Al-Ghaafir( غافر)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ حم(1)
حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،(1)
تَنزيلُ الكِتٰبِ مِنَ اللَّهِ العَزيزِ العَليمِ(2)
اِس کتاب کا اتارا جانا اللہ کی طرف سے ہے جو غالب ہے، خوب جاننے والا ہے،(2)
غافِرِ الذَّنبِ وَقابِلِ التَّوبِ شَديدِ العِقابِ ذِى الطَّولِ ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ إِلَيهِ المَصيرُ(3)
گناہ بخشنے والا (ہے) اور توبہ قبول فرمانے والا (ہے)، سخت عذاب دینے والا (ہے)، بڑا صاحبِ کرم ہے۔ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف (سب کو) لوٹنا ہے،(3)
ما يُجٰدِلُ فى ءايٰتِ اللَّهِ إِلَّا الَّذينَ كَفَروا فَلا يَغرُركَ تَقَلُّبُهُم فِى البِلٰدِ(4)
اللہ کی آیتوں میں کوئی جھگڑا نہیں کرتا سوائے اُن لوگوں کے جنہوں نے کفر کیا، سو اُن کا شہروں میں (آزادی سے) گھومنا پھرنا تمہیں مغالطہ میں نہ ڈال دے،(4)
كَذَّبَت قَبلَهُم قَومُ نوحٍ وَالأَحزابُ مِن بَعدِهِم ۖ وَهَمَّت كُلُّ أُمَّةٍ بِرَسولِهِم لِيَأخُذوهُ ۖ وَجٰدَلوا بِالبٰطِلِ لِيُدحِضوا بِهِ الحَقَّ فَأَخَذتُهُم ۖ فَكَيفَ كانَ عِقابِ(5)
اِن سے پہلے قومِ نوح نے اور اُن کے بعد (اور) بہت سی امتّوں نے (اپنے رسولوں کو) جھٹلایا اور ہر امّت نے اپنے رسول کے بارے میں ارادہ کیا کہ اسے پکڑ (کر قتل کر دیں یا قید کر) لیں اور بے بنیاد باتوں کے ذریعے جھگڑا کیا تاکہ اس (جھگڑے) کے ذریعے حق (کا اثر) زائل کر دیں سو میں نے انہیں (عذاب میں) پکڑ لیا، پس (میرا) عذاب کیسا تھا؟،(5)
وَكَذٰلِكَ حَقَّت كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذينَ كَفَروا أَنَّهُم أَصحٰبُ النّارِ(6)
اور اسی طرح آپ کے رب کا فرمان اُن لوگوں پر پورا ہو کر رہا جنہوں نے کفر کیا تھا بے شک وہ لوگ دوزخ والے ہیں،(6)
الَّذينَ يَحمِلونَ العَرشَ وَمَن حَولَهُ يُسَبِّحونَ بِحَمدِ رَبِّهِم وَيُؤمِنونَ بِهِ وَيَستَغفِرونَ لِلَّذينَ ءامَنوا رَبَّنا وَسِعتَ كُلَّ شَيءٍ رَحمَةً وَعِلمًا فَاغفِر لِلَّذينَ تابوا وَاتَّبَعوا سَبيلَكَ وَقِهِم عَذابَ الجَحيمِ(7)
جو (فرشتے) عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اُس کے اِرد گِرد ہیں وہ (سب) اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اہلِ ایمان کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں (یہ عرض کرتے ہیں کہ) اے ہمارے رب! تو (اپنی) رحمت اور علم سے ہر شے کا احاطہ فرمائے ہوئے ہے، پس اُن لوگوں کو بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستہ کی پیروی کی اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے،(7)
رَبَّنا وَأَدخِلهُم جَنّٰتِ عَدنٍ الَّتى وَعَدتَهُم وَمَن صَلَحَ مِن ءابائِهِم وَأَزوٰجِهِم وَذُرِّيّٰتِهِم ۚ إِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الحَكيمُ(8)
اے ہمارے رب! اور انہیں (ہمیشہ رہنے کے لئے) جنّاتِ عدن میں داخل فرما، جن کا تُو نے اُن سے وعدہ فرما رکھا ہے اور اُن کے آباء و اجداد سے اور اُن کی بیویوں سے اور اُن کی اولاد و ذرّیت سے جو نیک ہوں (انہیں بھی اُن کے ساتھ داخل فرما)، بے شک تو ہی غالب، بڑی حکمت والا ہے،(8)
وَقِهِمُ السَّيِّـٔاتِ ۚ وَمَن تَقِ السَّيِّـٔاتِ يَومَئِذٍ فَقَد رَحِمتَهُ ۚ وَذٰلِكَ هُوَ الفَوزُ العَظيمُ(9)
اور اُن کو برائیوں (کی سزا) سے بچا لے، اور جسے تو نے اُس دن برائیوں (کی سزا) سے بچا لیا سو بے شک تو نے اُس پر رحم فرمایا، اور یہی تو عظیم کامیابی ہے،(9)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا يُنادَونَ لَمَقتُ اللَّهِ أَكبَرُ مِن مَقتِكُم أَنفُسَكُم إِذ تُدعَونَ إِلَى الإيمٰنِ فَتَكفُرونَ(10)
بے شک جنہوں نے کفر کیا انہیں پکار کر کہا جائے گا: (آج) تم سے اللہ کی بیزاری، تمہاری جانوں سے تمہاری اپنی بیزاری سے زیادہ بڑھی ہوئی ہے، جبکہ تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے مگر تم انکار کرتے تھے،(10)
قالوا رَبَّنا أَمَتَّنَا اثنَتَينِ وَأَحيَيتَنَا اثنَتَينِ فَاعتَرَفنا بِذُنوبِنا فَهَل إِلىٰ خُروجٍ مِن سَبيلٍ(11)
وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو بار موت دی اور تو نے ہمیں دو بار (ہی) زندگی بخشی، سو (اب) ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں، پس کیا (عذاب سے بچ) نکلنے کی طرف کوئی راستہ ہے،(11)
ذٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذا دُعِىَ اللَّهُ وَحدَهُ كَفَرتُم ۖ وَإِن يُشرَك بِهِ تُؤمِنوا ۚ فَالحُكمُ لِلَّهِ العَلِىِّ الكَبيرِ(12)
(ان سے کہا جائے گا: نہیں) یہ (دائمی عذاب) اس وجہ سے ہے کہ جب اللہ کو تنہا پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان جاتے تھے، پس (اب) اللہ ہی کا حکم ہے جو (سب سے) بلند و بالا ہے،(12)
هُوَ الَّذى يُريكُم ءايٰتِهِ وَيُنَزِّلُ لَكُم مِنَ السَّماءِ رِزقًا ۚ وَما يَتَذَكَّرُ إِلّا مَن يُنيبُ(13)
وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق اتارتا ہے، اور نصیحت صرف وہی قبول کرتا ہے جو رجوع (الی اﷲ) میں رہتا ہے،(13)
فَادعُوا اللَّهَ مُخلِصينَ لَهُ الدّينَ وَلَو كَرِهَ الكٰفِرونَ(14)
پس تم اللہ کی عبادت اس کے لئے طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کرو، اگرچہ کافروں کو ناگوار ہی ہو،(14)
رَفيعُ الدَّرَجٰتِ ذُو العَرشِ يُلقِى الرّوحَ مِن أَمرِهِ عَلىٰ مَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ لِيُنذِرَ يَومَ التَّلاقِ(15)
درجات بلند کرنے والا، مالکِ عرش، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے روح (یعنی وحی) اپنے حکم سے القاء فرماتا ہے تاکہ وہ (لوگوں کو) اکٹھا ہونے والے دن سے ڈرائے،(15)
يَومَ هُم بٰرِزونَ ۖ لا يَخفىٰ عَلَى اللَّهِ مِنهُم شَيءٌ ۚ لِمَنِ المُلكُ اليَومَ ۖ لِلَّهِ الوٰحِدِ القَهّارِ(16)
جس دن وہ سب (قبروں سے) نکل پڑیں گے اور ان (کے اعمال) سے کچھ بھی اللہ پر پوشیدہ نہ رہے گا، (ارشاد ہوگا:) آج کس کی بادشاہی ہے؟ (پھر ارشاد ہوگا:) اللہ ہی کی جو یکتا ہے سب پر غالب ہے،(16)
اليَومَ تُجزىٰ كُلُّ نَفسٍ بِما كَسَبَت ۚ لا ظُلمَ اليَومَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَريعُ الحِسابِ(17)
آج کے دن ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا، آج کوئی نا انصافی نہ ہوگی، بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے،(17)
وَأَنذِرهُم يَومَ الءازِفَةِ إِذِ القُلوبُ لَدَى الحَناجِرِ كٰظِمينَ ۚ ما لِلظّٰلِمينَ مِن حَميمٍ وَلا شَفيعٍ يُطاعُ(18)
اور آپ ان کو قریب آنے والی آفت کے دن سے ڈرائیں جب ضبطِ غم سے کلیجے منہ کو آئیں گے۔ ظالموں کے لئے نہ کوئی مہربان دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات مانی جائے،(18)
يَعلَمُ خائِنَةَ الأَعيُنِ وَما تُخفِى الصُّدورُ(19)
وہ خیانت کرنے والی نگاہوں کو جانتا ہے اور (ان باتوں کو بھی) جو سینے (اپنے اندر) چھپائے رکھتے ہیں،(19)
وَاللَّهُ يَقضى بِالحَقِّ ۖ وَالَّذينَ يَدعونَ مِن دونِهِ لا يَقضونَ بِشَيءٍ ۗ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّميعُ البَصيرُ(20)
اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ فرماتا ہے، اور جن (بتوں) کو یہ لوگ اللہ کے سوا پوجتے ہیں وہ کچھ بھی فیصلہ نہیں کر سکتے، بے شک اللہ ہی سننے والا، دیکھنے والا ہے،(20)
۞ أَوَلَم يَسيروا فِى الأَرضِ فَيَنظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ الَّذينَ كانوا مِن قَبلِهِم ۚ كانوا هُم أَشَدَّ مِنهُم قُوَّةً وَءاثارًا فِى الأَرضِ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنوبِهِم وَما كانَ لَهُم مِنَ اللَّهِ مِن واقٍ(21)
اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھ لیتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ لوگ قوّت میں (بھی) اِن سے بہت زیادہ تھے اور اُن آثار و نشانات میں (بھی) جو زمین میں (چھوڑ گئے) تھے۔ پھر اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں پکڑ لیا، اور ان کے لئے اللہ (کے عذاب) سے بچانے والا کوئی نہ تھا،(21)
ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كانَت تَأتيهِم رُسُلُهُم بِالبَيِّنٰتِ فَكَفَروا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّهُ قَوِىٌّ شَديدُ العِقابِ(22)
یہ اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے پھر انہوں نے کفر کیا تو اللہ نے انہیں (عذاب میں) پکڑ لیا، بے شک وہ بڑی قوت والا، سخت عذاب دینے والا ہے،(22)
وَلَقَد أَرسَلنا موسىٰ بِـٔايٰتِنا وَسُلطٰنٍ مُبينٍ(23)
اور بے شک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا،(23)
إِلىٰ فِرعَونَ وَهٰمٰنَ وَقٰرونَ فَقالوا سٰحِرٌ كَذّابٌ(24)
فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو وہ کہنے لگے کہ یہ جادوگر ہے، بڑا جھوٹا ہے،(24)
فَلَمّا جاءَهُم بِالحَقِّ مِن عِندِنا قالُوا اقتُلوا أَبناءَ الَّذينَ ءامَنوا مَعَهُ وَاستَحيوا نِساءَهُم ۚ وَما كَيدُ الكٰفِرينَ إِلّا فى ضَلٰلٍ(25)
پھر جب وہ ہماری بارگاہ سے پیغامِ حق لے کر ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: ان لوگوں کے لڑکوں کو قتل کر دو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دو، اور کافروں کی پر فریب چالیں صرف ہلاکت ہی تھیں،(25)
وَقالَ فِرعَونُ ذَرونى أَقتُل موسىٰ وَليَدعُ رَبَّهُ ۖ إِنّى أَخافُ أَن يُبَدِّلَ دينَكُم أَو أَن يُظهِرَ فِى الأَرضِ الفَسادَ(26)
اور فرعون بولا: مجھے چھوڑ دو میں موسٰی کو قتل کر دوں اور اسے چاہیے کہ اپنے رب کو بلا لے۔ مجھے خوف ہے کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا ملک (مصر) میں فساد پھیلا دے گا،(26)
وَقالَ موسىٰ إِنّى عُذتُ بِرَبّى وَرَبِّكُم مِن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لا يُؤمِنُ بِيَومِ الحِسابِ(27)
اور موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں، ہر متکبر شخص سے جو یومِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا،(27)
وَقالَ رَجُلٌ مُؤمِنٌ مِن ءالِ فِرعَونَ يَكتُمُ إيمٰنَهُ أَتَقتُلونَ رَجُلًا أَن يَقولَ رَبِّىَ اللَّهُ وَقَد جاءَكُم بِالبَيِّنٰتِ مِن رَبِّكُم ۖ وَإِن يَكُ كٰذِبًا فَعَلَيهِ كَذِبُهُ ۖ وَإِن يَكُ صادِقًا يُصِبكُم بَعضُ الَّذى يَعِدُكُم ۖ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدى مَن هُوَ مُسرِفٌ كَذّابٌ(28)
اور ملّتِ فرعون میں سے ایک مردِ مومن نے کہا جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا: کیا تم ایک شخص کو قتل کرتے ہو (صرف) اس لئے کہ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے، اور وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہے، اور اگر (بالفرض) وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا بوجھ اسی پر ہوگا اور اگر وہ سچا ہے تو جس قدر عذاب کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے تمہیں پہنچ کر رہے گا، بے شک اﷲ اسے ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرنے والا سراسر جھوٹا ہو،(28)
يٰقَومِ لَكُمُ المُلكُ اليَومَ ظٰهِرينَ فِى الأَرضِ فَمَن يَنصُرُنا مِن بَأسِ اللَّهِ إِن جاءَنا ۚ قالَ فِرعَونُ ما أُريكُم إِلّا ما أَرىٰ وَما أَهديكُم إِلّا سَبيلَ الرَّشادِ(29)
اے میری قوم! آج کے دن تمہاری حکومت ہے (تم ہی) سرزمینِ (مصر) میں اقتدار پر ہو، پھر کون ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا سکتا ہے اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔ فرعون نے کہا: میں تمہیں فقط وہی بات سمجھاتا ہوں جسے میں خود (صحیح) سمجھتا ہوں اور میں تمہیں بھلائی کی راہ کے سوا (اور کوئی راستہ) نہیں دکھاتا،(29)
وَقالَ الَّذى ءامَنَ يٰقَومِ إِنّى أَخافُ عَلَيكُم مِثلَ يَومِ الأَحزابِ(30)
اور اس شخص نے کہا جو ایمان لا چکا تھا: اے میری قوم! میں تم پر (بھی اگلی) قوموں کے روزِ بد کی طرح (عذاب) کا خوف رکھتا ہوں،(30)
مِثلَ دَأبِ قَومِ نوحٍ وَعادٍ وَثَمودَ وَالَّذينَ مِن بَعدِهِم ۚ وَمَا اللَّهُ يُريدُ ظُلمًا لِلعِبادِ(31)
قومِ نوح اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے (ان) کے دستورِ سزا کی طرح، اور اللہ بندوں پر ہرگز زیادتی نہیں چاہتا،(31)
وَيٰقَومِ إِنّى أَخافُ عَلَيكُم يَومَ التَّنادِ(32)
اور اے قوم! میں تم پر چیخ و پکار کے دن (یعنی قیامت) سے خوف زدہ ہوں،(32)
يَومَ تُوَلّونَ مُدبِرينَ ما لَكُم مِنَ اللَّهِ مِن عاصِمٍ ۗ وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن هادٍ(33)
جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے اور تمہیں اللہ (کے عذاب) سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا اور جسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو اس کے لئے کوئی ہادی و رہنما نہیں ہوتا،(33)
وَلَقَد جاءَكُم يوسُفُ مِن قَبلُ بِالبَيِّنٰتِ فَما زِلتُم فى شَكٍّ مِمّا جاءَكُم بِهِ ۖ حَتّىٰ إِذا هَلَكَ قُلتُم لَن يَبعَثَ اللَّهُ مِن بَعدِهِ رَسولًا ۚ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَن هُوَ مُسرِفٌ مُرتابٌ(34)
اور (اے اہلِ مصر!) بے شک تمہارے پاس اس سے پہلے یوسف (علیہ السلام) واضح نشانیوں کے ساتھ آچکے اور تم ہمیشہ ان (نشانیوں) کے بارے میں شک میں (پڑے) رہے جو وہ تمہارے پاس لائے تھے، یہاں تک کہ جب وہ وفات پا گئے تو تم کہنے لگے کہ اب اللہ ان کے بعد ہرگز کسی رسول کو نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ ٹھہرا دیتا ہے جو حد سے گزرنے والا شک کرنے والا ہو،(34)
الَّذينَ يُجٰدِلونَ فى ءايٰتِ اللَّهِ بِغَيرِ سُلطٰنٍ أَتىٰهُم ۖ كَبُرَ مَقتًا عِندَ اللَّهِ وَعِندَ الَّذينَ ءامَنوا ۚ كَذٰلِكَ يَطبَعُ اللَّهُ عَلىٰ كُلِّ قَلبِ مُتَكَبِّرٍ جَبّارٍ(35)
جو لوگ اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو، (یہ جھگڑا کرنا) اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک سخت بیزاری (کی بات) ہے، اسی طرح اللہ ہر ایک مغرور (اور) سر کش کے دل پر مُہر لگا دیتا ہے،(35)
وَقالَ فِرعَونُ يٰهٰمٰنُ ابنِ لى صَرحًا لَعَلّى أَبلُغُ الأَسبٰبَ(36)
اور فرعون نے کہا: اے ہامان! تو میرے لئے ایک اونچا محل بنا دے تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) راستوں پر جا پہنچوں،(36)
أَسبٰبَ السَّمٰوٰتِ فَأَطَّلِعَ إِلىٰ إِلٰهِ موسىٰ وَإِنّى لَأَظُنُّهُ كٰذِبًا ۚ وَكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرعَونَ سوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبيلِ ۚ وَما كَيدُ فِرعَونَ إِلّا فى تَبابٍ(37)
(یعنی) آسمانوں کے راستوں پر، پھر میں موسٰی کے خدا کو جھانک کر دیکھ سکوں اور میں تو اسے جھوٹا ہی سمجھتا ہوں، اور اس طرح فرعون کے لئے اس کی بد عملی خوش نما کر دی گئی اور وہ (اللہ کی) راہ سے روک دیا گیا، اور فرعون کی پُرفریب تدبیر محض ہلاکت ہی میں تھی،(37)
وَقالَ الَّذى ءامَنَ يٰقَومِ اتَّبِعونِ أَهدِكُم سَبيلَ الرَّشادِ(38)
اور اس شخص نے کہا جو ایمان لا چکا تھا: اے میری قوم! تم میری پیروی کرو میں تمہیں خیر و ہدایت کی راہ پر لگا دوں گا،(38)
يٰقَومِ إِنَّما هٰذِهِ الحَيوٰةُ الدُّنيا مَتٰعٌ وَإِنَّ الءاخِرَةَ هِىَ دارُ القَرارِ(39)
اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی بس (چند روزہ) فائدہ اٹھانے کے سوا کچھ نہیں اور بے شک آخرت ہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے،(39)
مَن عَمِلَ سَيِّئَةً فَلا يُجزىٰ إِلّا مِثلَها ۖ وَمَن عَمِلَ صٰلِحًا مِن ذَكَرٍ أَو أُنثىٰ وَهُوَ مُؤمِنٌ فَأُولٰئِكَ يَدخُلونَ الجَنَّةَ يُرزَقونَ فيها بِغَيرِ حِسابٍ(40)
جس نے برائی کی تو اسے بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر صرف اسی قدر، اور جس نے نیکی کی، خواہ مرد ہو یا عورت اور مومن بھی ہو تو وہی لوگ جنّت میں داخل ہوں گے انہیں وہاں بے حساب رِزق دیا جائے گا،(40)
۞ وَيٰقَومِ ما لى أَدعوكُم إِلَى النَّجوٰةِ وَتَدعونَنى إِلَى النّارِ(41)
اور اے میری قوم! مجھے کیا ہوا ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہو،(41)
تَدعونَنى لِأَكفُرَ بِاللَّهِ وَأُشرِكَ بِهِ ما لَيسَ لى بِهِ عِلمٌ وَأَنا۠ أَدعوكُم إِلَى العَزيزِ الغَفّٰرِ(42)
تم مجھے (یہ) دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہراؤں جس کا مجھے کچھ علم بھی نہیں اور میں تمہیں خدائے غالب کی طرف بلاتا ہوں جو بڑا بخشنے والا ہے،(42)
لا جَرَمَ أَنَّما تَدعونَنى إِلَيهِ لَيسَ لَهُ دَعوَةٌ فِى الدُّنيا وَلا فِى الءاخِرَةِ وَأَنَّ مَرَدَّنا إِلَى اللَّهِ وَأَنَّ المُسرِفينَ هُم أَصحٰبُ النّارِ(43)
سچ تو یہ ہے کہ تم مجھے جس چیز کی طرف بلا رہے ہو وہ نہ تو دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے اور نہ (ہی) آخرت میں اور بے شک ہمارا واپس لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے اور یقیناً حد سے گزرنے والے ہی دوزخی ہیں،(43)
فَسَتَذكُرونَ ما أَقولُ لَكُم ۚ وَأُفَوِّضُ أَمرى إِلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَصيرٌ بِالعِبادِ(44)
سو تم عنقریب (وہ باتیں) یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بے شک اللہ بندوں کو دیکھنے والا ہے،(44)
فَوَقىٰهُ اللَّهُ سَيِّـٔاتِ ما مَكَروا ۖ وَحاقَ بِـٔالِ فِرعَونَ سوءُ العَذابِ(45)
پھر اللہ نے اُسے اُن لوگوں کی برائیوں سے بچا لیا جن کی وہ تدبیر کر رہے تھے اور آلِ فرعون کو بُرے عذاب نے گھیر لیا،(45)
النّارُ يُعرَضونَ عَلَيها غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَومَ تَقومُ السّاعَةُ أَدخِلوا ءالَ فِرعَونَ أَشَدَّ العَذابِ(46)
آتشِ دوزخ کے سامنے یہ لوگ صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت بپا ہوگی (تو حکم ہوگا:) آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو،(46)
وَإِذ يَتَحاجّونَ فِى النّارِ فَيَقولُ الضُّعَفٰؤُا۟ لِلَّذينَ استَكبَروا إِنّا كُنّا لَكُم تَبَعًا فَهَل أَنتُم مُغنونَ عَنّا نَصيبًا مِنَ النّارِ(47)
اور جب وہ لوگ دوزخ میں باہم جھگڑیں گے تو کمزور لوگ ان سے کہیں گے جو (دنیا میں) بڑائی ظاہر کرتے تھے کہ ہم تو تمہارے پیروکار تھے سو کیا تم آتشِ دوزخ کا کچھ حصّہ (ہی) ہم سے دور کر سکتے ہو،(47)
قالَ الَّذينَ استَكبَروا إِنّا كُلٌّ فيها إِنَّ اللَّهَ قَد حَكَمَ بَينَ العِبادِ(48)
تکبر کرنے والے کہیں گے: ہم سب ہی اسی (دوزخ) میں پڑے ہیں بے شک اللہ نے بندوں کے درمیان حتمی فیصلہ فرما دیا ہے،(48)
وَقالَ الَّذينَ فِى النّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادعوا رَبَّكُم يُخَفِّف عَنّا يَومًا مِنَ العَذابِ(49)
اور آگ میں پڑے ہوئے لوگ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے: اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ کسی دن تو ہم سے عذاب ہلکا کر دے،(49)
قالوا أَوَلَم تَكُ تَأتيكُم رُسُلُكُم بِالبَيِّنٰتِ ۖ قالوا بَلىٰ ۚ قالوا فَادعوا ۗ وَما دُعٰؤُا۟ الكٰفِرينَ إِلّا فى ضَلٰلٍ(50)
وہ کہیں گے: کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر واضح نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے، وہ کہیں گے: کیوں نہیں، (پھر داروغے) کہیں گے: تم خود ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا (ہمیشہ) رائیگاں ہی ہوگی،(50)
إِنّا لَنَنصُرُ رُسُلَنا وَالَّذينَ ءامَنوا فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا وَيَومَ يَقومُ الأَشهٰدُ(51)
بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان لانے والوں کی دنیوی زندگی میں (بھی) مدد کرتے ہیں اور اس دن (بھی کریں گے) جب گواہ کھڑے ہوں گے،(51)
يَومَ لا يَنفَعُ الظّٰلِمينَ مَعذِرَتُهُم ۖ وَلَهُمُ اللَّعنَةُ وَلَهُم سوءُ الدّارِ(52)
جس دن ظالموں کو اُن کی معذرت فائدہ نہیں دے گی اور اُن کے لئے پھٹکار ہوگی اور اُن کے لئے (جہنّم کا) بُرا گھر ہوگا،(52)
وَلَقَد ءاتَينا موسَى الهُدىٰ وَأَورَثنا بَنى إِسرٰءيلَ الكِتٰبَ(53)
اور بے شک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو (کتاب) ہدایت عطا کی اور ہم نے (اُن کے بعد) بنی اسرائیل کو (اُس) کتاب کا وارث بنایا،(53)
هُدًى وَذِكرىٰ لِأُولِى الأَلبٰبِ(54)
جو ہدایت ہے اور عقل والوں کے لئے نصیحت ہے،(54)
فَاصبِر إِنَّ وَعدَ اللَّهِ حَقٌّ وَاستَغفِر لِذَنبِكَ وَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّكَ بِالعَشِىِّ وَالإِبكٰرِ(55)
پس آپ صبر کیجئے، بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے اور اپنی اُمت کے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے٭ اور صبح و شام اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیا کیجئے، ٭ لِذَنبِكَ میں ”امت“ مضاف ہے جو کہ محذوف ہے، لہٰذا اس بناء پر یہاں وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ امام نسفی، امام قرطبی اور علامہ شوکانی نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ حوالہ جات ملاحظہ کریں: ۱۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) أی لِذَنبِ أُمتِکَ یعنی اپنی امت کے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے۔ (نسفی، مدارک التنزیل و حقائق التاویل، ۴: ۳۵۹)۔ ۲۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) قیل: لِذَنبِ أُمتِکَ حذف المضاف و أقیم المضاف الیہ مقامہ۔ ”وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ یہاں مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا۔“ (قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ۱۵: ۳۲۴)۔ ۳۔ وَ قیل: لِذَنبِکَ لِذَنبِ أُمتِکَ فِی حَقِّکَ ”یہ بھی کہا گیا ہے کہ لِذَنبِکَ یعنی آپ اپنے حق میں امت سے سرزَد ہونے والی خطاؤں کی بخشش طلب کیجئے۔“ (ابن حیان اندلسی، البحر المحیط، ۷: ۴۷۱)۔ ۴۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) قیل: المراد ذنب أمتک فھو علی حذف المضاف ” کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں اور یہ معنی مضاف کے محذوف ہونے کی بناء پر ہے۔“ ( علامہ شوکانی، فتح القدیر، ۴: ۴۹۷)(55)
إِنَّ الَّذينَ يُجٰدِلونَ فى ءايٰتِ اللَّهِ بِغَيرِ سُلطٰنٍ أَتىٰهُم ۙ إِن فى صُدورِهِم إِلّا كِبرٌ ما هُم بِبٰلِغيهِ ۚ فَاستَعِذ بِاللَّهِ ۖ إِنَّهُ هُوَ السَّميعُ البَصيرُ(56)
بے شک جو لوگ اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر کسی دلیل کے جو اُن کے پاس آئی ہو، ان کے سینوں میں سوائے غرور کے اور کچھ نہیں ہے وہ اُس (حقیقی برتری) تک پہنچنے والے ہی نہیں۔ پس آپ (ان کے شر سے) اللہ کی پناہ مانگتے رہئے، بے شک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے،(56)
لَخَلقُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ أَكبَرُ مِن خَلقِ النّاسِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ(57)
یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے کہیں بڑھ کر ہے لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے،(57)
وَما يَستَوِى الأَعمىٰ وَالبَصيرُ وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَلَا المُسيءُ ۚ قَليلًا ما تَتَذَكَّرونَ(58)
اور اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے سو (اسی طرح) جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے (وہ) اور بدکار بھی (برابر) نہیں ہیں۔ تم بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو،(58)
إِنَّ السّاعَةَ لَءاتِيَةٌ لا رَيبَ فيها وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يُؤمِنونَ(59)
بے شک قیامت ضرور آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن اکثر لوگ یقین نہیں رکھتے،(59)
وَقالَ رَبُّكُمُ ادعونى أَستَجِب لَكُم ۚ إِنَّ الَّذينَ يَستَكبِرونَ عَن عِبادَتى سَيَدخُلونَ جَهَنَّمَ داخِرينَ(60)
اور تمہارے رب نے فرمایا ہے: تم لوگ مجھ سے دعا کیا کرو میں ضرور قبول کروں گا، بے شک جو لوگ میری بندگی سے سرکشی کرتے ہیں وہ عنقریب دوزخ میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے،(60)
اللَّهُ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الَّيلَ لِتَسكُنوا فيهِ وَالنَّهارَ مُبصِرًا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَذو فَضلٍ عَلَى النّاسِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَشكُرونَ(61)
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام پاؤ اور دن کو دیکھنے کے لئے روشن بنایا۔ بے شک اللہ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے،(61)
ذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُم خٰلِقُ كُلِّ شَيءٍ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ فَأَنّىٰ تُؤفَكونَ(62)
یہی اللہ تمہارا رب ہے جو ہر چیز کا خالق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں بھٹکتے پھرتے ہو،(62)
كَذٰلِكَ يُؤفَكُ الَّذينَ كانوا بِـٔايٰتِ اللَّهِ يَجحَدونَ(63)
اسی طرح وہ لوگ بہکے پھرتے تھے جو اللہ کی آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے،(63)
اللَّهُ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَرضَ قَرارًا وَالسَّماءَ بِناءً وَصَوَّرَكُم فَأَحسَنَ صُوَرَكُم وَرَزَقَكُم مِنَ الطَّيِّبٰتِ ۚ ذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُم ۖ فَتَبارَكَ اللَّهُ رَبُّ العٰلَمينَ(64)
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قرار گاہ بنایا اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں شکل و صورت بخشی پھر تمہاری صورتوں کو اچھا کیا اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی بخشی، یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ پس اللہ بڑی برکت والا ہے جو سب جہانوں کا رب ہے،(64)
هُوَ الحَىُّ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ فَادعوهُ مُخلِصينَ لَهُ الدّينَ ۗ الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ العٰلَمينَ(65)
وہی زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس تم اس کی عبادت اُس کے لئے طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کرو، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے،(65)
۞ قُل إِنّى نُهيتُ أَن أَعبُدَ الَّذينَ تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ لَمّا جاءَنِىَ البَيِّنٰتُ مِن رَبّى وَأُمِرتُ أَن أُسلِمَ لِرَبِّ العٰلَمينَ(66)
فرما دیجئے: مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اُن کی پرستش کروں جن بتوں کی تم اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہو جبکہ میرے پاس میرے رب کی جانب سے واضح نشانیاں آچکی ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمام جہانوں کے پروردگار کی فرمانبرداری کروں،(66)
هُوَ الَّذى خَلَقَكُم مِن تُرابٍ ثُمَّ مِن نُطفَةٍ ثُمَّ مِن عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخرِجُكُم طِفلًا ثُمَّ لِتَبلُغوا أَشُدَّكُم ثُمَّ لِتَكونوا شُيوخًا ۚ وَمِنكُم مَن يُتَوَفّىٰ مِن قَبلُ ۖ وَلِتَبلُغوا أَجَلًا مُسَمًّى وَلَعَلَّكُم تَعقِلونَ(67)
وہی ہے جس نے تمہاری (کیمیائی حیات کی ابتدائی) پیدائش مٹی سے کی پھر (حیاتیاتی ابتداء) ایک نطفہ (یعنی ایک خلیہ) سے، پھر رحم مادر میں معلّق وجود سے، پھر (بالآخر) وہی تمہیں بچہ بنا کر نکالتا ہے پھر (تمہیں نشو و نما دیتا ہے) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ۔ پھر (تمہیں عمر کی مہلت دیتا ہے) تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ اور تم میں سے کوئی (بڑھاپے سے) پہلے ہی وفات پا جاتا ہے اور (یہ سب کچھ اس لئے کیاجاتا ہے) تاکہ تم (اپنی اپنی) مقررّہ میعاد تک پہنچ جاؤ اور اِس لئے (بھی) کہ تم سمجھ سکو،(67)
هُوَ الَّذى يُحيۦ وَيُميتُ ۖ فَإِذا قَضىٰ أَمرًا فَإِنَّما يَقولُ لَهُ كُن فَيَكونُ(68)
وہی ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے پھر جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو صرف اسے فرما دیتا ہے: "ہو جا" پس وہ ہو جاتا ہے،(68)
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ يُجٰدِلونَ فى ءايٰتِ اللَّهِ أَنّىٰ يُصرَفونَ(69)
کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں، وہ کہاں بھٹکے جا رہے ہیں،(69)
الَّذينَ كَذَّبوا بِالكِتٰبِ وَبِما أَرسَلنا بِهِ رُسُلَنا ۖ فَسَوفَ يَعلَمونَ(70)
جن لوگوں نے کتاب کو (بھی) جھٹلا دیا اور ان (نشانیوں) کو (بھی) جن کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا تھا، تو وہ عنقریب (اپنا انجام) جان لیں گے،(70)
إِذِ الأَغلٰلُ فى أَعنٰقِهِم وَالسَّلٰسِلُ يُسحَبونَ(71)
جب اُن کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی، وہ گھسیٹے جا رہے ہوں گے،(71)
فِى الحَميمِ ثُمَّ فِى النّارِ يُسجَرونَ(72)
کھولتے ہوئے پانی میں، پھر آگ میں (ایندھن کے طور پر) جھونک دیئے جائیں گے،(72)
ثُمَّ قيلَ لَهُم أَينَ ما كُنتُم تُشرِكونَ(73)
پھر اُن سے کہا جائے گا: کہاں ہیں وہ (بُت) جنہیں تم شریک ٹھہراتے تھے،(73)
مِن دونِ اللَّهِ ۖ قالوا ضَلّوا عَنّا بَل لَم نَكُن نَدعوا مِن قَبلُ شَيـًٔا ۚ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الكٰفِرينَ(74)
اللہ کے سوا، وہ کہیں گے: وہ ہم سے گم ہو گئے بلکہ ہم تو پہلے کسی بھی چیز کی پرستش نہیں کرتے تھے، اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ ٹھہراتا ہے،(74)
ذٰلِكُم بِما كُنتُم تَفرَحونَ فِى الأَرضِ بِغَيرِ الحَقِّ وَبِما كُنتُم تَمرَحونَ(75)
یہ (سزا) اس کا بدلہ ہے کہ تم زمین میں ناحق خوشیاں منایا کرتے تھے اور اُس کا بدلہ ہے کہ تم اِترایا کرتے تھے،(75)
ادخُلوا أَبوٰبَ جَهَنَّمَ خٰلِدينَ فيها ۖ فَبِئسَ مَثوَى المُتَكَبِّرينَ(76)
دوزخ کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ تم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو، سو غرور کرنے والوں کا ٹھکانا کتنا بُرا ہے،(76)
فَاصبِر إِنَّ وَعدَ اللَّهِ حَقٌّ ۚ فَإِمّا نُرِيَنَّكَ بَعضَ الَّذى نَعِدُهُم أَو نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَينا يُرجَعونَ(77)
پس آپ صبر کیجئے بے شک اﷲ کا وعدہ سچّا ہے، پھر اگر ہم آپ کو اس (عذاب) کا کچھ حصّہ دکھا دیں جس کا ہم اُن سے وعدہ کر رہے ہیں یا ہم آپ کو (اس سے قبل) وفات دے دیں تو (دونوں صورتوں میں) وہ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے،(77)
وَلَقَد أَرسَلنا رُسُلًا مِن قَبلِكَ مِنهُم مَن قَصَصنا عَلَيكَ وَمِنهُم مَن لَم نَقصُص عَلَيكَ ۗ وَما كانَ لِرَسولٍ أَن يَأتِىَ بِـٔايَةٍ إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ ۚ فَإِذا جاءَ أَمرُ اللَّهِ قُضِىَ بِالحَقِّ وَخَسِرَ هُنالِكَ المُبطِلونَ(78)
اور بے شک ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کو بھیجا، ان میں سے بعض کا حال ہم نے آپ پر بیان فرما دیا اور ان میں سے بعض کا حال ہم نے (ابھی تک) آپ پر بیان نہیں فرمایا، اور کسی بھی رسول کے لئے یہ (ممکن) نہ تھا کہ وہ کوئی نشانی بھی اﷲ کے اِذن کے بغیر لے آئے، پھر جب اﷲ کا حکم آپہنچا (اور) حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا تو اس وقت اہلِ باطل خسارے میں رہے،(78)
اللَّهُ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَنعٰمَ لِتَركَبوا مِنها وَمِنها تَأكُلونَ(79)
اﷲ ہی ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے بنائے تاکہ تم اُن میں سے بعض پر سواری کرو اور اِن میں سے بعض کو تم کھاتے ہو،(79)
وَلَكُم فيها مَنٰفِعُ وَلِتَبلُغوا عَلَيها حاجَةً فى صُدورِكُم وَعَلَيها وَعَلَى الفُلكِ تُحمَلونَ(80)
اور تمہارے لئے ان میں اور بھی فوائد ہیں اور تاکہ تم ان پر سوار ہو کر (مزید) اُس ضرورت (کی جگہ) تک پہنچ سکو جو تمہارے سینوں میں (متعین) ہے اور (یہ کہ) تم اُن پر اور کشتیوں پر سوار کئے جاتے ہو،(80)
وَيُريكُم ءايٰتِهِ فَأَىَّ ءايٰتِ اللَّهِ تُنكِرونَ(81)
اور وہ تمہیں اپنی (بہت سے) نشانیاں دکھاتا ہے، سو تم اﷲ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے،(81)
أَفَلَم يَسيروا فِى الأَرضِ فَيَنظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ كانوا أَكثَرَ مِنهُم وَأَشَدَّ قُوَّةً وَءاثارًا فِى الأَرضِ فَما أَغنىٰ عَنهُم ما كانوا يَكسِبونَ(82)
سو کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی کہ وہ دیکھتے کہ اُن لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو اُن سے پہلے گزر گئے، وہ اِن لوگوں سے (تعداد میں بھی) بہت زیادہ تھے اور طاقت میں (بھی) سخت تر تھے اور نشانات کے لحاظ سے (بھی) جو (وہ) زمین میں چھوڑ گئے ہیں (کہیں بڑھ کر تھے) مگر جو کچھ وہ کمایا کرتے تھے اُن کے کسی کام نہ آیا،(82)
فَلَمّا جاءَتهُم رُسُلُهُم بِالبَيِّنٰتِ فَرِحوا بِما عِندَهُم مِنَ العِلمِ وَحاقَ بِهِم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(83)
پھر جب اُن کے پیغمبر اُن کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تو اُن کے پاس جو (دنیاوی) علم و فن تھا وہ اس پر اِتراتے رہے اور (اسی حال میں) انہیں اُس (عذاب) نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،(83)
فَلَمّا رَأَوا بَأسَنا قالوا ءامَنّا بِاللَّهِ وَحدَهُ وَكَفَرنا بِما كُنّا بِهِ مُشرِكينَ(84)
پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے: ہم اﷲ پر ایمان لائے جو یکتا ہے اور ہم نے اُن (سب) کا انکار کر دیا جنہیں ہم اس کا شریک ٹھہرایا کرتے تھے،(84)
فَلَم يَكُ يَنفَعُهُم إيمٰنُهُم لَمّا رَأَوا بَأسَنا ۖ سُنَّتَ اللَّهِ الَّتى قَد خَلَت فى عِبادِهِ ۖ وَخَسِرَ هُنالِكَ الكٰفِرونَ(85)
پھر اُن کا ایمان لانا اُن کے کچھ کام نہ آیا جبکہ انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھ لیا تھا، اﷲ کا (یہی) دستور ہے جو اُس کے بندوں میں گزرتا چلا آرہا ہے اور اس مقام پر کافروں نے (ہمیشہ) سخت نقصان اٹھایا،(85)