Al-Furqan( الفرقان)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ تَبارَكَ الَّذى نَزَّلَ الفُرقانَ عَلىٰ عَبدِهِ لِيَكونَ لِلعٰلَمينَ نَذيرًا(1)
(وہ اللہ) بڑی برکت والا ہے جس نے (حق و باطل میں فرق اور) فیصلہ کرنے والا (قرآن) اپنے (محبوب و مقرّب) بندہ پر نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈر سنانے والا ہو جائے،(1)
الَّذى لَهُ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَلَم يَتَّخِذ وَلَدًا وَلَم يَكُن لَهُ شَريكٌ فِى المُلكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيءٍ فَقَدَّرَهُ تَقديرًا(2)
وہ (اللہ) کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کے لئے ہے اور جس نے نہ (اپنے لئے) کوئی اولاد بنائی ہے اور نہ بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے اور اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے پھر اس (کی بقا و ارتقاء کے ہر مرحلہ پر اس کے خواص، افعال اور مدت، الغرض ہر چیز) کو ایک مقررہ اندازے پر ٹھہرایا ہے،(2)
وَاتَّخَذوا مِن دونِهِ ءالِهَةً لا يَخلُقونَ شَيـًٔا وَهُم يُخلَقونَ وَلا يَملِكونَ لِأَنفُسِهِم ضَرًّا وَلا نَفعًا وَلا يَملِكونَ مَوتًا وَلا حَيوٰةً وَلا نُشورًا(3)
اور ان (مشرکین) نے اللہ کو چھوڑ کر اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں اور نہ ہی وہ اپنے لئے کسی نقصان کے مالک ہیں اور نہ نفع کے اور نہ وہ موت کے مالک ہیں اور نہ حیات کے اور نہ (ہی مرنے کے بعد) اٹھا کر جمع کرنے کا (اختیار رکھتے ہیں)،(3)
وَقالَ الَّذينَ كَفَروا إِن هٰذا إِلّا إِفكٌ افتَرىٰهُ وَأَعانَهُ عَلَيهِ قَومٌ ءاخَرونَ ۖ فَقَد جاءو ظُلمًا وَزورًا(4)
اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض افتراء ہے جسے اس (مدعئ رسالت) نے گھڑ لیا ہے اور اس (کے گھڑنے) پر دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے، بیشک کافر ظلم اور جھوٹ پر (اتر) آئے ہیں،(4)
وَقالوا أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ اكتَتَبَها فَهِىَ تُملىٰ عَلَيهِ بُكرَةً وَأَصيلًا(5)
اور کہتے ہیں: (یہ قرآن) اگلوں کے افسانے ہیں جن کو اس شخص نے لکھوا رکھا ہے پھر وہ (افسانے) اسے صبح و شام پڑھ کر سنائے جاتے ہیں (تاکہ انہیں یاد کر کے آگے سنا سکے)،(5)
قُل أَنزَلَهُ الَّذى يَعلَمُ السِّرَّ فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ إِنَّهُ كانَ غَفورًا رَحيمًا(6)
فرما دیجئے: اِس (قرآن) کو اُس (اللہ) نے نازل فرمایا ہے جو آسمانوں اور زمین میں (موجود) تمام رازوں کو جانتا ہے، بیشک وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے،(6)
وَقالوا مالِ هٰذَا الرَّسولِ يَأكُلُ الطَّعامَ وَيَمشى فِى الأَسواقِ ۙ لَولا أُنزِلَ إِلَيهِ مَلَكٌ فَيَكونَ مَعَهُ نَذيرًا(7)
اور وہ کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوا ہے، یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا کہ وہ اس کے ساتھ (مل کر) ڈر سنانے والا ہوتا،(7)
أَو يُلقىٰ إِلَيهِ كَنزٌ أَو تَكونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأكُلُ مِنها ۚ وَقالَ الظّٰلِمونَ إِن تَتَّبِعونَ إِلّا رَجُلًا مَسحورًا(8)
یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتار دیا جاتا یا (کم از کم) اس کا کوئی باغ ہوتا جس (کی آمدنی) سے وہ کھایا کرتا اور ظالم لوگ (مسلمانوں) سے کہتے ہیں کہ تم تو محض ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کر رہے ہو،(8)
انظُر كَيفَ ضَرَبوا لَكَ الأَمثٰلَ فَضَلّوا فَلا يَستَطيعونَ سَبيلًا(9)
(اے حبیبِ مکرّم!) ملاحظہ فرمائیے یہ لوگ آپ کے لئے کیسی (کیسی) مثالیں بیان کرتے ہیں پس یہ گمراہ ہو چکے ہیں سو یہ (ہدایت کا) کوئی راستہ نہیں پا سکتے،(9)
تَبارَكَ الَّذى إِن شاءَ جَعَلَ لَكَ خَيرًا مِن ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ وَيَجعَل لَكَ قُصورًا(10)
وہ بڑی برکت والا ہے اگر چاہے تو آپ کے لئے (دنیا ہی میں) اس سے (کہیں) بہتر باغات بنا دے جن کے نیچے سے نہریں رواں ہوں اور آپ کے لئے عالی شان محلات بنا دے (مگر نبوت و رسالت کے لئے یہ شرائط نہیں ہیں)،(10)
بَل كَذَّبوا بِالسّاعَةِ ۖ وَأَعتَدنا لِمَن كَذَّبَ بِالسّاعَةِ سَعيرًا(11)
بلکہ انہوں نے قیامت کو (بھی) جھٹلا دیا ہے، اور ہم نے (ہر) اس شخص کے لئے جو قیامت کو جھٹلاتا ہے (دوزخ کی) بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے،(11)
إِذا رَأَتهُم مِن مَكانٍ بَعيدٍ سَمِعوا لَها تَغَيُّظًا وَزَفيرًا(12)
جب وہ (آتشِ دوزخ) دور کی جگہ سے (ہی) ان کے سامنے ہوگی یہ اس کے جوش مارنے اور چنگھاڑنے کی آواز کو سنیں گے،(12)
وَإِذا أُلقوا مِنها مَكانًا ضَيِّقًا مُقَرَّنينَ دَعَوا هُنالِكَ ثُبورًا(13)
اور جب وہ اس میں کسی تنگ جگہ سے زنجیروں کے ساتھ جکڑے ہوئے (یا اپنے شیطانوں کے ساتھ بندھے ہوئے) ڈالے جائیں گے اس وقت وہ (اپنی) ہلاکت کو پکاریں گے،(13)
لا تَدعُوا اليَومَ ثُبورًا وٰحِدًا وَادعوا ثُبورًا كَثيرًا(14)
(ان سے کہا جائے گا:) آج (صرف) ایک ہی ہلاکت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی ہلاکتوں کو پکارو،(14)
قُل أَذٰلِكَ خَيرٌ أَم جَنَّةُ الخُلدِ الَّتى وُعِدَ المُتَّقونَ ۚ كانَت لَهُم جَزاءً وَمَصيرًا(15)
فرما دیجئے: کیا یہ (حالت) بہتر ہے یا دائمی جنت (کی زندگی) جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ان (کے اعمال) کی جزا اور ٹھکانا ہے،(15)
لَهُم فيها ما يَشاءونَ خٰلِدينَ ۚ كانَ عَلىٰ رَبِّكَ وَعدًا مَسـٔولًا(16)
ان کے لئے ان (جنتوں) میں وہ (سب کچھ میسّر) ہوگا جو وہ چاہیں گے (اس میں) ہمیشہ رہیں گے، یہ آپ کے رب کے ذمۂ (کرم) پر مطلوبہ وعدہ ہے (جو پورا ہو کر رہے گا)،(16)
وَيَومَ يَحشُرُهُم وَما يَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ فَيَقولُ ءَأَنتُم أَضلَلتُم عِبادى هٰؤُلاءِ أَم هُم ضَلُّوا السَّبيلَ(17)
اور اس دن اللہ انہیں اور ان کو، جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے، جمع کرے گا، پھر فرمائے گا: کیا تم نے ہی میرے ان بندوں کو گمراہ کر دیا تھا یا وہ (خود) ہی راہ سے بھٹک گئے تھے،(17)
قالوا سُبحٰنَكَ ما كانَ يَنبَغى لَنا أَن نَتَّخِذَ مِن دونِكَ مِن أَولِياءَ وَلٰكِن مَتَّعتَهُم وَءاباءَهُم حَتّىٰ نَسُوا الذِّكرَ وَكانوا قَومًا بورًا(18)
وہ کہیں گے: تیری ذات پاک ہے ہمیں (تو) یہ بات (بھی) زیبا نہ تھی کہ ہم تیرے سوا اوروں کو دوست (ہی) بنائیں (چہ جائے کہ ہم انہیں تیرے غیر کی عبادت کا کہتے) لیکن (اے مولا!) تو نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو (دنیوی مال و اسباب سے) اتنا بہرہ مند فرمایا، یہاں تک کہ وہ تیری یاد (بھی) بھول گئے، اور یہ (بدبخت) ہلاک ہونے والے لوگ (ہی) تھے،(18)
فَقَد كَذَّبوكُم بِما تَقولونَ فَما تَستَطيعونَ صَرفًا وَلا نَصرًا ۚ وَمَن يَظلِم مِنكُم نُذِقهُ عَذابًا كَبيرًا(19)
سو (اے کافرو!) انہوں نے (تو) ان باتوں میں تمہیں جھٹلا دیا ہے جو تم کہتے تھے پس (اب) تم نہ تو عذاب پھیرنے کی طاقت رکھتے ہو اور نہ (اپنی) مدد کی، اور (سن لو!) تم میں سے جو شخص (بھی) ظلم کرتا ہے ہم اسے بڑے عذاب کا مزہ چکھائیں گے،(19)
وَما أَرسَلنا قَبلَكَ مِنَ المُرسَلينَ إِلّا إِنَّهُم لَيَأكُلونَ الطَّعامَ وَيَمشونَ فِى الأَسواقِ ۗ وَجَعَلنا بَعضَكُم لِبَعضٍ فِتنَةً أَتَصبِرونَ ۗ وَكانَ رَبُّكَ بَصيرًا(20)
اور ہم نے آپ سے پہلے رسول نہیں بھیجے مگر (یہ کہ) وہ کھانا (بھی) یقیناً کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی (حسبِ ضرورت) چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے، کیا تم (آزمائش پر) صبر کرو گے؟ اور آپ کا رب خوب دیکھنے والا ہے،(20)
۞ وَقالَ الَّذينَ لا يَرجونَ لِقاءَنا لَولا أُنزِلَ عَلَينَا المَلٰئِكَةُ أَو نَرىٰ رَبَّنا ۗ لَقَدِ استَكبَروا فى أَنفُسِهِم وَعَتَو عُتُوًّا كَبيرًا(21)
اور جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے یا ہم اپنے رب کو (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے (تو پھر ضرور ایمان لے آتے)، حقیقت میں یہ لوگ اپنے دِلوں میں (اپنے آپ کو) بہت بڑا سمجھنے لگے ہیں اور حد سے بڑھ کر سرکشی کر رہے ہیں،(21)
يَومَ يَرَونَ المَلٰئِكَةَ لا بُشرىٰ يَومَئِذٍ لِلمُجرِمينَ وَيَقولونَ حِجرًا مَحجورًا(22)
جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے (تو) اس دن مجرموں کے لئے چنداں خوشی کی بات نہ ہوگی بلکہ وہ (انہیں دیکھ کر ڈرتے ہوئے) کہیں گے: کوئی روک والی آڑ ہوتی (جو ہمیں ان سے بچا لیتی یا فرشتے انہیں دیکھ کر کہیں گے کہ تم پر داخلۂ جنت قطعاً ممنوع ہے)،(22)
وَقَدِمنا إِلىٰ ما عَمِلوا مِن عَمَلٍ فَجَعَلنٰهُ هَباءً مَنثورًا(23)
اور (پھر) ہم ان اعمال کی طرف متوجہ ہوں گے جو (بزعمِ خویش) انہوں نے (زندگی میں) کئے تھے تو ہم انہیں بکھرا ہوا غبار بنا دیں گے،(23)
أَصحٰبُ الجَنَّةِ يَومَئِذٍ خَيرٌ مُستَقَرًّا وَأَحسَنُ مَقيلًا(24)
اس دن اہلِ جنت کی قیام گاہ (بھی) بہتر ہوگی اور آرام گاہ بھی خوب تر (جہاں وہ حساب و کتاب کی دوپہر کے بعد جا کر قیلولہ کریں گے)،(24)
وَيَومَ تَشَقَّقُ السَّماءُ بِالغَمٰمِ وَنُزِّلَ المَلٰئِكَةُ تَنزيلًا(25)
اور اس دن آسمان پھٹ کر بادل (کی طرح دھوئیں) میں بدل جائے گا اور فرشتے گروہ در گروہ اتارے جائیں گے،(25)
المُلكُ يَومَئِذٍ الحَقُّ لِلرَّحمٰنِ ۚ وَكانَ يَومًا عَلَى الكٰفِرينَ عَسيرًا(26)
اس دن سچی حکمرانی صرف (خدائے) رحمان کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر سخت (مشکل) ہوگا،(26)
وَيَومَ يَعَضُّ الظّالِمُ عَلىٰ يَدَيهِ يَقولُ يٰلَيتَنِى اتَّخَذتُ مَعَ الرَّسولِ سَبيلًا(27)
اور اس دن ہر ظالم (غصہ اور حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹ کاٹ کھائے گا (اور) کہے گا: کاش! میں نے رسولِ (اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیّت میں (آکر ہدایت کا) راستہ اختیار کر لیا ہوتا،(27)
يٰوَيلَتىٰ لَيتَنى لَم أَتَّخِذ فُلانًا خَليلًا(28)
ہائے افسوس! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا،(28)
لَقَد أَضَلَّنى عَنِ الذِّكرِ بَعدَ إِذ جاءَنى ۗ وَكانَ الشَّيطٰنُ لِلإِنسٰنِ خَذولًا(29)
بیشک اس نے میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے اس سے بہکا دیا، اور شیطان انسان کو (مصیبت کے وقت) بے یار و مددگار چھوڑ دینے والا ہے،(29)
وَقالَ الرَّسولُ يٰرَبِّ إِنَّ قَومِى اتَّخَذوا هٰذَا القُرءانَ مَهجورًا(30)
اور رسولِ (اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرض کریں گے: اے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ہی چھوڑ رکھا تھا،(30)
وَكَذٰلِكَ جَعَلنا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّا مِنَ المُجرِمينَ ۗ وَكَفىٰ بِرَبِّكَ هادِيًا وَنَصيرًا(31)
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے جرائم شعار لوگوں میں سے (ان کے) دشمن بنائے تھے (جو ان کے پیغمبرانہ مشن کی مخالفت کرتے اور اس طرح حق اور باطل قوتوں کے درمیان تضاد پیدا ہوتا جس سے انقلاب کے لئے سازگار فضا تیار ہو جاتی تھی)، اور آپ کا رب ہدایت کرنے اور مدد فرمانے کے لئے کافی ہے،(31)
وَقالَ الَّذينَ كَفَروا لَولا نُزِّلَ عَلَيهِ القُرءانُ جُملَةً وٰحِدَةً ۚ كَذٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤادَكَ ۖ وَرَتَّلنٰهُ تَرتيلًا(32)
اور کافر کہتے ہیں کہ اس (رسول) پر قرآن ایک ہی بار (یک جا کرکے) کیوں نہیں اتارا گیا؟ یوں (تھوڑا تھوڑا کر کے اسے) تدریجاً اس لئے اتارا گیا ہے تاکہ ہم اس سے آپ کے قلبِ (اطہر) کو قوت بخشیں اور (اسی وجہ سے) ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا ہے (تاکہ آپ کو ہمارے پیغام کے ذریعے بار بار سکونِ قلب ملتا رہے)،(32)
وَلا يَأتونَكَ بِمَثَلٍ إِلّا جِئنٰكَ بِالحَقِّ وَأَحسَنَ تَفسيرًا(33)
اور یہ (کفار) آپ کے پاس کوئی (ایسی) مثال (سوال اور اعتراض کے طور پر) نہیں لاتے مگر ہم آپ کے پاس (اس کے جواب میں) حق اور (اس سے) بہتر وضاحت کا بیان لے آتے ہیں،(33)
الَّذينَ يُحشَرونَ عَلىٰ وُجوهِهِم إِلىٰ جَهَنَّمَ أُولٰئِكَ شَرٌّ مَكانًا وَأَضَلُّ سَبيلًا(34)
(یہ) ایسے لوگ ہیں جو اپنے چہروں کے بل دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے یہی لوگ ہیں جو ٹھکانے کے لحاظ سے نہایت برے اور راستے سے (بھی) بہت بہکے ہوئے ہیں،(34)
وَلَقَد ءاتَينا موسَى الكِتٰبَ وَجَعَلنا مَعَهُ أَخاهُ هٰرونَ وَزيرًا(35)
اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور ہم نے ان کے ساتھ (ان کی معاونت کے لئے) ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو وزیر بنایا،(35)
فَقُلنَا اذهَبا إِلَى القَومِ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا فَدَمَّرنٰهُم تَدميرًا(36)
پھر ہم نے کہا: تم دونوں اس قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے (جب وہ ہماری تکذیب سے پھر بھی باز نہ آئے) تو ہم نے انہیں بالکل ہی ہلاک کر ڈالا،(36)
وَقَومَ نوحٍ لَمّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ أَغرَقنٰهُم وَجَعَلنٰهُم لِلنّاسِ ءايَةً ۖ وَأَعتَدنا لِلظّٰلِمينَ عَذابًا أَليمًا(37)
اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کو (بھی)، جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا (تو) ہم نے انہیں غرق کر ڈالا اور ہم نے انہیں (دوسرے) لوگوں کے لئے نشانِ عبرت بنا دیا اور ہم نے ظالموں کے لئے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے،(37)
وَعادًا وَثَمودَا۟ وَأَصحٰبَ الرَّسِّ وَقُرونًا بَينَ ذٰلِكَ كَثيرًا(38)
اور عاد اور ثمود اور باشندگانِ رس کو، اور ان کے درمیان بہت سی(اور) امتوں کو (بھی ہلاک کر ڈالا)،(38)
وَكُلًّا ضَرَبنا لَهُ الأَمثٰلَ ۖ وَكُلًّا تَبَّرنا تَتبيرًا(39)
اور ہم نے (ان میں سے) ہر ایک (کی نصیحت) کے لئے مثالیں بیان کیں اور (جب وہ سرکشی سے باز نہ آئے تو) ہم نے ان سب کو نیست و نابود کر دیا،(39)
وَلَقَد أَتَوا عَلَى القَريَةِ الَّتى أُمطِرَت مَطَرَ السَّوءِ ۚ أَفَلَم يَكونوا يَرَونَها ۚ بَل كانوا لا يَرجونَ نُشورًا(40)
اور بیشک یہ (کفار) اس بستی پر سے گزرے ہیں جس پر بری طرح (پتھروں کی) بارش برسائی گئی تھی، تو کیا یہ اس (تباہ شدہ بستی) کو دیکھتے نہ تھے بلکہ یہ تو (مرنے کے بعد) اٹھائے جانے کی امید ہی نہیں رکھتے،(40)
وَإِذا رَأَوكَ إِن يَتَّخِذونَكَ إِلّا هُزُوًا أَهٰذَا الَّذى بَعَثَ اللَّهُ رَسولًا(41)
اور (اے حبیبِ مکرّم!) جب (بھی) وہ آپ کو دیکھتے ہیں آپ کا مذاق اڑانے کے سوا کچھ نہیں کرتے (اور کہتے ہیں:) کیا یہی وہ (شخص) ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے،(41)
إِن كادَ لَيُضِلُّنا عَن ءالِهَتِنا لَولا أَن صَبَرنا عَلَيها ۚ وَسَوفَ يَعلَمونَ حينَ يَرَونَ العَذابَ مَن أَضَلُّ سَبيلًا(42)
قریب تھا کہ یہ ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکا دیتا اگر ہم ان (کی پرستش) پر ثابت قدم نہ رہتے اور وہ عنقریب جان لیں گے جس وقت عذاب دیکھیں گے کہ کون زیادہ گمراہ تھا،(42)
أَرَءَيتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوىٰهُ أَفَأَنتَ تَكونُ عَلَيهِ وَكيلًا(43)
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟ تو کیا آپ اس پر نگہبان بنیں گے،(43)
أَم تَحسَبُ أَنَّ أَكثَرَهُم يَسمَعونَ أَو يَعقِلونَ ۚ إِن هُم إِلّا كَالأَنعٰمِ ۖ بَل هُم أَضَلُّ سَبيلًا(44)
کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں؟ (نہیں) وہ تو چوپایوں کی مانند (ہو چکے) ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ ہیں،(44)
أَلَم تَرَ إِلىٰ رَبِّكَ كَيفَ مَدَّ الظِّلَّ وَلَو شاءَ لَجَعَلَهُ ساكِنًا ثُمَّ جَعَلنَا الشَّمسَ عَلَيهِ دَليلًا(45)
کیا آپ نے اپنے رب (کی قدرت) کی طرف نگاہ نہیں ڈالی کہ وہ کس طرح (دوپہر تک) سایہ دراز کرتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اسے ضرور ساکن کر دیتا پھر ہم نے سورج کو اس (سایہ) پر دلیل بنایا ہے،(45)
ثُمَّ قَبَضنٰهُ إِلَينا قَبضًا يَسيرًا(46)
پھر ہم آہستہ آہستہ اس (سایہ) کو اپنی طرف کھینچ کر سمیٹ لیتے ہیں،(46)
وَهُوَ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الَّيلَ لِباسًا وَالنَّومَ سُباتًا وَجَعَلَ النَّهارَ نُشورًا(47)
اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات کو پوشاک (کی طرح ڈھانک لینے والا) بنایا اور نیند کو (تمہارے لئے) آرام (کا باعث) بنایا اور دن کو (کام کاج کے لئے) اٹھ کھڑے ہونے کا وقت بنایا،(47)
وَهُوَ الَّذى أَرسَلَ الرِّيٰحَ بُشرًا بَينَ يَدَى رَحمَتِهِ ۚ وَأَنزَلنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهورًا(48)
اور وہی ہے جو اپنی رحمت (کی بارش) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے، اور ہم ہی آسمان سے پاک (صاف کرنے والا) پانی اتارتے ہیں،(48)
لِنُحۦِىَ بِهِ بَلدَةً مَيتًا وَنُسقِيَهُ مِمّا خَلَقنا أَنعٰمًا وَأَناسِىَّ كَثيرًا(49)
تاکہ اس کے ذریعے ہم (کسی بھی) مُردہ شہر کو زندگی بخشیں اور (مزید یہ کہ) ہم یہ (پانی) اپنے پیدا کئے ہوئے بہت سے چوپایوں اور (بادیہ نشین) انسانوں کو پلائیں،(49)
وَلَقَد صَرَّفنٰهُ بَينَهُم لِيَذَّكَّروا فَأَبىٰ أَكثَرُ النّاسِ إِلّا كُفورًا(50)
اور بیشک ہم اس (بارش) کو ان کے درمیان (مختلف شہروں اور وقتوں کے حساب سے) گھماتے (رہتے) ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں پھر بھی اکثر لوگوں نے بجز ناشکری کے (کچھ) قبول نہ کیا،(50)
وَلَو شِئنا لَبَعَثنا فى كُلِّ قَريَةٍ نَذيرًا(51)
اور اگر ہم چاہتے تو ہر ایک بستی میں ایک ڈر سنانے والا بھیج دیتے،(51)
فَلا تُطِعِ الكٰفِرينَ وَجٰهِدهُم بِهِ جِهادًا كَبيرًا(52)
پس (اے مردِ مومن!) تو کافروں کا کہنا نہ مان اور تو اس (قرآن کی دعوت اور دلائل) کے ذریعے ان کے ساتھ بڑا جہاد کر،(52)
۞ وَهُوَ الَّذى مَرَجَ البَحرَينِ هٰذا عَذبٌ فُراتٌ وَهٰذا مِلحٌ أُجاجٌ وَجَعَلَ بَينَهُما بَرزَخًا وَحِجرًا مَحجورًا(53)
اور وہی ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا۔ یہ (ایک) میٹھا نہایت شیریں ہے اور یہ (دوسرا) کھاری نہایت تلخ ہے۔ اور اس نے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اور مضبوط رکاوٹ بنا دی،(53)
وَهُوَ الَّذى خَلَقَ مِنَ الماءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهرًا ۗ وَكانَ رَبُّكَ قَديرًا(54)
اور وہی ہے جس نے پانی (کی مانند ایک نطفہ) سے آدمی کو پیدا کیا پھر اسے نسب اور سسرال (کی قرابت) والا بنایا، اور آپ کا رب بڑی قدرت والا ہے،(54)
وَيَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَنفَعُهُم وَلا يَضُرُّهُم ۗ وَكانَ الكافِرُ عَلىٰ رَبِّهِ ظَهيرًا(55)
اور وہ (کفار) اللہ کے سوا ان (بتوں) کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں نہ (تو) نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ (ہی) انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور کافر اپنے رب (کی نافرمانی) پر (ہمیشہ شیطان کا) مددگار ہوتا ہے،(55)
وَما أَرسَلنٰكَ إِلّا مُبَشِّرًا وَنَذيرًا(56)
اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر (اللہ کے اطاعت گزار بندوں کو) خوشخبری سنانے والا اور (بغاوت شعار لوگوں کو) ڈر سنانے والا بنا کر،(56)
قُل ما أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ مِن أَجرٍ إِلّا مَن شاءَ أَن يَتَّخِذَ إِلىٰ رَبِّهِ سَبيلًا(57)
آپ فرما دیجئے کہ میں تم سے اس (تبلیغ) پر کچھ بھی معاوضہ نہیں مانگتا مگر جو شخص اپنے رب تک (پہنچنے کا) راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے (کرلے)،(57)
وَتَوَكَّل عَلَى الحَىِّ الَّذى لا يَموتُ وَسَبِّح بِحَمدِهِ ۚ وَكَفىٰ بِهِ بِذُنوبِ عِبادِهِ خَبيرًا(58)
اور آپ اس (ہمیشہ) زندہ رہنے والے (رب) پر بھروسہ کیجئے جو کبھی نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہئے، اور اس کا اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہونا کافی ہے،(58)
الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما فى سِتَّةِ أَيّامٍ ثُمَّ استَوىٰ عَلَى العَرشِ ۚ الرَّحمٰنُ فَسـَٔل بِهِ خَبيرًا(59)
جس نے آسمانی کرّوں اور زمین کو اور اس (کائنات) کو جو ان دونوں کے درمیان ہے چھ اَدوار میں پیدا فرمایا٭ پھر وہ (حسبِ شان) عرش پر جلوہ افروز ہوا (وہ) رحمان ہے، (اے معرفتِ حق کے طالب!) تو اس کے بارے میں کسی باخبر سے پوچھ (بے خبر اس کا حال نہیں جانتے)، ٭ (ستۃ اَیّام سے مراد چھ اَدوارِ تخلیق ہیں، معروف معنٰی میں چھ دن نہیں کیونکہ یہاں تو خود زمین اور جملہ آسمانی کرّوں، کہکشاؤں، ستاروں، سیاروں اور خلاؤں کی پیدائش کا زمانہ بیان ہو رہا ہے، اس وقت رات اور دن کا وجود کہاں تھا؟)(59)
وَإِذا قيلَ لَهُمُ اسجُدوا لِلرَّحمٰنِ قالوا وَمَا الرَّحمٰنُ أَنَسجُدُ لِما تَأمُرُنا وَزادَهُم نُفورًا ۩(60)
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم رحمان کو سجدہ کرو تو وہ (منکرینِ حق) کہتے ہیں کہ رحمان کیا (چیز) ہے؟ کیا ہم اسی کو سجدہ کرنے لگ جائیں جس کا آپ ہمیں حکم دے دیں اور اس (حکم) نے انہیں نفرت میں اور بڑھا دیا،(60)
تَبارَكَ الَّذى جَعَلَ فِى السَّماءِ بُروجًا وَجَعَلَ فيها سِرٰجًا وَقَمَرًا مُنيرًا(61)
وہی بڑی برکت و عظمت والا ہے جس نے آسمانی کائنات میں (کہکشاؤں کی شکل میں) سماوی کرّوں کی وسیع منزلیں بنائیں اور اس میں (سورج کو روشنی اور تپش دینے والا) چراغ بنایا اور (اس نظامِ شمسی کے اندر) چمکنے والا چاند بنایا،(61)
وَهُوَ الَّذى جَعَلَ الَّيلَ وَالنَّهارَ خِلفَةً لِمَن أَرادَ أَن يَذَّكَّرَ أَو أَرادَ شُكورًا(62)
اور وہی ذات ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے گردش کرنے والا بنایا اس کے لئے جو غور و فکر کرنا چاہے یا شکر گزاری کا ارادہ کرے (ان تخلیقی قدرتوں میں نصیحت و ہدایت ہے)،(62)
وَعِبادُ الرَّحمٰنِ الَّذينَ يَمشونَ عَلَى الأَرضِ هَونًا وَإِذا خاطَبَهُمُ الجٰهِلونَ قالوا سَلٰمًا(63)
اور (خدائے) رحمان کے (مقبول) بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب ان سے جاہل (اکھڑ) لوگ (ناپسندیدہ) بات کرتے ہیں تو وہ سلام کہتے (ہوئے الگ ہو جاتے) ہیں،(63)
وَالَّذينَ يَبيتونَ لِرَبِّهِم سُجَّدًا وَقِيٰمًا(64)
اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کے لئے سجدہ ریزی اور قیامِ (نِیاز) میں راتیں بسر کرتے ہیں،(64)
وَالَّذينَ يَقولونَ رَبَّنَا اصرِف عَنّا عَذابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذابَها كانَ غَرامًا(65)
اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو (ہمہ وقت حضورِ باری تعالیٰ میں) عرض گزار رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! تو ہم سے دوزخ کا عذاب ہٹا لے، بیشک اس کا عذاب بڑا مہلک (اور دائمی) ہے،(65)
إِنَّها ساءَت مُستَقَرًّا وَمُقامًا(66)
بیشک وہ (عارضی ٹھہرنے والوں کے لئے) بُری قرار گاہ اور (دائمی رہنے والوں کے لئے) بُری قیام گاہ ہے،(66)
وَالَّذينَ إِذا أَنفَقوا لَم يُسرِفوا وَلَم يَقتُروا وَكانَ بَينَ ذٰلِكَ قَوامًا(67)
اور (یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بے جا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان کا خرچ کرنا (زیادتی اور کمی کی) ان دو حدوں کے درمیان اعتدال پر (مبنی) ہوتا ہے،(67)
وَالَّذينَ لا يَدعونَ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ وَلا يَقتُلونَ النَّفسَ الَّتى حَرَّمَ اللَّهُ إِلّا بِالحَقِّ وَلا يَزنونَ ۚ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ يَلقَ أَثامًا(68)
اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی پوجا نہیں کرتے اور نہ (ہی) کسی ایسی جان کو قتل کرتے ہیں جسے بغیرِ حق مارنا اللہ نے حرام فرمایا ہے اور نہ (ہی) بدکاری کرتے ہیں، اور جو شخص یہ کام کرے گا وہ سزائے گناہ پائے گا،(68)
يُضٰعَف لَهُ العَذابُ يَومَ القِيٰمَةِ وَيَخلُد فيهِ مُهانًا(69)
اس کے لئے قیامت کے دن عذاب دو گنا کر دیا جائے گا اور وہ اس میں ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ رہے گا،(69)
إِلّا مَن تابَ وَءامَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صٰلِحًا فَأُولٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّـٔاتِهِم حَسَنٰتٍ ۗ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا(70)
مگر جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا تو یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جن کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(70)
وَمَن تابَ وَعَمِلَ صٰلِحًا فَإِنَّهُ يَتوبُ إِلَى اللَّهِ مَتابًا(71)
اور جس نے توبہ کر لی اور نیک عمل کیا تو اس نے اللہ کی طرف (وہ) رجوع کیا جو رجوع کا حق تھا،(71)
وَالَّذينَ لا يَشهَدونَ الزّورَ وَإِذا مَرّوا بِاللَّغوِ مَرّوا كِرامًا(72)
اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو کذب اور باطل کاموں میں (قولاً اور عملاً دونوں صورتوں میں) حاضر نہیں ہوتے اور جب بے ہودہ کاموں کے پاس سے گزرتے ہیں تو (دامن بچاتے ہوئے) نہایت وقار اور متانت کے ساتھ گزر جاتے ہیں،(72)
وَالَّذينَ إِذا ذُكِّروا بِـٔايٰتِ رَبِّهِم لَم يَخِرّوا عَلَيها صُمًّا وَعُميانًا(73)
اور (یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں ان کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے (بلکہ غور و فکر بھی کرتے ہیں)،(73)
وَالَّذينَ يَقولونَ رَبَّنا هَب لَنا مِن أَزوٰجِنا وَذُرِّيّٰتِنا قُرَّةَ أَعيُنٍ وَاجعَلنا لِلمُتَّقينَ إِمامًا(74)
اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو (حضورِ باری تعالیٰ میں) عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے،(74)
أُولٰئِكَ يُجزَونَ الغُرفَةَ بِما صَبَروا وَيُلَقَّونَ فيها تَحِيَّةً وَسَلٰمًا(75)
انہی لوگوں کو (جنت میں) بلند ترین محلات ان کے صبر کرنے کی جزا کے طور پر بخشے جائیں گے اور وہاں دعائے خیر اور سلام کے ساتھ ان کا استقبال کیا جائے گا،(75)
خٰلِدينَ فيها ۚ حَسُنَت مُستَقَرًّا وَمُقامًا(76)
یہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں وہ (بلند محلاتِ جنت) بہترین قرار گاہ اور (عمدہ) قیام گاہ ہیں،(76)
قُل ما يَعبَؤُا۟ بِكُم رَبّى لَولا دُعاؤُكُم ۖ فَقَد كَذَّبتُم فَسَوفَ يَكونُ لِزامًا(77)
فرما دیجئے: میرے رب کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں اگر تم (اس کی) عبادت نہ کرو، پس واقعی تم نے (اسے) جھٹلایا ہے تو اب یہ (جھٹلانا تمہارے لئے) دائمی عذاب بنا رہے گا،(77)