Al-Anbiyaa( الأنبياء)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ اقتَرَبَ لِلنّاسِ حِسابُهُم وَهُم فى غَفلَةٍ مُعرِضونَ(1)
لوگوں کے لئے ان کے حساب کا وقت قریب آپہنچا مگر وہ غفلت میں (پڑے طاعت سے) منہ پھیرے ہوئے ہیں،(1)
ما يَأتيهِم مِن ذِكرٍ مِن رَبِّهِم مُحدَثٍ إِلَّا استَمَعوهُ وَهُم يَلعَبونَ(2)
ان کے پاس ان کے رب کی جانب سے جب بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو وہ اسے یوں (بے پرواہی سے) سنتے ہیں گویا وہ کھیل کود میں لگے ہوئے ہیں،(2)
لاهِيَةً قُلوبُهُم ۗ وَأَسَرُّوا النَّجوَى الَّذينَ ظَلَموا هَل هٰذا إِلّا بَشَرٌ مِثلُكُم ۖ أَفَتَأتونَ السِّحرَ وَأَنتُم تُبصِرونَ(3)
ان کے دل غافل ہو چکے ہیں، اور (یہ) ظالم لوگ (آپ کے خلاف) آہستہ آہستہ سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ تو محض تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے، کیا پھر (بھی) تم (اس کے) جادو کے پاس جاتے ہو حالانکہ تم دیکھ رہے ہو،(3)
قالَ رَبّى يَعلَمُ القَولَ فِى السَّماءِ وَالأَرضِ ۖ وَهُوَ السَّميعُ العَليمُ(4)
(نبئ معظّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) فرمایا کہ میرا رب آسمان اور زمین میں کہی جانے والی (ہر) بات کو جانتا ہے اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے،(4)
بَل قالوا أَضغٰثُ أَحلٰمٍ بَلِ افتَرىٰهُ بَل هُوَ شاعِرٌ فَليَأتِنا بِـٔايَةٍ كَما أُرسِلَ الأَوَّلونَ(5)
بلکہ (ظالموں نے یہاں تک) کہا کہ یہ (قرآن) پریشان خوابوں (میں دیکھی ہوئی باتیں) ہیں بلکہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے (خود ہی) گھڑ لیا ہے بلکہ (یہ کہ) وہ شاعر ہے، (اگر یہ سچا ہے) تو یہ (بھی) ہمارے پاس کوئی نشانی لے آئے جیسا کہ اگلے (رسول نشانیوں کے ساتھ) بھیجے گئے تھے،(5)
ما ءامَنَت قَبلَهُم مِن قَريَةٍ أَهلَكنٰها ۖ أَفَهُم يُؤمِنونَ(6)
ان سے پہلے ہم نے جس بھی بستی کو ہلاک کیا وہ (انہی نشانیوں پر) ایمان نہیں لائی تھی، تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے،(6)
وَما أَرسَلنا قَبلَكَ إِلّا رِجالًا نوحى إِلَيهِم ۖ فَسـَٔلوا أَهلَ الذِّكرِ إِن كُنتُم لا تَعلَمونَ(7)
اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ سے پہلے (بھی) مَردوں کو ہی (رسول بنا کر) بھیجا تھا ہم ان کی طرف وحی بھیجا کرتے تھے (لوگو!) تم اہلِ ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تم (خود) نہ جانتے ہو،(7)
وَما جَعَلنٰهُم جَسَدًا لا يَأكُلونَ الطَّعامَ وَما كانوا خٰلِدينَ(8)
اور ہم نے ان (انبیاء) کو ایسے جسم والا نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ (دنیا میں بہ حیاتِ ظاہری) ہمیشہ رہنے والے تھے،(8)
ثُمَّ صَدَقنٰهُمُ الوَعدَ فَأَنجَينٰهُم وَمَن نَشاءُ وَأَهلَكنَا المُسرِفينَ(9)
پھر ہم نے انہیں اپنا وعدہ سچا کر دکھایا پھر ہم نے انہیں اور جسے ہم نے چاہا نجات بخشی اور ہم نے حد سے بڑھ جانے والوں کو ہلاک کر ڈالا،(9)
لَقَد أَنزَلنا إِلَيكُم كِتٰبًا فيهِ ذِكرُكُم ۖ أَفَلا تَعقِلونَ(10)
بیشک ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں تمہاری نصیحت (کا سامان) ہے، کیا تم عقل نہیں رکھتے،(10)
وَكَم قَصَمنا مِن قَريَةٍ كانَت ظالِمَةً وَأَنشَأنا بَعدَها قَومًا ءاخَرينَ(11)
اور ہم نے کتنی ہی بستیوں کو تباہ و برباد کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد ہم نے اور قوموں کو پیدا فرما دیا،(11)
فَلَمّا أَحَسّوا بَأسَنا إِذا هُم مِنها يَركُضونَ(12)
پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب (کی آمد) کو محسوس کیا تو وہ وہاں سے تیزی کے ساتھ بھاگنے لگے،(12)
لا تَركُضوا وَارجِعوا إِلىٰ ما أُترِفتُم فيهِ وَمَسٰكِنِكُم لَعَلَّكُم تُسـَٔلونَ(13)
(ان سے کہا گیا:) تم جلدی مت بھاگو اور اسی جگہ واپس لوٹ جاؤ جس میں تمہیں آسائشیں دی گئی تھیں اور اپنی (پرتعیش) رہائش گاہوں کی طرف (پلٹ جاؤ) شاید تم سے باز پرس کی جائے،(13)
قالوا يٰوَيلَنا إِنّا كُنّا ظٰلِمينَ(14)
وہ کہنے لگے: ہائے شومئ قسمت! بیشک ہم ظالم تھے،(14)
فَما زالَت تِلكَ دَعوىٰهُم حَتّىٰ جَعَلنٰهُم حَصيدًا خٰمِدينَ(15)
سو ہمیشہ ان کی یہی فریاد رہی یہاں تک کہ ہم نے ان کو کٹی ہوئی کھیتی (اور) بجھی ہوئی آگ (کے ڈھیر) کی طرح بنا دیا،(15)
وَما خَلَقنَا السَّماءَ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما لٰعِبينَ(16)
اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشے کے طور پر (بے کار) نہیں بنایا،(16)
لَو أَرَدنا أَن نَتَّخِذَ لَهوًا لَاتَّخَذنٰهُ مِن لَدُنّا إِن كُنّا فٰعِلينَ(17)
اگر ہم کوئی کھیل تماشا اختیار کرنا چاہتے تو اسے اپنی ہی طرف سے اختیار کر لیتے اگر ہم (ایسا) کرنے والے ہوتے،(17)
بَل نَقذِفُ بِالحَقِّ عَلَى البٰطِلِ فَيَدمَغُهُ فَإِذا هُوَ زاهِقٌ ۚ وَلَكُمُ الوَيلُ مِمّا تَصِفونَ(18)
بلکہ ہم حق سے باطل پر پوری قوت کے ساتھ چوٹ لگاتے ہیں سو حق اسے کچل دیتا ہے پس وہ (باطل) ہلاک ہو جاتا ہے، اور تمہارے لئے ان باتوں کے باعث تباہی ہے جو تم بیان کرتے ہو،(18)
وَلَهُ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ وَمَن عِندَهُ لا يَستَكبِرونَ عَن عِبادَتِهِ وَلا يَستَحسِرونَ(19)
اور جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کا (بندہ و مملوک) ہے، اور جو (فرشتے) اس کی قربت میں (رہتے) ہیں وہ نہ تو اس کی عبادت سے تکبّر کرتے ہیں اور نہ وہ (اس کی طاعت بجا لاتے ہوئے) تھکتے ہیں،(19)
يُسَبِّحونَ الَّيلَ وَالنَّهارَ لا يَفتُرونَ(20)
وہ رات دن (اس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں اور معمولی سا وقفہ بھی نہیں کرتے،(20)
أَمِ اتَّخَذوا ءالِهَةً مِنَ الأَرضِ هُم يُنشِرونَ(21)
کیا ان (کافروں) نے زمین (کی چیزوں) میں سے ایسے معبود بنا لئے ہیں جو (مُردوں کو) زندہ کر کے اٹھا سکتے ہیں،(21)
لَو كانَ فيهِما ءالِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتا ۚ فَسُبحٰنَ اللَّهِ رَبِّ العَرشِ عَمّا يَصِفونَ(22)
اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اﷲ کے سوا اور (بھی) معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہو جاتے، پس اﷲ جو عرش کا مالک ہے ان (باتوں) سے پاک ہے جو یہ (مشرک) بیان کرتے ہیں،(22)
لا يُسـَٔلُ عَمّا يَفعَلُ وَهُم يُسـَٔلونَ(23)
اس سے اس کی بازپرس نہیں کی جا سکتی وہ جو کچھ بھی کرتا ہے، اور ان سے (ہر کام کی) بازپرس کی جائے گی،(23)
أَمِ اتَّخَذوا مِن دونِهِ ءالِهَةً ۖ قُل هاتوا بُرهٰنَكُم ۖ هٰذا ذِكرُ مَن مَعِىَ وَذِكرُ مَن قَبلى ۗ بَل أَكثَرُهُم لا يَعلَمونَ الحَقَّ ۖ فَهُم مُعرِضونَ(24)
کیا ان (کافروں) نے اسے چھوڑ کر اور معبود بنا لئے ہیں؟ فرما دیجئے: اپنی دلیل لاؤ، یہ (قرآن) ان لوگوں کا ذکر ہے جو میرے ساتھ ہیں اور ان کا (بھی) ذکر ہے جو مجھ سے پہلے تھے بلکہ ان میں سے اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے اِس لئے وہ اِس سے رُوگردانی کئے ہوئے ہیں،(24)
وَما أَرسَلنا مِن قَبلِكَ مِن رَسولٍ إِلّا نوحى إِلَيهِ أَنَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا أَنا۠ فَاعبُدونِ(25)
اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر ہم اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم میری (ہی) عبادت کیا کرو،(25)
وَقالُوا اتَّخَذَ الرَّحمٰنُ وَلَدًا ۗ سُبحٰنَهُ ۚ بَل عِبادٌ مُكرَمونَ(26)
یہ لوگ کہتے ہیں کہ (خدائے) رحمان نے (فرشتوں کو اپنی) اولاد بنا رکھا ہے وہ پاک ہے، بلکہ (جن فرشتوں کو یہ اُس کی اولاد سمجھتے ہیں) وہ (اﷲ کے) معزز بندے ہیں،(26)
لا يَسبِقونَهُ بِالقَولِ وَهُم بِأَمرِهِ يَعمَلونَ(27)
وہ کسی بات (کے کرنے) میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے امر کی تعمیل کرتے رہتے ہیں،(27)
يَعلَمُ ما بَينَ أَيديهِم وَما خَلفَهُم وَلا يَشفَعونَ إِلّا لِمَنِ ارتَضىٰ وَهُم مِن خَشيَتِهِ مُشفِقونَ(28)
وہ (اﷲ) ان چیزوں کو جانتا ہے جو ان کے سامنے ہیں اور جو ان کے پیچھے ہیں اور وہ (اس کے حضور) سفارش بھی نہیں کرتے مگر اس کے لئے (کرتے ہیں) جس سے وہ خوش ہوگیا ہو اور وہ اس کی ہیبت و جلال سے خائف رہتے ہیں،(28)
۞ وَمَن يَقُل مِنهُم إِنّى إِلٰهٌ مِن دونِهِ فَذٰلِكَ نَجزيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذٰلِكَ نَجزِى الظّٰلِمينَ(29)
اور ان میں سے کون ہے جو کہہ دے کہ میں اس (اﷲ) کے سوا معبود ہوں سو ہم اسی کو دوزخ کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں،(29)
أَوَلَم يَرَ الَّذينَ كَفَروا أَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ كانَتا رَتقًا فَفَتَقنٰهُما ۖ وَجَعَلنا مِنَ الماءِ كُلَّ شَيءٍ حَىٍّ ۖ أَفَلا يُؤمِنونَ(30)
اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا، اور ہم نے (زمین پر) پیکرِ حیات (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی، تو کیا وہ (قرآن کے بیان کردہ اِن حقائق سے آگاہ ہو کر بھی) ایمان نہیں لاتے،(30)
وَجَعَلنا فِى الأَرضِ رَوٰسِىَ أَن تَميدَ بِهِم وَجَعَلنا فيها فِجاجًا سُبُلًا لَعَلَّهُم يَهتَدونَ(31)
اور ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑ بنا دیئے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کہیں وہ (اپنے مدار میں حرکت کرتے ہوئے) انہیں لے کر کانپنے لگے اور ہم نے اس (زمین) میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ (مختلف منزلوں تک پہنچنے کے لئے) راہ پاسکیں،(31)
وَجَعَلنَا السَّماءَ سَقفًا مَحفوظًا ۖ وَهُم عَن ءايٰتِها مُعرِضونَ(32)
اور ہم نے سماء (یعنی زمین کے بالائی کرّوں) کو محفوظ چھت بنایا (تاکہ اہلِ زمین کو خلا سے آنے والی مہلک قوتوں اور جارحانہ لہروں کے مضر اثرات سے بچائیں) اور وہ اِن (سماوی طبقات کی) نشانیوں سے رُوگرداں ہیں،(32)
وَهُوَ الَّذى خَلَقَ الَّيلَ وَالنَّهارَ وَالشَّمسَ وَالقَمَرَ ۖ كُلٌّ فى فَلَكٍ يَسبَحونَ(33)
اور وہی (اﷲ) ہے جس نے رات اور دن کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو (بھی)، تمام (آسمانی کرّے) اپنے اپنے مدار کے اندر تیزی سے تیرتے چلے جاتے ہیں،(33)
وَما جَعَلنا لِبَشَرٍ مِن قَبلِكَ الخُلدَ ۖ أَفَإِي۟ن مِتَّ فَهُمُ الخٰلِدونَ(34)
اور ہم نے آپ سے پہلے کسی اِنسان کو (دنیا کی ظاہری زندگی میں) بقائے دوام نہیں بخشی، تو کیا اگر آپ (یہاں سے) اِنتقال فرما جائیں تو یہ لوگ ہمیشہ رہنے والے ہیں؟،(34)
كُلُّ نَفسٍ ذائِقَةُ المَوتِ ۗ وَنَبلوكُم بِالشَّرِّ وَالخَيرِ فِتنَةً ۖ وَإِلَينا تُرجَعونَ(35)
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی میں آزمائش کے لئے مبتلا کرتے ہیں، اور تم ہماری ہی طرف پلٹائے جاؤ گے،(35)
وَإِذا رَءاكَ الَّذينَ كَفَروا إِن يَتَّخِذونَكَ إِلّا هُزُوًا أَهٰذَا الَّذى يَذكُرُ ءالِهَتَكُم وَهُم بِذِكرِ الرَّحمٰنِ هُم كٰفِرونَ(36)
اور جب کافر لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے محض تمسخر ہی کرنے لگتے ہیں (اور کہتے ہیں:) کیا یہی ہے وہ شخص جو تمہارے معبودوں کا (ردّ و انکار کے ساتھ) ذکر کرتا ہے؟ اور وہ خود (خدائے) رحمان کے ذکر سے انکاری ہیں،(36)
خُلِقَ الإِنسٰنُ مِن عَجَلٍ ۚ سَأُو۟ريكُم ءايٰتى فَلا تَستَعجِلونِ(37)
انسان (فطرتًا) جلد بازی میں سے پیدا کیا گیا ہے، میں تمہیں جلد ہی اپنی نشانیاں دکھاؤں گا پس تم جلدی کا مطالبہ نہ کرو،(37)
وَيَقولونَ مَتىٰ هٰذَا الوَعدُ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(38)
اور وہ کہتے ہیں: یہ وعدۂ (عذاب) کب (پورا) ہوگا اگر تم سچے ہو،(38)
لَو يَعلَمُ الَّذينَ كَفَروا حينَ لا يَكُفّونَ عَن وُجوهِهِمُ النّارَ وَلا عَن ظُهورِهِم وَلا هُم يُنصَرونَ(39)
اگر کافر لوگ وہ وقت جان لیتے جبکہ وہ (دوزخ کی) آگ کو نہ اپنے چہروں سے روک سکیں گے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی (تو پھر عذاب طلب کرنے میں جلدی کا شور نہ کرتے)،(39)
بَل تَأتيهِم بَغتَةً فَتَبهَتُهُم فَلا يَستَطيعونَ رَدَّها وَلا هُم يُنظَرونَ(40)
بلکہ (قیامت) انہیں اچانک آپہنچے گی تو انہیں بدحواس کر دے گی سو وہ نہ تو اسے لوٹا دینے کی طاقت رکھتے ہوں گے اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی،(40)
وَلَقَدِ استُهزِئَ بِرُسُلٍ مِن قَبلِكَ فَحاقَ بِالَّذينَ سَخِروا مِنهُم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(41)
اور بیشک آپ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ مذاق کیا گیا سو ان لوگوں میں سے انہیں جو تمسخر کرتے تھے اسی (عذاب) نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،(41)
قُل مَن يَكلَؤُكُم بِالَّيلِ وَالنَّهارِ مِنَ الرَّحمٰنِ ۗ بَل هُم عَن ذِكرِ رَبِّهِم مُعرِضونَ(42)
فرما دیجئے: شب و روز (خدائے) رحمان (کے عذاب) سے تمہاری حفاظت و نگہبانی کون کر سکتا ہے، بلکہ وہ اپنے (اسی) رب کے ذکر سے گریزاں ہے،(42)
أَم لَهُم ءالِهَةٌ تَمنَعُهُم مِن دونِنا ۚ لا يَستَطيعونَ نَصرَ أَنفُسِهِم وَلا هُم مِنّا يُصحَبونَ(43)
کیا ہمارے سوا ان کے کچھ اور معبود ہیں جو انہیں (عذاب سے) بچا سکیں، وہ تو خود اپنی ہی مدد پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ ہماری طرف سے انہیں کوئی تائید و رفاقت میسّر ہوگی،(43)
بَل مَتَّعنا هٰؤُلاءِ وَءاباءَهُم حَتّىٰ طالَ عَلَيهِمُ العُمُرُ ۗ أَفَلا يَرَونَ أَنّا نَأتِى الأَرضَ نَنقُصُها مِن أَطرافِها ۚ أَفَهُمُ الغٰلِبونَ(44)
بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو (فراخئ عیش سے) بہرہ مند فرمایا تھا یہاں تک کہ ان کی عمریں بھی دراز ہوتی گئیں، تو کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم (اب اسلامی فتوحات کے ذریعہ ان کے زیرِ تسلّط) علاقوں کو تمام اَطراف سے گھٹاتے چلے جا رہے ہیں، تو کیا وہ (اب) غلبہ پانے والے ہیں،(44)
قُل إِنَّما أُنذِرُكُم بِالوَحىِ ۚ وَلا يَسمَعُ الصُّمُّ الدُّعاءَ إِذا ما يُنذَرونَ(45)
فرما دیجئے: میں تو تمہیں صرف وحی کے ذریعہ ہی ڈراتا ہوں، اور بہرے پکار کو نہیں سنا کرتے جب بھی انہیں ڈرایا جائے،(45)
وَلَئِن مَسَّتهُم نَفحَةٌ مِن عَذابِ رَبِّكَ لَيَقولُنَّ يٰوَيلَنا إِنّا كُنّا ظٰلِمينَ(46)
اگر واقعتاً انہیں آپ کے رب کی طرف سے تھوڑا سا عذاب (بھی) چھو جائے تو وہ ضرور کہنے لگیں گے: ہائے ہماری بدقسمتی! بیشک ہم ہی ظالم تھے،(46)
وَنَضَعُ المَوٰزينَ القِسطَ لِيَومِ القِيٰمَةِ فَلا تُظلَمُ نَفسٌ شَيـًٔا ۖ وَإِن كانَ مِثقالَ حَبَّةٍ مِن خَردَلٍ أَتَينا بِها ۗ وَكَفىٰ بِنا حٰسِبينَ(47)
اور ہم قیامت کے دن عدل و انصاف کے ترازو رکھ دیں گے سو کسی جان پر کوئی ظلم نہ کیا جائے گا، اور اگر (کسی کا عمل) رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا (تو) ہم اسے (بھی) حاضر کر دیں گے، اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں،(47)
وَلَقَد ءاتَينا موسىٰ وَهٰرونَ الفُرقانَ وَضِياءً وَذِكرًا لِلمُتَّقينَ(48)
اور بیشک ہم نے موسٰی اور ہارون (علیہما السلام) کو (حق و باطل میں) فرق کرنے والی اور (سراپا) روشنی اور پرہیز گاروں کے لئے نصیحت (پر مبنی کتاب تورات) عطا فرمائی،(48)
الَّذينَ يَخشَونَ رَبَّهُم بِالغَيبِ وَهُم مِنَ السّاعَةِ مُشفِقونَ(49)
جو لوگ اپنے رب سے نادیدہ ڈرتے ہیں اور جو قیامت (کی ہولناکیوں) سے خائف رہتے ہیں،(49)
وَهٰذا ذِكرٌ مُبارَكٌ أَنزَلنٰهُ ۚ أَفَأَنتُم لَهُ مُنكِرونَ(50)
یہ (قرآن) برکت والا ذکر ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے، کیا تم اِس سے انکار کرنے والے ہو،(50)
۞ وَلَقَد ءاتَينا إِبرٰهيمَ رُشدَهُ مِن قَبلُ وَكُنّا بِهِ عٰلِمينَ(51)
اور بیشک ہم نے پہلے سے ہی ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے (مرتبہ کے مطابق) فہم و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم ان (کی استعداد و اہلیت) کو خوب جاننے والے تھے،(51)
إِذ قالَ لِأَبيهِ وَقَومِهِ ما هٰذِهِ التَّماثيلُ الَّتى أَنتُم لَها عٰكِفونَ(52)
جب انہوں نے اپنے باپ (چچا) اور اپنی قوم سے فرمایا: یہ کیسی مورتیاں ہیں جن (کی پرستش) پر تم جمے بیٹھے ہو،(52)
قالوا وَجَدنا ءاباءَنا لَها عٰبِدينَ(53)
وہ بولے: ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی کی پرستش کرتے پایا تھا،(53)
قالَ لَقَد كُنتُم أَنتُم وَءاباؤُكُم فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(54)
(ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: بیشک تم اور تمہارے باپ دادا (سب) صریح گمراہی میں تھے،(54)
قالوا أَجِئتَنا بِالحَقِّ أَم أَنتَ مِنَ اللّٰعِبينَ(55)
وہ بولے: کیا (صرف) تم ہی حق لائے ہو یا تم (محض) تماشا گروں میں سے ہو،(55)
قالَ بَل رَبُّكُم رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ الَّذى فَطَرَهُنَّ وَأَنا۠ عَلىٰ ذٰلِكُم مِنَ الشّٰهِدينَ(56)
(ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: بلکہ تمہارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان (سب) کو پیدا فرمایا اور میں اس (بات) پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں،(56)
وَتَاللَّهِ لَأَكيدَنَّ أَصنٰمَكُم بَعدَ أَن تُوَلّوا مُدبِرينَ(57)
اور اﷲ کی قسم! میں تمہارے بتوں کے ساتھ ضرور ایک تدبیر عمل میں لاؤں گا اس کے بعد کہ جب تم پیٹھ پھیر کر پلٹ جاؤ گے،(57)
فَجَعَلَهُم جُذٰذًا إِلّا كَبيرًا لَهُم لَعَلَّهُم إِلَيهِ يَرجِعونَ(58)
پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے ان (بتوں) کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا سوائے بڑے (بُت) کے تاکہ وہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں،(58)
قالوا مَن فَعَلَ هٰذا بِـٔالِهَتِنا إِنَّهُ لَمِنَ الظّٰلِمينَ(59)
وہ کہنے لگے: ہمارے معبودوں کا یہ حال کس نے کیا ہے؟ بیشک وہ ضرور ظالموں میں سے ہے،(59)
قالوا سَمِعنا فَتًى يَذكُرُهُم يُقالُ لَهُ إِبرٰهيمُ(60)
(کچھ) لوگ بولے: ہم نے ایک نوجوان کا سنا ہے جو ان کا ذکر (انکار و تنقید سے) کرتا ہے اسے ابراہیم کہا جاتا ہے،(60)
قالوا فَأتوا بِهِ عَلىٰ أَعيُنِ النّاسِ لَعَلَّهُم يَشهَدونَ(61)
وہ بولے: اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ تاکہ وہ (اسے) دیکھ لیں،(61)
قالوا ءَأَنتَ فَعَلتَ هٰذا بِـٔالِهَتِنا يٰإِبرٰهيمُ(62)
(جب ابراہیم علیہ السلام آئے تو) وہ کہنے لگے: کیا تم نے ہی ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حال کیا ہے اے ابراہیم،(62)
قالَ بَل فَعَلَهُ كَبيرُهُم هٰذا فَسـَٔلوهُم إِن كانوا يَنطِقونَ(63)
آپ نے فرمایا: بلکہ یہ (کام) ان کے اس بڑے (بت) نے کیا ہوگا تو ان (بتوں) سے ہی پوچھو اگر وہ بول سکتے ہیں،(63)
فَرَجَعوا إِلىٰ أَنفُسِهِم فَقالوا إِنَّكُم أَنتُمُ الظّٰلِمونَ(64)
پھر وہ اپنی ہی (سوچوں کی) طرف پلٹ گئے تو کہنے لگے: بیشک تم خود ہی (ان مجبور و بے بس بتوں کی پوجا کر کے) ظالم (ہوگئے) ہو،(64)
ثُمَّ نُكِسوا عَلىٰ رُءوسِهِم لَقَد عَلِمتَ ما هٰؤُلاءِ يَنطِقونَ(65)
پھر وہ اپنے سروں کے بل اوندھے کر دیئے گئے (یعنی ان کی عقلیں اوندھی ہوگئیں اور کہنے لگے:) بیشک (اے ابراہیم!) تم خود ہی جانتے ہو کہ یہ تو بولتے نہیں ہیں،(65)
قالَ أَفَتَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَنفَعُكُم شَيـًٔا وَلا يَضُرُّكُم(66)
(ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: پھر کیا تم اﷲ کو چھوڑ کر ان (مورتیوں) کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں کچھ نفع دے سکتی ہیں اور نہ تمہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں،(66)
أُفٍّ لَكُم وَلِما تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ۖ أَفَلا تَعقِلونَ(67)
تف ہے تم پر (بھی) اور ان (بتوں) پر (بھی) جنہیں تم اﷲ کے سوا پوجتے ہو، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے،(67)
قالوا حَرِّقوهُ وَانصُروا ءالِهَتَكُم إِن كُنتُم فٰعِلينَ(68)
وہ بولے: اس کو جلا دو اور اپنے (تباہ حال) معبودوں کی مدد کرو اگر تم (کچھ) کرنے والے ہو،(68)
قُلنا يٰنارُ كونى بَردًا وَسَلٰمًا عَلىٰ إِبرٰهيمَ(69)
ہم نے فرمایا: اے آگ! تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سراپا سلامتی ہو جا،(69)
وَأَرادوا بِهِ كَيدًا فَجَعَلنٰهُمُ الأَخسَرينَ(70)
اور انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ بری چال کا ارادہ کیا تھا مگر ہم نے انہیں بری طرح ناکام کر دیا،(70)
وَنَجَّينٰهُ وَلوطًا إِلَى الأَرضِ الَّتى بٰرَكنا فيها لِلعٰلَمينَ(71)
اور ہم ابراہیم (علیہ السلام) کو اور لوط (علیہ السلام) کو (جو آپ کے بھتیجے یعنی آپ کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے) بچا کر (عراق سے) اس سرزمینِ (شام) کی طرف لے گئے جس میں ہم نے جہان والوں کے لئے برکتیں رکھی ہیں،(71)
وَوَهَبنا لَهُ إِسحٰقَ وَيَعقوبَ نافِلَةً ۖ وَكُلًّا جَعَلنا صٰلِحينَ(72)
اور ہم نے انہیں (فرزند) اسحاق (علیہ السلام) بخشا اور (پوتا) یعقوب (علیہ السلام ان کی دعا سے) اضافی بخشا، اور ہم نے ان سب کو صالح بنایا تھا،(72)
وَجَعَلنٰهُم أَئِمَّةً يَهدونَ بِأَمرِنا وَأَوحَينا إِلَيهِم فِعلَ الخَيرٰتِ وَإِقامَ الصَّلوٰةِ وَإيتاءَ الزَّكوٰةِ ۖ وَكانوا لَنا عٰبِدينَ(73)
اور ہم نے انہیں (انسانیت کا) پیشوا بنایا وہ (لوگوں کو) ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف اَعمالِ خیر اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے (کے احکام) کی وحی بھیجی، اور وہ سب ہمارے عبادت گزار تھے،(73)
وَلوطًا ءاتَينٰهُ حُكمًا وَعِلمًا وَنَجَّينٰهُ مِنَ القَريَةِ الَّتى كانَت تَعمَلُ الخَبٰئِثَ ۗ إِنَّهُم كانوا قَومَ سَوءٍ فٰسِقينَ(74)
اور لوط (علیہ السلام) کو (بھی) ہم نے حکمت اور علم سے نوازا تھا اور ہم نے انہیں اس بستی سے نجات دی جہاں کے لوگ گندے کام کیا کرتے تھے۔ بیشک وہ بہت ہی بری (اور) بد کردار قوم تھی،(74)
وَأَدخَلنٰهُ فى رَحمَتِنا ۖ إِنَّهُ مِنَ الصّٰلِحينَ(75)
اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اپنے حریمِ رحمت میں داخل فرما لیا۔ بیشک وہ صالحین میں سے تھے،(75)
وَنوحًا إِذ نادىٰ مِن قَبلُ فَاستَجَبنا لَهُ فَنَجَّينٰهُ وَأَهلَهُ مِنَ الكَربِ العَظيمِ(76)
اور نوح (علیہ السلام کو بھی یاد کریں) جب انہوں نے ان (انبیاء علیہم السلام) سے پہلے (ہمیں) پکارا تھا سو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی پس ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑے شدید غم و اندوہ سے نجات بخشی،(76)
وَنَصَرنٰهُ مِنَ القَومِ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا ۚ إِنَّهُم كانوا قَومَ سَوءٍ فَأَغرَقنٰهُم أَجمَعينَ(77)
اور ہم نے اس قوم (کے اذیت ناک ماحول) میں ان کی مدد فرمائی جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے۔ بیشک وہ (بھی) بہت بری قوم تھی سو ہم نے ان سب کو غرق کر دیا،(77)
وَداوۥدَ وَسُلَيمٰنَ إِذ يَحكُمانِ فِى الحَرثِ إِذ نَفَشَت فيهِ غَنَمُ القَومِ وَكُنّا لِحُكمِهِم شٰهِدينَ(78)
اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام کا قصہ بھی یاد کریں) جب وہ دونوں کھیتی (کے ایک مقدمہ) میں فیصلہ کرنے لگے جب ایک قوم کی بکریاں اس میں رات کے وقت بغیر چرواہے کے گھس گئی تھیں (اور اس کھیتی کو تباہ کر دیا تھا)، اور ہم ان کے فیصلہ کا مشاہدہ فرما رہے تھے،(78)
فَفَهَّمنٰها سُلَيمٰنَ ۚ وَكُلًّا ءاتَينا حُكمًا وَعِلمًا ۚ وَسَخَّرنا مَعَ داوۥدَ الجِبالَ يُسَبِّحنَ وَالطَّيرَ ۚ وَكُنّا فٰعِلينَ(79)
چنانچہ ہم ہی نے سلیمان (علیہ السلام) کو وہ (فیصلہ کرنے کا طریقہ) سکھایا تھا اور ہم نے ان سب کو حکمت اور علم سے نوازا تھا اور ہم نے پہاڑوں اور پرندوں (تک) کو داؤد (علیہ السلام) کے (حکم کے) ساتھ پابند کر دیا تھا وہ (سب ان کے ساتھ مل کر) تسبیح پڑھتے تھے، اور ہم ہی (یہ سب کچھ) کرنے والے تھے،(79)
وَعَلَّمنٰهُ صَنعَةَ لَبوسٍ لَكُم لِتُحصِنَكُم مِن بَأسِكُم ۖ فَهَل أَنتُم شٰكِرونَ(80)
اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو تمہارے لئے زِرہ بنانے کا فن سکھایا تھا تاکہ وہ تمہاری لڑائی میں تمہیں ضرر سے بچائے، تو کیا تم شکر گزار ہو،(80)
وَلِسُلَيمٰنَ الرّيحَ عاصِفَةً تَجرى بِأَمرِهِ إِلَى الأَرضِ الَّتى بٰرَكنا فيها ۚ وَكُنّا بِكُلِّ شَيءٍ عٰلِمينَ(81)
اور (ہم نے) سلیمان (علیہ السلام) کے لئے تیز ہوا کو (مسخّر کردیا) جو ان کے حکم سے (جملہ اَطراف و اَکناف سے) اس سرزمینِ (شام) کی طرف چلا کرتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں، اور ہم ہر چیز کو (خوب) جاننے والے ہیں،(81)
وَمِنَ الشَّيٰطينِ مَن يَغوصونَ لَهُ وَيَعمَلونَ عَمَلًا دونَ ذٰلِكَ ۖ وَكُنّا لَهُم حٰفِظينَ(82)
اور کچھ شیطان (دیووں اور جنّوں) کو بھی (سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا تھا) جو ان کے لئے (دریا میں) غوطے لگاتے تھے اور اس کے سوا (ان کے حکم پر) دیگر خدمات بھی انجام دیتے تھے، اور ہم ہی ان (دیووں) کے نگہبان تھے،(82)
۞ وَأَيّوبَ إِذ نادىٰ رَبَّهُ أَنّى مَسَّنِىَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرحَمُ الرّٰحِمينَ(83)
اور ایوب (علیہ السلام کا قصّہ یاد کریں) جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف چھو رہی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر مہربان ہے،(83)
فَاستَجَبنا لَهُ فَكَشَفنا ما بِهِ مِن ضُرٍّ ۖ وَءاتَينٰهُ أَهلَهُ وَمِثلَهُم مَعَهُم رَحمَةً مِن عِندِنا وَذِكرىٰ لِلعٰبِدينَ(84)
تو ہم نے ان کی دعا قبول فرما لی اور انہیں جو تکلیف (پہنچ رہی) تھی سو ہم نے اسے دور کر دیا اور ہم نے انہیں ان کے اہل و عیال (بھی) عطا فرمائے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (عطا فرما دیئے)، یہ ہماری طرف سے خاص رحمت اور عبادت گزاروں کے لئے نصیحت ہے (کہ اﷲ صبر و شکر کا اجر کیسے دیتا ہے)،(84)
وَإِسمٰعيلَ وَإِدريسَ وَذَا الكِفلِ ۖ كُلٌّ مِنَ الصّٰبِرينَ(85)
اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل (علیہم السلام کو بھی یاد فرمائیں)، یہ سب صابر لوگ تھے،(85)
وَأَدخَلنٰهُم فى رَحمَتِنا ۖ إِنَّهُم مِنَ الصّٰلِحينَ(86)
اور ہم نے انہیں اپنے (دامنِ) رحمت میں داخل فرمایا۔ بیشک وہ نیکو کاروں میں سے تھے،(86)
وَذَا النّونِ إِذ ذَهَبَ مُغٰضِبًا فَظَنَّ أَن لَن نَقدِرَ عَلَيهِ فَنادىٰ فِى الظُّلُمٰتِ أَن لا إِلٰهَ إِلّا أَنتَ سُبحٰنَكَ إِنّى كُنتُ مِنَ الظّٰلِمينَ(87)
اور ذوالنون (مچھلی کے پیٹ والے نبی علیہ السلام کو بھی یاد فرمائیے) جب وہ (اپنی قوم پر) غضبناک ہو کر چل دیئے پس انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ ہم ان پر (اس سفر میں) کوئی تنگی نہیں کریں گے پھر انہوں نے (دریا، رات اور مچھلی کے پیٹ کی تہہ در تہہ) تاریکیوں میں (پھنس کر) پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیری ذات پاک ہے، بیشک میں ہی (اپنی جان پر) زیادتی کرنے والوں میں سے تھا،(87)
فَاستَجَبنا لَهُ وَنَجَّينٰهُ مِنَ الغَمِّ ۚ وَكَذٰلِكَ نُۨجِى المُؤمِنينَ(88)
پس ہم نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ہم نے انہیں غم سے نجات بخشی، اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیا کرتے ہیں،(88)
وَزَكَرِيّا إِذ نادىٰ رَبَّهُ رَبِّ لا تَذَرنى فَردًا وَأَنتَ خَيرُ الوٰرِثينَ(89)
اور زکریا (علیہ السلام کو بھی یاد کریں) جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا: اے میرے رب! مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو سب وارثوں سے بہتر ہے،(89)
فَاستَجَبنا لَهُ وَوَهَبنا لَهُ يَحيىٰ وَأَصلَحنا لَهُ زَوجَهُ ۚ إِنَّهُم كانوا يُسٰرِعونَ فِى الخَيرٰتِ وَيَدعونَنا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖ وَكانوا لَنا خٰشِعينَ(90)
تو ہم نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ہم نے انہیں یحیٰی (علیہ السلام) عطا فرمایا اور ان کی خاطر ان کی زوجہ کو (بھی) درست (قابلِ اولاد) بنا دیا۔ بیشک یہ (سب) نیکی کے کاموں (کی انجام دہی) میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں شوق و رغبت اور خوف و خشیّت (کی کیفیتوں) کے ساتھ پکارا کرتے تھے، اور ہمارے حضور بڑے عجز و نیاز کے ساتھ گڑگڑاتے تھے،(90)
وَالَّتى أَحصَنَت فَرجَها فَنَفَخنا فيها مِن روحِنا وَجَعَلنٰها وَابنَها ءايَةً لِلعٰلَمينَ(91)
اس (پاکیزہ) خاتون (مریم علیہا السلام) کو بھی (یاد کریں) جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور ہم نے اسے اور اس کے بیٹے (عیسٰی علیہ السلام) کو جہان والوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیا،(91)
إِنَّ هٰذِهِ أُمَّتُكُم أُمَّةً وٰحِدَةً وَأَنا۠ رَبُّكُم فَاعبُدونِ(92)
بیشک یہ تمہاری ملت ہے (سب) ایک ہی ملت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم میری (ہی) عبادت کیا کرو،(92)
وَتَقَطَّعوا أَمرَهُم بَينَهُم ۖ كُلٌّ إِلَينا رٰجِعونَ(93)
اور ان (اہلِ کتاب) نے آپس میں اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، یہ سب ہماری ہی جانب لوٹ کر آنے والے ہیں،(93)
فَمَن يَعمَل مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَهُوَ مُؤمِنٌ فَلا كُفرانَ لِسَعيِهِ وَإِنّا لَهُ كٰتِبونَ(94)
پس جو کوئی نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش (کی جزا) کا انکار نہ ہوگا، اور بیشک ہم اس کے (سب) اعمال کو لکھ رہے ہیں،(94)
وَحَرٰمٌ عَلىٰ قَريَةٍ أَهلَكنٰها أَنَّهُم لا يَرجِعونَ(95)
اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کر ڈالا ناممکن ہے کہ اس کے لوگ (مرنے کے بعد) ہماری طرف پلٹ کر نہ آئیں،(95)
حَتّىٰ إِذا فُتِحَت يَأجوجُ وَمَأجوجُ وَهُم مِن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلونَ(96)
یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے اتر آئیں گے،(96)
وَاقتَرَبَ الوَعدُ الحَقُّ فَإِذا هِىَ شٰخِصَةٌ أَبصٰرُ الَّذينَ كَفَروا يٰوَيلَنا قَد كُنّا فى غَفلَةٍ مِن هٰذا بَل كُنّا ظٰلِمينَ(97)
اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب ہو جائے گا تو اچانک کافر لوگوں کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی (وہ پکار اٹھیں گے:) ہائے ہماری شومئ قسمت! کہ ہم اس (دن کی آمد) سے غفلت میں پڑے رہے بلکہ ہم ظالم تھے،(97)
إِنَّكُم وَما تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُم لَها وٰرِدونَ(98)
بیشک تم اور وہ (بت) جن کی تم اﷲ کے سوا پرستش کرتے تھے (سب) دوزخ کا ایندھن ہیں، تم اس میں داخل ہونے والے ہو،(98)
لَو كانَ هٰؤُلاءِ ءالِهَةً ما وَرَدوها ۖ وَكُلٌّ فيها خٰلِدونَ(99)
اگر یہ (واقعۃً) معبود ہوتے تو جہنم میں داخل نہ ہوتے، اور وہ سب اس میں ہمیشہ رہیں گے،(99)
لَهُم فيها زَفيرٌ وَهُم فيها لا يَسمَعونَ(100)
وہاں ان کی (آہوں کا شور اور) چیخ و پکار ہوگی اور اس میں کچھ (اور) نہ سن سکیں گے،(100)
إِنَّ الَّذينَ سَبَقَت لَهُم مِنَّا الحُسنىٰ أُولٰئِكَ عَنها مُبعَدونَ(101)
بیشک جن لوگوں کے لئے پہلے سے ہی ہماری طرف سے بھلائی مقرر ہو چکی ہے وہ اس (جہنم) سے دور رکھے جائیں گے،(101)
لا يَسمَعونَ حَسيسَها ۖ وَهُم فى مَا اشتَهَت أَنفُسُهُم خٰلِدونَ(102)
وہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے اور وہ ان (نعمتوں) میں ہمیشہ رہیں گے جن کی ان کے دل خواہش کریں گے،(102)
لا يَحزُنُهُمُ الفَزَعُ الأَكبَرُ وَتَتَلَقّىٰهُمُ المَلٰئِكَةُ هٰذا يَومُكُمُ الَّذى كُنتُم توعَدونَ(103)
(روزِ قیامت کی) سب سے بڑی ہولناکی (بھی) انہیں رنجیدہ نہیں کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے (اور کہیں گے:) یہ تمہارا (ہی) دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا،(103)
يَومَ نَطوِى السَّماءَ كَطَىِّ السِّجِلِّ لِلكُتُبِ ۚ كَما بَدَأنا أَوَّلَ خَلقٍ نُعيدُهُ ۚ وَعدًا عَلَينا ۚ إِنّا كُنّا فٰعِلينَ(104)
اس دن ہم (ساری) سماوی کائنات کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے لکھے ہوئے کاغذات کو لپیٹ دیا جاتا ہے، جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلی بار پیدا کیا تھا ہم (اس کے ختم ہو جانے کے بعد) اسی عملِ تخلیق کو دہرائیں گے۔ یہ وعدہ پورا کرنا ہم نے لازم کر لیا ہے۔ ہم (یہ اعادہ) ضرور کرنے والے ہیں،(104)
وَلَقَد كَتَبنا فِى الزَّبورِ مِن بَعدِ الذِّكرِ أَنَّ الأَرضَ يَرِثُها عِبادِىَ الصّٰلِحونَ(105)
اور بلا شبہ ہم نے زبور میں نصیحت کے (بیان کے) بعد یہ لکھ دیا تھا کہ (عالمِ آخرت کی) زمین کے وارث صرف میرے نیکو کار بندے ہوں گے،(105)
إِنَّ فى هٰذا لَبَلٰغًا لِقَومٍ عٰبِدينَ(106)
بیشک اس (قرآن) میں عبادت گزاروں کے لئے (حصولِ مقصد کی) کفایت و ضمانت ہے،(106)
وَما أَرسَلنٰكَ إِلّا رَحمَةً لِلعٰلَمينَ(107)
اور (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر،(107)
قُل إِنَّما يوحىٰ إِلَىَّ أَنَّما إِلٰهُكُم إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۖ فَهَل أَنتُم مُسلِمونَ(108)
فرما دیجئے کہ میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود فقط ایک (ہی) معبود ہے، تو کیا تم اسلام قبول کرتے ہو،(108)
فَإِن تَوَلَّوا فَقُل ءاذَنتُكُم عَلىٰ سَواءٍ ۖ وَإِن أَدرى أَقَريبٌ أَم بَعيدٌ ما توعَدونَ(109)
پھر اگر وہ رُوگردانی کریں تو فرما دیجئے: میں نے تم سب کو یکساں طور پر باخبر کر دیا ہے، اور میں نہیں جانتا کہ وہ (عذاب) نزدیک ہے یا دور جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے،(109)
إِنَّهُ يَعلَمُ الجَهرَ مِنَ القَولِ وَيَعلَمُ ما تَكتُمونَ(110)
بیشک وہ بلند آواز کی بات بھی جانتا ہے اور وہ (کچھ) بھی جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو،(110)
وَإِن أَدرى لَعَلَّهُ فِتنَةٌ لَكُم وَمَتٰعٌ إِلىٰ حينٍ(111)
اور میں یہ نہیں جانتا شاید یہ (تاخیرِ عذاب اور تمہیں دی گئی ڈھیل) تمہارے حق میں آزمائش ہو اور (تمہیں) ایک مقرر وقت تک فائدہ پہنچانا مقصود ہو،(111)
قٰلَ رَبِّ احكُم بِالحَقِّ ۗ وَرَبُّنَا الرَّحمٰنُ المُستَعانُ عَلىٰ ما تَصِفونَ(112)
(ہمارے حبیب نے) عرض کیا: اے میرے رب! (ہمارے درمیان) حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے، اور ہمارا رب بے حد رحم فرمانے والا ہے، اسی سے مدد طلب کی جاتی ہے ان (دل آزار) باتوں پر جو (اے کافرو!) تم بیان کرتے ہو،(112)