Al-Balad( البلد)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ لا أُقسِمُ بِهٰذَا البَلَدِ(1)
میں اس شہر (مکہ) کی قَسم کھاتا ہوں،(1)
وَأَنتَ حِلٌّ بِهٰذَا البَلَدِ(2)
(اے حبیبِ مکرّم!) اس لئے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیں٭، ٭ یہ ترجمہ ”لا زائدہ“ کے اعتبار سے ہے۔ لا ”نفئ صحیح“ کے لئے ہو تو ترجمہ یوں ہوگا: میں (اس وقت) اس شہر کی قَسم نہیں کھاؤں گا (اے حبیب!) جب آپ اس شہر سے رخصت ہو جائیں گے۔(2)
وَوالِدٍ وَما وَلَدَ(3)
(اے حبیبِ مکرّم! آپ کے) والد (آدم یا ابراہیم علیہما السلام) کی قَسم اور (ان کی) قَسم جن کی ولادت ہوئی٭، ٭ یعنی آدم علیہ السلام کی ذریّتِ صالحہ یا آپ ہی کی ذات گرامی جن کے باعث یہ شہرِ مکہ بھی لائقِ قَسم ٹھہرا ہے۔(3)
لَقَد خَلَقنَا الإِنسٰنَ فى كَبَدٍ(4)
بیشک ہم نے انسان کو مشقت میں (مبتلا رہنے والا) پیدا کیا ہے،(4)
أَيَحسَبُ أَن لَن يَقدِرَ عَلَيهِ أَحَدٌ(5)
کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس پر ہرگز کوئی بھی قابو نہ پا سکے گا؟،(5)
يَقولُ أَهلَكتُ مالًا لُبَدًا(6)
وہ (بڑے فخر سے) کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال خرچ کیا ہے،(6)
أَيَحسَبُ أَن لَم يَرَهُ أَحَدٌ(7)
کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے (یہ فضول خرچیاں کرتے ہوئے) کسی نے نہیں دیکھا،(7)
أَلَم نَجعَل لَهُ عَينَينِ(8)
کیا ہم نے اس کے لئے دو آنکھیں نہیں بنائیں،(8)
وَلِسانًا وَشَفَتَينِ(9)
اور (اسے) ایک زبان اور دو ہونٹ (نہیں دئیے)،(9)
وَهَدَينٰهُ النَّجدَينِ(10)
اور ہم نے اسے (خیر و شر کے) دو نمایاں راستے (بھی) دکھا دیئے،(10)
فَلَا اقتَحَمَ العَقَبَةَ(11)
وہ تو (دینِ حق اور عملِ خیر کی) دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہی نہیں ہوا،(11)
وَما أَدرىٰكَ مَا العَقَبَةُ(12)
اور آپ کیا سمجھے ہیں کہ وہ (دینِ حق کے مجاہدہ کی) گھاٹی کیا ہے،(12)
فَكُّ رَقَبَةٍ(13)
وہ (غلامی و محکومی کی زندگی سے) کسی گردن کا آزاد کرانا ہے،(13)
أَو إِطعٰمٌ فى يَومٍ ذى مَسغَبَةٍ(14)
یا بھوک والے دن (یعنی قحط و اَفلاس کے دور میں غریبوں اور محروم المعیشت لوگوں کو) کھانا کھلانا ہے (یعنی ان کے معاشی تعطل اور ابتلاء کو ختم کرنے کی جدّ و جہد کرنا ہے)،(14)
يَتيمًا ذا مَقرَبَةٍ(15)
قرابت دار یتیم کو،(15)
أَو مِسكينًا ذا مَترَبَةٍ(16)
یا شدید غربت کے مارے ہوئے محتاج کو جو محض خاک نشین (اور بے گھر) ہے،(16)
ثُمَّ كانَ مِنَ الَّذينَ ءامَنوا وَتَواصَوا بِالصَّبرِ وَتَواصَوا بِالمَرحَمَةِ(17)
پھر (شرط یہ ہے کہ ایسی جدّ و جہد کرنے والا) وہ شخص ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے ہیں اور ایک دوسرے کو صبر و تحمل کی نصیحت کرتے ہیں اور باہم رحمت و شفقت کی تاکید کرتے ہیں،(17)
أُولٰئِكَ أَصحٰبُ المَيمَنَةِ(18)
یہی لوگ دائیں طرف والے (یعنی اہلِ سعادت و مغفرت) ہیں،(18)
وَالَّذينَ كَفَروا بِـٔايٰتِنا هُم أَصحٰبُ المَشـَٔمَةِ(19)
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ بائیں طرف والے ہیں (یعنی اہلِ شقاوت و عذاب) ہیں،(19)
عَلَيهِم نارٌ مُؤصَدَةٌ(20)
ان پر (ہر طرف سے) بند کی ہوئی آگ (چھائی) ہوگی،(20)