Al-Fajr( الفجر)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَالفَجرِ(1)
اس صبح کی قَسم (جس سے ظلمتِ شب چھٹ گئی)٭، ٭ مراد ہر روز کی صبح یا نمازِ فجر ہے یا بطورِ خاص ماہ ذی الحجہ کی پہلی صبح یا یکم محرم کی صبح ہے یا عید الاضحٰی کی صبح۔ اس سے مراد سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی بھی ہے جن کی بعثت سے شبِ ظلمت کا خاتمہ ہوا اور صبحِ ایمان پھوٹی۔(1)
وَلَيالٍ عَشرٍ(2)
اور دس (مبارک) راتوں کی قَسم٭، ٭ مراد ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں یا پہلے عشرۂ محرّم کی راتیں ہیں یا اوّل عشرۂ ذی الحجہ کی راتیں ہیں جو برکات و درجات سے معمور ہیں۔(2)
وَالشَّفعِ وَالوَترِ(3)
اور جفت کی قَسم اور طاق کی قَسم٭، ٭ جفت (جوڑا) سے مراد کل مخلوق ہے جو جوڑوں کی صورت میں پیدا کی گئی ہے، اور طاق (فرد و تنہا) سے مراد خالق ہے جو وحدہ لا شریک ہے۔ یا شَفع یومِ نحر (قربانی) اور وَتر یومِ عرفہ (حج) ہے، یا شَفع سے مراد دنیا کے شب و روز ہیں اور وَتر سے مراد یومِ قیامت ہے جس کی کوئی شب نہ ہوگی۔ یا شَفع سے مراد سال بھر کی عام جفت راتیں ہیں اور وَتر سے مراد سال بھر کی برکت والی طاق راتیں ہیں، مثلاً شبِ معراج، شبِ برات اور شبِ قدر وغیرہ جو پے در پے رجب، شعبان اور رمضان میں آتی ہیں۔ یا شَفع سے مراد حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواء علیہا السلام کا پہلا جوڑا ہے اور وَتر سے مراد تنہا حضرت آدم علیہ السلام، جن سے تخلیقِ انسانیت کی ابتداء ہوئی۔(3)
وَالَّيلِ إِذا يَسرِ(4)
اور رات کی قسم جب گزر چلے (مراد ہر شب ہے یا بطورِ خاص شبِ مزدلفہ یا شبِ قدر)،(4)
هَل فى ذٰلِكَ قَسَمٌ لِذى حِجرٍ(5)
بیشک ان میں عقل مند کے لئے بڑی قسم ہے،(5)
أَلَم تَرَ كَيفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعادٍ(6)
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے (قومِ) عاد کے ساتھ کیسا (سلوک) کیا؟،(6)
إِرَمَ ذاتِ العِمادِ(7)
(جو اہلِ) اِرم تھے (اور) بڑے بڑے ستونوں (کی طرح دراز قد اور اونچے محلات) والے تھے،(7)
الَّتى لَم يُخلَق مِثلُها فِى البِلٰدِ(8)
جن کا مثل (دنیا کے) ملکوں میں (کوئی بھی) پیدا نہیں کیا گیا،(8)
وَثَمودَ الَّذينَ جابُوا الصَّخرَ بِالوادِ(9)
اور ثمود (کے ساتھ کیا سلوک ہوا) جنہوں نے وادئ (قری) میں چٹانوں کو کاٹ (کر پتھروں سے سینکڑوں شہروں کو تعمیر کر) ڈالا تھا،(9)
وَفِرعَونَ ذِى الأَوتادِ(10)
اور فرعون (کا کیا حشر ہوا) جو بڑے لشکروں والا (یا لوگوں کو میخوں سے سزا دینے والا) تھا،(10)
الَّذينَ طَغَوا فِى البِلٰدِ(11)
(یہ) وہ لوگ (تھے) جنہوں نے (اپنے اپنے) ملکوں میں سرکشی کی تھی،(11)
فَأَكثَروا فيهَا الفَسادَ(12)
پھر ان میں بڑی فساد انگیزی کی تھی،(12)
فَصَبَّ عَلَيهِم رَبُّكَ سَوطَ عَذابٍ(13)
تو آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا،(13)
إِنَّ رَبَّكَ لَبِالمِرصادِ(14)
بیشک آپ کا رب (سرکشوں اور نافرمانوں کی) خوب تاک میں ہے،(14)
فَأَمَّا الإِنسٰنُ إِذا مَا ابتَلىٰهُ رَبُّهُ فَأَكرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقولُ رَبّى أَكرَمَنِ(15)
مگر انسان (ایسا ہے) کہ جب اس کا رب اسے (راحت و آسائش دے کر) آزماتا ہے اور اسے عزت سے نوازتا ہے اور اسے نعمتیں بخشتا ہے تو وہ کہتا ہے: میرے رب نے مجھ پر کرم فرمایا،(15)
وَأَمّا إِذا مَا ابتَلىٰهُ فَقَدَرَ عَلَيهِ رِزقَهُ فَيَقولُ رَبّى أَهٰنَنِ(16)
لیکن جب وہ اسے (تکلیف و مصیبت دے کر) آزماتا ہے اور اس پر اس کا رزق تنگ کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا،(16)
كَلّا ۖ بَل لا تُكرِمونَ اليَتيمَ(17)
یہ بات نہیں بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ عزت اور مال و دولت کے ملنے پر) تم یتیموں کی قدر و اِکرام نہیں کرتے،(17)
وَلا تَحٰضّونَ عَلىٰ طَعامِ المِسكينِ(18)
اور نہ ہی تم مسکینوں (یعنی غریبوں اور محتاجوں) کو کھانا کھلانے کی (معاشرے میں) ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہو،(18)
وَتَأكُلونَ التُّراثَ أَكلًا لَمًّا(19)
اور وراثت کا سارا مال سمیٹ کر (خود ہی) کھا جاتے ہو (اس میں سے افلاس زدہ لوگوں کا حق نہیں نکالتے)،(19)
وَتُحِبّونَ المالَ حُبًّا جَمًّا(20)
اور تم مال و دولت سے حد درجہ محبت رکھتے ہو،(20)
كَلّا إِذا دُكَّتِ الأَرضُ دَكًّا دَكًّا(21)
یقیناً جب زمین پاش پاش کر کے ریزہ ریزہ کر دی جائے گی،(21)
وَجاءَ رَبُّكَ وَالمَلَكُ صَفًّا صَفًّا(22)
اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اور فرشتے قطار در قطار (اس کے حضور) حاضر ہوں گے،(22)
وَجِا۟يءَ يَومَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ يَومَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الإِنسٰنُ وَأَنّىٰ لَهُ الذِّكرىٰ(23)
اور اس دن دوزخ پیش کی جائے گی، اس دن انسان کو سمجھ آجائے گی مگر (اب) اسے نصیحت کہاں (فائدہ مند) ہوگی،(23)
يَقولُ يٰلَيتَنى قَدَّمتُ لِحَياتى(24)
وہ کہے گا: اے کاش! میں نے اپنی (اس اصل) زندگی کے لئے (کچھ) آگے بھیج دیا ہوتا (جو آج میرے کام آتا)،(24)
فَيَومَئِذٍ لا يُعَذِّبُ عَذابَهُ أَحَدٌ(25)
سو اس دن نہ اس کے عذاب کی طرح کوئی عذاب دے سکے گا،(25)
وَلا يوثِقُ وَثاقَهُ أَحَدٌ(26)
اور نہ اس کے جکڑنے کی طرح کوئی جکڑ سکے گا،(26)
يٰأَيَّتُهَا النَّفسُ المُطمَئِنَّةُ(27)
اے اطمینان پا جانے والے نفس،(27)
ارجِعى إِلىٰ رَبِّكِ راضِيَةً مَرضِيَّةً(28)
تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ آکہ تو اس کی رضا کا طالب بھی ہو اور اس کی رضا کا مطلوب بھی (گویا اس کی رضا تیری مطلوب ہو اور تیری رضا اس کی مطلوب)،(28)
فَادخُلى فى عِبٰدى(29)
پس تو میرے (کامل) بندوں میں شامل ہو جا،(29)
وَادخُلى جَنَّتى(30)
اور میری جنتِ (قربت و دیدار) میں داخل ہو جا،(30)