهُ ءايٰتٍ بَيِّنٰتٍ وَأَنَّ اللَّهَ يَهدى مَن يُريدُ(16)
اور اسی طرح ہم نے اس (پورے قرآن) کو روشن دلائل کی صورت میں نازل فرمایا ہے اور بیشک اﷲ جسے ارادہ فرماتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے،(16)
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَالَّذينَ هادوا وَالصّٰبِـٔينَ وَالنَّصٰرىٰ وَالمَجوسَ وَالَّذينَ أَشرَكوا إِنَّ اللَّهَ يَفصِلُ بَينَهُم يَومَ القِيٰمَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ شَهيدٌ(17)
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور ستارہ پرست اور نصارٰی (عیسائی) اور آتش پرست اور جو مشرک ہوئے، یقیناً اﷲ قیامت کے دن ان (سب) کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ بیشک اﷲ ہر چیز کا مشاہدہ فرما رہا ہے،(17)
أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسجُدُ لَهُ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَمَن فِى الأَرضِ وَالشَّمسُ وَالقَمَرُ وَالنُّجومُ وَالجِبالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوابُّ وَكَثيرٌ مِنَ النّاسِ ۖ وَكَثيرٌ حَقَّ عَلَيهِ العَذابُ ۗ وَمَن يُهِنِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن مُكرِمٍ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَفعَلُ ما يَشاءُ ۩(18)
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اﷲ ہی کے لئے (وہ ساری مخلوق) سجدہ ریز ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج (بھی) اور چاند (بھی) اور ستارے (بھی) اور پہاڑ (بھی) اور درخت (بھی) اور جانور (بھی) اور بہت سے انسان (بھی)، اور بہت سے (انسان) ایسے بھی ہیں جن پر (ان کے کفر و شرک کے باعث) عذاب ثابت ہو چکا ہے، اور اﷲ جسے ذلیل کر دے تو اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے۔ بیشک اﷲ جو چاہتا ہے کر دیتا ہے،(18)
۞ هٰذانِ خَصمانِ اختَصَموا فى رَبِّهِم ۖ فَالَّذينَ كَفَروا قُطِّعَت لَهُم ثِيابٌ مِن نارٍ يُصَبُّ مِن فَوقِ رُءوسِهِمُ الحَميمُ(19)
یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں پس جو کافر ہوگئے ہیں ان کے لئے آتشِ دوزخ کے کپڑے کاٹ (کر، سِی) دیئے گئے ہیں۔ ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا،(19)
يُصهَرُ بِهِ ما فى بُطونِهِم وَالجُلودُ(20)
جس سے ان کے شکموں میں جو کچھ ہے پگھل جائے گا اور (ان کی) کھالیں بھی،(20)
وَلَهُم مَقٰمِعُ مِن حَديدٍ(21)
اور ان (کے سروں پر مارنے) کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے،(21)
كُلَّما أَرادوا أَن يَخرُجوا مِنها مِن غَمٍّ أُعيدوا فيها وَذوقوا عَذابَ الحَريقِ(22)
وہ جب بھی شدّتِ تکلیف سے وہاں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے (تو) اس میں واپس لوٹا دیئے جائیں گے اور (ان سے کہا جائے گا:) سخت آگ کے عذاب کا مزہ چکھو،(22)
إِنَّ اللَّهَ يُدخِلُ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ يُحَلَّونَ فيها مِن أَساوِرَ مِن ذَهَبٍ وَلُؤلُؤًا ۖ وَلِباسُهُم فيها حَريرٌ(23)
بیشک اﷲ ان لوگوں کو جو ایمان لے آئے ہیں اور نیک اعمال انجام دیتے ہیں جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا، اور وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا،(23)
وَهُدوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ القَولِ وَهُدوا إِلىٰ صِرٰطِ الحَميدِ(24)
اور انہیں (دنیا میں) پاکیزہ قول کی ہدایت کی گئی اور انہیں (اسلام کے) پسندیدہ راستہ کی طرف رہنمائی کی گئی،(24)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا وَيَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ وَالمَسجِدِ الحَرامِ الَّذى جَعَلنٰهُ لِلنّاسِ سَواءً العٰكِفُ فيهِ وَالبادِ ۚ وَمَن يُرِد فيهِ بِإِلحادٍ بِظُلمٍ نُذِقهُ مِن عَذابٍ أَليمٍ(25)
بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور (دوسروں کو) اﷲ کی راہ سے اور اس مسجدِ حرام (کعبۃ اﷲ) سے روکتے ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لئے یکساں بنایا ہے اس میں وہاں کے باسی اور پردیسی (میں کوئی فرق نہیں)، اور جو شخص اس میں ناحق طریقہ سے کج روی (یعنی مقررہ حدود و حقوق کی خلاف ورزی) کا ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے،(25)
وَإِذ بَوَّأنا لِإِبرٰهيمَ مَكانَ البَيتِ أَن لا تُشرِك بى شَيـًٔا وَطَهِّر بَيتِىَ لِلطّائِفينَ وَالقائِمينَ وَالرُّكَّعِ السُّجودِ(26)
اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اﷲ (یعنی خانہ کعبہ کی تعمیر) کی جگہ کا تعین کر دیا (اور انہیں حکم فرمایا) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا اور میرے گھر کو (تعمیر کرنے کے بعد) طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کر نے والوں اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک و صاف رکھنا،(26)
وَأَذِّن فِى النّاسِ بِالحَجِّ يَأتوكَ رِجالًا وَعَلىٰ كُلِّ ضامِرٍ يَأتينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَميقٍ(27)
اور تم لوگوں میں حج کا بلند آواز سے اعلان کرو وہ تمہارے پاس پیدل اور تمام دبلے اونٹوں پر (سوار) حاضر ہو جائیں گے جو دور دراز کے راستوں سے آتے ہیں،(27)
لِيَشهَدوا مَنٰفِعَ لَهُم وَيَذكُرُوا اسمَ اللَّهِ فى أَيّامٍ مَعلومٰتٍ عَلىٰ ما رَزَقَهُم مِن بَهيمَةِ الأَنعٰمِ ۖ فَكُلوا مِنها وَأَطعِمُوا البائِسَ الفَقيرَ(28)
تاکہ وہ اپنے فوائد (بھی) پائیں اور (قربانی کے) مقررہ دنوں کے اندر اﷲ نے جو مویشی چوپائے ان کو بخشے ہیں ان پر (ذبح کے وقت) اﷲ کے نام کا ذکر بھی کریں، پس تم اس میں سے خود (بھی) کھاؤ اور خستہ حال محتاج کو (بھی) کھلاؤ،(28)
ثُمَّ ليَقضوا تَفَثَهُم وَليوفوا نُذورَهُم وَليَطَّوَّفوا بِالبَيتِ العَتيقِ(29)
پھر انہیں چاہئے کہ (احرام سے نکلتے ہوئے بال اور ناخن کٹوا کر) اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں (یا بقیہ مناسک) پوری کریں اور (اﷲ کے) قدیم گھر (خانہ کعبہ) کا طوافِ (زیارت) کریں،(29)
ذٰلِكَ وَمَن يُعَظِّم حُرُمٰتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيرٌ لَهُ عِندَ رَبِّهِ ۗ وَأُحِلَّت لَكُمُ الأَنعٰمُ إِلّا ما يُتلىٰ عَلَيكُم ۖ فَاجتَنِبُوا الرِّجسَ مِنَ الأَوثٰنِ وَاجتَنِبوا قَولَ الزّورِ(30)
یہی (حکم) ہے، اور جو شخص اﷲ (کی بارگاہ) سے عزت یافتہ چیزوں کی تعظیم کرتا ہے تو وہ اس کے رب کے ہاں اس کے لئے بہتر ہے، اور تمہارے لئے (سب) مویشی (چوپائے) حلال کر دیئے گئے ہیں سوائے ان کے جن کی ممانعت تمہیں پڑھ کر سنائی گئی ہے سو تم بتوں کی پلیدی سے بچا کرو اور جھوٹی بات سے پرہیز کیا کرو،(30)
حُنَفاءَ لِلَّهِ غَيرَ مُشرِكينَ بِهِ ۚ وَمَن يُشرِك بِاللَّهِ فَكَأَنَّما خَرَّ مِنَ السَّماءِ فَتَخطَفُهُ الطَّيرُ أَو تَهوى بِهِ الرّيحُ فى مَكانٍ سَحيقٍ(31)
صرف اﷲ کے ہوکر رہو اس کے ساتھ (کسی کو) شریک نہ ٹھہراتے ہوئے، اور جو کوئی اﷲ کے ساتھ شرک کرتاہے تو گویا وہ (ایسے ہے جیسے) آسمان سے گر پڑے پھر اس کو پرندے اچک لے جائیں یا ہوا اس کو کسی دور کی جگہ میں نیچے جا پھینکے،(31)
ذٰلِكَ وَمَن يُعَظِّم شَعٰئِرَ اللَّهِ فَإِنَّها مِن تَقوَى القُلوبِ(32)
یہی (حکم) ہے، اور جو شخص اﷲ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے (یعنی ان جانداروں، یادگاروں، مقامات، احکام اور مناسک وغیرہ کی تعظیم جو اﷲ یا اﷲ والوں کے ساتھ کسی اچھی نسبت یا تعلق کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے ہیں) تو یہ (تعظیم) دلوں کے تقوٰی میں سے ہے (یہ تعظیم وہی لوگ بجا لاتے ہیں جن کے دلوں کو تقوٰی نصیب ہوگیا ہو)،(32)
لَكُم فيها مَنٰفِعُ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّها إِلَى البَيتِ العَتيقِ(33)
تمہارے لئے ان (قربانی کے جانوروں) میں مقررہ مدت تک فوائد ہیں پھر انہیں قدیم گھر (خانہ کعبہ) کی طرف (ذبح کے لئے) پہنچنا ہے،(33)
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلنا مَنسَكًا لِيَذكُرُوا اسمَ اللَّهِ عَلىٰ ما رَزَقَهُم مِن بَهيمَةِ الأَنعٰمِ ۗ فَإِلٰهُكُم إِلٰهٌ وٰحِدٌ فَلَهُ أَسلِموا ۗ وَبَشِّرِ المُخبِتينَ(34)
اور ہم نے ہر امت کے لئے ایک قربانی مقرر کر دی ہے تاکہ وہ ان مویشی چوپایوں پر جو اﷲ نے انہیں عنایت فرمائے ہیں (ذبح کے وقت) اﷲ کا نام لیں، سو تمہارا معبود ایک (ہی) معبود ہے پس تم اسی کے فرمانبردار بن جاؤ، اور (اے حبیب!) عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں،(34)
الَّذينَ إِذا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَت قُلوبُهُم وَالصّٰبِرينَ عَلىٰ ما أَصابَهُم وَالمُقيمِى الصَّلوٰةِ وَمِمّا رَزَقنٰهُم يُنفِقونَ(35)
(یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب اﷲ کا ذکر کیا جاتا ہے (تو) ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور جو مصیبتیں انہیں پہنچتی ہیں ان پر صبر کرتے ہیں اور نماز قائم رکھنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں،(35)
وَالبُدنَ جَعَلنٰها لَكُم مِن شَعٰئِرِ اللَّهِ لَكُم فيها خَيرٌ ۖ فَاذكُرُوا اسمَ اللَّهِ عَلَيها صَوافَّ ۖ فَإِذا وَجَبَت جُنوبُها فَكُلوا مِنها وَأَطعِمُوا القانِعَ وَالمُعتَرَّ ۚ كَذٰلِكَ سَخَّرنٰها لَكُم لَعَلَّكُم تَشكُرونَ(36)
اور قربانی کے بڑے جانوروں (یعنی اونٹ اور گائے وغیرہ) کو ہم نے تمہارے لئے اﷲ کی نشانیوں میں سے بنا دیا ہے ان میں تمہارے لئے بھلائی ہے پس تم (انہیں) قطار میں کھڑا کر کے (نیزہ مار کر نحر کے وقت) ان پر اﷲ کا نام لو، پھر جب وہ اپنے پہلو کے بل گر جائیں تو تم خود (بھی) اس میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھے رہنے والوں کو اور سوال کرنے والے (محتاجوں) کو (بھی) کھلاؤ۔ اس طرح ہم نے انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم شکر بجا لاؤ،(36)
لَن يَنالَ اللَّهَ لُحومُها وَلا دِماؤُها وَلٰكِن يَنالُهُ التَّقوىٰ مِنكُم ۚ كَذٰلِكَ سَخَّرَها لَكُم لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلىٰ ما هَدىٰكُم ۗ وَبَشِّرِ المُحسِنينَ(37)
ہرگز نہ (تو) اﷲ کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون مگر اسے تمہاری طرف سے تقوٰی پہنچتا ہے، اس طرح (اﷲ نے) انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم (وقتِ ذبح) اﷲ کی تکبیر کہو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی ہے، اور آپ نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں،(37)
۞ إِنَّ اللَّهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذينَ ءامَنوا ۗ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ كُلَّ خَوّانٍ كَفورٍ(38)
بیشک اﷲ صاحبِ ایمان لوگوں سے (دشمنوں کا فتنہ و شر) دور کرتا رہتا ہے۔ بیشک اﷲ کسی خائن (اور) ناشکرے کو پسند نہیں کرتا،(38)
أُذِنَ لِلَّذينَ يُقٰتَلونَ بِأَنَّهُم ظُلِموا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلىٰ نَصرِهِم لَقَديرٌ(39)
ان لوگوں کو (جہاد کی) اجازت دے دی گئی ہے جن سے (ناحق) جنگ کی جارہی ہے اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بیشک اﷲ ان (مظلوموں) کی مدد پر بڑا قادر ہے،(39)
الَّذينَ أُخرِجوا مِن دِيٰرِهِم بِغَيرِ حَقٍّ إِلّا أَن يَقولوا رَبُّنَا اللَّهُ ۗ وَلَولا دَفعُ اللَّهِ النّاسَ بَعضَهُم بِبَعضٍ لَهُدِّمَت صَوٰمِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوٰتٌ وَمَسٰجِدُ يُذكَرُ فيهَا اسمُ اللَّهِ كَثيرًا ۗ وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزيزٌ(40)
(یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اﷲ ہے (یعنی انہوں نے باطل کی فرمانروائی تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا)، اور اگر اﷲ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ (جہاد و انقلابی جد و جہد کی صورت میں) ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں (یعنی تمام ادیان کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہیں) مسمار اور ویران کر دی جاتیں جن میں کثرت سے اﷲ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے، اور جو شخص اﷲ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقیناً اﷲ اس کی مدد فرماتا ہے۔ بیشک اﷲ ضرور (بڑی) قوت والا (سب پر) غالب ہے (گویا حق اور باطل کے تضاد و تصادم کے انقلابی عمل سے ہی حق کی بقا ممکن ہے)،(40)
الَّذينَ إِن مَكَّنّٰهُم فِى الأَرضِ أَقامُوا الصَّلوٰةَ وَءاتَوُا الزَّكوٰةَ وَأَمَروا بِالمَعروفِ وَنَهَوا عَنِ المُنكَرِ ۗ وَلِلَّهِ عٰقِبَةُ الأُمورِ(41)
(یہ اہلِ حق) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دے دیں (تو) وہ نماز (کا نظام) قائم کریں اور زکوٰۃ کی ادائیگی (کا انتظام) کریں اور (پورے معاشرے میں نیکی اور) بھلائی کا حکم کریں اور (لوگوں کو) برائی سے روک دیں، اور سب کاموں کا انجام اﷲ ہی کے اختیار میں ہے،(41)
وَإِن يُكَذِّبوكَ فَقَد كَذَّبَت قَبلَهُم قَومُ نوحٍ وَعادٌ وَثَمودُ(42)
اور اگر یہ (کفار) آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ا ن سے پہلے قومِ نوح اور عاد و ثمود نے بھی (اپنے رسولوں کو) جھٹلایا تھا،(42)
وَقَومُ إِبرٰهيمَ وَقَومُ لوطٍ(43)
اور قومِ ابراہیم اور قومِ لوط نے (بھی)،(43)
وَأَصحٰبُ مَديَنَ ۖ وَكُذِّبَ موسىٰ فَأَملَيتُ لِلكٰفِرينَ ثُمَّ أَخَذتُهُم ۖ فَكَيفَ كانَ نَكيرِ(44)
اور باشندگانِ مدین نے (بھی جھٹلایا تھا) اور موسٰی (علیہ السلام) کو بھی جھٹلایا گیا سو میں (ان سب) کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر میں نے انہیں پکڑ لیا، پھر (بتائیے) میرا عذاب کیسا تھا،(44)
فَكَأَيِّن مِن قَريَةٍ أَهلَكنٰها وَهِىَ ظالِمَةٌ فَهِىَ خاوِيَةٌ عَلىٰ عُروشِها وَبِئرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصرٍ مَشيدٍ(45)
پھر کتنی ہی (ایسی) بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں پس وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور (ان کی ہلاکت سے) کتنے کنویں بے کار (ہوگئے) اور کتنے مضبوط محل اجڑے پڑے (ہیں)،(45)
أَفَلَم يَسيروا فِى الأَرضِ فَتَكونَ لَهُم قُلوبٌ يَعقِلونَ بِها أَو ءاذانٌ يَسمَعونَ بِها ۖ فَإِنَّها لا تَعمَى الأَبصٰرُ وَلٰكِن تَعمَى القُلوبُ الَّتى فِى الصُّدورِ(46)
تو کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی کہ (شاید ان کھنڈرات کو دیکھ کر) ان کے دل (ایسے) ہو جاتے جن سے وہ سمجھ سکتے یا کان (ایسے) ہو جاتے جن سے وہ (حق کی بات) سن سکتے، تو حقیقت یہ ہے کہ (ایسوں کی) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں،(46)
وَيَستَعجِلونَكَ بِالعَذابِ وَلَن يُخلِفَ اللَّهُ وَعدَهُ ۚ وَإِنَّ يَومًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلفِ سَنَةٍ مِمّا تَعُدّونَ(47)
اور یہ آپ سے عذاب میں جلدی کے خواہش مند ہیں اور اﷲ ہرگز اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہ کرے گا، اور (جب عذاب کا وقت آئے گا) تو (عذاب کا) ایک دن آپ کے رب کے ہاں ایک ہزار سال کی مانند ہے (اس حساب سے) جو تم شمار کرتے ہو،(47)
وَكَأَيِّن مِن قَريَةٍ أَملَيتُ لَها وَهِىَ ظالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذتُها وَإِلَىَّ المَصيرُ(48)
اور کتنی ہی بستیاں (ایسی) ہیں جن کو میں نے مہلت دی حالانکہ وہ ظالم تھیں پھر میں نے انہیں (عذاب کی) گرفت میں لے لیا، اور (ہر کسی کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے،(48)
قُل يٰأَيُّهَا النّاسُ إِنَّما أَنا۠ لَكُم نَذيرٌ مُبينٌ(49)
فرما دیجئے: اے لوگو! میں تو محض تمہارے لئے (عذابِ الٰہی کا) ڈر سنانے والا ہوں،(49)
فَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُم مَغفِرَةٌ وَرِزقٌ كَريمٌ(50)
پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لئے مغفرت ہے اور (مزید) بزرگی والی عطا ہے،(50)
وَالَّذينَ سَعَوا فى ءايٰتِنا مُعٰجِزينَ أُولٰئِكَ أَصحٰبُ الجَحيمِ(51)
اور جو لوگ ہماری آیتوں (کے ردّ) میں کوشاں رہتے ہیں اس خیال سے کہ (ہمیں) عاجز کردیں گے وہی لوگ اہلِ دوزخ ہیں،(51)
وَما أَرسَلنا مِن قَبلِكَ مِن رَسولٍ وَلا نَبِىٍّ إِلّا إِذا تَمَنّىٰ أَلقَى الشَّيطٰنُ فى أُمنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ ما يُلقِى الشَّيطٰنُ ثُمَّ يُحكِمُ اللَّهُ ءايٰتِهِ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ(52)
اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ کوئی نبی مگر (سب کے ساتھ یہ واقعہ گزرا کہ) جب اس (رسول یا نبی) نے (لوگوں پر کلامِ الٰہی) پڑھا (تو) شیطان نے (لوگوں کے ذہنوں میں) اس (نبی کے) پڑھے ہوئے (یعنی تلاوت شدہ) کلام میں (اپنی طرف سے باطل شبہات اور فاسد خیالات کو) ملا دیا، سو شیطان جو (وسوسے سننے والوں کے ذہنوں میں) ڈالتا ہے اﷲ انہیں زائل فرما دیتا ہے پھر اللہ اپنی آیتوں کو (اہلِ ایمان کے دلوں میں) نہایت مضبوط کر دیتا ہے، اور اﷲ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،(52)
لِيَجعَلَ ما يُلقِى الشَّيطٰنُ فِتنَةً لِلَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ وَالقاسِيَةِ قُلوبُهُم ۗ وَإِنَّ الظّٰلِمينَ لَفى شِقاقٍ بَعيدٍ(53)
(یہ اس لئے ہوتا ہے) تاکہ اﷲ ان (باطل خیالات اور فاسد شبہات) کو جو شیطان (لوگوں کے ذہنوں میں) ڈالتا ہے ایسے لوگوں کے لئے آزمائش بنا دے جن کے دلوں میں (منافقت کی) بیماری ہے اور جن لوگوں کے دل (کفر و عناد کے باعث) سخت ہیں، اور بیشک ظالم لوگ بڑی شدید مخالفت میں مبتلا ہیں،(53)
وَلِيَعلَمَ الَّذينَ أوتُوا العِلمَ أَنَّهُ الحَقُّ مِن رَبِّكَ فَيُؤمِنوا بِهِ فَتُخبِتَ لَهُ قُلوبُهُم ۗ وَإِنَّ اللَّهَ لَهادِ الَّذينَ ءامَنوا إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(54)
اور تاکہ وہ لوگ جنہیں علم (صحیح) عطا کیا گیا ہے جان لیں کہ وہی (وحی جس کی پیغمبر نے تلاوت کی ہے) آپ کے رب کی طرف سے (مَبنی) برحق ہے سو وہ اسی پر ایمان لائیں (اور شیطانی وسوسوں کو ردّ کردیں) اور ان کے دل اس (رب) کے لئے عاجزی کریں، اور بیشک اﷲ مومنوں کو ضرور سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرمانے والا ہے،(54)
وَلا يَزالُ الَّذينَ كَفَروا فى مِريَةٍ مِنهُ حَتّىٰ تَأتِيَهُمُ السّاعَةُ بَغتَةً أَو يَأتِيَهُم عَذابُ يَومٍ عَقيمٍ(55)
اور کافر لوگ ہمیشہ اس (قرآن) کے حوالے سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ اچانک ان پر قیامت آپہنچے یا اس دن کا عذاب آجائے جس سے نجات کا کوئی امکان نہیں،(55)
المُلكُ يَومَئِذٍ لِلَّهِ يَحكُمُ بَينَهُم ۚ فَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فى جَنّٰتِ النَّعيمِ(56)
حکمرانی اس دن صرف اﷲ ہی کی ہوگی۔ وہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے (وہ) نعمت کے باغات میں (قیام پذیر) ہوں گے،(56)
وَالَّذينَ كَفَروا وَكَذَّبوا بِـٔايٰتِنا فَأُولٰئِكَ لَهُم عَذابٌ مُهينٌ(57)
اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو انہی لوگوں کے لئے ذلت آمیز عذاب ہوگا،(57)
وَالَّذينَ هاجَروا فى سَبيلِ اللَّهِ ثُمَّ قُتِلوا أَو ماتوا لَيَرزُقَنَّهُمُ اللَّهُ رِزقًا حَسَنًا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ خَيرُ الرّٰزِقينَ(58)
اور جن لوگوں نے اﷲ کی راہ میں (وطن سے) ہجرت کی پھر قتل کر دیئے گئے یا (راہِ حق کی مصیبتیں جھیلتے جھیلتے) مرگئے تو اﷲ انہیں ضرور رزقِ حسن (یعنی اُخروی عطاؤں) کی روزی بخشے گا، اور بیشک اﷲ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے،(58)
لَيُدخِلَنَّهُم مُدخَلًا يَرضَونَهُ ۗ وَإِنَّ اللَّهَ لَعَليمٌ حَليمٌ(59)
وہ ضرور انہیں اس جگہ (یعنی مقامِ رضوان میں) داخل فرمائے گا جس سے وہ راضی ہو جائیں گے، اور بیشک اﷲ خوب جاننے والا بُردبار ہے،(59)
۞ ذٰلِكَ وَمَن عاقَبَ بِمِثلِ ما عوقِبَ بِهِ ثُمَّ بُغِىَ عَلَيهِ لَيَنصُرَنَّهُ اللَّهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفورٌ(60)
(حکم) یہی ہے، اور جس شخص نے اتنا ہی بدلہ لیا جتنی اسے اذیت دی گئی تھی پھر اس شخص پر زیادتی کی جائے تو اﷲ ضرور اس کی مدد فرمائے گا۔ بیشک اﷲ درگزر فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہے،(60)
ذٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يولِجُ الَّيلَ فِى النَّهارِ وَيولِجُ النَّهارَ فِى الَّيلِ وَأَنَّ اللَّهَ سَميعٌ بَصيرٌ(61)
یہ اس وجہ سے ہے کہ اﷲ رات کو دن میں داخل فرماتا ہے اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے اور بیشک اﷲ خوب سننے والا دیکھنے والا ہے،(61)
ذٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الحَقُّ وَأَنَّ ما يَدعونَ مِن دونِهِ هُوَ البٰطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ العَلِىُّ الكَبيرُ(62)
یہ اس لئے کہ اﷲ ہی حق ہے اور بیشک وہ (کفار) اس کے سوا جو کچھ (بھی) پوجتے ہیں وہ باطل ہے اور یقیناً اﷲ ہی بہت بلند بہت بڑا ہے،(62)
أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَتُصبِحُ الأَرضُ مُخضَرَّةً ۗ إِنَّ اللَّهَ لَطيفٌ خَبيرٌ(63)
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اﷲ آسمان کی جانب سے پانی اتارتا ہے تو زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ بیشک اﷲ مہربان (اور) بڑا خبردار ہے،(63)
لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الغَنِىُّ الحَميدُ(64)
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور بیشک اﷲ ہی بے نیاز قابلِ ستائش ہے،(64)
أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم ما فِى الأَرضِ وَالفُلكَ تَجرى فِى البَحرِ بِأَمرِهِ وَيُمسِكُ السَّماءَ أَن تَقَعَ عَلَى الأَرضِ إِلّا بِإِذنِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِالنّاسِ لَرَءوفٌ رَحيمٌ(65)
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اﷲ نے جو کچھ زمین میں ہے تمہارے لئے مسخر فرما دیا ہے اور کشتیوں کو (بھی) جو اس کے اَمر (یعنی قانون) سے سمندر (و دریا) میں چلتی ہیں، اور آسمان (یعنی خلائی و فضائی کرّوں) کو زمین پر گرنے سے (ایک آفاقی نظام کے ذریعہ) تھامے ہوئے ہے مگر اسی کے حکم سے (جب وہ چاہے گا آپس میں ٹکرا جائیں گے)۔ بیشک اﷲ تمام انسانوں کے ساتھ نہایت شفقت فرمانے والا بڑا مہربان ہے،(65)
وَهُوَ الَّذى أَحياكُم ثُمَّ يُميتُكُم ثُمَّ يُحييكُم ۗ إِنَّ الإِنسٰنَ لَكَفورٌ(66)
اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں (دوبارہ) زندگی دے گا۔ بیشک انسان ہی بڑا ناشکر گزار ہے،(66)
لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلنا مَنسَكًا هُم ناسِكوهُ ۖ فَلا يُنٰزِعُنَّكَ فِى الأَمرِ ۚ وَادعُ إِلىٰ رَبِّكَ ۖ إِنَّكَ لَعَلىٰ هُدًى مُستَقيمٍ(67)
ہم نے ہر ایک امت کے لئے (احکامِ شریعت یا عبادت و قربانی کی) ایک راہ مقرر کر دی ہے، انہیں اسی پر چلنا ہے، سو یہ لوگ آپ سے ہرگز (اﷲ کے) حکم میں جھگڑا نہ کریں، اور آپ اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں۔ بیشک آپ ہی سیدھی (راہِ) ہدایت پر ہیں،(67)
وَإِن جٰدَلوكَ فَقُلِ اللَّهُ أَعلَمُ بِما تَعمَلونَ(68)
اگر وہ آپ سے جھگڑا کریں تو آپ فرما دیجئے: اﷲ بہتر جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو،(68)
اللَّهُ يَحكُمُ بَينَكُم يَومَ القِيٰمَةِ فيما كُنتُم فيهِ تَختَلِفونَ(69)
اﷲ تمہارے درمیان قیامت کے دن ان تمام باتوں کا فیصلہ فرما دے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے تھے،(69)
أَلَم تَعلَم أَنَّ اللَّهَ يَعلَمُ ما فِى السَّماءِ وَالأَرضِ ۗ إِنَّ ذٰلِكَ فى كِتٰبٍ ۚ إِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسيرٌ(70)
کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اﷲ وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں ہے، بیشک یہ سب کتاب (لوحِ محفوظ) میں (درج) ہے، یقیناً یہ سب اﷲ پر (بہت) آسان ہے،(70)
وَيَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لَم يُنَزِّل بِهِ سُلطٰنًا وَما لَيسَ لَهُم بِهِ عِلمٌ ۗ وَما لِلظّٰلِمينَ مِن نَصيرٍ(71)
اور یہ لوگ اﷲ کے سوا ان (بتوں) کی پرستش کرتے ہیں جس کی اُس نے کوئی سند نہیں اتاری اور نہ (ہی) انہیں اس (بت پرستی کے انجام) کا کچھ علم ہے، اور (قیامت کے دن) ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا،(71)
وَإِذا تُتلىٰ عَلَيهِم ءايٰتُنا بَيِّنٰتٍ تَعرِفُ فى وُجوهِ الَّذينَ كَفَرُوا المُنكَرَ ۖ يَكادونَ يَسطونَ بِالَّذينَ يَتلونَ عَلَيهِم ءايٰتِنا ۗ قُل أَفَأُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِن ذٰلِكُمُ ۗ النّارُ وَعَدَهَا اللَّهُ الَّذينَ كَفَروا ۖ وَبِئسَ المَصيرُ(72)
اور جب ان (کافروں) پر ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں (تو) آپ ان کافروں کے چہروں میں ناپسندیدگی (و ناگواری کے آثار) صاف دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ عنقریب ان لوگوں پر جھپٹ پڑیں گے جو انہیں ہماری آیات پڑھ کر سنا رہے ہیں، آپ فرما دیجئے: (اے مضطرب ہونے والے کافرو!) کیا میں تمہیں اس سے (بھی) زیادہ تکلیف دہ چیز سے آگاہ کروں؟ (وہ دوزخ کی) آگ ہے، جس کا اﷲ نے کافروں سے وعدہ کر رکھا ہے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے،(72)
يٰأَيُّهَا النّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاستَمِعوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذينَ تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ لَن يَخلُقوا ذُبابًا وَلَوِ اجتَمَعوا لَهُ ۖ وَإِن يَسلُبهُمُ الذُّبابُ شَيـًٔا لا يَستَنقِذوهُ مِنهُ ۚ ضَعُفَ الطّالِبُ وَالمَطلوبُ(73)
اے لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے سو اسے غور سے سنو: بیشک جن (بتوں) کو تم اﷲ کے سوا پوجتے ہو وہ ہرگز ایک مکھی (بھی) پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ وہ سب اس (کام) کے لئے جمع ہو جائیں، اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین کر لے جائے (تو) وہ اس چیز کو اس (مکھی) سے چھڑا (بھی) نہیں سکتے، کتنا بے بس ہے طالب (عابد) بھی اور مطلوب (معبود) بھی،(73)
ما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدرِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزيزٌ(74)
ان (کافروں) نے اﷲ کی قدر نہ کی جیسی اس کی قدر کرنا چاہئے تھی۔ بیشک اﷲ بڑی قوت والا (ہر چیز پر) غالب ہے،(74)
اللَّهُ يَصطَفى مِنَ المَلٰئِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النّاسِ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَميعٌ بَصيرٌ(75)
اﷲ فرشتوں میں سے (بھی) اور انسانوں میں سے (بھی اپنا) پیغام پہنچانے والوں کو منتخب فرما لیتا ہے۔ بیشک اﷲ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے،(75)
يَعلَمُ ما بَينَ أَيديهِم وَما خَلفَهُم ۗ وَإِلَى اللَّهِ تُرجَعُ الأُمورُ(76)
وہ ان (چیزوں) کو (خوب) جانتا ہے جو ان کے آگے ہیں اور جو ان کے پیچھے ہیں، اور تمام کام اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں،(76)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اركَعوا وَاسجُدوا وَاعبُدوا رَبَّكُم وَافعَلُوا الخَيرَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ۩(77)
اے ایمان والو! تم رکوع کرتے رہو اور سجود کرتے رہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور (دیگر) نیک کام کئے جاؤ تاکہ تم فلاح پا سکو،(77)
وَجٰهِدوا فِى اللَّهِ حَقَّ جِهادِهِ ۚ هُوَ اجتَبىٰكُم وَما جَعَلَ عَلَيكُم فِى الدّينِ مِن حَرَجٍ ۚ مِلَّةَ أَبيكُم إِبرٰهيمَ ۚ هُوَ سَمّىٰكُمُ المُسلِمينَ مِن قَبلُ وَفى هٰذا لِيَكونَ الرَّسولُ شَهيدًا عَلَيكُم وَتَكونوا شُهَداءَ عَلَى النّاسِ ۚ فَأَقيمُوا الصَّلوٰةَ وَءاتُوا الزَّكوٰةَ وَاعتَصِموا بِاللَّهِ هُوَ مَولىٰكُم ۖ فَنِعمَ المَولىٰ وَنِعمَ النَّصيرُ(78)
اور اﷲ (کی محبت و طاعت اور اس کے دین کی اشاعت و اقامت) میں جہاد کرو جیسا کہ اس کے جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں منتخب فرما لیا ہے اور اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ (یہی) تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ہے۔ اس (اﷲ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے، اس سے پہلے (کی کتابوں میں) بھی اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ یہ رسولِ (آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہو جائیں اور تم بنی نوع انسان پر گواہ ہو جاؤ، پس (اس مرتبہ پر فائز رہنے کے لئے) تم نماز قائم کیا کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو اور اﷲ (کے دامن) کو مضبوطی سے تھامے رکھو، وہی تمہارا مددگار (و کارساز) ہے، پس وہ کتنا اچھا کارساز (ہے) اور کتنا اچھا مددگار ہے،(78)