Al-An'am( الأنعام)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Tahir ul Qadri(طاہر القادری)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنّورَ ۖ ثُمَّ الَّذينَ كَفَروا بِرَبِّهِم يَعدِلونَ(1)
تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور تاریکیوں اور روشنی کو بنایا، پھر بھی کافر لوگ (معبودانِ باطلہ کو) اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں،(1)
هُوَ الَّذى خَلَقَكُم مِن طينٍ ثُمَّ قَضىٰ أَجَلًا ۖ وَأَجَلٌ مُسَمًّى عِندَهُ ۖ ثُمَّ أَنتُم تَمتَرونَ(2)
(اﷲ) وہی ہے جس نے تمہیں مٹی کے گارے سے پیدا فرمایا (یعنی کرّۂ اَرضی پر حیاتِ انسانی کی کیمیائی ابتداء اس سے کی)۔ پھر اس نے (تمہاری موت کی) میعاد مقرر فرما دی، اور (انعقادِ قیامت کا) معیّنہ وقت اسی کے پاس (مقرر) ہے پھر (بھی) تم شک کرتے ہو،(2)
وَهُوَ اللَّهُ فِى السَّمٰوٰتِ وَفِى الأَرضِ ۖ يَعلَمُ سِرَّكُم وَجَهرَكُم وَيَعلَمُ ما تَكسِبونَ(3)
اور آسمانوں میں اور زمین میں وہی اﷲ ہی (معبودِ برحق) ہے، جو تمہاری پوشیدہ اور تمہاری ظاہر(سب باتوں) کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کما رہے ہو وہ (اسے بھی) جانتا ہے،(3)
وَما تَأتيهِم مِن ءايَةٍ مِن ءايٰتِ رَبِّهِم إِلّا كانوا عَنها مُعرِضينَ(4)
اور ان کے رب کی نشانیوں میں سے ان کے پاس کوئی نشانی نہیں آتی مگر (یہ کہ) وہ اس سے روگردانی کرتے ہیں،(4)
فَقَد كَذَّبوا بِالحَقِّ لَمّا جاءَهُم ۖ فَسَوفَ يَأتيهِم أَنبٰؤُا۟ ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(5)
پھر بیشک انہوں نے (اسی طرح) حق (یعنی قرآن) کو (بھی) جھٹلا دیا جب وہ ان کے پاس (اُلوہی نشانی کے طور پر) آیا، پس عنقریب ان کے پاس اس کی خبریں آیا چاہتی ہیں جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے،(5)
أَلَم يَرَوا كَم أَهلَكنا مِن قَبلِهِم مِن قَرنٍ مَكَّنّٰهُم فِى الأَرضِ ما لَم نُمَكِّن لَكُم وَأَرسَلنَا السَّماءَ عَلَيهِم مِدرارًا وَجَعَلنَا الأَنهٰرَ تَجرى مِن تَحتِهِم فَأَهلَكنٰهُم بِذُنوبِهِم وَأَنشَأنا مِن بَعدِهِم قَرنًا ءاخَرينَ(6)
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا جنہیں ہم نے زمین میں (ایسا مستحکم) اقتدار دیا تھا کہ ایسا اقتدار (اور جماؤ) تمہیں بھی نہیں دیا اور ہم نے ان پر لگا تار برسنے والی بارش بھیجی اور ہم نے ان (کے مکانات و محلّات) کے نیچے سے نہریں بہائیں پھر (اتنی پُرعشرت زندگی دینے کے باوجود) ہم نے ان کے گناہوں کے باعث انہیں ہلاک کردیا اور ان کے بعد ہم نے دوسری اُمتوں کو پیدا کیا،(6)
وَلَو نَزَّلنا عَلَيكَ كِتٰبًا فى قِرطاسٍ فَلَمَسوهُ بِأَيديهِم لَقالَ الَّذينَ كَفَروا إِن هٰذا إِلّا سِحرٌ مُبينٌ(7)
اور ہم اگر آپ پر کاغذ پہ لکھی ہوئی کتاب نازل فرما دیتے پھر یہ لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے تب (بھی) کافر لوگ (یہی) کہتے کہ یہ صریح جادو کے سوا (کچھ) نہیں،(7)
وَقالوا لَولا أُنزِلَ عَلَيهِ مَلَكٌ ۖ وَلَو أَنزَلنا مَلَكًا لَقُضِىَ الأَمرُ ثُمَّ لا يُنظَرونَ(8)
اور وہ (کفّار) کہتے ہیں کہ اس (رسولِ مکرّم) پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا (جسے ہم ظاہراً دیکھ سکتے اور وہ ان کی تصدیق کردیتا)، اور ہم اگر فرشتہ اتار دیتے تو (ان کا) کام ہی تمام ہوچکا ہوتا پھر انہیں (ذرا بھی) مہلت نہ دی جاتی،(8)
وَلَو جَعَلنٰهُ مَلَكًا لَجَعَلنٰهُ رَجُلًا وَلَلَبَسنا عَلَيهِم ما يَلبِسونَ(9)
اور اگر ہم رسول کو فرشتہ بناتے تو اسے بھی آدمی ہی (کی صورت) بناتے اور ہم ان پر(تب بھی) وہی شبہ وارد کردیتے جو شبہ (و التباس) وہ (اب) کر رہے ہیں (یعنی اس کی بھی ظاہری صورت دیکھ کر کہتے کہ یہ ہماری مثل بشر ہے)،(9)
وَلَقَدِ استُهزِئَ بِرُسُلٍ مِن قَبلِكَ فَحاقَ بِالَّذينَ سَخِروا مِنهُم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(10)
اور بیشک آپ سے پہلے (بھی) رسولوں کے ساتھ مذاق کیا جاتا رہا، پھر ان میں سے مسخرہ پن کرنے والوں کو(حق کے) اسی (عذاب) نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے،(10)
قُل سيروا فِى الأَرضِ ثُمَّ انظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُكَذِّبينَ(11)
فرمادیجئے کہ تم زمین پر چلو پھرو، پھر (نگاہِ عبرت سے) دیکھو کہ (حق کو) جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا،(11)
قُل لِمَن ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ قُل لِلَّهِ ۚ كَتَبَ عَلىٰ نَفسِهِ الرَّحمَةَ ۚ لَيَجمَعَنَّكُم إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ لا رَيبَ فيهِ ۚ الَّذينَ خَسِروا أَنفُسَهُم فَهُم لا يُؤمِنونَ(12)
آپ (ان سے سوال) فرمائیں کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے؟ (پھر یہ بھی) فرما دیں کہ اﷲ ہی کا ہے، اس نے اپنی ذات پر رحمت لازم فرمالی ہے، وہ تمہیں روزِ قیامت جس میں کوئی شک نہیں ضرور جمع فرمائے گا، جنہوں نے اپنی جانوں کو (دائمی) خسارے میں ڈال دیا ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے،(12)
۞ وَلَهُ ما سَكَنَ فِى الَّيلِ وَالنَّهارِ ۚ وَهُوَ السَّميعُ العَليمُ(13)
اور وہ (ساری مخلوق) جو رات میں اور دن میں آرام کرتی ہے، اسی کی ہے، اور وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے،(13)
قُل أَغَيرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّا فاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَهُوَ يُطعِمُ وَلا يُطعَمُ ۗ قُل إِنّى أُمِرتُ أَن أَكونَ أَوَّلَ مَن أَسلَمَ ۖ وَلا تَكونَنَّ مِنَ المُشرِكينَ(14)
فرما دیجئے: کیا میں کسی دوسرے کو (عبادت کے لئے اپنا) دوست بنا لوں (اس) اﷲ کے سوا جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ (سب کو) کھلاتا ہے اور (خود اسے) کھلایا نہیں جاتا۔ فرما دیں: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں (اس کے حضور) سب سے پہلا (سرجھکانے والا) مسلمان ہوجاؤں اور (یہ بھی فرمادیا گیا ہے کہ) تم مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہوجانا،(14)
قُل إِنّى أَخافُ إِن عَصَيتُ رَبّى عَذابَ يَومٍ عَظيمٍ(15)
فرما دیجئے کہ بیشک میں (تو) بڑے عذاب کے دن سے ڈرتا ہوں، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں (سو یہ کیسے ممکن ہے؟)،(15)
مَن يُصرَف عَنهُ يَومَئِذٍ فَقَد رَحِمَهُ ۚ وَذٰلِكَ الفَوزُ المُبينُ(16)
اس دن جس شخص سے وہ (عذاب) پھیر دیا گیا تو بیشک (اﷲ نے) اس پر رحم فرمایا، اور یہی (اُخروی بخشش) کھلی کامیابی ہے،(16)
وَإِن يَمسَسكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا كاشِفَ لَهُ إِلّا هُوَ ۖ وَإِن يَمسَسكَ بِخَيرٍ فَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(17)
اور اگر اﷲ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے،(17)
وَهُوَ القاهِرُ فَوقَ عِبادِهِ ۚ وَهُوَ الحَكيمُ الخَبيرُ(18)
اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے، اور وہ بڑی حکمت والا خبردار ہے،(18)
قُل أَىُّ شَيءٍ أَكبَرُ شَهٰدَةً ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ شَهيدٌ بَينى وَبَينَكُم ۚ وَأوحِىَ إِلَىَّ هٰذَا القُرءانُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُم لَتَشهَدونَ أَنَّ مَعَ اللَّهِ ءالِهَةً أُخرىٰ ۚ قُل لا أَشهَدُ ۚ قُل إِنَّما هُوَ إِلٰهٌ وٰحِدٌ وَإِنَّنى بَريءٌ مِمّا تُشرِكونَ(19)
آپ (ان سے دریافت) فرمائیے کہ گواہی دینے میں سب سے بڑھ کر کون ہے؟ آپ (ہی) فرما دیجئے کہ اﷲ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے، اور میری طرف یہ قرآن اس لئے وحی کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعے تمہیں اور ہر اس شخص کو جس تک (یہ قرآن) پہنچے ڈر سناؤں۔ کیا تم واقعی اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اﷲ کے ساتھ دوسرے معبود (بھی) ہیں؟ آپ فرما دیں: میں (تو اس غلط بات کی) گواہی نہیں دیتا، فرما دیجئے: بس معبود تو وہی ایک ہی ہے اور میں ان(سب) چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم (اﷲ کا) شریک ٹھہراتے ہو،(19)
الَّذينَ ءاتَينٰهُمُ الكِتٰبَ يَعرِفونَهُ كَما يَعرِفونَ أَبناءَهُمُ ۘ الَّذينَ خَسِروا أَنفُسَهُم فَهُم لا يُؤمِنونَ(20)
وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی تھی اس (نبئ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ویسے ہی پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، جنہوں نے اپنی جانوں کو (دائمی) خسارے میں ڈال دیا ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے،(20)
وَمَن أَظلَمُ مِمَّنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَو كَذَّبَ بِـٔايٰتِهِ ۗ إِنَّهُ لا يُفلِحُ الظّٰلِمونَ(21)
اور اس سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جس نے اﷲ پر جھوٹا بہتان باندھا یا اس نے اس کی آیتوں کو جھٹلایا؟ بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے،(21)
وَيَومَ نَحشُرُهُم جَميعًا ثُمَّ نَقولُ لِلَّذينَ أَشرَكوا أَينَ شُرَكاؤُكُمُ الَّذينَ كُنتُم تَزعُمونَ(22)
اور جس دن ہم سب کو جمع کریں گے پھر ہم ان لوگوں سے کہیں گے جو شرک کرتے تھے: تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جنہیں تم (معبود) خیال کرتے تھے،(22)
ثُمَّ لَم تَكُن فِتنَتُهُم إِلّا أَن قالوا وَاللَّهِ رَبِّنا ما كُنّا مُشرِكينَ(23)
پھر ان کی (کوئی) معذرت نہ رہے گی بجز اس کے کہ وہ کہیں (گے): ہمیں اپنے رب اﷲ کی قَسم ہے! ہم مشرک نہ تھے،(23)
انظُر كَيفَ كَذَبوا عَلىٰ أَنفُسِهِم ۚ وَضَلَّ عَنهُم ما كانوا يَفتَرونَ(24)
دیکھئے انہوں نے خود اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا اور جو بہتان وہ (دنیا میں) تراشا کرتے تھے وہ ان سے غائب ہوگیا،(24)
وَمِنهُم مَن يَستَمِعُ إِلَيكَ ۖ وَجَعَلنا عَلىٰ قُلوبِهِم أَكِنَّةً أَن يَفقَهوهُ وَفى ءاذانِهِم وَقرًا ۚ وَإِن يَرَوا كُلَّ ءايَةٍ لا يُؤمِنوا بِها ۚ حَتّىٰ إِذا جاءوكَ يُجٰدِلونَكَ يَقولُ الَّذينَ كَفَروا إِن هٰذا إِلّا أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ(25)
اور ان میں کچھ وہ (بھی) ہیں جو آپ کی طرف کان لگائے رہتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر(ان کی اپنی بدنیتی کے باعث) پردے ڈال دیئے ہیں (سو اب ان کے لئے ممکن نہیں) کہ وہ اس (قرآن) کو سمجھ سکیں اور (ہم نے) ان کے کانوں میں ڈاٹ دے دی ہے، اور اگر وہ تمام نشانیوں کو (کھلا بھی) دیکھ لیں تو (بھی) اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ حتیٰ کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں، آپ سے جھگڑا کرتے ہیں (اس وقت) کافر لوگ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) پہلے لوگوں کی جھوٹی کہانیوں کے سوا (کچھ) نہیں،(25)
وَهُم يَنهَونَ عَنهُ وَيَنـَٔونَ عَنهُ ۖ وَإِن يُهلِكونَ إِلّا أَنفُسَهُم وَما يَشعُرونَ(26)
اور وہ (دوسروں کو) اس (نبی کی اتباع اور قرآن) سے روکتے ہیں اور (خود بھی) اس سے دور بھاگتے ہیں، اور وہ محض اپنی ہی جانوں کو ہلاک کررہے ہیں اور وہ (اس ہلاکت کا) شعور (بھی) نہیں رکھتے،(26)
وَلَو تَرىٰ إِذ وُقِفوا عَلَى النّارِ فَقالوا يٰلَيتَنا نُرَدُّ وَلا نُكَذِّبَ بِـٔايٰتِ رَبِّنا وَنَكونَ مِنَ المُؤمِنينَ(27)
اگر آپ (انہیں اس وقت) دیکھیں جب وہ آگ (کے کنارے) پر کھڑے کئے جائیں گے تو کہیں گے: اے کاش! ہم (دنیا میں) پلٹا دیئے جائیں تو (اب) ہم اپنے رب کی آیتوں کو (کبھی) نہیں جھٹلائیں گے اور ایمان والوں میں سے ہو جائیں گے،(27)
بَل بَدا لَهُم ما كانوا يُخفونَ مِن قَبلُ ۖ وَلَو رُدّوا لَعادوا لِما نُهوا عَنهُ وَإِنَّهُم لَكٰذِبونَ(28)
(اس اقرار میں کوئی سچائی نہیں) بلکہ ان پر وہ (سب کچھ) ظاہر ہوگیا ہے جو وہ پہلے چھپایا کرتے تھے، اور اگر وہ (دنیا میں) لوٹا (بھی) دیئے جائیں تو (پھر) وہی دہرائیں گے جس سے وہ روکے گئے تھے اور بیشک وہ (پکے) جھوٹے ہیں،(28)
وَقالوا إِن هِىَ إِلّا حَياتُنَا الدُّنيا وَما نَحنُ بِمَبعوثينَ(29)
اور وہ (یہی) کہتے رہیں گے (جیسے انہوں نے پہلے کہا تھا) کہ ہماری اس دنیوی زندگی کے سوا (اور) کوئی (زندگی) نہیں اور ہم (مرنے کے بعد) نہیں اٹھائے جائیں گے،(29)
وَلَو تَرىٰ إِذ وُقِفوا عَلىٰ رَبِّهِم ۚ قالَ أَلَيسَ هٰذا بِالحَقِّ ۚ قالوا بَلىٰ وَرَبِّنا ۚ قالَ فَذوقُوا العَذابَ بِما كُنتُم تَكفُرونَ(30)
اور اگر آپ (انہیں اس وقت) دیکھیں جب وہ اپنے رب کے حضور کھڑے کئے جائیں گے، (اور انہیں) اﷲ فرمائے گا: کیا یہ (زندگی) حق نہیں ہے؟ (تو) کہیں گے: کیوں نہیں! ہمارے رب کی قسم (یہ حق ہے، پھر) اﷲ فرمائے گا: پس (اب) تم عذاب کا مزہ چکھو اس وجہ سے کہ تم کفر کیا کرتے تھے،(30)
قَد خَسِرَ الَّذينَ كَذَّبوا بِلِقاءِ اللَّهِ ۖ حَتّىٰ إِذا جاءَتهُمُ السّاعَةُ بَغتَةً قالوا يٰحَسرَتَنا عَلىٰ ما فَرَّطنا فيها وَهُم يَحمِلونَ أَوزارَهُم عَلىٰ ظُهورِهِم ۚ أَلا ساءَ ما يَزِرونَ(31)
پس ایسے لوگ نقصان میں رہے جنہوں نے اﷲ کی ملاقات کو جھٹلا دیا یہاں تک کہ جب ان کے پاس اچانک قیامت آپہنچے گی (تو) کہیں گے: ہائے افسوس! ہم پر جو ہم نے اس (قیامت پر ایمان لانے) کے بارے میں (تقصیر) کی، اور وہ اپنی پیٹھوں پر اپنے (گناہوں کے) بوجھ لادے ہوئے ہوں گے، سن لو! وہ بہت برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں،(31)
وَمَا الحَيوٰةُ الدُّنيا إِلّا لَعِبٌ وَلَهوٌ ۖ وَلَلدّارُ الءاخِرَةُ خَيرٌ لِلَّذينَ يَتَّقونَ ۗ أَفَلا تَعقِلونَ(32)
اور دنیوی زندگی (کی عیش و عشرت) کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں، اور یقیناً آخرت کا گھر ہی ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا تم (یہ حقیقت) نہیں سمجھتے،(32)
قَد نَعلَمُ إِنَّهُ لَيَحزُنُكَ الَّذى يَقولونَ ۖ فَإِنَّهُم لا يُكَذِّبونَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمينَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ يَجحَدونَ(33)
(اے حبیب!) بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ (بات) یقیناً آپ کو رنجیدہ کررہی ہے کہ جو یہ لوگ کہتے ہیں، پس یہ آپ کو نہیں جھٹلا رہے لیکن (حقیقت یہ ہے کہ) ظالم لوگ اﷲ کی آیتوں سے ہی انکار کررہے ہیں،(33)
وَلَقَد كُذِّبَت رُسُلٌ مِن قَبلِكَ فَصَبَروا عَلىٰ ما كُذِّبوا وَأوذوا حَتّىٰ أَتىٰهُم نَصرُنا ۚ وَلا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللَّهِ ۚ وَلَقَد جاءَكَ مِن نَبَإِي۟ المُرسَلينَ(34)
اور بیشک آپ سے قبل (بھی بہت سے) رسول جھٹلائے گئے مگر انہوں نے جھٹلائے جانے اور اذیت پہنچائے جانے پر صبر کیا حتٰی کہ انہیں ہماری مدد آپہنچی، اور اﷲ کی باتوں (یعنی وعدوں کو) کوئی بدلنے والا نہیں، اور بیشک آپ کے پاس (تسکینِ قلب کے لیے) رسولوں کی خبریں آچکی ہیں،(34)
وَإِن كانَ كَبُرَ عَلَيكَ إِعراضُهُم فَإِنِ استَطَعتَ أَن تَبتَغِىَ نَفَقًا فِى الأَرضِ أَو سُلَّمًا فِى السَّماءِ فَتَأتِيَهُم بِـٔايَةٍ ۚ وَلَو شاءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُم عَلَى الهُدىٰ ۚ فَلا تَكونَنَّ مِنَ الجٰهِلينَ(35)
اور اگر آپ پر ان کی رُوگردانی شاق گزر رہی ہے (اور آپ بہر صورت ان کے ایمان لانے کے خواہش مند ہیں) تو اگر آپ سے (یہ) ہو سکے کہ زمین میں (اترنے والی) کوئی سرنگ یا آسمان میں (چڑھنے والی) کوئی سیڑھی تلاش کرلیں پھر (انہیں دکھانے کے لیے) ان کے پاس کوئی (خاص) نشانی لے آئیں (وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے)، اور اگر اﷲ چاہتا تو ان کو ہدایت پر ضرور جمع فرما دیتا پس آپ (اپنی رحمت و شفقت کے بے پایاں جوش کے باعث ان کی بدبختی سے) بے خبر نہ ہوجائیں،(35)
۞ إِنَّما يَستَجيبُ الَّذينَ يَسمَعونَ ۘ وَالمَوتىٰ يَبعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيهِ يُرجَعونَ(36)
بات یہ ہے کہ (دعوتِ حق) صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو (اسے سچے دل سے) سنتے ہیں، اور مُردوں (یعنی حق کے منکروں) کو اﷲ (حالتِ کفر میں ہی قبروں سے) اٹھائے گا پھر وہ اسی (رب) کی طرف (جس کا انکار کرتے تھے) لوٹائے جائیں گے،(36)
وَقالوا لَولا نُزِّلَ عَلَيهِ ءايَةٌ مِن رَبِّهِ ۚ قُل إِنَّ اللَّهَ قادِرٌ عَلىٰ أَن يُنَزِّلَ ءايَةً وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ(37)
اور انہوں نے کہا کہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پراس کے رب کی طرف سے (ہروقت ساتھ رہنے والی) کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ فرما دیجئے: بیشک اﷲ اس بات پر (بھی) قادر ہے کہ وہ (ایسی) کوئی نشانی اتار دے لیکن ان میں سے اکثر لوگ (اس کی حکمتوں کو) نہیں جانتے،(37)
وَما مِن دابَّةٍ فِى الأَرضِ وَلا طٰئِرٍ يَطيرُ بِجَناحَيهِ إِلّا أُمَمٌ أَمثالُكُم ۚ ما فَرَّطنا فِى الكِتٰبِ مِن شَيءٍ ۚ ثُمَّ إِلىٰ رَبِّهِم يُحشَرونَ(38)
اور (اے انسانو!) کوئی بھی چلنے پھرنے والا (جانور) اور پرندہ جو اپنے دو بازوؤں سے اڑتا ہو (ایسا) نہیں ہے مگر یہ کہ (بہت سی صفات میں) وہ سب تمہارے ہی مماثل طبقات ہیں، ٭ ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی (جسے صراحۃً یا اشارۃً بیان نہ کردیا ہو) پھر سب (لوگ) اپنے رب کے پاس جمع کئے جائیں گے، ٭ انہی مماثلتوں کے باعث انسانی ارتقاء کے باب میں ڈاروِن اور اس کے ہم نوا سائنس دانوں کو یہ مغالطہ لاحق ہوا ہے کہ شاید انسان انہی جانوروں کی ایک ارتقائی شکل ہے۔ ”أُمَمٌ أَمثَالُکُمۡ“ کے الفاط نے واضح کر دیا ہے کہ جانوروں، پرندوں اور انسانوں میں جسمانی، حیاتیاتی اور خصلتی مماثلتیں ضرور موجود ہیں اور یہ نظامِ تخلیق کی وحدت کی دلیل ہے مگر یہ سب الگ الگ طبقاتِ خلق ہیں۔ یہ درست ہے کہ انسانی حیات کا ظہور ارضی زندگی کے مختلف مراحل و ادوار کی تاریخ میں سب سے آخری دور میں ہوا ہے۔ یہ اس کے اکمل الخلق اور اشرف المخلوقات ہونے کی دلیل ہے۔(38)
وَالَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا صُمٌّ وَبُكمٌ فِى الظُّلُمٰتِ ۗ مَن يَشَإِ اللَّهُ يُضلِلهُ وَمَن يَشَأ يَجعَلهُ عَلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(39)
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں (بھٹک رہے) ہیں۔ اﷲ جسے چاہتا ہے اسے (انکارِ حق اور ضد کے باعث) گمراہ کردیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے اسے (قبولِ حق کے باعث) سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے،(39)
قُل أَرَءَيتَكُم إِن أَتىٰكُم عَذابُ اللَّهِ أَو أَتَتكُمُ السّاعَةُ أَغَيرَ اللَّهِ تَدعونَ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(40)
آپ (ان کافروں سے) فرمائیے: ذرا یہ تو بتاؤ اگر تم پر اﷲ کا عذاب آجائے یا تم پر قیامت آپہنچے تو کیا (اس وقت عذاب سے بچنے کے لیے) اﷲ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ (بتاؤ) اگر تم سچے ہو،(40)
بَل إِيّاهُ تَدعونَ فَيَكشِفُ ما تَدعونَ إِلَيهِ إِن شاءَ وَتَنسَونَ ما تُشرِكونَ(41)
(ایسا ہرگز ممکن نہیں) بلکہ تم (اب بھی) اسی (اﷲ) کو ہی پکارتے ہو پھر اگر وہ چاہے تو ان (مصیبتوں) کو دور فرما دیتا ہے جن کے لئے تم (اسے) پکارتے ہو اور (اس وقت) تم ان (بتوں) کو بھول جاتے ہو جنہیں (اﷲ کا) شریک ٹھہراتے ہو،(41)
وَلَقَد أَرسَلنا إِلىٰ أُمَمٍ مِن قَبلِكَ فَأَخَذنٰهُم بِالبَأساءِ وَالضَّرّاءِ لَعَلَّهُم يَتَضَرَّعونَ(42)
اور بیشک ہم نے آپ سے پہلے بہت سی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے، پھر ہم نے ان کو (نافرمانی کے باعث) تنگ دستی اور تکلیف کے ذریعے پکڑ لیا تاکہ وہ (عجز و نیاز کے ساتھ) گِڑگڑائیں،(42)
فَلَولا إِذ جاءَهُم بَأسُنا تَضَرَّعوا وَلٰكِن قَسَت قُلوبُهُم وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيطٰنُ ما كانوا يَعمَلونَ(43)
پھر جب ان تک ہمارا عذاب آپہنچا تو انہوں نے عاجزی و زاری کیوں نہ کی؟ لیکن (حقیقت یہ ہے کہ) ان کے دل سخت ہوگئے تھے اور شیطان نے ان کے لئے وہ (گناہ) آراستہ کر دکھائے تھے جو وہ کیا کرتے تھے،(43)
فَلَمّا نَسوا ما ذُكِّروا بِهِ فَتَحنا عَلَيهِم أَبوٰبَ كُلِّ شَيءٍ حَتّىٰ إِذا فَرِحوا بِما أوتوا أَخَذنٰهُم بَغتَةً فَإِذا هُم مُبلِسونَ(44)
پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو فراموش کردیا جو ان سے کی گئی تھی تو ہم نے (انہیں اپنے انجام تک پہنچانے کے لیے) ان پر ہر چیز (کی فراوانی) کے دروازے کھول دیئے، یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں (کی لذتوں اور راحتوں) سے خوب خوش ہو (کر مدہوش ہو) گئے جو انہیں دی گئی تھیں تو ہم نے اچانک انہیں (عذاب میں) پکڑ لیا تو اس وقت وہ مایوس ہوکر رہ گئے،(44)
فَقُطِعَ دابِرُ القَومِ الَّذينَ ظَلَموا ۚ وَالحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ العٰلَمينَ(45)
پس ظلم کرنے والی قوم کی جڑ کاٹ دی گئی، اور تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے،(45)
قُل أَرَءَيتُم إِن أَخَذَ اللَّهُ سَمعَكُم وَأَبصٰرَكُم وَخَتَمَ عَلىٰ قُلوبِكُم مَن إِلٰهٌ غَيرُ اللَّهِ يَأتيكُم بِهِ ۗ انظُر كَيفَ نُصَرِّفُ الءايٰتِ ثُمَّ هُم يَصدِفونَ(46)
(ان سے) فرما دیجئے کہ تم یہ تو بتاؤ اگر اﷲ تمہاری سماعت اور تمہاری آنکھیں لے لے اور تمہارے دلوں پر مُہر لگا دے (تو) اﷲ کے سوا کون معبود ایسا ہے جو یہ (نعمتیں دوبارہ) تمہارے پاس لے آئے؟ دیکھئے ہم کس طرح گونا گوں آیتیں بیان کرتے ہیں پھر(بھی) وہ روگردانی کئے جاتے ہیں،(46)
قُل أَرَءَيتَكُم إِن أَتىٰكُم عَذابُ اللَّهِ بَغتَةً أَو جَهرَةً هَل يُهلَكُ إِلَّا القَومُ الظّٰلِمونَ(47)
آپ (ان سے یہ بھی) فرما دیجئے کہ تم مجھے بتاؤ اگر تم پر اﷲ کا عذاب اچانک یا کھلم کھلا آن پڑے تو کیا ظالم قوم کے سوا (کوئی اور) ہلاک کیا جائے گا،(47)
وَما نُرسِلُ المُرسَلينَ إِلّا مُبَشِّرينَ وَمُنذِرينَ ۖ فَمَن ءامَنَ وَأَصلَحَ فَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ(48)
اور ہم پیغمبروں کو نہیں بھیجتے مگر خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے بنا کر، سو جو شخص ایمان لے آیا اور (عملاً) درست ہوگیا تو ان پرنہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے،(48)
وَالَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا يَمَسُّهُمُ العَذابُ بِما كانوا يَفسُقونَ(49)
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا انہیں عذاب چھو کر رہے گا، اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے،(49)
قُل لا أَقولُ لَكُم عِندى خَزائِنُ اللَّهِ وَلا أَعلَمُ الغَيبَ وَلا أَقولُ لَكُم إِنّى مَلَكٌ ۖ إِن أَتَّبِعُ إِلّا ما يوحىٰ إِلَىَّ ۚ قُل هَل يَستَوِى الأَعمىٰ وَالبَصيرُ ۚ أَفَلا تَتَفَكَّرونَ(50)
آپ (ان کافروں سے) فرما دیجئے کہ میں تم سے (یہ) نہیں کہتا کہ میرے پاس اﷲ کے خزانے ہیں اور نہ میں اَز خود غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے (یہ) کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف اسی (حکم) کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتاہے۔ فرما دیجئے: کیا اندھا اور بینا برابر ہوسکتے ہیں؟ سو کیا تم غور نہیں کرتے،(50)
وَأَنذِر بِهِ الَّذينَ يَخافونَ أَن يُحشَروا إِلىٰ رَبِّهِم ۙ لَيسَ لَهُم مِن دونِهِ وَلِىٌّ وَلا شَفيعٌ لَعَلَّهُم يَتَّقونَ(51)
اور آپ اس (قرآن) کے ذریعے ان لوگوں کو ڈر سنائیے جو اپنے رب کے پاس اس حال میں جمع کئے جانے سے خوف زدہ ہیں کہ ان کے لئے اس کے سوا نہ کوئی مددگار ہو اور نہ (کوئی) سفارشی تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں،(51)
وَلا تَطرُدِ الَّذينَ يَدعونَ رَبَّهُم بِالغَدوٰةِ وَالعَشِىِّ يُريدونَ وَجهَهُ ۖ ما عَلَيكَ مِن حِسابِهِم مِن شَيءٍ وَما مِن حِسابِكَ عَلَيهِم مِن شَيءٍ فَتَطرُدَهُم فَتَكونَ مِنَ الظّٰلِمينَ(52)
اور آپ ان (شکستہ دل اور خستہ حال) لوگوں کو (اپنی صحبت و قربت سے) دور نہ کیجئے جو صبح و شام اپنے رب کو صرف اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے رہتے ہیں، ان کے (عمل و جزا کے) حساب میں سے آپ پر کوئی چیز (واجب) نہیں اور نہ آپ کے حساب میں سے کوئی چیز ان پر (واجب) ہے (اگر) پھر بھی آپ انہیں (اپنے لطف و کرم سے) دور کردیں تو آپ حق تلفی کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے (جوآپ کے شایانِ شان نہیں)،(52)
وَكَذٰلِكَ فَتَنّا بَعضَهُم بِبَعضٍ لِيَقولوا أَهٰؤُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيهِم مِن بَينِنا ۗ أَلَيسَ اللَّهُ بِأَعلَمَ بِالشّٰكِرينَ(53)
اور اسی طرح ہم ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزماتے ہیں تاکہ وہ (دولت مند کافر غریب مسلمانوں کو دیکھ کر استہزاءً یہ) کہیں: کیا ہم میں سے یہی وہ لوگ ہیں جن پر اﷲ نے احسان کیا ہے؟ کیا اﷲ شکر گزاروں کو خوب جاننے والا نہیں ہے،(53)
وَإِذا جاءَكَ الَّذينَ يُؤمِنونَ بِـٔايٰتِنا فَقُل سَلٰمٌ عَلَيكُم ۖ كَتَبَ رَبُّكُم عَلىٰ نَفسِهِ الرَّحمَةَ ۖ أَنَّهُ مَن عَمِلَ مِنكُم سوءًا بِجَهٰلَةٍ ثُمَّ تابَ مِن بَعدِهِ وَأَصلَحَ فَأَنَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ(54)
اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پرایمان رکھتے ہیں تو آپ (ان سے شفقتًا) فرمائیں کہ تم پر سلام ہو تمہارے رب نے اپنی ذات (کے ذمّہ کرم) پر رحمت لازم کرلی ہے، سو تم میں سے جو شخص نادانی سے کوئی برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور (اپنی) اصلاح کر لے تو بیشک وہ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے،(54)
وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الءايٰتِ وَلِتَستَبينَ سَبيلُ المُجرِمينَ(55)
اور اسی طرح ہم آیتوں کو تفصیلاً بیان کرتے ہیں اور (یہ) اس لئے کہ مجرموں کا راستہ (سب پر) ظاہر ہوجائے،(55)
قُل إِنّى نُهيتُ أَن أَعبُدَ الَّذينَ تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ ۚ قُل لا أَتَّبِعُ أَهواءَكُم ۙ قَد ضَلَلتُ إِذًا وَما أَنا۠ مِنَ المُهتَدينَ(56)
فرمادیجئے کہ مجھے اس بات سے روک دیا گیا ہے کہ میں ان (جھوٹے معبودوں) کی عبادت کروں جن کی تم اﷲ کے سوا پرستش کرتے ہو۔ فرما دیجئے کہ میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرسکتا اگر ایسے ہو تو میں یقیناً بہک جاؤں اور میں ہدایت یافتہ لوگوں سے (بھی) نہ رہوں (جو کہ ناممکن ہے)،(56)
قُل إِنّى عَلىٰ بَيِّنَةٍ مِن رَبّى وَكَذَّبتُم بِهِ ۚ ما عِندى ما تَستَعجِلونَ بِهِ ۚ إِنِ الحُكمُ إِلّا لِلَّهِ ۖ يَقُصُّ الحَقَّ ۖ وَهُوَ خَيرُ الفٰصِلينَ(57)
فرما دیجئے: (کافرو!) بیشک میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر (قائم) ہوں اور تم اسے جھٹلاتے ہو۔ میرے پاس وہ (عذاب) نہیں ہے جس کی تم جلدی مچا رہے ہو۔ حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔ وہ حق بیان فرماتا ہے اور وہی بہتر فیصلہ فرمانے والاہے،(57)
قُل لَو أَنَّ عِندى ما تَستَعجِلونَ بِهِ لَقُضِىَ الأَمرُ بَينى وَبَينَكُم ۗ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِالظّٰلِمينَ(58)
(ان سے) فرما دیں: اگر وہ (عذاب) میرے پاس ہوتا جسے تم جلدی چاہتے ہو تو یقیناً میر ے اور تمہارے درمیان کام تمام ہوچکا ہوتا۔ اور اﷲ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے،(58)
۞ وَعِندَهُ مَفاتِحُ الغَيبِ لا يَعلَمُها إِلّا هُوَ ۚ وَيَعلَمُ ما فِى البَرِّ وَالبَحرِ ۚ وَما تَسقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلّا يَعلَمُها وَلا حَبَّةٍ فى ظُلُمٰتِ الأَرضِ وَلا رَطبٍ وَلا يابِسٍ إِلّا فى كِتٰبٍ مُبينٍ(59)
اور غیب کی کُنجیاں (یعنی وہ راستے جس سے غیب کسی پر آشکار کیا جاتا ہے) اسی کے پاس (اس کی قدرت و ملکیت میں) ہیں، انہیں اس کے سوا (اَز خود) کوئی نہیں جانتا، اور وہ ہر اس چیز کو (بلاواسطہ) جانتا ہے جو خشکی میں اور دریاؤں میں ہے، اور کوئی پتّا نہیں گرتا مگر (یہ کہ) وہ اسے جانتا ہے اور نہ زمین کی تاریکیوں میں کوئی (ایسا) دانہ ہے اور نہ کوئی تر چیز ہے اور نہ کوئی خشک چیز مگر روشن کتاب میں (سب کچھ لکھ دیا گیا ہے)،(59)
وَهُوَ الَّذى يَتَوَفّىٰكُم بِالَّيلِ وَيَعلَمُ ما جَرَحتُم بِالنَّهارِ ثُمَّ يَبعَثُكُم فيهِ لِيُقضىٰ أَجَلٌ مُسَمًّى ۖ ثُمَّ إِلَيهِ مَرجِعُكُم ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم تَعمَلونَ(60)
اور وہی ہے جو رات کے وقت تمہاری روحیں قبض فرما لیتا ہے اور جو کچھ تم دن کے وقت کماتے ہو وہ جانتا ہے پھر وہ تمہیں دن میں اٹھا دیتا ہے تاکہ (تمہاری زندگی کی) معینّہ میعاد پوری کر دی جائے پھر تمہارا پلٹنا اسی کی طرف ہے، پھر وہ (روزِ محشر) تمہیں ان (تمام اعمال) سے آگاہ فرما دے گا جو تم (اس زندگانی میں) کرتے رہے تھے،(60)
وَهُوَ القاهِرُ فَوقَ عِبادِهِ ۖ وَيُرسِلُ عَلَيكُم حَفَظَةً حَتّىٰ إِذا جاءَ أَحَدَكُمُ المَوتُ تَوَفَّتهُ رُسُلُنا وَهُم لا يُفَرِّطونَ(61)
اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ تم پر (فرشتوں کو بطور) نگہبان بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آتی ہے (تو) ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ خطا (یا کوتاہی) نہیں کرتے،(61)
ثُمَّ رُدّوا إِلَى اللَّهِ مَولىٰهُمُ الحَقِّ ۚ أَلا لَهُ الحُكمُ وَهُوَ أَسرَعُ الحٰسِبينَ(62)
پھر وہ (سب) اللہ کے حضور لوٹائے جائیں گے جو ان کا مالکِ حقیقی ہے، جان لو! حکم (فرمانا) اسی کا (کام) ہے، اور وہ سب سے جلد حساب کرنے والا ہے،(62)
قُل مَن يُنَجّيكُم مِن ظُلُمٰتِ البَرِّ وَالبَحرِ تَدعونَهُ تَضَرُّعًا وَخُفيَةً لَئِن أَنجىٰنا مِن هٰذِهِ لَنَكونَنَّ مِنَ الشّٰكِرينَ(63)
آپ (ان سے دریافت) فرمائیں کہ بیابان اور دریا کی تاریکیوں سے تمہیں کون نجات دیتا ہے؟ (اس وقت تو) تم گڑگڑا کر (بھی) اور چپکے چپکے (بھی) اسی کو پکارتے ہو کہ اگر وہ ہمیں اس (مصیبت) سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہو جائیں گے،(63)
قُلِ اللَّهُ يُنَجّيكُم مِنها وَمِن كُلِّ كَربٍ ثُمَّ أَنتُم تُشرِكونَ(64)
فرما دیجئے کہ اﷲ ہی تمہیں اس (مصیبت) سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے تم پھر (بھی) شرک کرتے ہو،(64)
قُل هُوَ القادِرُ عَلىٰ أَن يَبعَثَ عَلَيكُم عَذابًا مِن فَوقِكُم أَو مِن تَحتِ أَرجُلِكُم أَو يَلبِسَكُم شِيَعًا وَيُذيقَ بَعضَكُم بَأسَ بَعضٍ ۗ انظُر كَيفَ نُصَرِّفُ الءايٰتِ لَعَلَّهُم يَفقَهونَ(65)
فرما دیجئے: وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے (خواہ) تمہارے اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تمہیں فرقہ فرقہ کر کے آپس میں بھڑائے اور تم میں سے بعض کو بعض کی لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ دیکھئے! ہم کس کس طرح آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ یہ (لوگ) سمجھ سکیں،(65)
وَكَذَّبَ بِهِ قَومُكَ وَهُوَ الحَقُّ ۚ قُل لَستُ عَلَيكُم بِوَكيلٍ(66)
اور آپ کی قوم نے اس (قرآن) کو جھٹلا ڈالا حالانکہ وہ سراسر حق ہے۔ فرما دیجئے: میں تم پر نگہبان نہیں ہوں،(66)
لِكُلِّ نَبَإٍ مُستَقَرٌّ ۚ وَسَوفَ تَعلَمونَ(67)
ہر خبر (کے واقع ہونے) کا وقت مقرر ہے اور تم عنقریب جان لو گے،(67)
وَإِذا رَأَيتَ الَّذينَ يَخوضونَ فى ءايٰتِنا فَأَعرِض عَنهُم حَتّىٰ يَخوضوا فى حَديثٍ غَيرِهِ ۚ وَإِمّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيطٰنُ فَلا تَقعُد بَعدَ الذِّكرىٰ مَعَ القَومِ الظّٰلِمينَ(68)
اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں میں (کج بحثی اور استہزاء میں) مشغول ہوں تو تم ان سے کنارہ کش ہوجایا کرو یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہوجائیں، اور اگر شیطان تمہیں (یہ بات) بھلا دے تو یاد آنے کے بعد تم (کبھی بھی) ظالم قوم کے ساتھ نہ بیٹھا کرو،(68)
وَما عَلَى الَّذينَ يَتَّقونَ مِن حِسابِهِم مِن شَيءٍ وَلٰكِن ذِكرىٰ لَعَلَّهُم يَتَّقونَ(69)
اور لوگوں پر جو پرہیزگاری اختیار کئے ہوئے ہیں ان (کافروں) کے حساب سے کچھ بھی (لازم) نہیں ہے مگر (انہیں) نصیحت (کرنا چاہیے) تاکہ وہ (کفر سے اور قرآن کی مذمت سے) بچ جائیں،(69)
وَذَرِ الَّذينَ اتَّخَذوا دينَهُم لَعِبًا وَلَهوًا وَغَرَّتهُمُ الحَيوٰةُ الدُّنيا ۚ وَذَكِّر بِهِ أَن تُبسَلَ نَفسٌ بِما كَسَبَت لَيسَ لَها مِن دونِ اللَّهِ وَلِىٌّ وَلا شَفيعٌ وَإِن تَعدِل كُلَّ عَدلٍ لا يُؤخَذ مِنها ۗ أُولٰئِكَ الَّذينَ أُبسِلوا بِما كَسَبوا ۖ لَهُم شَرابٌ مِن حَميمٍ وَعَذابٌ أَليمٌ بِما كانوا يَكفُرونَ(70)
اور آپ ان لوگوں کو چھوڑے رکھیئے جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب دے رکھا ہے اور اس (قرآن) کے ذریعے (ان کی آگاہی کی خاطر) نصیحت فرماتے رہئے تاکہ کوئی جان اپنے کئے کے بدلے سپردِ ہلاکت نہ کر دی جائے، (پھر) اس کے لئے اﷲ کے سوا نہ کوئی مدد گار ہوگا اور نہ کوئی سفارشی، اور اگر وہ (جان اپنے گناہوں کا) پورا پورا بدلہ (یعنی معاوضہ) بھی دے تو (بھی) اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے کئے کے بدلے ہلاکت میں ڈال دیئے گئے ان کے لئے کھولتے ہوئے پانی کا پینا ہے اور دردناک عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ کفر کیا کرتے تھے،(70)
قُل أَنَدعوا مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَنفَعُنا وَلا يَضُرُّنا وَنُرَدُّ عَلىٰ أَعقابِنا بَعدَ إِذ هَدىٰنَا اللَّهُ كَالَّذِى استَهوَتهُ الشَّيٰطينُ فِى الأَرضِ حَيرانَ لَهُ أَصحٰبٌ يَدعونَهُ إِلَى الهُدَى ائتِنا ۗ قُل إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الهُدىٰ ۖ وَأُمِرنا لِنُسلِمَ لِرَبِّ العٰلَمينَ(71)
فرما دیجئے: کیا ہم اﷲ کے سوا ایسی چیز کی عبادت کریں جو ہمیں نہ (تو) نفع پہنچا سکے اور نہ (ہی) ہمیں نقصان دے سکے اور اس کے بعد کہ اﷲ نے ہمیں ہدایت دے دی ہم اس شخص کی طرح اپنے الٹے پاؤں پھر جائیں جسے زمین میں شیطانوں نے راہ بھلا کر درماندہ و حیرت زدہ کر دیا ہو جس کے ساتھی اسے سیدھی راہ کی طرف بلا رہے ہوں کہ ہمارے پاس آجا (مگر اسے کچھ سوجھتا نہ ہو)، فرما دیں کہ اﷲ کی ہدایت ہی (حقیقی) ہدایت ہے، اور (اسی لیے) ہمیں (یہ) حکم دیا گیا ہے کہ ہم تمام جہانوں کے رب کی فرمانبرداری کریں،(71)
وَأَن أَقيمُوا الصَّلوٰةَ وَاتَّقوهُ ۚ وَهُوَ الَّذى إِلَيهِ تُحشَرونَ(72)
اور یہ (بھی حکم ہوا ہے) کہ تم نماز قائم رکھو اور اس سے ڈرتے رہو اور وہی اﷲ ہے جس کی طرف تم (سب) جمع کئے جاؤ گے،(72)
وَهُوَ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ بِالحَقِّ ۖ وَيَومَ يَقولُ كُن فَيَكونُ ۚ قَولُهُ الحَقُّ ۚ وَلَهُ المُلكُ يَومَ يُنفَخُ فِى الصّورِ ۚ عٰلِمُ الغَيبِ وَالشَّهٰدَةِ ۚ وَهُوَ الحَكيمُ الخَبيرُ(73)
اور وہی (اﷲ) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق (پر مبنی تدبیر) کے ساتھ پیدا فرمایا ہے اور جس دن وہ فرمائے گا: ہوجا، تو وہ (روزِ محشر بپا) ہو جائے گا۔ اس کا فرمان حق ہے، اور اس دن اسی کی بادشاہی ہوگی جب (اسرافیل کے ذریعے صور میں پھونک ماری جائے گے، (وہی) ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے، اور وہی بڑا حکمت والا خبردار ہے،(73)
۞ وَإِذ قالَ إِبرٰهيمُ لِأَبيهِ ءازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصنامًا ءالِهَةً ۖ إِنّى أَرىٰكَ وَقَومَكَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(74)
اور (یاد کیجئے) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر (جو حقیقت میں چچا تھا محاورۂ عرب میں اسے باپ کہا گیا ہے) سے کہا: کیا تم بتوں کو معبود بناتے ہو؟ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو صریح گمراہی میں (مبتلا) دیکھتا ہوں،(74)
وَكَذٰلِكَ نُرى إِبرٰهيمَ مَلَكوتَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَلِيَكونَ مِنَ الموقِنينَ(75)
اور اسی طرح ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی تمام بادشاہتیں (یعنی عجائباتِ خلق) دکھائیں اور (یہ) اس لئے کہ وہ عین الیقین والوں میں ہوجائے،(75)
فَلَمّا جَنَّ عَلَيهِ الَّيلُ رَءا كَوكَبًا ۖ قالَ هٰذا رَبّى ۖ فَلَمّا أَفَلَ قالَ لا أُحِبُّ الءافِلينَ(76)
پھر جب ان پر رات نے اندھیرا کر دیا تو انہوں نے (ایک) ستارہ دیکھا (تو) کہا: (کیا تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو (اپنی قوم کو سنا کر) کہنے لگے: میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا،(76)
فَلَمّا رَءَا القَمَرَ بازِغًا قالَ هٰذا رَبّى ۖ فَلَمّا أَفَلَ قالَ لَئِن لَم يَهدِنى رَبّى لَأَكونَنَّ مِنَ القَومِ الضّالّينَ(77)
پھر جب چاند کو چمکتے دیکھا (تو) کہا: (کیا تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے؟ پھرجب وہ (بھی) غائب ہوگیا تو (اپنی قوم کو سنا کر) کہنے لگے: اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ فرماتا تو میں بھی ضرور (تمہاری طرح) گمراہوں کی قوم میں سے ہو جاتا،(77)
فَلَمّا رَءَا الشَّمسَ بازِغَةً قالَ هٰذا رَبّى هٰذا أَكبَرُ ۖ فَلَمّا أَفَلَت قالَ يٰقَومِ إِنّى بَريءٌ مِمّا تُشرِكونَ(78)
پھر جب سورج کو چمکتے دیکھا (تو) کہا: (کیا اب تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے (کیونکہ) یہ سب سے بڑا ہے؟ پھر جب وہ (بھی) چھپ گیا تو بول اٹھے: اے لوگو! میں ان (سب چیزوں) سے بیزار ہوں جنہیں تم (اﷲ کا) شریک گردانتے ہو،(78)
إِنّى وَجَّهتُ وَجهِىَ لِلَّذى فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ حَنيفًا ۖ وَما أَنا۠ مِنَ المُشرِكينَ(79)
بیشک میں نے اپنا رُخ (ہر سمت سے ہٹا کر) یکسوئی سے اس (ذات) کی طرف پھیر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بے مثال پیدا فرمایا ہے اور (جان لو کہ) میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں،(79)
وَحاجَّهُ قَومُهُ ۚ قالَ أَتُحٰجّونّى فِى اللَّهِ وَقَد هَدىٰنِ ۚ وَلا أَخافُ ما تُشرِكونَ بِهِ إِلّا أَن يَشاءَ رَبّى شَيـًٔا ۗ وَسِعَ رَبّى كُلَّ شَيءٍ عِلمًا ۗ أَفَلا تَتَذَكَّرونَ(80)
اور ان کی قوم ان سے بحث و جدال کرنے لگی (تو) انہوں نے کہا: بھلا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو حالانکہ اس نے مجھے ہدایت فرما دی ہے، اور میں ان (باطل معبودوں) سے نہیں ڈرتا جنہیں تم اس کا شریک ٹھہرا رہے ہو مگر (یہ کہ) میرا رب جو کچھ (ضرر) چاہے (پہنچا سکتا ہے)۔ میرے رب نے ہر چیز کو (اپنے) علم سے احاطہ میں لے رکھا ہے، سو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے،(80)
وَكَيفَ أَخافُ ما أَشرَكتُم وَلا تَخافونَ أَنَّكُم أَشرَكتُم بِاللَّهِ ما لَم يُنَزِّل بِهِ عَلَيكُم سُلطٰنًا ۚ فَأَىُّ الفَريقَينِ أَحَقُّ بِالأَمنِ ۖ إِن كُنتُم تَعلَمونَ(81)
اور میں ان (معبودانِ باطلہ) سے کیونکر خوفزدہ ہوسکتا ہوں جنہیں تم (اﷲ کا) شریک ٹھہراتے ہو درآنحالیکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اﷲ کے ساتھ (بتوں کو) شریک بنا رکھا ہے (جبکہ) اس نے تم پر اس (شرک) کی کوئی دلیل نہیں اتاری (اب تم ہی جواب دو!) سو ہر دو فریق میں سے (عذاب سے) بے خوف رہنے کا زیادہ حق دار کون ہے؟ اگر تم جانتے ہو،(81)
الَّذينَ ءامَنوا وَلَم يَلبِسوا إيمٰنَهُم بِظُلمٍ أُولٰئِكَ لَهُمُ الأَمنُ وَهُم مُهتَدونَ(82)
جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے ظلم کے ساتھ نہیں ملایا انہی لوگوں کے لئے امن (یعنی اُخروی بے خوفی) ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں،(82)
وَتِلكَ حُجَّتُنا ءاتَينٰها إِبرٰهيمَ عَلىٰ قَومِهِ ۚ نَرفَعُ دَرَجٰتٍ مَن نَشاءُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكيمٌ عَليمٌ(83)
اور یہی ہماری (توحید کی) دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی (مخالف) قوم کے مقابلہ میں دی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کر دیتے ہیں۔ بیشک آپ کا رب بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے،(83)
وَوَهَبنا لَهُ إِسحٰقَ وَيَعقوبَ ۚ كُلًّا هَدَينا ۚ وَنوحًا هَدَينا مِن قَبلُ ۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِ داوۥدَ وَسُلَيمٰنَ وَأَيّوبَ وَيوسُفَ وَموسىٰ وَهٰرونَ ۚ وَكَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ(84)
اور ہم نے ان (ابراہیم علیہ السلام) کو اسحاق اور یعقوب (بیٹا اور پوتا علیھما السلام) عطا کئے، ہم نے (ان) سب کو ہدایت سے نوازا، اور ہم نے (ان سے) پہلے نوح (علیہ السلام) کو (بھی) ہدایت سے نوازا تھا اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسٰی اور ہارون (علیھم السلام کو بھی ہدایت عطا فرمائی تھی)، اور ہم اسی طرح نیکو کاروں کو جزا دیا کرتے ہیں،(84)
وَزَكَرِيّا وَيَحيىٰ وَعيسىٰ وَإِلياسَ ۖ كُلٌّ مِنَ الصّٰلِحينَ(85)
اور زکریا اور یحیٰی اور عیسٰی اور الیاس (علیھم السلام کو بھی ہدایت بخشی)۔ یہ سب نیکو کار (قربت اور حضوری والے) لوگ تھے،(85)
وَإِسمٰعيلَ وَاليَسَعَ وَيونُسَ وَلوطًا ۚ وَكُلًّا فَضَّلنا عَلَى العٰلَمينَ(86)
اور اسمٰعیل اور الیسع اور یونس اور لوط (علیھم السلام کو بھی ہدایت سے شرف یاب فرمایا)، اور ہم نے ان سب کو (اپنے زمانے کے) تمام جہان والوں پر فضیلت بخشی،(86)
وَمِن ءابائِهِم وَذُرِّيّٰتِهِم وَإِخوٰنِهِم ۖ وَاجتَبَينٰهُم وَهَدَينٰهُم إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(87)
اور ان کے آباؤ (و اجداد) اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بھی (بعض کو ایسی فضیلت عطا فرمائی) اور ہم نے انہیں (اپنے لطفِ خاص اور بزرگی کے لئے) چن لیا تھا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرما دی تھی،(87)
ذٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهدى بِهِ مَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ ۚ وَلَو أَشرَكوا لَحَبِطَ عَنهُم ما كانوا يَعمَلونَ(88)
یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے رہنمائی فرماتا ہے، اور اگر (بالفرض) یہ لوگ شرک کرتے تو ان سے وہ سارے اعمالِ (خیر) ضبط (یعنی نیست و نابود) ہو جاتے جو وہ انجام دیتے تھے،(88)
أُولٰئِكَ الَّذينَ ءاتَينٰهُمُ الكِتٰبَ وَالحُكمَ وَالنُّبُوَّةَ ۚ فَإِن يَكفُر بِها هٰؤُلاءِ فَقَد وَكَّلنا بِها قَومًا لَيسوا بِها بِكٰفِرينَ(89)
(یہی) وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے کتاب اور حکمِ (شریعت) اور نبوّت عطا فرمائی تھی۔ پھر اگر یہ لوگ (یعنی کفّار) ان باتوں سے انکار کر دیں تو بیشک ہم نے ان (باتوں) پر (ایمان لانے کے لیے) ایسی قوم کو مقرر کردیا ہے جو ان سے انکار کرنے والے نہیں (ہوں گے)،(89)
أُولٰئِكَ الَّذينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدىٰهُمُ اقتَدِه ۗ قُل لا أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ أَجرًا ۖ إِن هُوَ إِلّا ذِكرىٰ لِلعٰلَمينَ(90)
(یہی) وہ لوگ (یعنی پیغمبرانِ خدا) ہیں جنہیں اﷲ نے ہدایت فرمائی ہے پس (اے رسولِ آخر الزمان!) آپ ان کے (فضیلت والے سب) طریقوں (کو اپنی سیرت میں جمع کر کے ان) کی پیروی کریں (تاکہ آپ کی ذات میں ان تمام انبیاء و رسل کے فضائل و کمالات یکجا ہوجائیں)، آپ فرما دیجئے: (اے لوگو!) میں تم سے اس (ہدایت کی فراہمی پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ یہ تو صرف جہان والوں کے لئے نصیحت ہے،(90)
وَما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدرِهِ إِذ قالوا ما أَنزَلَ اللَّهُ عَلىٰ بَشَرٍ مِن شَيءٍ ۗ قُل مَن أَنزَلَ الكِتٰبَ الَّذى جاءَ بِهِ موسىٰ نورًا وَهُدًى لِلنّاسِ ۖ تَجعَلونَهُ قَراطيسَ تُبدونَها وَتُخفونَ كَثيرًا ۖ وَعُلِّمتُم ما لَم تَعلَموا أَنتُم وَلا ءاباؤُكُم ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ ثُمَّ ذَرهُم فى خَوضِهِم يَلعَبونَ(91)
اور انہوں نے (یعنی یہود نے) اﷲ کی وہ قدر نہ جانی جیسی قدر جاننا چاہیے تھی، جب انہوں نے یہ کہہ (کر رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کر) دیا کہ اﷲ نے کسی آدمی پر کوئی چیز نہیں اتاری۔ آپ فرما دیجئے: وہ کتاب کس نے اتاری تھی جو موسٰی (علیہ السلام) لے کر آئے تھے جو لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت تھی؟ تم نے جس کے الگ الگ کاغذ بنا لئے ہیں تم اسے (لوگوں پر) ظاہر (بھی) کرتے ہو اور (اس میں سے) بہت کچھ چھپاتے (بھی) ہو، اور تمہیں وہ (کچھ) سکھایا گیا ہے جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا، آپ فرما دیجئے: (یہ سب) اﷲ (ہی کا کرم ہے) پھر آپ انہیں (ان کے حال پر) چھوڑ دیں کہ وہ اپنی خرافات میں کھیلتے رہیں،(91)
وَهٰذا كِتٰبٌ أَنزَلنٰهُ مُبارَكٌ مُصَدِّقُ الَّذى بَينَ يَدَيهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ القُرىٰ وَمَن حَولَها ۚ وَالَّذينَ يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ يُؤمِنونَ بِهِ ۖ وَهُم عَلىٰ صَلاتِهِم يُحافِظونَ(92)
اور یہ (وہ) کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے، بابرکت ہے، جو کتابیں اس سے پہلے تھیں ان کی (اصلاً) تصدیق کرنے والی ہے۔ اور (یہ) اس لئے (نازل کی گئی ہے) کہ آپ (اولاً) سب (انسانی) بستیوں کے مرکز (مکّہ) والوں کو اور (ثانیاً ساری دنیا میں) اس کے ارد گرد والوں کو ڈر سنائیں، اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اس پر وہی ایمان لاتے ہیں اور وہی لوگ اپنی نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں،(92)
وَمَن أَظلَمُ مِمَّنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَو قالَ أوحِىَ إِلَىَّ وَلَم يوحَ إِلَيهِ شَيءٌ وَمَن قالَ سَأُنزِلُ مِثلَ ما أَنزَلَ اللَّهُ ۗ وَلَو تَرىٰ إِذِ الظّٰلِمونَ فى غَمَرٰتِ المَوتِ وَالمَلٰئِكَةُ باسِطوا أَيديهِم أَخرِجوا أَنفُسَكُمُ ۖ اليَومَ تُجزَونَ عَذابَ الهونِ بِما كُنتُم تَقولونَ عَلَى اللَّهِ غَيرَ الحَقِّ وَكُنتُم عَن ءايٰتِهِ تَستَكبِرونَ(93)
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا (نبوت کا جھوٹا دعوٰی کرتے ہوئے یہ) کہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہ کی گئی ہو اور (اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا) جو (خدائی کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہوئے یہ) کہے کہ میں (بھی) عنقریب ایسی ہی (کتاب) نازل کرتا ہوں جیسی اللہ نے نازل کی ہے۔ اور اگر آپ (اس وقت کا منظر) دیکھیں جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں گے اور فرشتے (ان کی طرف) اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں گے اور (ان سے کہتے ہوں گے:) تم اپنی جانیں جسموں سے نکالو۔ آج تمہیں سزا میں ذلّت کا عذاب دیا جائے گا۔ اس وجہ سے کہ تم اﷲ پر ناحق باتیں کیا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں سے سرکشی کیا کرتے تھے،(93)
وَلَقَد جِئتُمونا فُرٰدىٰ كَما خَلَقنٰكُم أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكتُم ما خَوَّلنٰكُم وَراءَ ظُهورِكُم ۖ وَما نَرىٰ مَعَكُم شُفَعاءَكُمُ الَّذينَ زَعَمتُم أَنَّهُم فيكُم شُرَكٰؤُا۟ ۚ لَقَد تَقَطَّعَ بَينَكُم وَضَلَّ عَنكُم ما كُنتُم تَزعُمونَ(94)
اور بیشک تم (روزِ قیامت) ہمارے پاس اسی طرح تنہا آؤ گے جیسے ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ (تنہا) پیدا کیا تھا اور (اموال و اولاد میں سے) جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آؤ گے، اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو نہیں دیکھیں گے جن کی نسبت تم (یہ) گمان کرتے تھے کہ وہ تمہارے (معاملات) میں ہمارے شریک ہیں۔ بیشک (آج) تمہارا باہمی تعلق (و اعتماد) منقطع ہوگیا اور وہ (سب) دعوے جو تم کیا کرتے تھے تم سے جاتے رہے،(94)
۞ إِنَّ اللَّهَ فالِقُ الحَبِّ وَالنَّوىٰ ۖ يُخرِجُ الحَىَّ مِنَ المَيِّتِ وَمُخرِجُ المَيِّتِ مِنَ الحَىِّ ۚ ذٰلِكُمُ اللَّهُ ۖ فَأَنّىٰ تُؤفَكونَ(95)
بیشک اﷲ دانے اور گٹھلی کو پھاڑ نکالنے والا ہے وہ مُردہ سے زندہ کو پیدا فرماتا ہے اور زندہ سے مُردہ کو نکالنے والا ہے، یہی (شان والا) تو اﷲ ہے پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو،(95)
فالِقُ الإِصباحِ وَجَعَلَ الَّيلَ سَكَنًا وَالشَّمسَ وَالقَمَرَ حُسبانًا ۚ ذٰلِكَ تَقديرُ العَزيزِ العَليمِ(96)
(وہی) صبح (کی روشنی) کو رات کا اندھیرا چاک کر کے نکالنے والاہے، اور اسی نے رات کو آرام کے لئے بنایا ہے اور سورج اور چاند کوحساب و شمار کے لئے، یہ بہت غالب بڑے علم والے (ربّ) کا مقررہ اندازہ ہے،(96)
وَهُوَ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ النُّجومَ لِتَهتَدوا بِها فى ظُلُمٰتِ البَرِّ وَالبَحرِ ۗ قَد فَصَّلنَا الءايٰتِ لِقَومٍ يَعلَمونَ(97)
اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے ستاروں کو بنایا تاکہ تم ان کے ذریعے بیابانوں اور دریاؤں کی تاریکیوں میں راستے پاسکو۔ بیشک ہم نے علم رکھنے والی قوم کے لئے (اپنی) نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں،(97)
وَهُوَ الَّذى أَنشَأَكُم مِن نَفسٍ وٰحِدَةٍ فَمُستَقَرٌّ وَمُستَودَعٌ ۗ قَد فَصَّلنَا الءايٰتِ لِقَومٍ يَفقَهونَ(98)
اور وہی (اﷲ) ہے جس نے تمہیں ایک جان (یعنی ایک خلیہ) سے پیدا فرمایا ہے پھر (تمہارے لئے) ایک جائے اقامت (ہے) اور ایک جائے امانت (مراد رحمِ مادر اور دنیا ہے یا دنیا اور قبر ہے)۔ بیشک ہم نے سمجھنے والے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں،(98)
وَهُوَ الَّذى أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَجنا بِهِ نَباتَ كُلِّ شَيءٍ فَأَخرَجنا مِنهُ خَضِرًا نُخرِجُ مِنهُ حَبًّا مُتَراكِبًا وَمِنَ النَّخلِ مِن طَلعِها قِنوانٌ دانِيَةٌ وَجَنّٰتٍ مِن أَعنابٍ وَالزَّيتونَ وَالرُّمّانَ مُشتَبِهًا وَغَيرَ مُتَشٰبِهٍ ۗ انظُروا إِلىٰ ثَمَرِهِ إِذا أَثمَرَ وَيَنعِهِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكُم لَءايٰتٍ لِقَومٍ يُؤمِنونَ(99)
اور وہی ہے جس نے آسمان کی طرف سے پانی اتارا پھر ہم نے اس (بارش) سے ہر قسم کی روئیدگی نکالی پھر ہم نے اس سے سرسبز (کھیتی) نکالی جس سے ہم اوپر تلے پیوستہ دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغات اور زیتون اور انار (بھی پیدا کئے جو کئی اعتبارات سے) آپس میں ایک جیسے (لگتے) ہیں اور (پھل، ذائقے اور تاثیرات) جداگانہ ہیں۔ تم درخت کے پھل کی طرف دیکھو جب وہ پھل لائے اور اس کے پکنے کو (بھی دیکھو)، بیشک ان میں ایمان رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں،(99)
وَجَعَلوا لِلَّهِ شُرَكاءَ الجِنَّ وَخَلَقَهُم ۖ وَخَرَقوا لَهُ بَنينَ وَبَنٰتٍ بِغَيرِ عِلمٍ ۚ سُبحٰنَهُ وَتَعٰلىٰ عَمّا يَصِفونَ(100)
اور ان کافروں نے جِنّات کو اﷲ کا شریک بنایا حالانکہ اسی نے ان کو پیدا کیا تھا اورانہوں نے اللہ کے لئے بغیر علم (و دانش) کے لڑکے اور لڑکیاں (بھی) گھڑ لیں۔ وہ ان (تمام) باتوں سے پاک اور بلند و بالا ہے جو یہ (اس سے متعلق) کرتے پھرتے ہیں،(100)
بَديعُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ أَنّىٰ يَكونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَم تَكُن لَهُ صٰحِبَةٌ ۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيءٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ(101)
وہی آسمانوں اور زمینوں کا مُوجِد ہے، بھلا اس کی اولاد کیونکر ہو سکتی ہے حالانکہ اس کی بیوی (ہی) نہیں ہے، اور اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے،(101)
ذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُم ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ خٰلِقُ كُلِّ شَيءٍ فَاعبُدوهُ ۚ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ وَكيلٌ(102)
یہی (اﷲ) تمہارا پروردگار ہے، اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، (وہی) ہر چیز کا خالق ہے پس تم اسی کی عبادت کیا کرو اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے،(102)
لا تُدرِكُهُ الأَبصٰرُ وَهُوَ يُدرِكُ الأَبصٰرَ ۖ وَهُوَ اللَّطيفُ الخَبيرُ(103)
نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ سب نگاہوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے، اور وہ بڑا باریک بین بڑا باخبر ہے،(103)
قَد جاءَكُم بَصائِرُ مِن رَبِّكُم ۖ فَمَن أَبصَرَ فَلِنَفسِهِ ۖ وَمَن عَمِىَ فَعَلَيها ۚ وَما أَنا۠ عَلَيكُم بِحَفيظٍ(104)
بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے (ہدایت کی) نشانیاں آچکی ہیں پس جس نے (انہیں نگاہِ بصیرت سے) دیکھ لیا تو (یہ) اس کی اپنی ذات کے لئے (فائدہ مند) ہے، اور جو اندھا رہا تو اس کا وبال (بھی) اسی پر ہے، اور میں تم پر نگہبان نہیں ہوں،(104)
وَكَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الءايٰتِ وَلِيَقولوا دَرَستَ وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَومٍ يَعلَمونَ(105)
اور ہم اسی طرح (اپنی) آیتوں کو بار بار (انداز بدل کر) بیان کرتے ہیں اور یہ اس لئے کہ وہ(کافر) بول اٹھیں کہ آپ نے (تو کہیں سے) پڑھ لیا ہے تاکہ ہم اس کو جاننے والے لوگوں کے لئے خوب واضح کردیں،(105)
اتَّبِع ما أوحِىَ إِلَيكَ مِن رَبِّكَ ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ وَأَعرِض عَنِ المُشرِكينَ(106)
آپ اس (قرآن) کی پیروی کیجئے جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے وحی کیا گیا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور آپ مشرکوں سے کنارہ کشی کر لیجئے،(106)
وَلَو شاءَ اللَّهُ ما أَشرَكوا ۗ وَما جَعَلنٰكَ عَلَيهِم حَفيظًا ۖ وَما أَنتَ عَلَيهِم بِوَكيلٍ(107)
اور اگر اﷲ (ان کو جبراً روکنا) چاہتا تو یہ لوگ (کبھی) شرک نہ کرتے، اور ہم نے آپ کو (بھی) ان پر نگہبان نہیں بنایا اور نہ آپ ان پر پاسبان ہیں،(107)
وَلا تَسُبُّوا الَّذينَ يَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدوًا بِغَيرِ عِلمٍ ۗ كَذٰلِكَ زَيَّنّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُم ثُمَّ إِلىٰ رَبِّهِم مَرجِعُهُم فَيُنَبِّئُهُم بِما كانوا يَعمَلونَ(108)
اور (اے مسلمانو!) تم ان (جھوٹے معبودوں) کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ (بھی جواباً) جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں دشنام طرازی کرنے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر فرقہ (و جماعت) کے لئے ان کا عمل (ان کی آنکھوں میں) مرغوب کر رکھا ہے (اور وہ اسی کو حق سمجھتے رہتے ہیں)، پھر سب کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ انہیں ان اعمال کے نتائج سے آگاہ فرما دے گا جو وہ انجام دیتے تھے،(108)
وَأَقسَموا بِاللَّهِ جَهدَ أَيمٰنِهِم لَئِن جاءَتهُم ءايَةٌ لَيُؤمِنُنَّ بِها ۚ قُل إِنَّمَا الءايٰتُ عِندَ اللَّهِ ۖ وَما يُشعِرُكُم أَنَّها إِذا جاءَت لا يُؤمِنونَ(109)
وہ بڑے تاکیدی حلف کے ساتھ اللہ کی قَسم کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی (کھلی) نشانی آجائے تو وہ اس پر ضرور ایمان لے آئیں گے۔ (ان سے) کہہ دو کہ نشانیاں توصرف اﷲ ہی کے پاس ہیں، اور (اے مسلمانو!) تمہیں کیا خبر کہ جب وہ نشانی آجائے گی (تو) وہ (پھر بھی) ایمان نہیں لائیں گے،(109)
وَنُقَلِّبُ أَفـِٔدَتَهُم وَأَبصٰرَهُم كَما لَم يُؤمِنوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُم فى طُغيٰنِهِم يَعمَهونَ(110)
اور ہم ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو (ان کی اپنی بدنیتی کے باعث قبولِ حق) سے (اسی طرح) پھیر دیں گے جس طرح وہ اس (نبی) پر پہلی بار ایمان نہیں لائے (سو وہ نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے) اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں (ہی) چھوڑ دیں گے کہ وہ بھٹکتے پھریں،(110)
۞ وَلَو أَنَّنا نَزَّلنا إِلَيهِمُ المَلٰئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ المَوتىٰ وَحَشَرنا عَلَيهِم كُلَّ شَيءٍ قُبُلًا ما كانوا لِيُؤمِنوا إِلّا أَن يَشاءَ اللَّهُ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم يَجهَلونَ(111)
اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتار دیتے اور ان سے مُردے باتیں کرنے لگتے اور ہم ان پر ہر چیز (آنکھوں کے سامنے) گروہ در گروہ جمع کر دیتے وہ تب بھی ایمان نہ لاتے سوائے اس کے جو اﷲ چاہتا اور ان میں سے اکثر لوگ جہالت سے کام لیتے ہیں،(111)
وَكَذٰلِكَ جَعَلنا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّا شَيٰطينَ الإِنسِ وَالجِنِّ يوحى بَعضُهُم إِلىٰ بَعضٍ زُخرُفَ القَولِ غُرورًا ۚ وَلَو شاءَ رَبُّكَ ما فَعَلوهُ ۖ فَذَرهُم وَما يَفتَرونَ(112)
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے انسانوں اور جِنّوں میں سے شیطانوں کو دشمن بنا دیا جو ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی ہوئی (چکنی چپڑی) باتیں (وسوسہ کے طور پر) دھوکہ دینے کے لئے ڈالتے رہتے ہیں، اور اگر آپ کا ربّ (انہیں جبراً روکنا) چاہتا (تو) وہ ایسا نہ کر پاتے، سو آپ انہیں (بھی) چھوڑ دیں اور جو کچھ وہ بہتان باندھ رہے ہیں (اسے بھی)،(112)
وَلِتَصغىٰ إِلَيهِ أَفـِٔدَةُ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ وَلِيَرضَوهُ وَلِيَقتَرِفوا ما هُم مُقتَرِفونَ(113)
اور (یہ) اس لئے کہ ان لوگوں کے دل اس (فریب) کی طرف مائل ہو جائیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور (یہ) کہ وہ اسے پسند کرنے لگیں اور (یہ بھی) کہ وہ (انہی اعمالِ بد کا) ارتکاب کرنے لگیں جن کے وہ خود (مرتکب) ہو رہے ہیں،(113)
أَفَغَيرَ اللَّهِ أَبتَغى حَكَمًا وَهُوَ الَّذى أَنزَلَ إِلَيكُمُ الكِتٰبَ مُفَصَّلًا ۚ وَالَّذينَ ءاتَينٰهُمُ الكِتٰبَ يَعلَمونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِن رَبِّكَ بِالحَقِّ ۖ فَلا تَكونَنَّ مِنَ المُمتَرينَ(114)
(فرما دیجئے:) کیا میں اﷲ کے سوا کسی اور کو حاکم (و فیصل) تلاش کروں حالانکہ وہ (اﷲ) ہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصّل (یعنی واضح لائحہ عمل پر مشتمل) کتاب نازل فرمائی ہے، اور وہ لوگ جن کو ہم نے (پہلے) کتاب دی تھی (دل سے) جانتے ہیں کہ یہ (قرآن) آپ کے رب کی طرف سے (مبنی) برحق اتارا ہوا ہے پس آپ (ان اہلِ کتاب کی نسبت) شک کرنے والوں میں نہ ہوں (کہ یہ لوگ قرآن کا وحی ہونا جانتے ہیں یا نہیں)،(114)
وَتَمَّت كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدقًا وَعَدلًا ۚ لا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهِ ۚ وَهُوَ السَّميعُ العَليمُ(115)
اور آپ کے رب کی بات سچائی اور عدل کی رُو سے پوری ہو چکی، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں، اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے،(115)
وَإِن تُطِع أَكثَرَ مَن فِى الأَرضِ يُضِلّوكَ عَن سَبيلِ اللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِن هُم إِلّا يَخرُصونَ(116)
اور اگر تو زمین میں (موجود) لوگوں کی اکثریت کا کہنا مان لے تو وہ تجھے اﷲ کی راہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ (حق و یقین کی بجائے) صرف وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور محض غلط قیاس آرائی (اور دروغ گوئی) کرتے رہتے ہیں،(116)
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعلَمُ بِالمُهتَدينَ(117)
بیشک آپ کا رب ہی اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا ہے اور وہی ہدایت یافتہ لوگوں سے (بھی) خوب واقف ہے،(117)
فَكُلوا مِمّا ذُكِرَ اسمُ اللَّهِ عَلَيهِ إِن كُنتُم بِـٔايٰتِهِ مُؤمِنينَ(118)
سو تم اس (ذبیحہ) سے کھایا کرو جس پر (ذبح کے وقت) اﷲ کا نام لیا گیا ہو اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہو،(118)
وَما لَكُم أَلّا تَأكُلوا مِمّا ذُكِرَ اسمُ اللَّهِ عَلَيهِ وَقَد فَصَّلَ لَكُم ما حَرَّمَ عَلَيكُم إِلّا مَا اضطُرِرتُم إِلَيهِ ۗ وَإِنَّ كَثيرًا لَيُضِلّونَ بِأَهوائِهِم بِغَيرِ عِلمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعلَمُ بِالمُعتَدينَ(119)
اور تمہیں کیا ہے کہ تم اس (ذبیحہ) سے نہیں کھاتے جس پر (ذبح کے وقت) اﷲ کا نام لیا گیا ہے (تم ان حلال جانوروں کو بلاوجہ حرام ٹھہراتے ہو)؟ حالانکہ اس نے تمہارے لئے ان (تمام) چیزوں کو تفصیلاً بیان کر دیا ہے جو اس نے تم پر حرام کی ہیں، سوائے اس (صورت) کے کہ تم (محض جان بچانے کے لئے) ان (کے بقدرِ حاجت کھانے) کی طرف انتہائی مجبور ہو جاؤ (سو اب تم اپنی طرف سے اور چیزوں کو مزید حرام نہ ٹھہرایا کرو)۔ بیشک بہت سے لوگ بغیر (پختہ) علم کے اپنی خواہشات (اور من گھڑت تصورات) کے ذریعے (لوگوں کو) بہکاتے رہتے ہیں، اور یقینا آپ کا ربّ حد سے تجاوز کرنے والوں کو خوب جانتا ہے،(119)
وَذَروا ظٰهِرَ الإِثمِ وَباطِنَهُ ۚ إِنَّ الَّذينَ يَكسِبونَ الإِثمَ سَيُجزَونَ بِما كانوا يَقتَرِفونَ(120)
اور تم ظاہری اور باطنی (یعنی آشکار و پنہاں دونوں قسم کے) گناہ چھوڑ دو۔ بیشک جو لوگ گناہ کما رہے ہیں انہیں عنقریب سزا دی جائے گی ان (اَعمالِ بد) کے باعث جن کا وہ ارتکاب کرتے تھے،(120)
وَلا تَأكُلوا مِمّا لَم يُذكَرِ اسمُ اللَّهِ عَلَيهِ وَإِنَّهُ لَفِسقٌ ۗ وَإِنَّ الشَّيٰطينَ لَيوحونَ إِلىٰ أَولِيائِهِم لِيُجٰدِلوكُم ۖ وَإِن أَطَعتُموهُم إِنَّكُم لَمُشرِكونَ(121)
اور تم اس (جانور کے گوشت) سے نہ کھایا کرو جس پر (ذبح کے وقت) اﷲ کا نام نہ لیا گیا ہو اور بیشک وہ (گوشت کھانا) گناہ ہے، اور بیشک شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں (وسوسے) ڈالتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم ان کے کہنے پر چل پڑے (تو) تم بھی مشرک ہو جاؤ گے،(121)
أَوَمَن كانَ مَيتًا فَأَحيَينٰهُ وَجَعَلنا لَهُ نورًا يَمشى بِهِ فِى النّاسِ كَمَن مَثَلُهُ فِى الظُّلُمٰتِ لَيسَ بِخارِجٍ مِنها ۚ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلكٰفِرينَ ما كانوا يَعمَلونَ(122)
بھلا وہ شخص جو مُردہ (یعنی ایمان سے محروم) تھا پھر ہم نے اسے (ہدایت کی بدولت) زندہ کیا اور ہم نے اس کے لئے (ایمان و معرفت کا) نور پیدا فرما دیا (اب) وہ اس کے ذریعے (بقیہ) لوگوں میں (بھی روشنی پھیلانے کے لئے) چلتا ہے اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ (وہ جہالت اور گمراہی کے) اندھیروں میں (اس طرح گھِرا) پڑا ہے کہ اس سے نکل ہی نہیں سکتا۔ اسی طرح کافروں کے لئے ان کے وہ اعمال (ان کی نظروں میں) خوش نما دکھائے جاتے ہیں جو وہ انجام دیتے رہتے ہیں،(122)
وَكَذٰلِكَ جَعَلنا فى كُلِّ قَريَةٍ أَكٰبِرَ مُجرِميها لِيَمكُروا فيها ۖ وَما يَمكُرونَ إِلّا بِأَنفُسِهِم وَما يَشعُرونَ(123)
اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وڈیروں (اور رئیسوں) کو وہاں کے جرائم کا سرغنہ بنایا تاکہ وہ اس (بستی) میں مکاریاں کریں، اور وہ (حقیقت میں) اپنی جانوں کے سوا کسی (اور) سے فریب نہیں کر رہے اور وہ (اس کے انجامِ بد کا) شعور نہیں رکھتے،(123)
وَإِذا جاءَتهُم ءايَةٌ قالوا لَن نُؤمِنَ حَتّىٰ نُؤتىٰ مِثلَ ما أوتِىَ رُسُلُ اللَّهِ ۘ اللَّهُ أَعلَمُ حَيثُ يَجعَلُ رِسالَتَهُ ۗ سَيُصيبُ الَّذينَ أَجرَموا صَغارٌ عِندَ اللَّهِ وَعَذابٌ شَديدٌ بِما كانوا يَمكُرونَ(124)
اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے (تو) کہتے ہیں: ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں بھی ویسی ہی (نشانی) دی جائے جیسی اﷲ کے رسولوں کو دی گئی ہے۔ اﷲ خوب جانتا ہے کہ اسے اپنی رسالت کا محل کسے بنانا ہے۔ عنقریب مجرموں کو اﷲ کے حضور ذلت رسید ہوگی اور سخت عذاب بھی (ملے گا) اس وجہ سے کہ وہ مکر (اور دھوکہ دہی) کرتے تھے،(124)
فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهدِيَهُ يَشرَح صَدرَهُ لِلإِسلٰمِ ۖ وَمَن يُرِد أَن يُضِلَّهُ يَجعَل صَدرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّما يَصَّعَّدُ فِى السَّماءِ ۚ كَذٰلِكَ يَجعَلُ اللَّهُ الرِّجسَ عَلَى الَّذينَ لا يُؤمِنونَ(125)
پس اﷲ جس کسی کو (فضلاً) ہدایت دینے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کشادہ فرما دیتا ہے اور جس کسی کو (عدلاً اس کی اپنی خرید کردہ) گمراہی پر ہی رکھنے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ (ایسی) شدید گھٹن کے ساتھ تنگ کر دیتا ہے گویا وہ بمشکل آسمان (یعنی بلندی) پر چڑھ رہا ہو، اسی طرح اﷲ ان لوگوں پر عذابِ (ذّلت) واقع فرماتا ہے جو ایمان نہیں لاتے،(125)
وَهٰذا صِرٰطُ رَبِّكَ مُستَقيمًا ۗ قَد فَصَّلنَا الءايٰتِ لِقَومٍ يَذَّكَّرونَ(126)
اور یہ (اسلام ہی) آپ کے رب کا سیدھا راستہ ہے، بیشک ہم نے نصیحت قبول کرنے والے لوگوں کے لئے آیتیں تفصیل سے بیان کر دی ہیں،(126)
۞ لَهُم دارُ السَّلٰمِ عِندَ رَبِّهِم ۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِما كانوا يَعمَلونَ(127)
انہی کے لئے ان کے رب کے حضور سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا مولٰی ہے ان اعمالِ (صالحہ) کے باعث جو وہ انجام دیا کرتے تھے،(127)
وَيَومَ يَحشُرُهُم جَميعًا يٰمَعشَرَ الجِنِّ قَدِ استَكثَرتُم مِنَ الإِنسِ ۖ وَقالَ أَولِياؤُهُم مِنَ الإِنسِ رَبَّنَا استَمتَعَ بَعضُنا بِبَعضٍ وَبَلَغنا أَجَلَنَا الَّذى أَجَّلتَ لَنا ۚ قالَ النّارُ مَثوىٰكُم خٰلِدينَ فيها إِلّا ما شاءَ اللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكيمٌ عَليمٌ(128)
اور جس دن وہ ان سب کو جمع فرمائے گا (تو ارشاد ہوگا:) اے گروہِ جنّات (یعنی شیاطین!) بیشک تم نے بہت سے انسانوں کو (گمراہ) کر لیا، اور انسانوں میں سے ان کے دوست کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے ایک دوسرے سے (خوب) فائدے حاصل کئے اور (اسی غفلت اور مفاد پرستی کے عالم میں) ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لئے مقرر فرمائی تھی (مگر ہم اس کے لئے کچھ تیاری نہ کر سکے)۔ اﷲ فرمائے گا کہ (اب) دوزخ ہی تمہارا ٹھکانا ہے ہمیشہ اسی میں رہو گے مگر جو اﷲ چاہے۔ بیشک آپ کا رب بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے،(128)
وَكَذٰلِكَ نُوَلّى بَعضَ الظّٰلِمينَ بَعضًا بِما كانوا يَكسِبونَ(129)
اسی طرح ہم ظالموں میں سے بعض کو بعض پر مسلط کرتے رہتے ہیں ان اعمالِ(بد) کے باعث جو وہ کمایا کرتے ہیں،(129)
يٰمَعشَرَ الجِنِّ وَالإِنسِ أَلَم يَأتِكُم رُسُلٌ مِنكُم يَقُصّونَ عَلَيكُم ءايٰتى وَيُنذِرونَكُم لِقاءَ يَومِكُم هٰذا ۚ قالوا شَهِدنا عَلىٰ أَنفُسِنا ۖ وَغَرَّتهُمُ الحَيوٰةُ الدُّنيا وَشَهِدوا عَلىٰ أَنفُسِهِم أَنَّهُم كانوا كٰفِرينَ(130)
اے گروہِ جن و انس! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم پر میری آیتیں بیان کرتے تھے اور تمہاری اس دن کی پیشی سے تمہیں ڈراتے تھے؟ (تو) وہ کہیں گے: ہم اپنی جانوں کے خلاف گواہی دیتے ہیں، اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا اور وہ اپنی جانوں کے خلاف اس (بات) کی گواہی دیں گے کہ وہ (دنیا میں) کافر (یعنی حق کے انکاری) تھے،(130)
ذٰلِكَ أَن لَم يَكُن رَبُّكَ مُهلِكَ القُرىٰ بِظُلمٍ وَأَهلُها غٰفِلونَ(131)
یہ (رسولوں کا بھیجنا) اس لئے تھا کہ آپ کا رب بستیوں کو ظلم کے باعث ایسی حالت میں تباہ کرنے والا نہیں ہے کہ وہاں کے رہنے والے (حق کی تعلیمات سے بالکل) بے خبر ہوں (یعنی انہیں کسی نے حق سے آگاہ ہی نہ کیا ہو)،(131)
وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِمّا عَمِلوا ۚ وَما رَبُّكَ بِغٰفِلٍ عَمّا يَعمَلونَ(132)
اور ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے لحاظ سے درجات (مقرر) ہیں، اور آپ کا رب ان کاموں سے بے خبر نہیں جو وہ انجام دیتے ہیں،(132)
وَرَبُّكَ الغَنِىُّ ذُو الرَّحمَةِ ۚ إِن يَشَأ يُذهِبكُم وَيَستَخلِف مِن بَعدِكُم ما يَشاءُ كَما أَنشَأَكُم مِن ذُرِّيَّةِ قَومٍ ءاخَرينَ(133)
اور آپ کا رب بے نیاز ہے، (بڑی) رحمت والا ہے، اگر چاہے تو تمہیں نابود کر دے اور تمہارے بعد جسے چاہے (تمہارا) جانشین بنا دے جیسا کہ اس نے دوسرے لوگوں کی اولاد سے تم کو پیدا فرمایا ہے،(133)
إِنَّ ما توعَدونَ لَءاتٍ ۖ وَما أَنتُم بِمُعجِزينَ(134)
بیشک جس (عذاب) کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آنے والا ہے اور تم (اﷲ کو) عاجز نہیں کر سکتے،(134)
قُل يٰقَومِ اعمَلوا عَلىٰ مَكانَتِكُم إِنّى عامِلٌ ۖ فَسَوفَ تَعلَمونَ مَن تَكونُ لَهُ عٰقِبَةُ الدّارِ ۗ إِنَّهُ لا يُفلِحُ الظّٰلِمونَ(135)
فرما دیجئے: اے (میری) قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کرتے رہو بیشک میں (اپنی جگہ) عمل کئے جا رہا ہوں۔ پھر تم عنقریب جان لو گے کہ آخرت کا انجام کس کے لئے (بہتر ہے)۔ بیشک ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے،(135)
وَجَعَلوا لِلَّهِ مِمّا ذَرَأَ مِنَ الحَرثِ وَالأَنعٰمِ نَصيبًا فَقالوا هٰذا لِلَّهِ بِزَعمِهِم وَهٰذا لِشُرَكائِنا ۖ فَما كانَ لِشُرَكائِهِم فَلا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَما كانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلىٰ شُرَكائِهِم ۗ ساءَ ما يَحكُمونَ(136)
انہوں نے اﷲ کے لئے انہی (چیزوں) میں سے ایک حصہ مقرر کر لیا ہے جنہیں اس نے کھیتی اور مویشیوں میں سے پیدا فرمایا ہے پھر اپنے گمانِ (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) اﷲ کے لئے ہے اور یہ ہمارے (خود ساختہ) شریکوں کے لئے ہے، پھر جو (حصہ) ان کے شریکوں کے لئے ہے سو وہ تو اﷲ تک نہیں پہنچتا اور جو (حصہ) اﷲ کے لئے ہے تو وہ ان کے شریکوں تک پہنچ جاتا ہے، (وہ) کیا ہی برا فیصلہ کر رہے ہیں،(136)
وَكَذٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثيرٍ مِنَ المُشرِكينَ قَتلَ أَولٰدِهِم شُرَكاؤُهُم لِيُردوهُم وَلِيَلبِسوا عَلَيهِم دينَهُم ۖ وَلَو شاءَ اللَّهُ ما فَعَلوهُ ۖ فَذَرهُم وَما يَفتَرونَ(137)
اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لئے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کو مار ڈالنا (ان کی نگاہ میں) خوش نما کر دکھایا ہے تاکہ وہ انہیں برباد کر ڈالیں اور ان کے (بچے کھچے) دین کو (بھی) ان پر مشتبہ کر دیں، اور اگر اﷲ (انہیں جبراً روکنا) چاہتا تو وہ ایسا نہ کر پاتے پس آپ انہیں اور جو افترا پردازی وہ کر رہے ہیں (اسے نظرانداز کرتے ہوئے) چھوڑ دیجئے،(137)
وَقالوا هٰذِهِ أَنعٰمٌ وَحَرثٌ حِجرٌ لا يَطعَمُها إِلّا مَن نَشاءُ بِزَعمِهِم وَأَنعٰمٌ حُرِّمَت ظُهورُها وَأَنعٰمٌ لا يَذكُرونَ اسمَ اللَّهِ عَلَيهَا افتِراءً عَلَيهِ ۚ سَيَجزيهِم بِما كانوا يَفتَرونَ(138)
اور اپنے خیالِ (باطل) سے (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (مخصوص) مویشی اور کھیتی ممنوع ہے، اسے کوئی نہیں کھا سکتا سوائے اس کے جسے ہم چاہیں اور (یہ کہ بعض) چوپائے ایسے ہیں جن کی پیٹھ (پر سواری) کو حرام کیا گیا ہے اور (بعض) مویشی ایسے ہیں کہ جن پر (ذبح کے وقت) یہ لوگ اﷲ کا نام نہیں لیتے (یہ سب) اﷲ پر بہتان باندھنا ہے، عنقریب وہ انہیں (اس بات کی) سزا دے گا جو وہ بہتان باندھتے تھے،(138)
وَقالوا ما فى بُطونِ هٰذِهِ الأَنعٰمِ خالِصَةٌ لِذُكورِنا وَمُحَرَّمٌ عَلىٰ أَزوٰجِنا ۖ وَإِن يَكُن مَيتَةً فَهُم فيهِ شُرَكاءُ ۚ سَيَجزيهِم وَصفَهُم ۚ إِنَّهُ حَكيمٌ عَليمٌ(139)
اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ جو (بچہ) ان چوپایوں کے پیٹ میں ہے وہ ہمارے مَردوں کے لئے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام کر دیا گیا ہے، اور اگر وہ (بچہ) مرا ہوا (پیدا) ہو تو وہ (مرد اور عورتیں) سب اس میں شریک ہوتے ہیں، عنقریب وہ انہیں ان کی (من گھڑت) باتوں کی سزا دے گا، بیشک وہ بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے،(139)
قَد خَسِرَ الَّذينَ قَتَلوا أَولٰدَهُم سَفَهًا بِغَيرِ عِلمٍ وَحَرَّموا ما رَزَقَهُمُ اللَّهُ افتِراءً عَلَى اللَّهِ ۚ قَد ضَلّوا وَما كانوا مُهتَدينَ(140)
واقعی ایسے لوگ برباد ہوگئے جنہوں نے اپنی اولاد کو بغیر علمِ (صحیح) کے (محض) بیوقوفی سے قتل کر ڈالا اور ان (چیزوں) کو جو اﷲ نے انہیں (روزی کے طور پر) بخشی تھیں اﷲ پر بہتان باندھتے ہوئے حرام کر ڈالا، بیشک وہ گمراہ ہو گئے اور ہدایت یافتہ نہ ہو سکے،(140)
۞ وَهُوَ الَّذى أَنشَأَ جَنّٰتٍ مَعروشٰتٍ وَغَيرَ مَعروشٰتٍ وَالنَّخلَ وَالزَّرعَ مُختَلِفًا أُكُلُهُ وَالزَّيتونَ وَالرُّمّانَ مُتَشٰبِهًا وَغَيرَ مُتَشٰبِهٍ ۚ كُلوا مِن ثَمَرِهِ إِذا أَثمَرَ وَءاتوا حَقَّهُ يَومَ حَصادِهِ ۖ وَلا تُسرِفوا ۚ إِنَّهُ لا يُحِبُّ المُسرِفينَ(141)
اور وہی ہے جس نے برداشتہ اور غیر برداشتہ (یعنی بیلوں کے ذریعے اوپر چڑھائے گئے اور بغیر اوپر چڑھائے گئے) باغات پیدا فرمائے اور کھجور (کے درخت) اور زراعت جس کے پھل گوناگوں ہیں اور زیتون اور انار (جو شکل میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور (ذائقہ میں) جداگانہ ہیں (بھی پیدا کئے)۔ جب (یہ درخت) پھل لائیں تو تم ان کے پھل کھایا (بھی) کرو اور اس (کھیتی اور پھل) کے کٹنے کے دن اس کا (اﷲ کی طرف سے مقرر کردہ) حق (بھی) ادا کر دیا کرو اور فضول خرچی نہ کیا کرو، بیشک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا،(141)
وَمِنَ الأَنعٰمِ حَمولَةً وَفَرشًا ۚ كُلوا مِمّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ وَلا تَتَّبِعوا خُطُوٰتِ الشَّيطٰنِ ۚ إِنَّهُ لَكُم عَدُوٌّ مُبينٌ(142)
اور (اس نے) بار برداری کرنے والے (بلند قامت) چوپائے اور زمین پر (ذبح کے لئے یا چھوٹے قد کے باعث) بچھنے والے (مویشی پیدا فرمائے)، تم اس (رزق) میں سے (بھی بطریقِ ذبح) کھایا کرو جو اﷲ نے تمہیں بخشا ہے اور شیطان کے راستوں پر نہ چلا کرو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،(142)
ثَمٰنِيَةَ أَزوٰجٍ ۖ مِنَ الضَّأنِ اثنَينِ وَمِنَ المَعزِ اثنَينِ ۗ قُل ءالذَّكَرَينِ حَرَّمَ أَمِ الأُنثَيَينِ أَمَّا اشتَمَلَت عَلَيهِ أَرحامُ الأُنثَيَينِ ۖ نَبِّـٔونى بِعِلمٍ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(143)
(اﷲ نے) آٹھ جوڑے پیدا کئے دو (نر و مادہ) بھیڑ سے اور دو (نر و مادہ) بکری سے۔ (آپ ان سے) فرما دیجئے: کیا اس نے دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ (بچہ) جو دونوں ماداؤں کے رحموں میں موجود ہے؟ مجھے علم و دانش کے ساتھ بتاؤ اگر تم سچے ہو،(143)
وَمِنَ الإِبِلِ اثنَينِ وَمِنَ البَقَرِ اثنَينِ ۗ قُل ءالذَّكَرَينِ حَرَّمَ أَمِ الأُنثَيَينِ أَمَّا اشتَمَلَت عَلَيهِ أَرحامُ الأُنثَيَينِ ۖ أَم كُنتُم شُهَداءَ إِذ وَصّىٰكُمُ اللَّهُ بِهٰذا ۚ فَمَن أَظلَمُ مِمَّنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا لِيُضِلَّ النّاسَ بِغَيرِ عِلمٍ ۗ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ(144)
اور دو (نر و مادہ) اونٹ سے اور دو (نر و مادہ) گائے سے۔ (آپ ان سے) فرما دیجئے: کیا اس نے دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ (بچہ) جو دونوں ماداؤں کے رحموں میں موجود ہے؟ کیا تم اس وقت موجود تھے جب اﷲ نے تمہیں اس (حرمت) کا حکم دیا تھا؟ پھر اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اﷲ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے تاکہ لوگوں کو بغیر جانے گمراہ کرتا پھرے۔ بیشک اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا،(144)
قُل لا أَجِدُ فى ما أوحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلىٰ طاعِمٍ يَطعَمُهُ إِلّا أَن يَكونَ مَيتَةً أَو دَمًا مَسفوحًا أَو لَحمَ خِنزيرٍ فَإِنَّهُ رِجسٌ أَو فِسقًا أُهِلَّ لِغَيرِ اللَّهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضطُرَّ غَيرَ باغٍ وَلا عادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفورٌ رَحيمٌ(145)
آپ فرما دیں کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں تو میں کسی (بھی) کھانے والے پر (ایسی چیز کو) جسے وہ کھاتا ہو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مُردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو کیو نکہ یہ ناپاک ہے یا نافرمانی کا جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام بلند کیا گیا ہو۔ پھر جو شخص (بھوک کے باعث) سخت لاچار ہو جائے نہ تو نافرمانی کر رہا ہو اور نہ حد سے تجاوز کر رہا ہو تو بیشک آپ کا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،(145)
وَعَلَى الَّذينَ هادوا حَرَّمنا كُلَّ ذى ظُفُرٍ ۖ وَمِنَ البَقَرِ وَالغَنَمِ حَرَّمنا عَلَيهِم شُحومَهُما إِلّا ما حَمَلَت ظُهورُهُما أَوِ الحَوايا أَو مَا اختَلَطَ بِعَظمٍ ۚ ذٰلِكَ جَزَينٰهُم بِبَغيِهِم ۖ وَإِنّا لَصٰدِقونَ(146)
اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والا (جانور) حرام کر دیا تھا اور گائے اور بکری میں سے ہم نے ان پر دونوں کی چربی حرام کر دی تھی سوائے اس (چربی) کے جو دونوں کی پیٹھ میں ہو یا اوجھڑی میں لگی ہو یا جو ہڈی کے ساتھ ملی ہو۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کے باعث انہیں سزا دی تھی اور یقینا ہم سچے ہیں،(146)
فَإِن كَذَّبوكَ فَقُل رَبُّكُم ذو رَحمَةٍ وٰسِعَةٍ وَلا يُرَدُّ بَأسُهُ عَنِ القَومِ المُجرِمينَ(147)
پھر اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو فرما دیجئے کہ تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے اور اس کا عذاب مجرم قوم سے نہیں ٹالا جائے گا،(147)
سَيَقولُ الَّذينَ أَشرَكوا لَو شاءَ اللَّهُ ما أَشرَكنا وَلا ءاباؤُنا وَلا حَرَّمنا مِن شَيءٍ ۚ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم حَتّىٰ ذاقوا بَأسَنا ۗ قُل هَل عِندَكُم مِن عِلمٍ فَتُخرِجوهُ لَنا ۖ إِن تَتَّبِعونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِن أَنتُم إِلّا تَخرُصونَ(148)
جلد ہی مشرک لوگ کہیں گے کہ اگر اﷲ چاہتا تو نہ (ہی) ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے آباء و اجداد اور نہ کسی چیز کو (بلا سند) حرام قرار دیتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے تھے حتٰی کہ انہوں نے ہمارا عذاب چکھ لیا۔ فرما دیجئے: کیا تمہارے پاس کوئی (قابلِ حجت) علم ہے کہ تم اسے ہمارے لئے نکال لاؤ (تو اسے پیش کرو)، تم (علمِ یقینی کو چھوڑ کر) صرف گمان ہی کی پیروی کرتے ہو اور تم محض (تخمینہ کی بنیاد پر) دروغ گوئی کرتے ہو،(148)
قُل فَلِلَّهِ الحُجَّةُ البٰلِغَةُ ۖ فَلَو شاءَ لَهَدىٰكُم أَجمَعينَ(149)
فرما دیجئے کہ دلیلِ محکم تو اﷲ ہی کی ہے، پس اگر وہ (تمہیں مجبور کرنا) چاہتا تو یقیناً تم سب کو (پابندِ) ہدایت فرما دیتا٭، ٭ وہ حق و باطل کا فرق اور دونوں کا انجام سمجھانے کے بعد ہر ایک کو آزادی سے اپنا راستہ اختیار کرنے کا موقع دیتا ہے، تاکہ ہر شخص اپنے کئے کا خود ذمہ دار ٹھہرے اور اس پر جزا و سزا کا حق دار قرار پائے۔(149)
قُل هَلُمَّ شُهَداءَكُمُ الَّذينَ يَشهَدونَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ هٰذا ۖ فَإِن شَهِدوا فَلا تَشهَد مَعَهُم ۚ وَلا تَتَّبِع أَهواءَ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَالَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِم يَعدِلونَ(150)
(ان مشرکوں سے) فرما دیجئے کہ تم اپنے ان گواہوں کو پیش کرو جو (آکر) اس بات کی گواہی دیں کہ اﷲ نے اسے حرام کیا ہے، پھر اگر وہ (جھوٹی) گواہی دے ہی دیں تو ان کی گواہی کو تسلیم نہ کرنا (بلکہ ان کا جھوٹا ہونا ان پر آشکار کر دینا)، اور نہ ایسے لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ (معبودانِ باطلہ کو) اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں،(150)
۞ قُل تَعالَوا أَتلُ ما حَرَّمَ رَبُّكُم عَلَيكُم ۖ أَلّا تُشرِكوا بِهِ شَيـًٔا ۖ وَبِالوٰلِدَينِ إِحسٰنًا ۖ وَلا تَقتُلوا أَولٰدَكُم مِن إِملٰقٍ ۖ نَحنُ نَرزُقُكُم وَإِيّاهُم ۖ وَلا تَقرَبُوا الفَوٰحِشَ ما ظَهَرَ مِنها وَما بَطَنَ ۖ وَلا تَقتُلُوا النَّفسَ الَّتى حَرَّمَ اللَّهُ إِلّا بِالحَقِّ ۚ ذٰلِكُم وَصّىٰكُم بِهِ لَعَلَّكُم تَعقِلونَ(151)
فرما دیجئے: آؤ میں وہ چیزیں پڑھ کر سنا دوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں (وہ) یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اور مفلسی کے باعث اپنی اولاد کو قتل مت کرو۔ ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی (دیں گے)، اور بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ (خواہ) وہ ظاہر ہوں اور (خواہ) وہ پوشیدہ ہوں، اور اس جان کو قتل نہ کرو جسے (قتل کرنا) اﷲ نے حرام کیا ہے بجز حقِ (شرعی) کے، یہی وہ (امور) ہیں جن کا اس نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو،(151)
وَلا تَقرَبوا مالَ اليَتيمِ إِلّا بِالَّتى هِىَ أَحسَنُ حَتّىٰ يَبلُغَ أَشُدَّهُ ۖ وَأَوفُوا الكَيلَ وَالميزانَ بِالقِسطِ ۖ لا نُكَلِّفُ نَفسًا إِلّا وُسعَها ۖ وَإِذا قُلتُم فَاعدِلوا وَلَو كانَ ذا قُربىٰ ۖ وَبِعَهدِ اللَّهِ أَوفوا ۚ ذٰلِكُم وَصّىٰكُم بِهِ لَعَلَّكُم تَذَكَّرونَ(152)
اور یتیم کے مال کے قریب مت جانا مگر ایسے طریق سے جو بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے، اور پیمانے اور ترازو (یعنی ناپ اور تول) کو انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو۔ ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے، اور جب تم (کسی کی نسبت کچھ) کہو تو عدل کرو اگرچہ وہ (تمہارا) قرابت دار ہی ہو، اور اﷲ کے عہد کو پورا کیا کرو، یہی (باتیں) ہیں جن کا اس نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو،(152)
وَأَنَّ هٰذا صِرٰطى مُستَقيمًا فَاتَّبِعوهُ ۖ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُم عَن سَبيلِهِ ۚ ذٰلِكُم وَصّىٰكُم بِهِ لَعَلَّكُم تَتَّقونَ(153)
اور یہ کہ یہی (شریعت) میرا سیدھا راستہ ہے سو تم اس کی پیروی کرو، اور (دوسرے) راستوں پر نہ چلو پھر وہ (راستے) تمہیں اﷲ کی راہ سے جدا کر دیں گے، یہی وہ بات ہے جس کا اس نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ،(153)
ثُمَّ ءاتَينا موسَى الكِتٰبَ تَمامًا عَلَى الَّذى أَحسَنَ وَتَفصيلًا لِكُلِّ شَيءٍ وَهُدًى وَرَحمَةً لَعَلَّهُم بِلِقاءِ رَبِّهِم يُؤمِنونَ(154)
پھر ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی اس شخص پر (نعمت) پوری کرنے کے لئے جو نیکو کار بنے اور (اسے) ہر چیز کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت بنا کر (اتارا) تاکہ وہ (لوگ قیامت کے دن) اپنے رب سے ملاقات پر ایمان لائیں،(154)
وَهٰذا كِتٰبٌ أَنزَلنٰهُ مُبارَكٌ فَاتَّبِعوهُ وَاتَّقوا لَعَلَّكُم تُرحَمونَ(155)
اور یہ (قرآن) برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے سو (اب) تم اس کی پیروی کیا کرو اور (اﷲ سے) ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے،(155)
أَن تَقولوا إِنَّما أُنزِلَ الكِتٰبُ عَلىٰ طائِفَتَينِ مِن قَبلِنا وَإِن كُنّا عَن دِراسَتِهِم لَغٰفِلينَ(156)
(قرآن اس لئے نازل کیا ہے) کہ تم کہیں یہ (نہ) کہو کہ بس (آسمانی) کتاب تو ہم سے پہلے صرف دو گروہوں (یہود و نصارٰی) پر اتاری گئی تھی اور بیشک ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بے خبر تھے،(156)
أَو تَقولوا لَو أَنّا أُنزِلَ عَلَينَا الكِتٰبُ لَكُنّا أَهدىٰ مِنهُم ۚ فَقَد جاءَكُم بَيِّنَةٌ مِن رَبِّكُم وَهُدًى وَرَحمَةٌ ۚ فَمَن أَظلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَصَدَفَ عَنها ۗ سَنَجزِى الَّذينَ يَصدِفونَ عَن ءايٰتِنا سوءَ العَذابِ بِما كانوا يَصدِفونَ(157)
یا یہ (نہ) کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم یقیناً ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے، سو اب تمہارے رب کی طرف تمہارے پاس واضح دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی ہے، پھر اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اﷲ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے کترائے۔ ہم عنقریب ان لوگوں کو جو ہماری آیتوں سے گریز کرتے ہیں برے عذاب کی سزا دیں گے اس وجہ سے کہ وہ (آیاتِ ربّانی سے) اِعراض کرتے تھے،(157)
هَل يَنظُرونَ إِلّا أَن تَأتِيَهُمُ المَلٰئِكَةُ أَو يَأتِىَ رَبُّكَ أَو يَأتِىَ بَعضُ ءايٰتِ رَبِّكَ ۗ يَومَ يَأتى بَعضُ ءايٰتِ رَبِّكَ لا يَنفَعُ نَفسًا إيمٰنُها لَم تَكُن ءامَنَت مِن قَبلُ أَو كَسَبَت فى إيمٰنِها خَيرًا ۗ قُلِ انتَظِروا إِنّا مُنتَظِرونَ(158)
وہ فقط اسی انتظار میں ہیں کہ ان کے پاس (عذاب کے) فرشتے آپہنچیں یا آپ کا رب (خود) آجائے یا آپ کے رب کی کچھ (مخصوص) نشانیاں (عیاناً) آجائیں۔ (انہیں بتا دیجئے کہ) جس دن آپ کے رب کی بعض نشانیاں (یوں ظاہراً) آپہنچیں گی (تو اس وقت) کسی (ایسے) شخص کا ایمان اسے فائدہ نہیں پہنچائے گا جو پہلے سے ایمان نہیں لایا تھا یا اس نے اپنے ایمان (کی حالت) میں کوئی نیکی نہیں کمائی تھی، فرما دیجئے: تم انتظار کرو ہم (بھی) منتظر ہیں،(158)
إِنَّ الَّذينَ فَرَّقوا دينَهُم وَكانوا شِيَعًا لَستَ مِنهُم فى شَيءٍ ۚ إِنَّما أَمرُهُم إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِما كانوا يَفعَلونَ(159)
بیشک جن لوگوں نے (جدا جدا راہیں نکال کر) اپنے دین کو پارہ پارہ کر دیا اور وہ (مختلف) فرقوں میں بٹ گئے، آپ کسی چیز میں ان کے (تعلق دار اور ذمہ دار) نہیں ہیں، بس ان کا معاملہ اﷲ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں ان کاموں سے آگاہ فرما دے گا جو وہ کیا کرتے تھے،(159)
مَن جاءَ بِالحَسَنَةِ فَلَهُ عَشرُ أَمثالِها ۖ وَمَن جاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلا يُجزىٰ إِلّا مِثلَها وَهُم لا يُظلَمونَ(160)
جو کوئی ایک نیکی لائے گا تو اس کے لئے (بطورِ اجر) اس جیسی دس نیکیاں ہیں، اور جو کوئی ایک گناہ لائے گا تو اس کو اس جیسے ایک (گناہ) کے سوا سزا نہیں دی جائے گی اور وہ ظلم نہیں کئے جائیں گے،(160)
قُل إِنَّنى هَدىٰنى رَبّى إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ دينًا قِيَمًا مِلَّةَ إِبرٰهيمَ حَنيفًا ۚ وَما كانَ مِنَ المُشرِكينَ(161)
فرما دیجئے: بیشک مجھے میرے رب نے سیدھے راستے کی ہدایت فرما دی ہے، (یہ) مضبوط دین (کی راہ ہے اور یہی) اﷲ کی طرف یک سو اور ہر باطل سے جدا ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ہے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے،(161)
قُل إِنَّ صَلاتى وَنُسُكى وَمَحياىَ وَمَماتى لِلَّهِ رَبِّ العٰلَمينَ(162)
فرما دیجئے کہ بیشک میری نماز اور میرا حج اور قربانی (سمیت سب بندگی) اور میری زندگی اور میری موت اﷲ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے،(162)
لا شَريكَ لَهُ ۖ وَبِذٰلِكَ أُمِرتُ وَأَنا۠ أَوَّلُ المُسلِمينَ(163)
اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں (جمیع مخلوقات میں) سب سے پہلا مسلمان ہوں،(163)
قُل أَغَيرَ اللَّهِ أَبغى رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيءٍ ۚ وَلا تَكسِبُ كُلُّ نَفسٍ إِلّا عَلَيها ۚ وَلا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزرَ أُخرىٰ ۚ ثُمَّ إِلىٰ رَبِّكُم مَرجِعُكُم فَيُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم فيهِ تَختَلِفونَ(164)
فرما دیجئے: کیا میں اﷲ کے سوا کوئی دوسرا رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر شے کا پروردگار ہے، اور ہر شخص جو بھی (گناہ) کرتا ہے (اس کا وبال) اسی پر ہوتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں ان (باتوں کی حقیقت) سے آگاہ فرما دے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے،(164)
وَهُوَ الَّذى جَعَلَكُم خَلٰئِفَ الأَرضِ وَرَفَعَ بَعضَكُم فَوقَ بَعضٍ دَرَجٰتٍ لِيَبلُوَكُم فى ما ءاتىٰكُم ۗ إِنَّ رَبَّكَ سَريعُ العِقابِ وَإِنَّهُ لَغَفورٌ رَحيمٌ(165)
اور وہی ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجات میں بلند کیا تاکہ وہ ان (چیزوں) میں تمہیں آزمائے جو اس نے تمہیں (امانتاً) عطا کر رکھی ہیں۔ بیشک آپ کا رب (عذاب کے حق داروں کو) جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ (مغفرت کے امیدواروں کو) بڑا بخشنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا ہے،(165)